PUNJAB PUBLIC SERVICE COMMISSION
Combined Competitive Examination (CCE) 2024
For Recruitment to the Posts of Provincial Management Service (PMS)
SUBJECT: Urdu Compulsory (Paper-I)
Time Allowed: 3 Hours
Maximum Marks: 100
سوال نمبر 1:اگر عدد کسی نظریے اور مقصد کا ترجمان ہو تو اس کی جمعیتی حیثیت کو نقصان پہنچتا ہے۔ تائید یا تردید کریں۔
سوال نمبر 2:
اردو کی کلاسیکی شاعری میں تصوف ایک اہم موضوع تھا۔ اس کے محرکات پر روشنی ڈالیں۔
سوال نمبر 3:
اردو مخلوط اور مشترک زبان ہونے کے باوجود کسی مقصد کے مقلد یا تابع نہیں ہیں۔ اپنی رائے کا اظہار کریں۔
حصہ دوم
سوال نمبر 4:
مقدمہ شعر و شاعری نے ادبی تنقید میں کن نئے مباحث کو فروغ دیا اور یہ قدیم انداز تنقید سے کس طرح مختلف ہے؟ اپنی رائے کا اظہار کریں۔
سوال نمبر 5:
علی گڑھ تحریک نے اردو ادب کو خواب و خیال کی دنیا سے نکال کر عقلیت اور ٹھوس حقائق سے آشنا کیا۔ تائید یا تردید کریں۔
سوال نمبر 6:
شبلی نعمانی نے سیرت نگاری اور سوانح نگاری کے ذریعے مسلمانوں کی عظمت رفتہ کی بازیافت کی۔ روشنی ڈالیں۔
حصہ سوم
سوال نمبر 7:
ترقی پسند افسانے نے سماجی حقیقت نگاری کو بہت اہمیت دی۔ نمائندہ افسانوں کی مثالوں سے واضح کریں۔
سوال نمبر 8:
فیض احمد فیض کی شاعری حقیقت اور رومان کا امتزاج ہے۔ کلامِ فیض سے شعری مثالوں کی مدد سے واضح کریں۔
سوال نمبر 9:
محمد حسین آزاد کی روحانیت کسی ردِعمل کی پیداوار نہیں بلکہ یہ ان کی اپنی استعداد و طبیعت کی نقیب ہے۔ دلائل سے ثابت کریں۔
SUBJECT: Urdu Compulsory (Paper-II)
Time Allowed: 3 Hours
Maximum Marks: 100
سوال نمبر 1:
درج ذیل میں سے کسی ایک موضوع پر جامع مضمون لکھیں:
الف: فرد قائم ربطِ ملت سے ہے بیگانہ کچھ نہیں
ب: دورِ جدید کی ترقی میں اسلامی اقدار کا کردار
ج: مصور حاضر ہے کہ صورت حال اور میڈیا کی ذمہ داریاں
د: فکرِ اقبال اور نوجوان نسل
سوال نمبر 2:
قصیدے کی تعریف کریں اور اس کے عناصر ترکیبی کا جائزہ لیجئے
یا
مرثیے کی تعریف اور اس کی روایت کا جائزہ پیش کیجئے
سوال نمبر 3:
سوانح نگاری کی تعریف کرتے ہوئے اس کے مقام و مرتبے کا تعین کیجئے
یا
خاکہ نگاری کے ارتقاء کا جائزہ پیش کیجئے
سوال نمبر 4:
مولوی عبدالحق نے عام شخصیات کے خاکے تصنیف کیے ہیں۔ ان خاکوں پر تنقیدی نوٹ لکھیے
یا
سر سید کے حوالے سے ان کی نثر پر اظہار خیال کیجئے
سوال نمبر 5:
درج ذیل اشعار کی تشریح کیجئے اور شاعر کا نام بھی لکھئے:
ہنگامہِ گرم کن جو دل ناسخ بور تھا
پیدا ہر ایک ناطے سے شورِ نشور تھا
پہنچا جو آپ کو تو میں پہنچا خدا کے تئیں
معلوم اب ہوا کہ بہت میں بھی دور تھا
آتشِ بلند دل کی نہ تھی و نہ کریم
یک شعلۂ برقِ خرمیں خرمنی صد کوہِ طور تھا
سوال نمبر 6:
درج ذیل اشعار کی تشریح نظم کے حوالے سے کیجئے نیز نظم کا عنوان و شاعر کا نام بھی لکھیں:
گھر یار کے مرضی ہوئی سر جھوڑ کے بیٹھے
گھر بار چھڑایا تو وہی چھوڑ کے بیٹھے
موڑ انہیں جدھر وہیں منہ کر کے بیٹھے
گدڑی جو سلائی تو وہی اوڑھ کے بیٹھے
اور شال اوڑھائی تو اسی شال میں خوش ہیں
پورے ہیں وہی مرد جو ہر حال میں خوش ہیں
سوال نمبر 7:
درجے کے حساب سے ترتیب کیجئے اور مناسب عنوان بھی تجویز کیجئے:
نئے قومی اور عالمی تناظر میں یہ فکر و آگہی مزید فروغ پا رہی ہے کہ ما بعد جدید اردو ادب اور تنقید کی ترقی اور فروغ کے نئے ماڈل میں اپنے معاشرے اور مقامی تہذیب کی سماجی، تہذیبی اور روحانی و جمالیاتی قدروں کا محاسبہ ناگزیر ہے۔
ما بعد جدید تخلیق کی حیثیت اور بصیرت نے اس ضرورت پر زور دیا ہے کہ اپنے روحانی ماضی کو مستقبل کے نئے امکانات سے جوڑا جائے۔
اگرچہ اردو ما بعد جدیدیت مغربی ما بعد جدیدیت، ما بعد ساختیات اور ما بعد نوآبادیات سے متاثر ہے لیکن یہ اپنی ثقافتی جڑوں کو نظرانداز نہیں کرتی۔
اس کا ذہنی رویہ محض دانشورانہ نہیں بلکہ ایک مکمل زاویۂ حیات و کائنات کا حامل ہے جو اخلاقی، عرفانی اور روحانی قدروں کو بھی منعکس کرتا ہے۔