PMS Urdu Precis & Comprehension Past Paper 2024 PDF

PUNJAB PUBLIC SERVICE COMMISSION

Combined Competitive Examination (CCE) 2024

For Recruitment to the Posts of Provincial Management Service (PMS)


SUBJECT: Urdu Precis & Comprehension

Time Allowed: 3 Hours

Maximum Marks: 100

سوال نمبر 1:
درج ذیل میں سے کسی ایک موضوع پر جامع مضمون لکھیں:
الف: غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
ب: تقلید کی روش سے تو بہتر ہے خودکشی
ج: زرعی اراضی میں بتدریج کمی، اسباب اور حل
د: شخصیت پر مطالعہ ادب کے اثرات

سوال نمبر 2:
درج ذیل اقتباس کا خلاصہ (Precis) تحریر کریں اور اس کا مناسب عنوان بھی تجویز کریں:
قحط میں موت اور قحطِ رجال میں زندگی ایک المیہ صورت حال ہے۔ قحطِ رجال میں زندگی ایک بے مقصد بقا بن جاتی ہے۔ زندگی کے تمام آثار ماند پڑ جاتے ہیں۔ بستیاں ویران ہو جاتی ہیں، زبانیں خاموش، درخت سوکھے، موسم بے اثر اور ماحول بے جان ہو جاتا ہے۔ جہاں پانی کی روانی تھی وہاں گرد اڑنے لگتی ہے۔ لوگ پہلے نڈھال ہوتے ہیں پھر بے حال۔ آبادیاں اجڑ جاتی ہیں اور ویرانیاں بڑھ جاتی ہیں۔ زندگی گویا کہیں دور چلی جاتی ہے اور اس کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔

سوال نمبر 3:
درج ذیل جملوں کو درست کیجیے:
  1. ایک پرچے میں سرخ سیاہی کا استعمال منع ہے۔
  2. ہمارے کمرے میں یہ الفاظ استعمال نہیں ہونے چاہییں۔
  3. قصور لاہور کے قریب واقع ہے۔
  4. گائے کے آگے بین بجانے کا کوئی فائدہ نہیں۔
  5. یہاں اس قدر شور و غوغا کیوں ہے؟
  6. ذات پات کی وجہ سے کسی کو ترجیح حاصل نہیں ہے۔
  7. قائد اعظم کے یہ نکات بہت اہم ہیں۔
  8. یہاں لڑکے اور لڑکیاں تعلیم حاصل کرتی ہیں۔
  9. اس معاملے میں آپ کا نقطۂ نظر کیا ہے؟
  10. کامیابی کا دارومدار انسان کے مثبت نقطۂ نظر پر ہے۔
سوال نمبر 4:
درج ذیل محاورات کو جملوں میں استعمال کیجیے تاکہ ان کا مفہوم واضح ہو جائے:
  1. جب خاطر جمع رکھنا
  2. آنکھ کا کاجل چرانا
  3. گھڑوں پانی پڑنا
  4. ناؤ میں خاک اڑانا
  5. طشتِ اسباب ہلنا
  6. پاؤں دوڑ کر بیٹھنا

سوال نمبر 5:
درج ذیل اشعار میں سے صرف تین اشعار کی تشریح کیجیے۔ تشریح سے پہلے شاعر کا نام بھی لکھیں:
نہ حق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی
چاہتے ہیں سو آپ کریں ہم کو اب سے بدنام کیا
اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبانِ عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے
جو ہم پہ گزری سو گزری مگر شبِ ہجراں
ہمارے اشک تری عاقبت سنوار چلے
رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل
جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے
فلک نے ان کو عطا کی ہے خواجگی کہ جنہیں
خبر نہیں روشِ بندہ پروری کیا ہے
وہ کہیں بھی گیا لوٹا تو میرے پاس آیا
بس یہی بات ہے اچھی میرے ہرچائی کی
سوال نمبر 6:
سوال مجھے کانچ ہانچ سے گریز کرتے ہوئے درج ذیل عبارت کا ترجمہ کیجیے:
“The root of the trouble springing from too much emphasis upon competitive success as the main source of happiness. I do not deny that the fumes of success makes it easier to enjoy life. A writer, let us see, who has been obscured throughout his youth is likely to become happier if this talent wins recognition, nor do I deny that money up to a certain point are very capable of increasing happiness, but beyond that point, I do not think it does so. What I do maintain is that success can only be one ingredient in happiness and is too clearly purchased if all the other ingredients have been sacrificed to obtain it. The competitive habit of mind easily inverts results to which it does not belong. Take, for example, the question of reading. There are two motives for reading a book: one, that you enjoy it; the other, that you can boast about it.”

ترجمہ (اردو):

مصیبت کی جڑ یہ ہے کہ خوشی کا اصل ذریعہ صرف مقابلہ بازی میں کامیابی کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ میں اس بات سے انکار نہیں کرتا کہ کامیابی کا نشہ زندگی سے لطف اندوز ہونا آسان بنا دیتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی ادیب اپنی جوانی میں نظرانداز رہا ہو تو جب اس کی صلاحیت کو پہچان مل جائے تو وہ زیادہ خوش ہو جاتا ہے۔ میں یہ بھی نہیں کہتا کہ ایک حد تک پیسہ خوشی میں اضافہ نہیں کرتا، لیکن اس حد سے آگے میں نہیں سمجھتا کہ وہ خوشی کا باعث بنتا ہے۔
میرا مؤقف یہ ہے کہ کامیابی خوشی کا صرف ایک جز ہو سکتی ہے، اور اگر اسے حاصل کرنے کے لیے باقی تمام اہم چیزیں قربان کر دی جائیں تو یہ کامیابی بہت مہنگی پڑتی ہے۔ مقابلہ بازی کی ذہنیت آسانی سے ایسے نتائج کو بھی اپنی طرف منسوب کر لیتی ہے جن سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
مثال کے طور پر مطالعہ کا سوال لے لیں۔ کتاب پڑھنے کے دو محرک ہوتے ہیں: ایک یہ کہ آپ اسے پڑھ کر لطف اٹھاتے ہیں، اور دوسرا یہ کہ آپ اس پر فخر کر سکیں یا دوسروں کے سامنے اس کا ذکر کر سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *