Tanzeem ul Madaris Solved Past Paper 2024 | PDF (طلباء کے لیے) عالیہ سال اول


شہادۃ العالیہ (بی اے) سالِ اول – 2024

الورقۃ الاولٰی: التفسیر وأصولہ (مکمل حل)

نوٹ : آخری سوال لازمی ہے باقی میں سے کوئی دو سوالات حل کریں۔

قسمِ اول: تفسیر (جلالین شریف)

سوال نمبر 1: وَمَا أَصَابَكُمْ (خِطَابٌ لِلْمُؤْمِنِينَ) مِنْ مُصِيبَةٍ (بَلِيَّةٍ وَشِدَّةٍ) فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ (أَيْ كَسَبْتُمْ مِنَ الذُّنُوبِ) وَعَبَّرَ بِالْأَيْدِي لِأَنَّ أَكْثَرَ الْأَفْعَالِ تُزَاوَلُ بِهَا وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ (مِنْهَا فَلَا يُجَازِي عَلَيْهِ) وَهُوَ تَعَالَى أَكْرَمُ مِنْ أَنْ يُثَنِّيَ الْجَزَاءَ فِي الْآخِرَةِ۔
(الف) عبارت پر اعراب لگا کر ترجمہ کریں۔ جواب:
  • ترجمہ: “اور تمہیں جو کوئی مصیبت (یعنی بلا اور سختی) پہنچی ہے (یہ خطاب مومنوں سے ہے) تو وہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے ہے (یعنی جو تم نے گناہ کیے)۔ اور ہاتھوں سے اس لیے تعبیر کیا گیا کیونکہ اکثر کام ہاتھوں ہی سے کیے جاتے ہیں۔ اور وہ (اللہ) بہت سے گناہوں سے درگذر فرما دیتا ہے (پس ان پر سزا نہیں دیتا)۔ اور وہ اللہ تعالیٰ اس سے کہیں زیادہ کریم ہے کہ (جس گناہ پر دنیا میں سزا دے دی) آخرت میں دوبارہ سزا دے۔”
(ب) اغراضِ مفسر تحریر کریں۔
جواب: مفسرِ جلالین نے یہاں درج ذیل اہم نکات واضح کیے ہیں:
  1. خطاب کا تعین: واضح کیا کہ یہ آیت مومنوں کے متعلق ہے تاکہ وہ آزمائش کو گناہوں کا کفارہ سمجھیں۔
  2. مجاز کی وضاحت: “ہاتھوں” کا ذکر اس لیے ہے کہ انسان اکثر گناہ ہاتھوں سے کرتا ہے، ورنہ مراد پورا وجود ہے۔
  3. کرمِ الٰہی: مفسر نے بتایا کہ دنیا کی مصیبت آخرت کے عذاب کو ختم کر دیتی ہے، اللہ ایک گناہ پر دو بار سزا نہیں دیتا۔
(ج) عصرِ حاضر میں مسلمانوں کی پستی کی وجوہات تحریر کریں۔
جواب: مسلمانوں کی پستی کی سب سے بڑی وجہ “اعمال کی خرابی” ہے جیسا کہ آیت سے واضح ہے کہ مصیبت گناہوں کی وجہ سے آتی ہے۔ عصرِ حاضر میں اتحاد کی کمی، علمِ دین سے دوری، اور دنیا کی محبت پستی کے اہم اسباب ہیں۔

سوال نمبر 2: (مَا كُنْتَ تَدْرِي) تَعْرِفُ قَبْلَ الْوَحْيِ إِلَيْكَ (مَا الْكِتَابُ) الْقُرْآنُ (وَلَا الْإِيمَانُ) أَيْ شَرَائِعُهُ وَمَعَالِمُهُ وَالنَّفْيُ مُعَلِّقٌ لِلْفِعْلِ عَنِ الْعَمَلِ (وَلَكِنْ جَعَلْنَاهُ نُورًا نَهْدِي بِهِ مَنْ نَشَاءُ)۔
(الف) عبارت پر اعراب لگا کر ترجمہ کریں۔ جواب:
  • ترجمہ: “(آپ نہیں جانتے تھے) یعنی آپ وحی آنے سے پہلے واقف نہ تھے کہ (کتاب کیا ہے) یعنی قرآن کیا ہے (اور نہ ہی ایمان کو) یعنی اس کی شریعتوں اور نشانات کو۔ اور یہ نفی فعل کو عمل سے روکنے والی (معلق) ہے۔ (لیکن ہم نے اس قرآن کو ایک نور بنایا ہے جس کے ذریعے ہم ہدایت دیتے ہیں جسے ہم چاہتے ہیں)۔”
(ب) اغراضِ مفسر تحریر کریں۔
جواب: مفسر نے واضح کیا کہ حضور ﷺ پیدائشی طور پر مومن و نبی تھے، یہاں ایمان کی نفی سے مراد “شریعت کے تفصیلی احکام” کی معرفت ہے جو وحی کے بعد حاصل ہوئی۔
(ج) خط کشیدہ صیغے حل کریں۔ جواب:
  1. تَدْرِي: فعل مضارع معروف، صیغہ واحد مذکر حاضر، مادہ (د ر ی)، باب ضرب یضرب۔
  2. نَشَاءُ: فعل مضارع معروف، صیغہ جمع متکلم، مادہ (ش ی ا)، باب سمع یسمع۔

سوال نمبر 3: وَ”مَنْ” اسْتِفْهَامٌ بِمَعْنَى النَّفْيِ أَيْ لَا أَحَدَ أَضَلُّ مِمَّنْ يَدْعُو (يَعْبُدُ) مِنْ دُونِ اللَّهِ (أَيْ غَيْرَهُ) مَنْ لَا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ الْأَصْنَامُ لَا يُجِيبُونَ عَابِدِيهِمْ إِلَى شَيْءٍ يَسْأَلُونَهُ أَبَدًا۔
(الف) عبارت پر اعراب لگا کر ترجمہ کریں۔ جواب:
  • ترجمہ: “اور ‘کون’ (کا لفظ) یہاں انکاری سوال ہے، یعنی اس شخص سے بڑھ کر کوئی گمراہ نہیں جو اللہ کے سوا ایسوں کو پکارتا (عبادت کرتا) ہے جو قیامت تک اسے جواب نہیں دے سکتے۔ اور وہ بت ہیں جو اپنے پوجنے والوں کی پکار کا کبھی جواب نہیں دیتے۔”
(ب) کلامِ باری تعالیٰ و کلامِ مفسر کی وضاحت کریں۔
جواب: “ومن اضل…” اللہ کا کلام ہے، جبکہ “استفہام بمعنی النفی” مفسر کی تشریح ہے تاکہ واضح ہو کہ یہاں ساول نہیں بلکہ بت پرستوں کی مذمت مقصود ہے۔
(ج) بعض فرقوں کے نزدیک انبیاء اور اولیاء کو پکارنا بھی گمراہی ہے اس کا مدلل جواب قلمبند کریں۔ جواب: مفسر نے واضح کر دیا کہ یہ آیت “الاصنام” (بتوں) کے بارے میں ہے جو بے جان ہیں۔ انبیاء و اولیاء کو پکارنا انہیں اللہ کا شریک بنانا نہیں بلکہ اللہ کی دی ہوئی طاقت سے ان سے مدد مانگنا (استغاثہ) ہے، جو کہ جائز ہے۔

قسمِ ثانی: اصولِ تفسیر (الفوز الکبیر)
سوال نمبر 4: درج ذیل میں سے دو اجزا کا جواب تحریر کریں۔
(الف) اسبابِ نزول کی معرفت اور اس میں دشواری کی وجوہات تحریر کریں۔
جواب: شاہ ولی اللہ کے مطابق اسبابِ نزول کا علم آیت کے مفہوم کو واضح کرتا ہے۔ دشواری کی وجہ یہ ہے کہ صحابہ اکثر کسی واقعے پر آیت چسپاں کرتے وقت “نزل ہذا فی کذا” (یہ اس بارے میں اتری) کہتے تھے، جس سے طالبِ علم الجھ جاتا ہے کہ یہ سببِ نزول ہے یا محض مثال۔
(ب) قرآن پاک کو ابواب اور فصول کی صورت میں کیوں نہیں ذکر کیا گیا؟
جواب: قرآن “کلامِ شاہی” ہے، کوئی درسی کتاب نہیں۔ جس طرح بادشاہ کے فرامین میں ابواب نہیں ہوتے بلکہ ضرورت کے مطابق احکام جاری ہوتے ہیں، اسی طرح قرآن کا اسلوب خطیبانہ اور تذکیری ہے نہ کہ تصنیفی۔
(ج) اعجازِ قرآن کی کم از کم تین وجوہات زینتِ قرطاس کریں۔ جواب:
  1. فصاحت و بلاغت: اس جیسا کلام لانے سے پوری دنیا عاجز ہے۔
  2. غیبی خبریں: ایسی خبریں دیں جو بعد میں حرف بہ حرف سچی ثابت ہوئیں۔
  3. دلوں پر اثر: اس کے سننے سے دشمنوں کے دل بھی پگھل جاتے ہیں۔

شہادۃ العالیہ (بی اے) سالِ اول – 2024

الورقۃ الثانیۃ: الحدیث وأصولہ (مکمل حل)


قسمِ اول: حدیث (مشکاۃ المصابیح)

سوال نمبر 1: عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ ثَائِرَ الرَّأْسِ نَسْمَعُ دَوِيَّ صَوْتِهِ وَلَا نَفْقَهُ مَا يَقُولُ حَتَّى دَنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ، فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُ عَنِ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ، فَقَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُنَّ؟ فَقَالَ: لَا، إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ۔
(الف) حدیث شریف پر اعراب لگا کر اردو میں ترجمہ کریں۔ جواب:
  • ترجمہ: حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اہلِ نجد میں سے ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جس کے بال بکھرے ہوئے تھے۔ ہم اس کی آواز کی گونج تو سن رہے تھے مگر سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے، یہاں تک کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے قریب آ گیا۔ تب معلوم ہوا کہ وہ اسلام کے بارے میں سوال کر رہا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “دن اور رات میں پانچ نمازیں (فرض) ہیں”۔ اس نے پوچھا: “کیا ان کے علاوہ بھی مجھ پر کچھ (فرض) ہے؟” آپ ﷺ نے فرمایا: “نہیں، مگر یہ کہ تم اپنی خوشی سے نفل پڑھو”۔
(ب) حدیث شریف میں رسول اللہ ﷺ نے مزید کن چیزوں کا ذکر فرمایا اور اس مرد نے جاتے وقت کیا کہا؟ مشکوۃ کی حدیث کی روشنی میں لکھیں۔
جواب: مشکاۃ کی روایت کے مطابق آپ ﷺ نے اسے زکوٰۃ اور رمضان کے روزوں کا بھی حکم دیا۔ وہ شخص یہ کہتے ہوئے واپس ہوا: “خدا کی قسم! میں ان فرائض میں نہ تو اضافہ کروں گا اور نہ ہی کوئی کمی کروں گا”۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: “اگر اس نے سچ کہا تو یہ کامیاب ہو گیا”۔
(ج) حدیث شریف میں شہادتین (کلمہ) اور حج کے ذکر نہ کرنے کی وجہ کیا ہے؟
جواب: شہادتین کا ذکر اس لیے نہیں کیا گیا کیونکہ وہ شخص پہلے سے کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو چکا تھا اور صرف احکام سیکھنے آیا تھا۔ حج کا ذکر اس لیے نہیں ہوا کیونکہ یہ واقعہ حج کی فرضیت (9 ہجری) سے پہلے کا ہے۔

سوال نمبر 2: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: الْكَبَائِرُ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَالْيَمِينُ الْغَمُوسُ۔ وَفِي رِوَايَةِ أَنَسٍ: وَشَهَادَةُ الزُّورِ بَدَلَ الْيَمِينِ الْغَمُوسِ۔
(الف) حدیث مبارک کا ترجمہ کریں۔
جواب: حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “کبیرہ گناہ یہ ہیں: (1) اللہ کے ساتھ شرک کرنا، (2) والدین کی نافرمانی کرنا، (3) کسی جان کو (ناحق) قتل کرنا، (4) اور جھوٹی قسم کھانا (یمینِ غموس)”۔ اور حضرت انس کی روایت میں “جھوٹی قسم” کی جگہ “جھوٹی گواہی” کا ذکر ہے۔
(ب) مشکاۃ کی روشنی میں کبیرہ گناہ کے متعلق مذکور حدیث کے علاوہ دو احادیث تحریر کریں۔
جواب:
  1. “سات ہلاک کر دینے والے گناہوں سے بچو” (جن میں جادو اور سود کا ذکر ہے)۔
  2. “کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہ نہ بتاؤں؟” (آپ ﷺ نے شرک کے بعد والدین کی نافرمانی اور جھوٹی بات کا ذکر فرمایا)۔
(ج) کبیرہ گناہ کی تعریف کر کے بتائیں کہ کبیرہ گناہ کفر ہیں یا فسق؟
جواب: جس گناہ پر جہنم کی وعید ہو یا شرعی حد ہو وہ کبیرہ ہے۔ اہل سنت کے نزدیک کبیرہ گناہ کا مرتکب “فاسق” ہوتا ہے، کافر نہیں۔

سوال نمبر 3 (الف): مجلسِ علم کی فضیلت پر مضمون لکھیں۔
جواب: علم کی مجلس جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔ فرشتے اس مجلس کو ڈھانپ لیتے ہیں اور طالبِ علم کے قدموں کے نیچے اپنے پر بچھاتے ہیں۔
(ب) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا مختصر تعارف سپرد قلم کریں۔
جواب: آپ ﷺ کے چچا زاد بھائی اور “رئیس المفسرین” ہیں۔ آپ ﷺ نے ان کے لیے دعا فرمائی تھی: “اے اللہ! اسے دین کی سمجھ اور قرآن کا علم عطا فرما”۔
(ج) ثَمَنُ الْكَلْبِ خَبِيثٌ… ترجمہ اور لفظ “خبیث” کی وضاحت۔
جواب: ترجمہ: “کتے کی قیمت خبیث ہے، زانیہ کی اجرت خبیث ہے اور پچھنے لگانے والے کی کمائی خبیث ہے”۔ یہاں خبیث سے مراد “حرام” یا “ناپسندیدہ” کمائی ہے۔

قسمِ ثانی: اصولِ حدیث

سوال نمبر 4: (کوئی سے دو اجزا)
(الف) حدیثِ تقریری اور حدیثِ مرفوع کی تعریفات تحریر کریں۔
جواب: تقریری: جس کام پر آپ ﷺ نے خاموشی سے رضامندی دی ہو۔ مرفوع: جس کی نسبت آپ ﷺ کی طرف ہو۔
(ب) سند، اسناد اور متن کی وضاحت کریں۔ جواب:
  • سند: راویوں کا سلسلہ۔
  • متن: حدیث کے اصل الفاظ۔
(ج) عدالت سے متعلق پانچوں وجوہ الطعن سپرد قلم کریں۔
جواب: 1. کذب (جھوٹ)، 2. تہمتی کذب، 3. فسق، 4. بدعت، 5. جہالت۔
(د) کیا احادیثِ صحیحہ فقط صحیحین میں ہیں؟
جواب: جی نہیں، صحیحین (بخاری و مسلم) کے علاوہ بھی دیگر کتب (جیسے مشکاۃ کی دیگر مآخذ) میں احادیثِ صحیحہ موجود ہیں۔

شہادۃ العالیہ (بی اے) سالِ اول – 2024

الورقۃ الرابعة: الفقه (مکمل حل)


سوال نمبر 1: وَيَنْعَقِدُ بِلَفْظِ النِّكَاحِ وَالتَّزْوِيِجِ وَالْهِبَةِ وَالتَّمْلِيكِ وَالصَّدَقَةِ، وَقَالَ الشَّافِعِيُّ: لَا يَنْعَقِدُ إِلَّا بِلَفْظِ النِّكَاحِ وَالتَّزْوِيِجِ۔
(الف) مذکورہ عبارت پر اعراب لگا کر ترجمہ تحریر کریں نیز مذکورہ مسئلہ میں احناف اور شوافع کی دلیل لکھیں۔ جواب:
  • ترجمہ: اور نکاح منعقد ہو جاتا ہے لفظِ نکاح، تزویج، ہبہ (تحفہ)، تملیک (مالک بنانا) اور صدقہ کے الفاظ سے۔ اور امام شافعی نے فرمایا کہ نکاح صرف لفظِ نکاح اور تزویج ہی سے منعقد ہوتا ہے۔
  • احناف کی دلیل: احناف کے نزدیک نکاح کا مقصد “ملکِ متعہ” (فائدہ اٹھانے کا مالک بننا) ہے، اس لیے ہر وہ لفظ جو تملیک (مالک بنانے) پر دلالت کرے اس سے نکاح ہو جائے گا، کیونکہ مقصود معنی ہے نہ کہ محض لفظ۔
  • شوافع کی دلیل: امام شافعی کے نزدیک نکاح ایک عبادت ہے اور اس کے لیے قرآن میں “نکاح” اور “تزویج” کے الفاظ آئے ہیں، لہذا انہی الفاظ پر اکتفا کرنا ضروری ہے (یہ الفاظ توقیفی ہیں)۔
(ب) زنا کے ساتھ حرمت ثابت ہوتی ہے یا نہیں؟ احناف اور شوافع کا اختلاف مع دلائل لکھیں۔ جواب:
  • احناف کا موقف: زنا سے “حرمتِ مصاہرت” ثابت ہو جاتی ہے۔ یعنی جس عورت سے زنا کیا اس کی ماں اور بیٹی اس شخص پر حرام ہو جائیں گی۔
  • احناف کی دلیل: قرآن میں “ولا تنکحوا ما نکح اباؤکم” میں نکاح سے مراد وطی (جماع) ہے، چاہے وہ حلال ہو یا حرام۔ نیز زنا بھی نکاح کی طرح شہوت کا سبب ہے۔
  • شوافع کا موقف: زنا سے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔
  • شوافع کی دلیل: حدیث مبارکہ ہے: “الحرام لا یحرم الحلال” (حرام کام حلال کو حرام نہیں کرتا)۔

سوال نمبر 2: وَلَا يَجُوزُ لِلْوَلِيِّ إِجْبَارُ الْبِكْرِ الْبَالِغَةِ عَلَى النِّكَاحِ خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ لَهُ الِاعْتِبَارُ بِالصَّغِيرَةِ۔
(الف) اعراب لگا کر ترجمہ تحریر کریں نیز مذکورہ مسئلہ میں احناف اور شوافع کے دلائل تفصیل سے لکھیں۔ جواب:
  • ترجمہ: اور ولی کے لیے جائز نہیں کہ وہ بالغہ کنواری لڑکی کو نکاح پر مجبور کرے، برخلاف امام شافعی کے، کیونکہ وہ اس کو چھوٹی بچی پر قیاس کرتے ہیں۔
  • احناف کی دلیل: عاقلہ بالغہ عورت اپنے معاملات (تجارت وغیرہ) میں خود مختار ہے، تو نکاح میں بھی وہ مختار ہوگی۔ نیز حدیث میں ہے: “الایم احق بنفسہا من ولیہا” (بالغہ اپنے نفس کی ولی سے زیادہ حقدار ہے)۔
  • شوافع کی دلیل: امام شافعی فرماتے ہیں کہ ولایت کی علت “بکارت” (کنوارا پن) ہے، لہذا جب تک وہ کنواری ہے (چاہے بالغ ہو) ولی اسے مجبور کر سکتا ہے جیسے نابالغہ کو۔
(ب) قَلِيلُ الرَّضَاعِ وَكَثِيرُهُ سَوَاءٌ إِذَا حَصَلَ فِي مُدَّةِ الرَّضَاعِ يَتَعَلَّقُ بِهِ التَّحْرِيمُ۔ جواب:
  • احناف کا موقف: دودھ کی تھوڑی یا زیادہ مقدار برابر ہے، اگر مدتِ رضاعت (ڈھائی سال احناف کے ہاں) میں ایک قطرہ بھی حلق میں اتر گیا تو حرمت ثابت ہو جائے گی۔
  • شوافع کا موقف: کم از کم پانچ مرتبہ پیٹ بھر کر دودھ پینے سے حرمت ثابت ہوتی ہے۔
  • دلیل: احناف قرآن کی آیت “و امہاتکم اللاتی ارضعنکم” سے استدلال کرتے ہیں جہاں مطلق رضاعت کا ذکر ہے، کسی خاص مقدار کا نہیں۔

سوال نمبر 3: وَأَمَّا الضَّرْبُ الثَّانِي وَهُوَ الْكِنَايَاتُ لَا يَقَعُ بِهَا الطَّلَاقُ إِلَّا بِالنِّيَّةِ أَوْ بِدَلَالَةِ الْحَالِ…
(الف) ترجمہ اور ایسے الفاظِ کنایہ جن سے طلاقِ رجعی واقع ہوتی ہے۔ جواب:
  • ترجمہ: اور دوسری قسم “کنایات” (پوشیدہ الفاظ) ہیں، ان سے طلاق واقع نہیں ہوتی مگر نیت یا دلالتِ حال سے، کیونکہ یہ الفاظ طلاق کے لیے وضع نہیں کیے گئے بلکہ طلاق اور غیر طلاق دونوں کا احتمال رکھتے ہیں۔
  • وضاحت: قدوری میں مذکور ہے کہ کنایہ کے الفاظ سے عموماً طلاقِ بائن واقع ہوتی ہے، لیکن اگر صریح کے معنی میں استعمال ہوں تو رجعی بھی ہو سکتی ہے۔ (نوٹ: احناف کے ہاں اکثر کنایات سے طلاقِ بائن ہی واقع ہوتی ہے)۔

سوال نمبر 4: وَالْمُبَارَأَةُ كَالْخُلْعِ كِلَاهُمَا يُسْقِطَانِ كُلَّ حَقٍّ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنَ الزَّوْجَيْنِ عَلَى الْآخَرِ مِمَّا يَتَعَلَّقُ بِالنِّكَاحِ۔
(الف) عبارت پر اعراب لگا کر ترجمہ کریں، نیز مذکورہ مسئلہ میں ائمہ احناف کا اختلاف مع الدلائل لکھیں۔ جواب:
  • ترجمہ: اور “مبارات” (باہمی رضامندی سے علیحدگی) خلع کی طرح ہے، یہ دونوں میاں بیوی کے ایک دوسرے پر نکاح سے متعلق تمام حقوق کو ساقط کر دیتے ہیں۔
  • اختلاف: امام اعظم کے نزدیک خلع اور مبارات دونوں سے تمام نکاحی حقوق (مہر وغیرہ) ساقط ہو جاتے ہیں، جبکہ امام ابو یوسف فرماتے ہیں کہ خلع میں صرف وہی حقوق ساقط ہوں گے جن کا ذکر کیا جائے، البتہ مبارات میں سب ختم ہو جائیں گے۔

شہادۃ العالیہ (بی اے) سالِ اول – 2024

الورقۃ الخامسۃ: الأدب والبلاغة (مکمل حل)


قسمِ اول: عربی ادب (مقاماتِ حریری و نظم)

سوال نمبر 1: فَرَأَيْتُ فِي بُؤْرَةِ الْحَلْقَةِ شَخْصًا شَخْتَ الْخِلْقَةِ عَلَيْهِ أُهْبَةُ السِّيَاحَةِ وَلَهُ رَنَّةُ النِّيَاحَةِ…
(الف) مذکورہ عبارت پر اعراب لگا کر ترجمہ تحریر کریں۔ جواب:
  • اعراب: فَرَأَيْتُ فِي بُؤْرَةِ الْحَلْقَةِ شَخْصًا شَخْتَ الْخِلْقَةِ، عَلَيْهِ أُهْبَةُ السِّيَاحَةِ، وَلَهُ رَنَّةُ النِّيَاحَةِ، وَهُوَ يَطْبَعُ الْأَسْجَاعَ بِجَوَاهِرِ لَفْظِهِ، وَيَقْرَعُ الْأَسْمَاعَ بِزَوَاجِرِ وَعْظِهِ، وَقَدْ أَحَاطَتْ بِهِ أَخْلَاطُ الزُّمَرِ إِحَاطَةَ الْهَالَةِ بِالْقَمَرِ، وَالْأَكْمَامِ بِالثَّمَرِ، فَدَلَفْتُ إِلَيْهِ لِأَقْتَبِسَ مِنْ فَوَائِدِهِ، وَأَلْتَقِطَ بَعْضَ فَرَائِدِهِ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ حِينَ خَبَّ فِي مَجَالِهِ، وَهَدَرَتْ شَقَاشِقُ ارْتِجَالِهِ۔
  • ترجمہ: “پس میں نے لوگوں کے مجمع کے درمیان ایک دبلے پتلے بدن والے شخص کو دیکھا جس پر سیاحت (مسافرت) کا سامان تھا اور اس کی آواز میں گریہ و زاری کی گونج تھی۔ وہ اپنے الفاظ کے جواہر سے مسجع کلام (قافیہ والی عبارت) بنا رہا تھا اور اپنی نصیحت کے ڈانٹ ڈپٹ والے کلمات سے کانوں کو کھٹکھٹا رہا تھا۔ لوگوں کے مختلف گروہوں نے اسے اس طرح گھیرا ہوا تھا جیسے ہالہ چاند کو اور غلاف پھل کو گھیرتا ہے۔ پس میں اس کی طرف بڑھا تاکہ اس کے فوائد سے فائدہ اٹھاؤں اور اس کے موتیوں جیسے کلمات چن لوں۔ میں نے اسے اس وقت کہتے سنا جب وہ اپنی گفتگو کے میدان میں تیز چل رہا تھا اور اس کی برجستہ کلامی کے جوش و خروش کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں۔”
(ب) کوئی سے پانچ الفاظ کے معانی لکھیں۔ جواب:
  1. الْعَمَائِم: پگڑیاں (واحد: عمامہ)۔
  2. عَرِيناً: شیر کی کچھار، رہنے کی جگہ۔
  3. أَهْبَة: تیاری، سامانِ سفر۔
  4. الْأَنَاشِيد: ترانے، نظمیں (واحد: انشودہ)۔
  5. الْفَقْرُ الْمُدْقِع: انتہائی سخت غربت جو خاک نشین کر دے۔

سوال نمبر 2: عبارت: “وَاسْتَسَرَّ عَنِّي حِيناً لَا أَعْرِفُ لَهُ عَرِيناً، وَلَا أَجِدُ عَنْهُ مُبِيناً، فَلَمَّا أُبْتُ مِنْ غُرْبَتِي إِلَى مَنْبِتِ شُعْبَتِي، حَضَرْتُ دَارَ كُتُبِهَا الَّتِي هِيَ مُنْتَدَى الْمُتَأَدِّبِينَ وَمُلْتَقَى الْقَاطِنِينَ مِنْهُمْ وَالْمُتَغَرِّبِينَ. قَالَ: فَكَأَنَّ الْجَمَاعَةَ ارْتَابَتْ بِعَزْوَتِهِ، وَأَبَتْ تَصْدِيقَ دَعْوَتِهِ، تَوَجَّسَ مَا هَجَسَ فِي أَفْكَارِهِمْ، وَفَطِنَ لِمَا بَطَنَ مِنْ اسْتِنْكَارِهِمْ.”…
(الف) عبارت پر اعراب اور ترجمہ:
  • ترجمہ: “اور وہ ایک عرصہ تک مجھ سے چھپا رہا، میں اس کا ٹھکانہ نہیں جانتا تھا اور نہ ہی اس کے بارے میں کوئی بتانے والا پاتا تھا۔ پھر جب میں اپنی پردیس سے اپنے قبیلے کی جڑ کی طرف لوٹا تو اس کے کتب خانے میں حاضر ہوا جو کہ پڑھے لکھے مسافروں اور مقیم لوگوں کے جمع ہونے کی جگہ تھی۔ (راوی کہتا ہے) ایسا محسوس ہوا جیسے مجمع کو اس کی نسبت (نسب) کے بارے میں شک ہوا اور انہوں نے اس کے دعوے کی تصدیق سے انکار کر دیا۔ اس شخص نے ان کے خیالات میں پیدا ہونے والے کھٹکے کو محسوس کر لیا اور ان کے چھپے ہوئے انکار کو بھانپ لیا۔”
(ب) خط کشیدہ الفاظ کی صرفی تحقیق:
  • فَطِنَ: فعل ماضی معروف، صیغہ واحد مذکر غائب، باب سَمِعَ يَسْمَعُ، مادہ (ف ط ن)، معنی: عقل مند ہونا، بھانپ لینا۔
  • اسْتَنْكَار: مصدر، باب استفعال، مادہ (ن ک ر)، معنی: برا جاننا، انکار کرنا۔

سوال نمبر 3: (الف) اشعار کا ترجمہ:
  1. حبذا نضاره ونضرته: کیا ہی خوب ہے اس کی چمک دمک اور اس کی تروتازگی۔
  2. کم أمر به استتبت أمرته: کتنے ہی معاملات ایسے ہیں جن کی سرداری اس (دینار/مال) کی وجہ سے مضبوط ہوئی۔
  3. وجيش هم هزمته كرته: اور غموں کا وہ لشکر جسے اس (دینار) کے حملے نے شکست دے دی۔
  4. أسر نجواه فلانت شرته: اس نے اپنی سرگوشی کو چھپایا تو اس کی شرارت نرم پڑ گئی۔

قسمِ ثانی: بلاغت (تلخیص المفتاح)

سوال نمبر 4: الْفَصَاحَةُ فِي الْكَلَامِ: خُلُوصُهُ مِنْ ضَعْفِ التَّأْلِيفِ وَتَنَافُرِ الْكَلِمَاتِ وَالتَّعْقِيدِ…
(الف) اعراب اور ترجمہ:
  • ترجمہ: “کلام میں فصاحت یہ ہے کہ وہ ضعفِ تالیف (نحوی کمزوری)، کلمات کے باہمی ٹکراؤ اور پیچیدگی سے پاک ہو، جبکہ اس کے کلمات بذاتِ خود بھی فصیح ہوں۔”
(ب) ملکہ اور حال کی تعریف:
  • ملکہ: وہ راسخ صفت جو بار بار کی مشق سے انسان کے اندر پیدا ہو جائے کہ وہ جب چاہے فصیح کلام کر سکے۔
  • حال: وہ کیفیت یا مقام جو کلام کرنے کے وقت سامنے ہو (جیسے خوشی یا غمی کا مقام)۔
سوال نمبر 5: درج ذیل اصطلاحات کی تعریفیں:
  1. تعقیدِ لفظی: الفاظ کی ترتیب میں ایسی خرابی کہ معنی سمجھنا مشکل ہو جائے۔
  2. کلامِ طلبی: وہ کلام جس میں مخاطب کو کسی چیز کا علم نہ ہو اور اسے بتانا مقصود ہو۔
  3. مقتضیٰ الحال: وہ خاص طریقہ جس کے مطابق کلام کرنا وقت کی ضرورت ہو۔
  4. اسناد: ایک کلمہ کی دوسرے کلمہ کی طرف اس طرح نسبت کرنا کہ فائدہ تامہ حاصل ہو۔
  5. غرابت: کلمہ میں ایسے وحشی یا اجنبی الفاظ کا ہونا جو عام فہم نہ ہوں۔

 


شہادۃ العالیہ (بی اے) سالِ اول – 2024

الورقۃ السادسة: العقائد والمنطق (مکمل حل)


پہلا حصہ: عقائد

سوال نمبر 1: عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ وَالْحَلَّاقُ يَحْلِقُهُ وَطَافَ بِهِ أَصْحَابُهُ، فَمَا يُرِيدُونَ أَنْ تَقَعَ شَعْرَةٌ إِلَّا فِي يَدِ رَجُلٍ۔
(الف) مذکورہ عبارت پر اعراب لگا کر ترجمہ لکھیں۔ جواب:
  • ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: “میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ حجام آپ ﷺ کے سرِ مبارک کے بال مونڈ رہا تھا اور آپ ﷺ کے صحابہ نے آپ ﷺ کو گھیرے میں لیا ہوا تھا۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ کوئی ایک بال بھی گرے مگر وہ کسی نہ کسی شخص کے ہاتھ میں (گرے)۔” (یعنی صحابہ تبرکاً بال مبارک ہاتھوں میں لے لیتے تھے)۔
(ب) آثارِ صالحین سے برکت حاصل کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اپنے موقف پر تین دلیلیں لکھیں۔ جواب: موقف: آثارِ صالحین (نبی کریم ﷺ اور اولیاء کے استعمال شدہ اشیاء) سے برکت حاصل کرنا شرعاً جائز اور مستحب ہے۔ دلائل:
  1. صحابہ کا عمل: مذکورہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ صحابہ کرام آپ ﷺ کے بال مبارک تبرکاً جمع فرماتے تھے۔
  2. قمیصِ یوسف علیہ السلام: قرآن میں ذکر ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی قمیص جب حضرت یعقوب علیہ السلام کی آنکھوں پر لگائی گئی تو ان کی بینائی لوٹ آئی۔
  3. جبہ مبارک: احادیث میں ذکر ہے کہ حضرت اسماء بنتِ ابی بکر رضی اللہ عنہا کے پاس آپ ﷺ کا جبہ تھا جسے دھو کر بیماروں کو پلایا جاتا اور وہ شفا پاتے تھے۔

سوال نمبر 2: عبارت (دعا): “اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِحَقِّ السَّائِلِينَ عَلَيْكَ، وَبِحَقِّ مَمْشَايَ هَذَا إِلَيْكَ، فَإِنِّي لَمْ أَخْرُجْ أَشَراً وَلَا بَطَراً، وَلَا رِيَاءً وَلَا سُمْعَةً، وَإِنَّمَا خَرَجْتُ اتِّقَاءَ سَخَطِكَ وَابْتِغَاءَ مَرْضَاتِكَ، أَسْأَلُكَ أَنْ تُنْقِذَنِي مِنَ النَّارِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي ذُنُوبِي، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ۔”…
(الف) دعا پر اعراب و ترجمہ، پڑھنے کا وقت اور فائدہ:
  • ترجمہ: “اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں تیرے حضور سوال کرنے والوں کے حق کے وسیلے سے، اور اپنے اس چلنے کے حق کے وسیلے سے جو تیری طرف ہے۔ میں کسی تکبر، اترانے، دکھاوے یا شہرت کے لیے نہیں نکلا، بلکہ میں تیرے غصے سے بچنے اور تیری رضا کی تلاش میں نکلا ہوں۔ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے آگ سے بچا لے اور میرے گناہ بخش دے، یقیناً تیرے سوا کوئی گناہوں کو نہیں بخشتا۔”
  • وقت: یہ دعا مسجد کی طرف جاتے وقت پڑھی جاتی ہے۔
  • فائدہ: حدیث کے مطابق جو یہ دعا پڑھے، اللہ اس پر ستر ہزار فرشتے مقرر فرماتا ہے جو اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں اور اللہ اپنی رحمت سے اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔
(ب) توسل کا لغوی و اصطلاحی معنی اور قرآنی آیت:
  • لغوی معنی: کسی کے ذریعے قرب حاصل کرنا یا وسیلہ بنانا۔
  • اصطلاحی معنی: بارگاہِ الٰہی میں کسی نبی، ولی یا نیک عمل کا واسطہ دے کر دعا مانگنا۔
  • آیت: “يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ” (اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ تلاش کرو)۔

دوسرا حصہ: منطق (قطبی)

سوال نمبر 4:نص العبارة: “وَعِنْدَ مُتَأَخِّرِي الْمَنْطِقِيِّينَ أَنَّ الْحُكْمَ فِعْلٌ مِنْ أَفْعَالِ النَّفْسِ، فَلَا يَكُونُ إِدْرَاكاً، لِأَنَّ الْإِدْرَاكَ انْفِعَالٌ، وَالْفِعْلُ لَا يَكُونُ انْفِعَالاً، فَلَوْ قُلْنَا إِنَّ الْحُكْمَ إِدْرَاكٌ فَيَكُونُ التَّصْدِيقُ مَجْمُوعَ التَّصَوُّرَاتِ الْأَرْبَعَةِ.”
(الف) اعراب اور ترجمہ:
  • ترجمہ: “اور متاخرینِ منطقین کے نزدیک ‘حکم’ نفس کے افعال میں سے ایک فعل ہے، پس وہ ادراک نہیں ہوگا، کیونکہ ادراک ‘انفعال’ (تاثر قبول کرنا) ہے اور فعل، انفعال نہیں ہو سکتا۔ پس اگر ہم کہیں کہ حکم ادراک ہے تو تصدیق چاروں تصورات کے مجموعے کا نام ہوگی۔”
(ب) فعل، انفعال اور تصوراتِ اربعہ:
  • فعل: کسی چیز کو کرنا (جیسے نفس کا حکم لگانا)۔
  • انفعال: کسی خارجی چیز کا اثر قبول کرنا (جیسے ادراک ہونا)۔
  • تصوراتِ اربعہ: (1) محکوم علیہ کا تصور، (2) محکوم بہ کا تصور، (3) ان کے درمیان نسبت کا تصور، (4) وقوعِ نسبت کا ادراک۔

سوال نمبر 6: تعریفات و امثلہ (کوئی سے پانچ):
  1. دلالتِ مطابقی: لفظ کا اپنے پورے معنیِ موضوع لہ پر دلالت کرنا، جیسے “انسان” بول کر “حیوانِ ناطق” مراد لینا۔
  2. عرضِ لازم: وہ وصف جو اپنی حقیقت سے جدا نہ ہو سکے، جیسے “تین” کے عدد کے لیے “طاق” ہونا۔
  3. جنسِ بعید: وہ جنس جس کے نیچے بہت سی انواع اور اجناس ہوں، جیسے انسان کے لیے “جسمِ مطلق“۔
  4. رسمِ تام: وہ تعریف جو “جنسِ قریب” اور “خاصہ” سے مل کر بنے، جیسے انسان کی تعریف “حیوانِ ضاحک” (ہنسنے والا حیوان) سے کرنا۔
  5. جنس: وہ کلی جو ان حقائق پر بولی جائے جن کی حقیقتیں مختلف ہوں، جیسے “حیوان” (یہ انسان، گھوڑا، شیر سب پر بولا جاتا ہے)۔

💡 اہم امتحانی نوٹ (Important Points)

  1. عقائد:توسل” اور “تبرک” کے دلائل لازمی یاد کریں، یہ ہر سال پوچھے جاتے ہیں۔
  2. منطق: تصدیق کی تعریف میں “قدماء” اور “متاخرین” کا اختلاف (سوال نمبر 4) پیپر کا سب سے اہم ترین سوال ہے۔
  3. نصیحت: منطق کی تعریفات لکھتے وقت مثال (Example) لازمی دیں، ورنہ نمبر کٹ جاتے ہیں۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *