Tanzeem ul Madaris Solved Past Paper 2024 | PDF (طلباء کے لیے) عالیہ سال دوم


حل شدہ پرچہ 2024ء: الورقۃ الاولٰی – التفسیر وأصولہ

پہلا حصہ: التفسیر (تفسیر بیضاوی)
سوال نمبر 1: (الف) امام بیضاویؒ نے سورہ فاتحہ کے کتنے اسماء بیان کیے؟ کوئی سے پانچ مع وجوہِ تسمیہ بیان کریں۔ (ب) تسمیہ (بسم اللہ) سورہ فاتحہ کا جز ہے یا نہیں؟ احناف و شوافع کا اختلاف مع الدلائل لکھیں۔
جواب: (الف) سورہ فاتحہ کے اسماء اور وجوہِ تسمیہ: امام بیضاویؒ نے سورہ فاتحہ کے متعدد اسماء ذکر کیے ہیں، جن میں سے پانچ درج ذیل ہیں:
  1. الفاتحہ: کیونکہ اس سے قرآنِ پاک کی تلاوت اور کتابت کا آغاز ہوتا ہے۔
  2. ام القرآن: کیونکہ یہ تمام قرآنی علوم کے اصول و مقاصد (الٰہیات، معاد، نبوت) پر مشتمل ہے۔
  3. السبع المثانی: کیونکہ اس کی سات آیات ہیں اور یہ ہر نماز میں بار بار پڑھی جاتی ہے۔
  4. الوافیہ: کیونکہ اسے نماز میں تقسیم کر کے نہیں پڑھا جا سکتا (پوری پڑھنا ضروری ہے)۔
  5. الشافیہ: کیونکہ حدیثِ پاک کے مطابق یہ ہر بیماری کے لیے شفاء ہے۔
(ب) تسمیہ کا جز ہونا: 
  • احناف: بسم اللہ سورہ فاتحہ کا جز نہیں بلکہ مستقل آیت ہے جو برکت اور فصل کے لیے ہے۔ (دلیل: ابن عباسؓ کی روایت)۔
  • شوافع: بسم اللہ سورہ فاتحہ کی پہلی آیت اور اس کا جز ہے۔ (دلیل: ام سلمہؓ کی روایت)۔

سوال نمبر 2: وَهِدَايَةُ اللَّهِ تَعَالَى تَتَنَوَّعُ أَنْوَاعًا لَا يُحْصِيهَا عَدٌّ كَمَا قَالَ تَعَالَى: {وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا} وَلَكِنَّهَا تَنْحَصِرُ فِي أَجْنَاسٍ مُتَرَتِّبَةٍ. (ج) اللہ تعالیٰ کی ہدایت کون سی اجناسِ مترتبہ میں منحصر ہے؟ بالتفصیل لکھیں۔
جواب: علامہ بیضاویؒ کے مطابق ہدایت کی چار بڑی اجناس (درجات) ہیں جو ترتیب وار ہیں:
  1. ہدایتِ عامہ: وہ قوتیں جو اللہ نے ہر مکلف کو دیں تاکہ وہ اپنی بقا اور مصلحت کے کام کر سکے (جیسے عقل اور حواسِ خمسہ)۔
  2. ہدایت بذریعہ دلائل: وہ ہدایت جو اللہ نے اپنی نشانیوں اور انبیاء و کتب کے ذریعے فراہم کی (ارشاد و تبلیغ)۔
  3. ہدایت بذریعہ توفیق: جب بندہ کوشش کرتا ہے تو اللہ اس کے دل کو حق کے لیے کھول دیتا ہے اور الہام و توفیق سے نوازتا ہے۔
  4. ہدایتِ اخروی: آخرت میں مومنین کو جنت کے راستے کی طرف لے جانا۔

سوال نمبر 3: الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ إِمَّا مَوْصُولٌ بِالْمُتَّقِينَ عَلَى أَنَّهُ صِفَةٌ مَجْرُورَةٌ مُقَيِّدَةٌ لَهُ إِنْ فُسِّرَ التَّقْوَى بِتَرْكِ مَا لَا يَنْبَغِي مُتَرَتِّبَةً عَلَيْهِ تَرَتُّبَ التَّحْلِيَةِ عَلَى التَّخْلِيَةِ وَالتَّصْوِيرِ عَلَى التَّصْقِيلِ أَوْ مُوَضِّحَةٌ إِنْ فُسِّرَ بِمَا يَعُمُّ فِعْلَ الْحَسَنَاتِ وَتَرْكِ السَّيِّئَاتِ لِاشْتِمَالِهِ عَلَى مَا هُوَ أَصْلُ الْأَعْمَالِ. (الف) عبارت پر اعراب لگا کر ترجمہ کریں۔ (ب) ایمان کا لغوی و شرعی معنی لکھیں۔ (ج) {وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ} کیا حرام شے پر رزق کا اطلاق ہوگا یا نہیں؟ احناف و معتزلہ کا اختلاف لکھیں۔
جواب: (الف) ترجمہ: “(الذین یؤمنون) یا تو المتقین سے ملا ہوا ہے اس طور پر کہ یہ اس کی صفتِ مجرور ہے جو اسے مقید کر رہی ہے، اگر تقویٰ کی تفسیر ‘ناپسندیدہ چیزوں کو چھوڑنے’ سے کی جائے (تو ایمان اس پر ایسے ہی مرتب ہوگا) جیسے آراستگی (تحلیہ) صفائی (تخلیہ) پر مرتب ہوتی ہے اور تصویر چمکانے پر مرتب ہوتی ہے۔ یا یہ صفتِ موضحہ ہے اگر تقویٰ کی تفسیر عام لی جائے (نیکیاں کرنا اور برائیاں چھوڑنا)۔”
(ب) ایمان کا معنی:
  • لغوی: کسی کی بات کی تصدیق کرنا اور اسے امن دینا۔
  • شرعی: ان تمام باتوں کی دل سے تصدیق کرنا جو نبی ﷺ اللہ کی طرف سے لائے۔
(ج) حرام پر رزق کا اطلاق:
  • اہلِ سنت (احناف): حرام چیز بھی “رزق” ہے، کیونکہ رزق وہ ہے جس سے کوئی جاندار فائدہ اٹھائے۔ اللہ ہی خالق ہے اور وہ کافر و فاجر کو بھی رزق دیتا ہے۔
  • معتزلہ: حرام کو رزق نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ رزق اللہ کی نعمت ہے اور وہ حرام سے فائدہ اٹھانے کا حکم نہیں دیتا۔

سوال نمبر 4: إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَمَّا ذَكَرَ خَاصَّةَ عِبَادِهِ وَخَالِصَةَ أَوْلِيَائِهِ بِصِفَاتِهِمُ الَّتِي أَهَّلَتْهُمْ لِلْهُدَى وَالْفَلَاحِ عَقَّبَهُمْ بِأَضْدَادِهِمُ الْعُتَاةِ الْمَرَدَةِ الَّذِينَ لَا يَنْفَعُ فِيهِمُ الْهُدَى وَلَا يُغْنِي عَنْهُمُ الْآيَاتُ وَالنُّذُرُ وَلَمْ يَعْطِفْ قِصَّتَهُمْ عَلَى قِصَّةِ الْمُؤْمِنِينَ كَمَا فِي قَوْله تَعَالَى {إِنَّ الْأَبْرَارَ لَفِي نَعِيمٍ وَإِنَّ الْفُجَّارَ لَفِي جَحِيمٍ} لِتَبَايُنِهِمَا فِي الْغَرَضِ. (الف) ترجمہ و تشریح۔ (ب) “ان الذین” میں اسم موصول کس کے لیے ہے؟ (ج) کفر کا لغوی و اصطلاحی معنی۔
جواب: (الف) ترجمہ: “بے شک وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا۔ جب اللہ نے اپنے خاص بندوں اور خالص ولیوں (مومنین) کا ذکر ان کی ان صفات کے ساتھ کر دیا جنہوں نے انہیں ہدایت و فلاح کا مستحق بنایا، تو ان کے فوراً بعد ان کے ضدی اور سرکش مخالفین کا ذکر کیا جن میں نہ ہدایت نفع دیتی ہے اور نہ نشانیاں اور ڈراوے کام آتے ہیں۔ اور ان کے قصے کا عطف مومنین کے قصے پر نہیں کیا (جیسے ابرار و فجار والی آیت میں ہے) کیونکہ ان دونوں کے مقاصد میں جدائی ہے۔”
  • تشریح: یہاں اللہ نے مومنین کے بعد کافروں کا ذکر اس لیے کیا تاکہ تقابل سے بات واضح ہو جائے (وبضدہا تتبین الاشیاء)۔
(ب) اسم موصول: یہ “عہدِ خارجی” کے لیے ہے، یعنی اس سے مراد خاص وہ کفار ہیں جو نبی ﷺ کے دور میں ضد پر اڑے ہوئے تھے (جیسے ابوجہل و ابولہب)۔ یہ “جنس” کے لیے بھی ہو سکتا ہے جو تمام کافروں کو شامل ہو۔
(ج) کفر کا معنی:
  • لغوی: چھپانا (اسی لیے کسان کو کافر کہتے ہیں کیونکہ وہ بیج چھپاتا ہے)۔
  • اصطلاحی: ضروریاتِ دین میں سے کسی ایک کا انکار کرنا۔

دوسرا حصہ: اصولِ تفسیر

سوال نمبر 5: (صرف تین اجزاء)
(الف) آخری نازل ہونے والی آیت/سورت: اس میں کئی اقوال ہیں:
  1. آیتِ ربا (سود کی آیت)۔ 2. آیتِ دین (قرض والی آیت)۔ 3. سورہ نصر (اذا جاء نصر اللہ)۔ 4. “واتقوا یوماً ترجعون فیہ الی اللہ” (یہ قول زیادہ قوی ہے)۔
(ب) ایک آیت کے متعدد اسبابِ نزول: جی ہاں، ایک آیت کے متعدد اسبابِ نزول ہو سکتے ہیں۔ ایسا تب ہوتا ہے جب مختلف واقعات پیش آئے ہوں اور ان سب کا حل ایک ہی آیت میں نازل فرما دیا گیا ہو (مثلاً آیتِ لعان)۔
(ج) قرأتِ صحیحہ کی تعریف (ابن الجزری): امام ابن الجزری کے مطابق قرأتِ صحیحہ کے لیے تین شرائط ہیں:
  1. وہ عربی قواعد (نحو) کے مطابق ہو۔
  2. رسمِ عثمانی (مصحف) کے مطابق ہو۔
  3. سندِ صحیح (تواتر یا شہرت) کے ساتھ ثابت ہو۔
(د) مکی و مدنی کی اصطلاحاتِ ثلاثہ:
  1. باعتبارِ زمان: ہجرت سے پہلے مکی، ہجرت کے بعد مدنی (چاہے مکہ میں نازل ہو)۔
  2. باعتبارِ مکان: جو مکہ میں نازل ہو مکی، جو مدینہ میں نازل ہو مدنی۔
  3. باعتبارِ خطاب: جس میں “یا ایہا الناس” ہو وہ مکی، جس میں “یا ایہا الذین آمنوا” ہو وہ مدنی۔

حل شدہ پرچہ 2024ء: الورقۃ الثانیۃ – الحدیث وأصولہ

القسم الأول: الحدیث (مشکوٰۃ المصابیح)
سوال نمبر 1: عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ كَانَتْ قِيمَةُ الدِّيَةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ثَمَانَ مِائَةِ دِينَارٍ وَثَمَانِيَةَ آلَافِ دِرْهَمٍ وَدِيَةُ أَهْلِ الْكِتَابِ يَوْمَئِذٍ النِّصْفُ مِنْ دِيَةِ الْمُسْلِمِينَ قَالَ فَكَانَ كَذَلِكَ حَتَّى اسْتُخْلِفَ عُمَرُ فَقَامَ خَطِيبًا فَقَالَ….الخ۔ (الف) حدیث مذکور پر اعراب لگا کر اردو میں ترجمہ کریں۔ (ب) مشکوٰۃ کی روشنی میں بتائیں حضرت عمرؓ نے دیت میں کیا تبدیلی فرمائی اور اس کی علت کیا بیان کی؟
جواب: (الف) ترجمہ: حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں دیت کی قیمت آٹھ سو دینار اور آٹھ ہزار درہم تھی، اور اس زمانے میں اہل کتاب کی دیت مسلمانوں کی دیت سے آدھی تھی۔ راوی کہتے ہیں کہ معاملہ اسی طرح رہا یہاں تک کہ حضرت عمرؓ خلیفہ بنے، پس وہ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا (کہ اب اونٹ مہنگے ہو گئے ہیں)۔
(ب) حضرت عمرؓ کی تبدیلی اور علت: مشکوٰۃ شریف کی روایت کے مطابق، حضرت عمرؓ نے محسوس کیا کہ اونٹوں کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ چونکہ دیت کی اصل بنیاد اونٹ (100 اونٹ) تھے، اس لیے انہوں نے درہم و دینار کی مقدار میں اضافہ فرما دیا۔
  • تبدیلی: انہوں نے سونے والوں (اہلِ ذہب) پر ایک ہزار دینار اور چاندی والوں (اہلِ ورق) پر بارہ ہزار درہم دیت مقرر کر دی۔
  • علت (وجہ): آپؓ نے فرمایا کہ اب اونٹ مہنگے ہو گئے ہیں (إِنَّ الْإِبِلَ قَدْ غَلَتْ)۔ لہذا اصل قیمت کی برابری برقرار رکھنے کے لیے یہ اضافہ کیا گیا۔

سوال نمبر 2: عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَقِيمُوا حُدُودَ اللَّهِ فِي الْقَرِيبِ وَالْبَعِيدِ وَلَا تَأْخُذْكُمْ فِي اللَّهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ۔ (الف) حدیث کا ترجمہ کریں اور قریب و بعید کے ممکنہ احتمالات بیان کریں۔ (ب) قصاص کا لغوی و اصطلاحی معنی لکھ کر بتائیں قتل کی کس قسم میں قصاص ہے اور کس میں دیت؟
جواب: (الف) ترجمہ و احتمالات:
  • ترجمہ: حضرت عبادہ بن صامتؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “اللہ کی حدود قائم کرو قریب والے پر بھی اور دور والے پر بھی، اور اللہ کے معاملے میں تمہیں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت (کا ڈر) نہ روکے۔”
  • قریب و بعید کے احتمالات:
    1. نسبی رشتہ داری: یعنی حد لگانے میں اپنے رشتہ داروں (قریب) اور اجنبیوں (بعید) میں فرق نہ کرو۔
    2. رتبہ و منزلت: یعنی امیر و طاقتور (قریبِ سلطان) اور غریب و کمزور (بعید) سب پر برابر حد نافذ ہو۔
    3. مکان: یعنی جو پاس ہو یا دور، ہر جگہ اللہ کا حکم نافذ ہو۔
(ب) قصاص:
  • لغوی معنی: پیچھے چلنا یا برابری کرنا۔
  • اصطلاحی معنی: جان کے بدلے جان یا عضو کے بدلے عضو لینا (برابری کے ساتھ)۔
  • قتل کی اقسام:
    • قتلِ عمد (جان بوجھ کر): اس میں قصاص (جان کے بدلے جان) واجب ہے، بشرطیکہ ورثاء معاف نہ کریں۔
    • قتلِ شبہ عمد، قتلِ خطا، اور قتلِ قائم مقام خطا: ان میں قصاص نہیں بلکہ دیت (خون بہا) واجب ہوتی ہے۔

سوال نمبر 3: عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لَيْسَ مِنَّا مَنْ تَشَبَّهَ بِغَيْرِنَا لَا تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ وَلَا بِالنَّصَارَى فَإِنَّ تَسْلِيمَ الْيَهُودِ الْإِشَارَةُ بِالْأَصَابِعِ وَتَسْلِيمَ النَّصَارَى الْإِشَارَةُ بِالْأَكُفِّ۔ (الف) حدیث کا ترجمہ کریں اور سند میں “عن ابیہ” اور “عن جدہ” کا مرجع متعین کریں۔ (ب) سلام کرتے ہوئے پیشانی اور سینے پر ہاتھ رکھ کر اشارہ کرنا کیسا ہے؟
جواب: (الف) ترجمہ و مرجع:
  • ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے علاوہ دوسروں کی مشابہت اختیار کرے، تم یہود و نصاریٰ کی مشابہت نہ کرو۔ بے شک یہودیوں کا سلام انگلیوں سے اشارہ کرنا ہے اور عیسائیوں کا سلام ہتھیلیوں سے اشارہ کرنا ہے۔”
  • مرجع کی تعیین: “عن ابیہ” سے مراد عمرو بن شعیب کے والد شعیب ہیں، اور “عن جدہ” سے مراد شعیب کے دادا (اور عمرو کے پردادا) صحابیِ رسول حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ ہیں۔
(ب) پیشانی اور سینے پر ہاتھ رکھنا: زبان سے سلام کہے بغیر صرف ہاتھ کے اشارے (پیشانی یا سینے پر رکھ کر) سے سلام کرنا مکروہ اور ممنوع ہے، کیونکہ یہ یہود و نصاریٰ کا طریقہ ہے۔ البتہ اگر کوئی دور ہو اور آواز نہ پہنچ رہی ہو، تو زبان سے “السلام علیکم” کہتے ہوئے ساتھ ہاتھ کا اشارہ کرنا جائز ہے تاکہ اسے پتہ چل جائے کہ سلام کیا گیا ہے۔

القسم الثاني: اصولِ حدیث

سوال نمبر 4: (صرف چار اجزاء)
(الف) علمِ اصولِ حدیث کی تعریف، موضوع اور غرض:
  • تعریف: وہ علم جس میں ایسی قواعد معلوم ہوں جن کے ذریعے حدیث کی سند اور متن کے احوال (صحت و ضعف) کا پتہ چلے۔
  • موضوع: حدیث کی سند اور اس کا متن۔
  • غرض: صحیح اور ضعیف احادیث کے درمیان فرق کرنا تاکہ دین میں غلط باتوں کی آمیزش نہ ہو۔
(ب) صحیح لذاتہ اور صحیح لغیرہ: یہ حدیثِ مقبول کی اقسام ہیں۔
  • صحیح لذاتہ: جس میں صحت کی تمام شرائط (اتصالِ سند، عدالت، ضبط، عدمِ شذوذ و علت) بدرجہ اتم موجود ہوں۔
  • صحیح لغیرہ: وہ حدیث جو بذاتِ خود “حسن لذاتہ” ہو، لیکن جب اس جیسی دوسری روایات مل جائیں تو وہ قوی ہو کر “صحیح لغیرہ” کے درجے تک پہنچ جائے۔
(ج) معضل اور منقطع:
  • معضل: وہ حدیث جس کی سند سے لگاتار دو یا دو سے زیادہ راوی گر گئے ہوں۔
  • منقطع: وہ حدیث جس کی سند کے درمیان سے کوئی ایک راوی (یا مختلف جگہوں سے ایک ایک کر کے) گر گیا ہو۔
  • حکم: یہ دونوں اقسامِ ضعیف میں سے ہیں اور ان سے حجت پکڑنا جائز نہیں۔
(د) مرسل کی تعریف و حکم:
  • تعریف: وہ حدیث جسے تابعی براہِ راست رسول اللہ ﷺ سے روایت کرے (یعنی صحابی کا ذکر درمیان سے حذف کر دے)۔
  • حکم: احناف کے نزدیک مرسل مقبول ہے بشرطیکہ راوی ثقہ ہو، جبکہ امام شافعیؒ کے نزدیک یہ ضعیف ہے جب تک کہ اسے کسی دوسری سند سے تقویت نہ ملے۔

حل شدہ پرچہ 2024ء: الورقۃ الثالثۃ – الفقہ (ہدایہ اولین)

سوال نمبر 1: وَمَنِ اشْتَرَى شَيْئًا لَمْ يَرَهُ فَالْبَيْعُ جَائِزٌ وَلَهُ الْخِيَارُ إِذَا رَآهُ إِنْ شَاءَ أَخَذَهُ بِجَمِيعِ الثَّمَنِ وَإِنْ شَاءَ رَدَّهُ. (الف) مذکورہ عبارت پر اعراب لگا کر اردو میں ترجمہ کریں۔ (ب) مسئلہ مذکورہ میں احناف و شوافع کا اختلاف بالدلائل لکھیں۔ (ج) خیارِ شرط، خیارِ رؤیت اور خیارِ عیب کی تعریفات و احکام تحریر کریں۔
جواب:
(الف) ترجمہ: “جس شخص نے ایسی چیز خریدی جسے اس نے (خریدتے وقت) نہیں دیکھا، تو یہ بیع جائز ہے، اور اسے دیکھنے کے بعد اختیار (خیارِ رؤیت) حاصل ہوگا؛ اگر وہ چاہے تو اسے پوری قیمت کے عوض لے لے اور اگر چاہے تو اسے واپس کر دے۔”
(ب) احناف و شوافع کا اختلاف:
  • احناف: ان کے نزدیک غائب (بغیر دیکھی) چیز کی بیع جائز ہے اور خریدار کو دیکھنے کے بعد اسے واپس کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔
    • دلیل: نبی ﷺ کا فرمان ہے: “جس نے کوئی ایسی چیز خریدی جسے دیکھا نہیں، تو اسے دیکھنے کے بعد اختیار ہے”۔ (دارقطنی)۔
  • شوافع: امام شافعیؒ کے جدید قول کے مطابق ایسی بیع سرے سے باطل ہے کیونکہ اس میں “غرر” (دھوکا/ناحق خطرہ) پایا جاتا ہے۔
    • دلیل: رسول اللہ ﷺ نے بیعِ غرر سے منع فرمایا ہے، اور بغیر دیکھی چیز میں غرر پایا جاتا ہے۔
(ج) تعریفات و احکام:
  1. خیارِ شرط: سودا کرتے وقت فریقین میں سے کسی کا یہ شرط رکھنا کہ مجھے تین دن تک واپسی کا اختیار ہوگا۔ (حکم: یہ شرط جائز ہے)۔
  2. خیارِ رؤیت: بغیر دیکھی چیز خریدنے پر دیکھنے کے بعد پسند نہ آنے پر واپس کرنے کا حق۔ (حکم: یہ خریدار کے لیے ثابت ہوتا ہے، فروخت کرنے والے کے لیے نہیں)۔
  3. خیارِ عیب: مبیع (چیز) میں کوئی ایسا نقص نکل آنا جو اس کی قیمت کم کر دے۔ (حکم: خریدار اسے واپس کر سکتا ہے یا عیب کے ساتھ رکھ سکتا ہے، مگر قیمت کم کروانے کا حق بغیر رضامندیِ بائع نہیں)۔

سوال نمبر 2: وَمَنِ اشْتَرَى جَارِيَةً بِأَلْفِ دِرْهَمٍ حَالَّةً أَوْ نَسِيئَةً فَتَقَبَّضَهَا ثُمَّ بَاعَهَا مِنَ الْبَائِعِ بِخَمْسِمِائَةٍ قَبْلَ أَنْ يَنْقُدَ الثَّمَنَ لَا يَجُوزُ الْبَيْعُ الثَّانِي. (الف) عبارت کا اردو میں ترجمہ و مطلب بیان کریں۔ (ب) مذکورہ صورت میں احناف و شوافع کا اختلاف نقلی و عقلی دلائل سے مزین کریں۔ (ج) ربا، مرابحہ اور سلم کی تعریفات و احکام لکھیں۔
جواب:
(الف) ترجمہ و مطلب: “جس نے ایک لونڈی ہزار درہم کے عوض نقد یا ادھار خریدی اور اس پر قبضہ کر لیا، پھر اس کی قیمت ادا کرنے سے پہلے اسے (واپس) اسی بیچنے والے کے ہاتھ پانچ سو درہم میں فروخت کر دیا، تو یہ دوسری بیع جائز نہیں ہے۔”
  • مطلب: اسے “بیعِ عینہ” کی ایک صورت کہا جاتا ہے، جہاں کم قیمت پر واپس بیچ کر سود کا راستہ نکالا جاتا ہے۔
(ب) ائمہ کا اختلاف:
  • احناف: یہ دوسری بیع ناجائز ہے۔
    • دلیل: حضرت عائشہؓ نے ایسی بیع کرنے والی عورت سے فرمایا کہ تمہارا جہاد برباد ہو گیا (اگر توبہ نہ کی)۔ عقلی طور پر اس میں سود کا شبہ ہے کہ ہزار کے بدلے پانچ سو دے کر سود خوری کی گئی۔
  • شوافع: ان کے نزدیک یہ جائز ہے کیونکہ دونوں سودے الگ الگ ہیں۔
    • دلیل: اصل بیع میں ہے کہ جب ایجاب و قبول ہو جائے تو ملکیت ثابت ہو جاتی ہے، لہذا وہ اپنی ملکیت کو جس کو چاہے بیچے۔
(ج) تعریفات و احکام:
  1. ربا (سود): عقدِ بیع میں ایسی زیادتی جو عوض سے خالی ہو اور مشروط ہو۔ (حکم: قطعی حرام ہے)۔
  2. مرابحہ: اپنی خریدی ہوئی چیز کو معلوم منافع کے ساتھ فروخت کرنا (مثلاً: یہ مجھے 10 کی ملی ہے، 12 کی دوں گا)۔ (حکم: جائز ہے
  3. بیعِ سلم: قیمت نقد ادا کرنا اور چیز (مبیع) بعد میں وصول کرنا۔ (حکم: شرائط کے ساتھ جائز ہے)۔

سوال نمبر 3: وَإِذَا صَحَّتِ الْمُضَارَبَةُ مُطْلَقَةً جَازَ لِلْمُضَارِبِ أَنْ يَبِيعَ وَيَشْتَرِيَ وَيُوَكِّلَ وَيُسَافِرَ وَيُبْضِعَ وَيُودِعَ. (الف) عبارت کا ترجمہ کر کے البضاع اور ابداع کا مفہوم تحریر کریں۔ (ب) مضاربہ مطلقہ کی تعریف کریں اور حکم بیان کریں۔ (ج) جوازِ مضاربت پر دلائل عقلیہ و نقلیہ لکھ کر شرائطِ مضاربت تحریر کریں۔
جواب:
(الف) ترجمہ و مفہوم: “جب مضاربہ مطلقہ (غیر مشروط) صحیح ہو جائے، تو مضارب (کام کرنے والے) کے لیے جائز ہے کہ وہ خرید و فروخت کرے، کسی کو وکیل بنائے، سفر کرے، بضاع دے اور امانت (ایداع) رکھے۔”
  • البضاع: اپنا مال کسی دوسرے کو اس شرط پر دینا کہ وہ اس سے تجارت کرے اور سارا نفع مال کے مالک کا ہو۔
  • ایداع: اپنا مال کسی کے پاس بطورِ امانت (ودیعت) رکھنا۔
(ب) مضاربہ مطلقہ:
  • تعریف: ایسا معاہدہ جس میں رب المال (مالک) مضارب کو کوئی خاص وقت، جگہ یا مالِ تجارت متعین نہ کرے بلکہ اسے کھلی اجازت دے دے۔
  • حکم: مضارب اس میں ہر وہ کام کر سکتا ہے جو عرفِ عام میں تاجر کرتے ہیں۔
(ج) جواز و شرائط:
  • دلیلِ نقلی: صحابہ کرامؓ مضاربت کرتے تھے اور نبی ﷺ نے اسے برقرار رکھا۔
  • دلیلِ عقلی: لوگوں میں سے کچھ کے پاس مال ہوتا ہے مگر ہنر نہیں، اور کچھ کے پاس ہنر ہوتا ہے مگر مال نہیں، لہذا ضرورتِ عامہ اس کے جواز کا تقاضا کرتی ہے۔
  • شرائط: 1. سرمایہ نقد (درہم و دینار) ہو۔ 2. نفع کی تقسیم فیصد کے حساب سے طے ہو۔ 3. کام کی آزادی ہو (رب المال خود کام نہ کرے)۔

سوال نمبر 4: وَكَذَا يَنْعَقِدُ بِقَوْلِهِ أَطْعَمْتُكَ هَذَا الطَّعَامَ وَجَعَلْتُ هَذَا الثَّوبَ لَكَ وَأَعْمَرْتُكَ هَذَا الشَّيْئَ وَحَمَلْتُكَ عَلَى هَذِهِ الدَّابَّةِ إِذَا نَوَى بِالْحَمْلِ الْهِبَةَ. (الف) عبارت پر اعراب لگا کر وضاحتِ مسئلہ سپردِ قلم کریں۔ (ب) مذکورہ الفاظ سے انعقادِ ہبہ کی وجوہ بیان کریں۔ (ج) اجنبی کو ہبہ کرنے کے بعد رجوع کا حق ہے یا نہیں؟ ائمہ کا اختلاف لکھیں۔
جواب:
(الف) ترجمہ و وضاحت: “اور اسی طرح ہبہ منعقد ہو جائے گا ان الفاظ سے: ‘میں نے تجھے یہ کھانا کھلایا’ یا ‘یہ کپڑا تیرے لیے کر دیا’ یا ‘یہ چیز میں نے تجھے عمر بھر کے لیے دے دی’ یا ‘میں نے تجھے اس سواری پر سوار کیا’ (بشرطیکہ سواری سے مراد ہبہ کی نیت ہو)۔”
  • وضاحت: ہبہ کے لیے ضروری نہیں کہ صرف ‘ہبہ’ کا لفظ ہو، بلکہ ہر وہ لفظ جو ملکیت منتقل کرنے پر دلالت کرے اس سے ہبہ ہو جاتا ہے۔
(ب) وجوہِ انعقاد: کیونکہ ہبہ کا اصل مقصد دوسرے کو بغیر عوض کے مالک بنانا ہے، اور مذکورہ بالا الفاظ عرف میں ملکیت کے تبادلے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
(ج) اجنبی سے رجوع کا حق:
  • احناف: اجنبی کو ہبہ کرنے کے بعد رجوع کرنا “مکروہِ تحریمی” ہے، لیکن اگر خریدار چیز واپس نہ کرے تو قاضی کے فیصلے سے رجوع کیا جا سکتا ہے (اگر بدلہ نہ ملا ہو)۔
  • شوافع و حنابلہ: اجنبی کو ہبہ کر کے اسے واپس لینا قطعاً جائز نہیں (سوائے باپ کے جو اپنے بیٹے کو ہبہ کرے)۔
    • دلیل: حدیثِ پاک ہے: “ہبہ کر کے واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو اپنی قے چاٹتا ہے“۔

حل شدہ پرچہ 2024ء: الورقۃ الرابعۃ – البلاغۃ (مختصر المعانی)

سوال نمبر 1: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ افْتَتَحَ كِتَابَهُ بَعْدَ التَّيَمُّنِ بِالتَّسْمِيَةِ بِحَمْدِ اللَّهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَدَاءً لِحَقِّ شَيْءٍ مِمَّا يَجِبُ عَلَيْهِ مِنْ شُكْرِ نَعْمَائِهِ الَّتِي تَأْلِيفُ هَذَا الْمُخْتَصَرِ أَثَرٌ مِنْ آثَارِهَا. (الف) مذکورہ عبارت پر اعراب لگا کر سلیس اردو میں ترجمہ کریں۔ (ب) حمد اور شکر کی تعریف کریں نیز ان میں نسبت کی وضاحت کریں؟ (ج) مطول کے مصنف کا نام تحریر کریں۔
جواب:
(الف) ترجمہ: “اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان، ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے۔ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ (مصنف نے) اپنی کتاب کا آغاز بسم اللہ سے برکت حاصل کرنے کے بعد اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی حمد سے کیا تاکہ اس کی نعمتوں کے شکر کا وہ حق (کچھ حد تک) ادا ہو سکے جو ان پر واجب ہے، وہ نعمتیں جن کے آثار میں سے ایک اثر اس ‘مختصر’ (مختصر المعانی) کی تالیف بھی ہے۔”
(ب) حمد، شکر اور ان کی نسبت:
  • حمد: کسی کی اختیاری خوبی پر اس کی زبان سے تعریف کرنا (خواہ وہ خوبی آپ کے حق میں ہو یا نہ ہو)۔
  • شکر: کسی کے احسان کے بدلے میں اس کی تعظیم کرنا (خواہ زبان سے ہو، دل سے ہو یا اعضاء سے)۔
  • نسبت: ان کے درمیان “عموم و خصوص من وجہ” کی نسبت ہے۔
    1. حمد ‘مورد’ (زبان) کے اعتبار سے خاص ہے اور ‘سبب’ کے اعتبار سے عام۔
    2. شکر ‘مورد’ کے اعتبار سے عام ہے (دل، زبان، ہاتھ سب شامل ہیں) اور ‘سبب’ کے اعتبار سے خاص (صرف نعمت کے بدلے میں ہوتا ہے
(ج) مطول کے مصنف: کتاب ‘المطول’ کے مصنف کا نام علامہ سعد الدین مسعود بن عمر تفتازانیؒ ہے۔

سوال نمبر 2: (الف) “… كَرِيمُ الْجِرِشَّى شَرِيفُ النَّسَبِ” شعر کو مکمل کر کے ترجمہ کریں نیز شاعر کا نام بتائیں۔ (ب) غرابت کی تعریف کریں نیز مطول کے مطابق اس کی وضاحت کریں۔ (ج) بلاغت فی المتکلم کی تعریف کریں۔
جواب:
(الف) شعر کی تکمیل و ترجمہ:

مُبَارَكُ الِاسْمِ أَغَرُّ اللَّقَبِ… كَرِيمُ الْجِرِشَّى شَرِيفُ النَّسَبِ

  • ترجمہ: وہ مبارک نام والا اور روشن لقب والا ہے، وہ پاکیزہ نفس اور عالی نسب والا ہے۔
  • شاعر: یہ شعر رؤبہ بن العجاج کا ہے۔
(ب) غرابت:
  • تعریف: کلمہ کا ایسا ہونا کہ اس کے معنی ظاہر نہ ہوں اور وہ عام استعمال میں نہ ہو۔
  • وضاحت: مطول کے مطابق غرابت کی دو قسمیں ہیں:
    1. وہ لفظ جس کے معنی تلاش کرنے کے لیے لغت کی کتابوں میں بہت زیادہ غوطہ زنی کرنی پڑے (جیسے ‘تکأکأتم’)۔
    2. وہ لفظ جس کے کئی معنی ہوں اور یہ سمجھ نہ آئے کہ یہاں کون سا مراد ہے (جیسے ‘مسرج’)۔
(ج) بلاغت فی المتکلم: متکلم میں ایسا ملکہ (صلاحیت) ہونا جس کے ذریعے وہ مقتضیٰ حال کے مطابق فصیح کلام ادا کرنے پر قادر ہو جائے۔

سوال نمبر 3: وَالْفَصَاحَةُ فِي الْكَلَامِ خُلُوصُهُ مِنْ ضَعْفِ التَّأْلِيفِ وَتَنَافُرِ الْكَلِمَاتِ وَالتَّعْقِيدِ مَعَ فَصَاحَتِهَا وَلَا يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ حَالًا مِنَ الْكَلِمَاتِ فِي تَنَافُرِ الْكَلِمَاتِ. (الف) اعراب لگا کر ترجمہ کریں نیز “مع فصاحتھا” قید کا فائدہ لکھیں۔ (ب) “مع فصاحتھا” کا ذوالحال لکھیں نیز بتائیں کہ اسے ‘الکلمات’ سے حال بنانا کیوں جائز نہیں؟ (ج) ضعفِ تالیف اور تعقید کی تعریفات لکھیں۔
جواب:
(الف) ترجمہ و فائدہ:
  • ترجمہ: “کلام میں فصاحت سے مراد اس کا ضعفِ تالیف، تنافرِ کلمات اور تعقید سے پاک ہونا ہے، اس حال میں کہ وہ کلمات خود بھی فصیح ہوں۔ اور (مع فصاحتھا میں ‘ہا’ ضمیر کو) ‘تنافر الکلمات’ میں موجود ‘الکلمات’ سے حال بنانا جائز نہیں ہے۔”
  • فائدہ: اس قید کا فائدہ یہ ہے کہ اگر پورا جملہ ان تین عیبوں سے پاک ہو لیکن اس کے اندر استعمال ہونے والے انفرادی الفاظ (کلمات) فصیح نہ ہوں (مثلاً ان میں غرابت ہو)، تو وہ پورا کلام فصیح نہیں کہلائے گا۔
(ب) ذوالحال کی تحقیق:
  • ذوالحال: “مع فصاحتھا” کی ضمیر کا ذوالحال “الکلام” (جو شروع میں ہے) یا اس کی ضمیر ہے۔
  • الکلمات سے حال کیوں نہیں؟: کیونکہ اگر اسے ‘الکلمات’ سے حال بنائیں تو معنی یہ ہوگا کہ “صرف تنافر والے کلمات کا فصیح ہونا ضروری ہے”، جبکہ قاعدہ یہ ہے کہ کلام کے تمام کلمات کا فصیح ہونا ضروری ہے۔
(ج) تعریفات:
  1. ضعفِ تالیف: کلام کا قواعدِ نحویہ کے مشہور طریقے کے خلاف ہونا۔ (مثلاً: ضمیر کا ایسے مرجع کی طرف لوٹنا جو لفظاً اور رتبتاً موخر ہو)۔
  2. تعقید: کلام میں پوشیدگی ہونا جس سے مراد سمجھنا مشکل ہو۔ (اس کی دو قسمیں ہیں: تعقیدِ لفظی اور تعقیدِ معنوی)۔

سوال نمبر 4: (الف) مطول اور مفتاح العلوم کے مطابق اسنادِ خبری کی تعریف الگ الگ لکھیں نیز بتائیں کہ تفتازانیؒ نے صاحبِ مفتاح کی تعریف سے عدول کیوں کیا۔ (ب) خبر کو مقتضیٰ ظاہر کے خلاف لانے کی دو صورتیں مع امثلہ لکھیں۔ (ج) مثال اور مقتضیٰ حال کی تعریفات تحریر کریں۔
جواب:
(الف) اسنادِ خبری کی تعریف:
  • صاحبِ مفتاح (سکاکی): “کسی ایک چیز کا دوسری چیز کے ساتھ اس طرح جوڑنا کہ اس سے فائدہ حاصل ہو (خواہ وہ سچ ہو یا جھوٹ)۔”
  • علامہ تفتازانی (مطول): “ایک کلمہ کی دوسرے کلمہ کی طرف اس طرح نسبت کرنا کہ اس سے یہ فائدہ حاصل ہو کہ ان دونوں کے درمیان واقع میں کوئی نسبت ہے یا نہیں (خواہ ثبوت ہو یا نفی)۔”
  • عدول کی وجہ: صاحبِ مفتاح کی تعریف میں ‘نفی’ (Negative sentences) کا واضح ذکر نہیں تھا، علامہ تفتازانی نے اپنی تعریف کو زیادہ جامع بنایا تاکہ ثبوت اور نفی دونوں شامل ہو جائیں۔
(ب) مقتضیٰ ظاہر کے خلاف لانے کی دو صورتیں:
  1. غیر سائل کو سائل کے درجے میں رکھنا: جب کسی کو کوئی ایسی خبر دی جائے جس کا وہ انتظار کر رہا ہو، تو اس پر تاکید لائی جاتی ہے گویا اس نے سوال کیا تھا۔ مثال: “إنَّ اللہَ غفورٌ رحیمٌ“۔
  2. منکر کو غیر منکر کے درجے میں رکھنا: جب مخاطب انکار تو کرے لیکن اس کے سامنے اتنے واضح دلائل ہوں کہ اسے انکار نہیں کرنا چاہیے تھا۔ مثال: “وإلہکم إلہٌ واحدٌ”۔
(ج) تعریفات:
  • مقتضیٰ حال: وہ خاص طریقہ یا صفت جس کا تقاضا ‘حال’ (موقع و محل) کر رہا ہو۔ (مثلاً ذکی مخاطب کے لیے ‘ایجاز’ مقتضیٰ حال ہے)۔
  • مثال: وہ جزئی بات جس کے ذریعے کسی کلی قاعدے کو واضح کیا جائے۔۔

حل شدہ پرچہ 2024ء: الورقۃ الخامسۃ – الفلسفۃ والمناظرۃ
القسم الأول: الفلسفہ (ہدایۃ الحکمۃ)
سوال نمبر 1: اعْلَمْ أَنَّ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنَ الْأَجْسَامِ الطَّبِيعِيَّةِ صُورَةً أُخْرَى غَيْرَ الصُّورَةِ الْجِسْمِيَّةِ لِأَنَّ اخْتِصَاصَ بَعْضِ الْأَجْسَامِ بِبَعْضِ الْأَحْيَازِ دُونَ الْبَعْضِ لَيْسَ لِأَمْرٍ خَارِجٍ وَلَا لِلْهِيُولَى فَهِيَ إِمَّا أَنْ يَكُونَ لِلْجِسْمِيَّةِ الْعَامَّةِ أَوْ لِصُورَةٍ أُخْرَى، لَا سَبِيلَ إِلَى الْأَوَّلِ وَإِلَّا لَاشْتَرَكَتِ الْأَجْسَامُ كُلُّهَا فِي ذَلِكَ فَتَعَيَّنَ الثَّانِي وَهُوَ الْمَطْلُوبُ. (الف) عبارت پر اعراب لگا کر ترجمہ کریں۔ (ب) حکمت کی تعریف اور حکمتِ عملیہ کی اقسام لکھیں۔
جواب:
(الف) ترجمہ: “جان لو کہ تمام اجسامِ طبیعیہ میں سے ہر ایک کے لیے صورتِ جسمیہ کے علاوہ ایک اور صورت (صورتِ نوعیہ) بھی ہوتی ہے، کیونکہ بعض اجسام کا بعض خاص جگہوں (احیاز) کے ساتھ خاص ہونا اور دوسروں کا نہ ہونا، نہ تو کسی بیرونی امر کی وجہ سے ہے اور نہ ہی مادہ (ہیولیٰ) کی وجہ سے۔ پس یہ خاص ہونا یا تو جسمیتِ عامہ کی وجہ سے ہوگا یا کسی اور صورت کی وجہ سے۔ پہلی صورت (جسمیتِ عامہ) ممکن نہیں، ورنہ تمام اجسام اسی (ایک جگہ) میں شریک ہو جاتے۔ پس دوسری صورت متعین ہو گئی اور یہی ہمارا مطلوب (دعویٰ) ہے۔”
(ب) حکمت اور اس کی اقسام:
  • حکمت کی تعریف: نفسِ انسانی کا اشیاء کے حقائق کو ان کے نفس الامر (واقعیت) کے مطابق جاننا اور ان کے مطابق عمل کرنا۔
  • حکمتِ عملیہ کی اقسام: اس کی تین اقسام ہیں:
    1. تہذیبِ اخلاق: صرف ایک شخص کی ذات کی درستی۔
    2. تدبیرِ منزل: ایک گھر کے معاملات کی درستی۔
    3. سیاستِ مدنیہ: ایک شہر یا ملک کے انتظام کی درستی۔

سوال نمبر 2: كُلُّ جِسْمٍ فَلَهُ حَيِّزٌ طَبِيعِيٌّ. (الف) حیز کی تعریف کریں اور مذکورہ دعویٰ کو دلیل سے ثابت کریں۔ (ب) كُلُّ جِسْمٍ فَلَهُ شَكْلٌ طَبِيعِيٌّ اس دعویٰ کو بھی دلیل سے ثابت کریں۔
جواب:
(الف) حیز کی تعریف و دلیل:
  • حیز کی تعریف: وہ جگہ جسے جسم گھیرتا ہے اور جس کی طرف اشارہ کیا جا سکے (خلاء یا مکان)۔
  • دلیل: ہر جسم اگر اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے تو وہ کسی نہ کسی سمت (جگہ) میں ہوتا ہے۔ اگر اس کے لیے کوئی مخصوص جگہ نہ ہو تو وہ ایک ہی وقت میں ہر جگہ ہو سکتا ہے یا کہیں بھی نہیں ہو سکتا، اور یہ دونوں محال ہیں۔ پس ثابت ہوا کہ ہر جسم کے لیے ایک ‘حیزِ طبیعی’ ہے جہاں وہ سکون پاتا ہے۔
(ب) شکلِ طبیعی کی دلیل:
  • دلیل: ہر جسم کی ایک حد (نہایت) ہوتی ہے جہاں اس کا وجود ختم ہوتا ہے۔ وہ حد یا تو ایک ہوگی یا زیادہ۔ اگر جسم سادہ (بسیط) ہے اور اس پر کوئی بیرونی اثر نہ ہو تو مقتضیٰ ذات کے مطابق اس کی شکل “کرہ” (گول) ہونی چاہیے، کیونکہ کرہ ہی وہ شکل ہے جس کی حد ایک ہی سطح ہوتی ہے۔

سوال نمبر 3: مندرجہ ذیل اصطلاحات کی تعریفات سپردِ قلم کریں: الأمور الاعتبارية الواقعية، المعقولات الأولى، البعد، الہیولی، الصورة النوعیة۔
جواب:
  1. الأمور الاعتبارية الواقعية: وہ امور جو ذہن سے باہر موجود نہیں ہوتے لیکن واقع میں ان کا ثبوت ہوتا ہے (جیسے ‘فوقیت’ یعنی اوپر ہونا)۔
  2. المعقولات الأولى: وہ حقائق جو براہِ راست اشیاء کے خارج میں پائے جانے والے وجود سے حاصل ہوتے ہیں (جیسے ‘انسان’ یا ‘سفیدی’)۔
  3. البعد: وہ خلاء یا مسافت جو دو چیزوں کے درمیان پائی جائے۔
  4. ہیولیٰ: وہ جوہر جو بذاتِ خود کچھ نہیں مگر صورت کو قبول کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
  5. الصورة النوعیة: وہ قوت یا کیفیت جو کسی مادہ میں حلول کر کے اسے ایک خاص نوع (جیسے آگ یا پانی) بنا دیتی ہے۔

القسم الثاني: المناظرہ (الرشیدیۃ)

سوال نمبر 4: وَالْأَحْبَابِ الَّذِينَ يُحِبُّونَهُ بِصَمِيمِ قَلْبِهِمْ وَخُلُوصِ اعْتِقَادِهِمْ وَالْآلُ دَاخِلٌ فِيهِمْ فَلَا حَاجَةَ إِلَى التَّصْرِيحِ بِهِمْ وَلَا يَذْهَبُ عَلَيْكَ مَا فِي لَفْظِ الْمَنْعِ وَالنَّقْضِ وَالسَّنَدِ وَالْمُعَارَضَةِ مِنْ حُسْنِ بَرَاعَةِ الِاسْتِهْلَالِ. (الف) اعراب لگا کر ترجمہ کریں۔ (ب) براعتِ استہلال، نقض، سند اور معارضہ کی تعریفات لکھیں۔
جواب:
(الف) ترجمہ: “اور ان احباب پر (درود و سلام ہو) جو آپ ﷺ سے اپنے دل کی گہرائی اور پختہ اعتقاد کے ساتھ محبت کرتے ہیں، اور ‘آل’ (اہلِ بیت) انہی میں داخل ہیں، لہذا ان کا الگ سے تذکرہ کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔ اور آپ پر یہ بات پوشیدہ نہ رہے کہ (دیباچے میں) لفظ ‘منع’، ‘نقض’، ‘سند’ اور ‘معارضہ’ کے لانے میں ‘براعتِ استہلال’ کا حسن پایا جاتا ہے۔”
(ب) تعریفات:
  • براعتِ استہلال: کتاب کے آغاز میں ایسے الفاظ لانا جو کتاب کے اصل موضوع کی طرف اشارہ کریں۔
  • نقض: سائل کا مدعی کی دلیل میں کسی ایسی خرابی کو ظاہر کرنا جس سے دلیل باطل ہو جائے۔
  • سند: منع (اعتراض) کی تائید میں کوئی بات کہنا۔
  • معارضہ: مدعی کی دلیل کے مقابلے میں ویسی ہی دوسری دلیل پیش کرنا۔

سوال نمبر 5: علمِ مناظرہ کی تعریف، موضوع، غرض، حکم اور حاجت بیان کریں۔
جواب:
  • تعریف: وہ علم جس کے ذریعے بحث و مباحثہ کے ایسے طریقے معلوم ہوں جن سے حق کو ثابت کیا جا سکے اور باطل کا رد کیا جا سکے۔
  • موضوع: وہ ابحاث اور کلام جن میں دو فریقوں کے درمیان اختلاف پایا جائے۔
  • غرض: سچائی کو ظاہر کرنا اور مخاطب کے شبہات کو دور کرنا۔
  • حکم: اگر حق کی تائید کے لیے ہو تو مستحب یا فرضِ کفایہ ہے، اور اگر محض بڑائی اور جھگڑے کے لیے ہو تو حرام ہے۔
  • حاجت: انسانی نظریات میں اختلاف ناگزیر ہے، لہذا صحیح نتیجے تک پہنچنے کے لیے اصولِ بحث کی ضرورت پڑتی ہے۔

سوال نمبر 6: مندرجہ ذیل اصطلاحات کا لغوی اور اصطلاحی معنی واضح کریں: البحث، المجادلة، المدعی، العلة، النقض۔
جواب:
  1. البحث: لغوی معنی: زمین کھودنا یا تلاش کرنا۔ اصطلاحی معنی: دلیل کے ذریعے حقیقتِ حال تک پہنچنا۔
  2. المجادلة: لغوی معنی: رسی بٹنا یا سختی کرنا۔ اصطلاحی معنی: غلبہ پانے کے لیے بحث کرنا۔
  3. المدعی: لغوی معنی: دعویٰ کرنے والا۔ اصطلاحی معنی: وہ جو کسی ایسی نسبت کا اثبات کرے جس پر دلیل قائم کرنا اس کے ذمہ ہو۔
  4. العلة: لغوی معنی: بیماری یا سبب۔ اصطلاحی معنی: وہ وصف جس کی بنیاد پر حکم ثابت ہو۔
  5. النقض: لغوی معنی: توڑنا۔ اصطلاحی معنی: مدعی کی دلیل کو کسی مثال سے غلط ثابت کرنا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *