PUNJAB PUBLIC SERVICE COMMISSION
Combined Competitive Examination (CCE) 2020
For Recruitment to the Posts of Provincial Management Service (PMS)
SUBJECT: Urdu (Paper-1)
Time Allowed: 3 Hours
Maximum Marks: 100
ہدایات: کسی بھی پانچ سوالات کے جوابات دیں۔ ہر سوال کے 20 نمبر ہیں۔
حصہ اول
سوال نمبر 1:
دونوں صاحبِ کمال ہیں مگر فرق صرف اتنا ہے کہ میر صاحب کے کلام میں آہ ہے اور مرزا سودا کے کلام میں واہ ہے۔ اس قول کی روشنی میں میر اور سودا کے کلام کا موازنہ کیجیے۔
سوال نمبر 2:
خواجہ میر درد کو بجا طور پر شاعرِ تصوف کہا جاتا ہے۔ آپ اس بیان سے کہاں تک اتفاق کرتے ہیں؟
سوال نمبر 3:
اگر یہ کہا جائے کہ ترقی پسند افسانوی ادب کے لیے پریم چند نے زمین ہموار کی تھی تو غلط نہ ہوگا۔ اس بیان کی روشنی میں ترقی پسند ناول اور افسانے نگاروں کے نام اور ان کی تصانیف کا ذکر کیجیے۔
حصہ دوم
سوال نمبر 4:
امیر امن کی داستان “باغ و بہار” اردو نثر کا سب سے قیمتی سرمایہ تسلیم کی جاتی ہے۔ اس قول کے دائرے میں فورٹ ولیم کالج کلکتہ کے کردار پر روشنی ڈالیے۔
سوال نمبر 5:
سر سید احمد خان کے علاوہ وہ کون سے عظیم نثر نگار ہیں جنہیں جدید اردو نثر کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے؟ ان میں سے کسی دو کے حالاتِ زندگی اور تصانیف بیان کیجیے۔
سوال نمبر 6:
اردو ڈرامے کی تاریخ میں سید امتیاز علی تاج کے مقام و مرتبہ کا تعین کیجیے۔
حصہ سوم
سوال نمبر 7:
انجمنِ پنجاب کی تشکیل کن حالات میں ہوئی؟ اردو شاعری میں نظم و غزل کو رواج دینے میں اس کی خدمات کا جائزہ پیش کیجیے۔
سوال نمبر 8:
اردو میں کلاسیکیت اور رومانیت کی تحریکوں کی خصوصیات کا موازنہ کرتے ہوئے ان کی خدمات کا جائزہ لیجیے۔
سوال نمبر 9:
اردو شعر و ادب کے فروغ میں “حلقۂ اربابِ ذوق” کی تحریک کا کیا کردار ہے؟ ابتدا سے اب تک اس پر روشنی ڈالیے۔
سوال نمبر 10:
ہم مزاح کے عہدِ یوسفی میں جی رہے ہیں۔ اس قول کی روشنی میں مشتاق احمد یوسفی کے مزاح اور اس کے اثرات کا جائزہ پیش کیجیے۔
SUBJECT: Urdu (Paper-II)
Time Allowed: 3 Hours
Maximum Marks: 100
تمام طلباء کے لیے ہدایت: کسی بھی پانچ سوالات کے جوابات دیں۔ ہر حصے سے کم از کم دو سوالات کا حل کرنا لازم ہے۔
حصہ اول
سوال نمبر 1:
مندرجہ ذیل میں سے کسی ایک موضوع پر جامع مضمون لکھیں:
الف) پاکستان کی ترقی میں تعلیم کا کردار
ب) وطن سے محبت کا کردار
ج) فنی تعلیم کے فقدان کے نقصانات
د) بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے اسباب
ہ) بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی کے اسباب اور ان کا حل
و) فنونِ لطیفہ کا فروغ اور معاشرتی ہم آہنگی
سوال نمبر 2:
قومی اخبار کے ایڈیٹر کے نام خط لکھیں جس میں ٹریفک کے مسائل پر تشویش کا اظہار کریں اور ان کے تدارک کے لیے تجاویز دیں۔
سوال نمبر 3:
چند ہم عصر اردو خاکہ نگاروں کا ابتدائی دور کی اردو خاکہ نگاری میں کردار ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ دلائل کے ساتھ اتفاق یا اختلاف کیجیے۔
یا
پطرس بخاری کے مضامین کردار، فضا، موضوع، ابتدا اور انتہا کے اعتبار سے افسانے کے فن سے خاصے قریب ہیں۔ مضامینِ پطرس کے حوالے سے مدلل بحث کریں۔
سوال نمبر 4:
فراق گورکھپوری صرف راشد کی شاعری ہی میں سنگ میل کی حیثیت نہیں رکھتی بلکہ ہیئت اور تکنیکی معیار کے اعتبار سے بھی آزاد نظم کی تاریخ میں اس کی اہمیت مسلم ہے۔ بحث کریں۔
یا
نظیر اکبر آبادی نے اپنے دور میں نظم کی اہمیت اور افادیت کو واضح کیا۔ اس بیان سے اتفاق یا اختلاف دلائل کے ساتھ کریں۔
حصہ دوم
سوال نمبر 5:
مندرجہ ذیل اشعار کی تشریح کریں اور شاعر کا نام بھی لکھیں:
گوم جسم ہیں، افراد ہیں اعضائے قوم
منزلِ مقصود کے رہنما ہیں دست و پائے قوم
محفلِ نظمِ حکومت، چہرۂ زیبائے قوم
نغمۂ رنگیں نوائے ہیں، دیدۂ بنائے قوم
مبتلائے درد کوئی عضو ہو، روتی ہیں آنکھ
کس قدر ہم درد سارے جسم کی ہوتی ہے آنکھ
یا
اشارتِ قتل کے تمہارے تمنا مت پوچھ
عیدِ نظارہ ہے شمشیر کا عذاب ہونا
لے گئے خاک میں ہم داغِ تمناے نشاط
تو ہو اور آپ بسے رنگِ گلستان ہونا
اشترِ پارۂ دل، زخمِ تمنا کھانا
لذتِ ریشِ جگر گر کے نمکدان ڈھونڈنا
سوال نمبر 6:
مندرجہ ذیل اشعار کی تشریح نظم کے حوالے سے کریں اور نظم کا عنوان بھی لکھیں:
بنی سنگِ مرمر سے جو چوپڑ کی نہر گئی
چار سو اس کے پانی کی لہریں کرنیں سے
گرد اس کے سردے صحیح کچھ اک دور دور اس سے
سیبوں کی بہی کہوں کا کیا میں کیفیت
دارِ بسط لگائے رہے تاکو وا میں
پرست ہوائیں بہاری سے گل لبالبِ چمن
سارے شاداب اور دھنڈ ہے
سوال نمبر 7:
مندرجہ ذیل عبارت کو غور سے پڑھیں اور اس کا خلاصہ (Summary) کریں۔ اس کا مناسب عنوان بھی تجویز کریں:
عنوان: کائنات میں نظم و ضبط
کائنات نہ تو اتفاقاً یا کسی حادثے کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے اور نہ ہی خود بخود پیدا ہوئی ہے بلکہ اس کی تخلیق اور تدبیر میں ایک مکمل نظم و ضبط کارفرما ہے۔ یہ کائنات اپنے پورے نظام کے ساتھ چل رہی ہے۔ آسمان ہوں یا زمین، سورج ہو یا چاند، انسان ہوں یا حیوانات، نباتات ہوں یا جمادات، پانی ہو یا ہوا، دن ہو یا رات—کائنات کی ہر چیز ایک مقررہ اور منظم نظام کے تحت چل رہی ہے۔
قدرت نے ہر چیز کو ایک خاص ذمہ داری تفویض کی ہے اور وہ اسے نہایت باقاعدگی اور نظم کے ساتھ انجام دے رہی ہے۔ سورج کا طلوع و غروب، نظامِ شمسی میں سیاروں کی گردش، چاند کا گھٹنا اور بڑھنا، زمین کی روزانہ اور سالانہ گردش سب نظم و ضبط کے پابند ہیں۔
اسی طرح ہر شے کے لیے ایک مخصوص رفتار، وقت اور راستہ مقرر ہے جس میں کبھی بھی کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ روئے زمین پر نباتات، جمادات اور حیوانات بھی اسی قدرتی نظم کے تحت نشوونما پاتے ہیں، ارتقاء کے مراحل سے گزرتے ہیں اور فنا ہو جاتے ہیں۔
ہواؤں کی روانی، دریاؤں کی طغیانی، پہاڑوں کی آتش فشانی اور صحراؤں کی وسعت—سب میں قدرت کا مقرر کردہ نظام کارفرما ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ کائنات کی ہر چیز ایک خاص قانون اور اصول کے تحت بندھی ہوئی ہے جس سے وہ ذرہ برابر بھی انحراف نہیں کر سکتی۔