Translation (Urdu): ایک ایسا نشانِ دیار (طلل) ہے جہاں میں نے اپنی حریرہ اور مہرلی (سواریوں) کو روکا، کیا کسی مٹتے ہوئے نشانِ گھر پر رونے یا سوال کرنے کا کوئی فائدہ ہے؟ جب وہ دونوں کھڑے ہوتے ہیں تو ان سے مشک کی خوشبو مہک اٹھتی ہے، اور وہاں ضباع (لکڑبھگّے) رب القرقفل کے ساتھ آئے ہیں۔ میری آنکھوں سے شوق اور محبت کے مارے آنسو بہہ کر میرے سینے اور کجاوے تک بہہ نکلے۔ کاش دارة جلعل کا دن (اور اس کی یادیں) لوٹ آتیں! اور خصوصاً عفیر کا دن اور معداری حُکبی کا دن کتنا عجیب ہے، اور اس کُور (کجاوے) پر بھی تعجب ہے جو اس بوجھ کو اٹھائے ہوئے ہے۔
Explanation of Key/Underlined Terms:
طلل (Talal): Remnants or traces of an old campsite or dwelling.
صبابة (Sababah): Intense longing, yearning, or affection.
Translation (Urdu): اور کتنی ہی راتیں ہیں جو سمندر کی موج کی طرح ہیں، جنہوں نے اپنے پردے (اندھیرے) مجھ پر ڈال دیے ہیں تاکہ طرح طرح کی فکروں اور غموں سے میرا امتحان لیں۔ میں نے اس سے کہا جب اس نے اپنی پیٹھ پھیلائی اور اپنے سینے کے بوجھ سے مجھ پر جھک گیا: اے لمبی رات! کیا تو صبح کے ساتھ روشن نہیں ہوگی؟ حالانکہ صبح تجھ سے کچھ بہتر نہیں ہے! تو ایسے مضبوط رسّوں کی طرح ہے جن سے ستارے سخت پتھروں کے ساتھ باندھ دیے گئے ہوں۔ اور میں ایسے اونٹوں کی نگہبانی کرتا ہوں جن کے ساتھیوں کو میں نے خوش بخت پایا ہے۔
Explanation of Key Terms:
سدول (Sudool): Curtains, veils, or downward extensions (referring to the darkness of the night).
كلكل (Kalkal): Chest or breast of an animal/night pressing down.
جندل (Jandal): Hard rocks or stones.
Q.2. Translate the following Poetic verses into English or Urdu with necessary explanation of theme:
Translation & Theme (Urdu): یہ اشعار (جو زہیر بن ابی سلمی کی معلقہ یا قبایلی شاعری سے منسوب ہیں) صلح، امن، اور قبائلی جنگوں (جنگِ داحس و غبراء) کے خاتمے کی تحسین میں کہے گئے ہیں۔ شاعر کہ کہ دونوں سرداروں (حارث بن عوف اور حصن بن حدرق) نے اپنی سخاوت، عزمِ صلح اور دیت (خون بہا) کی ادائیگی کے ذریعے قبائل کے مابین امن قائم کیا۔ ان کا یہ اقدام دونوں فریقوں کے لیے باعثِ عزت و نجات بنا، جس نے معاشرے میں خون خرابے اور عداوت کو ختم کر کے باہمی اتحاد کی بنیاد رکھی۔
Translation & Theme (Urdu): ان اشعار میں عربی حکمت، اخلاقیات، اور انسانی کردار کے بنیادی عناصر کو بیان کیا گیا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ انسان کا ظاہر صرف گوشت اور پوست کا ڈھانچہ ہے، اصل حقیقت اس کی زبان اور اس کا دل (عقل و فہم) ہے۔ نوجوانی کی حماقت کے بعد انسان میں حلم اور سنجیدگی آ جاتی ہے، لیکن بڑھاپے کی حماقت ناقابلِ تلافی ہوتی ہے۔ اس میں بردباری، اخلاقی بلندی اور بزرگوں کے حکیمانه طرزِ عمل کی تعریف کی گئی ہے۔
Q.3. Write a comprehensive note on life and literary works of Mahmood Sami Al-Baroudi.
محمود سیمی البارودی (Mahmoud Sami al-Barudi) مصر کے مایہ ناز فوجی کمانڈر، سیاستدان اور «رئیس الشعراء» (شاعروں کے سردار) تھے جو جدید عربی شاعری میں “مدرسہ البعث والإحياء” (تشبث و احیاء کی تحریک) کے بانی مانے جاتے ہیں۔
حیات (Life): وہ 1838ء میں قاہرہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے عسکری تربیت حاصل کی، عرابی انقلاب میں نمایاں حصہ لیا اور بعد ازاں برطانوی استعمار کے خلاف جدوجہد پر جزیرہ سیلان (سری لنکا) جلاوطن کر دیے گئے۔ طویل جلاوطنی کے بعد وہ دوبارہ مصر لوٹے اور 1904ء میں وفات پائی۔
ادبی خدمات (Literary Works): البارودی نے کلاسیکی عربی شاعری (عباسی اور اموی دور کے اسلوب) کا احیاء کیا اور اسے جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا۔ ان کا دیوان (ديوان البارودی) ان کی غزلوں، حماسوں اور وطن پرستانہ شاعری کا مرقع ہے۔ انہوں نے جلاوطنی کے دوران جو دردِ وطن اور اشعار کہے (رثاء اور شکویٰ)، وہ عربی ادب کا شاہکار ہیں۔
Q.4. Write a note on the life of Tawfiq Al-Hakim and his contribution to ARABIC Novel.
توفیق الحکیم (Tawfiq al-Hakim) بیسویں صدی کے سب سے بڑے مصنف، ڈراما نگار اور ناول نگار مانے جاتے ہیں جنہوں نے عربی ڈراما اور ناول کو عالمی معیار عطا کیا۔
حیات (Life): وہ 1898ء میں اسکندریہ (مصر) میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے فرانس میں قانون کی تعلیم حاصل کی اور بعد میں اپنی پوری زندگی ادبی و فکری خدمات کے لیے وقف کر دی، اور 1987ء میں قاہرہ میں انتقال کیا۔
ادبی خدمات (Contribution to Novel & Drama): توفیق الحکیم کو جدید عربی تمثیلی نگاری (Theatrical/Dramatic Art) کا بانی کہا جاتا ہے۔ انہوں نے فکری اور فلسفیانہ ڈرامے لکھے جیسے “أهل الكهف” (اصحاب کہف) اور “پگمالیون”۔ ناول کے میدان میں ان کا شاہکار ناول “عودة الروح” (روح کی واپسی) ہے جس نے مصری قوم پرستی اور فکری بیداری میں کلیدی کردار ادا کیا۔
Q.5. Write a note upon modern trends in Arabic Literature.
عربی ادب میں جدید رجحانات (Modern Trends in Arabic Literature) ان فکری، سیاسی اور جمالیاتی تبدیلیوں کا احاطہ کرتے ہیں جو 19ویں صدی کے آخر اور 20ویں صدی میں رونما ہوئیں۔
اہم رجحانات:
تحریکِ احیاء (Neoclassicism): کلاسیکی ادبی روایات (عباسی و اندلسی اسلوب) کی طرف واپسی، جس کے بانی البارودی اور احمد شوقی تھے۔
رومانیت (Romanticism): جذبات نگاری، فطرت پسندی اور انفرادیت پر زور، جس میں اپولو اسکول (مطارن، عقاد، جبران خليل جبران) کا نمایاں کردار تھا۔
واقعیت اور التزام (Realism & Commitment): معاشرتی مسائل، طبقاتی کشمکش، غریبوں کی حالتِ زار اور قومی تحریکات کا عکاس ادب، جس میں نجیب محفوظ اور یوسف ادریس کے نام سرفہرست ہیں۔
جدیدیت اور آزاد شاعری (Modernism & Free Verse): روایتی بحور و قافیے سے انحراف کرتے ہوئے شعرِ منثور اور حر حر (Free Verse) کا رواج، جس میں نازک الملائكة اور بدر شاكر السياب پیش پیش تھے۔
Q.6. (a) Write short answers to the following questions in ARABIC:
أذكر العوامل المؤثرة في تكوين الأدب الجاهلي: الجواب: البيئة البدوية الصحراوية، الحروب القبلية، الرحلة بحثاً عن الكلاء والعشب، والقرائح اللغوية الفطرية.
ماهي أهمية الأسواق في توحيد اللهجات: الجواب: كانت هذه الأسواق (كعكاظ ومجنة) مجتمعات ثقافية واجتماعية التقى فيها الشعراء والخطباء من مختلف القبائل، مما أدى إلى صقل اللغة وذوبان الفوارق اللهجوية الكبيرة لتظهر “اللغة النموذجية الموحدة”.
أذكر عوامل نهضة الأدب في العصر الحديث: الجواب: الحملة الفرنسية على مصر، البعثات العلمية إلى أوروبا، ظهور الصحافة والطباعة، والترجمة عن الآداب الأجنبية.
اذكر أهم موضوعات جديدة في الشعر العربي الحديث: الجواب: الشعر القومي والوطني، التعبير عن هموم الإنسان المعاصر، الواقعية الاجتماعية، والتأملات الوجودية والنفسية.
أذكر مميزات شعر شوقي معلقة على همزية رثاء مدح النبي صلى الله عليه وسلم: الجواب: قوة العاطفة الدينية، فصاحة اللفظ وبلاغة الأسلوب، التعبير الصادق عن حب النبي ﷺ، وحسن النسق والسبك الفني.
(b) Write a short essay in ARABIC on the following topic
: أهمية اللغة العربية في المجال الالكتروني والاقتصادي: تلعب اللغة العربية دوراً حيوياً ومتزايداً في العصر الرقمي والاقتصادي الحديث. فمع الثورة التكنولوجية وانتشار الإنترنت، أصبحت العربية إحدى اللغات الأكثر استخداماً ونمواً في وسائل التواصل الاجتماعي والمواقع الإليكترونية. وفي المجال الاقتصادي، تمثل أسواق الوطن العربي ثقلاً استراتيجياً ومالياً كبيراً، مما يجعل الشركات العالمية تحرص على توفير محتواها وخدماتها باللغة العربية للوصول إلى مئات ملايين المستهلكين. إن تعزيز حضور لغة الضاد في التقنية والاقتصاد يعزز الهوية الثقافية ويدعم التنمية المستدامة في العالم العربي.
Q.7. Write only the correct answer in the Answer Book. Do not reproduce the question: