PMS Persian Past Paper 2026 PDF
PUNJAB PUBLIC SERVICE COMMISSION
Combined Competitive Examination (CCE) 2025
For Recruitment to the Posts of Provincial Management Service (PMS)
SUBJECT: Persian (Paper-I)
Time Allowed: 3 Hours
Maximum Marks: 100
Q.No.1 Write a detailed note on PAHALWI/ MIDDLE PERSIAN.
Q.No.2 What is the impact of Persian on the culture and civilization of the sub-continent?
Discover more
Education
Horticulture
Flora & Fauna
Q.No.3 Write a detailed note on prose OR poetry produced during Saljuques period.
Q.No.4 Give a literary review of Persian literature during the period of Jalal-ud-Din Akbar.
Q.No.5 Write a comprehensive note on any ONE of the following topics:
-
Life and literary works of Maulana Jalal-ud-Din Rumi
-
Evaluate the stylistics of Gulistan by Saadi Shirazi.
-
Introduce Hafiz Shirazi as a Ghazal poet.
-
Introduce the poetry of Parveen E’tesami.
Q.No.6 Write notes on the following topics:
-
Introduce Masood Saad Salman as a Habsiah (prisoner) poet.
-
An elaborative review of Jawam-e-ul-Hikayat by Muhammad Aoufi.
-
A detailed note on the poetic art and themes of Muhammad Iqbal in Persian Poetry
-
Highlight the salient characteristics of Fawaid-ul-Fawad by Hassan Sajzi
Q.No.7 – The correct answers are highlighted in Bold.
Discover more
Books & Literature
History
Trees
(i) “Seh Nasr” was written by: (A) Zahoori, (B) Qa’ani Shirazi, (C) Ghalib, (D) Jami
(ii) In Shahnameh, Sohrab was the son of: (A) Kaikaus (B) Afrasiyab (C) Rustam (D) Aarash
(iii) “Asrar-e-Khudi” was translated into English by: (A) E.G. Browne, (B) Nicholson, (C) Jan Rypka, (D) Levy
(iv) Maulana Jalal-ud-Din Rumi was buried in: (A) Balkh, (B) Konya, (C) Baghdad, (D) Tabriz
(v) Who was called the Ustad-e-Shoura? (A) Rudki Samarkandi (B) Daqiqi Tusi (C) Firdousi (D) Shaheed Balkhi
(vi) How many couplets are there in Shahnama Firdousi? (A) 80,000 (B) 70,000 (C) 60,000 (D) 50,000
(vii) Mathnawi “Dewal Rani Khizer Khan” was composed by: (A) Rudaki, (B) Amir Moezzi, (C) Amir Khusrow, (D) Naziri
(viii) Talib Amoli belonged to: (A) Ghaznavids period (B) Delhi Period (C) Mughal Period (D) British Period
(ix) Who was the founder of Delhi Sultanate? (A) Qutub-ud-Din Aibak (B) Jalal-ud-din Khilji (C) Alauddin-Din-Khilji (D) Ibrahim Lodhi
(x) Who is the Father of modern persian poetry? (A) Malik-u-Shoura Bahar (B) Neema Ushij (C) Farrukhi Yazdi (D) Faridun Tawlloli
SUBJECT: Persian (Paper-II)
Time Allowed: 3 Hours
Maximum Marks: 100
سوال 1: مندرجہ ذیل اقتباسات میں سے کسی ایک کا اردو یا انگریزی میں ترجمہ کریں: (10 Marks)
(الف) نقل است کہ کسی ابراھیم را ھزار دینار آورد کہ “بگیر” گفت: “من از درویشان نستانم”، گفت: “من توانگرم”، گفت: “از آن کہ داری، زیادت باید؟” گفت: “باید” گفت: “برگیر کہ سر ھمہ درویشان توئی خود این درویشی نمی بود، گدایی بود” و گفت: سنگی دیدم در راھی افگندہ، و بر وی نبشتہ کہ: “برگردان و برخوان” بر گردانیدم و برخواندم، بدان سنگ نبشتہ بود کہ: “چون تو عمل نکنی بدانچہ می دانی، چگونه می طلبی آنچہ نمی دانی؟”
(ب) فی الجملہ مقبول نظر سلطان آمد کہ جمال صورت و معنی داشت و خردمندان گفتہ اند: توانگری بہ دل است نہ بہ مال و بزرگی بہ عقل است نہ بہ سال۔ ابنای جنس او بر منصب او حسد بردند و بہ خیانتی متہم کردند و در کشتن او سعی بی فائدہ نمودند۔ دشمن چہ کند چو مہربان باشد دوست ملک پرسید کہ موجب خصمی ایشان در حق تو چیست؟ گفت: در سایہ دولت خداوندی “دام ملکہ” ھمگنان را راضی کردم مگر حسودان کہ راضی نمی شوند، الا بہ زوال نعمت من و دولت خداوندی باقی باد۔
سوال 2: مندرجہ ذیل اقتباسات میں سے کسی ایک کا اردو یا انگریزی میں ترجمہ کریں: (10 Marks)
(الف) و آنان کہ علم را بر عمل فضل نہادند، ھم محال باشد، کہ علم بی عمل، علم نباشد؛ از آن کہ آموختن و یادداشتن و یادگرفتن وی جملہ عمل باشد، از آن است کہ بندہ بدان مثاب است، و اگر علم عالم بہ فعل و کسب وی نبودی، وی را بدان ھیچ ثواب نبودی؛ و این سخن دو گروہ است: یکی آنان کہ نسبت بہ علم کنند مر جاہ خلق را و طاقت معاملت آن ندارند، و بہ تحقیق علم نرسیدہ باشند، عمل را از آن جدا کنند؛ کہ نہ علم دانند نہ عمل۔
(ب) جاھلی گوید: قال نباید، حال باید؛ و دیگری گوید: علم باید، عمل نباید؛ و از ابراھیم ادھم می آید کہ سنگی دیدم بر راہ افکندہ، و بر آن سنگ نبشتہ کہ مرا بگردان و بخوان۔ گفتا: بگردانیدمش۔ بر آن نبشتہ بود کہ تو بہ علم خود عمل می نیاری، محال باشد کہ نادانستہ طلب کنی؛ یعنی کار بند آن باش کہ دانی تا بہ برکات آن نادانستہ نیز بدانی۔
سوال 3: مندرجہ ذیل اجزا میں سے کسی ایک کا اردو یا انگریزی میں ترجمہ و تشریح کریں: (10 Marks)
(الف) این کہنہ رباط را کہ عالم نام است / آرامگہ ابلق صبح و شام است بزمی است کہ واماندہ صد جمشید است / گوری است کہ خوابگاہ صد بہرام است
(ب) ہر ذرہ کہ بر روی زمینی بودہ است / خورشید رخی زہرہ جبینی بودہ است گرد از رخ آستین بہ آزرم افشان / کان ہم رخ خوب نازنینی بودہ است
سوال 4: مندرجہ ذیل اجزا میں سے کسی ایک کا اردو یا انگریزی میں ترجمہ و تشریح کریں: (10 Marks)
(الف) بنمای رخ کہ باغ و گلستانم آرزوست / بگشای لب کہ قند فراوانم آرزوست ای آفتاب حسن برون آ دمی ز ابر / کان چہرہ مشعشع تابانم آرزوست
(ب) مرا در منزل جانان چہ امن عیش چون ہر دم / جَرَس فریاد میدارد کہ بربندید مَحملها بہ می سجادہ رنگین کن گرت پیر مُغان گوید / کہ سالک بیخبر نبود ز راہ و رسم منزلها
سوال 5: مندرجہ ذیل اجزا میں سے کسی ایک کا اردو یا انگریزی میں ترجمہ و تشریح کریں: (10 Marks)
(الف) در جہان تخم خصومت کاشتہ است / خویشتن را غیر خود پنداشتہ است سازد از خود پیکر اغیار را / تا فزاید لذت پیکار را می کشد از قوت بازوی خویش / تا شود آگاہ از نیروی خویش
(ب) سوز او را از نگاه من بگیر / یا ز آہ صبحگاه من بگیر مادرت درس نخستین با تو داد / غنچہ تو از نسیم او گشاد از نسیم او ترا این رنگ و بوست / ای مطاع ما بہای او زوست
سوال 6: مندرجہ ذیل اقتباس میں سے دو کا فارسی میں ترجمہ کریں: (10+10=20 Marks)
(الف) انسانی تہذیب کے طویل سفر میں علم و دانش میں ترقی نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ علوم و فنون کی گراں مائیگی نے نئے نئے چراغ جلائے اور ان چراغوں سے مزید چراغ روشن ہوتے چلے گئے۔ جن قوموں نے شمشیر و سناں سے طاؤس و رباب تک کے سفر کے دوران علمی و تہذیبی پڑاؤ ڈالے اور کمر کھول کر رقص و سرود اور عیش و طرب میں مشغول ہونے کے بجائے علوم و فنون میں دلچسپی لی، ان کے ہاتھوں میں دنیا کی امامت آگئی اور دانش و حکمت کی دیوی نے بھی ان کے ساتھ رہنا قبول کیا۔ اس طرح علوم و فنون اور تہذیب و تمدن کے مراکز بدلتے رہے۔ بابل، نینوا، مصر، یونان، روم، ایران، عرب، ترکی، پڑیا، موہن جوداڑو، اسپین، فرانس، الماقیہ اور آریائی ہندوستان کی قدیم تاریخیں گواہ ہیں کہ علوم و فنون اور تہذیب و تمدن نے مراکز تبدیل کئے ہیں اور ایک قوم نے دوسری قوم، اقوام کے علمی، ادبی، فکری، سائنسی تکنیکی خزانوں سے استفادہ کیا ہے۔
(ب) پر نیوی و زرعی سماج میں ضعیف الاعتقادی اور توہم پرستی کا دور دورہ ہوتا ہے۔ جس نظام معیشت کی بنیاد ہی قسمت پرستی (Fatalism) پر ہو اس کے زیر اثر الوہیت کی فصلیں تو لہلہا کے رہیں گی۔ خاص طور سے ہندوستان جیسے ملک میں جہاں ہزاروں سال سے کھیتی باڑی کا دارومدار دھوکے باز موسم برسات پر رہا ہے، جہاں کبھی بادل منڈلانے کے باوجود بارش نہیں ہوتی تو کبھی سوکھے دھانوں میں اس قدر پانی پڑتا ہے کہ رہی سہی فصل بھی برباد ہو جاتی ہے، کبھی قحط پڑتا ہے تو کبھی بارش کی زیادتی سے سیلاب آتے ہیں اور بستیاں تباہ ہو جاتی ہیں۔ غرض کہ پیداوار کے ساتھ ساتھ پوری زندگی کا دارومدار موسم پر ہوتا ہے۔ ہم نے اب تک فطرت کے تلوں پر نہ قابو پایا ہے اور نہ ہی اس کے بچاؤ کا کوئی راستہ ڈھونڈ نکالا ہے۔ اس لیے زرعی سماج کا عام فرد قسمت پر صبر و شکر کر کے زندگی کے دن کاٹ رہا ہے۔ ایسے میں اس کے اندر قسمت پرستی کا مادہ پختہ ہو جائے تو اس میں تعجب کیسا؟ یہ قسمت پرستی آہستہ آہستہ زندگی کے دوسرے مظاہر میں بھی گھر کر جاتی ہے اور سارا معاشرہ اس مرض کا شکار ہو جاتا ہے۔
(ج) حافظ شیرازی ایران کے سب سے بڑے غزل گو شاعر ہیں۔ ان کی ولادت شیراز میں ہوئی۔ بچپن میں ہی والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا اور ایک نانبائی کے ہاں خمیر گوندھنے کا کام کرتے تھے۔ انہوں نے قرآن مجید بھی حفظ کیا۔ ان کی غزلیات عشق کے اسرار و رموز سے بھری پڑی ہیں۔ تصوف کے اسرار و رموز، ریاکاری کی مذمت، مے نوشی اور امید پسندی ان کے محبوب موضوعات میں سے ہیں۔ ان کا دیوان ان کے ایک شاگرد محمد گلدام نے مرتب کیا ان کی غزلیات سے ایران کے علاوہ دوسرے ممالک میں فال بھی نکالی جاتی ہے۔ ان کا مقبرہ شیراز میں مرجع خلائق ہے۔
(د) علامہ محمد اقبال پاکستان کے قومی شاعر ہیں جنہوں نے اپنی شاعری سے خواب غفلت کی شکار قوم کو بیدار کیا۔ انہوں نے ایف اے تک تعلیم سیالکوٹ سے حاصل کی جبکہ بی اے میں داخلہ گورنمنٹ کالج لاہور میں لیا۔ ایم اے فلسفہ کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لئے انگلستان اور جرمنی گئے اور میونخ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی۔ وطن واپس آ کر اپنی شاعری سے لوگوں کے دلوں میں ایک نئی امنگ بیدار کی۔ انہوں نے اپنی شاعری کا مقصد ایک فارسی شعر میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ میں کہاں اور یہ شاعری کہاں، یہ شاعری تو ایک بہانہ ہے، میرا مقصد تو بھٹکی ہوئی قوم کو راہِ راست پر لانا ہے۔ انہوں نے لاہور میں وفات پائی اور انہیں بادشاہی مسجد کے پہلو میں دفن کیا گیا۔
سوال 7: Short Questions (10×2=20 Marks)
-
تذکرہ الاولیا کے مولف کون ہیں؟
-
رومی کے غزلیات کے دیوان کا نام بتائیں؟
-
عمر خیام کا تعلق کس دور سے ہے؟
-
گلستان کا موضوع کیا ہے؟
-
جوامع الحکایات کا مکمل نام کیا ہے؟
-
مثنوی رومی کتنے دفتروں پر مشتمل ہے؟
-
روایت کے مطابق رومی کی نیشاپور میں کس معروف صوفی شاعر سے ملاقات ہوئی؟
-
امیر خسرو نے کتنی مثنویاں لکھیں؟
-
علامہ اقبال کی کون سی مثنوی خیالی آسمانی سفر پر مبنی ہے؟
-
علامہ اقبال کی کتاب اسرار خودی کی پہلی اشاعت کب ہوئی؟
سوال 8: مندرجہ ذیل سوالات میں سے کسی ایک کا مفصل جواب فارسی میں لکھئے: (10 Marks)
(الف) امیر خسرو کی غزل گوئی پر اظہار خیال کریں۔ (ب) علامہ اقبال کی مثنوی جاوید نامہ پر تبصرہ کریں۔
