Tanzeem ul Madaris Solved Past Paper 2024 | PDF (طلباء کے لیے) خاصه سال اول

حل شدہ پرچہ: ترجمہ قرآن وحديث (خاصہ سال اول – 2024)

حصہ اول: ترجمہ قرآن مجید
سوال: “وَلَوْ أَرَادُوا الْخُرُوجَ لَأَعَدُّوا لَهُ عُدَّةً وَلَكِنْ كَرِهَ اللَّهُ انْبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ…” کا ترجمہ کریں۔
جواب: اور اگر وہ (منافقین) نکلنے کا ارادہ کرتے تو اس کے لیے کچھ سامان تیار کرتے، لیکن اللہ کو ان کا اٹھنا (نکلنا) پسند نہ تھا تو اس نے انہیں سست کر دیا اور کہہ دیا گیا کہ تم بیٹھنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔
سوال: “مَا كَانَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ وَمَنْ حَوْلَهُمْ مِنَ الْأَعْرَابِ أَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ…” کا ترجمہ لکھیں۔
جواب: مدینہ والوں اور ان کے گرد و نواح کے دیہاتیوں کے لیے یہ جائز نہ تھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو ان کی جان سے عزیز رکھیں، یہ اس لیے کہ انہیں اللہ کی راہ میں جو پیاس، تھکن یا بھوک پہنچتی ہے (اس پر ثواب ملتا ہے)۔
سوال: “وَلَمَّا جَاءَتْ رُسُلُنَا لُوطًا سِيءَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَقَالَ هَذَا يَوْمٌ عَصِيبٌ…” کا ترجمہ کریں۔
جواب: اور جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے لوط (علیہ السلام) کے پاس آئے تو وہ ان کی آمد سے پریشان ہوئے اور ان کی وجہ سے دل تنگ ہوئے اور کہا کہ یہ دن بہت سخت ہے۔
سوال: “إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ…” والی آیت کا ترجمہ لکھیں۔
جواب: بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اپنے آپ کو نہ بدل ڈالیں، اور جب اللہ کسی قوم کے ساتھ برائی (عذاب) کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کوئی پھیر نہیں سکتا اور ان کا اللہ کے سوا کوئی مددگار نہیں۔
سوال: “وَتَحْمِلُ أَثْقَالَكُمْ إِلَى بَلَدٍ لَمْ تَكُونُوا بَالِغِيهِ إِلَّا بِشِقِّ الْأَنْفُسِ…” کا ترجمہ کریں۔
جواب: اور وہ (جانور) تمہارے بوجھ ایسے شہروں تک اٹھا لے جاتے ہیں جہاں تم جانوں کی مشقت کے بغیر نہیں پہنچ سکتے تھے، بے شک تمہارا رب نہایت مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔

سوال نمبر 2: قرآنی الفاظ کے معانی
سوال: درج ذیل الفاظ کے معانی لکھیں: زَلَقًا، نُزُلًا، رَدْمًا، حِوَلًا، غَيًّا، فُتُونًا، زُرْقًا، صَرَفْنَا، رَهَبًا، لُؤْلُؤًا، رِجَالًا، مُنْزَلًا۔ جواب:
  • زَلَقًا: پھسلنے والی زمین۔
  • نُزُلًا: مہمانی/ٹھکانہ۔
  • رَدْمًا: مضبوط دیوار۔
  • حِوَلًا: جگہ بدلنا۔
  • غَيًّا: گمراہی/جہنم کی ایک وادی۔
  • فُتُونًا: آزمائش میں ڈالنا۔
  • زُرْقًا: نیلی آنکھیں (خوف کی وجہ سے)۔
  • صَرَفْنَا: ہم نے پھیر دیا/بیان کیا۔
  • رَهَبًا: خوف سے۔
  • لُؤْلُؤًا: موتی۔
  • رِجَالًا: پیدل چلنے والے۔
  • مُنْزَلًا: اتاری ہوئی جگہ۔

حصہ دوم: حدیثِ مبارکہ (ریاض الصالحین)
سوال: حدیث “كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ يُذَكِّرُنَا فِي كُلِّ خَمِيسٍ…” کا ترجمہ کریں۔
جواب: حضرت ابن مسعود ہمیں ہر جمعرات کو وعظ فرمایا کرتے تھے، ایک شخص نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! میری خواہش ہے کہ آپ ہمیں روزانہ وعظ کریں، انہوں نے فرمایا: مجھے روزانہ وعظ سے یہ بات روکتی ہے کہ میں تمہیں اکتاہٹ میں ڈالنا ناپسند کرتا ہوں، میں وعظ میں تمہاری رعایت رکھتا ہوں جیسے رسول اللہ ﷺ ہماری اکتاہٹ کے خوف سے ہماری رعایت فرماتے تھے۔
سوال: حدیث “إِذَا رَفَعَ مَائِدَتَهُ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا طَيِّبًا…” کا ترجمہ لکھیں۔
جواب: حضرت ابوامامہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جب دسترخوان اٹھاتے تو یہ دعا پڑھتے: “تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، بہت زیادہ، پاکیزہ اور برکت والی تعریفیں، ایسی تعریف جس کا حق ادا نہیں کیا جا سکتا، جسے چھوڑا نہیں جا سکتا اور نہ ہی اس سے بے نیازی برتی جا سکتی ہے، اے ہمارے رب!”
سوال: حدیث “مَنْ قَعَدَ مَقْعَدًا لَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ تَعَالَى فِيهِ كَانَتْ عَلَيْهِ مِنَ اللَّهِ تِرَةٌ…” کا ترجمہ کریں۔
جواب: حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی ایسی مجلس میں بیٹھا جس میں اس نے اللہ کا ذکر نہ کیا، تو وہ مجلس اس کے لیے اللہ کی طرف سے باعثِ نقصان (حسرت) ہوگی، اور جو شخص کسی ایسی جگہ لیٹا جہاں اس نے اللہ کا ذکر نہ کیا، تو وہ بھی باعثِ نقصان ہوگی۔

سوال نمبر 4: الفاظ کے معانی (احادیث)
سوال: درج ذیل الفاظ کے معانی لکھیں: أَنْجَاز، رِقَاب، اَلْمُقْعِي، كَهَرَنِي، اَلضِّيَافَة، جَزُور، نَتْف، اَلْإِبْط، اَلْأَظْفَار، يَسْتَحِلُّ، تَطِيْش، شَيْب۔ جواب:
  • أَنْجَاز: پورا کرنا (وعدہ)۔
  • رِقَاب: گردنیں۔
  • اَلْمُقْعِي: کتے کی طرح بیٹھنا۔
  • كَهَرَنِي: مجھے ڈانٹا۔
  • اَلضِّيَافَة: مہمانی۔
  • جَزُور: ذبح کیا ہوا اونٹ۔
  • نَتْف: اکھاڑنا (بالوں کا)۔
  • اَلْإِبْط: بغل۔
  • اَلْأَظْفَار: ناخن۔
  • يَسْتَحِلُّ: حلال جانتا ہے۔
  • تَطِيْش: وہ (ہاتھ) گھومتا ہے۔
  • شَيْب: بڑھاپا/سفید بال۔

حل شدہ پرچہ: فقہ و اصول فقہ (دوسرا پرچہ – 2024) – تنظیم المدارس

حصہ اول: فقہ (قدوری)

سوال 1 (الف): “وَخِيَارُ الْبَائِعِ يَمْنَعُ خُرُوجَ الْمَبِيعِ مِنْ مِلْكِهِ…” کا ترجمہ کریں۔
جواب: اور بائع (بیچنے والے) کا اختیار مبیع (چیز) کو اس کی ملکیت سے نکلنے سے روکتا ہے، پس اگر مشتری (خریدنے والے) نے اس پر قبضہ کر لیا اور وہ خیار کی مدت میں اس کے ہاتھ میں ہلاک ہوگئی، تو وہ اس کی قیمت کا ضامن ہوگا، اور مشتری کا اختیار مبیع کو بائع کی ملکیت سے نکلنے سے نہیں روکتا مگر یہ کہ مشتری اس کا مالک نہیں بنتا۔
سوال 1 (ب): خیارِ شرط کی مدت اور امام صاحب و صاحبین کا اختلاف واضح کریں؟
جواب: خیارِ شرط کی مدت امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک تین دن ہے، اس سے زیادہ جائز نہیں۔ صاحبین (امام ابویوسفؒ و امام محمدؒ) کے نزدیک اگر مدت متعین ہو تو تین دن سے زیادہ بھی جائز ہے۔ خط کشیدہ مسئلے میں امام صاحب کے نزدیک مبیع بائع کی ملکیت سے نہیں نکلتی، جبکہ صاحبین کے نزدیک نکل جاتی ہے مگر مشتری کی ملکیت میں داخل نہیں ہوتی۔
سوال 2 (الف): “وَلَا يَجُوزُ التَّصَرُّفُ فِي رَأْسِ الْمَالِ وَلَا فِي الْمُسْلَمِ فِيهِ قَبْلَ الْقَبْضِ…” کا ترجمہ کریں۔
جواب: اور راس المال (بیع سلم کی رقم) اور مسلم فیہ (وہ چیز جس کا سودا ہوا) میں قبضے سے پہلے تصرف جائز نہیں، اور قبضہ کرنے سے پہلے مسلم فیہ میں نہ شرکت جائز ہے اور نہ ہی تولیہ (خریداری کی قیمت پر بیچنا)، اور کپڑوں میں بیع سلم صحیح ہے جب ان کی لمبائی، چوڑائی اور دبیز پن (رقعہ) بیان کر دیا جائے۔
سوال 2 (ب): بیع سلم کی پانچ شرائط اور تین ایسی چیزیں لکھیں جن میں سلم جائز نہیں؟
جواب: شرائط: (1) جنس معلوم ہو، (2) صفت معلوم ہو، (3) مقدار معلوم ہو، (4) مدت معلوم ہو، (5) راس المال مجلس میں ادا کر دیا جائے۔ ایسی چیزیں جن میں سلم جائز نہیں: (1) حیوانات (امام صاحب کے نزدیک)، (2) قیمتی پتھر (جو وزن یا پیمائش سے نہ بکیں)، (3) وہ چیزیں جن کی صفت متعین نہ ہو سکے۔
سوال 3: بیع موقوف، تولیہ، خیارِ عیب، بیع صرف اور بیع مضاربہ کی تعریف لکھیں؟
جواب: بیع موقوف: جس میں عقد مالک کی اجازت پر معلق ہو (جیسے فضولی کی بیع)۔ بیع تولیہ: جس قیمت پر خریدا اسی پر بغیر نفع کے بیچنا۔ خیارِ عیب: چیز میں عیب نکلنے پر خریدار کو رد کرنے کا حق۔ بیع صرف: سونے کے بدلے سونا یا چاندی کے بدلے چاندی بیچنا۔ بیع مضاربہ: ایک کا مال اور دوسرے کی محنت پر نفع میں شرکت۔

حصہ دوم: اصولِ فقہ (اصول الشاشی)
سوال 4 (الف): “فَالْخَاصُّ لَفْظٌ وُضِعَ لِمَعْنًى مَعْلُومٍ أَوْ لِمُسَمًّى مَعْلُومٍ…” کا ترجمہ کریں۔
جواب: پس خاص وہ لفظ ہے جو اکیلے طور پر کسی معلوم معنی یا معلوم مسمیٰ کے لیے وضع کیا گیا ہو، جیسے فرد کی تخصیص میں ہمارا کہنا “زید”، نوع کی تخصیص میں “رجل” اور جنس کی تخصیص میں “انسان”۔
سوال 4 (ب): عام کی تعریف کریں؟
جواب: عام وہ لفظ ہے جو اپنی وضع کے اعتبار سے ایک ہی معنی کے تحت بہت سے افراد کو شامل ہو، جیسے ‘المسلمون’ یا ‘الناس’۔
سوال 4 (ج): خاص کا حکم لکھیں؟
جواب: خاص کا حکم یہ ہے کہ یہ اپنے معنی پر قطعی طور پر دلالت کرتا ہے، یعنی اس کے معنی میں کسی دوسرے معنی کا احتمال نہیں ہوتا۔
سوال 5 (الف): عبارت “اعْلَمْ أَنَّ الِاسْتِعَارَةَ فِي أَحْكَامِ الشَّرْعِ مُطَّرِدَةٌ بِطَرِيْقَيْنِ…” کا ترجمہ کریں۔
جواب: جان لو کہ احکامِ شرع میں استعارہ دو طریقوں سے جاری ہوتا ہے: ایک علت اور حکم کے درمیان اتصال (تعلق) کی وجہ سے، اور دوسرا محض سبب اور حکم کے درمیان اتصال کی وجہ سے۔ پس پہلا طریقہ دونوں طرف سے استعارہ کی صحت کو واجب کرتا ہے اور دوسرا صرف ایک طرف سے۔
سوال 5 (ب): استعارہ کے دونوں طریقوں کی ایک ایک مثال لکھیں؟
جواب: (1) علت و حکم: نکاح کو ملکِ متعہ کے لیے استعارہ کرنا (یہاں دونوں طرف سے جائز ہے)۔ (2) سبب و حکم: خرید و فروخت (بیع) کو ملکیت کے لیے استعارہ کرنا (یہاں ملکیت کے لفظ سے بیع مراد لینا صحیح نہیں)۔
سوال 6: مطلق، صریح، اقتضاء النص، حقیقتِ مہجورہ اور مفسر کی تعریف لکھیں؟
جواب: مطلق: وہ لفظ جو کسی قید کے بغیر اپنے معنی پر دلالت کرے۔ صریح: وہ لفظ جس کا معنی ظاہر ہو اور مراد سمجھنے کے لیے کسی قرینہ کی ضرورت نہ ہو۔ اقتضاء النص: وہ معنی جس کے بغیر کلام کا صدق یا شرعی اعتبار درست نہ ہو۔ حقیقتِ مہجورہ: وہ لفظ جس کا حقیقی معنی چھوڑ کر مجازی معنی عام ہو گیا ہو۔ مفسر: وہ لفظ جس میں اتنی وضاحت ہو کہ تاویل کی گنجائش نہ رہے۔

حل شدہ پرچہ: علم النحو (تیسرا پرچہ – 2024) – تنظیم المدارس

سوال نمبر 1: اعراب کی تعریف اور اقسام
سوال (الف): “الْإِعْرَابُ مَا اخْتَلَفَ آخِرُهُ بِهِ لِيَدُلَّ عَلَى الْمَعَانِي الْمُعْتَوِرَةِ عَلَيْهِ” پر اعراب، ترجمہ اور معانی معتورہ کی وضاحت کریں؟
جواب: تَرْجُمَہ: اعراب وہ (حرکت یا حرف) ہے جس کے ذریعے کلمہ کا آخر بدل جائے تاکہ وہ ان معانی پر دلالت کرے جو باری باری اس کلمہ پر آتے ہیں۔ “معانی معتورہ” سے مراد وہ معانی ہیں جو کلمہ پر بدل بدل کر آتے ہیں جیسے فاعلیت (کام کرنے والا ہونا)، مفعولیت (جس پر کام واقع ہو) اور اضافت۔
سوال (ب): مفرد منصرف، جمع مکسر منصرف، تثنیہ اور جمع مذکر سالم کا اعراب مع امثلہ لکھیں؟
جواب: (1) مفرد منصرف صحیح و جمع مکسر منصرف: حالتِ رفع میں ضمہ، نصب میں فتحہ اور جر میں کسرہ (مثال: جَاءَ رَجُلٌ/رِجَالٌ)۔ (2) تثنیہ: حالتِ رفع میں الف ماقبل مفتوح، نصب و جر میں یاء ماقبل مفتوح (مثال: رَجُلَانِ/رَجُلَيْنِ)۔ (3) جمع مذکر سالم: حالتِ رفع میں واؤ ماقبل مضموم، نصب و جر میں یاء ماقبل مکسور (مثال: مُسْلِمُوْنَ/مُسْلِمِيْنَ)۔

سوال نمبر 2: غیر منصرف کی شرائط اور کلمہ کی اقسام
سوال (الف): وصف، تانیث اور عجمہ کے غیر منصرف کا سبب بننے کی شرائط تحریر کریں؟
جواب: (1) وصف: شرط یہ ہے کہ وصف اپنی اصل وضع کے اعتبار سے ہو (مثلاً اَسْوَد)۔ (2) تانیث: اگر تانیث ‘تاء’ کے ساتھ ہو تو اس کے لیے علم (نام) ہونا شرط ہے، اور اگر ‘الفِ مقصورہ یا ممدودہ’ سے ہو تو وہ اکیلی دو اسباب کے قائم مقام ہے۔ (3) عجمہ: شرط یہ ہے کہ وہ عجمی زبان میں علم (نام) ہو اور عربی میں تین حرف سے زائد ہو یا متحرک الاوسط ہو۔
سوال (ب): اسم، فعل اور حرف میں سے ہر ایک کی تعریف اور وجہِ تسمیہ لکھیں؟
جواب: (1) اسم: وہ کلمہ جو دوسرے کلمہ کے بغیر اپنے معنی بتائے اور زمانہ نہ ہو؛ اسے اسم اس لیے کہتے ہیں کہ یہ ‘سمو’ (بلندی) سے ہے، کیونکہ یہ اپنے بھائیوں (فعل و حرف) سے بلند ہے۔ (2) فعل: جو دوسرے کے بغیر معنی بتائے اور زمانہ بھی ہو؛ اسے فعل اس لیے کہتے ہیں کہ یہ ‘فعل’ (کام) کے معنی پر دلالت کرتا ہے۔ (3) حرف: جو دوسرے کلمہ کے بغیر معنی نہ بتائے؛ اسے حرف اس لیے کہتے ہیں کہ یہ کلام کے ‘حرف’ (کنارے) پر واقع ہوتا ہے۔

سوال نمبر 3: ترخیم اور منادی
سوال (الف): ترخیم کی تعریف اور عبارت “تَرْخِيْمُ الْمُنَادَى جَائِزٌ وَفِي غَيْرِهِ ضَرُوْرَةٌ” کی ترکیب کریں؟
جواب: تعریف: تخفیف کے لیے منادی کے آخر سے ایک یا دو حرفوں کو حذف کرنا ‘ترخیم’ کہلاتا ہے (جیسے یا حارث سے یا حارِ)۔ ترکیب: ترخیمُ (مضاف) المنادیٰ (مضاف الیہ) مل کر مبتدا، جائزٌ (خبر)۔ و (حرفِ عطف) فی غیرِہ (جار مجرور مل کر متعلقِ فعلِ محذوف) ضرورتٌ (مبتدائے مؤخر)۔
سوال (ب): منادی کی تعریف اور اس کا اعراب مع امثلہ تحریر کریں؟
جواب: تعریف: وہ اسم جس کو حرفِ ندا کے ذریعے اپنی طرف متوجہ کیا جائے۔ اعراب: (1) اگر منادی مفرد معرفہ ہو تو مبنی بر ضمہ ہوگا (مثال: یَا زَیْدُ)۔ (2) اگر منادی مضاف، مشابہ مضاف یا نکرہ غیر معینہ ہو تو منصوب ہوگا (مثال: یَا عَبْدَ اللّٰہِ، یَا رَجُلًا)۔

سوال نمبر 4: غیر منصرف کا حکم اور تعریفات
سوال (الف): “حکمہ” میں ‘ہا’ ضمیر کا مرجع کیا ہے؟ نیز غیر منصرف کے منصرف ہونے کی صورتیں لکھیں؟
جواب: اس میں ‘ہا’ ضمیر کا مرجع “غیر منصرف” ہے۔ غیر منصرف دو صورتوں میں منصرف کے حکم میں (یعنی کسرہ اور تنوین قبول کرتا) ہے: (1) جب اس پر ‘الف لام’ داخل ہو جائے (مثال: فِی الْمَسَاجِدِ)۔ (2) جب وہ کسی دوسرے کلمہ کی طرف مضاف ہو جائے (مثال: فِی مَسَاجِدِکُمْ)۔
سوال (ب): مندرجہ ذیل کی تعریفات کریں: مبتدا ثانی، منادی، مفعول فیہ؟ جواب: (1) مبتدا ثانی: وہ مبتدا جو پہلے مبتدا کی خبر بننے والے جملہ کا جزو ہو (مثلاً: زیدٌ ابوہُ قائمٌ، یہاں ‘ابوہُ’ مبتدا ثانی ہے)۔ (2) منادی: حرفِ ندا کے بعد آنے والا اسم۔ (3) مفعول فیہ: وہ اسم جس میں فعل واقع ہو، خواہ وہ زمان (وقت) ہو یا مکان (جگہ)۔

حل شدہ پرچہ: منطق و عربی ادب (چوتھا پرچہ – 2024) – تنظیم المدارس

حصہ اول: منطق

سوال 1 (الف): عبارت “لَا شُغْلَ لِلْمَنْطِقِيِّ مِنْ حَيْثُ إِنَّهُ مَنْطِقِيٌّ بِبَحْثِ الْأَلْفَاظِ…” کا ترجمہ کریں۔
جواب: تَرْجُمَہ: منطقی کو بحیثیت منطقی ہونے کے الفاظ کی بحث سے کوئی سروکار نہیں ہے، بھلا یہ کیسے (ہو سکتا ہے) جبکہ یہ بحث اس کے مقصد اور غایت سے بالکل الگ ہے، لیکن اس کے باوجود اسے معانی پر دلالت کرنے والے الفاظ سے بحث کرنا ضروری ہے کیونکہ (علم کا) فائدہ دینا اور فائدہ حاصل کرنا اسی پر موقوف ہے۔
سوال 1 (ب): دلالتِ لفظیہ وضعیہ کی تینوں اقسام مع تعریفات و امثلہ لکھیں؟
جواب: (1) مطابقتی: لفظ کا اپنے پورے معنیِ موضوع لہ پر دلالت کرنا، جیسے ‘انسان’ کا ‘حیوانِ ناطق’ پر دلالت کرنا۔ (2) تضمنی: لفظ کا اپنے معنی کے جزو پر دلالت کرنا، جیسے ‘انسان’ کا صرف ‘حیوان’ پر دلالت کرنا۔ (3) التزامی: لفظ کا ایسے معنی پر دلالت کرنا جو موضوع لہ تو نہیں مگر اس کے لیے لازم ہے، جیسے ‘انسان’ کا ‘قابلِ علم’ ہونے پر دلالت کرنا۔
سوال 2 (الف): معرِّف کی تعریف، حدِ تام اور رسمِ ناقص کی تعریفات مع امثلہ لکھیں؟
جواب: معرِّف: وہ معلوم تصوری جس کے ذریعے کسی مجہول تصوری کا علم حاصل ہو۔ حدِ تام: وہ تعریف جو جنسِ قریب اور فصلِ قریب سے مل کر بنے، جیسے انسان کی تعریف ‘حیوانِ ناطق’۔ رسمِ ناقص: وہ تعریف جو صرف عرضِ خاصہ سے ہو یا جنسِ بعید اور عرضِ خاصہ سے مل کر بنے، جیسے انسان کی تعریف ‘ضاحک’ (ہنسنے والا)۔
سوال 2 (ب): متبائنان اور عموم و خصوص مطلق کی تعریف اور مثال لکھیں؟
جواب: متبائنان: وہ دو کلیاں جن کا کوئی بھی فرد ایک دوسرے پر صادق نہ آئے، جیسے ‘انسان’ اور ‘پتھر’۔ عموم و خصوص مطلق: وہ دو کلیاں جن میں سے ایک کے تمام افراد دوسری پر صادق آئیں مگر دوسری کے تمام افراد پہلی پر صادق نہ آئیں، جیسے ‘حیوان’ اور ‘انسان’ (ہر انسان حیوان ہے مگر ہر حیوان انسان نہیں)۔
سوال 3: مشکک، جنسِ عالی، عرضِ مفارق، نوعِ اضافی اور تمامِ مشترک کی تعریف لکھیں؟
جواب: (1) مشکک: وہ کلی جس کا صدق اپنے افراد پر برابر نہ ہو (جیسے ‘سفیدی’ جو برف میں زیادہ اور کاغذ میں کم ہوتی ہے)۔ (2) جنسِ عالی: وہ جنس جس کے اوپر کوئی اور جنس نہ ہو، جیسے ‘جوہر’۔ (3) عرضِ مفارق: وہ صفت جو ذات سے الگ ہو سکے، جیسے ‘کھڑا ہونا’۔ (4) نوعِ اضافی: وہ کلی جو کسی جنس کے تحت واقع ہو، جیسے ‘حیوان’ (جو جسمِ نامی کے تحت ہے)۔ (5) تمامِ مشترک: وہ جنس جو مختلف حقیقتوں کے درمیان مشترک ہو، جیسے ‘حیوان’۔

حصہ دوم: عربی ادب

سوال 4 (الف): اعجازِ قرآن کے کوئی سے پانچ اسباب تحریر کریں؟
جواب: (1) اس کی بے مثال فصاحت و بلاغت۔ (2) غیب کی خبریں دینا جو بعد میں سچ ثابت ہوئیں۔ (3) اس کے اسلوب کا انسانی کلام سے یکسر مختلف ہونا۔ (4) تضاد اور اختلاف سے پاک ہونا۔ (5) رہتی دنیا تک کے لیے ہدایت اور چیلنج (کہ اس جیسی سورت لا کر دکھاؤ)۔
سوال 4 (ب): “عہدِ رسالت میں شاعری” پر جامع نوٹ لکھیں۔
جواب: عہدِ رسالت میں شاعری کا رخ بدل گیا۔ حضور ﷺ نے ان اشعار کی حوصلہ افزائی فرمائی جو حق اور توحید پر مبنی تھے۔ حضرت حسان بن ثابت، حضرت کعب بن مالک اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم نے اپنی شاعری کو اسلام کے دفاع کے لیے وقف کر دیا، جس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ حسان کے اشعار کفار پر تیروں سے زیادہ بھاری ہیں۔
سوال 5 (الف): اشعار “وَطَوَى الْقِيَادَ…” پر اعراب لگائیں اور ترجمہ کریں۔
جواب: ترجمہ: (1) اور ان گھوڑوں کے پیٹ دوڑ کی وجہ سے ایسے سکڑ گئے جیسے حضرموت کے تاجروں کے یمنی کپڑے تہہ در تہہ لپٹے ہوتے ہیں۔ (2) اگر وہ اسے سردار مان لیں تو وہ ان کا سردار ہے، تمام جہان کا کمینہ شخص بنو تیم پر سرداری کر رہا ہے۔ (3) عظمت نے حق کے ساتھ قسم کھائی ہے کہ وہ ان کا ساتھ نہیں دے گی یہاں تک کہ ہتھیلی کے بیچ میں بال اگ آئیں (یعنی کبھی نہیں دے گی)۔
سوال 5 (ب): قراءِ سبعہ (سات مشہور قراء) میں سے پانچ کے نام لکھیں؟
جواب: (1) امام نافع مدنی۔ (2) امام عاصم کوفی۔ (3) امام ابن کثیر مکی۔ (4) امام حمزہ کوفی۔ (5) امام کسائی کوفی۔
سوال 6 (الف): عراقی شاعری کی کوئی تین خصوصیات لکھیں؟
جواب: (1) عراقی شاعری میں سیاسی رنگ بہت گہرا تھا کیونکہ وہاں خوارج، شیعہ اور امویوں کے سیاسی مراکز تھے۔ (2) اس میں فلسفیانہ اور فکری مباحث کا اثر نمایاں تھا۔ (3) اس دور میں ‘نقائض’ (ایک دوسرے کے مقابلے میں لکھی جانے والی شاعری) کا فن عراق میں عروج پر تھا۔
سوال 6 (ب): اخطل اور جریر کی شاعری پر جامع نوٹ لکھیں۔
جواب: اخطل: اموی دربار کا ملک الشعراء تھا، اس کی شاعری ٹھوس اور پروقار تھی، وہ شراب اور سیاسی مدح کے موضوعات میں ماہر تھا۔ جریر: یہ ہجویہ شاعری کا بادشاہ مانا جاتا ہے، اس کی زبان سادہ اور عوامی تھی، اس نے اپنی شاعری کے ذریعے اپنے تمام حریفوں (بشمول فرزدق) کا بھرپور مقابلہ کیا اور اسے اسلامی دور کا ایک بڑا شاعر تسلیم کیا جاتا ہے۔

حل شدہ پرچہ: سیرت و تاریخ (پانچواں پرچہ – 2024) – تنظیم المدارس

پہلا حصہ: سیرتِ طیبہ ﷺ

سوال 1 (الف): برکاتِ نورِ محمدی ﷺ اور رضاعت پر مختصر مضمون تحریر کریں۔
جواب: نورِ محمدی ﷺ تمام کائنات کی اصل ہے جس کی برکت سے دنیا روشن ہوئی؛ ایامِ رضاعت میں یہ برکات حضرت حلیمہ سعدیہ کے گھر ظاہر ہوئیں، ان کی بکریاں کثیر دودھ دینے لگیں اور بنجر زمین سرسبز ہوگئی۔
سوال 1 (ب): حضور ﷺ کے سفرِ شام (پہلا اور دوسرا) تحریر کریں۔
جواب: پہلا سفر بارہ سال کی عمر میں اپنے چچا ابوطالب کے ساتھ کیا جہاں بحیرا راہب نے علامات دیکھ کر نبوت کی پہچان کی؛ دوسرا سفر پچیس سال کی عمر میں حضرت خدیجہ کا مالِ تجارت لے کر کیا جس میں میسرہ غلام آپ ﷺ کے ساتھ تھا۔
سوال 2 (الف): حالاتِ بعثت و آغازِ دعوت پر مختصر مگر جامع معلومات رقم کریں۔
جواب: غارِ حرا میں چالیس سال کی عمر میں پہلی وحی (سورہ علق) نازل ہوئی؛ اس کے بعد آپ ﷺ نے خفیہ دعوت کا آغاز کیا جس میں سب سے پہلے حضرت خدیجہ، حضرت ابوبکر، حضرت علی اور حضرت زید بن حارثہ ایمان لائے۔
سوال 2 (ب): تعمیرِ مسجدِ قباء کے احوال سیرتِ رسولِ عربی کی روشنی میں لکھیں۔
جواب: ہجرتِ مدینہ کے دوران آپ ﷺ نے “قباء” کے مقام پر قیام فرمایا اور وہاں اسلام کی پہلی مسجد (مسجدِ قباء) کی بنیاد رکھی جس کی تعمیر میں آپ ﷺ نے صحابہ کے ساتھ خود پتھر اٹھا کر حصہ لیا۔
سوال 3 (الف): غزوہ ذی قرد اور غزوہ حنین کے بارے میں اپنی معلومات لکھیں۔
جواب: غزوہ ذی قرد بنو فزارہ کے خلاف تھا جنہوں نے مدینہ کی چراگاہ پر حملہ کیا تھا؛ غزوہ حنین فتحِ مکہ کے بعد بنو ہوازن اور ثقیف کے خلاف ہوا جس میں اللہ نے مسلمانوں کو ابتدائی پریشانی کے بعد عظیم فتح عطا فرمائی۔
سوال 3 (ب): “مواخات” کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟ تحریر کریں۔
جواب: مدینہ منورہ پہنچ کر آپ ﷺ نے مہاجرین اور انصار کے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا جسے مواخات کہتے ہیں، انصار نے اپنے مہاجر بھائیوں کو اپنے گھروں، مال اور جائیداد میں برابر کا شریک بنایا۔

دوسرا حصہ: تاریخِ اسلام

سوال 4 (الف): حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا نام اور لقب کے بارے میں معلومات تحریر کریں۔
جواب: آپ کا اصل نام “عبداللہ” ہے؛ آپ کے مشہور القاب “صدیق” (معراج کی تصدیق پر ملا) اور “عتیق” (جسے اللہ نے جہنم کی آگ سے آزاد کر دیا ہو) ہیں۔
سوال 4 (ب): واقعاتِ خلافتِ صدیق اور اولیاتِ ابوبکر پر مختصر مضمون تحریر کریں۔
جواب: آپ کی خلافت کا اہم ترین واقعہ فتنہ ارتداد اور منکرینِ زکوٰۃ کا خاتمہ ہے؛ اولیات میں سب سے پہلے قرآن مجید کو ایک جگہ جمع کروانا اور اسلام کا پہلا باقاعدہ خلیفہ بننا شامل ہے۔
سوال 5 (الف): شہادتِ عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور اولیاتِ ذوالنورین پر نوٹ لکھیں۔
جواب: آپ رضی اللہ عنہ کو باغیوں نے چالیس دن تک محصور رکھنے کے بعد جمعہ کے دن تلاوتِ قرآن کرتے ہوئے شہید کیا؛ آپ کی اولیات میں سے قرآن مجید کو ایک لہجے پر جمع کرنا اور بحری بیڑا تیار کرنا نمایاں ہیں۔
سوال 5 (ب): موافقاتِ حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر جامع شذرہ سپردِ قلم کریں۔
جواب: موافقاتِ عمر سے مراد وہ مقامات ہیں جہاں حضرت عمر نے کوئی رائے دی اور اللہ تعالیٰ نے اس کی تائید میں قرآن نازل فرمایا، جیسے پردہ کا حکم، مقامِ ابراہیم کو مصلیٰ بنانا اور قیدیانِ بدر کے بارے میں رائے۔
سوال 6 (الف): حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی اخبار، قضایا اور کلماتِ حکمت پر مضمون لکھیں۔
جواب: حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے پیچیدہ عدالتی فیصلوں (قضایا) کی وجہ سے مشہور تھے؛ آپ کے کلماتِ حکمت علم و فصاحت کا سمندر ہیں جیسے “صبر ایمان کے لیے ایسا ہے جیسے جسم کے لیے سر”۔
سوال 6 (ب): خلفاء راشدین کے ادوارِ خلافت بالترتیب لکھیں۔
واب: (1) حضرت ابوبکر صدیق (2 سال 3 ماہ)، (2) حضرت عمر فاروق (10 سال 6 ماہ)، (3) حضرت عثمان غنی (12 سال)، (4) حضرت علی مرتضیٰ (4 سال 9 ماہ)۔

One Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *