Federal Public Service Commission (FPSC)
Competitive Examination for Recruitment to BPS-17 Posts under the Federal Government
Time Allowed: 3 Hours
Maximum Marks: 100 Marks
Paper: Urdu Literature
PART-2 (Subjective) 80 Marks
Attempt ONLY FOUR questions from PART-II by selecting TWO questions from EACH SECTION. (20×4)
PART-II
سوال نمبر 2۔ (الف) درج ذیل میں سے کسی ایک جزو کی تشریح کیجیے اور شاعر کا نام بھی لکھیے۔ (15)
جزو اول:
(1) ہے اپنی کشتِ ویراں، سرسبز یقین سے آئیں گے اس طرف بھی ایک روز ابر و باراں
(2) یہ بے سبب نہیں شام و سحر کے ہنگامے اٹھا رہا ہے کوئی پردہ ہائے راز و نیاز
(3) اک تمنا تھی کہ میں اک نیا گھر، نئی منزل کہیں آباد کروں
(4) وہ جب بھی کرتے ہیں اس نطق و لب کی نجیبہ گری فضائیں اور بھی نغمے بکھرنے لگتے ہیں
جزو دوم:
طویل تاریکیوں میں کھو جائیں گے جب اک دن ہمارے سائے اس اپنی دنیا کی لاش اٹھائے، تو سیلِ دوراں کی کوئی موجِ حیاتِ سامان فروغِ فردا کارخ پہ ڈالے مہین پردا اچھل کے شاید، سمیٹ لے زندگی کی سرحد کے اس کنارے یہ گھومتے عالموں کے دھارے یہ سب بجا ہے، بجا ہے—— لیکن
(ب) ناصر کاظمی کے ہاں نئی زندگی کا احساس ہے، نئے حالات کا شعور ہے۔ نئے حقائق کا ادراک ہے۔ “برگِ نے” کے تناظر میں وضاحت کیجیے۔ (10)
یا
مجید امجد کی نظم گوئی کی خصوصیات ان کی نظم “شبِ رفتہ” کے تناظر میں بیان کیجیے۔
سوال نمبر 3۔ (الف) مولوی عبدالحق کی ادبی و علمی اور لسانی خدمات سے انکار نہیں۔ بطور خاکہ نگار وہ اہمیت کے حامل نہیں کیوں؟ چند ہم عصر کے تناظر میں وضاحت کیجیے۔ (15)
یا
شبلی کا اسلوب اردو ادب میں اعلیٰ و ممتاز مقام رکھتا ہے۔ “سیرت النبی ﷺ” کے تناظر میں وضاحت کیجیے۔
سوال نمبر 3۔ (ب) مندرجہ ذیل میں سے کسی ایک اقتباس کی تشریح کریں۔ نیز مصنف و مضمون کا نام بھی لکھیے۔ (10)
ان کا صبر و استقلال ان کے قناعت و بے نیازی اور ان کی غیرت اور وضع داری وہ خوبیاں ہیں جو انسانیت کو کمالِ انسانیت پر پہنچاتی اور فرشتوں سے بڑھا دیتی ہیں۔ رنج و الم سہے مگر کبھی اف تک نہ کی۔ فاقے سے رہے مگر کیا مجال کہ بھول کر بھی زبان پر حرفِ شکایت آیا ہو۔ اور یہی نہیں بلکہ کسی دوسرے کی بھی یہ مجال نہ تھی کہ ان سے معمولی طریقہ پر سلوک کرنے کی جرات کر سکے یا ایسا خیال بھی دل میں لا سکے۔ محتاج رہے مگر ممکن نہ تھا کہ کسی کے سامنے دستِ سوال پھیلائیں۔
یا
قومی خدمت میں منہمک ہونے سے قبل بھی ان کا یہی حال تھا۔ ان کی اخلاقی جرات، آزادیِ خیال، رواداری، انصاف پسندی، بے تعصبی، فیاضی اور ہمدردی کے ہندو و مسلمان سب قائل تھے۔ جس کام کو انہوں نے اپنے ہاتھ میں لے لیا اسے کامل خلوص اور تن دہی سے انجام دیا۔ جب قومی خدمات کا بار اپنے سر لیا تو یہ شغف اور بڑھ گیا۔ اس دھن میں وہ سب کچھ بھول گئے۔ فرہاد شیریں اور نل دمن سے اتنا عشق نہ ہو گا جتنا انہیں اپنی قوم سے تھا۔ سوتے جاگتے، اٹھتے بیٹھتے یہی ان کا درد تھا- وہ بلا مبالغہ فنا فی القوم کے درجے کو پہنچ گئے تھے۔
سوال نمبر 4۔ کسی ایک نثر پارے کی تلخیص کیجیے۔ (10)
جب مسلمان برِاعظم کے اس حصے میں داخل ہوئے اور اسے فتح کر کے اپنی سلطنت میں شامل کیا تو نئے تہذیبی اثرات اور معاشرتی ضرورت کے تحت اس زبان میں مسلمانوں کی زبانوں کے الفاظ داخل ہونے لگے اور اس کی تشکیلِ نو کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ مسلمانوں کا کلچر فاتح قوم کا کلچر تھا- جس میں آگے بڑھنے اور پھیلنے کی پوری قوت تھی۔ الفاظِ خیالات کا ذریعہِ اظہار ہوتے ہیں۔ الفاظ کے ساتھ نئے خیالات بھی اس کلچر کے رگ و پے میں سرایت کرنے لگے اور یہاں کے منجمد معاشرے کے اندر عمل حرکت پیدا ہو گیا۔
یا
کسی گھر میں مرغے نے بانگ دی اور پھر بانگوں کا مقابلہ شروع ہو گیا۔ یکایک سب مرغے ایک دم یوں خاموش ہو گئے جیسے ان کے گلے ایک ساتھ گھونٹ دیے گئے ہیں۔ پھر پورے گاؤں کے کتے بھونکنے لگے۔ پھر مشرق کی طرف سے ایسی آوازیں آئیں جیسے قریب قریب ہر رات آتی تھیں۔ بارڈر پر رینجر سمگلروں کے تعاقب میں ہوں گے پھر اس پر غنودگی سی چھانے لگی اور اس نے آنکھیں بند کر لیں۔ پھر ایک دم کھولیں۔ بڑی آئی وہاں سے مجھے محتاج کہنے والی چکی پیستے پیستے ہاتھوں کی جلد ہڈی بن گئی ہے اور وہ مجھے محتاج کہتی ہے! قیامت کے دن شور مچاؤں گی کہ اسے پکڑو اس نے مجھ پر بہتان باندھا ہے۔
سوال نمبر 5۔ کسی ایک موضوع پر سیر حاصل مضمون لکھیے۔ (20)
(الف) ترقی پسند تحریک کے اردو ادب پر اثرات
(ب) اردو نثر نگاری میں ارکانِ خمسہ کا کردار
(ج) عہدِ حاضر میں اردو ادب پر اقبال کے اثرات