حل ورقة صحيح البخاري – العالمية السنة الثانية (2023)
السؤال الأول: فضل الجهاد في سبيل الله
السؤال (i):
ترجم النص إلى الأردية واذكر التحقيق الصرفي للكلمات المخطوط عليها (انْتَدَبَ، أُقْتَلُ).
الجواب: ترجمہ: “اللہ تعالیٰ اس شخص کی ذمہ داری لیتا ہے جو اس کی راہ میں نکلے، اسے صرف مجھ پر ایمان اور میرے رسولوں کی تصدیق نے نکالا ہو، کہ یا تو اسے (شہادت کی صورت میں) جنت میں داخل کرے گا یا اسے اجر اور مالِ غنیمت کے ساتھ (سلامتی سے) واپس لوٹائے گا۔ اور اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا ڈر نہ ہوتا تو میں کسی بھی سریہ (لشکر) سے پیچھے نہ رہتا، اور میری تو یہ تمنا ہے کہ میں اللہ کی راہ میں قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں۔” تحقيق صرفي: انْتَدَبَ: فعل ماضی معروف، واحد مذکر غائب، باب افتعال، مادہ (ن د ب)، معنی: ذمہ داری لینا یا تیار ہونا۔ أُقْتَلُ: فعل مضارع مجہول، واحد متکلم، مادہ (ق ت ل)، معنی: میں قتل کیا جاؤں۔
السؤال (ii): “إيمان بي أو تصديق برسلي” لم ذكر “أو” مع أنه لا بد من كليهما؟
الجواب: یہاں لفظ “أو” (یا) تنویع (اقسام بیان کرنے) کے لیے ہے نہ کہ شک کے لیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مجاہد کا محرکِ اصلی یا تو اللہ کی توحید پر کامل یقین ہوتا ہے یا اللہ کے بھیجے ہوئے رسولوں کے احکامات کی سچی پیروی۔ چونکہ اللہ پر ایمان لانا رسول کی تصدیق کے بغیر ممکن نہیں اور رسول کی تصدیق اللہ پر ایمان لائے بغیر معتبر نہیں، اس لیے یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں، یہاں انفرادی طور پر ہر ایک کی اہمیت جتانے کے لیے “أو” استعمال ہوا ہے۔
السؤال (iii): اكتب أطروحة على فضل الجهاد في سبيل الله تحتوي على عشرة أسطر.
الجواب: جہاد فی سبیل اللہ اسلام کا وہ عظیم رکن ہے جسے “ذروة سنام الاسلام” (اسلام کی چوٹی) کہا گیا ہے۔ یہ محض جنگ کا نام نہیں بلکہ کلمۃ اللہ کی سربلندی اور باطل کے مٹانے کی جدوجہد ہے۔ قرآن و حدیث میں مجاہد کے لیے بے پناہ اجر کا وعدہ کیا گیا ہے، یہاں تک کہ شہید کے خون کا پہلا قطرہ گرنے سے پہلے اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے۔ جہاد ہی وہ عمل ہے جو امتِ مسلمہ کو عزت اور غلبہ عطا کرتا ہے، اور اس کے ترک کرنے سے ذلت مقدر بن جاتی ہے۔ نبی کریم ﷺ کی یہ تمنا کہ “میں بار بار شہید کیا جاؤں اور زندہ کیا جاؤں” شہادت کے اس عظیم مرتبے کی عکاسی کرتی ہے جو کسی اور عمل کو حاصل نہیں، کیونکہ شہید موت کے بعد بھی اللہ کے ہاں رزق پاتا ہے اور زندہ ہوتا ہے۔
السؤال الثاني: رؤية النبي ﷺ من وراء ظهره وصلاة الوتر
السؤال (i): شكل الحديث وترجمه إلى الأردية (رؤية النبي من وراء ظهره).
الجواب: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: “هَلْ تَرَوْنَ قِبْلَتِي هَا هُنَا؟ فَوَاللَّهِ مَا يَخْفَى عَلَيَّ خُشُوعُكُمْ وَلَا رُكُوعُكُمْ، إِنِّي لَأَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي”۔ ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ میرا رخ صرف قبلہ کی طرف ہے (اور مجھے پیچھے کا علم نہیں)؟ اللہ کی قسم! مجھ پر تمہارا خشوع اور تمہارا رکوع پوشیدہ نہیں ہے، بے شک میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔”
السؤال (ii): اشرح الحديث بحيث يتضح كمال بصر النبي ﷺ.
الجواب: یہ حدیث رسول اللہ ﷺ کے عظیم معجزات اور کمالِ بصارت پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی پیٹھ کے پیچھے بھی دیکھنے کی قوت عطا فرمائی تھی، جو عام انسانی بصارت سے ماوراء ہے۔ شارحین فرماتے ہیں کہ یہ “رویتِ حقیقی” تھی، یعنی جیسے سامنے نظر آتا ہے ویسے ہی پیچھے سے بھی نظر آتا تھا۔ اس سے مقتدیوں کو یہ تنبیہ مقصود تھی کہ نماز میں پوری توجہ اور خشوع و خضوع برقرار رکھیں، کیونکہ امامِ کائنات ﷺ تمہاری ہر حرکت سے واقف ہیں۔
السؤال (iii): ترجم إلى الأردية واذكر مذهب الأحناف عن ركعات الوتر مع الدليل.
الجواب: ترجمہ: حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا جبکہ آپ خطبہ دے رہے تھے، اس نے پوچھا: رات کی نماز (تہجد) کیسی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: “دو دو رکعت، پھر جب تمہیں صبح (فجر) کا خوف ہو تو ایک رکعت پڑھ لو، وہ تمہاری پہلی تمام نمازوں کو وتر (طاق) بنا دے گی۔” مذهب احناف: احناف کے نزدیک وتر کی تین رکعات ہیں جو ایک سلام کے ساتھ پڑھی جاتی ہیں۔ دلیل: حضرت عائشہؓ کی روایت ہے کہ “حضور ﷺ تین رکعت وتر پڑھتے تھے اور آخر میں ہی سلام پھیرتے تھے”۔ ابن عمرؓ کی حدیث میں “واحدة” سے مراد وہ ایک رکعت ہے جو پہلی دو کے ساتھ مل کر اسے تین (طاق) بنا دیتی ہے، نہ کہ صرف ایک رکعت الگ سے پڑھنا۔
السؤال الثالث: التهاون بالصلاة والجنازة
السؤال (i): ترجم إلى الأردية وبين أن العبارة المخطوطة (بَالَ الشَّيْطَانُ فِي أُذُنِهِ) على ظاهرها أو مؤولة؟
الجواب: ترجمہ: نبی ﷺ کے سامنے ایک شخص کا ذکر کیا گیا کہ وہ صبح تک سوتا رہا اور نماز (تہجد یا فجر) کے لیے نہیں اٹھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: “شیطان نے اس کے کان میں پیشاب کر دیا ہے۔” وضاحت: اس عبارت کے بارے میں دو قول ہیں؛ (1) ظاہر پر ہے: یعنی شیطان حقیقت میں کان میں نجاست ڈالتا ہے تاکہ انسان اللہ کے ذکر سے دور رہے۔ (2) مؤؤل ہے: یہ استعارہ اور تمثیل ہے، یعنی شیطان نے اس کے کانوں کو ذکرِ الہی سے بالکل بند کر دیا ہے اور اسے اپنے قابو میں کر لیا ہے، جیسے کوئی کسی چیز کو حقیر سمجھ کر اس پر پیشاب کر دے۔
السؤال (ii): ترجم إلى الأردية واكتب موقف الأئمة الأربعة عن قراءة الفاتحة على الجنازة مع ترجيح مذهب الحنفية.
الجواب: ترجمہ: طلحہ بن عبداللہؓ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عباسؓ کے پیچھے نمازِ جنازہ پڑھی، انہوں نے سورہ فاتحہ پڑھی اور فرمایا: “تاکہ تم جان لو کہ یہ سنت ہے۔” موقف ائمہ: امام شافعی اور امام احمد کے نزدیک نمازِ جنازہ میں فاتحہ پڑھنا رکن/واجب ہے۔ احناف اور امام مالک کے نزدیک نمازِ جنازہ میں قراءت نہیں بلکہ صرف ثناء، درود اور دعا ہے۔ ترجيح مذهب احناف: احناف کے نزدیک جنازہ “نماز” نہیں بلکہ “دعا” ہے، اور ابن عباسؓ نے فاتحہ کو ثناء اور دعا کی نیت سے پڑھا تھا نہ کہ قراءتِ قرآنی کی نیت سے، جیسا کہ جنازہ میں رکوع و سجود کا نہ ہونا بھی اسے دعا کے قریب کرتا ہے۔
السؤال الرابع: الإمام البخاري ومنهجه
السؤال (i): اكتب تاريخ ولادة الإمام البخاري ووفاته مع بيان مسلكه الفقهي.
الجواب: امام بخاریؒ کی ولادت 194ھ میں ہوئی اور وفات 256ھ میں ہوئی۔ آپ کے مسلک کے بارے میں اختلاف ہے؛ بعض انہیں “شافعی” کہتے ہیں، لیکن تحقیق یہ ہے کہ آپ “مجتہد مطلق” تھے، آپ کسی خاص امام کی تقلید نہیں کرتے تھے بلکہ براہِ راست احادیث سے استنباط فرماتے تھے۔
حل ورقة صحیح مسلم – العالمية السنة الثانية (2023)
سوال نمبر 1: مخنث (ہیجڑے) کا ذکر اور غزوہ طائف
سوال (الف): حدیثِ مبارکہ پر اعراب لگائیں اور اس کا اردو ترجمہ کریں۔
جواب: عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ مُخَنَّثًا كَانَ عِنْدَهَا وَرَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي الْبَيْتِ، فَقَالَ لِأَخِي أُمِّ سَلَمَةَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ: “إِنْ فَتَحَ اللَّهُ لَكُمُ الطَّائِفَ غَدًا، فَإِنِّي أَدُلُّكَ عَلَى بِنْتِ غَيْلَانَ، فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ”۔ قَالَ: فَسَمِعَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: “لَا يَدْخُلْ هَؤُلَاءِ عَلَيْكُمْ”۔
ترجمہ: حضرت ام سلمہؓ سے روایت ہے کہ ایک ہیجڑا ان کے پاس بیٹھا تھا اور رسول اللہ ﷺ بھی گھر میں تھے۔ اس (ہیجڑے) نے ام سلمہؓ کے بھائی عبداللہ بن ابی امیہ سے کہا: “اگر کل اللہ نے تمہیں طائف پر فتح دی، تو میں تمہیں غیلان کی بیٹی (بادیہ) کے بارے میں بتاتا ہوں، وہ جب سامنے سے آتی ہے تو اس کے پیٹ پر چار شکنیں (بل) پڑتے ہیں اور جب وہ پیٹھ پھیر کر جاتی ہے تو وہ آٹھ نظر آتے ہیں۔” رسول اللہ ﷺ نے یہ سنا تو (اس کی باریک بینی دیکھ کر) فرمایا: “انہیں (ایسے لوگوں کو) اب اپنے پاس نہ آنے دیا کرو۔”
سوال (ب): اس مخنث (ہیجڑے) کا نام کیا تھا اور اس کے قول “تقبل بأربع وتدبر بثمان” سے کیا مراد ہے؟ جواب: اس مخنث کا نام “ہیت” (Hait) تھا۔ اس کے قول کا مطلب یہ ہے کہ وہ عورت (بادیہ بنت غیلان) جسمانی طور پر اتنی فربہ (پر گوشت) ہے کہ اس کے پیٹ پر موٹاپے کی وجہ سے چار شکنیں یا تہیں (Folds) پڑتی ہیں، اور چونکہ وہ تہیں پہلوؤں سے پیچھے تک جاتی ہیں، اس لیے پیچھے سے دیکھنے پر وہ دونوں طرف کی ملا کر آٹھ نظر آتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ شخص عورتوں کے مخصوص اوصاف سے واقف ہے، اس لیے اسے گھروں میں داخل ہونے سے منع کر دیا گیا۔
سوال (ج): غزوہ طائف کس سن ہجری میں ہوا؟
جواب: غزوہ طائف 8 ہجری میں، غزوہ حنین کے فوراً بعد پیش آیا۔
سوال نمبر 2: افلاس اور حقوقِ ملکیت
سوال (الف): حدیثِ مبارکہ پر اعراب لگائیں اور اس کا اردو ترجمہ کریں۔
جواب: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: “مَنْ أَدْرَكَ مَالَهُ بِعَيْنِهِ عِنْدَ رَجُلٍ قَدْ أَفْلَسَ – أَوْ إِنْسَانٍ قَدْ أَفْلَسَ – فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْ غَيْرِهِ”۔
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: “جس شخص نے اپنا بعینہ وہی مال (جو اس نے بیچا تھا) ایسے آدمی کے پاس پایا جو دیوالیہ ہو چکا ہو، تو وہ شخص (بیچنے والا) دوسروں (قرض خواہوں) کے مقابلے میں اس مال کا زیادہ حقدار ہے۔”
سوال (ب): اگر کسی نے سامان خریدا اور قیمت ادا کرنے سے پہلے دیوالیہ ہو گیا یا مر گیا، اور سامان ویسا ہی موجود ہو تو کیا حکم ہے؟ فقہاء کے مذاہب لکھیں۔
جواب: ائمہ ثلاثہ (شافعی، مالکی، حنبلی): وہ اس حدیث کے ظاہر پر عمل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ بیچنے والا اپنا سامان واپس لے سکتا ہے اور وہ دیگر قرض خواہوں پر مقدم ہوگا۔ احناف کا موقف: امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک اگر خریدار مفلس ہو گیا تو بیچنے والا اس سامان میں دیگر قرض خواہوں کے برابر ہوگا، وہ اپنا پورا سامان واپس نہیں لے سکتا بلکہ اسے فروخت کر کے تمام قرض خواہوں میں بقدرِ حصص تقسیم کیا جائے گا۔ احناف کی دلیل یہ ہے کہ بیع مکمل ہونے سے ملکیت منتقل ہو چکی تھی، اب وہ سامان خریدار کے ترکے یا مال کا حصہ بن چکا ہے۔
سوال (ج): افلاس کی لغوی و شرعی تعریف کیا ہے؟ نیز مفلس شخص کا (شرعی) حکم کیا ہے؟
جواب: لغوی تعریف: مفلس وہ ہے جس کے پاس “فلس” (کم قیمت سکہ) بھی نہ رہے، یعنی غریب ہو جائے۔ شرعی تعریف: وہ شخص جس کے ذمہ واجب الادا قرضے اس کے کل اثاثوں سے زیادہ ہو جائیں۔ حکم: شرعی طور پر قاضی ایسے شخص کو “مفلس” قرار دے کر اس کے مال کو منجمد کر سکتا ہے اور اسے قید کر سکتا ہے جب تک کہ وہ قرضہ ادا نہ کرے یا اس کا مال بیچ کر قرض خواہوں کو نہ دے دیا جائے۔
سوال نمبر 3: اشعارِ صحابی اور لفظ “فدالک” کی تحقیق
سوال (الف): درج ذیل اشعار پر اعراب لگائیں اور ان کا اردو ترجمہ کریں۔
جواب: اللَّهُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا، وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا، فَاغْفِرْ فِدَاءً لَكَ مَا اقْتَفَيْنَا، وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا، وَأَلْقِيَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا، إِنَّ الْأُولَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا، إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا۔
ترجمہ: اے اللہ! اگر تو نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے، نہ صدقہ دیتے اور نہ نماز پڑھتے۔ پس تو ہمیں بخش دے، ہم تجھ پر قربان، جو کچھ ہم نے (خطائیں) کیں، اور جب ہمارا (دشمن سے) مقابلہ ہو تو ہمیں ثابت قدم رکھ، اور ہم پر سکون نازل فرما۔ بے شک ان لوگوں نے ہم پر زیادتی کی ہے، جب وہ فتنہ (شرک) چاہتے ہیں تو ہم انکار کرتے ہیں۔
سوال (ب): کیا اللہ تعالیٰ کے لیے “فدیتک” (میں تجھ پر فدا) کہنا جائز ہے؟ اگر نہیں تو شاعر کے قول “فدالک” کا کیا جواب ہے؟
جواب: اللہ تعالیٰ کی شان میں “فدا” کا لفظ اس کے لغوی معنی (جان کے بدلے جان چھڑانا) کے لحاظ سے بولنا جائز نہیں کیونکہ اللہ ہر قسم کے بدلے اور حاجت سے پاک ہے۔ شاعر کے قول “فدالک” کا جواب یہ ہے کہ یہاں “فدا” سے مراد “لغوی فدیہ” نہیں بلکہ یہ انتہائی محبت اور نیازمندی کا اظہار ہے، یا اس کا مطلب یہ ہے کہ “ہمارا سب کچھ تیرے دین پر قربان”۔ علماء نے اسے “کلامِ عرب” میں مبالغہِ محبت پر محمول کیا ہے۔
سوال (ج): مذکورہ اشعار کے شاعر کا نام لکھیں۔
جواب: ان اشعار کے شاعر مشہور صحابی رسول حضرت عبداللہ بن رواحہؓ ہیں (بعض روایات میں یہ عامر بن اکوعؓ کی طرف بھی منسوب ہیں)۔
سوال نمبر 4: کراء الارض (زمین کا کرایہ)
سوال (الف): حدیث کا اردو ترجمہ کریں اور حضرت رافع بن خدیجؓ کے دونوں چچاؤں کے نام لکھیں۔
جواب: ترجمہ: سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ اپنی زمینیں کرائے پر دیا کرتے تھے، یہاں تک کہ انہیں پتہ چلا کہ رافع بن خدیجؓ زمین کرائے پر دینے سے منع کرتے ہیں۔ ابن عمرؓ ان سے ملے تو رافعؓ نے بتایا کہ میں نے اپنے دو چچاؤں سے سنا (جو بدری صحابی تھے) کہ رسول اللہ ﷺ نے زمین کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے۔ چچاؤں کے نام: ان کے نام ظہیر بن رافع اور مظہر بن رافع (رضی اللہ عنہما) ہیں۔
سوال (ب): کیا زمین کو کرائے پر دینا جائز ہے؟ احناف کا موقف مع دلائل بیان کریں۔
جواب: احناف کا موقف: امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک زمین کو نقد رقم (کراء) کے عوض کرائے پر دینا جائز ہے۔ دلائل: (1) حضور ﷺ نے خیبر کی زمین آدھی پیداوار پر دی تھی (مزارعت)۔ (2) ممانعت کی احادیث ان صورتوں پر محمول ہیں جہاں کسی خاص حصے کی پیداوار متعین کی جائے (جس میں دھوکہ ہو)۔ (3) اجارہ (کرایہ) کا عام قاعدہ زمین پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
حل شدہ پرچہ: جامع ترمذی (عالمیہ سال دوم – 2023)
سوال نمبر 1: بیداری کے بعد ہاتھ دھونے کا حکم
سوال (الف): حدیثِ مبارکہ پر اعراب لگائیں اور اس کا اردو ترجمہ کریں۔
جواب: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: “إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَلَا يُدْخِلْ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يُفْرِغَ عَلَيْهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ”۔
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: “جب تم میں سے کوئی رات کو بیدار ہو تو (وضو شروع کرتے وقت) اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے جب تک کہ اس پر دو یا تین مرتبہ پانی نہ بہا لے، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کا ہاتھ رات بھر کہاں رہا۔”
سوال (ب): رسول اللہ ﷺ نے برتن میں ہاتھ ڈالنے سے کیوں منع فرمایا؟ تفصیل سے ذکر کریں۔
جواب: ممانعت کی بنیادی وجہ صفائی اور طہارت کا اہتمام ہے۔ نیند کی حالت میں انسان کو اپنے اعضاء پر کنٹرول نہیں ہوتا، ممکن ہے کہ ہاتھ جسم کے کسی ایسے حصے پر لگ گیا ہو جہاں نجاست ہو (خاص طور پر عرب کے گرم موسم میں پسینے اور استنجاء کے بعد کی نمی کی وجہ سے نجاست کے منتقل ہونے کا شبہ ہوتا ہے)۔ چونکہ قلیل پانی میں نجاست والا ہاتھ ڈالنے سے پورا پانی ناپاک یا مشکوک ہو سکتا ہے، اس لیے احتیاطاً پہلے ہاتھ دھونے کا حکم دیا گیا تاکہ عبادت (نماز) کے لیے پانی کی پاکیزگی یقینی ہو۔
سوال (ج): اس حدیث کے تحت امام ترمذیؒ نے فقہاء کے جو اقوال ذکر کیے ہیں، وہ لکھیں۔
جواب: امام ترمذیؒ فرماتے ہیں کہ اکثر اہل علم کا عمل اسی حدیث پر ہے کہ نیند سے بیدار ہونے پر ہاتھ دھونا مستحب ہے۔ امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ میں ہر اس شخص کے لیے ہاتھ دھونا پسند کرتا ہوں جو نیند سے اٹھے، چاہے وہ رات کی نیند ہو یا دن کی (اگرچہ حکم رات کا ہے)۔ اگر کسی نے بغیر ہاتھ دھوئے برتن میں ہاتھ ڈال دیا تو پانی تب تک ناپاک نہیں ہوگا جب تک ہاتھ پر لگی نجاست کا یقین نہ ہو۔ احناف کے نزدیک بھی یہ حکم “استحباب” اور “ادب” پر محمول ہے، فرضیت پر نہیں۔
سوال نمبر 2: اذان و اقامت کے اختیارات
سوال (الف): حدیثِ مبارکہ پر اعراب لگائیں اور اس کا اردو ترجمہ کریں۔
جواب: كَانَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ يُمْهِلُ فَلَا يُقِيمُ حَتَّى إِذَا رَأَى رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَدْ خَرَجَ أَقَامَ الصَّلَاةَ حِينَ يَرَاهُ۔
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ کے مؤذن (انتظار میں) دیر کرتے تھے اور تب تک اقامت نہیں کہتے تھے جب تک وہ دیکھ نہ لیتے کہ رسول اللہ ﷺ (حجرہ مبارک سے مسجد کے لیے) نکل آئے ہیں، جیسے ہی آپ ﷺ کو دیکھتے، تکبیر شروع کر دیتے۔
سوال (ب): اس حدیث کی مفصل شرح کریں، خاص طور پر خط کشیدہ عبارت (المؤذن املك بالاذان والامام املك بالاقامة) کی۔
جواب: یہ حدیث مسجد کے نظم و ضبط کو واضح کرتی ہے۔ مؤذن اذان کا زیادہ حقدار ہے: یعنی اذان دینے کا وقت مؤذن کی صوابدید پر ہے، وہ وقت داخل ہوتے ہی اذان دے سکتا ہے۔ امام اقامت کا زیادہ حقدار ہے: اس کا مطلب یہ ہے کہ اقامت تب کہی جائے گی جب امام مسجد میں آ جائے یا اس کی اجازت ہو۔ اقامت کا مقصد نماز کا آغاز ہے، اور نماز کا سربراہ امام ہے، اس لیے مقتدیوں اور مؤذن کو امام کے آنے کا انتظار کرنا چاہیے۔ ایسا نہ ہو کہ اقامت ہو جائے اور امام موجود نہ ہو، جس سے لوگوں کو کھڑے ہو کر انتظار کی زحمت ہو۔
سوال (ج): امام ترمذیؒ کے قول “هذا حديث حسن صحيح” سے کیا مراد ہے؟
جواب: یہ امام ترمذیؒ کی اصطلاح ہے؛ “حسن” سے مراد وہ حدیث ہے جس کے راوی صدوق ہوں مگر ان کا حافظہ درجۂ کمال پر نہ ہو، اور “صحیح” سے مراد وہ جس کی سند متصل ہو اور راوی عادل و ضابط ہوں۔ جب وہ دونوں لفظ اکٹھے بولتے ہیں تو اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ یہ حدیث ایک سند سے “حسن” ہے اور دوسری سند سے “صحیح” ہے، یا یہ کہ یہ حدیث حسن کے درجے سے بلند اور صحیح کے درجے کے قریب ہے۔
سوال نمبر 3: وتر کا وجوب اور رکعات کی تعداد
سوال (الف): حضرت علیؓ سے مروی حدیث اور اثر کا اردو ترجمہ کریں۔
جواب: حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: “وتر (پڑھنا) تمہاری فرض نمازوں کی طرح حتمی (لازمی) نہیں ہے، لیکن رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: اللہ وتر (ایک/طاق) ہے اور وتر کو پسند فرماتا ہے، اے اہل قرآن! وتر پڑھا کرو۔”
سوال (ب): ائمہ کے نزدیک وتر کے وجوب کا مسئلہ اور احادیث کی روشنی میں احناف کے مسلک کی ترجیح بیان کریں۔
جواب: ائمہ ثلاثہ (شافعی، مالکی، احمد): وتر “سنتِ مؤکدہ” ہے، واجب نہیں۔ ان کی دلیل حضرت علیؓ کا یہی اثر ہے کہ یہ فرض نمازوں کی طرح نہیں۔
احناف: امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک وتر واجب ہے۔ ترجیحِ احناف: احناف کی دلیل حضور ﷺ کا دائمی عمل اور آپ ﷺ کا یہ فرمان ہے: “وتر حق ہے، جو وتر نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں”۔
حضرت علیؓ کے قول کا جواب یہ ہے کہ وتر “فرضِ قطعی” نہیں (جو منکر کو کافر کر دے) بلکہ “واجب” ہے، اس لیے انہوں نے اسے مکتوبہ (فرض) نماز سے الگ کہا۔
سوال (ج): وتر کی رکعات میں ائمہ کا اختلاف اور احناف کے دلائل و جوابات لکھیں۔
جواب: شوافع: ایک، تین، پانچ یا گیارہ رکعات (ایک سلام کے ساتھ) پڑھنا جائز ہے۔ احناف: وتر کی صرف تین رکعات ہیں جو ایک سلام کے ساتھ پڑھی جاتی ہیں۔
دلیل: حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حضور ﷺ تین رکعت وتر پڑھتے تھے اور صرف آخر میں سلام پھیرتے تھے۔ مخالفین کا جواب: جو لوگ ایک رکعت کے قائل ہیں،
احناف فرماتے ہیں کہ وہ ایک رکعت دراصل پہلی دو کے ساتھ مل کر اسے تین (طاق) بناتی ہے، اکیلی ایک رکعت نماز نہیں۔
سوال نمبر 4: سوال (مانگنے) کی مذمت اور زکوٰۃ کے مسائل
سوال (الف): حدیثِ ابن مسعودؓ کا اردو ترجمہ اور مفصل شرح کریں۔
جواب: ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جس نے لوگوں سے مانگا حالانکہ اس کے پاس اتنا مال ہے جو اسے کافی ہے، تو قیامت کے دن وہ اس حال میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر (مانگنے کی وجہ سے) زخم یا خراشیں ہوں گی۔” پوچھا گیا: کتنا مال کافی ہے؟ فرمایا: “پچاس درہم یا اس کے برابر سونا۔”
شرح: یہ حدیث پیشہ ورانہ بھکاریوں کے لیے سخت وعید ہے کہ جو ضرورت نہ ہونے کے باوجود مال جمع کرنے کے لیے ہاتھ پھیلاتے ہیں، ان کی یہ ذلت قیامت کے دن ان کے چہروں پر عیاں ہوگی۔
سوال (ب): زکوٰۃ کی لغوی و شرعی تعریف اور اس کے وجوب کا سبب بیان کریں۔
جواب: لغوی معنی: پاک ہونا یا بڑھنا۔ شرعی معنی: مال کے ایک مخصوص حصے کو شرعی فقراء کو اللہ کی رضا کے لیے مالک بنا کر دینا۔
وجوب کا سبب: زکوٰۃ کے وجوب کا سبب “مالِ نامی کا بقدرِ نصاب ہونا” ہے جس پر ایک سال گزر چکا ہو۔
سوال (ج): کیا میت کی طرف سے صدقہ کرنے سے اسے فائدہ پہنچتا ہے؟ دلائل سے واضح کریں۔
جواب: جی ہاں! میت کی طرف سے صدقہ کرنا اسے فائدہ پہنچاتا ہے اور اس کا ثواب اسے ملتا ہے۔
دلیل: ایک شخص نے حضور ﷺ سے پوچھا کہ میری ماں کا اچانک انتقال ہو گیا ہے، اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا انہیں ثواب ملے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: “ہاں”۔ اس پر امت کا اجماع ہے کہ مالی عبادات کا ثواب میت کو پہنچتا ہے۔
حل شدہ پرچہ: سنن ابی داؤد و آثار السنن (2023)
القسم الأول: سنن ابی داؤد
السؤال الأول (الف): بین معنی الاضحیة لغة وشرعا وبین سبب وجوبه وهل تجب الاضحیة علی الحاج المقیم فی مكة ام لا؟
الجواب: لغوی معنی: وہ جانور جو چاشت کے وقت (ضحیٰ) ذبح کیا جائے۔ شرعی معنی: مخصوص ایام (10 تا 12 ذوالحجہ) میں اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے مخصوص جانور ذبح کرنا۔ وجوب کا سبب: قربانی کے وجوب کا سبب وقت کا آنا اور انسان کا “صاحبِ نصاب” ہونا ہے۔ حاجی کے لیے حکم: جو حاجی مکہ میں “مقیم” ہو (یعنی 15 دن قیام کا ارادہ ہو) اس پر قربانی واجب ہے، لیکن اگر وہ مسافر ہو تو احناف کے نزدیک اس پر قربانی واجب نہیں (اگرچہ وہ قربانیِ حج یعنی دمِ شکر ادا کرے گا)۔
السؤال الأول (ب): بین معنی المسنة والجدعة وأيضاً ما حکمهما فی الاضحية؟
الجواب: المسنة: وہ جانور جس کے دودھ کے دانت گر کر نئے دانت نکل آئے ہوں (دو دانتا)، بکری میں ایک سال، گائے میں دو سال اور اونٹ میں پانچ سال کا جانور مسنہ کہلاتا ہے۔ الجدعة: وہ جانور جو ایک سال سے کم کا ہو مگر اتنا فربہ ہو کہ دور سے دیکھنے میں ایک سال کا لگے (چھ ماہ کا تندرست دنبہ یا بھیڑ)۔ حکم: قربانی کے لیے اصل حکم “مسنہ” کا ہے، لیکن اگر میسر نہ ہو تو بھیڑ یا دنبے کا “جدعہ” بھی جائز ہے، جبکہ بکری، گائے اور اونٹ میں مسنہ ہونا شرط ہے۔
السؤال الثاني (الف): لم جعل الحیاء من الایمان وأيضاً بین معنی الحیاء لغة وشرعاً؟
الجواب: حیا کو ایمان کا حصہ اس لیے قرار دیا گیا ہے کہ حیا انسان کو گناہوں سے روکتی ہے اور نیکی پر ابھارتی ہے، بالکل ویسے ہی جیسے ایمان برائی سے روکتا ہے۔ لغوی معنی: شرم و حیا، تغیر اور انقباض جو کسی برے کام کے خوف سے پیدا ہو۔ شرعی معنی: وہ صفت جو انسان کو قبیح (برے) افعال چھوڑنے اور صاحبِ حق کے حق میں کمی کرنے سے روکتی ہے۔
السؤال الثاني (ب): اذكر اقوال العلماء فی تأویل قوله “فاصنع ما شئت”۔
الجواب: اس کے تین مشہور مفہوم ہیں: (1) تہدید (دھمکی): یعنی اگر تم میں حیا نہیں رہی تو جو مرضی آئے کرو، پھر اللہ کے عذاب کا انتظار کرو (جیسے فرمایا: “اعملوا ما شئتم”)۔ (2) اباحت: یعنی جس کام میں اللہ اور بندوں سے حیا آڑے نہ آئے، وہ تم کر سکتے ہو۔ (3) خبر: یعنی جس کے پاس حیا نہیں رہتی، پھر اس کا نفس اسے کسی بھی برے کام سے نہیں روکتا، وہ ہر قبیح فعل کر گزرتا ہے۔
القسم الثاني: آثار السنن
السؤال الرابع (الف): شکل الحدیث وترجمہ إلی الأردیة (حدیثِ عائشہؓ فی المنی)۔
الجواب: أَنَّ رَجُلًا نَزَلَ بِعَائِشَةَ فَأَصْبَحَ يَغْسِلُ ثَوْبَهُ فَقَالَتْ عَائِشَةُ: “إِنَّمَا كَانَ يُجْزِيكَ إِنْ رَأَيْتَهُ أَنْ تَغْسِلَ مَكَانَهُ، فَإِنْ لَمْ تَرَهُ نَضَحْتَ حَوْلَهُ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَفْرُكُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَرْكًا فَيُصَلِّي بِهِ”۔
ترجمہ: ایک شخص حضرت عائشہؓ کا مہمان ہوا، صبح وہ (منی لگنے کی وجہ سے) اپنا کپڑا دھونے لگا، تو حضرت عائشہؓ نے فرمایا: “تمہیں اتنا ہی کافی تھا کہ اگر نجاست نظر آ جاتی تو اس جگہ کو دھو لیتے، اور اگر نظر نہ آتی تو اس کے ارد گرد پانی چھڑک لیتے۔ میں رسول اللہ ﷺ کے کپڑے سے منی کو خشک ہونے کی صورت میں کھرچ دیا کرتی تھی اور آپ ﷺ اسی میں نماز پڑھ لیتے تھے۔”
السؤال الرابع (ج): بین معنی المنی والمذی والودی۔
الجواب: (1) المنی: وہ گاڑھا سفید مادہ جو شہوت کے غلبے اور اچھل کر نکلتا ہے، اس سے غسل فرض ہو جاتا ہے۔ (2) المذی: وہ پتلا سفید مادہ جو شہوت کے وقت (بغیر اچھلے) نکلتا ہے، اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے مگر غسل فرض نہیں ہوتا۔ (3) الودی: وہ لیس دار مادہ جو پیشاب کے بعد یا بھاری بوجھ اٹھانے پر نکلتا ہے، یہ بھی صرف وضو کو توڑتا ہے۔
السؤال الخامس (ب): بین اختلاف الفقہاء فی التأمین سراً وجہراً مع دلائلہم۔
الجواب: شوافع و حنابلہ:
آمین بلند آواز (جہراً) کہنا سنت ہے؛ ان کی دلیل “وائل بن حجرؓ” کی روایت ہے کہ حضور ﷺ نے آواز بلند کی۔ احناف و مالکیہ: آمین آہستہ (سراً) کہنا سنت ہے۔
احناف کی دلیل: آمین ایک “دعا” ہے اور دعا میں اصل “اخفاء” (آہستہ کہنا) ہے۔ نیز حضرت ابن مسعودؓ اور حضرت علیؓ سے مروی ہے کہ وہ آمین آہستہ کہتے تھے۔ وائل بن حجرؓ کی بلند آواز والی روایت “تعلیم” (سکھانے) پر محمول ہے۔
السؤال السادس (ب): اكتب اختلاف الفقهاء فی رفع اليدين عند الركوع وعند الرفع عنه۔
الجواب: ائمہ ثلاثہ (شافعی، مالک، احمد): نماز کے شروع میں، رکوع میں جاتے ہوئے اور رکوع سے اٹھتے ہوئے رفع یدین کرنا سنت ہے۔ احناف: صرف “تکبیرِ تحریمہ” (نماز کے آغاز) کے وقت رفع یدین سنت ہے، رکوع میں جاتے اور اٹھتے وقت نہیں۔
السؤال السادس (ج): رجح مذهب الحنفية بالدلائل فی المسئلة المذكورة۔
الجواب: احناف کی ترجیح کے دلائل: (1) حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی روایت کہ “کیا میں تمہیں حضور ﷺ کی نماز نہ پڑھ کر دکھاؤں؟ پس انہوں نے نماز پڑھی اور صرف پہلی بار ہاتھ اٹھائے”۔ (2) آثار السنن کی یہ عبارت کہ “اصحابِ علیؓ اور اصحابِ ابن مسعودؓ صرف افتتاح کے وقت ہاتھ اٹھاتے تھے”۔ (3) نماز میں سکون کا حکم ہے اور رفع یدین کے کثرتِ استعمال سے نماز کی ہیئت میں اضطراب پیدا ہوتا ہے، لہذا عدمِ رفع یدین والی روایات آخری عمل اور راجح ہیں۔
حل ورقة سنن النسائي وابن ماجه – العالمية السنة الثانية (2023)
القسم الأول: سنن النسائي
السؤال الأول (الف): شكل الحديث وترجمه إلى الأردية (حديث غسل زوج النبي ﷺ).
الجواب: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ بَعْضَ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ ﷺ اغْتَسَلَتْ مِنَ الْجَنَابَةِ، فَتَوَضَّأَ النَّبِيُّ ﷺ بِفَضْلِهَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: “إِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ”۔
ترجمہ: حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کی کسی زوجہ مطہرہ نے جنابت کا غسل کیا، پھر نبی ﷺ نے ان کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنا چاہا تو انہوں نے عرض کیا (کہ میں نے اس سے غسل کیا ہے)، آپ ﷺ نے فرمایا: “پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔”
السؤال الأول (ب): ما هو المقصود الأهم من هذا الحديث وأيضاً من استدل بقوله ﷺ “الماء طهور”؟ وما الجواب عند الأحناف؟
الجواب: مقصودِ اہم: اس حدیث کا مقصد یہ بتانا ہے کہ عورت کے استعمال سے بچا ہوا پانی ناپاک نہیں ہوتا اور مرد اس سے وضو کر سکتا ہے۔
استدلال: امام شافعیؒ اور امام بخاریؒ اس سے استدلال کرتے ہیں کہ پانی قلیل ہو یا کثیر، وہ محض استعمال سے ناپاک نہیں ہوتا۔
جوابِ احناف: احناف کے نزدیک اگر عورت نے پانی کو خلوت (تنہائی) میں استعمال کیا ہو تو اس کے بچے ہوئے پانی (فضلِ طہور المرأۃ) سے مرد کا وضو کرنا مکروہِ تنزیہی ہے، البتہ یہ حدیث اس صورت پر محمول ہے جہاں پانی کثیر ہو یا ضرورت پیش آ جائے۔
السؤال الثاني (الف): شكل الحديث ثم انقله إلى الأردية (المسجد الذي أسس على التقوى). الجواب: عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: تَمَارَى رَجُلَانِ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ، فَقَالَ رَجُلٌ: هُوَ مَسْجِدُ قُبَاءٍ، وَقَالَ الْآخَرُ: هُوَ مَسْجِدُ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: “هُوَ مَسْجِدِي هَذَا”۔
ترجمہ: حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے اس مسجد کے بارے میں بحث کی جس کی بنیاد پہلے دن سے تقویٰ پر رکھی گئی؛ ایک نے کہا وہ “مسجدِ قباء” ہے اور دوسرے نے کہا وہ “مسجدِ نبوی” ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “وہ میری یہ مسجد (مسجدِ نبوی) ہے۔”
السؤال الثاني (ب): اكتب فضل مسجد قباء والمسجد الحرام والمسجد النبوي في ضوء الحديث.
الجواب: مسجدِ حرام: اس میں ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے۔ مسجدِ نبوی: اس میں ایک نماز کا ثواب ایک ہزار نمازوں کے برابر ہے۔
مسجدِ قباء: اس مسجد کی زیارت اور اس میں دو رکعت نماز پڑھنے کا ثواب ایک “عمرہ” کے برابر ہے۔ اگرچہ قرآن کی آیت (سورہ توبہ) میں مسجدِ قباء کا ذکر ہے، مگر نبی ﷺ نے واضح فرمایا کہ مسجدِ نبوی بھی اسی تقویٰ کی بنیاد پر قائم ہے۔
السؤال الثالث (الف): ترجم الحديث وأيضاً ما التشديد في المرور بين يدي المصلي بين في ضوء الحديث؟
الجواب: ترجمہ: حضرت براء بن عازبؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو سولہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی، پھر آپ کا رخ کعبہ کی طرف کر دیا گیا، ایک شخص (مسجدِ نبوی میں) نماز پڑھ کر نکلا اور ایک گروہ کے پاس سے گزرا جو نماز پڑھ رہے تھے، اس نے بتایا کہ قبلہ بدل گیا ہے تو وہ نماز ہی میں کعبہ کی طرف گھوم گئے۔ تشدید: نمازی کے سامنے سے گزرنا سخت گناہ ہے؛ حدیث میں ہے کہ اگر گزرنے والے کو پتہ چل جائے کہ کتنا گناہ ہے تو وہ چالیس (سال یا دن) تک کھڑا رہنے کو گزرنے سے بہتر سمجھے۔
القسم الثاني: سنن ابن ماجه
السؤال الرابع (الف): شکل الحدیث وترجمہ إلی الأردیة (لا عدوی ولا طیرة). الجواب: عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: “لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا هَامَةَ”۔ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ الْبَعِيرَ يَكُونُ بِهِ الْجَرَبُ فَيُجْرِبُ الْإِبِلَ كُلَّهَا؟ قَالَ: “ذَلِكُمُ الْقَدَرُ، فَمَنْ أَجْرَبَ الْأَوَّلَ؟”۔
ترجمہ: حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “چھوت کی بیماری، بدشگونی اور الو (کی منحوسی) کی کوئی حقیقت نہیں”۔ ایک دیہاتی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر ان اونٹوں کا کیا معاملہ ہے جن میں سے ایک کو خارش ہوتی ہے تو وہ سب کو لگ جاتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: “یہ اللہ کی تقدیر سے ہے، تو پھر پہلے اونٹ کو خارش کس نے لگائی؟”
السؤال الرابع (ب): بین معنی القدر لغة وشرعا وأيضاً الشرح الكلمات المخطوط مع حكمها الشرعي.
الجواب: قدر (لغوی): اندازہ کرنا، فیصلہ کرنا۔
شرعی: اللہ کا وہ ازلی فیصلہ جس کے مطابق کائنات میں ہر خیر و شر رونما ہوتا ہے۔
تشریح: (1) لا عدوی: بیماری کا بذاتِ خود ایک سے دوسرے کو لگنا (بغیر حکمِ الہی) شرعاً باطل عقیدہ ہے۔ (2) لا طیرة: پرندوں یا چیزوں سے بدشگونی لینا حرام ہے۔ (3) لا ہامة: زمانہ جاہلیت کا یہ عقیدہ کہ مقتول کی روح الو بن کر بدلہ مانگتی ہے، اسلام نے اسے ختم کیا۔
السؤال الخامس (الف): شکل الحدیث وترجمہ إلی الأردیة (مثل المؤمن الذی یقرء القرآن).
الجواب: عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: “مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْأُتْرُجَّةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَرِيحُهَا طَيِّبٌ، وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ التَّمْرَةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَلَا رِيحَ لَهَا”۔
ترجمہ: حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: “اس مومن کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے سنگترے (اترجہ) جیسی ہے جس کا ذائقہ بھی اچھا اور خوشبو بھی اچھی ہے، اور اس مومن کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا کھجور جیسی ہے جس کا ذائقہ تو اچھا ہے مگر خوشبو نہیں۔”
السؤال السادس (ب): فصل أقسام القتل مع بيان أن في أي قسم تجب الدية.
الجواب: قتل کی پانچ اقسام ہیں: (1) قتلِ عمد: جان بوجھ کر ہتھیار سے مارنا (اس میں قصاص ہے، یا صلح پر دیت)۔ (2) شبهِ عمد: جان بوجھ کر مارنا مگر ایسے آلے سے جو عام طور پر قتل نہ کرے (اس میں دیتِ مغلظہ ہے)۔ (3) قتلِ خطا: غلطی سے گولی چل جانا (دیتِ مخففہ ہے)۔ (4) جاری مجریٰ خطا: سوتے میں کسی پر گر کر مار دینا (دیت ہے)۔ (5) قتل بالسبب: کنواں کھودنا جس میں کوئی گر کر مر جائے (اس میں بھی دیت واجب ہوتی ہے مگر عاقلہ پر)۔