Tanzeem ul Madaris Solved Past Paper 2024 | PDF (طلباء کے لیے) عامہ سال دوم

Paper: تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان 

الشہادۃ الثانویۃ العامۃ (میٹرک سال دوم)

2024 پہلا پرچہ: قرآن مجید و فقہ


پہلا حصہ: ترجمۃ القرآن

سوال نمبر 1: مندرجہ ذیل آیات کا سلیس اردو میں ترجمہ کریں۔
(1) كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِبَنِي إِسْرَائِيلَ إِلَّا مَا حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَى نَفْسِهِ…
ترجمہ: بنی اسرائیل کے لیے کھانے کی تمام چیزیں حلال تھیں سوائے ان کے جو اسرائیل (حضرت یعقوب علیہ السلام) نے تورات نازل ہونے سے پہلے خود پر حرام کر لی تھیں۔ تم فرما دو کہ اگر تم سچے ہو تو تورات لاؤ اور اسے پڑھو۔
(2) وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ…
ترجمہ: اور اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ (گروہ بندی) نہ ڈالو، اور اللہ کے اس احسان کو یاد کرو جو اس نے تم پر کیا جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کر دی، پھر تم اس کے فضل سے بھائی بھائی بن گئے۔
(3) يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ…
ترجمہ: اے ایمان والو! دوگنا اور چوگنا کر کے سود نہ کھاؤ، اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ اور اس آگ سے ڈرو جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔
(4) يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ أُحِلَّتْ لَكُمْ بَهِيمَةُ الْأَنْعَامِ…
ترجمہ: اے ایمان والو! اپنے عہد و پیمان پورے کرو۔ تمہارے لیے چوپائے جانور حلال کر دیے گئے ہیں سوائے ان کے جو تمہیں پڑھ کر سنائے جاتے ہیں، مگر احرام کی حالت میں شکار کو حلال نہ جانو۔ بیشک اللہ جو چاہتا ہے حکم فرماتا ہے۔
(5) وَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَمِيثَاقَهُ الَّذِي وَاثَقَكُم بِهِ إِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا…
ترجمہ: اور اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جو تم پر ہوئی اور اس عہد کو بھی جس کا اس نے تم سے پختہ وعدہ لیا جب تم نے کہا تھا کہ “ہم نے سنا اور اطاعت کی”، اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ دلوں کے بھید جاننے والا ہے۔
(6) يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًا مِّمَّا كُنتُمْ تُخْفُونَ مِنَ الْكِتَابِ…
ترجمہ: اے اہلِ کتاب! بیشک تمہارے پاس ہمارا یہ رسول تشریف لایا جو تمہارے سامنے کتاب کی بہت سی وہ باتیں ظاہر فرماتا ہے جو تم چھپاتے تھے اور بہت سی معاف فرما دیتا ہے۔ بیشک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور (نبی کریم ﷺ) اور روشن کتاب آئی ہے۔
(7) وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ ابْنَيْ آدَمَ بِالْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ أَحَدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الْآخَرِ…
ترجمہ: اور انہیں آدم کے دو بیٹوں (ہابیل و قابیل) کا سچا حال سناؤ، جب دونوں نے ایک ایک قربانی پیش کی تو ان میں سے ایک کی قبول ہوئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی، (دوسرے نے) کہا: “میں تجھے ضرور قتل کر دوں گا”، (پہلے نے) کہا: “اللہ تو صرف پرہیزگاروں ہی سے قبول فرماتا ہے”۔

سوال نمبر 2: دس الفاظ کے معانی:
  1. قرح: زخم / چوٹ۔
  2. أَضْعَافًا مُضَاعَفَة: دوگنا چوگنا۔
  3. سائبة: وہ اونٹنی جسے بتوں کے نام پر آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا۔
  4. غَلِيظَ الْقَلْب: سخت دل والا۔
  5. مغانِمَ كَثِيرَة: بہت سی غنیمتیں۔
  6. حفرة: گڑھا۔
  7. رهبانا: درویش / تارکِ دنیا۔
  8. بطانة: راز دار / قریبی دوست۔
  9. نقیرا: کھجور کی گٹھلی کے پشت کا گڑھا (معمولی چیز)۔
  10. فِسْق: نافرمانی۔

دوسرا حصہ: فقہ
سوال نمبر 3: (الف) اعراب اور ترجمہ: عبارت: وَلَا تَنْجُسُ الْبِئْرُ بِالْبَعْرِ وَالرَّوْثِ وَالْخَثْيِ إِلَّا أَنْ يَسْتَكْثِرَهُ النَّاظِرُ أَوْ أَنْ لَا يَخْلُوَ دَلْوٌ عَنْ بَعْرَةٍ وَلَا يَفْسُدُ الْمَاءُ بِخُرْءِ حَمَامٍ وَعُصْفُوْرٍ وَلَا بِمَوْتِ مَا لَا دَمَ لَه فِیْہِ كَسَمَكٍ وَ ضِفْدَعٍ۔
ترجمہ: کنواں مینگنی، لید اور گوبر گرنے سے ناپاک نہیں ہوتا مگر یہ کہ دیکھنے والا اسے زیادہ خیال کرے یا یہ کہ کوئی ڈول مینگنی سے خالی نہ رہے، اور کبوتر و چڑیا کی بیٹ سے پانی فاسد نہیں ہوتا، اور نہ ہی اس جانور کے مرنے سے جس میں بہنے والا خون نہیں ہوتا جیسے مچھلی اور مینڈک۔
(ب) وضو کی پانچ سنتیں: 1. مسواک کرنا۔ 2. تین بار ہاتھ دھونا۔ 3. تین بار کلی کرنا۔ 4. تین بار ناک میں پانی ڈالنا۔ 5. ڈاڑھی کا خلال کرنا۔
سوال نمبر 4: (الف) ترجمہ و خط کشیدہ کی وضاحت:
ترجمہ: نمدے (قالین) پر نماز جائز ہے جس کی اوپر کی سطح پاک ہو اگرچہ نیچے کی سطح ناپاک ہو، اور ایسے پاک کپڑے پر بھی جس کا استر (بطانہ) ناپاک ہو بشرطیکہ وہ سِلا ہوا نہ ہو (کپڑا اور استر الگ ہوں)۔ وضاحت: “بطانتہ نجستہ” سے مراد کپڑے کی وہ نچلی تہہ ہے جو اوپر والی تہہ سے جڑی ہوئی نہ ہو (جیسے ڈبل کپڑا)۔ اگر وہ آپس میں اس طرح جڑے ہوں کہ ایک کو ہلانے سے دوسرا ہلے تو حکم بدل جاتا ہے۔
(ب) تیمم کی پانچ شرطیں: 1. نیت کرنا۔ 2. مٹی کا پاک ہونا۔ 3. عذر کا پایا جانا (پانی نہ ہونا یا بیماری)۔ 4. مسح کا پورے عضو (چہرے اور ہاتھوں) کو گھیرنا۔ 5. مٹی کا زمین کی جنس سے ہونا۔
سوال نمبر 5: (الف) جماعت چھوڑنے کے پانچ عذر: 1
. بیماری۔ 2. سخت بارش۔ 3. شدید کیچڑ۔ 4. اندھا ہونا۔ 5. اپاہج ہونا۔ (ب) جمعہ فرض ہونے کی پانچ شرطیں: 1. شہر یا فنائے شہر کا ہونا۔ 2. بادشاہ یا اس کا نائب (حاکم) ہونا۔ 3. وقتِ ظہر ہونا۔ 4. خطبہ ہونا۔ 5. جماعت کا ہونا۔

Paper: تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان

الشہادۃ الثانویۃ العامۃ (میٹرک سال دوم)

2024 دوسرا پرچہ: صرف (علم الصرف)


حل شدہ پرچہ

سوال نمبر 1: (الف) اسماء مشتقہ:
  • بصریین کے نزدیک:
  • اسماء مشتقہ سات ہیں (اسم فاعل، اسم مفعول، اسم صفت مشبہ، اسم تفضیل، اسم مبالغہ، اسم ظرف، اور اسم آلہ)۔ بصریین کے نزدیک مشتق کا اصل “مصدر” ہے۔
  • کوفیین کے نزدیک:
  • مشتق کا اصل “فعل” ہے، ان کے نزدیک اسماء مشتقہ کی تعداد میں تھوڑا اختلاف ہے مگر مشہور وہی سات ہیں۔
  • اسم فاعل کی تعریف و گردان:
  • وہ اسم جو اس ذات پر دلالت کرے جس سے فعل صادر ہو۔ گردان: نَاصِرٌ، نَاصِرَانِ، نَاصِرُوْنَ، نَاصِرَةٌ، نَاصِرَتَانِ، نَاصِرَاتٌ۔
(ب) حروف کے اعتبار سے فعل کی اقسام:

 

حروف کی تعداد اور اصلیت کے اعتبار سے فعل کی چار بنیادی اقسام ہیں:
  1. ثلاثی مجرد (تین حروفِ اصلی)
  2. ثلاثی مزید فیہ (تین اصلی + زائد)
  3. رباعی مجرد (چار حروفِ اصلی)
  4. رباعی مزید فیہ (چار اصلی + زائد)
(ج) رباعی کے ابواب کے نام:

 

  • رباعی مجرد: اس کا ایک ہی باب ہے: بَابُ فَعْلَلَةٍ (جیسے دَحْرَجَةٌ)۔
  • رباعی مزید فیہ: اس کے مشہور ابواب: تَفَعْلُلٌ (جیسے تَدَحْرُجٌ)، اِفْعِنْلَالٌ (جیسے اِحْرِنْجَامٌ)، اور اِفْعِلَّالٌ (جیسے اِقْشِعْرَارٌ)۔

سوال نمبر 2: (الف) الرقی مصدر (چڑھنا) سے فعل مضارع مجہول کی گردان مع ترجمہ:

 

  • يُرْقٰی (وہ ایک مرد چڑھایا جاتا ہے/جائے گا)
  • يُرْقَيَانِ، يُرْقَوْنَ، تُرْقٰی، تُرْقَيَانِ، يُرْقَيْنَ، تُرْقٰی، تُرْقَيَانِ، تُرْقَوْنَ، تُرْقَيْنَ، تُرْقَيَانِ، تُرْقَيْنَ، أُرْقٰی، نُرْقٰی۔
(ب) صیغوں کا حل:
  1. اِرْعَوٰی: (سہ: فعل ماضی) (شش: ثلاثی مزید) (ہفت: ناقص یائی) (باب: افعِلال)۔ تعلیل: اصل میں “اِرْعَوایا” تھا، یاء متحرک ماقبل مفتوح کو الف سے بدلا۔
  2. مَقُوْلٌ: (سہ: اسم مفعول) (شش: ثلاثی مجرد) (ہفت: اجوف واوی) (باب: نَصَرَ)۔ تعلیل: اصل میں “مَقْوُوْلٌ” تھا، واو کی حرکت ماقبل کو دی، دو ساکن جمع ہوئے، ایک واو گر گیا۔
  3. مُدَّعًی: (سہ: اسم مفعول) (شش: ثلاثی مزید) (ہفت: ناقص یائی) (باب: افتعال)۔ تعلیل: دال اور تاء جمع ہوئے، تاء کو دال کر کے ادغام کیا۔

سوال نمبر 3: (الف) اجتماعِ ساکنین:
دو ساکن حروف کا ایک کلمہ یا دو کلموں میں اکٹھا ہونا۔
  1. اجتماع علیٰ حدہ:
  2. اگر پہلا حرف مدہ اور دوسرا مدغم ہو (جیسے ضَالِّین)۔ یہ جائز ہے۔
  3. اجتماع علیٰ غیر حدہ:
  4. اگر پہلا حرف مدہ نہ ہو یا دوسرا مدغم نہ ہو۔ قاعدہ: اگر پہلا حرفِ علت ہو تو اسے گرا دیتے ہیں (جیسے قُلْ اصل میں قُوْل تھا)، اگر حرفِ صحیح ہو تو اسے کسرہ (زیر) دے دیتے ہیں۔
(ب) مَقْرُوْوَةٌ، أَئِمَّةٌ، یَسْلُ کی اصل:
  • مَقْرُوْوَةٌ:
  • اصل میں مَقْرُوْئَةٌ تھی (اسم مفعول)۔
  • أَئِمَّةٌ: اصل میں أَأْمِمَةٌ تھی۔
  • دوسرے ہمزہ کو یاء سے بدلا گیا (تخفیف کے لیے)۔
  • يَسْلُ: اصل میں یَسْئَلُ تھا۔
  • ہمزہ کی حرکت ماقبل کو دے کر ہمزہ گرا دیا گیا (یَسَلُ)۔

سوال نمبر 4: (چار اجزا)
  1. بابِ فتح کے خواص:
  2. (1) اس کی عین یا لام کلمہ میں حروفِ حلقی کا ہونا ضروری ہے (جیسے فَتَحَ)۔ (2) اکثر متعدی ہوتا ہے۔
  3. بابِ افتعال کے خواص:
  4. (1) مطاوعت: اثر قبول کرنا (جیسے جَمَعْتُہُ فَاجْتَمَعَ)۔ (2) اتخاذ: بنانا (جیسے اِخْتَبَزَ – روٹی بنانا)۔
  5. بابِ مفاعلہ کے خواص:
  6. (1) مشارکت: دو افراد کا ایک کام میں شریک ہونا۔ (2) موالات: کام کا پے در پے کرنا۔
  7. خاصیات اور ام الابواب:
    • خاصیات: ابواب کے وہ مخصوص معانی جو ایک باب کو دوسرے سے ممتاز کریں۔
    • ام الابواب: صرفِ صغیر میں ثلاثی مجرد کے ابواب (نصر، ضرب، سمع وغیرہ) کو ام الابواب کہا جاتا ہے کیونکہ اکثر الفاظ انہی سے نکلتے ہیں۔

حل شدہ پرچہ: نحو

(تیسرا پرچہ – 2024)  

-تنظیم المدارس

حصہ اول: ہدایۃ النحو

اسم معرب کی تعریف اور مثال لکھیں۔
وہ اسم جس کا آخر عامل کے بدلنے سے بدل جائے، جیسے: جَاءَ زَیْدٌ، رَاَیْتُ زَیْدًا، مَرَرْتُ بِـزَیْدٍ۔
اسم معرب کا حکم لکھیں اور مثال سے وضاحت کریں۔
اس کا حکم یہ ہے کہ اس کا آخر عامل کے بدلنے سے لفظاً یا تقدیرًا بدلتا رہتا ہے، جیسے ‘جاء القاضی’ میں رفع تقدیرًا ہے۔
اعراب اور عامل کی تعریف لکھ کر دونوں کی امثلہ لکھیں۔
اعراب وہ حرکت یا حرف ہے جو کلمہ کے آخر میں آئے (جیسے ضمہ)، اور عامل وہ ہے جو اعراب بدلنے کا سبب بنے (جیسے ‘جاء’ عامل ہے)۔
عبارت “الكلام لفظ تضمن كلمتين…” پر اعراب لگا کر سلیس اردو میں ترجمہ کریں۔
تَرْجُمَہ: کلام وہ لفظ ہے جو اسناد کے ساتھ دو کلموں پر مشتمل ہو، اور اسناد ایک کلمے کی دوسرے کی طرف ایسی نسبت ہے کہ مخاطب کو پورا فائدہ حاصل ہو اور بات مکمل ہو جائے۔
غیر منصرف کی تعریف لکھ کر اس کے اسباب تحریر کریں۔
وہ اسم جس پر کسرہ اور تنوین نہ آئے؛ اس کے نو اسباب ہیں: عدل، وصف، تانیث، معرفہ، عجمہ، جمع، ترکیب، الف نون زائدتان، وزنِ فعل۔
اسم منقوص اور جاری مجری صحیح کی تعریف لکھیں۔
منقوص: وہ اسم جس کے آخر میں یاء ساکن ماقبل مکسور ہو (جیسے القاضِی)؛ جاری مجری صحیح: جس کے آخر میں واؤ یا یاء ماقبل ساکن ہو (جیسے دَلْوٌ
تاکید، تابع، معرفہ، بدل الکل، مفعول معہ، مفعول مطلق، فاعل کی تعریفات اور امثلہ تحریر کریں۔
تابع: وہ جس کا اعراب ماقبل کے مطابق ہو (جیسے رجلٌ عالمٌ)؛ تاکید: جو شک دور کرے (جیسے کُلُّھُمْ)؛ مفعول مطلق: فعل کے بعد اسی مصدر کا ذکر (جیسے ضَرَبْتُ ضَرْبًا)۔

حصہ دوم: شرح مائۃ عامل
لائے نفی جنس کے عمل کی تمام صورتیں مع امثلہ لکھیں۔
اگر اسم نکرہ مفرد ہو تو مبنی بر فتح ہوگا (لَا رَجُلَ فِی الدَّارِ)، اور اگر مضاف ہو تو منصوب ہوگا (لَا غُلَامَ رَجُلٍ فِی الدَّارِ)۔
حروفِ جارہ میں سے لام کے معانی مع امثلہ لکھیں۔
لام کا ایک معنی اختصاص (ملکیت) ہے، جیسے: اَلْمَالُ لِــزَیْدٍ؛ اور ایک معنی تعلیل (وجہ) ہے، جیسے: ضَرَبْتُہٗ لِــتَاْدِیْبٍ۔
“حروف تنصب الاسم فقط” اعراب لگا کر ترکیب نحوی سپرد قلم کریں۔
حروفُ: مضاف، تَنْصِبُ: فعل، اَلْاِسْمَ: مفعول بہ، فَقَطْ: اسم فعل، یہ مل کر ‘حروف’ کی صفت بنیں گے اور جملہ اسمیہ ہوا۔
“اعلم ان العوامل فی النحو مائة” اعراب لگا کر ترکیب نحوی قلمبند کریں۔
اِعْلَمْ: فعل امر و فاعل، اَنَّ: حرفِ مشبہ بالفعل، اَلْعَوَامِلَ: اسم، فِی النَّحْوِ: متعلقِ خبر، مِائَۃٌ: خبر، اَنَّ اپنے اسم و خبر سے مل کر مفعول ہوا۔
“لا تأكلوا اموالهم الى اموالکم” اعراب لگا کر ترکیب نحوی زینت قرطاس کریں۔
لَا تَاکُلُوْا: فعلِ نہی و فاعل، اَمْوَالَ: مضاف، ھُمْ: مضاف الیہ (مفعول بہ)، اِلٰی: حرفِ جر، اَمْوَالِ: مضاف، کُمْ: مضاف الیہ، جار مجرور متعلقِ فعل۔
“ورب للتقليل ولا يكون مجرورها الانكرة موصوفة”
اعراب لگا کر ترکیب نحوی تحریر کریں۔ رُبَّ: مبتدا، لِلتَّقْلِیْلِ: خبر؛ لَا یَکُوْنُ: فعلِ ناقص، مَجْرُوْرُ: اسم، نَکِرَۃً مَوْصُوْفَۃً: خبر، فعلِ ناقص اپنے اسم و خبر سے مل کر جملہ ہوا۔

Paper: تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان

الشہادۃ الثانویۃ العامۃ (میٹرک سال دوم) 

2024 چوتھا پرچہ: عربی ادب و منطق


حصہ اول: عربی ادب

سوال نمبر 1: درج ذیل میں سے دو اجزا کا سلیس اردو میں ترجمہ کریں۔
(الف) کان قد بایع رسول اللہ ﷺ عدد من رجال الأوس والخزرج…
ترجمہ: اوس اور خزرج کے بہت سے مردوں اور عورتوں نے بیعتِ عقبہ اولیٰ اور ثانیہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کی بیعت کی تھی اور آپ ﷺ سے عہد کیا تھا کہ وہ آپ ﷺ کی حفاظت اور دفاع کریں گے۔ قریش کو جب اس کا علم ہوا تو وہ غصے میں آگئے اور انہوں نے آپ ﷺ کو شہید کرنے کی سازش تیار کی۔ پس اللہ نے آپ ﷺ کو بچا لیا اور آپ ﷺ نے اپنے مہربان ساتھی اور وفادار رفیق حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ یثرب (مدینہ) کی طرف ہجرت فرمائی۔
(ج) هل لکم حقول وزروع أیضا؟ نعم نملک أراضی زراعیة کثیرة الخیرات…
ترجمہ: کیا تمہارے پاس کھیت اور فصلیں بھی ہیں؟ جی ہاں، ہم بہت سی خیر و برکت والی زرعی زمینوں کے مالک ہیں جو گندم، چاول اور سبزیاں پیدا کرتی ہیں۔ میرے والد انجینئر ہیں جو کویت میں کام کرتے ہیں، اور میری والدہ اور چھوٹا بھائی ان کے ساتھ رہتے ہیں۔ میرا گھر نو کمروں پر مشتمل ہے اور ہر ایک کے ساتھ بیت الخلا (دوارۃ المیاہ) ہے۔

سوال نمبر 2: درج ذیل میں سے دو کا اردو میں ترجمہ کریں۔
(الف) ومن الذی أدعو وأھتف بإسمہ إن کان فضلك عن فقیر یمنع…
ترجمہ: اور وہ کون ہے جسے میں پکاروں اور اس کے نام کی صدا لگاؤں اگر تیرا فضل مجھ فقیر سے روک دیا جائے؟ یہ ناممکن ہے کہ تو کسی گناہگار کو ناامید کر دے، تیرا فضل بہت بڑا اور تیری عطائیں بہت وسیع ہیں۔
(ب) وإنا قد أتیناھم بزحف یحیط بسور حصنھم صفوفا…
ترجمہ: اور بیشک ہم ان کے پاس ایک ایسے لشکر کے ساتھ آئے جس نے صف در صف ان کے قلعے کی دیوار کا محاصرہ کر لیا۔ ان کے سردار نبی کریم ﷺ تھے جو کہ (حق پر) سخت، پاک دل، صبر کرنے والے اور دنیا سے بے رغبت تھے۔

سوال نمبر 3: درج ذیل میں سے پانچ جملوں کی عربی بنائیں۔
  1. اس نے کنویں میں اتر کر پانی پیا۔ نَزَلَ فِي الْبِئْرِ وَشَرِبَ الْمَاءَ۔
  2. اس گھر میں جدید سہولیات دستیاب ہیں۔ تَتَوَفَّرُ فِي هٰذَا الْبَيْتِ التَّسْهِيْلَاتُ الْحَدِيْثَةُ۔
  3. مجھے مور اور اس کا ناچ بہت پسند ہے۔ يُعْجِبُنِي الطَّاوُوْسُ وَرَقْصُهُ كَثِيْراً۔
  4. آدھی رات کو تھانیدار جاگیردار کے پاس سے گزرا۔ مَرَّ الْمُفَتِّشُ بِالْإِقْطَاعِيِّ فِي نِصْفِ اللَّيْلِ۔
  5. سیرتِ محمد ﷺ ہماری امیدوں کی جان ہے۔ سِيْرَةُ مُحَمَّدٍ ﷺ رُوْحُ آمَالِنَا۔

حصہ دوم: منطق
سوال نمبر 4: (الف) کلی متواطی اور مشکک:
  • متواطی:
  • وہ کلی جس کا مفہوم اپنے تمام افراد پر برابر صادق آئے (جیسے ‘انسان’ کا مفہوم زید اور بکر پر برابر ہے)۔
  • مشکک:
  • وہ کلی جس کا مفہوم اپنے افراد پر برابر صادق نہ آئے بلکہ کمی بیشی ہو (جیسے ‘سفیدی’ کاغذ میں زیادہ اور کپڑے میں کم ہو سکتی ہے)۔
(ب) مرکب کی اقسام:
  1. مرکبِ تام:
  2. جس سے بات پوری سمجھ آ جائے (جیسے: زید کھڑا ہے)۔
  3. مرکبِ ناقص:
  4. جس سے بات پوری سمجھ نہ آئے (جیسے: نیک لڑکا)۔
سوال نمبر 5: (الف) تقدم کی اقسام اور تصور کا تصدیق پر مقدم ہونا:
  • اقسام:
  • تقدم بالطبع، تقدم بالزمان، تقدم بالرتبہ، تقدم بالشرف، تقدم بالذات۔
  • وجہ:
  • تصدیق میں نسبت کا حکم لگایا جاتا ہے، اور حکم لگانے کے لیے پہلے ان چیزوں کا ذہن میں ہونا ضروری ہے، اس لیے تصور تصدیق پر مقدم ہے۔
(ب) کُل کی تعریف اور اقسام:
  • تعریف:
  • وہ مجموعہ جو اپنے اجزاء سے مل کر بنے۔
  • اقسام:
  • کلِ مجموعی اور کلِ افرادی۔
سوال نمبر 6: تعریفات (پانچ مطلوب ہیں):
  1. دلالتِ لفظیہ:
  2. جب رہنمائی کرنے والی چیز لفظ ہو (مثلاً لفظ ‘قلم’ سن کر لکھنے والی چیز کا ذہن میں آنا)۔
  3. فصل:
  4. وہ کلی جو اپنی حقیقت میں شریک چیزوں میں تمیز (فرق) پیدا کرے (جیسے انسان کے لیے ‘ناطق’)۔
  5. خاصہ:
  6. وہ کلی عرضی جو صرف ایک ہی حقیقت کے افراد کے لیے خاص ہو (جیسے انسان کے لیے ‘ہنسنا’)۔
  7. مفہوم:
  8. وہ صورت جو کسی چیز کے مقابلے میں عقل میں آئے۔
  9. تصدیق:
  10. نسبتِ خبریہ کے وقوع یا عدمِ وقوع کا اذعان (یقین) کر لینا۔

Paper: تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان 

الشہادۃ الثانویۃ العامۃ (میٹرک سال دوم)

2024 پانچواں پرچہ: حساب (Math)


حل شدہ پرچہ

سوال نمبر 1: (الف) درج ذیل فی صد کو کسروں میں تبدیل کریں۔
  1. 75%:
  2. 25%:
  3. 48%:
  4. :
  5. :
(ب) درج ذیل اعشاریہ کو فی صد میں تبدیل کریں۔
  1. 0.9:
  2. 1.72:
  3. 0.22:
  4. 1.58:
  5. 2.64:

سوال نمبر 2: پرندوں کی نسبت معلوم کریں۔
کل پرندے = 12 | طوطے = 6 | چڑیاں = 2 کبوتروں کی تعداد = کل پرندے – (طوطے + چڑیاں)
  1. کبوتروں اور چڑیوں میں نسبت:
  2. کبوتروں اور کل پرندوں میں نسبت:

سوال نمبر 3: میچ ہارنے کی فیصد معلوم کریں۔
جیتے گئے میچ = 62% | برابر رہنے والے میچ = 26% کھیلے گئے کل میچ = 100% ہارے گئے میچ =

سوال نمبر 4: 6 روپے اور 72 روپے فی درجن کے درمیان نسبت۔
پہلی رقم = 6 روپے دوسری رقم (فی عدد) = روپے نسبت:

سوال نمبر 5: گاڑی کی رفتار معلوم کریں
(تناسبِ معکوس) رفتار: 45 کلومیٹر | وقت: 5 گھنٹے 3 گھنٹے (وقت کم کرنے کے لیے رفتار بڑھانی پڑے گی، اس لیے یہ تناسبِ معکوس ہے) کلومیٹر فی گھنٹہ

سوال نمبر 6: زکوٰۃ معلوم کیجیے۔ ک
ل مالیت = 3,000,000 روپے زکوٰۃ کی شرح = 2.5% (یا چالیسواں حصہ) زکوٰۃ = روپے

سوال نمبر 7: وراثت (بیوہ کا حصہ)
کل ترکہ = 400,000 روپے چونکہ اولاد نہیں ہے، اس لیے بیوہ کا حصہ چوتھائی (1/4) ہوگا۔ بیوہ کا حصہ = روپے

English Paper – 2024 

Q.1: Translate any one of the following into Urdu.
When Hazrat Muhammad was thirty eight years of age,he spent most of his
time in solitude and meditation. In the cave of Hira, he used to retire with food and
water and spend days and weeks in remembrance of Allah Almighty
Answer (a): جب حضرت محمد ﷺ اڑتیس برس کے ہوئے تو وہ اپنا زیادہ تر وقت تنہائی اور مراقبے میں گزارتے تھے۔ غارِ حرا میں آپ ﷺ کھانا اور پانی لے کر گوشہ نشین ہو جاتے اور اللہ تعالیٰ کی یاد میں دن اور ہفتے گزارتے تھے۔
(b) On the night of the migration, a tribal chief of disbelievers, Abu Jehl,in a fit of fury
headed towards Hazrat Abu Bakr Siddique’s
door violently. Addressing Hazrat Asma
home. He began knocking at the
he demanded, “Where is your father?”
Answer (b): ہجرت کی رات، کفار کا ایک قبائلی سردار ابوجہل، غصے کی حالت میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف بڑھا، اس نے زور زور سے دروازہ کھٹکھٹانا شروع کر دیا۔ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مخاطب ہو کر اس نے مطالبہ کیا کہ “تمہارا باپ کہاں ہے؟”

 

(c) “Patriotism, therefore is not just a feeling, it is a live spirit that continuously inspire and guides a nation. In the words of S.W.Scott, a man devoid of patriotic spirit, is like the one who: Breathes there the man with soul so dead.”
جواب (ترجمہ): چنانچہ، حب الوطنی محض ایک احساس نہیں ہے، بلکہ یہ ایک زندہ جذبہ ہے جو مسلسل ایک قوم کو تحریک دیتا اور اس کی رہنمائی کرتا ہے۔ سر والٹر سکاٹ (S.W.Scott) کے الفاظ میں، وہ شخص جو حب الوطنی کے جذبے سے محروم ہے، بالکل اس شخص کی طرح ہے جس کی روح اس قدر مردہ ہو چکی ہو کہ (وہ زندہ تو نظر آتا ہے مگر حقیقت میں مردہ ہے)۔
Q.2: Write an essay of 120 words on any one of the following:
(a) My Jamia. Answer: The name of my Jamia is [Insert Name]. It is a great center of Islamic learning. The building of my Jamia is very beautiful and grand. It has many classrooms, a big hall, and a library. There is also a beautiful mosque where we offer prayers five times a day. Our teachers are very kind, hardworking, and pious. They teach us the Holy Quran, Hadith, and modern subjects. They also focus on our moral training (Tarbiyah). Students from different cities come here to seek knowledge. The environment is very peaceful and religious. I am proud of my Jamia because it is preparing us for both this world and the hereafter.
Q.3: Use any three of the following words in your own sentences.
Answer (i) Motherland: We should always be ready to defend our motherland.
Answer (ii) Sacrifice: Hazrat Asma (RA) made a great sacrifice for the cause of Islam.
Answer (iii) Generous: Hazrat Ayesha (RA) was so generous that she gave away all her money to the poor.
Q.4: Write an application to the principal for Sick leave.
Answer: To, The Principal, Jamia [Name], [City]. Subject: Application for Sick Leave. Respected Sir, It is stated with due respect that I am suffering from high fever and a bad cold. My doctor has advised me to take complete rest for two days. Therefore, I cannot attend the Jamia. Kindly grant me leave for two days from [Date] to [Date]. I shall be very thankful to you. Yours obediently, [Your Name], Roll No: [Number].
Q.5: Answer any five of the following.
 (i) Why was the Holy Quran sent in Arabic?
Answer: The Holy Quran was sent in Arabic because it is a language of great eloquence, power, and expression.
 (ii) How will you define Patriotism?
Answer: Patriotism means love for the motherland or devotion to one’s own country.
(iii) Who was Hazrat Abdullah bin Zubair?
Answer: He was the son of Hazrat Asma (RA) and Hazrat Zubair bin al-Awwam (RA).
 (iv) Why was Hazrat Abu Quhaffa worried?
Answer: He was worried because he thought that Hazrat Abu Bakr (RA) had taken all the wealth with him, leaving the children empty-handed.
(v) What type of land Arabia is?
Answer: Arabia is a land of unparalleled charm and beauty, with trackless deserts of sand dunes.
Q.6: Translate any five of the following sentences into English.
لاہور ایک مشہور شہر ہے۔
Lahore is a famous city.
تم نماز کیوں نہیں پڑھتے؟
Why do you not offer prayer?
وہ کھانا کھا رہا ہو گا۔
He will be eating food.
کیا تم نے مینارِ پاکستان دیکھا ہے؟
Have you seen Minar-e-Pakistan?
وہ میری مدد کرتا ہے۔
He helps me.
آج جامعہ میں چھٹی ہے۔
Today is a holiday in Jamia.
وہ باقاعدگی سے جامعہ آتا ہے۔
He comes to Jamia regularly.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *