Federal Public Service Commission (FPSC)
Competitive Examination for Recruitment to BPS-17 Posts under the Federal Government
Time Allowed: 3 Hours
Maximum Marks: 100 Marks
Paper: Urdu Literature
PART-2 (Subjective) 80 Marks
Attempt ONLY FOUR questions from PART-II by selecting TWO questions from EACH SECTION. (20×4)
PART-II
سوال نمبر 2۔ (الف) درج ذیل میں سے کسی ایک جزو کی تشریح کیجیے اور شاعر کا نام بھی لکھیے۔ (15)
جزو اول:
(1) فروغ شعلۂ خس یک نفس ہے
(2) نفس موجِ محیطِ بے خودی ہے
(3) ہوس کو پاسِ ناموسِ وفا کیا
(4) تغافل ہائے ساقی کا گلہ کیا
(5) دماغِ عطرِ پیرہن نہیں ہے
(6) یہ قاتل وعدہ صبر آزمائیکوں
(7) غمِ آوارگی ہائے صبا کیا
(8) یہ کافر فتنہ طاقت ربا کیا؟
جزو دوم:
نئے سرے سے غضب کی سجھ کر
مجوزہ سومنات نکلی
مگر ستم پیشہ غزنوی
اپنے تجلہ خاک میں ہے خنداں
وہ سوچتا ہے
بھری جوانی سہاگ لوٹا تھا میں نے اس کا
مگر مرا ہاتھ
اس کی روحِ عظیم پر بڑھ نہیں سکا تھا
اور اب فرنگی یہ کہہ رہا ہے
کہ آؤ اس ہڈیوں کے ڈھانچے کو
جس کے مالک تمہیں ہو
ہم مل کر نورِ کم خواب سے سجائیں
(ب) مندرجہ ذیل میں سے کسی ایک کا جواب دیجیے۔ (10)
فیض کی شاعری میں جذبہ اور نظریہ دونوں موجود ہیں۔ ڈاکٹر انور سدید کے اس خیال کی روشنی میں دستِ صبا کا تجزیاتی مطالعہ پیش کیجیے۔
یا
“ایران میں اجنبی” کے دوسرے حصے کون۔ م۔ راشد نے (Contes) کا تنوع کہا ہے۔ اس اجمال کی تفصیل پیش کرتے ہوئے ان نظموں کے فنی خصائص پر بھی بحث کیجیے۔
سوال نمبر 3۔ (الف) احمد ندیم قاسمی نے پنجاب کے دیہات کو اردو ادب میں اعتبار بخشا “کپاس کا پھول” کے تناظر میں بحث کیجیے۔ (15)
یا
منٹو کو برصغیر کا تخلیقی ضمیر کہا گیا ہے۔ شاید اسی لیے منٹو کا افسانہ کبھی بھی زوال کا المیہ نہیں ہوا اس اجمال کی تفصیل پیش کیجیے۔
سوال نمبر 3۔ (ب) مندرجہ ذیل میں سے کسی ایک اقتباس کی تشریح کریں۔ نیز مصنف اور مضمون کا نام بھی لکھیے۔ (10)
مسلمان مصنفین بے ضرورت اردو میں فارسی کے غیر مانوس الفاظ استعمال کرنے سے جہاں تک ہو سکے پرہیز کریں۔ اور ان کی جگہ برج بھاشا کے مانوس اور عام فہم الفاظ سے اردو کو مالامال کرنے کی کوشش کریں۔ اور اس طرح دونوں قوموں میں آشتی اور صلح کی بنیاد ڈالیں اور ایک متنازعہ فیہ زبان کو مقبولِ فریقین بنائیں جیسے کہ لکھنو جانے سے پہلے تقریباً اہل دہلی کی زبان تھی۔ مذکورہ بالا اختلاف کے متعلق جو تعصب اور ناگواری کا الزام ہندوؤں پر لگایا جا سکتا ہے اس قسم کا بلکہ اس سے زیادہ سخت الزام مسلمانوں پر لگایا جا سکتا ہے۔
یا
اس زمانے میں کن میلے محلوں بازاروں میں پھیری لگاتے تھے۔ کان کا میل نکالنے پر ہی کیا موقوف دنیا جہاں کے کام گھر بیٹھے ہو جاتے تھے۔ سبزی گوشت اور سودا سلف کی خریداری، حجامت، تعلیم، زچگی، پیڑھی، کھاٹ، کھٹولے کی۔۔۔ یہاں تک کہ خود اپنی مرمت بھی۔ سب گھر بیٹھے ہو جاتی۔۔ بیبیوں کے ناخن نہرنی سے کاٹنے اور پیڈھ ملنے کے لیے نائنیں گھر آتی تھیں۔ کپڑے بھی مغلانیاں گھر آکر سیتی تھیں تاکہ نامحرموں کو ناپ تک کی ہوا نہ لگے۔ حالانکہ اس زمانے کے زنانہ پوشاک کے جو نمونے ہماری نظر سے گزرے ہیں وہ ایسے ہوتے تھے کہ کسی بھی لیڈیز بکس کا ناپ لے کر سیئے جا سکتے تھے۔ غرضیکہ سب کام گھر ہی میں ہو جاتے تھے۔ حد یہ کہ موت تک گھر میں واقع ہوتی تھی۔ اس کے لیے باہر جا کر کسی ٹرک سے اپنی روح قبض کروانے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔
سوال نمبر 4۔ کسی ایک نثر پارے کی تلخیص کیجیے۔ (10)
انسانی زندگی ایک ایسے عمل مسلسل کا نام ہے جس کا طبی تحرک کبھی ختم نہیں ہوتا اور جس کی صبار رفتاری کے آگے کسی قسم کی رکاوٹ کھڑی کرنا ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ برگساں نے زندگی کو ایک ایسے صبار رفتار گھوڑے سے تشبیہ دی ہے جو افق کی تلاش میں سرگرداں کسی مقام پر ٹھہرے بغیر بڑھتا چلا جاتا ہے۔ یوں بھی حرکت ایک مطلق حقیقت ہے اور سکون باعتبارِ اضافت ہے۔ جو زائد حرکت کی نسبت سے ساکن اور کم حرکت کی نسبت سے متحرک ہوتا ہے۔ اس تسلسلِ حیات کے برعکس جب جمود کا ذکر ہوتا ہے تو اس سے مراد زندگی کی رفتار کو روک دینا یا اسے جامد کرنا نہیں ہوتا بلکہ مقصد یہ ظاہر کرنا ہوتا ہے کہ زندگی سے تخلیق کی تازگی مفقود ہو گئی ہے اور اسلوبِ حیات ایک گھسے پٹے سانچے کو قبول کرنے لگا ہے۔ ایسی صورت میں زندگی کا تسلسل حیوانی سطح پر تو قائم رہتا ہے لیکن اس میں جدت اور تنوع کا کوئی پہلو نظر نہیں آتا۔
یا
زبان و ثقافت ایک قوم کی بائبل ہوتی ہے۔ یہ اس کا نمک ذائقہ اور اس کی شانِ شناخت ہوتی ہیں۔ اس کی مرکزی موٹی جڑوں میں سے ایک ہوتی ہے۔ زبان و ثقافت کسی قوم کے دل کا ساحل ہوتی ہے۔ یہ کسی قوم کی زندگی کا Vital Organ ہوتی ہیں جو قوم کی موت کی صورت میں بھی سب سے آخر میں مرتی ہیں۔ ہمارے کلچر کاغذی نہیں ہیں مصنوعی نہیں ہیں اور ریاستی نہیں ہیں۔ ہمارے زندہ کلچر زاپنی زمین میں پیوست ہیں اور عوامی ہیں ہمارے کلچر اور زبانوں نے تبدیل پذیر رجحانات سے نمٹا ہے۔ تاریخ کے پورے دورانیے میں وہ ڈیمو گرافکس، ٹیکنالوجی، گلوبلائزیشن اور اس کے ڈبلیو سسٹم کے ساتھ معاملات کرتے آرہے ہیں۔ چنانچہ ہماری مادری اور قومی ثقافتیں اس قدر مضبوط و تواناہیں کہ انہیں کسی بھی احساسِ کمتری میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
سوال نمبر 5۔ کسی ایک موضوع پر سیر حاصل مضمون لکھیے۔ (20)
(الف) نیو ورلڈ آرڈر اور اردو فکشن
(ب) حلقہ اربابِ ذوق
(ج) فلسفہ وجودیت اور اردو فکشن