“گلشنِ بے خار” کس کا لکھا ہوا تذکرہ ہے؟ (A) قائم چاند پوری (B) غلام ہمدانی مصحفی (C) مصطفیٰ خان شیفتہ (D) محمد حسین آزاد
“اودھ پنچ اخبار” کے ایڈیٹر تھے۔ (A) شیخ عبد القادر (B) عبد الحلیم شرر (C) وحید الدین سلیم (D) سید سجاد حسین
فیض احمد فیض کی کتاب “میزان” صنف کے لحاظ سے کیا ہے؟ (A) مکاتیب (B) شاعری (C) خاکے (D) تنقید
“چچا چھکن” کس کا تخلیق کیا ہوا مشہور کردار ہے؟ (A) اشرف صبوحی (B) حفیظ جالندھری (C) امتیاز علی تاج (D) مرزا رسوا
غالب نے اپنے ایک خط میں اپنی کتاب “مہرِ نیم روز” کا ذکر کرتے ہوئے کیا ہے، اس کا موضوع کیا ہے؟ (A) تاریخ (B) شاعری (C) قواعد (D) سفر کا احوال
“گنج ہائے گراں مایہ” اور “ہم نفسانِ رفتہ” ____________ کی تصانیف ہیں۔ (A) الطاف حسین حالی (B) رشید احمد صدیقی (C) فرحت اللہ بیگ (D) پطرس بخاری
“نہ چھیڑ اے نکہتِ بادِ بہاری راہ لگ اپنی / تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بے زار بیٹھے ہیں” یہ کس کا شعر ہے؟ (A) خواجہ میر درد (B) میر تقی میر (C) انشاء اللہ خان انشاء (D) مصحفی
“قصص ہند”، “نیرنگِ خیال” اور “دربارِ اکبری” کے مصنف تھے۔ (A) سر سید احمد خان (B) عبد المجید سالک (C) مولانا محمد حسین آزاد (D) شوکت سبزواری
پطرس بخاری کا اصل نام کیا تھا؟ (A) احمد شاہ (B) دلدار شاہ (C) نذر محمد (D) محمد احمد
“گلِ بکاؤلی” کی داستان کو کس نے مثنوی کی شکل میں پیش کیا؟ (A) میر حسن (B) دیا شنکر نسیم (C) حفیظ جالندھری (D) میر تقی میر
اردو کا ہیولیٰ سندھ میں تیار ہوا یہ نظریہ کس نے پیش کیا؟ (A) محمد حسین آزاد (B) سید سلیمان ندوی (C) نصیر الدین ہاشمی (D) شوکت سبزواری
“تھا تو اعجازِ بویِ گل ولی میں / آرامیدہ ہے۔ گلشن و دہر میں تیرِ استوا خوابیدہ ہے” اس شعر میں ہم نوا سے کون سی شخصیت مراد ہے؟ (A) غالب (B) گوٹے (C) میر حسن (D) نفیس آرٹند
ملا وجہی کس دور سے وابستہ تھے؟ (A) عادل شاہی (B) قطب شاہی (C) بہمنی (D) بیجاپوری
“تضمین الکلام” کس کی تحریر ہے؟ (A) مولانا اشرف علی تھانوی (B) سر سید احمد خان (C) مولوی نذیر احمد (D) وقار الملک
ایم۔ اے۔ او کالج کس کا مخفف ہے؟ (A) محمد علی اورینٹل کالج (B) مسٹر آرنلڈ اورینٹل کالج (C) محمدن اینگلو اورینٹل کالج (D) محمد احمد اورینٹل کالج
جان عالم کس مشہور داستان کا کردار ہے؟ (A) فسانہ عجائب (B) باغ و بہار (C) داستانِ امیر حمزہ (D) سب رس
“سوزِ دلی” کس مشہور شاعر کا دیوان ہے؟ (A) میر تقی میر (B) داغ دہلوی (C) مرزا غالب (D) مومن خان مومن
“گودی کا لال” کس کا افسانوی مجموعہ ہے؟ (A) غلام عباس (B) عصمت چغتائی (C) علی عباس حسینی (D) کرشن چندر
PART-2 (Subjective) 80 Marks
PART-II
سوال نمبر 2۔ (الف) درج ذیل میں سے کسی ایک جزو کی تشریح کیجیے اور شاعر کا نام بھی لکھیے۔ (16)
جزو اول:
(1) یوں اٹھے آہ اس گلی سے ہم جسے کوئی جہاں سے اٹھتا ہے
(2) غم نہیں ہوتا ہے آزادوں کو بیش از یک نفس برق سے کرتے ہیں روشن شمعِ ماتم خانہ ہم
(3) حالِ دل ہم بھی سناتے لیکن جب دورِ رخصت ہوا تب یاد آیا
(4) بلا سے ہم نے نہ دیکھا تو اور دیکھیں گے فروغِ گلشن و صوتِ ہزار کا موسم
جزو دوم:
مندرجہ ذیل بند کی تشریح کیجیے۔ شاعر اور نظم کا حوالہ بھی دیجیے۔
ہو صددقت کے لیے جس دل میں مرنے کی تڑپ پہلے اپنے پیکرِ خاکی میں جاں پیدا کرے
پھونک ڈالے یہ زمین و آسماںِ مستعار اور خاکستر سے آپ اپنا جہاں پیدا کرے
زندگی کی قوتِ پنہاں کو کر دے آشکار تا بہ چنگاری فروغِ جاویداں پیدا کرے
خاکِ مشرق پر چمک جائے مثالِ آفتاب تا بدخشان پھر وہی لعلِ گراں پیدا کرے
(ب) مندرجہ ذیل میں سے کسی ایک کا جواب دیجیے۔ (9)
آپ کے خیال میں وہ کیا خصوصیات ہیں جو غالب کے دیوان کو عالمگیر ادب کا حصہ بناتی ہیں۔ تحریر کیجیے۔
یا
کیا ناصر کاظمی کی غزل پر میر کا اثر نظر آتا ہے؟ “برگِ نے” کو مدِ نظر رکھتے ہوئے جائزہ لیجیے۔
سوال نمبر 3۔ (الف) احمد ندیم قاسمی کے افسانوں کے مجموعے “کپاس کے پھول” کا تنقیدی جائزہ لیجیے۔ (15)
یا
سیرت نگاری کے فن پر روشنی ڈالتے ہوئے شبلی نعمانی کی سیرت نگاری کا جائزہ لیجیے۔
سوال نمبر 3۔ (ب) درج ذیل اقتباسات میں سے کسی ایک کی تشریح کیجیے۔ مصنف اور کتاب یا مضمون کا حوالہ بھی دیجیے۔ (10)
نیکی کیا ہے اور بڑا آدمی کسے کہتے ہیں۔ ہر شخص میں قدرت نے کوئی نہ کوئی صلاحیت رکھی ہے۔ اس صلاحیت کو درجہِ کمال تک پہنچانے میں ساری نیکی اور بڑائی ہے۔ درجہِ کمال تک نہ بھی کوئی پہنچ سکتا ہے۔ لیکن وہاں تک پہنچنے کی کوشش ہی میں انسان انسان بنتا ہے۔ یہ سمجھو کہ دن ہو جاتا ہے۔ حساب کے دن جب اعمال کی جانچ پڑتال ہو گی خدا یہ نہیں پوچھے گا کہ تو نے کتنی اور کس کی پوجا پاٹ یا عبادت کی— وہ کسی کی عبادت کا محتاج نہیں۔ وہ پوچھے گا تو یہ پوچھے گا کہ میں نے جو استعداد تجھ میں ودیعت کی تھی اسے کمال تک پہنچانے اور اس سے کام لینے میں تو نے کیا کیا اور خلقِ اللہ کو اس سے کیا فیض پہنچایا۔
یا
بیٹی کے گھر کلوے توڑنے یا اس پر بار بننے کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ کانپور میں کبھی اس کے ہاں کھڑے کھڑے ایک گلاس پانی بھی پیتے تو ہاتھ پر پانچ روپے رکھ دیتے۔ لیکن اب؟ صبح سر جھکائے ناشتہ کر کے نکلتے تو دن بھر خاک چھان کر مغرب سے ذرا پہلے لوٹتے۔ کھانے کے وقت کہہ دیتے کہ ایرانی ہوٹل میں کھا آیا ہوں۔ جوتے انہوں نے ہمیشہ رحیم بخش جفت ساز سے بنوائے، اس لیے کہ وہ اس کے بنانے ہوئے جوتے چڑ چڑاتے بہت تھے۔ ان جوتوں کے تلے اب اتنے گھس گئے تھے کہ چر چرانے کے لائق نہ رہے۔ پیروں میں تمخیراں پڑ گئیں۔ شیر وانیاں دھیلی ہو گئیں۔ بیمار بیوی رات کو درد سے کراہ بھی نہیں سکتی تھی کہ سدھیانے والوں کی نیند خراب ہونے کا اندیشہ تھا— ململ کے کرتوں کی لکھنوی کڑھائی میل میں چھپ گئی۔ چٹنیاں نکلنے کے بعد آستینیں انگلیوں سے ایک ایک بالشت نیچے لٹکی رہتیں۔ خضابی مونچھوں کا بل تو نہیں گیا، لیکن صرف بل کھائی ہوئی نوکیں سیاہ رہ گئیں۔
سوال نمبر 4۔ کسی ایک نثر پارے کی تلخیص کیجیے۔ (10)
مسلمانوں کے مصائب اگر تمام تر اقتصادی ہوتے تب بھی ان کا حل آسان نہ تھا۔ لیکن اس زمانے میں انہیں جو نئے نئے مسائل پیش آرہے تھے وہ زندگی کے ہر شعبے سے متعلق تھے۔ اقتصادی اور ذہنی پستی کی اصلاح کے لیے ضروری تھا کہ مسلمان انگریزی تعلیم حاصل کریں اور وہ اس سے بدکتے تھے۔ اب تک ان کی ادبی زبان فارسی رہی تھی لیکن اس زبان کا مستقبل تاریک تھا اور اردو میں غزل گو شعراء کے دواوین کے سوا کوئی قابلِ ذکر لٹریچر نہ تھا۔ نثر میں بھی گنتی کی چند کتابیں تھیں جن میں علمی مسائل پیش کرنے کی صلاحیت نہ آئی تھی۔ اردو شاعری بھی نقائص سے پر تھی اور قوم کی نشوونما میں کسی طرح کارآمد نہ ہو سکتی تھی۔
یا
اردو ادب کی تین اصناف یعنی افسانہ، شاعری اور تنقید کو نہ صرف اس تحریک نے متاثر کیا بلکہ ادب کی ہیئتِ اجتماعیہ کو انسانی شعور سے رہنمائی حاصل کرنے، سائنسی انداز میں تجزیہ کرنے اور ان دونوں کے امتزاج سے زندگی کی بصیرتوں کو نئے مفاہیم نکھارنے کی قوت عطا کی۔ اس تحریک نے منطقی استدلال اور حقیقت پسندانہ تجزیے کو فروغ دیا اور معاشی حقائق کو تسلیم کر کے استحصالِ قوتوں کی نشاندہی کی۔ اس تحریک کے مقاصد میں عوام کی بہبودی اور ایک خوش حال معاشرے کی تعمیر کو فوقیت حاصل تھی۔ چنانچہ بلند انسانیت میں اعتقاد اور کچلے ہوئے عوام کو ایک با عظمت مقام دلانے کی خواہش نے نئے ادباء کو اس تحریک کی طرف متوجہ کیا۔
سوال نمبر 5۔ کسی ایک موضوع پر سیر حاصل مضمون لکھیے۔ (20)
(الف) ماحولیات اور ادب
(ب) اردو افسانے پر ترقی پسند تحریک کے اثرات
(ج) اردو شاعری میں سائنسی شعور
URDU LITERATURE
سوال نمبر 4۔ درج ذیل نثر پاروں میں سے کسی ایک کی تلخیص کیجیے۔ (10)
شعور کی رو کا تصور امریکی ماہرِ نفسیات جیمز ولیم کی عطا ہے۔ جیمز ولیم نے معروض کو تجربے کا عکس قرار دیا اور موضوع اور معروض کے درمیان ایسا تلازماتی رشتہ تلاش کیا جو کسی منطقی ربط کے بغیر زندگی بھر قائم رہتا ہے۔ انسان گفتگو کے ذریعے اس کا کچھ حصہ ظاہر کر دیتا ہے لیکن زیادہ حصہ زیرِ سطح گم رہتا ہے۔ نفسیات کے ماہرین نے اس گم شدہ حصے کو اہم تصور کیا اور اس کی متحرک قوت سے بیش قیمت نتائج اخذ کیے۔
آزاد تلازمہِ خیال فکری رجحان نہیں بلکہ ایک نفسیاتی کیفیت ہے۔ چنانچہ اس تحریک میں منظر اور پیش منظر کا پھیلاؤ زیادہ ہے اور وقت کی ابعاد ایک نقطے پر جمع ہو جاتی ہیں۔ چنانچہ ناول ایک خاص لمحے میں گردش کرنے کے باوجود پوری زندگی کا ترجمان بن جاتا ہے۔ مثال کے طور پر جیمز جوائس کا ناول “یولیسس” چند گھنٹوں کا بیانیہ ہے لیکن اس میں زندگی کی تمام حدیں سمٹ گئی ہیں۔ ڈور تھی رچرڈسن کا ناول “پوائنٹڈ روف” صرف ایک کردار کو منظر پر لاتا ہے لیکن یہ دراصل پوری زندگی کا سیر بین ہے۔ مارسل پروست کے ناول “ری میمبرنس آف تھنگس آف پاسٹ” میں بھی تھوڑے سے وقت میں زندگی کا پورا سفر طے ہو جاتا ہے۔ ورجینیا وولف کا ناول “مسز ڈلاوے” ایک دن کا بیانیہ ہے لیکن شعورِ ماضی اس تنظیم کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے کہ ناول زندگی اور معاشرے کا عکاس بن جاتا ہے۔ خود کلامی کی وجہ سے آزاد تلازمہِ خیال کی تکنیک بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے چنانچہ جیرالد گولڈ نے اس پہ بے ربطی اور انتشار کا الزام عائد کیا اور ٹیلیفون ڈائرکٹری کو انتخاب کی سختی کے باعث یولیسس سے بہتر فن پارہ قرار دیا۔
جیرالد گولڈ کی یہ رائے اس لیے قابلِ اعتناء نہیں کہ آزاد تلازمہِ خیال میں ذہنی عمل پر کوئی شعوری پابندی یا خارجی پابندی عائد نہیں ہوتی اور زندگی کے حقائق اپنے فطری انداز میں لاشعور سے شعور کی سطح پر آتے چلے جاتے ہیں۔ ان سب کو فنکار کا تخلیقی عمل فن کی ڈوری میں مسلسل گوندھتا چلا جاتا ہے۔ چنانچہ قاری اس میں معنوی اور واقعیاتی ربط تلاش کر لیتا ہے اور یوں اس میں تخلیقی حسن بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ آزاد تلازمہِ خیال کی تحریک نے اظہار کا ایک نیا طریقہ دریافت کیا۔ اور ناول کے محدود میدان میں انسانی زندگی، تاریخ اور تہذیب کا پورا کینوس پیش کر دیا۔ بیسویں صدی میں اس تحریک کے اثرات لمبے عرصے پر پھیلے ہوئے ہیں، چنانچہ کئی ناول نگاروں نے فلم کی تکنیک کو ادب میں موسیقی اور شاعری کے سانچے سے ہم آہنگ کر کے ذہن کو جسمانی سطح پر متحرک رکھنے کی سعی کی۔
یا
تقسیمِ ہند کے بعد جب ایک نیا ماحول پیدا ہوا تو اردو ادب کے مزاج میں کئی بنیادی تبدیلیاں وقوع پذیر ہوئیں۔ پاکستان کا قیام انتہائی پر امن ماحول میں نہیں ہوا تھا۔ تصادم کی فضا جو ۱۹۳۰ء کے عشرے میں پیدا ہوئی، وہ پروان چڑھتی رہی اور جب دو آزاد مملکتیں وجود پا گئیں تو اس کے ساتھ فسادات پھوٹ پڑے۔ یہ فسادات اپنے ساتھ آگ اور خون کی ہولی لے کر آئے جو پورے ہندوستان میں پھیل گئی۔ دونوں طرف نقصان ہوا۔ قتل و غارت گری، لوٹ مار، عصمت دری اور اغوا کے ایسے ہولناک واقعات ہوئے جن کی کوئی اور مثال نہیں ملتی۔
ان تمام عوامل کا اثر ادب پر پڑنا لازم تھا۔ فسادات کا یہ ادب زیادہ دیر تک بر قرار نہ رہ سکا۔ جذبات کا دریا اترا تو ایسی تخلیقات میں کمی واقع ہونے لگی جن میں فرقہ وارانہ تصادم کی کہانیاں تھیں لیکن تقسیمِ ہند کے عواقب و نتائج کا ذکر پاکستانی ادب کے رگ و پے میں اس طرح سرایت کر چکا ہے کہ آج بھی ہم اپنے ادب پر اس کے اثرات بخوبی دیکھ سکتے ہیں۔ تقسیمِ ہند سے محض فسادات کا ادب ہی پیدا نہیں ہوا، کچھ اور نئے عوامل بھی اس کا حصہ بنے۔ ہندوستان سے ہجرت کر کے آنے والے لوگوں کے ہاں وہ دکھ بھی اجاگر ہوا جو نقل مکانی کے باعث فطری طور پر ان کے اندر پیدا ہوا تھا۔
قیامِ پاکستان کے پیچھے برصغیر کے مسلمانوں کے وہ خواب پوشیدہ تھے جو ہندو اکثریت کی موجودگی میں تعبیر نہ پا سکتے تھے۔ توقع یہ تھی کہ پاکستان بننے کے بعد یہ خواب پورے ہوں گے مگر تقسیمِ ہند کے فوراً بعد کے سیاسی خلفشار نے ایسا ماحول پیدا کیا کہ سب خواب ابتدائی میں چکنا چور ہو گئے۔ یہی وجہ ہے کہ تقسیم کے بعد فسادات کے ادب کے ساتھ ساتھ رایگانی کا ایک عنصر بھی ہمیں اپنے شعر و ادب میں شامل دکھائی دے جاتا ہے۔
قیامِ پاکستان کے وقت تک ترقی پسند تحریک اپنے عروج پر تھی۔ یہ تحریک بنیادی طور پر سماجی انصاف کی تحریک تھی اور ایک غیر طبقاتی سماج کا خواب دیکھتی تھی۔ لیکن تقسیم سے قبل اس نے انگریزی سامراج کے خلاف جدوجہد کا بیڑا بھی اٹھا رکھا تھا۔ اب جب پاکستان بن گیا تو نئے مسائل کو ایک نئے زاویہِ نظر کی ضرورت تھی۔ انگریزی سامراج رخصت ہو چکا تھا۔ سماجی انصاف اب بھی ایک بنیادی ضرورت تھی لیکن پاکستان میں رونما ہونے والے سیاسی خلفشار کے باعث ایک نیا حامل بھی پیدا ہو گیا تھا اور وہ حامل خود پاکستان کے وجود کا تحفظ تھا۔
سوال نمبر 5۔ کسی ایک موضوع پر سیر حاصل مضمون لکھیے۔ (20)
(الف) معنوی ذہانت۔ اردو زبان کے لیے مواقع اور مشکلات