PMS Urdu Past Paper 2019 PDF

PUNJAB PUBLIC SERVICE COMMISSION

Combined Competitive Examination (CCE) 2019

For Recruitment to the Posts of Provincial Management Service (PMS)


SUBJECT: Urdu (Paper-1)

Time Allowed: 3 Hours

Maximum Marks: 100


ہدایات: کسی بھی پانچ سوالات کے جوابات دیں۔ ہر سوال کے 20 نمبر ہیں۔


حصہ اول

سوال نمبر 1:
میر تقی میر کی شاعری اپنے عہد کا آئینہ دار ہے۔ شعری مثالوں سے واضح کیجیے۔ (20 نمبر)

سوال نمبر 2:
پنجاب کو اردو کا موجد قرار دینے کے لیے حافظ محمود شیرانی نے جن تاریخی اور لسانی دلائل کا سہارا لیا، ان کا تنقیدی جائزہ پیش کیجیے۔ (20 نمبر)

سوال نمبر 3:
وجی کی “سب رس” اپنے عہد کے معاشرتی رجحانات کی بہترین عکاس ہے۔ ادبی رنگینی کے حوالے سے بحث کریں۔ (20 نمبر)

حصہ دوم

سوال نمبر 4:
جدید اردو نثر کی بنیاد رکھنے میں غالب کے خطوط (مکاتیبِ غالب) کے کردار پر روشنی ڈالیں۔ (20 نمبر)

سوال نمبر 5:
ڈپٹی نذیر احمد کا ناول “ابن الوقت” نوآبادیاتی منصوبے کی تکمیل کے لیے لکھا گیا۔ اس بیان کی تائید یا تردید کریں۔ (20 نمبر)

سوال نمبر 6:
“باغ و بہار” میں دہلی کی تہذیب و معاشرت اپنی پوری خوبصورتی کے ساتھ جلوہ گر ہے جبکہ “فسانۂ عجائب” لکھنوی عہد کی عکاسی کرتا ہے۔ اظہارِ خیال کریں۔ (20 نمبر)

حصہ سوم

سوال نمبر 7:
اردو ادب میں روحانی تحریک کا آغاز سرسید تحریک کی عقلیت پسندی کے ردِعمل میں ہوا۔ بحث کریں۔ (20 نمبر)

سوال نمبر 8:
مجید امجد کی نظم نگاری کے تناظر میں واضح کریں کہ انہوں نے معمولی مظاہر اور اشیا کو شعری مرکز میں اہم جگہ دی ہے۔ (20 نمبر)

سوال نمبر 9:
جدید اردو غزل پر میر کی سادگی کے اثرات کو جدید شعری مسائل کے تناظر میں واضح کریں۔ (20 نمبر)

سوال نمبر 10:
مشتاق احمد یوسفی بطور مزاح نگار اور فنِ مزاح نگاری کے حوالے سے ان کے مقام و مرتبے کا تعین کیجیے۔ (20 نمبر)

SUBJECT: Urdu (Paper-II)

Time Allowed: 3 Hours

Maximum Marks: 100


سوال نمبر 1
مندرجہ ذیل میں سے کسی ایک موضوع پر جامع مضمون لکھئے: (20 نمبر)
الف) بڑھتی ہوئی آبادی اور اس کی شرحِ نمو ملک کی ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ
ب) موجودہ نظامِ تعلیم کو بدلنے کی ضرورت
ج) تشدد اور انتہاپسندی قومی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ ہے
د) پاکستان کی بگڑتی ہوئی اقتصادی حالت: مسائل اور ان کا حل

سوال نمبر 2
ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کی طرف سے ضلع کے تمام ہیڈ ماسٹر صاحبان کے نام خط تحریر کریں، جس میں اسکولوں میں ہم نصابی سرگرمیوں کے انعقاد کے لیے تجاویز دی گئی ہوں۔ (10 نمبر)

سوال نمبر 3
الف) مولانا الطاف حسین حالی کی تنقیدی نثر “مقدمہ شعر و شاعری” کے حوالے سے تفصیلی تحریر لکھیں۔ (15 نمبر)
ب) سر سید احمد خان کو اردو مضمون نگاری کا بانی کہا جاتا ہے۔ مدلل بحث کریں۔ (15 نمبر)

سوال نمبر 4
الف) مکالمے کی مہارت نے اقبال کی نظموں کو زیادہ پُراثر بنا دیا ہے۔ مدلل رائے پیش کریں۔ (15 نمبر)
ب) فیض کی شاعری ترقی پسندی اور رومانیت کے سنگم پر تخلیق ہوئی ہے۔ وضاحت کریں۔ (15 نمبر)

سوال نمبر 5
مندرجہ ذیل اشعار کی تشریح کریں اور شاعر کا نام بھی لکھیں: (20 نمبر)
جب عشق سکھاتا ہے ادبِ خود آگاہی
کھلتے ہیں غلاموں پر اسرارِ شہنشاہی
عطار ہو، رومی ہو، رازی ہو، غزالی ہو
کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہِ سحرگاہی
نومید نہ ہو ان سے اے رہبرِ فرزانہ
کم کوش تو ہیں لیکن بے ذوق نہیں راہی
یہاں کرو کج جبیں پہ سر کفن باندھے ہوئے
مرے قاتلوں کو گماں نہ ہو کہ غرورِ عشق کا باغباں ہوں
جو کہا تھا اس نے سن کے اڑا دیا
جو لکھا تو پڑھ کے مٹا دیا
جو رکے تو کوہِ گراں تھے ہم
جو چلے تو جہاں سے گزر گئے
رہگزر ہم نے قدم قدم تجھے یادگار بنا دیا

سوال نمبر 6
مندرجہ ذیل اشعار کی نظم کے حوالے سے تشریح کریں اور نظم کا عنوان اور شاعر کا نام بھی تحریر کریں: (20 نمبر)
چہرے پہ ملالت نہ جگر میں اثر غم
ماتھے پہ کہیں چین نہ ابروؤں میں کہیں خم
شکوہ نہ زبان پر نہ کبھی چشموں میں نم
غم میں بھی وہی عیش ہے عریض میں بھی وہی دم
ہر بات ہر اوقات ہر افعال میں خوش ہیں
پورے ہیں وہی مرد جو ہر حال میں خوش ہیں

سوال نمبر 7
مندرجہ ذیل عبارت کا خلاصہ تحریر کیجئے اور جو الفاظ عبارت کے ایک تہائی سے زیادہ نہ ہوں اس کا مناسب عنوان بھی تحریر کیجئے: (10 نمبر)
گزریں سارا بار عورتوں مردوں میں تقسیم ہو گیا مگر لوگوں کا یہ حال تھا کہ دیکھنے سے ترس آتا تھا یعنی جان سے بیزار تھے اور اپنے اپنے بوجھوں میں دبے ہوئے اوپر تلے دوڑتے پھرتے تھے سارا میدان گریہ زاری نالائے فریاد آہو افسوس سے دعادار اوالٹار سلطان الافلاق کو بےگس و آدم وزار کے حالے حالے دردناک پر رحم آیا اور حکم دیا کہ اپنے اپنے بوجھ اتار کر پھینک دے پہلے ہی بوجھ انہیں مل گئے جائیے یہ سب نے خوشی خوشی انو بالوں کو سر گردن سے اتار پھینک دی اتنے میں دوسرا حکم آیا کہ وہی جس نے انہیں دھوکے میں ڈال رکھا ہے مشتان ناب کر کے یہاں سے دفعہ ہو جائے اس کے جگہ ایک فرشتہ رحمت آسمان سے نظر و اسیر کرلاتو سکراتیں نہایت مقبول بابا کار تھیو چہرہ میں سنجیدہ اور خوش نما تھا اس نے اپنی آنکھوں کو آسمان کی طرف بھلایا اور رحمت الٰہی پر دھوکہ کر کے نگاہ کو اسی کی آس پر لگا دیا اور سرکانا صبر تو ملاحظہ بھی وہ اس مصیبت ہے اس کو ہوے مصیبت کے پاس آ کر بیٹھا ہی تھا کہ مذکورہ خود بخود خود بخود سمیٹنا شروع ہو گئی یہاں تک کہ گھنٹے گھنٹے ایک سلس رہ گئی پھر اس نے ہر شخص کو اصلی اور واجبی بوجھ اٹھا اٹھا کر دینا شروع کیا اور ہر ایک کو سمجھا دیا کہ ناغبراؤ بردباری کے ساتھ اٹھو ہر شخص لیتا ہے تھا اور اپنے گھر کو راضی خوشی چلا جاتا تھا ساتھ اس کا شکریہ ادا کرتا کہ آپ کی عنایت سے مجھے امبار علاحدہ سے اپنا بار مصیبت چلنا چننا نہ پڑا بس

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *