خاصہ سال دوم – 2024 (پہلا پرچہ: قرآن مجید)
سوال نمبر 1: عبارت (و اذكر يا محمد…) پر اعراب لگا کر ترجمہ تحریر کریں۔
وَاذْكُرْ يَا مُحَمَّدُ لِقَوْمِكَ إِذْ نَادَى رَبُّكَ مُوسَى لَيْلَةَ رَأَى النَّارَ وَالشَّجَرَةَ أَنْ أَيْ بِأَنْ ائْتِ الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ رَسُولًا قَوْمَ فِرْعَوْنَ مَعَهُ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ بِالْكُفْرِ بِاللَّهِ وَبَنِي إِسْرَائِيلَ بِاسْتِعْبَادِهِمْ أَلَا (الْهَمْزَةُ لِلِاسْتِفْهَامِ الْإِنْكَارِيِّ) يَتَّقُونَ اللَّهَ بِطَاعَتِهِ فَيُوَحِّدُونَهُ
ترجمہ: اور اے محمد (ﷺ)! اپنی قوم کے لیے وہ وقت یاد کریں جب آپ کے رب نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اس رات ندا دی جب انہوں نے آگ اور درخت دیکھا، کہ آپ ظالم قوم کے پاس بطور رسول جائیں، (یعنی) فرعون کی قوم کے پاس، جنہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کر کے اپنی جانوں پر اور بنی اسرائیل کو غلام بنا کر ان پر ظلم کیا۔ کیا (یہاں ہمزہ استفہامِ انکاری کے لیے ہے) وہ اللہ کی اطاعت کر کے اس سے نہیں ڈرتے تاکہ اس کی توحید بیان کریں؟
س: حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے کون سے بڑے معجزات عطا فرمائے؟
ج: حضرت موسیٰ علیہ السلام کو عطا کردہ نو (9) بڑے معجزات میں سے مشہور یہ ہیں: عصا (لاٹھی) کا اژدہا بن جانا۔ یدِ بیضا (ہاتھ کا چمکنا)۔ سمندر کا پھٹ کر راستہ بن جانا۔ پتھر سے بارہ چشموں کا جاری ہونا۔ ٹڈی دل، جوئیں، مینڈک اور خون کا عذاب (فرعونیوں کے لیے)۔
س: سورہ شعراء میں کتنے انبیاء کی قوموں کا ذکر ہوا؟ ان کے نام لکھیں۔
ج: سورہ شعراء میں سات (7) انبیاء کی قوموں کا ذکر ہوا ہے: قومِ فرعون (حضرت موسیٰ و ہارون علیہما السلام) قومِ ابراہیم (حضرت ابراہیم علیہ السلام) قومِ نوح (حضرت نوح علیہ السلام) قومِ عاد (حضرت ہود علیہ السلام) قومِ ثمود (حضرت صالح علیہ السلام) قومِ لوط (حضرت لوط علیہ السلام) اصحاب الایکہ (حضرت شعیب علیہ السلام)
سوال نمبر 2: عبارت (ولقد اتینا داؤد و سلیمن ابنه…) کا ترجمہ اور اغراضِ مفسر کی وضاحت کریں۔
وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ ابْنَهُ عِلْمًا بِالْقَضَاءِ بَيْنَ النَّاسِ وَمَنْطِقِ الطَّيْرِ وَغَيْرِ ذَلِكَ وَقَالَا شُكْرًا لِلَّهِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي فَضَّلَنَا بِالنُّبُوَّةِ وَتَسْخِيرِ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ وَالشَّيَاطِينِ عَلَى كَثِيرٍ مِنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُدَ النُّبُوَّةَ وَالْعِلْمَ
ترجمہ: اور بے شک ہم نے داؤد اور ان کے بیٹے سلیمان (علیہما السلام) کو علم عطا کیا (لوگوں کے درمیان فیصلے کرنے کا، پرندوں کی بولی کا اور اس کے علاوہ) اور ان دونوں نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں نبوت، اور جنات، انسانوں اور شیاطین کی تسخیر کے ذریعے اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت عطا کی۔ اور سلیمان، داؤد کے (علم اور نبوت کے) وارث ہوئے۔ اغراضِ مفسر: مفسر نے “علماً” کی تشریح کر کے بتایا کہ اس سے مراد صرف عام علم نہیں بلکہ قضا اور پرندوں کی بولی کا علم ہے۔ “فضلنا” کی وضاحت کر کے بتایا کہ یہ فضیلت نبوت اور مخلوقات کی غلامی کی صورت میں تھی۔ “ورث” سے مراد مالی وراثت نہیں بلکہ نبوت اور علم کی وراثت مراد لی تاکہ انبیاء کی شان واضح ہو۔
س: کتنے بادشاہوں نے پوری دنیا پر حکومت کی؟ ان کے نام لکھیں۔
ج: کل چار بادشاہوں نے پوری دنیا پر حکومت کی: دو مومن: حضرت سلیمان علیہ السلام اور حضرت ذوالقرنین۔ دو کافر: نمرود اور بخت نصر۔
سوال نمبر 3: عبارت (يأيها الذين امنوا اذكر و انعمۃ اللہ علیکم…) پر اعراب لگا کر ترجمہ تحریر کریں۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَاءَتْكُمْ جُنُودٌ مِنَ الْكُفَّارِ مُتَحَزِّبُونَ أَيَّامَ حَفْرِ الْخَنْدَقِ فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًا وَجُنُودًا لَمْ تَرَوْهَا مَلَائِكَةً وَكَانَ اللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ (بِالتَّاءِ مِنْ حَفْرِ الْخَنْدَقِ وَبِالْيَاءِ مِنْ تَحْزِيبِ الْمُشْرِكِينَ) بَصِيرًا إِذْ جَاءُوكُمْ مِنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ مِنْ أَعْلَى الْوَادِي وَأَسْفَلِهِ مِنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ
ترجمہ: اے ایمان والو! اپنے اوپر اللہ کی نعمت یاد کرو جب تمہارے پاس (کفار کے) لشکر آئے جو خندق کھودنے کے دنوں میں گروہ بنا کر آئے تھے، پس ہم نے ان پر ہوا بھیجی اور وہ لشکر بھیجے جنہیں تم نے نہ دیکھا (یعنی فرشتے)۔ اور اللہ تمہارے کاموں کو (تا کے ساتھ یعنی تمہارا خندق کھودنا، اور یا کے ساتھ یعنی مشرکین کا گروہ بنانا) دیکھ رہا ہے۔ جب وہ تمہارے پاس تمہارے اوپر سے اور تمہارے نیچے سے (وادی کے اوپر اور نیچے، مشرق اور مغرب سے) چڑھ آئے۔
س: غزوہ اور سریہ میں کیا فرق ہے؟
ج: غزوہ اس جنگ کو کہتے ہیں جس میں نبی کریم ﷺ نے بذاتِ خود شرکت فرمائی ہو، جبکہ سریہ اس لشکر کو کہتے ہیں جسے نبی کریم ﷺ نے روانہ فرمایا ہو لیکن خود اس میں شریک نہ ہوئے ہوں۔
سوال نمبر 4: عبارت (رب هب لى ولدا من الصلحين…) کا ترجمہ اور اغراضِ مفسر کی وضاحت کریں۔
رَبِّ هَبْ لِي وَلَدًا مِنَ الصَّالِحِينَ فَبَشَّرْنَاهُ بِغُلَامٍ حَلِيمٍ أَيْ ذِي حِلْمٍ كَثِيرٍ فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ أَيْ أَنْ يَسْعَى مَعَهُ وَيُعْنِيَهُ (قِيلَ بَلَغَ سَبْعَ سِنِينَ وَقِيلَ ثَلَاثَةَ عَشَرَ سَنَةً) قَالَ يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَى أَيْ رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ وَرُؤْيَا الْأَنْبِيَاءِ حَقٌّ وَأَفْعَالُهُمْ بِأَمْرِ اللَّهِ تَعَالَى فَانْظُرْ مَاذَا تَرَى مِنَ الرَّأْيِ شَاوَرَهُ لِيَأْنَسَ بِالذَّبْحِ وَيَنْقَادَ لِلْأَمْرِ بِهِ
ترجمہ: (ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی) اے میرے رب! مجھے نیک بیٹا عطا فرما، پس ہم نے انہیں ایک بردبار لڑکے کی خوشخبری دی (یعنی بہت حلم والا)۔ پھر جب وہ لڑکا ان کے ساتھ دوڑ دھوپ کی عمر کو پہنچا (یعنی ان کے ساتھ کام کاج کرنے کے قابل ہوا، کہا گیا کہ وہ سات یا تیرہ سال کے تھے) تو ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا: اے میرے بیٹے! میں خواب میں دیکھتا ہوں (یعنی میں نے دیکھا) کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں، اور انبیاء کے خواب سچے ہوتے ہیں اور ان کے افعال اللہ کے حکم سے ہوتے ہیں۔ پس دیکھو تمہاری کیا رائے ہے؟ انہوں نے بیٹے سے مشورہ اس لیے کیا تاکہ وہ ذبح ہونے سے مانوس ہو جائیں اور اللہ کے حکم کے آگے سرِ تسلیم خم کر دیں۔ اغراضِ مفسر: مفسر نے “حلیم” کی تشریح کر کے اس صفت کی کثرت واضح کی۔ “السعی” کی عمر کی تعیین کر کے بتایا کہ یہ وہ وقت تھا جب باپ کو بیٹے کی ضرورت ہوتی ہے۔ خواب کے بارے میں “رؤیا الانبیاء حق” کہہ کر یہ واضح کیا کہ یہ محض خواب نہیں بلکہ اللہ کا حکم تھا۔
س: قربانی کرنا واجب ہے یا سنت؟ احناف کا موقف دلیل سے لکھیں۔
ج: احناف کے نزدیک صاحبِ نصاب پر قربانی کرنا واجب ہے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: “فصل لربک وانحر” (اپنے رب کے لیے نماز پڑھیں اور قربانی کریں)، یہاں امر کا صیغہ وجوب پر دلالت کرتا ہے۔ نیز حدیث میں ہے: “جس نے استطاعت کے باوجود قربانی نہ کی وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے۔”
س: حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں کتنا عرصہ رہے؟
ج: حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی مدت کے بارے میں مختلف اقوال ہیں، مشہور قول یہ ہے کہ آپ چالیس (40) دن تک مچھلی کے پیٹ میں رہے۔ کچھ اقوال کے مطابق یہ مدت تین دن یا سات دن بھی تھی۔
خاصہ سال دوم – 2024 (دوسرا پرچہ: حدیث و عربی ادب)
قسم اول: حدیثِ مبارکہ
سوال نمبر 1: عبارت (ان رجلا قرأ خلف النبي…) پر اعراب لگا کر ترجمہ تحریر کریں۔
أَنَّ رَجُلًا قَرَأَ خَلْفَ النَّبِيِّ ﷺ فِي الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ وَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَنَهَاهُ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ أَتَنْهَانِي أَنْ أَقْرَأَ خَلْفَ النَّبِيِّ ﷺ؟ فَتَذَاكَرَا ذَلِكَ حَتَّى سَمِعَ النَّبِيُّ ﷺ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مَنْ صَلَّى خَلْفَ الْإِمَامِ فَإِنَّ قِرَاءَةَ الْإِمَامِ لَهُ قِرَاءَةٌ
ترجمہ: ایک شخص نے ظہر یا عصر میں نبی کریم ﷺ کے پیچھے قرات کی تو ایک دوسرے شخص نے اسے اشارے سے منع کیا۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو اس نے کہا: کیا تم مجھے نبی کریم ﷺ کے پیچھے قرات سے منع کرتے ہو؟ ان دونوں نے اس کا تذکرہ کیا یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ نے سن لیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص امام کے پیچھے نماز پڑھے تو امام کی قرات ہی اس کی قرات ہے۔
سوال نمبر 1: قرات خلف الامام کے بارے میں اختلافِ ائمہ مع الدلائل اور موقفِ احناف کی وجہ ترجیح لکھیں۔
امام شافعی کے نزدیک مقتدی پر سورہ فاتحہ پڑھنا فرض ہے، چاہے نماز جہری ہو یا سری۔ ان کی دلیل حدیث ہے: “اس شخص کی نماز نہیں جس نے فاتحہ نہ پڑھی”۔
امام مالک اور امام احمد کے نزدیک سری نمازوں میں قرات مستحب ہے اور جہری میں خاموش رہنا واجب ہے۔
احناف کے نزدیک مقتدی پر قرات مطلقاً حرام (مکروہِ تحریمی) ہے، چاہے نماز جہری ہو یا سری۔ احناف کی وجہِ ترجیح یہ ہے کہ قرآن میں حکم ہے: “جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور خاموش رہو”۔ نیز مذکورہ حدیث “امام کی قرات مقتدی کی ہی قرات ہے” احناف کے موقف کی واضح تائید کرتی ہے۔
سوال نمبر 2: عبارت (عن عبد اللہ رضی اللہ عنہ قال انكسفت الشمس…) کا ترجمہ و توضیح کریں۔ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَخَطَبَ فَقَالَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا تَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَصَلُّوا وَاحْمَدُوا اللَّهَ وَكَبِّرُوهُ وَسَبِّحُوهُ حَتَّى يَنْجَلِيَ أَيُّهُمَا انْكَسَفَ
ترجمہ: حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس دن رسول اللہ ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم کا انتقال ہوا تو سورج کو گرہن لگ گیا۔ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا اور فرمایا: بے شک سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، انہیں کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا۔ پس جب تم یہ دیکھو تو نماز پڑھو، اللہ کی حمد کرو، اس کی بڑائی بیان کرو اور تسبیح پڑھو یہاں تک کہ وہ گرہن کھل جائے۔ توضیح: اس حدیث سے جاہلیت کے اس عقیدے کی نفی مقصود ہے کہ کائناتی تبدیلیاں کسی بڑے شخص کی موت یا پیدائش سے جڑی ہوتی ہیں۔ آپ ﷺ نے واضح فرمایا کہ یہ نظامِ قدرت ہے اور ایسی صورت میں اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔
س: نمازِ کسوف کا طریقہ کیا ہے؟
ج: نمازِ کسوف سورج گرہن کے وقت پڑھی جاتی ہے۔ یہ دو رکعت ہے اور اس میں جماعت سنت ہے۔ ہر رکعت میں عام نماز کی طرح ایک ہی رکوع اور دو سجدے ہیں (احناف کے نزدیک)۔ اس میں طویل قرات اور طویل رکوع و سجود مستحب ہیں۔
س: “رأيتم” کیا صیغہ ہے اور ہفت اقسام میں کیا ہے؟
ج: “رأيتم” فعل ماضی، جمع مذکر حاضر کا صیغہ ہے۔ ہفت اقسام میں یہ “مہموز العین” اور “ناقص یائی” ہے۔
قسم ثانی: عربی ادب
سوال نمبر 4: درج ذیل اشعار میں سے پانچ کا ترجمہ کریں۔
میرا علاج تو بہنے والے آنسو ہیں، تو کیا مٹتے ہوئے نشاناتِ منزل (گھر کے کھنڈرات) پر رونے کا کوئی فائدہ ہے؟
مجھ پر عشق کی کثرت کی وجہ سے آنکھوں سے آنسو اس قدر بہہ نکلے کہ میرے کجاوے کے تسمے تک بھیگ گئے۔ وہ (گھوڑا) حملہ کرنے والا، پیٹھ دکھانے والا، آگے بڑھنے والا اور پیچھے ہٹنے والا ہے، گویا وہ اس چٹان کے ٹکڑے کی مانند ہے جسے سیلاب نے بلندی سے نیچے گرا دیا ہو۔ اور جب فکر و غم قریب آتے ہیں تو میں انہیں ایک ایسی اونٹنی پر سوار ہو کر دور کر دیتا ہوں جو تیز رفتار ہے اور صبح و شام چلنے والی ہے۔ جب لوگ پکارتے ہیں کہ “جوان کون ہے؟” تو میں یہ گمان کرتا ہوں کہ میں ہی مراد ہوں، پس میں نہ سستی کرتا ہوں اور نہ ہی حیران و پریشان ہوتا ہوں۔
سوال نمبر 5: درج ذیل جموع میں سے پانچ کے مفردات و معانی تحریر کریں۔
نجوم (مفرد: نَجْم) – معنی: ستارے الواح (مفرد: لَوْح) – معنی: تختیاں أطلال (مفرد: طَلَل) – معنی: کھنڈرات/نشاناتِ منزل عذاری (مفرد: عَذْرَاء) – معنی: کنواری لڑکیاں سباع (مفرد: سَبُع) – معنی: درندے
کلاس: الشہادۃ الثانویہ الخاصہ (ایف اے سال دوم) تیسرا پرچہ: فقہ (سال 2024)
فَإِنْ قُشِرَتْ نَفْطَةٌ فَسَالَ مِنْهَا مَاءٌ أَوْ صَدِيدٌ وَغَيْرُهُ إِنْ سَالَ عَنْ رَأْسِ الْجُرْحِ نَقَضَ وَإِنْ لَمْ يَسَلْ لَا يَنْقُضُ پس اگر آبلہ (پھنسی) کا چھلکا اتارا گیا اور اس سے پانی یا پیپ وغیرہ بہہ نکلی، اگر وہ زخم کے منہ سے بہہ جائے تو وضو ٹوٹ جائے گا اور اگر نہ بہے تو وضو نہیں ٹوٹے گا۔
مذکورہ مسئلہ میں امام زفر اور امام شافعی رحمھما اللہ کا مذہب سپرد قلم کریں۔
امام زفر کے نزدیک دونوں صورتوں میں وضو ٹوٹ جائے گا، جبکہ امام شافعی کے نزدیک دونوں صورتوں میں وضو نہیں ٹوٹے گا۔
خون کے خارج ہونے سے وضو ٹوٹنے کے مسئلہ میں اختلاف ائمہ لکھیں۔
احناف کے نزدیک بدن سے نکل کر بہہ جانے والا خون ناقضِ وضو ہے،
جبکہ امام شافعی کے نزدیک صرف سبیلین (آگے پیچھے کے راستوں) سے نکلنے والی چیز ہی ناقض ہے۔
فَانِ اشْتَبَهَتْ عَلَيْهِ الْقِبْلَةُ وَلَيْسَ بِحَضْرَتِهِ مَنْ يَسْأَلُهُ عَنْهَا اجْتَهَدَ پھر اگر اس پر قبلہ مشتبہ (مشکوک) ہو جائے اور وہاں کوئی ایسا شخص موجود نہ ہو جس سے وہ پوچھ سکے، تو وہ اجتہاد (غور و فکر) کرے۔
قبلہ مشتبہ ہو جائے تو نماز کس رخ پر پڑھی جائے گی؟
ایسی صورت میں بندہ غور و فکر (تحری) کرے اور جس طرف اس کا گمان غالب ہو، اسی رخ پر نماز ادا کرے۔
نماز کے دوران یا بعد معلوم ہوا کہ قبلہ میں خطا ہو گئی تو احناف کا مذہب کیا ہے؟
احناف کے نزدیک اگر اجتہاد کے بعد نماز پڑھی اور بعد میں خطا کا پتہ چلا تو نماز ہو گئی، لوٹانے کی ضرورت نہیں (بشرطیکہ نماز کے دوران سمت نہ بدلی ہو)۔
ثُمَّ يَقْرَأُ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ وَسُورَةً أَوْ ثَلَاثَ آيَاتٍ مِنْ أَيِّ سُورَةٍ شَاءَ فَقِرَاءَةُ الْفَاتِحَةِ لَا تَتَعَيَّنُ رُكْنًا عِنْدَنَا پھر وہ سورہ فاتحہ پڑھے اور کوئی سورت یا کسی بھی سورت کی تین آیات پڑھے، پس سورہ فاتحہ کی قرأت ہمارے (احناف کے) نزدیک رکن کے طور پر متعین نہیں ہے۔
آمین بالسر اور آمین بالجہر کے مسئلہ پر اختلاف ائمہ بیان کریں۔
امام ابوحنیفہ اور امام مالک کے نزدیک آمین آہستہ (بالسر) کہی جائے گی، جبکہ امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کے نزدیک آمین بلند آواز (بالجہر) سے کہی جائے گی۔
فاتحہ خلف الامام کے مسئلہ پر ائمہ اربعہ کے مذاہب بیان کریں۔
امام ابوحنیفہ کے نزدیک مقتدی پر قرأت بالکل نہیں، امام شافعی کے نزدیک ہر حال میں ضروری ہے، امام مالک اور احمد کے نزدیک جہری نماز میں خاموش رہے اور سری میں پڑھے۔
وتر کا مستحب وقت کون سا ہے؟
وتر کا مستحب وقت رات کا آخری حصہ ہے، بشرطیکہ بیدار ہونے پر بھروسہ ہو، ورنہ سونے سے پہلے پڑھ لے۔
حائضہ سے کون کونسی چیزیں ساقط اور کون سی ممنوع ہیں؟
حائضہ سے نماز ساقط ہے (قضا نہیں) اور روزہ ممنوع ہے (قضا واجب ہے)، نیز تلاوتِ قرآن اور مسجد میں داخلہ ممنوع ہے۔
وہ اوقات جن میں نفل نماز ممنوع ہے کوئی سے پانچ اوقات لکھیں۔
طلوعِ آفتاب کا وقت، غروبِ آفتاب کا وقت، استوائے شمس (زوال)، فجر کی نماز کے بعد سے طلوع تک، اور عصر کی نماز کے بعد سے غروب تک۔
ماسقی بغرب او دالیہ او سانیہ ففیہ نصف العشر عبارت کی وضاحت کریں۔
وہ زمین جو کنوئیں، ڈول یا مصنوعی ذرائع سے سیراب کی جائے اس کی پیداوار میں نصف عشر یعنی بیسواں حصہ (5%) زکوٰۃ واجب ہے۔
تیمم کی شرائط سپر و قلم کریں۔
نیت کرنا، عذر (پانی نہ ہونا یا بیماری) کا ہونا، پاک مٹی یا ہم جنسِ زمین ہونا، اور چہرے و ہاتھوں کا استیعاب کے ساتھ مسح کرنا۔
کلاس: الشہادۃ الثانویہ الخاصہ (ایف اے سال دوم) چوتھا پرچہ: اصولِ فقہ (نور الانوار) – سال 2024
وَحُكْمُهُ أَنْ يَتَنَاوَلَ الْمَخْصُوصَ قَطْعًا أَيْ أَثَرَهُ الْمُتَرَتِّبَ عَلَيْهِ أَنْ يَتَنَاوَلَ الْمَخْصُوصَ الَّذِي هُوَ مَدْلُولُهُ قَطْعًا بِحَيْثُ يَقْطَعُ احْتِمَالَ الْغَيْرِ اور خاص کا حکم یہ ہے کہ وہ اپنے مخصوص (مدلول) کو قطعی طور پر شامل ہو، یعنی اس کا اثر جو اس پر مرتب ہوتا ہے وہ اپنے مدلول کو اس طرح قطعی طور پر شامل ہو کہ دوسرے کا احتمال ختم کر دے۔
خاص کی تعریف اور اس کی اقسام کے نام اور مثالیں تحریر کریں۔
خاص وہ کلمہ ہے جو ایک معنی یا ایک نوع کے لیے وضع کیا گیا ہو؛ اس کی چار اقسام ہیں: خاص الجنس (جیسے انسان)، خاص النوع (جیسے مرد)، خاص العين (جیسے زید)، اور خاص العدد (جیسے ثلاثہ)۔
نماز میں تعدیلِ ارکان فرض ہے یا واجب؟
احناف و شوافع کا مؤقف لکھیں۔
امام شافعی کے نزدیک تعدیلِ ارکان فرض ہے کیونکہ ان کے نزدیک خبرِ واحد سے فرضیت ثابت ہو جاتی ہے، جبکہ احناف کے نزدیک تعدیلِ ارکان واجب ہے کیونکہ یہ خبرِ واحد سے ثابت ہے جو قطعیت کا فائدہ نہیں دیتی۔
وَ مُوْجِبُهُ الْوُجُوْبُ لَا النَّدْبُ وَالْاِبَاحَةُ وَالتَّوَقُّفُ یَعْنِیْ اَنَّ مُوْجِبَهُ الْوُجُوْبُ فَقَطْ عِنْدَ الْعَامَّةِ اور امر کا موجب وجوب ہے نہ کہ ندب، اباحت یا توقف، یعنی جمہور کے نزدیک امر کا تقاضا صرف اور صرف وجوب (لازم ہونا) ہے۔
“امر” کی تعریف اور “موجبہ الوجوب” پر دلیل لکھیں۔
امر وہ قول ہے جس کے ذریعے کسی کو بلند مرتبے سے کام کا مطالبہ کیا جائے؛ اس کی دلیل یہ آیت ہے: “فلیحذر الذین یخالفون عن امره” (پس وہ لوگ ڈریں جو اللہ کے امر کی مخالفت کرتے ہیں)۔
وجوب کے علاوہ امر کے کوئی سے چار معانی سپرد قلم کریں۔
امر کے دیگر معانی میں ندب (مستحب ہونا)، اباحت (جائز ہونا)، تہدید (ڈمانا/دھمکانا)، اور تعجیز (عاجز کرنا) شامل ہیں۔
وَالنَّکِرَةُ اِذَا اُعِیْدَتْ مَعْرِفَةً کَانَتِ الثَّانِیَةُ عَیْنَ الْاُوْلٰی وَاِذَا اُعِیْدَتْ نَکِرَةً کَانَتِ الثَّانِیَةُ غَیْرَ الْاُوْلٰی اور نکرہ جب معرفہ بن کر لوٹایا جائے تو دوسرا وہی پہلا ہوتا ہے، اور اگر نکرہ کو نکرہ ہی دوبارہ لایا جائے تو دوسرا پہلے کے علاوہ (کوئی اور) ہوتا ہے۔
مذکورہ قاعدہ میں معرفہ کی کون سے اقسام مراد ہیں؟
یہاں معرفہ سے مراد “معرف باللام” (ال والا معرفہ) ہے، جس میں الف لام عہدِ خارجی کے لیے ہو تاکہ پچھلے ذکر کردہ فرد کی طرف اشارہ ہو۔
وَالنَّهْيُ عَنِ الْاَفْعَالِ الْحِسِّیَّةِ یَقَعُ عَلَی الْقِسْمِ الْاَوَّلِ وَ عَنِ الْاُمُوْرِ الشَّرْعِیَّةِ یَقَعُ عَلَی الَّذِی اتَّصَلَ بِه وَصْفًا اور افعالِ حسیہ سے نہی قسمِ اول (قبیح لغیرہ) پر واقع ہوتی ہے اور امورِ شرعیہ سے نہی اس پر واقع ہوتی ہے جو وصف کے ساتھ متصل ہو۔
افعالِ حسیہ کی مثال کے ذریعے وضاحت کریں۔
افعالِ حسیہ وہ ہیں جن کا ادراک عقل و حس سے ہو جیسے “زنا” یا “شراب نوشی”؛ ان سے نہی اس فعل کی ذات کی قباحت کی وجہ سے ہوتی ہے کیونکہ وہ عقلاً بھی برے ہیں۔
اصولِ شرع کی تعداد، نام اور وجہ حصر قلمبند کریں۔
اصولِ شرع چار ہیں: کتاب اللہ، سنتِ رسول، اجماعِ امت اور قیاس؛ وجہ حصر یہ ہے کہ حکمِ الٰہی یا تو وحی سے ملے گا یا مجتہدین کے اتفاق سے یا استنباط سے۔
“نور الانوار” کس کتاب کی شرح ہے؟ متن، ماتن اور شارح کا نام لکھیں۔
یہ کتاب “المنار” کی شرح ہے؛ متن کا نام “المنار”، ماتن کا نام “امام نسفی”، اور شارح کا نام “شیخ احمد جیون” ہے۔
درج ذیل اصطلاحات میں سے تین کی تعریفات لکھیں۔
قرآن: وہ کلام جو رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا؛ سنت: آپ ﷺ کے قول، فعل یا تقریر کو کہتے ہیں؛ اجماع: کسی دور کے تمام مجتہدین کا کسی حکم پر متفق ہونا۔
کلاس: الشہادۃ الثانویہ الخاصہ (ایف اے سال دوم) پانچواں پرچہ: نحو (شرح جامی) – سال 2024
وَهُوَ أَيِ الِاسْمُ قِسْمَانِ مُعْرَبٌ وَمَبْنِيٌ لِأَنَّهُ لَا يَخْلُو إِمَّا أَنْ يَكُونَ مُرَكَّبًا مَعَ غَيْرِهِ أَوْ لَا اور وہ یعنی اسم دو قسم پر ہے: معرب اور مبنی، اس لیے کہ اسم اس سے خالی نہیں کہ وہ دوسرے کے ساتھ مرکب ہوگا یا نہیں ہوگا۔
اعراب کی تعریف کریں اور واضح کریں کہ معانیِ معتورہ سے کیا مراد ہے؟
اعراب وہ اثر ہے جو عامل کی وجہ سے اسم کے آخر میں آتا ہے؛ اور معانیِ معتورہ سے مراد بدلنے والے معانی ہیں جیسے فاعلیت، مفعولیت اور اضافت۔
رفع کو فاعلیت اور نصب کو مفعولیت کی علامت کیوں قرار دیا گیا؟
چونکہ فاعل اصل ہے اور رفع بھی قوی ہے، اس لیے اصل کے لیے قوی حرکت (ضمہ) چنی گئی، جبکہ مفعول فضلہ ہے اس لیے اسے ہلکی حرکت (فتحہ) دی گئی۔
اسبابِ منعِ صرف شعر کی صورت میں لکھیں۔
عدل و وصف و تانیث و معرفہ / عجمہ و جمع و ترکیب و وزنِ فعل و نون و الف زائدتان۔
غیر منصرف پر کسرہ اور تنوین کیوں نہیں آتے؟
غیر منصرف فعل کے مشابہ ہوتا ہے، اور چونکہ فعل پر کسرہ اور تنوین نہیں آتے، اس لیے غیر منصرف پر بھی یہ دونوں نہیں آتے۔
مَا اشْتَمَلَ أَيْ اسْمٌ اشْتَمَلَ عَلَى عَلَمِ الْفَاعِلِيَّةِ أَيْ عَلَامَةِ كَوْنِ الِاسْمِ فَاعِلًا وَهِيَ الضَّمَّةُ وَالْوَاوُ وَالْأَلِفُ وہ یعنی وہ اسم جو فاعلیت کی علامت پر مشتمل ہو، یعنی اسم کے فاعل ہونے کی علامت، اور وہ ضمہ، واؤ اور الف ہیں۔
فاعل کی تعریف لکھیں نیز بتائیں فاعل اصل ہے یا مبتداء؟
فاعل وہ اسم ہے جس سے پہلے ایسا فعل ہو جو اس کی طرف منسوب ہو؛ نحویوں کے نزدیک مرفوعات میں فاعل اصل ہے۔
فاعل کو مفعول پر مقدم کرنے کی وجوبی صورتیں لکھیں۔
جب فاعل اور مفعول دونوں کا اعراب پوشیدہ ہو اور التباس کا خوف ہو، یا جب فاعل ضمیر متصل ہو اور مفعول اسمِ ظاہر ہو۔
وَقَدْ يَكُونُ الْمَفْعُولُ الْمُطْلَقُ لِلتَّأْكِيدِ إِنْ لَمْ يَكُنْ فِي مَفْهُومِهِ زِيَادَةٌ عَلَى مَا يُفْهَمُ مِنَ الْفِعْلِ اور کبھی مفعول مطلق تاکید کے لیے ہوتا ہے اگر اس کے مفہوم میں اس سے زیادہ کچھ نہ ہو جو فعل سے سمجھا جا رہا ہے۔
منادیٰ کی تعریف لکھیں۔
منادیٰ وہ اسم ہے جسے حروفِ ندا کے ذریعے اپنی طرف متوجہ کیا جائے، دراصل یہ فعل کا مفعول بہ ہوتا ہے۔
منادیٰ کے اعراب کی کتنی قسمیں ہیں؟
منادیٰ یا تو مبنی بر علامتِ رفع ہوتا ہے (مفرد معرفہ ہو) یا پھر منصوب ہوتا ہے (اگر مضاف یا نکرہ غیر معینہ ہو)۔
کلاس: الشہادۃ الثانویہ الخاصہ (ایف اے سال دوم) چھٹا پرچہ: بلاغت و منطق – سال 2024
وَفِي الْكَلَامِ خُلُوصُهُ مِنْ ضَعْفِ التَّأْلِيفِ وَتَنَافُرِ الْكَلِمَاتِ وَالتَّعْقِيدِ مَعَ فَصَاحَتِهَا اور کلام کی فصاحت یہ ہے کہ کلام ضعفِ تالیف، تنافرِ کلمات اور تعقید سے پاک ہو، ان کلمات کی اپنی فصاحت کے ساتھ۔
تعقیدِ لفظی کی مثال تحریر کریں۔
تعقیدِ لفظی کی مثال متنبی کا یہ شعر ہے: “جَفَخَتْ وَهُمْ لَا يَجْفَخُونَ بِهَا بِهِمْ”۔
علمِ معانی کی تعریف کریں اور اس کے ابواب کے نام لکھیں۔
علمِ معانی وہ علم ہے جس سے کلام کو مقتضیٰ حال کے مطابق لانے کے احوال معلوم ہوں؛ اس کے آٹھ ابواب ہیں۔
فائدۃ الخبر اور لازمِ فائدۃ الخبر میں فرق مثال سے واضح کریں۔
فائدۃ الخبر: مخاطب کو نیا حکم بتانا (زید آ گیا)؛
لازمِ فائدۃ الخبر: مخاطب کو یہ بتانا کہ متکلم کو بھی علم ہے (تم نے نماز پڑھ لی)۔
درج ذیل میں سے پانچ اصطلاحات کی تعریفات مع امثلہ لکھیں۔
حقیقتِ عقلیہ: فعل کی اسناد اصل فاعل کی طرف کرنا؛
مجازِ عقلی: ملابست کی وجہ سے غیر فاعل کی طرف منسوب کرنا؛
غرابت: نامانوس کلمہ ہونا۔
سَوَاءَ الطَّرِيقِ أَيْ وَسَطَهُ الَّذِي يُفْضِي سَالِکُهُ إِلَى الْمَطْلُوبِ الْبَتَّةَ وَهَذَا كِنَايَةٌ عَنِ الطَّرِيقِ الْمُسْتَوِي راستے کا درمیان، یعنی اس کا وسط جو چلنے والے کو یقیناً مطلوب تک پہنچا دے، اور یہ سیدھے راستے سے کنایہ ہے۔
ماتن نے علم کی تعریف کیوں نہیں کی؟
کیونکہ علم ایک بدیہی چیز ہے جس کی تعریف کی ضرورت نہیں، یا اس کی جامع و مانع تعریف نہایت دشوار ہے۔
هُوَ مُلَاحَظَةُ الْمَعْقُولِ لِتَحْصِيلِ الْمَجْهُولِ یہ (فکر) معلوم چیزوں کو ترتیب دینا ہے تاکہ نامعلوم (مجہول) چیز حاصل ہو جائے۔
منطق کی تعریف اور اس کی ضرورت لکھیں۔
منطق وہ آلہ ہے جو ذہن کو غلطی سے بچائے؛ اس کی ضرورت فکری خطاؤں سے بچنے کے لیے ہے۔
قانون کی تعریف مع مثال سپرد قلم کریں۔
قانون وہ کلی قاعدہ ہے جو تمام جزئیات پر صادق آئے، جیسے: “ہر وہ حجت جو درست شکل میں ہو، نتیجہ بھی درست دے گی”۔
درج ذیل میں سے پانچ اصطلاحات کی تعریفات و امثلہ لکھیں۔
جنس: وہ کلی جو مختلف حقیقتوں پر بولی جائے (حیوان)؛
دلالتِ مطابقی: لفظ کا اپنے پورے معنی پر دلالت کرنا؛
حجت: معلوم تصدیقات سے مجہول تک پہنچنا۔