Federal Public Service Commission (FPSC) Competitive Examination for Recruitment to BPS-17 Posts under the Federal Government
Time Allowed: 3 Hours
Maximum Marks: 100 Marks
Paper: Urdu Literature
PART-2 (Objective) 20 Marks
PART-I
آورد سے کیا مراد ہے؟ (A) غور و فکر کے بعد شعر کہنا (B) بے ساختہ شعر کہنا (C) آہنگ (D) ان میں سے کوئی نہیں
“پہلا ہاف صنف” ___________ ہے۔ (A) تلمیح (B) تشبیہ (C) استعارہ (D) ان میں سے کوئی نہیں
“ثانی بجائے مرگ سے تم کیجئے گلہ / اب ہم نے رائےِ راحتِ صیاد دیکھئے” مندرجہ بالا شعر ___________ کی مثال ہے۔ (A) تمحید (B) رعایت (C) توشيح (D) ان میں سے کوئی نہیں
شعر میں الفاظ کا استعمال جس طریق پر ہوتا ہے اسے ___________ کہتے ہیں۔ (A) دائرہ (B) عروض (C) اسلوب (D) ان میں سے کوئی نہیں
“غالب و مصحفی و میر و نسیم و مومن / قحطِ حسرت نے اٹھایا ہے ہر استاد سے فیض” اس شعر میں حسرت موہانی نے ___________ کا اعتراف کیا ہے۔ (A) ابتذال (B) ابلاغ (C) اتباع (D) ان میں سے کوئی نہیں
“ملنا تر اگر نہ ہو آسان تو سہل ہے / دشوار تو یہی ہے کہ دشوار بھی نہیں” مندرجہ بالا شعر ___________ کی مثال ہے۔ (A) قولِ محال (B) صنعتِ تضاد (C) استعارہ (D) ان میں سے کوئی نہیں
ردیف کے معنی ہیں: (A) سواری کے پیچھے بیٹھنے والا (B) پیچھے پیچھے آنے والا (C) ملنے کی جگہ (D) ان میں سے کوئی نہیں
آزادی کے بعد اردو ادب میں کس موضوع پر زیادہ زور دیا گیا؟ (A) سیاسی مسائل (B) سماجی مسائل (C) فلسفیانہ مسائل (D) ان میں سے کوئی نہیں
نو آبادیاتی تناظر میں اکیسویں صدی کا اہم اردو ناول کون سا ہے؟ (A) غلام باغ (B) تذکرہ (C) انعام (D) ان میں سے کوئی بھی نہیں
“تذکرہ” کوٹھی کا موضوع کیا ہے؟ (A) سیاسی تحریکیں (B) انقلاب (C) تقسیمِ ہند اور بعد کے مسائل (D) ان میں سے کوئی بھی نہیں
سوانح مقالے کی کون سی شکل ہے؟ (A) ابتدائی کاپی (B) حتمی کاپی (C) مسودہ (D) ان میں سے کوئی بھی نہیں
معاصر اردو ادب میں سب سے اہم موضوع کیا رہا؟ (A) تاریخ (B) معاشرتی مسائل (C) سیاسی کشمکش (D) ان میں سے کوئی بھی نہیں
میر تقی میر کی شاعری میں “درد” اور “تنہائی” کا کیا کردار ہے؟ (A) ان کی شاعری کا مرکزی موضوع (B) ضمنی موضوع (C) ذاتی موضوع (D) ان میں سے کوئی بھی نہیں
“خرد کا نام جنوں پڑ گیا جنوں کا خرد / جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے” شاعر کا نام بتائیے؟ (A) غالب (B) علامہ اقبال (C) مومن (D) ان میں سے کوئی نہیں
امداد علی بحر کی تصنیف “بحر الایمان” کا موضوع کیا ہے؟ (A) شاعری (B) تاریخ (C) قواعد (D) ان میں سے کوئی بھی نہیں
عصمت چغتائی نے “دوزخی” کے نام سے کس کا خاکہ تحریر کیا؟ (A) شوکت تھانوی (B) سعادت حسن منٹو (C) ممتاز مفتی (D) ان میں سے کوئی بھی نہیں
“باغ و بہار” سے پہلے فارسی قصہ “چہار درویش” کا ترجمہ “نو طرزِ مرصع” کے نام سے ہو چکا تھا۔ یہ کس نے کیا؟ (A) ڈاکٹر جان گلکرسٹ (B) کاظم علی جوان (C) میر عطا حسین تحسین (D) ان میں سے کوئی بھی نہیں
نئی لسانی تشکیلات کی بنیادی نظریہ سازی کس شاعر و نقاد نے کی؟ (A) جیلانی کامران (B) افتخار جالب (C) وزیر آغا (D) ان میں سے کوئی بھی نہیں
ن م راشد کی نظم “حسن کوزہ گر” کتنے حصوں پر مشتمل ہے؟ (A) تین (B) سات (C) پانچ (D) ان میں سے کوئی بھی نہیں
“سات پانچ کرنا” سے کیا مراد ہے؟ (A) سرکاری سے کام لینا (B) فضول بحث کرنا (C) کم وقت میں زیادہ کام کرنا (D) ان میں سے کوئی بھی نہیں
PART-2 (Subjective) 80 Marks
PART-II
سوال نمبر 2۔ (الف) درج ذیل میں سے کسی ایک جزو کی تشریح کیجیے اور شاعر کا نام بھی لکھیے۔ (15)
جزو اول:
(1) یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
(2) دوست غمخواری میں میری سعی فرماویں گے کیا زخم کے بھرنے تلک ناخن بڑھ جاویں گے کیا
(3) متانتِ حال پر رہنا ہے مرے اب موقوف باتِ گردوں کو کوئی ہو گئی تو شب موقوف اے فریبندہ سخن رابطے کے سب موقوف مہر و الطاف و عنایات و کرم سب موقوف
جزو دوم:
شام کی راکھ میں استادہ ہوئی ڈھلوانوں پر ایک ریوڑ کے قدموں کا مدھم آہنگ جس کی ہر لہر دھندلکوں میں لڑھک جاتی ہے
مست چرواہا چھراگاہ کی ایک چوٹی سے جب اترتا ہے تو زیتون کی لاٹھی سونٹی کسی جلتی ہوئی بدلی میں اٹک جاتی ہے
بکریاں دشت کی مہکار میں گم، دندھلا اور دودھ جھاڑیوں میں لیے بے تاب رقص کناں آتی ہیں
کوئی چڑیا غمِ دوراں پہ چھنک جاتی ہے جست بھرتی ہے کبھی اور کبھی چلتے چلتے
نابہنچی ڈار سے بچھڑے ہوئے غزالوں کی ہر جھکی شاخ کی پرکھٹ پہ ٹھٹک جاتی ہے
سان پر لاکھ چھری سیخ پہ صد پارہ گوشت پھر بھی مدمہوش غزالوں کی یہ ٹولی ہے کہ جو
بار بار اپنے خطرے سے بھٹک جاتی ہے شام کی راکھ میں استادہ ہوئی ڈھلوانوں پر
کھیلتی ہے غمِ ہستی کی وہ شاداب سی امنگ جس کی رو وقت کی پہنائیوں تک جاتی ہے
(ب) مندرجہ ذیل میں سے کسی ایک کا جواب دیجیے۔ (10)
اقبال کی شاعری میں خودی اور قومیت کے تصورات کے عصری مفہوم پر بحث کریں۔
یا
مجید امجد کی شاعری میں فطرت کو کس طرح علامتی سطح پر انسانی جذبات اور تجربات کی عکاسی کے طور پر پیش کیا گیا ہے؟
سوال نمبر 3۔ (الف) پاکستانی ادب کی شناخت اور روایت میں جدیدیت اور روایتی موضوعات کے درمیان تناؤ کو کیسے بیان کیا جا سکتا ہے؟ (15)
یا
منٹو کے افسانوں میں موجود انسانیت کے المیے اور اخلاقی انتشار کو معاصر معاشرتی حالات میں کس طرح بیان کیا جا سکتا ہے؟ کیا یہ آج کے معاشرتی تناظر میں ان کے افسانوں کی اہمیت کو مزید بڑھاتا ہے؟
(ب) درج ذیل اقتباسات میں سے کسی ایک کی تشریح کیجیے۔ مصنف اور کتاب یا مضمون کا حوالہ بھی دیجیے۔ (10)
تب باپ نے درانتی اپنے کندھے پر رکھ لی۔ گل بانو کو اپنے بازو میں سمیٹ لیا اور رونے لگا۔ پھر وہ بیگ سے برات لانے کی بات کچی کر کے گاؤں واپس آ گیا۔ برات سے تین روز پہلے گل بانو کو مایوں بٹھا دیا گیا اور اسے اتنی مہندی لگائی گئی کہ اس کی ہتھیلیاں سرخ، پھر گہری سرخ اور پھر سیاہ ہو گئیں اور تین دن تک آس پاس کی گلیاں گل بانو کے گھر سے امڈتی ہوئی مہندی کی خوشبو سے مہکتی رہیں۔ پھر رات کو تاروں کی چھاؤں میں برات کو پہنچنا تھا اور دن کو لڑکیاں گل بانو کی ہتھیلیوں کو مہندی سے تھوپ رہی تھیں کہ دور ایک گاؤں سے ایک نائی آیا اور اس نے گل بانو کے باپ کو بتایا کہ کل زمیندار ہرن کے شکار پر گیا تھا اور بیگ اس کے ساتھ تھا۔ جنگل میں زمیندار کے پرانے دشمن زمیندار کی تاک میں تھے انہوں نے اس پر حملہ کر دیا اور بیگ اپنے مالک کو بچانے کی کوشش میں مارا گیا۔ آج جب میں وہاں سے چلا تو بیگ کی ماں اپنے بیٹے کی لاش کے سر پر سر ابالندھ کے اپنے بال نوچ نوچ کر ہوا میں اڑا رہی تھی۔
یا
“یہ میری عجیب دیوانی بیٹی ہے۔” عورت نے اپنے برقعے کے پٹ کھولتے ہوئے کہا، “یہ میری سب سے چھوٹی بیٹی ہے۔ آپ نے اس کا چہرہ تو ابھی نہیں دیکھا مگر اس کا قد تو پسند ہے نا آپ کو؟” الیاس بولا، “جی ہاں۔۔۔ سبحان اللہ!” میں نے ایک جھٹکے کے ساتھ پلٹ کر الیاس کو دیکھا۔ اتنے پیارے اور مقدس الفاظ اس نے کتنے اوپاش لہجے میں ادا کیے تھے۔ الیاس میری اس حرکت سے بہت محفوظ ہوا— وہ ہنسنے لگا اور بولا، “یہ میرے دوست ہیں مگر بہت شرمیلے— ان سے قسم لے لیجیے جو انہوں نے آج تک کسی عورت کو چھوا بھی ہو۔ ان کا نام رؤف ہے مگر آپ انہیں مردوں کا بلیس سمجھ لیجیے۔”
سوال نمبر 4۔ درج ذیل نثر پاروں میں سے کسی ایک کی تلخیص کیجیے۔ (10)
اچھے برے ہر قوم میں ہوتے ہیں۔ شریف افسر خاں صاحب کی سچائی اور دیانت داری اور جفا کشی کی بڑی قدر کرتے تھے اور ان کو اپنی اردلی میں رکھتے تھے۔ مگر بعض ایسے بھی تھے کہ جن کے سر میں خناس سمایا ہوا تھا۔ انہیں خاں صاحب کے یہ ڈھنگ پسند نہ تھے اور وہ ہمیشہ ان کے نقصان کے درپے رہتے تھے۔ ایسے لوگ اپنی اور اپنی قوم دانوں کی خودداری کو جوہرِ شرافت سمجھتے تھے۔ لیکن اگر یہی جوہر کبھی دیسی میں ہوتا تو اسے غرور اور گستاخی پر محمول کرتے ہیں۔ تاہم ان کے اکثر انگریز افسران ان پر بہت مہربان تھے۔ خاص کر کرنیل فرن نیمن ان پر بڑی عنایت کرتے تھے اور خاں صاحب پر اس قدر اعتبار تھا کہ شاید کسی اور پر ہو۔ جب کرنیل صاحب نے اپنی خدمت سے استعفیٰ دیا تو اپنا تمام مال و اسباب اور سامان جو ہزار ہا روپے کا تھا خاں صاحب کے سپرد کر گئے۔ یہ امر انگریز افسروں کو بہت ناگوار ہوا۔ اس وقت کے کمانڈنگ افسر سے نہ رہا گیا اور اس نے کرنل موصوف کو لکھا کہ آپ نے ہم پر اعتماد نہ کیا اور ایک دیسی دفعدار کو اپنا تمام قیمتی سامان حوالے کر گئے۔ اگر آپ یہ سامان ہمارے سپرد کر جاتے تو اسے اچھے سے اچھے داموں میں فروخت کر کے قیمت آپ کے پاس بھیج دیتے— اگر اب بھی لکھیں تو اس کا انتظام ہو سکتا ہے۔ کرنل نے جواب دیا کہ مجھے نور خاں پر تمام انگریز افسروں سے زیادہ اعتماد ہے۔ آپ کو زحمت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس پر یہ لوگ اور برہم ہوئے۔ ایک بار کمانڈنگ افسر یہ سامان دیکھنے آیا اور کہنے لگا کہ فلاں فلاں چیز میم صاحب نے ہمارے ہاں سے منگائی تھی۔ چلتے وقت واپس کرنی بھول گئے۔ اب تم یہ سب چیزیں ہمارے بنگلے پر بھیج دو۔
یا
اس تقریب میں شرکت کے دعوت نامے کے ساتھ جب مجھے مطلع کیا گیا کہ میرے تقریباتِ خالصتاً رسمی اور حاشیائی ہوں تو مجھے ایک گوشہِ اطمینان ہوا۔ ایک گونہ میں رواداری میں لکھ گیا، ورنہ سچ پوچھے تو دو گونہ اطمینان ہوا۔ اس لیے کہ مجھے اطمینان دلایا گیا کہ رسمِ اجرا نہایت مختصر و سادہ ہو گی۔ اس میں وہی ہو گا جو اس طرح کے شاموں میں شایانِ شان ہوتا ہے یعنی کچھ نہیں ہو گا۔ بس صاحبِ شام (میں نے جان بوجھ کر صاحبہِ شام نہیں کہا) شاہدہ حسن کی تاج پوشی نہیں ہو گی۔ میرے تردد زائل اور اس وضاحت کا سبب یہ تھا کہ ایک ہفتے قبل میں شاہدہ کا ایک خیال انگیز تعارفی مضمون مخدومی و مکرمی جناب جاذب قریشی کی تاج پوشی کی تقریبِ سعید میں سن چکا تھا۔ جاذب صاحب کی شاعری اور تنقید کا دل پذیر سلسلہ نصف صدی کا قصہ ہے، دو چار برس کی بات نہیں۔ ایک عمر کے ریاض،
سوال نمبر 5۔ کسی ایک موضوع پر سیر حاصل مضمون لکھیے۔ (20)
(الف) مصنوعی ذہانت— اردو زبان کے لیے مواقع اور مشکلات