Federal Public Service Commission (FPSC)
Competitive Examination for Recruitment to BPS-17 Posts under the Federal Government
Time Allowed: 3 Hours
Maximum Marks: 100 Marks
Paper: Urdu Literature
PART-2 (Objective) 20 Marks
PART-I
1۔ شعر میں موجود صنعت کی نشاندہی کریں۔ “میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسد / سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا” (A) تعلیل (B) تعریض (C) تلمیح (D) ایہام
2۔ قرۃ العین حیدر کس مشہور افسانہ نگار کی بیٹی تھیں؟ (A) منشی سجاد حسین (B) راشد الخیری (C) سجاد حیدر یلدرم (D) ڈپٹی نذیر احمد
3۔ ” ماں ” کس کی تخلیق ہے؟ (A) مرزا ادیب (B) قدرت اللہ شہاب (C) شوکت صدیقی (D) عصمت چغتائی
4۔ ” ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام۔۔۔۔۔ وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا “۔ شاعر کا نام بتائیے؟ (A) اکبر الہ آبادی (B) سیماب اکبر آبادی (C) ظفر علی خان (D) علامہ اقبال
5۔ پریم چند کا اصل نام بتائیے؟ (A) بابو رام (B) دھنپت رائے (C) نذر محمد (D) سدرشن
6۔ مرزا غالب نے کس کے نام سب سے زیادہ خطوط لکھے؟ (A) منشی ہرگوپال تفتہ (B) میر مہدی مجروح (C) مرزا حاتم علی مهر (D) سب کو برابر لکھے
7۔ ” شہرِ آشوب ” کس نوعیت کی صنفِ شاعری ہے؟ (A) معاشرتی بدحالی (B) قومی ترقی (C) رومانی (D) عشق و محبت
8۔ ” ماہِ تمام ” کس شاعرہ کی کلیات ہے؟ (A) کشور ناہید (B) پروین شاکر (C) فهمیدہ ریاض (D) ادا جعفری
9۔ تلمیح کے لفظی معنی کیا ہیں؟ (A) بنانا (B) بات کرنا (C) اشارہ کرنا (D) کہانی سنانا
10۔ ” آثار الصنادید ” کس کی کتاب ہے؟ (A) سرسید احمد خان (B) مرزا غالب (C) مولانا حالی (D) ڈپٹی نذیر احمد
11۔ وہ نظم جو قافیہ اور ردیف کی قید سے آزاد ہو مگر ایک ہی بحر اور وزن میں لکھی گئی ہو اسے کیا کہتے ہیں؟ (A) نظمِ آزاد (B) پابند نظم (C) نظمِ معرا (D) رباعی
12۔ اہل زبان کی مخصوص بول چال میں جب لفظ اپنے حقیقی معنوں میں استعمال ہوں تو قواعد کی رو سے کیا کہلاتے ہیں؟ (A) مصدر (B) فعل (C) محاورہ (D) روزمرہ
13۔ یوسف ثانی کی وجہِ شہرت بتائیے؟ (A) داستان نویسی (B) شاعری (C) سیاحت (D) تذکرہ نویسی
14۔ اردو کی وہ کون سی کتاب ہے جس میں عربی و فارسی کا ایک بھی لفظ شامل نہیں ہے؟ (A) صبرس (B) فسانہ عجائب (C) چہار درویش (D) رانی کیتکی کی کہانی
15۔ اردو علامتی افسانہ نویسی میں کون سا نام اہم ہے؟ (A) انور سجاد (B) منٹافی (C) اے حمید (D) احمد ندیم قاسمی
16۔ ” دوزخی ” کس کی سوانح عمری ہے؟ (A) عصمت چغتائی (B) بانو قدسیہ (C) الطاف فاطمہ (D) زاہدہ حنا
17۔ علامہ اقبال کی مشہور نظمیں شمع و شاعر، خضرِ راہ، طلوعِ اسلام کس ہیئت میں لکھی گئیں؟ (A) مخمس (B) ترکیب بند (C) ترجیع بند (D) مسدس
18۔ منٹو کے افسانوں کے پہلے مجموعے کا نام بتائیے؟ (A) منٹو کے افسانے (B) دھواں (C) چغد (D) آتش پارے
19۔ شبلی نعمانی معروف کتاب “سیرت النبی ﷺ” کی ایک جلد لکھ سکے باقی سید سلیمان ندوی نے لکھیں۔ انہوں نے کتنی جلدیں لکھیں؟ (A) تین (B) چار (C) پانچ (D) چھ
20۔ ” حیاتِ جاوید ” کس نوعیت کی کتاب ہے؟ (A) آپ بیتی (B) سوانح عمری (C) تذکرہ (D) ہجو
PART-2 (Subjective) 80 Marks
PART-II
سوال نمبر 2۔ (الف) درج ذیل میں سے کسی ایک جزو کی تشریح کیجیے اور شاعر کا نام بھی لکھیے۔ (15)
جزو اول:
(1) فروغِ شعلۂ خس یک نفس ہے نفس موجِ محیطِ بے خودی ہے
(2) ہوس کو پاسِ ناموسِ وفا کیا تغافل ہائے ساقی کا گلہ کیا
(3) دماغِ عطرِ پیرہن نہیں ہے یہ قاتل وعدہ صبر آزمائیکوں
(4) غمِ آوارگی ہائے صبا کیا یہ کافر فتنہ طاقت ربا کیا؟
جزو دوم:
یہ ہاتھ سلامت ہیں جب تک اس خوں میں حرارت ہے جب تک اس دل میں صداقت ہے جب تک اس نطق میں طاقت ہے جب تک
ان طوق، سلاسل کو ہم تم سکھلا دیں گے شورش برہانہ تے
وہ شورش جس کے آگے زبوں ہنگامہِ طبلِ قیصر و جم
آزاد ہیں اپنے فکر و عمل بہرِ ہر و خزينہِ ہمت کا اک بحر ہے اپنی ہر ساعت
امروز ہے اپنا، بہرِ فردا یہ شام و سحر، یہ شمس و قمر یہ اختر و کوکب اپنے ہیں
یہ لوح و قلم، یہ طبل و علم یہ مال و حشم سب اپنے ہیں
(ب) مندرجہ ذیل میں سے کسی ایک کا جواب دیجیے۔ (10)
فیض کی شاعری میں جذبہ اور نظریہ دونوں موجود ہیں۔ ڈاکٹر انور سدید کے اس خیال کی روشنی میں دستِ صبا کا تجزیاتی مطالعہ پیش کیجیے۔
یا
ناصر کاظمی نے عصری وملی حالات کی سنگینی کو میر کے پر سوز اور دھیمے لہجے میں پیش کیا۔ دلائل سے وضاحت کیجیے۔
سوال نمبر 3۔ (الف) احمد ندیم قاسمی نے پنجاب کے دیہات کو اردو ادب میں اعتبار بخشا۔ “کپاس کا پھول” کے تناظر میں بحث کیجیے۔ (15)
یا
“ہم عہدِ یوسفی میں جی رہے ہیں” اس بیان کی روشنی میں مشتاق احمد یوسفی کے فنِ طنز و مزاح سے آگاہ کیجیے۔
سوال نمبر 3۔ (ب) درج ذیل اقتباسات میں سے کسی ایک کی تشریح کیجیے۔ مصنف اور کتاب یا مضمون کا حوالہ بھی دیجیے۔ (10)
ایک نہیں دو گالیاں۔۔۔ بار بار دو گالیاں جو سیٹے نے بالکل پان کی پیک کی مانند اپنے منہ سے اگل دی تھیں۔ اس کے کانوں کے پاس زہریلی بھڑوں کی طرح بھنبھنانا شروع کر دی تھیں۔ اور وہ سخت بے چین ہو جاتا تھا وہ کیسے۔۔۔ اس۔۔۔۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ اس گڑ بڑ کا نام کیا رکھے جو اس کے دل میں اور دماغ میں ان گالیوں نے مچارکھی تھی۔ وہ کیسے اس دھپ کو دور کر سکتا تھا۔۔۔ اس کا دماغ تو اس وقت ایک ایسا اکھاڑا بنا ہوا تھا جس میں بہت سے پہلوان کشتی لڑرہے ہوں جو خیال بھی وہاں پیدا ہوتا کسی دوسرے خیال سے جو پہلے ہی سے وہاں موجود ہوتا بھر جاتا اور وہ کچھ سوچ نہ سکتا۔
یا
والیِ ریاست اپنے علاقہ کا حاکمِ باالاختیار ہے۔ سیاہ و سفید کا مالک ہے لیکن اس کے ساتھ ایک ایسی سٹھ گٹھ ہوتی ہے جس کے سامنے سارے اختیارات دھرے رہ جاتے ہیں۔ یہ ایک عجیب و غریب شخص ہوتا ہے۔ نہ صاحبِ اختیار، نہ صاحبِ جاہ و منصب، نہ غیر معمولی قابلیت اور ذہانت رکھتا ہے لیکن سب کچھ سمجھا جاتا ہے اور سب کچھ کر گزرتا ہے۔ یہ ریذیڈنٹ بہادر ہیں، راجا پاٹ تو حضور کا ہے لیکن کنگورے کی ڈور “صاحبِ عالی شان بہادر” کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ یہاں بڑے بڑے مدعیوں کے دعوے باطل ہو جاتے ہیں اور بڑے بڑے مدبروں کی تدبیریں بے سود ثابت ہوتی ہیں۔ بڑے صاحب کی نظرِ قہر کی ایک دنیا بھر جاتی ہے۔
سوال نمبر 4۔ درج ذیل نثر پاروں میں سے کسی ایک کی تلخیص کیجیے۔ (10)
انسانی زندگی ایک ایسے عملِ مسلسل کا نام ہے جس کا طبیعی تحرک کبھی ختم نہیں ہوتا اور جس کی صبار رفتاری کے آگے کسی قسم کی رکاوٹ کھڑی کرنا ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ برگساں نے زندگی کو ایک ایسے صبار رفتار گھوڑے سے تشبیہ دی ہے جو افق کی تلاش میں سرگرداں کسی مقام پر ٹھہرے بغیر بڑھتا چلا جاتا ہے۔ یوں بھی حرکت ایک مطلق حقیقت ہے اور سکون باعتبارِ اضافت ہے۔ جو زائد حرکت کی نسبت سے ساکن اور کم حرکت کی نسبت سے متحرک ہوتا ہے۔ اس تسلسلِ حیات کے برعکس جب جمود کا ذکر ہوتا ہے تو اس سے مراد زندگی کی رفتار کو روک دینا یا اسے جامد کرنا نہیں ہوتا بلکہ مقصد یہ ظاہر کرنا ہوتا ہے کہ زندگی سے تخلیق کی تازگی مفقود ہو گئی ہے اور اسلوبِ حیات ایک گھسے پٹے سانچے کو قبول کرنے لگا ہے۔ ایسی صورت میں زندگی کا تسلسل حیوانی سطح پر تو قائم رہتا ہے لیکن اس میں جدت اور تنوع کا کوئی پہلو نظر نہیں آتا۔
یا
موسم، ماحول، فطرت، لینڈ سکیپ، جغرافیہ یا جو بھی نام دے لیں ان سے شاعر کی جذباتی ہم آہنگی کوئی ایسی عجیب پر اسرار یا بعید از فہم نہیں ہونی چاہیے۔ شدتِ احساس، نفسی تناؤ یا اعصابیت کی بنا پر شاعر عام لوگوں کے مقابلے میں موسمی تغیرات کا حساس نشانہ ثابت ہو سکتا ہے۔ نازک طبع شاعر کے اعصاب تو موسم کے تال پر دھڑکتے ہیں۔ گرمی سے کملاتے ہیں۔ سردی سے ٹھٹھرتے ہیں۔ برسات سے سرشار ہوتے ہیں، جس سے پڑتاؤ رہتے ہیں اور برسات میں دھمال ڈالتے ہیں۔ اس لیے اگر شعراء نے بدلتی رتوں سے تخلیقی اثرات قبول کرتے ہوئے اشعار کو موسم کا آئینہ بنا دیا تو یہ تعجب خیز نہ ہونا چاہیے بلکہ برعکس ہو نا باعثِ تعجب ہو سکتا ہے۔
سوال نمبر 5۔ کسی ایک موضوع پر سیر حاصل مضمون لکھیے۔ (20)
(الف) پاکستانی ادب پر علاقائی اثرات
(ب) حلقۂ اربابِ ذوق
(ج) کلاسیکی عہد میں اردو شاعری