Tanzeem ul Madaris Solved Past Paper 2023 | PDF (طلباء کے لیے)عالمیہ سال اول

امتحان: عالمیہ سال اول (2023) 

تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان

الورقة الأولى: علم الكلام (شرح عقائد نسفی)


سوال نمبر 1
“اِعْلَمْ أَنَّ الْأَحْكَامَ الشَّرْعِيَّةَ مِنْهَا مَا يَتَعَلَّقُ بِكَيْفِيَّةِ الْعَمَلِ وَتُسَمَّى فَرْعِيَّةً وَعَمَلِيَّةً وَمِنْهَا مَا يَتَعَلَّقُ بِالِاعْتِقَادِ وَتُسَمَّى أَصْلِيَّةً وَاعْتِقَادِيَّةً…”
(الف) عبارت پر اعراب اور ترجمہ:
  • اعراب: (اوپر عبارت میں لگا دیے گئے ہیں)۔
  • ترجمہ: “جان لو کہ احکامِ شرعیہ میں سے کچھ وہ ہیں جن کا تعلق عمل کی کیفیت سے ہے، اور ان کا نام ‘فرعیہ اور عملیہ’ رکھا جاتا ہے۔ اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جن کا تعلق اعتقاد (عقیدہ) سے ہے، اور ان کا نام ‘اصلیہ اور اعتقادیہ’ رکھا جاتا ہے۔ اور پہلی قسم (عملیہ) سے متعلق علم کو ‘علمِ شرائع و احکام’ کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ احکام صرف شرع ہی کی طرف سے حاصل کیے جاتے ہیں اور احکام کا لفظ بولنے سے ذہن فوراً انہی کی طرف جاتا ہے۔ اور دوسری قسم (اعتقادیہ) کے علم کو ‘علمِ توحید و صفات’ کہا جاتا ہے۔”
(ب) ان احکام کو فرعیہ/عملیہ اور اصلیہ/اعتقادیہ کہنے کی وجہ:
  • اصلیہ و اعتقادیہ: عقائد کو “اصلیہ” اس لیے کہتے ہیں کہ یہ دین کی جڑ (بنیاد) ہیں، اور “اعتقادیہ” اس لیے کہ ان کا مقصد دل سے پختہ یقین رکھنا ہے۔
  • فرعیہ و عملیہ: احکامِ فقہیہ (نماز، روزہ وغیرہ) کو “فرعیہ” اس لیے کہتے ہیں کہ یہ عقائد کی شاخیں ہیں (پہلے ایمان لانا ضروری ہے پھر عمل)، اور “عملیہ” اس لیے کہ ان کا تعلق ہاتھ پاؤں کے ظاہری افعال سے ہے۔
(ج) اعتقادی احکام کے علم کو “علم التوحید والصفات” کہنے کی وجہ: اس کی وجہ یہ ہے کہ اس علم کا سب سے اہم اور مرکزی موضوع اللہ تعالیٰ کی وحدانیت (توحید) اور اس کی کمال کی صفات کا بیان ہے۔ چونکہ اشرفُ المباحث (سب سے افضل بحث) یہی ہے، اس لیے پورے علم کا نام ہی اس کے سب سے اہم رکن “توحید و صفات” پر رکھ دیا گیا۔

سوال نمبر 2
(الف) تین فرقوں کا مختصر تعارف:
  1. معتزلہ: اس کا بانی واصل بن عطا تھا۔ یہ عقل کو نقل (قرآن و حدیث) پر مقدم رکھتے ہیں۔ ان کا مشہور نظریہ “خلقِ قرآن” اور “مرتکبِ کبیرہ کا ہمیشہ جہنم میں رہنا” ہے۔
  2. خوارج: یہ وہ لوگ ہیں جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لشکر سے الگ ہو گئے تھے۔ یہ گناہِ کبیرہ کرنے والے کو کافر قرار دیتے ہیں اور حکمرانِ وقت کے خلاف خروج کو جائز سمجھتے ہیں۔
  3. جبریہ: یہ وہ فرقہ ہے جو کہتا ہے کہ انسان اپنے افعال میں بالکل مجبور ہے، اس کا اپنا کوئی اختیار نہیں۔ (یہ قدریہ کے بالکل برعکس ہیں)۔
(ب) اسبابِ علم کی اقسام اور وضاحت: اہلِ حق کے نزدیک اسبابِ علم تین ہیں:
  1. حواسِ خمسہ سلیمہ (دیکھنا، سننا، سونگھنا، چکھنا، چھونا)۔
  2. خبرِ صادق (وحی اور ایسی خبر جسے جھٹلانا ناممکن ہو)۔
  3. عقل۔
  • وضاحت (حواسِ خمسہ): انسان اپنے پانچ حواس کے ذریعے مادی اشیاء کا علم حاصل کرتا ہے۔ مثلاً آنکھ سے رنگوں کا دیکھنا اور کان سے آوازوں کا سننا۔ اگر یہ حواس سلامت ہوں تو ان سے حاصل ہونے والا علم یقینی ہوتا ہے۔

سوال نمبر 3
“وَعَذَابُ الْقَبْرِ لِلْكَافِرِينَ وَلِبَعْضِ عُصَاةِ الْمُؤْمِنِينَ وَتَنْعِيمُ أَهْلِ الطَّاعَةِ فِي الْقَبْرِ… ثَابِتٌ بِالدَّلَائِلِ السَّمْعِيَّةِ.”
(الف) عبارت پر اعراب اور ترجمہ:
  • ترجمہ: “اور کافروں کے لیے اور بعض گناہگار مومنوں کے لیے قبر کا عذاب، اور قبر میں اطاعت گزاروں کے لیے نعمتیں، اور منکر و نکیر کا سوال؛ یہ سب دلائلِ سمعیہ (قرآن و حدیث) سے ثابت ہے۔”
(ب) عذابِ قبر پر اہل سنت اور معتزلہ کا اختلاف:
  • اہل سنت: قبر کا عذاب اور راحت برحق ہے۔ روح کا جسم کے ساتھ ایک ایسا تعلق پیدا کر دیا جاتا ہے کہ وہ تکلیف یا لذت محسوس کر سکے۔
  • معتزلہ: یہ عذابِ قبر کا انکار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میت ایک بے حس مٹی کا ڈھیر ہے، وہ عذاب یا سوال و جواب کیسے محسوس کر سکتی ہے؟
(ج) معتزلہ کے دلائل کا جواب: اہل سنت فرماتے ہیں کہ عذابِ قبر “امورِ آخرت” میں سے ہے، اسے دنیا پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ جس طرح ایک سویا ہوا شخص خواب میں راحت یا تکلیف محسوس کرتا ہے اور پاس بیٹھے شخص کو پتہ نہیں چلتا، اسی طرح قبر کا معاملہ بھی برزخی ہے۔ اللہ تعالیٰ مردہ اجزاء میں زندگی پیدا کرنے پر قادر ہے۔

سوال نمبر 4
(الف) شفاعت پر اہل سنت اور معتزلہ کا اختلاف:
  • اہل سنت: حضور ﷺ کی شفاعت اہل کبائر (بڑے گناہگاروں) کے لیے برحق ہے تاکہ ان کی مغفرت ہو۔
  • معتزلہ: یہ کہتے ہیں کہ شفاعت صرف نیک لوگوں کے درجات بلند کرنے کے لیے ہوگی، گناہگاروں کے لیے نہیں، کیونکہ ان کے نزدیک گناہگار کا جہنم سے نکلنا ممکن نہیں۔
(ب) ایمان کا لغوی و شرعی معنی اور مناسبت:
  • لغوی معنی: تصدیق کرنا (مان لینا)۔
  • شرعی معنی: ان تمام باتوں کی دل سے تصدیق کرنا جو حضور ﷺ اللہ کی طرف سے لائے۔
  • مناسبت: لغوی معنی “ماننا” عام ہے، اور شرعی معنی میں “خاص طور پر حضور ﷺ کی لائی ہوئی خبروں کو ماننا” ہے۔
(ج) ایمان اور اسلام میں فرق:
  • مؤقف: لغت کے اعتبار سے ایمان (تصدیقِ قلبی) اور اسلام (انقیاد و اطاعت) الگ ہیں۔ لیکن شرعاً یہ ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ ایمان کے بغیر اسلام (ظاہری اطاعت) مقبول نہیں، اور اسلام کے بغیر ایمان کا دعویٰ معتبر نہیں۔ عقائد کی کتب میں “الایمان والاسلام واحد” اسی لیے کہا جاتا ہے کہ حکماً دونوں ایک ہیں۔

الورقة الثانية: علم الفرائض (سراجی)

امتحان: عالمیہ سال اول (2023)

تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان


سوال نمبر 1
“وَالْعَصَبَةُ كُلُّ مَنْ يَأْخُذُ مَا أَبْقَتْهُ أَصْحَابُ الْفَرَائِضِ وَعِنْدَ الِانْفِرَادِ يَحْرِزُ جَمِيعَ الْمَالِ ثُمَّ بِالْعَصَبَةِ مِنْ جِهَةِ السَّبَبِ وَهُوَ مَوْلَى الْعَتَاقَةِ ثُمَّ عَصَبَتُهُ”
(الف) عبارت پر اعراب اور ترجمہ:
  • اعراب: (اوپر عبارت میں لگا دیے گئے ہیں)۔
  • ترجمہ: “اور عصبہ ہر وہ (وارث) ہے جو وہ (مال) لیتا ہے جسے ذوی الفروض چھوڑ دیں، اور اکیلا ہونے کی صورت میں وہ تمام مال کا مالک بن جاتا ہے۔ پھر (نسبی عصبات کے بعد) سببی عصبہ کا درجہ ہے اور وہ مولیٰ العتاقہ (غلام آزاد کرنے والا آقا) ہے، پھر اس کے عصبات ہیں۔”
(ب) کتاب اللہ میں کل فروض کی تعداد اور تفصیل: قرآن کریم میں کل چھ (6) حصے مقرر کیے گئے ہیں، جنہیں “فروضِ مقدرہ” کہا جاتا ہے:
  1. النصف (1/2): آدھا۔
  2. الربع (1/4): چوتھائی۔
  3. الثمن (1/8): آٹھواں حصہ۔
  4. الثلثان (2/3): دو تہائی۔
  5. الثلث (1/3): ایک تہائی۔
  6. السدس (1/6): چھٹا حصہ۔
(ج) مخارجِ فروض کی تفصیل: مخارج سے مراد وہ اعداد ہیں جن سے حصے نکالے جاتے ہیں۔ یہ کل سات (7) ہیں:
  • پہلی نوع (1/2, 1/4, 1/8) کے لیے: مخرج 2، 4، اور 8 ہیں۔
  • دوسری نوع (2/3, 1/3, 1/6) کے لیے: مخرج 3 اور 6 ہیں۔
  • دونوں انواع کے ملنے سے: مخرج 12 اور 24 بنتے ہیں۔

مخارج کا خلاصہ: 2، 3، 4، 6، 8، 12، اور 24۔


سوال نمبر 2
(الف) ماں اور سگی بہن کے مکمل احوال:
1. ماں (الأم) کے تین احوال:
  • السدس (1/6): اگر میت کی اولاد ہو یا دو یا دو سے زائد بہن بھائی ہوں۔
  • الثلث (1/3): اگر میت کی اولاد نہ ہو اور نہ ہی بہن بھائی دو یا زائد ہوں۔
  • ثلث الباقی (باقی کا 1/3): “عمریتین” کے مسائل میں (یعنی جہاں صرف شوہر/بیوی، ماں اور باپ ہوں)۔
2. سگی بہن (أخت لأب وأم) کے پانچ احوال:
  • نصف (1/2): اگر ایک ہو اور اولاد، باپ، دادا یا سگا بھائی نہ ہو۔
  • ثلثان (2/3): اگر دو یا دو سے زائد ہوں (باقی شرائط وہی ہیں)۔
  • عصبہ بغیرہ: اگر اس کے ساتھ اس کا سگا بھائی ہو۔
  • عصبہ مع غیرہ: اگر بیٹی یا پوتی کے ساتھ ہو (بہنیں بیٹیوں کے ساتھ عصبہ بن جاتی ہیں)۔
  • حجب (محرومی): بیٹا، پوتا، باپ یا دادا (احناف کے نزدیک) کی موجودگی میں۔
(ب) ماں کا حجب: ماں حجبِ حرمان (مکمل محرومی) کا شکار کبھی نہیں ہوتی، کیونکہ وہ “اصول” میں سے ہے اور میت کی قریبی رشتہ دار ہے۔ لیکن وہ حجبِ نقصان کا شکار ہوتی ہے، یعنی اولاد یا بہن بھائیوں کی موجودگی میں اس کا حصہ 1/3 سے کم ہو کر 1/6 رہ جاتا ہے۔

سوال نمبر 3
(الف) حجب پر تفصیلی نوٹ: حجب کا لغوی معنی “رکاوٹ” ہے۔ اصطلاحِ فرائض میں کسی وارث کی وجہ سے دوسرے وارث کا وراثت سے مکمل یا جزوی طور پر محروم ہو جانا “حجب” کہلاتا ہے۔
  1. حجبِ حرمان: ایک وارث کی موجودگی میں دوسرا وارث مکمل محروم ہو جائے (مثلاً بیٹے کی وجہ سے پوتا محروم)۔
  2. حجبِ نقصان: ایک وارث کی وجہ سے دوسرے کا حصہ کم ہو جائے (مثلاً اولاد کی وجہ سے شوہر کا حصہ 1/2 سے 1/4 رہ جانا)۔
(ب) دو عددوں میں نسبت کی اقسام: علمِ فرائض میں دو عددوں کے درمیان چار نسبتیں ہوتی ہیں:
  1. تماثل: دونوں عدد برابر ہوں (جیسے 3 اور 3)۔
  2. تداخل: چھوٹا عدد بڑے کو پورا تقسیم کر دے (جیسے 3 اور 6)۔
  3. توافق: دونوں عدد کسی تیسرے عدد پر تقسیم ہوتے ہوں (جیسے 6 اور 8، جو 2 پر تقسیم ہوتے ہیں
  4. تباین: دونوں میں کوئی قدرِ مشترک نہ ہو (جیسے 2 اور 3)۔

سوال نمبر 4: مسائل کا حل (لازمی)
(1) زوج (شوہر) اور سگی بہن (أخت لأب وأم):
  • شوہر: 1/2، سگی بہن: 1/2۔ (مخرج: 2۔ شوہر کو 1، بہن کو 1۔ مسئلہ مکمل)۔
(2) جدہ (دادی/نانی)، شوہر اور حفیدہ (پوتی):
  • شوہر: 1/4 (پوتی کی وجہ سے)۔
  • دادی/نانی: 1/6۔
  • پوتی (حفیدہ): 1/2۔
  • مخرج: 12 سے۔ (شوہر: 3، دادی: 2، پوتی: 6)۔ باقی 1 حصہ عصبہ کو (اگر ہو) ورنہ رد ہوگا۔
(3) زوجہ، ماں اور ابن الابن (پوتا):
  • زوجہ: 1/8 (پوتے کی وجہ سے)۔
  • ماں: 1/6 (پوتے کی وجہ سے)۔
  • پوتا: عصبہ (باقی سارا مال)۔
  • مخرج: 24 سے۔ (زوجہ: 3، ماں: 4، پوتا: 17)۔
(4) ماں، بیٹا (ابن) اور بیٹی (بنت):
  • ماں: 1/6۔
  • بیٹا اور بیٹی: عصبہ (2:1 کے تناسب سے)۔
  • مخرج: 6 سے۔ (ماں: 1، باقی 5 حصے بیٹا اور بیٹی میں تقسیم ہوں گے)۔ تصحیح کے لیے مخرج کو 3 سے ضرب دیں گے (6×3=18)۔
(5) 4 بیٹے، 2 بیٹیاں اور اخوان لأم (اخیافی بھائی):
  • اخیافی بھائی: محروم (بیٹوں کی وجہ سے)۔
  • 4 بیٹے اور 2 بیٹیاں: عصبہ۔
  • بیٹوں کے 8 حصے اور بیٹیوں کے 2، کل 10 حصوں میں پورا مال تقسیم ہوگا۔

الورقة الثالثة: الفقه وأصوله

امتحان: عالمیہ سال اول (2023) 

تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان


حصه اول: فقه (ہدایہ)

سوال نمبر 1: (الف) “وَإِذَا اشْتَرَى خَمْسَةُ نَفَرٍ دَارًا مِنْ رَجُلٍ فَلِلشَّفِيعِ أَنْ يَأْخُذَ نَصِيبَ أَحَدِهِمْ وَإِنِ اشْتَرَاهَا رَجُلٌ مِنْ خَمْسَةٍ أَخَذَهَا كُلَّهَا أَوْ تَرَكَهَا.”
  • صورتِ مسئلہ:
    1. پہلی صورت: اگر ایک آدمی سے پانچ آدمیوں نے مل کر گھر خریدا، تو شفیع (شفعہ کرنے والے) کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ چاہے تو ان پانچوں کے حصے لے لے، یا کسی ایک خریدار کا حصہ لے لے۔
    2. دوسری صورت: اگر پانچ آدمیوں نے مل کر ایک گھر ایک ہی شخص کو بیچا، تو شفیع کو یا تو پورا گھر لینا ہوگا یا پورا چھوڑنا ہوگا۔ وہ کسی ایک فروخت کنندہ کا حصہ الگ سے نہیں لے سکتا۔
  • فرق کی دلیل: پہلی صورت میں خریدار (مشتری) متعدد ہیں، لہذا شفیع کی طرف سے کسی ایک کا حصہ لینے سے “تفرقہ صفقہ” (سودے کی توڑ پھوڑ) مشتری کے حق میں لازم نہیں آتی کیونکہ اس کا حصہ پہلے ہی الگ ہے۔ دوسری صورت میں خریدار ایک ہے، اگر شفیع اس سے کچھ حصہ لے گا تو مشتری کا سودا تقسیم ہو جائے گا جو اس کے لیے نقصان دہ ہے، اور شفعہ نقصان دور کرنے کے لیے ہے نہ کہ نقصان پہنچانے کے لیے۔
(ب) صورتِ مسئلہ: باپ یا وصی کا چھوٹے بچے (صغیر) کے حقِ شفعہ کو ختم یا تسلیم کر لینا (ترکِ شفعہ):
  • امام ابوحنیفہ و امام ابو یوسف: ان کے نزدیک باپ یا وصی کا بچے کی طرف سے شفعہ چھوڑ دینا جائز ہے، بچہ بالغ ہو کر دوبارہ مطالبہ نہیں کر سکتا۔
  • امام محمد و امام زفر: ان کے نزدیک یہ ترک کرنا جائز نہیں، بچہ بالغ ہو کر اپنا حقِ شفعہ استعمال کر سکتا ہے۔
  • وجہِ ترجیح: راجح مذہب ائمہ شیخین (امام صاحب و امام ابو یوسف) کا ہے، کیونکہ باپ اور وصی کو بچے کے مال میں تصرف کا حق حاصل ہے اور شفعہ لینا کبھی بچے کے لیے مالی بوجھ (ثمن کی ادائیگی) کی وجہ سے نقصان دہ بھی ہو سکتا ہے، لہذا ان کا فیصلہ نافذ ہوگا۔

سوال نمبر 2: (الف) اضحیہ (قربانی) کی تعریف، حکم اور اختلافِ ائمہ:
  • تعریف: مخصوص ایام میں اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے مخصوص جانور ذبح کرنا۔
  • حکم: ائمہ ثلاثہ (شافعی، مالک، احمد) کے نزدیک یہ سنتِ مؤکدہ ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ صاحبِ نصاب پر واجب ہے۔
  • دلیل: احناف کی دلیل حضور ﷺ کا فرمان ہے: “جس کے پاس وسعت ہو اور وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے”۔ یہ وعید وجوب پر دلالت کرتی ہے۔
(ب) وہ عیوب جن کی وجہ سے قربانی جائز نہیں:
  1. ایسا اندھا پن جس سے جانور راستہ نہ دیکھ سکے۔
  2. ایسا لنگڑا پن کہ جانور ذبح کی جگہ تک اپنے پاؤں سے نہ چل سکے۔
  3. ایسا بیمار جانور جس کی بیماری ظاہر ہو۔
  4. ایسا لاغر اور دبلا جانور جس کی ہڈیوں میں گودا نہ رہا ہو۔
  5. جس کا کان یا دم ایک تہائی (1/3) سے زیادہ کٹ گئی ہو۔

سوال نمبر 3: “وَلَا يَنْبَغِي لِلسُّلْطَانِ أَنْ يُسَعِّرَ عَلَى النَّاسِ.”
(الف) مسئلے کی وضاحت مع دلائل:
  • مسئلہ یہ ہے کہ حکومت کو اشیاءِ ضرورت کے نرخ (قیمتیں) مقرر نہیں کرنے چاہئیں بلکہ قیمتیں رسد و طلب (Market Force) پر چھوڑ دینی چاہئیں۔
  • دلیل: رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں جب قیمتیں بڑھیں اور لوگوں نے نرخ مقرر کرنے کا مطالبہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: “اللہ ہی قیمتیں مقرر کرنے والا ہے… میں نہیں چاہتا کہ میں کسی پر ظلم کرتے ہوئے اللہ سے ملوں”۔ قیمت مقرر کرنا لوگوں کے مال میں مداخلت اور ظلم ہے۔
(ب) موجودہ دور میں حکومتی نرخ ناموں کا شرعی حکم: اگر تاجر ظلم اور ذخیرہ اندوزی (احتکار) پر اتر آئیں اور عام لوگوں کو شدید تکلیف ہو، تو اکثر فقہاء کے نزدیک “مصلحتِ عامہ” کے تحت حکومت کو قیمتیں مقرر کرنے کا حق حاصل ہے تاکہ غریب طبقے کا استحصال نہ ہو۔
(ج) بیع السلاح (اسلحہ کی فروخت) کا حکم: اہلِ فتنہ اور دشمنوں کو ہتھیار بیچنا ناجائز اور گناہ ہے کیونکہ یہ فتنے میں مدد کرنا ہے۔ عام حالات میں جائز ہے۔

حصه دوم: اصولِ فقه (توضیح و تلویح)

سوال نمبر 4: (الف) حَامِدًا لِلَّهِ… عبارت کا ترجمہ:
  • ترجمہ: “اللہ کی حمد بیان کرتے ہوئے، اور یہ (لفظ حامداً) ‘يَقُولُ’ کے فاعل سے حال بننا جائز نہیں ہے، اس لیے کہ مصنف کے پاس موجود پڑھے گئے نسخے میں ‘وَبَعْدُ فَإِنَّ الْعَبْدَ’ کا جملہ اس (حال بننے) سے پھیرنے والا ہے، لیکن قدیم نسخہ جو اس صراف (پھیرنے والے جملے) سے خالی ہے، اس میں ظاہر یہی ہے کہ یہ اس سے حال ہے۔”
(ب) سوال مع جواب:
  • سوال: لفظ “حامداً” کا اعراب کیا ہے اور یہ کس سے حال بن رہا ہے؟
  • جواب: یہ حال ہے، لیکن اس کے “ذوالحال” میں اختلاف ہے۔ شارح نے واضح کیا کہ نئے نسخے میں موجود کلمات کی وجہ سے اسے حال بنانا مشکل ہے، جبکہ قدیم نسخے کے مطابق یہ فاعل سے حال بن سکتا ہے۔

سوال نمبر 5: (الف) “قَوْلُهُ وَعَلَى أَفْضَلِ رُسُلِهِ مُصَلِّيًا…” ترجمہ و غرضِ شارح:
  • ترجمہ: (اور ان کے بہترین رسولوں پر درود بھیجتے ہوئے)۔ چونکہ بندے تک پہنچنے والی نعمتوں میں سب سے عظیم نعمت دینِ اسلام ہے، اور اسی کے ذریعے جنت کی دائمی نعمتوں تک پہنچنا ممکن ہے، اور یہ نبی ﷺ کے واسطے سے حاصل ہوا، اس لیے اللہ کی ثناء کے بعد درود لایا گیا۔
  • غرضِ شارح: یہاں شارح یہ بتانا چاہتے ہیں کہ مصنف نے حمد کے فوراً بعد صلاۃ (درود) کیوں ذکر کیا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ کی معرفت اور ہدایت ہمیں رسول ﷺ کے ذریعے ملی، لہذا شکرِ خداوندی کے ساتھ شکرِ رسالت بھی ضروری ہے۔
(ب) توضیح و تلویح کتنی کتابوں کا مجموعہ ہے؟ یہ مجموعہ دراصل تین چیزوں پر مشتمل ہے:
  1. تنقیح الاصول: (متن) جسے صدر الشریعہ نے لکھا۔
  2. توضیح: (شرح) جو صدر الشریعہ نے خود اپنے متن “تنقیح” پر لکھی۔
  3. تلویح: (حاشیہ/شرح الشرح) جسے علامہ تفتازانی نے “توضیح” پر لکھا۔

سوال نمبر 6: (الف) فقہ کی تعریف:
  • امام ابوحنیفہ:مَعْرِفَةُ النَّفْسِ مَا لَهَا وَمَا عَلَيْهَا” (نفس کا اپنے نفع اور نقصان کی چیزوں کو پہچان لینا)۔
  • امام شافعی: “الْعِلْمُ بِالْأَحْكَامِ الشَّرْعِيَّةِ الْعَمَلِيَّةِ الْمُكْتَسَبُ مِنْ أَدِلَّتِهَا التَّفْصِيلِيَّةِ” (تفصیلی دلائل سے حاصل کردہ عملی احکامِ شرعیہ کا علم
(ب) حکم کی تعریفات:
  1. عرفِ عام میں: کسی چیز کو دوسری چیز کے لیے ثابت کرنا یا نفی کرنا۔
  2. اصولین کے نزدیک: “خِطَابُ اللَّهِ الْمُتَعَلِّقُ بِأَفْعَالِ الْمُكَلَّفِينَ” (اللہ کا وہ کلام جو مکلفین کے افعال سے متعلق ہو)۔
  3. منطقین کے نزدیک: ادراکِ وقوعِ نسبت یا لا وقوعِ نسبت (نسبت کے واقع ہونے یا نہ ہونے کا ادراک
(ج) علامہ بزدوی کا نام: آپ کا پورا نام علی بن محمد البزدوی ہے (آپ “فخر الاسلام بزدوی” کے لقب سے مشہور ہیں)۔

الورقة الرابعة: أصول الحديث وأصول التحقيق

امتحان: عالمیہ سال اول (2023)

تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان


حصه اول: اصولِ حدیث (نخبۃ الفکر)

سوال نمبر 1: “فَإِذَا جَمَعَ هَذِهِ الشُّرُوطَ الْأَرْبَعَةَ وَهِيَ عَدَدٌ كَثِيرٌ أَحَالَتِ الْعَادَةُ تَوَاطُؤَهُمْ وَتَوَافُقَهُمْ عَلَى الْكَذِبِ رَوَوْا ذَلِكَ عَنْ مِثْلِهِمْ مِنَ الِابْتِدَاءِ إِلَى الِانْتِهَاءِ وَكَانَ مُسْتَنَدُ انْتِهَائِهِمُ الْحِسُّ…”
(الف) عبارت پر اعراب اور ترجمہ:
  • اعراب: (اوپر عبارت میں لگا دیے گئے ہیں)۔
  • ترجمہ: “پس جب یہ (خبر) ان چار شرائط کو جمع کر لے، اور وہ یہ ہیں: (1) راویوں کی تعداد اتنی زیادہ ہو کہ عادتاً ان کا جھوٹ پر متفق ہونا محال ہو، (2) انہوں نے یہ روایت اپنے جیسے کثیر راویوں سے شروع سے آخر تک نقل کی ہو، (3) ان کی انتہا کا مستند ‘حس’ (دیکھنا یا سننا) ہو، (4) اور اس کے ساتھ یہ بات بھی شامل ہو کہ ان کی خبر سننے والے کو (یقینی) علم کا فائدہ دے؛ تو یہ ‘متواتر’ ہے۔”
(ب) خبرِ متواتر کی تعریف اور حکم:
  • تعریف: وہ حدیث جسے ہر طبقہ میں اتنی بڑی تعداد نے روایت کیا ہو کہ عقل یہ تسلیم نہ کرے کہ یہ سب لوگ جھوٹ بولنے پر اکٹھے ہو گئے ہوں گے۔
  • حکم: خبرِ متواتر سے “علمِ ضروری” (قطعی اور یقینی علم) حاصل ہوتا ہے۔ اس کا منکر کافر ہو جاتا ہے کیونکہ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے انسان نے خود وہ واقعہ دیکھا ہو۔

سوال نمبر 2: (الف) ابنِ حجر کی “نخبۃ الفکر” کا منہج، مزایا اور اہمیت:
  • منہج: حافظ ابنِ حجر عسقلانی نے اس کتاب میں حدیث کی تمام اصطلاحات کو نہایت اختصار اور جامعیت کے ساتھ “سبر و تقسیم” (Logical Division) کے انداز میں بیان کیا ہے۔
  • مزایا (خوبیاں): اس کی ترتیب منطقی ہے، الفاظ بہت نپے تلے ہیں اور ہر اصطلاح کی تعریف نہایت جامع ہے۔
  • اہمیت: یہ کتاب اصولِ حدیث کے فن میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ مدارسِ اسلامیہ کے نصاب میں یہ بنیادی کتاب کے طور پر پڑھائی جاتی ہے کیونکہ یہ علمِ حدیث کے سمندر کو کوزے میں بند کر دیتی ہے۔
(ب) شرح نخبۃ الفکر کی وجہ تالیف: حافظ ابنِ حجر نے پہلے “نخبۃ الفکر” کے نام سے ایک مختصر متن لکھا۔ جب طلباء اور علماء نے اس کی جامعیت کو سراہا تو انہوں نے خود ہی اس کی شرح لکھی تاکہ متن کے پوشیدہ معانی اور پیچیدہ ابحاث کو واضح کیا جا سکے۔ اسے “نزھۃ النظر” بھی کہا جاتا ہے۔

سوال نمبر 3: اصطلاحات کی تعریفات (کوئی سی پانچ):
  1. المعضل: وہ حدیث جس کی سند میں سے دو یا دو سے زیادہ راوی لگاتار (پے در پے) گر گئے ہوں۔
  2. المتروك: وہ حدیث جس کا راوی عام زندگی میں جھوٹ بولنے کے ساتھ متہم (مشہور) ہو، اگرچہ وہ حدیث میں جھوٹ نہ بولتا ہو۔
  3. المقلوب: وہ حدیث جس کی سند یا متن کے الفاظ کو آگے پیچھے کر دیا گیا ہو (مثلاً کعب بن مرہ کی جگہ مرہ بن کعب کہہ دینا)۔
  4. المضطرب: وہ حدیث جو مختلف طریقوں سے مروی ہو اور ان میں ایسی مخالفت ہو کہ کسی ایک کو ترجیح دینا ممکن نہ ہو۔
  5. حسن لذاتہ: وہ حدیث جس کے راوی سچے ہوں مگر ان کا حافظہ (ضبط) صحیح حدیث کے راویوں سے تھوڑا کم ہو، اور اس میں کوئی علت یا شذوذ نہ ہو۔

حصه دوم: اصولِ تحقیق

سوال نمبر 4: (الف) علمی تحقیق کی اہمیت: علمی تحقیق کے ذریعے نئے حقائق سامنے آتے ہیں، قدیم نظریات کی اصلاح ہوتی ہے اور علمی مسائل کے حل کے لیے نئی راہیں کھلتی ہیں۔ یہ امت کے علمی ورثے (مخطوطات) کو محفوظ کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔
(ب) موضوع کے اعتبار سے تحقیق کی اقسام:
  1. دینی تحقیق: قرآن، حدیث اور فقہ سے متعلق۔
  2. تاریخی تحقیق: ماضی کے واقعات اور شخصیات کا جائزہ۔
  3. ادبی تحقیق: زبان و ادب کے شہ پاروں پر کام۔
  4. سائنسی تحقیق: مادی اشیاء اور تجربات پر مبنی۔
(ج) مسئلہ تحقیق کی حدود کی شناخت: محقق کو چاہیے کہ وہ اپنے موضوع کا دائرہ کار (Scope) متعین کرے کہ اسے کن پہلوؤں پر بحث کرنی ہے اور کن کو چھوڑنا ہے، تاکہ تحقیق بکھر نہ جائے اور وقت کے اندر مکمل ہو۔

سوال نمبر 5: (الف) مصادر اور مراجع میں فرق:
  • مصادر (Sources): وہ بنیادی اور قدیم کتب جن میں معلومات براہِ راست موجود ہوں (مثلاً صحیح بخاری حدیث کے لیے مصدر ہے)۔
  • مراجع (References): وہ کتابیں جو مصادر کی بنیاد پر لکھی گئی ہوں یا ان کی شرح و تشریح کریں (مثلاً فتح الباری حدیث کا مرجع ہے)۔
(ب) شروحات، حواشی اور ہوامش میں فرق:
  • شرح: کتاب کے متن کی مکمل اور تفصیلی وضاحت۔
  • حاشیہ: کتاب کے صفحے کے کناروں پر لکھی جانے والی مختصر وضاحتیں (Notes)۔
  • ہوامش (Footnotes): صفحے کے آخر میں دیے گئے حوالہ جات یا مختصر نکات۔

سوال نمبر 6: محقق کی خصوصیات: ایک اچھے محقق میں درج ذیل صفات ہونی چاہئیں:
  1. امانتداری: معلومات کو دیانتداری سے پیش کرنا اور خیانت نہ کرنا۔
  2. صبر و استقامت: نایاب کتب کی تلاش اور مطالعہ میں تحمل سے کام لینا۔
  3. وسیع النظری: تعصب سے پاک ہو کر تمام پہلوؤں کا جائزہ لینا۔
  4. مہارتِ زبان: جس زبان میں تحقیق کر رہا ہے اس پر مکمل عبور ہونا۔
  5. تنقیدی شعور: سنی سنائی باتوں پر یقین کرنے کے بجائے دلیل سے پرکھنا۔

الورقة الخامسة: الحديث الشريف (طحاوی شریف)

امتحان: عالمیہ سال اول (2023)

تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان


السؤال الأول: (الف) امام طحاوی کا تعارف
  • نام و نسب: احمد بن محمد بن سلامہ بن عبدالملک الطحاوی۔ (طحا مصر کی ایک بستی کا نام ہے)۔
  • ولادت: آپ کی ولادت 229ھ یا 239ھ میں مصر میں ہوئی۔
  • وفات: آپ نے 321ھ میں وفات پائی۔
  • شیوخ: آپ کے مشہور شیوخ میں امام مزنی (شافعی)، یونس بن عبد الاعلیٰ اور امام ابوجعفر بن ابی عمران شامل ہیں۔
  • تلامذہ: آپ کے شاگردوں میں امام طبرانی، حافظ ابنِ حیان اور ابوبکر الجصاص جیسے جید علماء شامل ہیں۔
  • مذہب: آپ ابتدا میں “شافعی” تھے (اپنے ماموں امام مزنی کی وجہ سے)، بعد میں “حنفی” ہو گئے اور فقہِ حنفی کے بہت بڑے وکیل بنے۔
  • تصانیف: آپ کی مشہور کتب میں شرح معانی الآثار، مشکل الآثار اور العقیدۃ الطحاویہ (عقائد کی مشہور کتاب) شامل ہیں۔
(ب) شرح معانی الآثار کے مزایا (خوبیاں):
  1. فقہ الحدیث: یہ کتاب صرف احادیث کا مجموعہ نہیں بلکہ احادیث سے استنباطِ فقہ کا بہترین نمونہ ہے۔
  2. تعارض کا حل: امام طحاوی بظاہر متعارض احادیث کے درمیان ایسی مطابقت پیدا کرتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔
  3. نظرِ طحاوی: آپ ہر بحث کے آخر میں “نظر” (عقلی دلیل) ذکر کرتے ہیں جو مسئلے کو بالکل واضح کر دیتی ہے۔
  4. دفاعِ مذہبِ احناف: احناف کے موقف پر ہونے والے اعتراضات کا علمی و حدیثی جواب اس کتاب کا خاصہ ہے۔

السؤال الثاني: “لَا يَغُرَّنَّكُمْ نِدَاءُ بِلَالٍ وَلَا هَذَا الْبَيَاضُ حَتَّى يَبْدُوَ الْفَجْرُ”
(الف) طلوعِ فجر سے پہلے اذان دینے میں ائمہ کا اختلاف:
  • ائمہ ثلاثہ (شافعی، مالک، احمد): ان کے نزدیک فجر کے لیے وقت داخل ہونے سے پہلے (سحر میں) اذان دینا جائز بلکہ مستحب ہے۔
  • امام ابوحنیفہ و احناف: فجر کی اذان بھی دیگر نمازوں کی طرح “وقت داخل ہونے کے بعد” دینا ضروری ہے، وقت سے پہلے دینا درست نہیں۔
(ب) ائمہ کے دلائل اور نظرِ طحاوی:
  • ائمہ ثلاثہ کی دلیل: حضور ﷺ کے دور میں حضرت بلال رات کو (وقت سے پہلے) اذان دیتے تھے تاکہ سوئے ہوئے بیدار ہو جائیں اور سحری کھانے والے رک جائیں۔
  • امام ابوحنیفہ کی دلیل: اذان کا مقصد وقت کی اطلاع دینا ہے، اگر وقت سے پہلے دی جائے گی تو لوگ دھوکہ کھا کر نماز پڑھ لیں گے جو فاسد ہو جائے گی۔
  • نظرِ طحاوی: امام طحاوی فرماتے ہیں کہ حضرت بلال کی وہ اذان نماز کے لیے نہیں بلکہ “تنبہیہ” کے لیے تھی، نماز کے لیے اذان حضرت ابنِ امِ مکتوم دیتے تھے جو وقت داخل ہونے پر ہوتی تھی۔ لہذا نماز کی اذان وقت پر ہی ہونی چاہیے۔
(ج) فجرِ صادق اور فجرِ کاذب کی علامت:
  1. فجرِ کاذب: وہ روشنی جو آسمان پر درمیان میں لمبائی کے رخ (بھیڑیے کی دم کی طرح) ظاہر ہوتی ہے اور پھر غائب ہو جاتی ہے۔ اس سے سحری ختم نہیں ہوتی۔
  2. فجرِ صادق: وہ روشنی جو افق پر چوڑائی کے رخ پھیلتی ہے اور مسلسل بڑھتی رہتی ہے۔ اسی سے سحری کا وقت ختم اور نماز کا وقت شروع ہوتا ہے۔

السؤال الثالث: (الف) امام کے پیچھے قراءت نہ کرنے کے پانچ دلائل
  1. قرآن سے دلیل: “جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو اور خاموش رہو” (الاعراف: 204)۔
  2. حدیثِ نبوی: “جس کا امام ہو، تو امام کی قراءت ہی اس کی قراءت ہے” (ابن ماجہ)۔
  3. حدیثِ نبوی: “امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے، پس جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ قراءت کرے تو تم خاموش رہو” (مسلم)۔
  4. حدیثِ نبوی: “کیا بات ہے کہ مجھ سے قرآن میں جھگڑا (نازع) کیا جا رہا ہے؟” (حضور ﷺ نے مقتدی کی قراءت پر ناگواری فرمائی)۔
  5. اثرِ صحابی: حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ جو امام کے پیچھے قراءت کرے (سوائے اس کے کہ وہ اکیلا ہو) اس کی نماز نہیں ہوئی۔
(ب) “خداج” اور “اقراها في نفسك” والی احادیث کی وضاحت:
  • خداج والی حدیث: “جس نے ام القرآن (فاتحہ) نہ پڑھی اس کی نماز ناقص (خداج) ہے”۔ احناف کے نزدیک یہ حکم “منفرد” (اکیلے نماز پڑھنے والے) کے لیے ہے، مقتدی کے لیے امام کی قراءت کافی ہے۔
  • اقراها في نفسك: جب حضرت ابوہریرہ سے پوچھا گیا کہ امام کے پیچھے کیا کریں؟ تو انہوں نے کہا “اسے اپنے جی میں پڑھ لو”۔ احناف فرماتے ہیں کہ یہ حضرت ابوہریرہ کا اپنا اجتہاد ہے جو مرفوع احادیث اور قرآن کے حکمِ سکوت کے خلاف ہونے کی وجہ سے حجت نہیں۔
تحقیقِ لفظ “المؤتم”: یہ اسمِ فاعل کا صیغہ ہے (بابِ افتعال سے)، مادہ ا-م-م (امم) ہے۔ معنی ہے “پیروی کرنے والا” یا “مقتدی”۔

السؤال الرابع: حدیثِ استسقاء اور صلاۃ الاستسقاء
(الف) ترجمہ حدیث: کعب بن مرہ (یا مرہ بن کعب) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ مضر پر (قحط کی) دعا فرمائی، پھر میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ نے آپ کی مدد فرمائی اور آپ کی دعا قبول کی، اب آپ کی قوم (بھوک سے) ہلاک ہو رہی ہے، ان کے لیے دعا فرمائیں۔ آپ ﷺ نے دعا کی: “اے اللہ! ہمیں ایسی بارش عطا فرما جو خوب برسنے والی، خوشگوار، سیراب کرنے والی، پورے علاقے کو ڈھانپنے والی، کثیر، جلدی آنے والی، دیر نہ کرنے والی، نفع بخش اور نقصان نہ پہنچانے والی ہو”۔ راوی کہتے ہیں: ابھی ایک جمعہ بھی نہیں گزرا تھا کہ خوب بارش ہوئی۔
(ب) امام اعظم کا مذہب (نمازِ استسقاء): امام ابوحنیفہ کے نزدیک نمازِ استسقاء کے لیے باقاعدہ جماعت کے ساتھ “مسنون نماز” نہیں ہے، بلکہ صرف “دعا اور استغفار” ہے۔ اگر لوگ انفرادی طور پر دو رکعت پڑھ لیں تو جائز ہے، لیکن جماعت کے ساتھ نماز اور خطبہ آپ کے نزدیک سنتِ مستمرہ نہیں۔
(ج) امام طحاوی کا موقف: امام طحاوی احناف کے موقف کی تائید کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اصل مقصود دعا ہے، جیسا کہ اوپر والی حدیث میں حضور ﷺ نے صرف دعا فرمائی اور نماز نہیں پڑھی۔ البتہ اگر امام (حاکمِ وقت) لوگوں کو جمع کر کے نماز پڑھا دے تو اسے جائز قرار دیتے ہیں جیسا کہ صاحبین (امام ابو یوسف و محمد) کا موقف ہے۔

الورقة السادسة: الحديث الشريف – ٢ (للمؤطین)

امتحان: عالمیہ سال اول (2023)

تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان


القسم الأول: موطا امام مالک
السؤال الأول: عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ ﷺ تَقُولُ: إِنْ كَانَ لَيَكُونُ عَلَيَّ الصِّيَامُ مِنْ رَمَضَانَ فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَصُومَهُ حَتَّى يَأْتِيَ شَعْبَانُ.
(الف) عبارت کی تشکیل اور اردو ترجمہ:
  • ترجمہ: حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو فرماتے ہوئے سنا: “مجھ پر رمضان کے (قضا) روزے ہوتے تھے تو میں ان کی قضا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتی تھی یہاں تک کہ شعبان کا مہینہ آ جاتا۔”
(ب) صوم کا لغوی و اصطلاحی معنی اور تاخیرِ قضا کی وجہ:
  • لغوی معنی: “الصوم” کا لغوی معنی ہے “رک جانا” (الامساک)۔
  • اصطلاحی معنی: صبحِ صادق سے لے کر غروبِ آفتاب تک نیت کے ساتھ کھانے، پینے اور نفسانی خواہشات (جماع) سے رکے رہنے کا نام روزہ ہے۔
  • حضرت عائشہ کی تاخیر کی وجہ: شارحینِ حدیث (جیسے امام مالک اور دیگر) فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کی خدمت اور آپ ﷺ کی رفاقت کی وجہ سے نفلی یا قضا روزے نہیں رکھتی تھیں تاکہ آپ ﷺ کی حق تلفی نہ ہو، اور جب شعبان آتا تو چونکہ حضور ﷺ خود اس مہینے میں کثرت سے روزے رکھتے تھے، اس لیے آپ رضی اللہ عنہا کو اپنی قضا مکمل کرنے کا موقع مل جاتا تھا۔

السؤال الثاني: عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ… أَنَّ أَفْلَحَ أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ جَاءَ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا وَهُوَ عَمُّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ…
(الف) عبارت کی تشکیل اور ترجمہ:
  • ترجمہ: حضرت عروہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ افلح (جو ابوالقعیس کے بھائی تھے) ان کے پاس آئے اور اندر آنے کی اجازت چاہی، اور وہ ان کے رضاعی چچا تھے (یہ واقعہ حجاب کا حکم نازل ہونے کے بعد کا ہے)۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا، پھر جب رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو میں نے آپ ﷺ کو بتایا، تو آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں انہیں اندر آنے کی اجازت دے دوں۔
(ب) رضاعت سے حرمت کے بارے میں ائمہ کا اختلاف اور ترجیح:
  • امام شافعی و احمد: ان کے نزدیک حرمت کے لیے کم از کم “پانچ بار” (5 Sucklings) دودھ پینا شرط ہے۔
  • امام مالک و امام ابوحنیفہ: ان کے نزدیک “ایک بار” بھی دودھ پی لینے سے حرمت ثابت ہو جاتی ہے (بشرطیکہ وہ دودھ حلق سے اتر جائے)۔
  • دلیلِ احناف: قرآن کی آیت “وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ” مطلق ہے، اس میں تعداد کی قید نہیں۔ نیز حضور ﷺ کا فرمان “يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ” بھی تعداد کی قید سے خالی ہے۔ لہذا قلیل و کثیر برابر ہیں۔

القسم الثاني: موطا امام محمد
السؤال الرابع: فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَا أُخْبِرُكَ صَلِّ الظُّهْرَ إِذَا كَانَ ظِلُّكَ مِثْلَكَ وَالْعَصْرَ إِذَا كَانَ ظِلُّكَ مِثْلَيْكَ…
(الف) عبارت کی تشکیل اور ترجمہ:
  • ترجمہ: حضرت ابوہریرہ نے فرمایا: میں تمہیں بتاتا ہوں؛ ظہر اس وقت پڑھو جب تمہارا سایہ تمہارے قد کے برابر (ایک مثل) ہو جائے، اور عصر اس وقت پڑھو جب تمہارا سایہ تمہارے قد سے دوگنا (دو مثل) ہو جائے، اور مغرب جب سورج ڈوب جائے، اور عشاء تمہارے اور تہائی رات کے درمیان، اگر تم آدھی رات تک سوئے رہے تو تمہاری آنکھیں نہ سوئیں (یعنی سخت وعید ہے)، اور صبح کی نماز غلس (اندھیرے) میں پڑھو۔
(ب) شفق کا معنی اور وقتِ مغرب:
  • شفق کا معنی: امام شافعی کے نزدیک شفق سے مراد “سرخی” (الحمرہ) ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک شفق سے مراد وہ “سفیدی” (البیاض) ہے جو سرخی غائب ہونے کے بعد ظاہر ہوتی ہے۔
  • اول و آخر وقتِ مغرب: دونوں ائمہ کے نزدیک مغرب کا وقت سورج ڈوبنے کے فوراً بعد شروع ہوتا ہے۔ امام شافعی کے نزدیک اس کا وقت بہت مختصر ہے (صرف نماز پڑھنے کی بقدر)، جبکہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ شفق (سفیدی) غائب ہونے تک باقی رہتا ہے۔

السؤال السادس: (الف) جنازہ میں قراءت پر امام ابوحنیفہ اور امام شافعی کا اختلاف:
  • امام شافعی: نمازِ جنازہ میں سورہ فاتحہ پڑھنا “واجب” اور رکن ہے۔ ان کی دلیل وہ احادیث ہیں جن میں جنازہ میں فاتحہ پڑھنے کا ذکر ہے۔
  • امام ابوحنیفہ: نمازِ جنازہ میں قراءتِ قرآن (بطورِ قراءت) مسنون نہیں۔ ان کے نزدیک یہ نماز نہیں بلکہ “دعا” ہے۔ اگر کوئی ثناء کی نیت سے فاتحہ پڑھ لے تو جائز ہے، لیکن قراءت کی نیت سے مکروہ ہے۔
  • دلیلِ احناف: حضور ﷺ کا فرمان: “نمازِ جنازہ میں اخلاص کے ساتھ میت کے لیے دعا کرو”۔ نیز صحابہ کا عمل کہ وہ اسے دعا ہی سمجھتے تھے۔
(ب) احناف کے نزدیک نمازِ جنازہ کا طریقہ (صفہ):
  1. پہلی تکبیر کے بعد ثناء (سبحانک اللھم…) پڑھنا۔
  2. دوسری تکبیر کے بعد درودِ ابراہیم پڑھنا۔
  3. تیسری تکبیر کے بعد میت کے لیے منقول دعا پڑھنا۔
  4. چوتھی تکبیر کے بعد بغیر کسی ذکر کے دونوں طرف سلام پھیر دینا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *