Tanzeem ul Madaris Solved Past Paper 2024 | PDF (طلباء کے لیے)عالمیہ سال اول



الورقة الأولى: علم الكلام (شرح عقائد نسفی)

امتحان: عالمیہ سال اول (2024) 

تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان


سوال نمبر 1
“وَالْمُحْدِثُ لِلْعَالَمِ هُوَ اللهُ تَعَالَى أَيِ الذَّاتُ الْوَاجِبُ الْوُجُودِ الَّذِي يَكُونُ وُجُودُهُ مِنْ ذَاتِهِ وَلَا يَحْتَاجُ إِلَى شَيْءٍ أَصْلًا…”
(الف) عبارت پر اعراب اور ترجمہ:
  • اعراب: (اوپر عبارت میں لگا دیے گئے ہیں)۔
  • ترجمہ: “اور عالم (کائنات) کو پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے، یعنی وہ ذات جو واجب الوجود ہے، جس کا وجود اس کی اپنی ذات سے ہے اور وہ کسی بھی چیز کا بالکل محتاج نہیں ہے۔ کیونکہ اگر وہ جائز الوجود (ممکن الوجود) ہوتا تو وہ خود عالم کا ایک حصہ ہوتا، لہذا وہ عالم کو پیدا کرنے والا اور اس کی ابتدا کرنے والا بننے کی صلاحیت نہ رکھتا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ کہ عالم ان تمام چیزوں کا نام ہے جو اپنے (پیدا کرنے والے) کے وجود پر علامت بن سکیں، اور اس کے قریب وہ بات ہے جو کہی جاتی ہے کہ تمام ممکنات کی ابتدا کرنے والے کا ‘واجب الوجود’ ہونا ضروری ہے، کیونکہ اگر وہ (خود بھی) ممکن ہوتا تو وہ ممکنات کا ایک حصہ ہوتا، پس وہ ان کی ابتدا کرنے والا نہ ہوتا۔”
(ب) علمِ فقہ، اصولِ فقہ، علمِ کلام کی تعریف اور ضرورت:
  1. علمِ فقہ: وہ علم جس کے ذریعے عملی احکامِ شرعیہ (جیسے نماز، روزہ) کو ان کے تفصیلی دلائل سے پہچانا جائے۔
  2. اصولِ فقہ: ان قواعد کا علم جن کے ذریعے احکامِ شرعیہ کو ان کے دلائل (قرآن و سنت وغیرہ) سے استنباط (اخذ) کرنے کا طریقہ معلوم ہو۔
  3. علمِ کلام: وہ علم جس کے ذریعے عقائدِ دینیہ کو یقینی دلائل سے ثابت کیا جائے اور مخالفین کے اعتراضات و شبہات کا ابطال کیا جائے۔
  • علمِ کلام کی ضرورت: ایمان کی بنیادوں کو عقل و نقل سے مضبوط کرنے، گمراہ فرقوں کے فتنوں سے بچنے اور غیر مسلموں کے سامنے اسلام کی حقانیت ثابت کرنے کے لیے یہ علم ناگزیر ہے۔

سوال نمبر 2
(الف) معتزلہ، ان کے عقائد اور امام اشعری کا اعتزال چھوڑنا:
  • معتزلہ: یہ وہ فرقہ ہے جس کا بانی واصل بن عطا تھا۔ یہ عقل کو وحی پر مقدم رکھتے ہیں۔
  • عقائد: ان کے پانچ بنیادی اصول (اصولِ خمسہ) ہیں: (1) توحید (صفاتِ باری کا انکار)۔ (2) عدل (انسان اپنے افعال کا خود خالق ہے)۔ (3) الوعد والوعید (گناہگار مومن ہمیشہ جہنم میں رہے گا)۔ (4) المنزلۃ بین المنزلتین۔ (5) امر بالمعروف و نہی عن المنکر۔
  • امام اشعری کا اعتزال چھوڑنا: امام ابوالحسن اشعری 40 سال تک معتزلی رہے، پھر آپ نے دیکھا کہ معتزلہ کے اصول عقل و نقل سے متصادم ہیں۔ مشہور ہے کہ آپ کو خواب میں حضور ﷺ کی زیارت ہوئی اور آپ نے حق کی طرف رجوع کیا اور معتزلہ کے رد میں کتب لکھیں۔
(ب) سوفسطائیہ اور ان کے گروہ: یہ وہ لوگ ہیں جو حقائقِ اشیاء کا انکار کرتے ہیں۔ ان کے تین گروہ ہیں:
  1. عنادیہ: جو سرے سے حقائق کا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ سب وہم و خیال ہے۔
  2. عندیہ: جو کہتے ہیں کہ حقائق تابعِ اعتقاد ہیں (جو تم سمجھو وہی حق ہے)۔
  3. لا ادریہ: جو کہتے ہیں کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں کہ حقائق ہیں یا نہیں۔

سوال نمبر 3
(الف) اللہ تعالیٰ خالقِ افعالِ عباد (اہلِ حق بمقابلہ معتزلہ):
  • اہلِ حق (اہلِ سنت): اللہ تعالیٰ ہی انسان کے تمام افعال (نیکی و بدی) کا خالق ہے۔ انسان صرف “کاسب” (ارادہ کرنے والا) ہے۔ دلیل: قرآن میں ہے “وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ” (اور اللہ نے تمہیں پیدا کیا اور جو تم کرتے ہو اسے بھی)۔
  • معتزلہ: ان کے نزدیک انسان اپنے افعال کا خود خالق ہے، ورنہ اللہ کا عذاب دینا ظلم ہوگا۔ (اہلِ سنت جواب دیتے ہیں کہ عذاب کسبِ انسان پر ہے، خلقِ خدا پر نہیں)۔
(ب) ایمان اور اسلام متحد ہیں یا متفرق؟
  • مؤقف: لغوی طور پر ایمان (تصدیق) اور اسلام (فرمانبرداری) الگ ہیں۔ لیکن شرعاً یہ دونوں ایک ہی حقیقت کے دو نام ہیں۔ ایمان باطن کی تصدیق ہے اور اسلام ظاہر کا انقیاد۔ بغیر تصدیق کے عمل (اسلام) نفاق ہے، اور بغیر عمل کے تصدیق (ایمان) بے ثمر ہے۔ لہذا حکماً یہ متحد ہیں۔

سوال نمبر 4
(الف) کراماتِ اولیاء پر جامع مضمون: اہلِ سنت کا عقیدہ ہے کہ کراماتِ اولیاء برحق ہیں۔ کرامت وہ خرقِ عادت (غیر معمولی) کام ہے جو کسی نبی کے سچے پیروکار (ولی) سے صادر ہو۔ یہ دراصل اس نبی کا معجزہ ہوتا ہے جس کی وہ پیروی کر رہا ہوتا ہے۔ قرآن میں حضرت مریم کے پاس بے موسم پھلوں کا آنا اور آصف بن برخیا کا پلک جھپکنے میں تختِ بلقیس لانا اس کی قطعی دلیلیں ہیں۔
(ب) خلافتِ راشدہ پر جامع نوٹ: نبی ﷺ کے بعد نظامِ اسلام کو سنبھالنے والے چاروں خلفاء برحق ہیں۔ ان کی ترتیبِ فضیلت وہی ہے جو ترتیبِ خلافت ہے: (1) حضرت ابوبکر صدیق۔ (2) حضرت عمر فاروق۔ (3) حضرت عثمان غنی۔ (4) حضرت علی مرتضیٰ (رضی اللہ عنہم اجمعین)۔ ان کا دورِ خلافت عدل و انصاف، فتوحات اور تدوینِ اسلام کا سنہرا دور ہے۔

 

الورقة الثانية: علم الفرائض (سراجی)

امتحان: عالمیہ سال اول (2024) 

تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان


سوال نمبر 1
“قَالَ عُلَمَاؤُنَا تَتَعَلَّقُ بِتَرِكَةِ الْمَيِّتِ حُقُوقٌ أَرْبَعَةٌ الْأَوَّلُ يُبْدَأُ بِتَكْفِينِهِ وَتَجْهِيزِهِ مِنْ غَيْرِ تَبْذِيرٍ وَلَا تَقْتِيرٍ ثُمَّ تُقْضَى دُيُونُهُ مِنْ جَمِيعِ مَا بَقِيَ مِنْ مَالِهِ.”
(الف) عبارت پر اعراب اور ترجمہ:
  • اعراب: (اوپر عبارت میں لگا دیے گئے ہیں)۔
  • ترجمہ: “ہمارے علماء نے فرمایا کہ میت کے ترکے (چھوڑے ہوئے مال) کے ساتھ چار حقوق متعلق ہوتے ہیں۔ پہلا یہ کہ (میت کے مال سے) اس کے کفن دفن اور تجہیز و تکفین کی ابتدا کی جائے گی بغیر فضول خرچی اور بغیر تنگی کیے، پھر اس کے تمام باقی ماندہ مال سے اس کے قرضے ادا کیے جائیں گے۔”
(ب) ورثاء کی ترتیب (قرآن، سنت و اجماع کی روشنی میں): میت کے ترکے کی تقسیم میں ورثاء کی ترتیب درج ذیل ہے:
  1. ذوی الفروض: وہ لوگ جن کے حصے قرآن و سنت میں متعین ہیں (مثلاً بیٹی، ماں، شوہر وغیرہ)۔
  2. عصباتِ نسبی: ذوی الفروض سے بچا ہوا مال ان کو ملتا ہے (مثلاً بیٹا، پوتا، بھائی)۔
  3. عصبہ سببی: آزاد کرنے والا آقا (مولیٰ العتاقہ)۔
  4. رد علی ذوی الفروض: اگر عصبہ نہ ہو تو بچا ہوا مال دوبارہ ذوی الفروض (بجز شوہر و بیوی) کو ملتا ہے۔
  5. ذوی الارحام: اگر اوپر والے کوئی نہ ہوں تو دور کے رشتہ داروں کو ملتا ہے۔
  6. مولیٰ الموالاۃ: جس سے دوستی اور مدد کا معاہدہ کیا ہو۔
  7. مقر لہ بالنساب علی الغیر: وہ جس کے نسب کا اقرار میت نے کیا ہو۔
  8. موصیٰ لہ بجمیع المال: وہ جس کے لیے پورے مال کی وصیت کی گئی ہو۔
  9. بیت المال: اگر کوئی بھی نہ ہو تو مال سرکاری خزانے میں جائے گا۔
(ج) علم الفرائض کی وجہ تسمیہ: اس علم کو “فرائض” اس لیے کہتے ہیں کیونکہ اس میں ان حصوں کا ذکر ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں “فرض” (مقرر) کر دیے ہیں۔ “فریضہ” کا معنی ہے “مقرر کردہ چیز”۔

سوال نمبر 2
(الف) “من يرد عليهم” اور “من لا يرد عليهم”:
  • من يرد عليهم: وہ ذوی الفروض جن پر بچا ہوا مال دوبارہ تقسیم کیا جاتا ہے۔ یہ کل 10 لوگ ہیں (مثلاً بیٹی، پوتی، ماں، بہنیں وغیرہ)۔
  • من لا يرد عليهم: وہ وارث جن پر بچا ہوا مال دوبارہ “رد” نہیں کیا جاتا۔ یہ صرف دو ہیں: شوہر اور بیوی۔ ان کو ان کا مقررہ حصہ دینے کے بعد بچا ہوا مال دوبارہ ان کو نہیں ملتا۔
(ب) کتاب اللہ کے فروض اور ان کے مخارج:
  • فروضِ ستہ (6 حصے): نصف (1/2)، ربع (1/4)، ثمن (1/8)، ثلثان (2/3)، ثلث (1/3)، سدس (1/6
  • مخارج: 2، 3، 4، 6، 8، 12، اور 24۔
(ج) عصبہ کی تعریف: عصبہ وہ وارث ہے جس کا حصہ قرآن میں متعین نہیں ہے، بلکہ وہ ذوی الفروض سے بچا ہوا سارا مال لیتا ہے، اور اگر ذوی الفروض نہ ہوں تو وہ تنہا سارے مال کا مالک ہوتا ہے۔

سوال نمبر 3
(الف) رد کی تعریف اور دو قوانین:
  • تعریف: ذوی الفروض کو ان کے حصے دینے کے بعد اگر مال بچ جائے اور کوئی عصبہ موجود نہ ہو، تو اس بچے ہوئے مال کو دوبارہ ذوی الفروض (بجز زوجین) پر ان کے حصوں کے بقدر تقسیم کرنے کو “رد” کہتے ہیں۔
  • قانون 1: اگر ورثاء میں وہ شخص نہ ہو جس پر رد نہیں ہوتا (یعنی زوجین نہ ہوں) اور ورثاء کی صرف ایک جنس ہو، تو مسئلہ ان کے سروں (تعداد) سے بنے گا۔
  • قانون 2: اگر ورثاء کی مختلف اجناس ہوں اور ساتھ میں زوجین میں سے کوئی موجود ہو، تو پہلے زوجین کا حصہ نکال کر باقی مال کو دیگر ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا۔
(ب) شوہر اور سگی بہنوں کے احوال:
  • شوہر (الزوج): (1) نصف (1/2) اگر اولاد نہ ہو۔ (2) ربع (1/4) اگر اولاد ہو۔
  • سگی بہنیں (اخوات لاب وام): (1) نصف اگر ایک ہو۔ (2) ثلثان (2/3) اگر دو یا زائد ہوں۔ (3) عصبہ بالغیر اگر بھائی کے ساتھ ہوں۔ (4) عصبہ مع الغیر اگر بیٹیوں کے ساتھ ہوں۔ (5) محروم اگر بیٹا، پوتا، یا باپ موجود ہو۔

سوال نمبر 4: مسائل کا حل (لازمی)
(1) بنت (بیٹی) اور بنت الابن (پوتی):
  • بیٹی: 1/2 (نصف)۔
  • پوتی: 1/6 (سدس) تاکہ بیٹیوں کا حصہ 2/3 مکمل ہو جائے۔
  • مسئلہ: 6 سے بنا (3 بیٹی کو، 1 پوتی کو)۔ باقی 2 حصے ان پر رد ہوں گے۔
(2) ام (ماں)، زوجہ (بیوی) اور جد (دادا):
  • بیوی: 1/4 (اولاد نہیں ہے)۔
  • ماں: 1/3 (اولاد اور زائد بہن بھائی نہیں ہیں)۔
  • دادا: عصبہ (باقی سارا مال)۔
  • مسئلہ: 12 سے بنا (بیوی: 3، ماں: 4، دادا: 5)۔
(3) ام (ماں) اور زوج (شوہر):
  • شوہر: 1/2 (اولاد نہیں ہے)۔
  • ماں: 1/3 (اولاد نہیں ہے)۔
  • مسئلہ: 6 سے بنا (شوہر: 3، ماں: 2)۔ باقی 1 حصہ ماں پر رد ہوگا۔
(4) ام (ماں) اور اخوان (دو بھائی):
  • ماں: 1/6 (دو بھائیوں کی موجودگی کی وجہ سے)۔
  • بھائی: عصبہ (باقی سارا مال)۔
  • مسئلہ: 6 سے بنا (ماں: 1، بھائیوں کو: 5)۔
(5) ام (ماں) اور بنتان (دو بیٹیاں):
  • ماں: 1/6 (بیٹیوں کی وجہ سے)۔
  • دو بیٹیاں: 2/3 (ثلثان)۔
  • مسئلہ: 6 سے بنا (ماں: 1، بیٹیاں: 4)۔ باقی 1 حصہ ان پر رد ہوگا۔

الورقة الثالثة: الفقه وأصوله

امتحان: عالمیہ سال اول (2024) 

تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان


قسم أول: فقه (ہدایہ)

سوال نمبر 1: (الف) “وَلَيْسَ لِلشَّرِيكِ فِي الطَّرِيقِ وَالشِّرْبِ وَالْجَارِ شُفْعَةٌ مَعَ الْخَلِيطِ فِي الرَّقَبَةِ.”
  • تشریح و مفہوم: اس عبارت میں مستحقینِ شفعہ کی ترتیب بیان کی گئی ہے۔ احناف کے نزدیک شفعہ کے مستحق تین درجات کے لوگ ہیں۔ اگر اعلیٰ درجے کا مستحق موجود ہو تو ادنیٰ درجے والے کا حق ختم ہو جاتا ہے۔
  • خلیط فی الرقبہ: اس سے مراد وہ شخص ہے جو مبیع (بیچی گئی زمین یا مکان) کی اصل ذات اور ملکیت میں شریک ہو۔ اسے “شریکِ مشاع” بھی کہتے ہیں۔
  • وضاحت: جب تک “خلیط فی الرقبہ” (ملکیت کا شریک) موجود ہے اور وہ شفعہ کا مطالبہ کرے، تب تک راستہ کے شریک (خلیط فی الطریق)، پانی کے شریک (خلیط فی الشرب) اور پڑوسی (جار) کو شفعہ کا حق حاصل نہیں ہوگا۔
(ب) “إِذَا عَلِمَ الشَّفِيعُ بِالْبَيْعِ أَشْهَدَ فِي مَجْلِسِهِ ذَلِكَ عَلَى الْمُطَالَبَةِ.”
  • ترجمہ: “جب شفیع کو فروخت کا علم ہو جائے تو وہ اسی مجلس میں (شفعہ کے) مطالبے پر گواہ بنا لے۔”
  • طلبِ شفعہ کی تین صورتیں (ترتیب وار):
    1. طلبِ مواثبت: علم ہوتے ہی فوراً زبان سے مطالبہ کرنا۔
    2. طلبِ اشہاد: گواہوں کی موجودگی میں بائع، مشتری یا زمین کے پاس جا کر مطالبہ کرنا۔
    3. طلبِ خصومت (تملیک): عدالت میں قاضی کے سامنے دعویٰ دائر کرنا۔

سوال نمبر 2: (الف) احتکار (ذخیرہ اندوزی) کا مسئلہ:
  • معنی: غلہ یا ضرورتِ زندگی کی اشیاء کو اس نیت سے روک لینا کہ جب مہنگی ہوں گی تو بیچیں گے، جبکہ اس سے عام لوگوں کو تکلیف ہو۔
  • دلیلِ نقلی: حضور ﷺ نے فرمایا: “ذخیرہ اندوزی کرنے والا گناہگار ہے” (لَا يَحْتَكِرُ إِلَّا خَاطِئٌ
  • دلیلِ عقلی: شریعت نے بیع و شراء کو لوگوں کی ضرورت پوری کرنے کے لیے حلال کیا ہے، اور احتکار لوگوں کو ضرر (نقصان) پہنچاتا ہے، اور “ضرر” شرعاً ممنوع ہے۔
(ب) “وَلَا يَنْبَغِي لِلسُّلْطَانِ أَنْ يُسَعِّرَ عَلَى النَّاسِ.”
  • نقلی دلیل: حضور ﷺ نے قیمتیں مقرر کرنے سے انکار فرمایا اور اسے اللہ کے سپرد کیا۔
  • عقلی دلیل: انسان اپنے مال پر تصرف کا پورا حق رکھتا ہے، قیمت مقرر کرنا اس کی ملکیت میں مداخلت ہے۔
  • موجودہ دور کا حکم: اگر تاجر ملی بھگت کر کے قیمتیں حد سے زیادہ بڑھا دیں اور لوگوں کا جینا مشکل کر دیں، تو حکومت مصلحتِ عامہ کے تحت قیمتیں مقرر (Price Control) کر سکتی ہے۔

سوال نمبر 3: “وَيُقْبَلُ فِي الْمُعَامَلَاتِ قَوْلُ الْفَاسِقِ وَلَا يُقْبَلُ فِي الدِّيَانَاتِ إِلَّا قَوْلُ الْعَدْلِ.”
(الف) ترجمہ و مثالیں:
  • ترجمہ:معاملات میں فاسق کی بات قبول کر لی جائے گی، لیکن دیانات (دینی معاملات) میں صرف عادل کی بات قبول کی جائے گی۔”
  • مثال (معاملات): کسی چیز کی خرید و فروخت، ہدیہ لانا، یا یہ بتانا کہ یہ گوشت فلاں نے بھیجا ہے۔
  • مثال (دیانات): قبلہ کی سمت بتانا، پانی کے پاک یا ناپاک ہونے کی خبر دینا، یا چاند کی رویت۔
(ب) تعریفات:
  • فاسق: وہ شخص جو اعلانیہ گناہِ کبیرہ کا ارتکاب کرتا ہو یا صغیرہ گناہوں پر اصرار کرتا ہو۔
  • عادل: وہ شخص جو گناہوں سے بچتا ہو، جس کی نیکیاں اس کی برائیوں پر غالب ہوں اور اس کی مروت سلامت ہو۔

قسم دوم: اصولِ فقه (توضیح و تلویح)

سوال نمبر 4: (الف) “فَالتَّعْرِيفُ الْاِسْمِيُّ هُوَ تَبْيِينُ أَنَّ هَذَا الْاِسْمَ لِأَيِّ شَيْءٍ وُضِعَ.”
  • ترجمہ:پس تعریفِ اسمی یہ ہے کہ یہ بیان کر دیا جائے کہ یہ نام کس چیز کے لیے وضع کیا گیا (بنایا گیا) ہے۔”
  • مثال: جیسے کوئی پوچھے “غضنفر” کیا ہے؟ تو جواب دیا جائے “یہ شیر کا نام ہے”۔ یہاں حقیقتِ شیر سے بحث نہیں بلکہ صرف لفظ کی وضاحت ہے۔
(ب) طرد اور عکس:
  • طرد (جامع): جب بھی تعریف پائی جائے تو وہ چیز (محدود) بھی پائی جائے۔ (جامعیت
  • عکس (مانع): جب تعریف نہ پائی جائے تو وہ چیز بھی نہ پائی جائے۔ (مانعیت)۔

سوال نمبر 5: (الف) “فَالْحُكْمُ بِهَذَا التَّفْسِيرِ قِسْمَانِ… شَرْعِيٌّ… وَغَيْرُ شَرْعِيٍّ…”
  • ترجمہ: “پس حکم اس تفسیر کے مطابق دو قسم پر ہے: شرعی، یعنی اللہ کا وہ خطاب جو شرع پر موقوف ہو، اور غیر شرعی، یعنی اللہ کا وہ خطاب جو شرع پر موقوف نہ ہو۔”
  • مثال (ما لا يتوقف): جیسے آگ کا جلانا یا کھانے سے پیٹ بھرنا۔ یہ اللہ کا تکوینی حکم ہے جو عقل اور مشاہدے سے معلوم ہو جاتا ہے، اس کے لیے نبی یا شریعت کی ضرورت نہیں۔
(ب) “الْفِقْهُ مَعْرِفَةُ النَّفْسِ مَا لَهَا وَمَا عَلَيْهَا” میں احتمالات:
  • ما لھا: وہ چیزیں جو اس کے حق میں ہیں (ثواب، حقوق، نفع
  • ما علیھا: وہ چیزیں جو اس کے ذمے ہیں (فرائض، گناہ، سزائیں)۔
  • احتمالات: یہ تعریف عام ہے جو عقائد، اخلاق اور عملی احکام سب کو شامل ہے، اسی لیے اسے “فقہِ اکبر” بھی کہا گیا۔

سوال نمبر 6: (الف) “أُصُولُ الْفِقْهِ الْكِتَابُ وَالسُّنَّةُ وَالْإِجْمَاعُ وَالْقِيَاسُ وَإِنْ كَانَ فَرْعًا لِلثَّلَاثَةِ.”
  • ترجمہ: “اصولِ فقہ چار ہیں: کتاب اللہ، سنت، اجماع اور قیاس، اگرچہ قیاس ان تینوں (پہلے اصولوں) کی فرع ہے۔”
  • تعلق: “وإن کان الخ” کا تعلق قیاس سے ہے۔
  • وجہ: کیونکہ قیاس اپنی ذات میں مستقل دلیل نہیں ہے بلکہ یہ کتاب و سنت اور اجماع سے ہی قوت حاصل کرتا ہے اور ان کے نکالے ہوئے اشارے پر مبنی ہوتا ہے۔
(ب) سنت سے مستنبط قیاس کی مثال: حضور ﷺ سے پوچھا گیا کہ کیا ہم بلی کے جھوٹے سے وضو کر سکتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: “یہ تم پر چکر لگانے والوں میں سے ہے”۔
  • قیاس: یہاں آپ ﷺ نے علت بیان فرمائی کہ بلی گھر میں کثرت سے آتی جاتی ہے (طواف)، اس پر قیاس کرتے ہوئے فقہاء نے چوہے اور دیگر گھریلو جانوروں کے جھوٹے کا حکم بھی وہی رکھا جو بلی کا ہے، کیونکہ علت (ضرورت اور طواف) مشترک ہے۔

الورقة الرابعة: أصول الحديث وأصول التحقيق

امتحان: عالمیہ سال اول (2024) 

تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان


القسم الأول: أصول الحديث (نخبۃ الفکر)

سوال نمبر 1: “وَتَتَفَاوَتُ رُتَبُهُ أَيْ رُتَبُ الصَّحِيحِ بِسَبَبِ تَفَاوُتِ هَذِهِ الْأَوْصَافِ الْمُقْتَضِيَةِ لِلصَّحِيحِ فِي الْقُوَّةِ.”
(الف) عبارت پر اعراب اور ترجمہ:
  • اعراب: (اوپر عبارت میں لگا دیے گئے ہیں)۔
  • ترجمہ: “اور اس کے درجات (یعنی حدیثِ صحیح کے درجات) ان اوصاف کے (درجات) میں فرق کی وجہ سے متفاوت (مختلف) ہوتے ہیں جو قوت کے اعتبار سے صحیح ہونے کا تقاضا کرتے ہیں۔”
(ب) “هذه الأوصاف الخ” سے مراد اوصاف: اس سے مراد حدیثِ صحیح کی وہ پانچ بنیادی شرائط ہیں جن کی بنیاد پر کسی حدیث کو “صحیح” قرار دیا جاتا ہے۔ ان اوصاف میں جتنا پختہ پن ہوگا، حدیث اتنی ہی اعلیٰ درجے کی صحیح ہوگی۔ وہ اوصاف یہ ہیں:
  1. اتصالِ سند: سند کا شروع سے آخر تک متصل ہونا۔
  2. عدالتِ روات: راویوں کا متقی اور پرہیزگار ہونا۔
  3. ضبطِ روات: راویوں کے حافظے کا انتہائی مضبوط ہونا۔
  4. عدمِ شذوذ: حدیث کا اپنے سے زیادہ ثقہ راوی کے خلاف نہ ہونا۔
  5. عدمِ علت: حدیث میں کسی ایسی پوشیدہ خرابی کا نہ ہونا جو اس کی صحت پر اثر انداز ہو۔

سوال نمبر 2: (الف) “قُدِّمَ صَحِيحُ الْبُخَارِيِّ عَلَى غَيْرِهِ… سِوَى مَا عُلِّلَ.”
  • ترجمہ: “صحیح بخاری کو حدیث میں لکھی گئی دیگر تمام کتابوں پر مقدم رکھا گیا ہے، پھر صحیح مسلم کا درجہ ہے کیونکہ وہ بھی بخاری کے ساتھ اس بات میں شریک ہے کہ علماء کا اس کی کتاب کو قبول کرنے پر اتفاق ہے، سوائے ان چند احادیث کے جن میں علت (خرابی) بیان کی گئی ہے۔”
  • خط کشیدہ عبارت (سوی ما علل) کی وضاحت: امام بخاری اور امام مسلم کی اکثر احادیث پر امت کا اجماع ہے کہ وہ صحیح ہیں، لیکن چند احادیث (تقریباً 200 کے قریب) ایسی ہیں جن پر امام دارقطنی جیسے ناقدین نے اعتراض کیا اور ان میں فنی کمزوریاں (علتیں) بتائیں ہیں۔ یہ عبارت انہی مستثنیٰ احادیث کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ اجماعِ امت مجموعی طور پر پوری کتاب پر ہے، ان چند اختلافی احادیث کو چھوڑ کر۔
(ب) صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی شرائط:
  1. امام بخاری کی شرط: راوی ثقہ اور ضابط ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے درمیان “لقاء” (بلمشافہ ملاقات) ثابت ہو، محض ایک زمانے میں ہونا (معاصرت) کافی نہیں۔
  2. امام مسلم کی شرط: راویوں کے درمیان “معاصرت” (ایک ہی زمانے میں ہونا) کافی ہے، بشرطیکہ ملاقات ممکن ہو، چاہے ثبوت نہ بھی ہو۔

سوال نمبر 3: اصطلاحات کی تعریفات (کوئی سی پانچ):
  1. المعضل: وہ حدیث جس کی سند میں سے دو یا دو سے زائد راوی پے در پے (لگاتار) گرے ہوئے ہوں۔
  2. المتروک: وہ حدیث جس کا راوی عام زندگی میں جھوٹ بولنے کی وجہ سے بدنام ہو، اگرچہ حدیث میں اس کا جھوٹ ثابت نہ ہو۔
  3. المقلوب: جس حدیث کی سند یا متن کے الفاظ میں تبدیلی کر دی جائے (مثلاً راویوں کے نام آگے پیچھے کر دینا)۔
  4. المضطرب: وہ حدیث جو مختلف طریقوں سے مروی ہو اور ان میں ایسی مخالفت ہو کہ کسی ایک کو ترجیح نہ دی جا سکے۔
  5. حسن لذاتہ: جس کا راوی سچا ہو مگر اس کا ضبط (حافظہ) صحیح کے راوی سے کچھ کم ہو اور اس میں کوئی علت نہ ہو۔

القسم الثاني: أصول التحقيق

سوال نمبر 4: (الف) مدت کے اعتبار سے تحقیق کی اقسام:
  1. طویل مدتی تحقیق: جو کئی سالوں پر محیط ہو (جیسے پی ایچ ڈی کا مقالہ)۔
  2. قلیل مدتی تحقیق: جو مخصوص وقت یا چند ماہ کے لیے ہو (جیسے علمی مضامین یا سیمینار کے پیپرز)۔
(ب) اثر اندازی کے اعتبار سے تحقیق کی اقسام:
  1. بنیادی تحقیق (Basic Research): جس کا مقصد صرف علم میں اضافہ اور حقائق کی تلاش ہو۔
  2. اطلاقی تحقیق (Applied Research): جس کا مقصد کسی موجودہ مسئلے کا حل نکالنا اور اسے عملی زندگی میں نافذ کرنا ہو۔

سوال نمبر 5: (الف) نا مناسب موضوعات کے حوالے سے تحقیق: تحقیق کے لیے ایسے موضوعات کا انتخاب نہیں کرنا چاہیے جو: (1) بہت زیادہ وسیع ہوں کہ مکمل نہ ہو سکیں۔ (2) جن پر مواد دستیاب نہ ہو۔ (3) جو فرقہ وارانہ نفرت یا سماجی انتشار کا باعث بنیں۔ (4) جو پہلے سے اس قدر تحقیق شدہ ہوں کہ ان میں کچھ نیا کہنے کی گنجائش نہ ہو۔
(ب) عربی و اسلامی تحقیق کے جدید ذرائع: موجودہ دور میں ڈیجیٹل لائبریریاں (مثلاً المکتوبۃ الشاملہ)، آن لائن کیٹلاگ، اور علمی ویب سائٹس نے تحقیق کو آسان بنا دیا ہے۔ محقق اب دنیا بھر کے مخطوطات تک کمپیوٹر کے ذریعے رسائی حاصل کر سکتا ہے۔

سوال نمبر 6: محقق کی پانچ خصوصیات:
  1. امانت و دیانت: معلومات کو بغیر کسی تبدیلی کے پیش کرنا۔
  2. صبر و تحمل: طویل مطالعہ اور باریک بینی کے لیے حوصلہ رکھنا۔
  3. غیر جانبداری: اپنے ذاتی تعصبات کو تحقیق پر اثر انداز نہ ہونے دینا۔
  4. زبان پر عبور: متعلقہ زبان (عربی وغیرہ) کے قواعد و ضوابط سے واقف ہونا۔
  5. فنی مہارت: حوالہ جات دینے اور مآخذ کی درجہ بندی کرنے کے طریقے سے واقف ہونا۔

الورقة الخامسة: الحديث الشريف (طحاوی شریف)

امتحان: عالمیہ سال اول (2024)

تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان


سوال نمبر 1
“عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ…”
(الف) اردو ترجمہ اور کلماتِ اقامت (دونوں اقوال):
  • ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ وہ اذان کے کلمات کو دو دو بار (جفت) کہیں اور اقامت کے کلمات کو ایک ایک بار (وتر) کہیں۔ امام ابوجعفر (طحاوی) فرماتے ہیں کہ ایک گروہ اس طرف گیا ہے اور انہوں نے کہا کہ اقامت اسی طرح ایک ایک بار کہی جائے گی۔ جبکہ دوسرے گروہ نے اس میں ایک لفظ کا اختلاف کیا اور کہا کہ سوائے “قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ” کے، کیونکہ اسے دو بار کہنا چاہیے۔
  • کلماتِ اقامت (پہلا قول – شوافع وغیرہ): اللہ اکبر (2 بار)، اشھد ان لا الہ الا اللہ (1)، اشھد ان محمد رسول اللہ (1)، حی علی الصلاۃ (1)، حی علی الفلاح (1)، قد قامت الصلاۃ (2 بار)، اللہ اکبر (2 بار)، لا الہ الا اللہ (1 بار)۔
  • کلماتِ اقامت (دوسرا قول – بعض اہل مدینہ): ان کے نزدیک تمام کلمات ایک ایک بار ہیں سوائے تکبیرِ اولیٰ اور قد قامت الصلاۃ کے۔
(ب) کلماتِ اقامت میں احناف کا مذہب اور دلائل:
  • احناف کا مذہب: احناف کے نزدیک اقامت کے کلمات بھی اذان کی طرح دو دو بار ہیں (سوائے شروع اور آخر کی تکبیروں کے جو چار اور دو بار ہیں) اور “قد قامت الصلاۃ” بھی دو بار ہے۔ گویا احناف کے نزدیک اذان اور اقامت کے کلمات برابر ہیں۔
  • دلائل: (1) حضرت عبداللہ بن زید (جنہیں خواب میں اذان سکھائی گئی) کی روایت ہے کہ انہوں نے اذان اور اقامت کے کلمات دو دو بار کہے۔ (2) حضرت ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کو حضور ﷺ نے جو اذان و اقامت سکھائی اس میں بھی کلمات دو دو بار تھے۔ (3) امام طحاوی فرماتے ہیں کہ اذان اعلام (خبر دینے) کے لیے ہے اور اقامت بھی اعلام ہے، لہذا دونوں برابر ہونی چاہئیں۔

سوال نمبر 2
“حَدَّثَنَا أَبُو أَرْوَى قَالَ كُنْتُ أُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ ﷺ الْعَصْرَ بِالْمَدِينَةِ ثُمَّ أَتَى الشَّجَرَةَ ذَا الْحُلَيْفَةِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ…”
(الف) ترجمہ اور فرسخ کی تشریح:
  • ترجمہ: حضرت ابو اروٰی سے روایت ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ مدینہ میں عصر کی نماز پڑھتا تھا، پھر آپ ﷺ سورج غروب ہونے سے پہلے ذوالحلیفہ (مقامِ شجرہ) پہنچ جاتے تھے اور وہ دو فرسخ کی مسافت پر ہے۔
  • فرسخ کی تشریح: ایک فرسخ تقریباً 3 میل (4.8 کلومیٹر) کا ہوتا ہے۔ لہذا “فرسخین” (دو فرسخ) سے مراد 6 میل (تقریباً 9.6 کلومیٹر) ہے۔ یہ مسافت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ حضور ﷺ عصر کی نماز اول وقت میں ادا فرماتے تھے تاکہ اتنی مسافت سورج ڈوبنے سے پہلے طے کی جا سکے۔
(ب) تعجیلِ عصر اور تاخیرِ عصر میں ائمہ کا اختلاف:
  • ائمہ ثلاثہ (شافعی، مالک، احمد): عصر کی نماز اول وقت (ایک مثل سایہ ہونے پر) پڑھنا افضل ہے۔
  • امام ابوحنیفہ (احناف): عصر کی نماز میں تھوڑی تاخیر (ابراد) مستحب ہے تاکہ ظہر کا وقت مکمل ہو جائے (دو مثل سایہ ہونے پر
  • دلائل: ائمہ ثلاثہ مذکورہ بالا حدیث سے استدلال کرتے ہیں۔ جبکہ احناف فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کا عمل “بیانِ جواز” کے لیے تھا، جبکہ افضل یہ ہے کہ سورج کی دھوپ زرد ہونے سے پہلے پہلے تاخیر سے پڑھی جائے تاکہ نوافل پڑھنے والوں کو موقع مل سکے۔

سوال نمبر 3
“قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ فَذَهَبَ قَوْمٌ إِلَى هَذَا فَكَانُوا لَا يُكَبِّرُونَ فِي الصَّلَاةِ إِذَا خَفَضُوا وَيُكَبِّرُونَ إِذَا رَفَعُوا…”
(الف) ترجمہ اور شرح:
  • ترجمہ: امام طحاوی فرماتے ہیں کہ ایک گروہ اس طرف گیا ہے کہ وہ نماز میں جھکتے وقت (رکوع یا سجدہ میں جاتے ہوئے) تکبیر نہیں کہتے تھے بلکہ صرف اٹھتے وقت کہتے تھے۔ اور بنو امیہ بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔ جبکہ دوسرے گروہ نے ان کی مخالفت کی اور جھکتے اور اٹھتے (خفض و رفع) تمام موقعوں پر تکبیر کہی۔
  • شرح: یہاں اختلاف “تکبیراتِ انتقالیہ” کے بارے میں ہے۔ ایک قول (جو مرجوح ہے) یہ تھا کہ صرف اٹھتے وقت تکبیر ہو، جبکہ جمہور اور احناف کے نزدیک ہر نقل و حرکت پر تکبیر سنت ہے۔
(ب) ائمہ کے دلائل اور مصلحتِ احناف (نظرِ طحاوی):
  • دلائل: جمہور کی دلیل حضرت ابوہریرہ اور دیگر صحابہ کی کثیر روایات ہیں کہ حضور ﷺ ہر جھکنے اور اٹھنے پر تکبیر کہتے تھے۔
  • نظرِ طحاوی (راجح مذہب): امام طحاوی فرماتے ہیں کہ نماز اللہ کی بڑائی بیان کرنے کا نام ہے۔ جس طرح نماز کے شروع میں تکبیر ہے، اسی طرح ایک رکن سے دوسرے رکن کی طرف منتقلی بھی اللہ کی عظمت کے ذکر سے خالی نہیں ہونی چاہیے۔ لہذا ہر خفض و رفع پر تکبیر کہنا ہی سنتِ مستمرہ ہے۔

سوال نمبر 4
“عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ إِذَا قَالَ الْإِمَامُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ…”
(الف) عبارت کی تشکیل اور اردو ترجمہ:
  • اعراب: (اوپر عبارت میں لگا دیے گئے ہیں)۔
  • ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جب امام ‘سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ’ کہے، تو تم ‘اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ’ کہو، کیونکہ جس کا یہ کہنا فرشتوں کے کہنے کے موافق ہو گیا، اس کے پچھلے تمام گناہ بخش دیے جائیں گے۔”
(ب) کیا امام تسمیع کے بعد تحمید کہے گا؟ (احناف کا اختلاف):
  • امام ابوحنیفہ: امام صرف “تسمیع” (سمع اللہ لمن حمدہ) کہے گا، وہ “تحمید” (ربنا لک الحمد) نہیں کہے گا۔ تحمید کہنا مقتدی کا کام ہے۔
  • صاحبین (امام ابو یوسف و محمد): امام تسمیع اور تحمید دونوں کہے گا۔ (یہی قول ائمہ ثلاثہ کا بھی ہے)۔
  • دلائل: امام صاحب کی دلیل مذکورہ حدیثِ پاک ہے جس میں حضور ﷺ نے تقسیم فرمائی: “جب امام سمع اللہ کہے تو تم (مقتدی) ربنا لک الحمد کہو”۔ اگر امام کو بھی کہنا ہوتا تو آپ ﷺ فرماتے کہ تم بھی وہی کہو جو امام کہے۔
  • صاحبین کی دلیل: حضور ﷺ خود دونوں کلمات ادا فرماتے تھے، اور امام کی پیروی ہر چیز میں ضروری ہے۔

الورقة السادسة: الحديث الشريف – ٢ (للمؤطین)

امتحان: عالمیہ سال اول (2024)

تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان


القسم الأول: موطا امام مالک

السؤال الأول: عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي ضَمْرَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنِ الْعَقِيقَةِ فَقَالَ: لَا أُحِبُّ الْعُقُوقَ…
(الف) عبارت کی تشکیل اور اردو ترجمہ:
  • ترجمہ: حضرت زید بن اسلم بنی ضمرہ کے ایک شخص سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے “عقیقہ” کے بارے میں سوال کیا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: “میں نافرمانی (عقوق) کو پسند نہیں کرتا”۔ گویا آپ ﷺ نے اس نام (عقیقہ) کو ناپسند فرمایا (کیونکہ یہ مادہ عقوق سے ہے) اور فرمایا: “جس کے ہاں بچہ پیدا ہو اور وہ اس کی طرف سے جانور ذبح کرنا چاہے تو وہ ایسا کر لے”۔
(ب) عقیقہ کا حکم، شرائط اور ہڈیوں کا توڑنا:
  • حکم: جمہور فقہاء (مالکیہ، شافعیہ، حنابلہ) کے نزدیک عقیقہ سنتِ مؤکدہ ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ “نفلی عبادت” ہے، نہ واجب ہے اور نہ ہی سنتِ مؤکدہ، کیونکہ قربانی کے حکم نے اس سے پہلے کی تمام ذبیحوں کے وجوب کو منسوخ کر دیا ہے۔
  • شرائط: عقیقہ کے جانور کی وہی شرائط ہیں جو قربانی کے جانور کی ہیں (مثلاً عمر، تندرستی اور عیوب سے پاک ہونا)۔ لڑکے کی طرف سے دو بکرے اور لڑکی کی طرف سے ایک بکرا مستحب ہے۔
  • ہڈیوں کا توڑنا: مستحب یہ ہے کہ عقیقہ کے جانور کی ہڈیاں نہ توڑی جائیں بلکہ جوڑوں سے الگ کی جائیں (بچے کی سلامتی کی فال کے طور پر)، تاہم اگر توڑ دی جائیں تو کوئی گناہ یا ممانعت نہیں ہے۔

السؤال الثاني: عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الْوِلَادَةِ.
(الف) اردو ترجمہ:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رضاعت (دودھ پینے) سے بھی وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو ولادت (نسب) سے حرام ہوتے ہیں۔” (ب) رضاعتِ کبیر (بڑے کا دودھ پینا) کا حکم:
  • جمہور ازواجِ مطہرات اور فقہاء: ان کے نزدیک رضاعت صرف ڈھائی سال (احناف) یا دو سال (جمہور) کی عمر تک معتبر ہے، اس کے بعد دودھ پینے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔
  • حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا: آپ کا موقف یہ تھا کہ رضاعتِ کبیر سے بھی حرمت ثابت ہو جاتی ہے (سالم مولیٰ ابی حذیفہ والے واقعہ کی بنا پر)۔ لیکن دیگر ازواجِ مطہرات اس سے اختلاف کرتی تھیں اور اسے حضرت سالم کے لیے خاص سمجھتی تھیں۔ (ج) کیا یہ قاعدہ مطلق ہے؟ جی ہاں، یہ قاعدہ ایک عمومی اصول (General Rule) ہے جس کے تحت ماں، بیٹی، بہن، پھوپھی، خالہ وغیرہ جو نسب سے حرام ہیں، وہ رضاعت سے بھی حرام ہو جاتی ہیں۔ استثناء صرف چند صورتوں میں ہے (مثلاً بھائی کی رضاعی ماں نسبی بہن کی ماں کی طرح حرام نہیں ہوتی)۔

القسم الثاني: موطا امام محمد

السؤال الرابع: عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ: مَا صُلِّيَ عَلَى عُمَرَ إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ.
(الف) اردو ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: “حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی نمازِ جنازہ مسجد ہی میں پڑھی گئی۔” (ب) مسجد میں نمازِ جنازہ کا حکم:
  • امام شافعی و احمد: مسجد میں نمازِ جنازہ پڑھنا بلا کراہت جائز ہے (دلیل: حضرت ابوبکر و عمر کا جنازہ مسجد میں ہوا)۔
  • امام ابوحنیفہ: مسجد کے اندر نمازِ جنازہ پڑھنا مکروہِ تنزیہی ہے (چاہے میت اندر ہو یا باہر)۔
  • دلیلِ احناف: حضور ﷺ کا فرمان ہے: “جس نے مسجد میں جنازہ پڑھا اس کے لیے (کامل) ثواب نہیں”۔ نیز مسجدیں پنجگانہ نمازوں کے لیے بنی ہیں، جنازے کے لیے نہیں۔ حضرت عمر کا جنازہ مسجد میں پڑھنا ایک عذر (زخموں کی شدت یا ازدحام) کی بنا پر تھا جو عام حکم کے لیے دلیل نہیں بن سکتا۔

السؤال الخامس: عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: لَا يَصْلُحُ لِامْرَأَةٍ أَنْ تَنْكِحَ إِلَّا بِإِذْنِ وَلِيِّهَا…
(الف) اردو ترجمہ: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: “کسی عورت کے لیے درست نہیں کہ وہ نکاح کرے مگر اپنے ولی کی اجازت سے، یا اپنے خاندان کے کسی سمجھدار شخص یا سلطان (حاکم) کی اجازت سے۔” (ب) بغیر ولی کے نکاح (احناف کا اختلاف):
  • امام ابوحنیفہ: عاقلہ بالغہ لڑکی اگر اپنا نکاح خود کرے تو وہ نافذ ہو جاتا ہے (اگرچہ ولی کی اجازت مستحب ہے)۔ دلیل: قرآن کی آیت “فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ” میں عورتوں کی طرف نکاح کی نسبت کی گئی ہے۔
  • امام محمد (موطا میں): آپ کا موقف یہ ہے کہ ولی کی اجازت کے بغیر نکاح “موقوف” رہتا ہے، اگر ولی اجازت دے دے تو نافذ ہوگا ورنہ نہیں۔ آپ نے اوپر والے اثر (قولِ عمر) سے استدلال کیا ہے۔

السؤال السادس: (الف) موطا امام محمد کو موطا امام مالک (بروایت یحییٰ) پر تین ترجیحات:
  1. فقہی فوائد: امام محمد صرف احادیث نقل نہیں کرتے بلکہ ہر حدیث کے بعد اپنا فقہی موقف اور استدلال بھی بیان کرتے ہیں۔
  2. اہلِ عراق اور اہل حجاز کا سنگم: اس میں امام مالک (مدینہ) کی مرویات کے ساتھ امام ابوحنیفہ (کوفہ) کی فقہ کا امتزاج ملتا ہے۔
  3. ترتیب و تبویب: امام محمد نے ابواب کی ترتیب فقہی ترتیب کے مطابق زیادہ واضح رکھی ہے۔
(ب) امام محمد کے مآثر (مقدمہ لکھنوی کی روشنی میں): امام محمد بن حسن شیبانی رحمہ اللہ “فقہِ حنفی” کے اصل مدون ہیں۔ آپ نے امام ابوحنیفہ کے علم کو پوری دنیا میں پھیلایا۔ آپ کی کتب (ظاہر الروایہ) احناف کے مذہب کی بنیاد ہیں۔ آپ نہ صرف بلند پایہ فقیہ تھے بلکہ نحو، لغت اور عربی ادب کے بھی ماہر تھے۔ امام شافعی جیسے جید امام فرماتے ہیں: “میں نے امام محمد سے اتنا علم سیکھا کہ ایک اونٹ بھر جائے”۔ آپ کی علمی جلالت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ نے کم عمری میں تمام مروجہ علوم حاصل کر لیے تھے اور ہارون الرشید کے دور میں قاضی کے منصب پر فائز رہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *