Tanzeem ul Madaris Solved Past Paper 2024 | PDF (طلباء کے لیے) عالمیہ سال دوم


حل ورقة صحيح البخاري – العالمية السنة الثانية (2024)

السؤال الأول: إمامة معاذ بن جبل واقتداء المفترض بالمتنفل
السؤال (الف): ترجم إلى الأردية واذكر التحقيق الصرفي للكلمات المخطوط عليها (يَؤُمُّ، فَتَّانٌ).
الجواب: ترجمہ: حضرت جابر بن عبداللہؓ فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبلؓ نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے، پھر واپس جا کر اپنی قوم کی امامت کرواتے۔ ایک بار انہوں نے عشاء کی نماز پڑھائی اور اس میں سورہ بقرہ کی قراءت شروع کر دی، تو ایک شخص (تھکن کی وجہ سے) نماز چھوڑ کر الگ ہو گیا۔ حضرت معاذؓ نے اسے برا بھلا کہا، جب یہ بات نبی ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے (معاذؓ سے) تین بار فرمایا: “تم فتنے میں ڈالنے والے ہو، تم فتنے میں ڈالنے والے ہو!” اور انہیں اوسطِ مفصل کی دو سورتیں پڑھنے کا حکم دیا۔ تحقيق صرفي: يَؤُمُّ: فعل مضارع معروف، واحد مذکر غائب، مادہ (أ م م)، باب نصر، معنی: وہ امامت کرتا ہے۔ فَتَّانٌ: صیغہ مبالغہ، وزن (فعّال)، مادہ (ف ت ن)، معنی: بہت زیادہ فتنے میں ڈالنے والا۔
السؤال (ب): في هذا الحديث دلالة على جواز اقتداء المفترض بالمتنفل وضح موقفك بالدليل والجواب عنه.
الجواب: موقف: اس حدیث سے شوافع استدلال کرتے ہیں کہ فرض پڑھنے والا نفل پڑھنے والے کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے (کیونکہ معاذؓ کی پہلی نماز فرض تھی اور دوسری نفل)۔
احناف کا جواب: احناف کے نزدیک مفترض کا اقتداء متنفل کے پیچھے جائز نہیں (کیونکہ مقتدی کا حال امام سے قوی ہونا چاہیے)۔ احناف اس حدیث کا جواب یہ دیتے ہیں کہ یہ واقعہ “جوازِ اقتداء” کے حکم سے پہلے کا ہے، یا یہ کہ معاذؓ کی پہلی نماز نفل تھی اور دوسری قوم کے ساتھ والی فرض تھی (جو کہ ان کے لیے مخصوص اجازت تھی)۔
السؤال (ج): وما هي أوساط المفصل وقصار المفصل وطوال المفصل؟
الجواب: طوالِ مفصل:
سورہ حجرات سے سورہ بروج تک۔ اوسطِ مفصل: سورہ طارق سے سورہ لم یکن (البینہ) تک۔ قصارِ مفصل: سورہ زلزال سے سورہ ناس تک۔

السؤال الثاني: الاستسقاء والتوسل بالصالحين
السؤال (الف): ترجم إلى الأردية مع تشريح الشعر (وأبيض يستسقى الغمام بوجهه…).
الجواب: ترجمہ: “وہ گورے رنگ والے (ﷺ) جن کے چہرے کے صدقے بادلوں سے بارش مانگی جاتی ہے، جو یتیموں کے ٹھکانے اور بیواؤں کے سہارا ہیں۔”
تشریح: یہ اشعار حضرت ابوطالب کے ہیں جو انہوں نے حضور ﷺ کی شان میں کہے تھے۔ امام بخاریؒ نے یہ ثابت کرنے کے لیے یہ اشعار ذکر کیے کہ حضور ﷺ کے وسیلے سے بارش مانگنا صحابہ اور ان کے خاندان کا معمول تھا، اور آپ ﷺ کی برکت سے خشک سالی دور ہو جاتی تھی۔
السؤال (ب): هل صلوة الاستسقاء بالجماعة مسنونة؟ بين اختلاف الفقهاء ورجح القول المختار.
الجواب: اختلاف: امام شافعی، مالک اور احمد کے نزدیک نمازِ استسقاء باجماعت پڑھنا سنت ہے۔
امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک استسقاء کے لیے مسنون عمل صرف “دعا اور استغفار” ہے، نماز باجماعت سنتِ مستمرہ نہیں بلکہ انفرادی طور پر نفل ہے۔ قولِ مختار:
صاحبین (امام ابویوسف و محمد) کے نزدیک باجماعت نماز مسنون ہے اور آج کل اسی پر فتویٰ ہے کیونکہ حضور ﷺ سے یہ ثابت ہے۔
السؤال (ج): اكتب بياناً شافياً عن جواز التوسل بالصالحين بعد وصالهم مع بيان معنى التوسل.
الجواب: معنى التوسل: اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کسی نیک بندے یا عمل کا واسطہ دے کر دعا کرنا تاکہ دعا قبول ہو۔
جواز: اہل سنت کے نزدیک صالحین کے وصال کے بعد بھی ان کا توسل جائز ہے۔
دلیل یہ ہے کہ حضرت عمرؓ نے قحط کے وقت حضرت عباسؓ (حضور ﷺ کے چچا) کا توسل پیش کیا تھا۔ صالحین کی ارواح کو اللہ کے ہاں ایک مقام حاصل ہوتا ہے، اور ان کے نام کی برکت سے اللہ بندے کی دعا سنتا ہے، بشرطیکہ عقیدہ یہ ہو کہ دینے والا صرف اللہ ہے۔

السؤال الثالث: الأمن والزكاة
السؤال (الف): شكل العبارة مع بيان معنى العير والخفير.
الجواب: أَمَّا قَطْعُ السَّبِيلِ فَإِنَّهُ لَا يَأْتِي عَلَيْكَ إِلَّا قَلِيلٌ حَتَّى تَخْرُجَ الْعَيْرُ إِلَى مَكَّةَ بِغَيْرِ خَفِيرٍ۔ معنى العير: اونٹوں کا وہ قافلہ جو غلہ یا تجارت کا سامان لے کر جا رہا ہو۔ معنى الخفير: محافظ یا وہ شخص جو راستے کی حفاظت کے لیے ساتھ ہو۔
السؤال (ب): ماذا قال النبي ﷺ عن العيلة؟
الجواب: آپ ﷺ نے عدی بن حاتمؓ سے فرمایا تھا کہ اگر تمہاری زندگی لمبی ہوئی تو تم دیکھو گے کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ انسان اپنے ہاتھ میں سونا (صدقہ) لے کر نکلے گا اور اسے لینے والا کوئی نہیں ملے گا، یعنی اتنی خوشحالی اور استغناء آ جائے گا۔
السؤال (ج): متى وأين وجبت الزكوة؟ وما نصابها من الذهب والفضة والإبل والبقر والمعز وما حكم المعدنيات؟
الجواب: زکوٰۃ 2 ہجری میں مدینہ منورہ میں فرض ہوئی۔ نصاب: (1) سونا: 20 دینار (ساڑھے سات تولہ)۔ (2) چاندی: 200 درہم (ساڑھے باون تولہ)۔ (3) اونٹ: 5 اونٹ۔ (4) گائے: 30 گائے۔ (5) بکری/بھیڑ: 40 بکریاں۔ معدنیات (خمس): اگر زمین سے سونا، چاندی یا کوئی قیمتی دھات نکلے تو اس میں پانچواں حصہ (خمس/20%) زکوٰۃ واجب ہے۔

السؤال الرابع: مقام البخاري وسيرته (باللغة العربية)

السؤال (الف): اكتب أطروحة عن مقام البخاري في علم الحديث دراية ورواية باللغة العربية.
الجواب: يعد الإمام البخاري أمير المؤمنين في الحديث، فقد بلغ ذروة المجد في علم الرواية من حيث الضبط والعدالة، وفي علم الدراية من حيث استنباط الأحكام وفقه التراجم. كتابه “الجامع الصحيح” هو أصح كتاب بعد كتاب الله تعالى، وقد امتاز بدقة الشروط وعمق الفقه، حتى قيل: “فقه البخاري في تراجمه”. لقد أفنى حياته في تنقية السنة وجمع الأحاديث الصحيحة حتى صار مرجعاً للأمة في كل زمان ومكان.
السؤال (ب): اكتب سنة ولادة البخاري ووفاته مع بيان مذهبه الفقهي بالتفصيل باللغة العربية.
الجواب: ولد الإمام البخاري رحمه الله في سنة 194هـ بمدينة بخارى، وتوفي في ليلة عيد الفطر سنة 256هـ. أما مذهبه الفقهي، فقد اختلف العلماء فيه؛ فمنهم من نسبه للشافعية ومنهم من نسبه للحنابلة، ولكن التحقيق أنه كان “مجتهداً مطلقاً”، له اختياراته الفقهية المستنبطة مباشرة من النصوص، وهو لا يقلد أحداً بل وضع لنفسه منهجاً فقهياً فريداً يتجلى في عناوين أبواب كتابه.

حل ورقة صحيح مسلم – العالمية السنة الثانية (2024)

سوال نمبر 1: سجدہ نبوی اور اوجھڑی کا واقعہ
سوال (الف): حدیثِ مبارکہ پر اعراب لگائیں اور اس کا اردو ترجمہ کریں۔
جواب: عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُصَلِّي عِنْدَ الْبَيْتِ وَأَبُو جَهْلٍ وَأَصْحَابٌ لَهُ جُلُوسٌ، وَقَدْ نُحِرَتْ جَزُورٌ بِالْأَمْسِ، فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ: أَيُّكُمْ يَقُومُ إِلَى سَلَا جَزُورِ بَنِي فُلَانٍ فَيَأْخُذُهُ فَيَضَعُهُ عَلَى كَتِفَيْ مُحَمَّدٍ ﷺ إِذَا سَجَدَ؟ فَانْبَعَثَ أَشْقَى الْقَوْمِ فَأَخَذَهُ، فَلَمَّا سَجَدَ النَّبِيُّ ﷺ وَضَعَهُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ… الخ
ترجمہ: حضرت ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بیت اللہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے، جبکہ ابوجہل اور اس کے ساتھی بیٹھے ہوئے تھے۔ گزشتہ روز ایک اونٹ ذبح کیا گیا تھا، ابوجہل نے کہا: “تم میں سے کون اٹھ کر فلاں قبیلے کی اونٹنی کی اوجھڑی (بچہ دانی کی جھلی) لائے گا اور جب محمد (ﷺ) سجدہ کریں تو اسے ان کے کندھوں پر رکھ دے گا؟” پس ان میں سے سب سے بدبخت شخص اٹھا اور وہ اسے لے آیا، جب نبی ﷺ سجدہ میں گئے تو اس نے وہ (اوجھڑی) آپ ﷺ کے کندھوں کے درمیان رکھ دی۔
سوال (ب): پیٹھ پر نجاست کی موجودگی کے باوجود نبی ﷺ نے نماز کیسے جاری رکھی؟ مفصل جواب دیں۔
جواب: اس کے تین اہم جوابات ہیں: (1) ابتدائی دور: یہ واقعہ مکہ کے ابتدائی دور کا ہے جب نماز میں نجاست کے احکام اتنے سخت نازل نہیں ہوئے تھے جتنے مدینہ میں ہوئے۔ (2) اضطراری حالت: آپ ﷺ سجدے کی حالت میں تھے اور وہ نجاست اتنی وزنی تھی کہ آپ ﷺ اسے خود ہٹانے کی قدرت نہیں رکھتے تھے، لہٰذا مجبوری کی بنا پر آپ ﷺ نے سجدہ طویل فرمایا۔ (3) عملِ قلیل: آپ ﷺ انتظار فرما رہے تھے کہ کوئی اسے ہٹائے (جیسے بعد میں حضرت فاطمہؓ آئیں)۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ نماز میں کوئی شدید مجبوری پیش آ جائے تو نماز باطل نہیں ہوتی۔
سوال (ج): “اشقی القوم” (سب سے بڑا بدبخت) سے کون مراد ہے؟ اس کا نام لکھیں۔
جواب: اس سے مراد عقبہ بن ابی معیط ہے، جس نے ابوجہل کے کہنے پر یہ قبیح حرکت کی تھی۔

سوال نمبر 2: ہند بنت عتبہ کا سوال اور نفقہ کے احکام
سوال (الف): حدیثِ مبارکہ پر اعراب لگائیں اور اس کا اردو ترجمہ کریں۔
جواب: عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: دَخَلَتْ هِنْدُ بِنْتُ عُتْبَةَ امْرَأَةُ أَبِي سُفْيَانَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ، لَا يُعْطِينِي مِنَ النَّفَقَةِ مَا يَكْفِينِي وَيَكْفِي بَنِيَّ، إِلَّا مَا أَخَذْتُ مِنْ مَالِهِ بِغَيْرِ عِلْمِهِ، فَهَلْ عَلَيَّ فِي ذَلِكَ مِنْ جُنَاحٍ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: “خُذِي مِنْ مَالِهِ بِالْمَعْرُوفِ مَا يَكْفِيكِ وَيَكْفِي بَنِيكِ“۔
ترجمہ: حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ ابوسفیان کی اہلیہ ہند بنت عتبہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ابوسفیان ایک بخیل آدمی ہیں، وہ مجھے اتنا نفقہ (خرچہ) نہیں دیتے جو مجھے اور میرے بچوں کو کافی ہو، سوائے اس کے جو میں ان کے علم کے بغیر ان کے مال سے لے لیتی ہوں، تو کیا اس پر مجھ پر کوئی گناہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: “تم دستور کے مطابق ان کے مال سے اتنا لے سکتی ہو جو تمہیں اور تمہارے بچوں کو کافی ہو جائے۔”
سوال (ب): کیا غائب (غیر حاضر شخص) پر فیصلہ (قضاء) کرنا جائز ہے؟ اگر نہیں تو اس حدیث کی توجیہ کیا ہوگی؟
جواب: اس میں اختلاف ہے۔ ائمہ ثلاثہ کے نزدیک غائب پر فیصلہ جائز ہے۔ احناف کے نزدیک غائب پر فیصلہ (Judgement) جائز نہیں جب تک وہ حاضر نہ ہو یا اس کا وکیل نہ ہو۔ توجیہ: اس حدیث کے بارے میں احناف فرماتے ہیں کہ یہ “قضاء” (عدالتی فیصلہ) نہیں تھا بلکہ “فتویٰ” تھا، اور مفتی کے لیے ضروری نہیں کہ فریقِ ثانی موجود ہو۔
سوال (ج): مذکورہ مسئلے (غائب پر فیصلہ) میں فقہاء کا اختلاف بیان کریں۔
جواب: امام شافعی، مالک اور احمد: ان کے نزدیک قاضی کے لیے غائب پر فیصلہ کرنا جائز ہے بشرطیکہ مدعی کے پاس گواہ موجود ہوں۔
احناف: ان کے نزدیک یہ جائز نہیں کیونکہ مدعی علیہ (جس پر دعویٰ ہے) کو اپنی صفائی کا موقع ملنا ضروری ہے، ورنہ یہ عدل کے خلاف ہے۔

سوال نمبر 3: کلالہ اور آیاتِ میراث کا نزول
سوال (الف): حدیثِ مبارکہ کا اردو ترجمہ کریں۔
جواب: حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ میں بیمار ہوا تو رسول اللہ ﷺ اور ابوبکرؓ پیدل چل کر میری عیادت کو آئے۔ مجھ پر غشی طاری تھی، آپ ﷺ نے وضو کیا اور اپنے وضو کا پانی مجھ پر چھڑکا تو مجھے افاقہ ہوا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اپنے مال کا فیصلہ کیسے کروں؟ آپ ﷺ نے خاموشی اختیار کی یہاں تک کہ کلالہ کے بارے میں آیتِ میراث نازل ہوئی۔ دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: “اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں وصیت کرتا ہے کہ مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے۔”
سوال (ب): “کلالہ” کے معنی لکھیں اور ان دونوں حدیثوں کے درمیان مطابقت (توفیق) پیدا کریں۔
جواب: کلالہ: وہ شخص جو فوت ہو جائے اور اس کا نہ باپ (اصول) ہو اور نہ بیٹا (فروع)۔ توفیق: پہلی روایت میں کلالہ والی آیت کا ذکر ہے جو میراث کے عمومی احکام سے متعلق ہے، جبکہ دوسری روایت میں اولاد کے حصوں کا ذکر ہے۔ ان میں مطابقت یہ ہے کہ حضرت جابرؓ نے جب سوال کیا تو آپ ﷺ پر میراث کی تمام آیات بتدریج نازل ہوئیں، جن میں کلالہ اور اولاد دونوں کے احکام شامل تھے۔
سوال (ج): کیا صالحین کے آثار سے تبرک حاصل کرنا جائز ہے؟ دلیل سے واضح کریں۔
جواب: جی ہاں! صالحین کے آثار (کپڑے، وضو کا پانی، بال وغیرہ) سے تبرک حاصل کرنا بالکل جائز اور مستحب ہے۔ دلیل: اسی حدیث میں ذکر ہے کہ حضور ﷺ نے اپنا وضو کا پانی حضرت جابرؓ پر ڈالا جس سے انہیں شفا ملی۔ اسی طرح صحابہ کرام حضور ﷺ کے وضو کے پانی کو نیچے نہیں گرنے دیتے تھے اور اسے تبرکاً جسم پر مل لیتے تھے۔

سوال نمبر 4: خيار المجلس (سودا منسوخ کرنے کا اختیار)
سوال (الف): حدیثِ مبارکہ کا اردو ترجمہ کریں۔
جواب: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جب دو تجارت کرنے والے سودا کریں، تو دونوں کو (سودا منسوخ کرنے کا) اختیار ہے جب تک کہ وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں، یا یہ کہ بیع “خیار” (اختیار کی شرط) پر ہوئی ہو۔ پس اگر بیع اختیار پر ہوئی تو بیع لازم ہو گئی۔” حضرت نافعؒ فرماتے ہیں کہ ابن عمرؓ جب کسی سے سودا کرتے اور چاہتے کہ وہ سودا ختم نہ کرے، تو تھوڑی دور چل کر پھر واپس آ جاتے (تاکہ جدائی ثابت ہو جائے اور اختیار ختم ہو جائے)۔
سوال (ب): کیا ایجاب و قبول سے بیع پکی ہو جاتی ہے یا اس کے بعد بھی “خیارِ مجلس” باقی رہتا ہے؟ ائمہ کا اختلاف مع دلائل لکھیں۔
جواب: ائمہ ثلاثہ (شافعی، مالک، احمد): ان کے نزدیک جب تک دونوں ایک مجلس میں ہیں، چاہے ایجاب و قبول ہو چکا ہو، سودا منسوخ کرنے کا اختیار باقی رہتا ہے (خیارِ مجلس)۔ ان کی دلیل یہی حدیثِ ابن عمرؓ ہے۔
احناف: امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک ایجاب و قبول (سودا طے ہونے) سے بیع لازم ہو جاتی ہے، مجلس سے اٹھنا شرط نہیں۔ دلیل: قرآن فرماتا ہے: “إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ” (مگر یہ کہ تجارت تمہاری باہمی رضا مندی سے ہو)۔ جب دونوں راضی ہو کر ایجاب و قبول کر لیں تو سودا پکا ہو گیا۔ احناف کے نزدیک حدیث میں “جدا ہونے” سے مراد “گفتگو کا ختم ہونا” یا “ایجاب و قبول کا ہو جانا” ہے، جسمانی طور پر الگ ہونا نہیں۔
سوال (ج): حکیم بن حزام کی ولادت کہاں ہوئی اور ان کی عمر کیا تھی؟ (عربی میں لکھیں)
جواب: وُلِدَ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ فِي جَوْفِ الْكَعْبَةِ الْمُشَرَّفَةِ، وَعَاشَ مِائَةً وَعِشْرِينَ (١٢٠) سَنَةً؛ سِتُّونَ سَنَةً فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَسِتُّونَ سَنَةً فِي الْإِسْلَامِ.

حل ورقة سنن أبي داود وآثار السنن – العالمية السنة الثانية (2024)

القسم الأول: سنن أبي داود
السؤال الأول (الف): بين كيفية صلوة الخوف وأيضاً بين في هذه المسئلة مذهب الحنفية والشوافع رحمهم الله مع الدلائل.
الجواب: كيفية صلاة الخوف: امام لشکر کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے، ایک حصہ دشمن کے سامنے رہتا ہے اور دوسرا امام کے پیچھے ایک رکعت پڑھ کر دشمن کے سامنے چلا جاتا ہے، پھر دوسرا حصہ آ کر امام کے ساتھ بقیہ نماز پوری کرتا ہے۔
احناف کا موقف: صلاۃ الخوف صرف حالتِ سفر میں جائز ہے اور اس کی کیفیت وہی ہے جو قرآن (سورہ نساء) میں مذکور ہے (دو رکعت قصر کی صورت میں)۔
شوافع کا موقف: صلاۃ الخوف سفر اور حضر دونوں میں جائز ہے اور اس کی کئی کیفیات (تقریباً 16) روایات سے ثابت ہیں جو مختلف حالات کے تابع ہیں۔ دلیل: احناف کی دلیل حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی روایت ہے، جبکہ شوافع کی دلیل حضرت صالح بن خواتینؓ کی روایت ہے جو “ذات الرقاع” کے بارے میں ہے۔
السؤال الأول (ب): استدل قوم من هذا الحديث أن صلوة الخوف ركعة فما جوابك من هذا الاستدلال؟
الجواب: بعض لوگوں نے اس حدیث سے یہ سمجھا کہ صلاۃ الخوف کل ایک ہی رکعت ہے، لیکن احناف کا جواب یہ ہے کہ یہاں “رکعت” سے مراد امام کے پیچھے پڑھی جانے والی ایک رکعت ہے، مقتدی بعد میں اپنی دوسری رکعت خود پوری کرتے ہیں (لاحق کی طرح)۔ اسلام میں کوئی بھی فرض نماز (فجر کے علاوہ) ایک رکعت نہیں ہے، لہٰذا یہ استدلال ضعیف ہے اور مراد نماز کا وہ حصہ ہے جو جماعت کے ساتھ ادا کیا گیا۔
السؤال الثاني (الف): بين معنى الجهاد لغة وشرعا مع بيان الأقسام والأحكام.
الجواب: لغوی معنی: کوشش کرنا، مشقت اٹھانا۔ شرعی معنی: کلمۃ اللہ کی سربلندی کے لیے اپنی جان، مال اور زبان سے کوشش کرنا۔ اقسام: (1) جہاد بالسیف (قتال)۔ (2) جہاد بالنفس (نفس پر قابو پانا)۔ (3) جہاد بالعلم والقلم۔ (4) جہاد بالمال۔ احکام: جہاد عام حالات میں “فرضِ کفایہ” ہے، لیکن اگر دشمن اسلامی ملک پر حملہ کر دے تو “فرضِ عین” ہو جاتا ہے۔
السؤال الثاني (ب): هل يجوز شركة المسلمين فى الاتحاد العالمى المشتمل على اليهود والنصارى وغيرهما المخالف لمملكة فلسطين؟
الجواب: قرآن و سنت کی روشنی میں ایسے کسی بھی اتحاد یا تنظیم کا حصہ بننا جو مسلمانوں (خاص طور پر فلسطین) کے خلاف جارحیت میں ملوث ہو یا دشمن کی معاونت کرے، ناجائز اور حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ” (گناہ اور زیادتی پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو)۔ مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ مظلوم مسلمانوں کی حمایت کریں اور اسلام دشمن قوتوں کے آلہ کار نہ بنیں۔
السؤال الثالث (أ): ترجمة الإمام أبي داود (باللغة العربية).
الجواب: هو الإمام سليمان بن الأشعث السجستاني، ولد سنة 202هـ وتوفي سنة 275هـ. كان إماماً في الحديث وفقهاً ورعاً، رحل في طلب العلم إلى الحجاز والشام ومصر والعراق. مذهبه الفقهي قيل إنه كان حنبلياً وقيل إنه مجتهد. قال عنه الإمام النووي: “أجمع أهل الحديث وغيرهم على كمال حفظه وعلمه”. كتابه “السنن” هو أحد الكتب الستة المشهورة، وقد اعتنى فيه بأحاديث الأحكام بشكل أساسي.
السؤال الثالث (ب): سنن أبي داود من أي قسم من كتب الأحاديث وكم عدد الأحاديث المستخرجة فيه وما هي النسخ الأربعة؟
الجواب: یہ “سنن” کے قسم کی کتاب ہے (یعنی وہ کتاب جو فقہی ابواب پر مرتب ہو)۔ اس میں کل 4800 احادیث ہیں (جو پانچ لاکھ احادیث میں سے منتخب کی گئیں)۔ چار مشہور نسخے: (1) نسخہ لؤلؤی۔ (2) نسخہ ابن داسہ۔ (3) نسخہ ابن الاعرابی۔ (4) نسخہ ابوعلی الرملي۔

القسم الثاني: آثار السنن
السؤال الرابع (ب): بين كيفية المسح على الخفين وأيضاً بين مدته للمقيم والمسافر مع اختلاف الأئمة.
الجواب: کیفیت: ہاتھ کی تین انگلیوں کو پانی سے تر کر کے موزوں کے اوپری حصے (ظاہر) پر انگلیوں کے سروں سے شروع کر کے پنڈلی کی طرف لکیریں کھینچنا۔ مدت: مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات (24 گھنٹے) اور مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں (72 گھنٹے)۔ اس مدت پر ائمہ اربعہ کا اتفاق ہے (سوائے امام مالک کے ایک قول کے جس میں انہوں نے مدت کی تحدید نہیں کی، مگر جمہور کے نزدیک یہی مدت راجح ہے)۔
السؤال الرابع (ج): هل يعيد الوضوء أم يمسح فقط بعد مضي المدة؟
الجواب: جب مسح کی مدت ختم ہو جائے تو اگر وضو باقی ہو تو پورا وضو دہرانا ضروری نہیں، بلکہ صرف دونوں پاؤں دھو لینا کافی ہے، اس کے بعد وہ دوبارہ موزے پہن کر مسح شروع کر سکتا ہے۔ لیکن اگر وضو بھی ٹوٹ چکا ہو تو مکمل وضو فرض ہے۔
السؤال الخامس (ب): اشرح الحديث وأيضاً بين الوقت المستحب للفجر عند الائمة مع دلائلهم.
الجواب: احناف: فجر کی نماز اسفار (روشنی پھیلنے پر) میں پڑھنا مستحب ہے۔ دلیل: “اسفروا بالفجر فانہ اعظم للاجر” (فجر کو روشنی میں پڑھو یہ اجر میں زیادہ ہے)۔ ائمہ ثلاثہ (شافعی، مالک، احمد): فجر غلس (اندھیرے) میں پڑھنا مستحب ہے۔ ان کی دلیل حضرت عائشہؓ کی روایت ہے کہ عورتیں اندھیرے میں نماز پڑھ کر نکلتی تھیں اور پہچانی نہیں جاتی تھیں۔ احناف کا جواب یہ ہے کہ وہ ابتدائی دور کا عمل تھا، بعد میں اسفار کا حکم دیا گیا۔
السؤال السادس (ب): اذكر اختلاف ائمة الحنفية والشافعية وغير المقلدين عن الرفع وعدمه بالدلائل ورجح بالدلائل موقفك.
الجواب: شوافع و غیر مقلدین:
رکوع میں جاتے اور اٹھتے وقت رفع یدین کرنا سنت ہے؛ ان کی دلیل حضرت ابن عمرؓ کی مرفوع حدیث ہے۔
احناف: صرف تکبیرِ تحریمہ کے وقت رفع یدین سنت ہے، رکوع میں نہیں۔ احناف کی دلیل: (1) حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی روایت کہ انہوں نے حضور ﷺ کی طرح نماز پڑھی اور صرف ایک بار ہاتھ اٹھائے۔ (2) حضرت جابر بن سمرہؓ کی روایت کہ آپ ﷺ نے رفع یدین کرنے والوں کو دیکھ کر فرمایا: “کیا بات ہے میں تمہیں سرکش گھوڑوں کی دموں کی طرح ہاتھ اٹھاتے دیکھتا ہوں، نماز میں سکون اختیار کرو”۔ ترجیح: احناف کا موقف راجح ہے کیونکہ یہ نماز کے سکون اور آخری نبوی عمل کے مطابق ہے۔

حل ورقة سنن النسائي وابن ماجه – العالمية السنة الثانية (2024)
القسم الأول: سنن النسائي
سوال نمبر 1 (الف): حدیثِ مبارکہ پر اعراب لگائیں اور اس کا اردو ترجمہ کریں۔
الجواب: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ بَعْضَ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ ﷺ اغْتَسَلَتْ مِنَ الْجَنَابَةِ، فَتَوَضَّأَ النَّبِيُّ ﷺ بِفَضْلِهَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: “إِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ”۔
ترجمہ: حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کی کسی زوجہ مطہرہ نے جنابت کا غسل کیا، پھر نبی ﷺ نے ان کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنا چاہا تو انہوں نے عرض کیا (کہ میں اس سے غسل کر چکی ہوں)، آپ ﷺ نے فرمایا: “پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔”
سوال نمبر 1 (ب): اس حدیث کا اہم ترین مقصد کیا ہے؟ نیز “الماء طهور لا ينجسه شيء” سے کس نے استدلال کیا اور احناف کا جواب کیا ہے؟
الجواب: مقصدِ اہم: اس حدیث کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ عورت کے استعمال سے بچا ہوا پانی بذاتِ خود ناپاک نہیں ہوتا۔ استدلال: امام شافعیؒ اور ائمہ ظواہر اس سے استدلال کرتے ہیں کہ پانی جب تک اوصافِ ثلاثہ (رنگ، بو، مزہ) نہ بدلے، ناپاک نہیں ہوتا، چاہے وہ قلیل ہو یا استعمال شدہ۔ جوابِ احناف: احناف کے نزدیک اگر عورت نے تنہائی میں پانی استعمال کیا ہو تو اس کے بچے ہوئے پانی سے مرد کا وضو کرنا “مکروہِ تنزیہی” ہے، یہ حدیث یا تو کثیر پانی پر محمول ہے یا اس وقت پر جب پانی کی قلت ہو۔
سوال نمبر 2 (الف): حدیثِ مبارکہ پر اعراب لگائیں اور اسے اردو میں منتقل کریں۔
الجواب: عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: تَمَارَى رَجُلَانِ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ، فَقَالَ رَجُلٌ: هُوَ مَسْجِدُ قُبَاءٍ، وَقَالَ الْآخَرُ: هُوَ مَسْجِدُ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: “هُوَ مَسْجِدِي هَذَا”۔
ترجمہ: حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے اس مسجد کے بارے میں بحث کی جس کی بنیاد پہلے دن سے تقویٰ پر رکھی گئی؛ ایک نے کہا وہ “مسجدِ قباء” ہے اور دوسرے نے کہا وہ “مسجدِ نبوی” ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “وہ میری یہ مسجد (مسجدِ نبوی) ہے۔”
سوال نمبر 2 (ب): حدیث کی روشنی میں مسجدِ قباء، مسجدِ حرام اور مسجدِ نبوی کی فضیلت لکھیں۔
الجواب: مسجدِ حرام: اس میں ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے۔ مسجدِ نبوی: اس میں ایک نماز کا ثواب ایک ہزار نمازوں کے برابر ہے۔ مسجدِ قباء: اس مسجد میں آ کر دو رکعت نماز پڑھنا ایک “عمرہ” کے برابر ثواب رکھتا ہے۔
سوال نمبر 3 (الف): حدیث کا ترجمہ کریں، نیز نمازی کے آگے سے گزرنے کی تشدید (سختی) حدیث کی روشنی میں بیان کریں۔
الجواب: ترجمہ: حضرت براء بن عازبؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو 16 یا 17 ماہ تک بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی، پھر آپ کا رخ کعبہ کی طرف کر دیا گیا۔ تشدید: نمازی کے سامنے سے گزرنا سخت گناہ ہے؛ حدیث میں ہے کہ اگر گزرنے والے کو اپنے گناہ کی خبر ہو جائے تو وہ چالیس (سال یا دن) تک کھڑا رہنے کو گزرنے سے بہتر سمجھے۔

القسم الثاني: سنن ابن ماجه
سوال نمبر 4 (الف): حدیثِ مبارکہ پر اعراب لگائیں اور اس کا اردو ترجمہ کریں۔
الجواب: عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: “لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا هَامَةَ”۔ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ الْبَعِيرَ يَكُونُ بِهِ الْجَرَبُ فَيُجْرِبُ الْإِبِلَ كُلَّهَا؟ قَالَ: “ذَلِكُمُ الْقَدَرُ، فَمَنْ أَجْرَبَ الْأَوَّلَ؟”۔
ترجمہ: حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “بیماری کا اڑ کر لگنا، بدشگونی لینا اور الو کی منحوسی کی کوئی حقیقت نہیں”۔ ایک دیہاتی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر ان اونٹوں کا کیا معاملہ ہے جن میں سے ایک کو خارش ہوتی ہے تو وہ سب کو لگ جاتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: “یہ اللہ کی تقدیر سے ہے، تو پھر پہلے اونٹ کو خارش کس نے لگائی؟”
سوال نمبر 4 (ب): “قدر” کے لغوی و شرعی معنی بیان کریں اور خط کشیدہ کلمات (عدوی، طيرة) کی شرعی حکم کے ساتھ تشریح کریں۔
الجواب: قدر: لغوی معنی اندازہ کرنا، شرعی معنی اللہ کا ازلی فیصلہ۔ عدوی: بیماری کا بذاتِ خود لگنا باطل عقیدہ ہے، بیماری اللہ کے حکم سے لگتی ہے۔ طيرة: پرندوں یا آوازوں سے نیک یا بد شگون لینا اسلام میں ممنوع اور شرک کی ایک قسم ہے۔
سوال نمبر 6 (الف): حدیث کا ترجمہ کریں اور “دیت” کے لغوی و شرعی معنی بیان کریں۔
الجواب: ترجمہ: عمرو بن شعیب اپنے والد اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جس نے جان بوجھ کر قتل کیا وہ مقتول کے اولیاء کے حوالے کیا جائے گا، اگر وہ چاہیں تو قتل (قصاص) کریں اور چاہیں تو دیت لیں”۔ دیت (لغوی): بدلہ یا جرمانہ۔ دیت (شرعی): وہ مال جو قتل یا اعضاء کے نقصان کے بدلے مقتول کے ورثاء کو دیا جاتا ہے۔
سوال نمبر 6 (ب): قتل کی اقسام تفصیل سے بیان کریں اور بتائیں کہ کس قسم میں دیت واجب ہوتی ہے؟
الجواب: قتل کی پانچ اقسام ہیں: (1) قتلِ عمد: جان بوجھ کر ہتھیار سے مارنا (اس میں قصاص ہے)۔ (2) شبہِ عمد: لکڑی یا پتھر سے مارنا (اس میں دیتِ مغلظہ ہے)۔ (3) قتلِ خطا: نشانہ چوک جانے سے قتل ہونا (اس میں دیتِ مخففہ ہے)۔ (4) قائم مقام خطا: سوتے میں کسی پر گر کر مار دینا (دیت واجب ہے)۔ (5) قتل بالسبب: کنواں کھودنا جس میں گر کر کوئی مر جائے (دیت واجب ہے)۔

حل شدہ پرچہ: سنن النسائی و ابن ماجہ (عالمیہ سال دوم – 2024)

القسم الأول: سنن النسائی
سوال نمبر 1: کتے کے جھوٹے برتن کو دھونے کا حکم سوال (الف): عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ وَرَخَّصَ فِي كَلْبِ الصَّيْدِ وَالْغَنَمِ، وَقَالَ: “إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي الْإِنَاءِ فَاغْسِلُوهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ وَعَفِّرُوهُ الثَّامِنَةَ بِالتُّرَابِ”۔ اس پر اعراب لگائیں اور اردو ترجمہ کریں۔
الجواب: ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مغفلؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (ابتداءً) کتوں کو مارنے کا حکم دیا، پھر شکاری کتے اور ریوڑ کی حفاظت والے کتے رکھنے کی رخصت دی، اور فرمایا: “جب کتا برتن میں منہ ڈال دے تو اسے سات مرتبہ دھوؤ اور آٹھویں مرتبہ مٹی سے مانجھو (صاف کرو)۔”
سوال (ب): کتا برتن میں منہ ڈال دے تو اسے پاک کرنے کے بارے میں ائمہ کا اختلاف مع دلائل بیان کریں۔
الجواب: شوافع و حنابلہ: ان کے نزدیک برتن کو سات بار دھونا واجب ہے اور ایک بار مٹی لگانا بھی ضروری ہے؛ ان کی دلیل یہی حدیث ہے۔
احناف: امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک کتے کا جھوٹا برتن تین بار دھونے سے پاک ہو جاتا ہے۔ دلیل: احناف فرماتے ہیں کہ سات بار دھونے کا حکم ابتدائی دور میں “وجوب” کے لیے تھا تاکہ لوگ کتوں سے نفرت کریں، بعد میں یہ حکم منسوخ ہو کر عام نجاست کی طرح تین بار دھونے پر آ گیا۔ نیز راویِ حدیث حضرت ابوہریرہؓ کا اپنا فتویٰ بھی تین بار دھونے کا ہے، اور قاعدہ ہے کہ راوی کا عمل اپنی روایت کے خلاف ہو تو عمل کو ترجیح ملتی ہے۔
سوال (ج): بلی، حائضہ عورت اور کافر کے جھوٹے (سؤر) کا کیا حکم ہے؟
الجواب: (1) بلی کا جھوٹا: مکروہِ تنزیہی ہے (یعنی پاک ہے مگر استعمال نہ کرنا بہتر ہے)۔ (2) حائضہ عورت کا جھوٹا: بالکل پاک ہے اور بلا کراہت جائز ہے۔ (3) کافر کا جھوٹا: احناف کے نزدیک پاک ہے (بشرطیکہ اس کے منہ میں کوئی نجاست مثلاً شراب وغیرہ لگی نہ ہو) کیونکہ انسان کی ذات ناپاک نہیں ہوتی۔

سوال نمبر 2: ریاض الجنة کی فضیلت سوال (الف): مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ۔ کیا یہ ٹکڑا حقیقت میں جنت کا حصہ ہے یا تمثیل؟ اہل سنت کے محققین کی تحقیق بیان کریں۔
الجواب: اہل سنت کے محققین کے نزدیک اس میں دو قول ہیں: (1) حقیقت پر ہے: یعنی یہ زمین کا وہ حصہ ہے جو قیامت کے دن بعینہ اٹھا کر جنت میں منتقل کر دیا جائے گا۔ (2) تمثیل و مجاز: یعنی اس جگہ عبادت کرنا جنت کے باغوں میں پہنچنے کا ذریعہ ہے، یا یہاں جنت جیسی رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔ راجح قول: محققین کے نزدیک یہ حقیقی ہے، جیسے حجرِ اسود جنت کا پتھر ہے، ویسے ہی یہ زمین کا ٹکڑا بھی جنت کا ہے۔
سوال (ب): کیا حضور ﷺ کا گھر اور منبرِ شریف روضہ کی حدود سے باہر ہیں یا داخل؟ دلیل سے واضح کریں۔
الجواب: روایت کے الفاظ “مَا بَيْنَ” (درمیان) سے بظاہر یہ لگتا ہے کہ گھر اور منبر حدود سے باہر ہیں، مگر صحیح تحقیق یہ ہے کہ گھر اور منبر دونوں اس برکت میں داخل اور اس کے سرے (Edges) ہیں۔ جیسے کسی چیز کی حدود بتائی جائیں تو حدود بھی اس میں شامل ہوتی ہیں۔ حضرت علامہ عینیؒ فرماتے ہیں کہ منبرِ شریف کی جگہ بھی جنت کے حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔

القسم الثاني: سنن ابن ماجہ

سوال نمبر 4: روزے کی فضیلت اور “صیامِ داؤد” سوال (الف): صوم (روزے) کے لغوی و شرعی معنی اور ان کے درمیان مناسبت بیان کریں۔
الجواب: لغوی معنی: رک جانا (الامساک)۔ شرعی معنی: صبح صادق سے غروبِ آفتاب تک نیت کے ساتھ کھانے، پینے اور نفسانی خواہشات سے رکے رہنا۔ مناسبت: لغوی معنی “عام رکنے” کے ہیں اور شرعی معنی “خاص چیزوں سے خاص وقت میں رکنے” کے ہیں، لہٰذا لغوی معنی شرعی معنی میں مکمل طور پر پائے جاتے ہیں۔
سوال (ب): حدیثِ قدسی “روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا” کے بارے میں علماء کی چار وجوہات لکھیں۔
الجواب: (1) اخفاء: روزہ ایک مخفی عبادت ہے جس میں ریاکاری نہیں ہو سکتی، باقی عبادات نظر آتی ہیں۔ (2) بے نیازی: کھانے پینے سے رکنا اللہ کی صفت ہے، بندہ روزہ رکھ کر صفتِ الہی سے مشابہت اختیار کرتا ہے۔ (3) جزائے عظیم: روزے کا اجر اللہ نے اپنے ذمہ لیا ہے جس کی کوئی حد نہیں۔ (4) اضافتِ تشریفی: جیسے کعبہ کو “بیت اللہ” کہا جاتا ہے، ویسے ہی روزے کو اپنی طرف منسوب کر کے اس کی شان بڑھائی گئی۔
سوال (ج): “صیامِ داؤد” کا کیا معنی ہے؟ حدیث کی روشنی میں بتائیں۔
الجواب: صیامِ داؤد سے مراد حضرت داؤد علیہ السلام کا طریقہ ہے کہ وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے۔ حضور ﷺ نے اسے “افضل الصیام” (بہترین روزہ) قرار دیا ہے۔

سوال نمبر 6: کھال اتارنے کا نبوی طریقہ اور طہارت سوال (الف): حدیثِ سلخِ شاہ (بکری کی کھال اتارنا) پر اعراب لگائیں اور اردو ترجمہ کریں۔
الجواب: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِغُلَامٍ يَسْلَخُ شَاةً فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: “تَنَحَّ حَتَّى أُرِيَكَ” فَأَدْخَلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَدَهُ بَيْنَ الْجِلْدِ وَاللَّحْمِ فَدَحَسَ بِهَا حَتَّى تَوَارَتْ إِلَى الْإِبِطِ وَقَالَ: “يَا غُلَامُ هَكَذَا فَاسْلَخْ” ثُمَّ مَضَى وَصَلَّى لِلنَّاسِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ۔
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ ایک لڑکے کے پاس سے گزرے جو بکری کی کھال اتار رہا تھا، آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: “پرے ہٹ جاؤ تاکہ میں تمہیں دکھاؤں (کہ کھال کیسے اتارتے ہیں)”۔ پس آپ ﷺ نے اپنا دستِ مبارک کھال اور گوشت کے درمیان ڈالا اور اسے اندر دھنسایا یہاں تک کہ ہاتھ بغل تک چھپ گیا، پھر فرمایا: “اے لڑکے! اس طرح کھال اتارا کرو”۔ پھر آپ ﷺ تشریف لے گئے اور لوگوں کو نماز پڑھائی اور نیا وضو نہیں کیا۔
سوال (ب): اس حدیث کی مفصل شرح کریں (مسئلہ طہارت و لمسِ عورت)۔
الجواب: اس حدیث سے دو اہم مسائل ثابت ہوتے ہیں: (1) جانور کی کھال اتارنے کا طریقہ: حضور ﷺ نے بتایا کہ ہاتھ کے ذریعے کھال اور گوشت کو الگ کرنا زیادہ بہتر ہے تاکہ گوشت ضائع نہ ہو۔ (2) مسئلہ وضو: آپ ﷺ نے جانور کے گوشت اور خون سے ہاتھ لگنے کے باوجود دوبارہ وضو نہیں کیا، جس سے ثابت ہوا کہ کسی جانور یا گوشت کو ہاتھ لگانے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ (3) شفقت: آپ ﷺ کا ایک عام لڑکے کو کام سکھانا آپ ﷺ کی کمالِ شفقت اور تواضع کی دلیل ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *