Tanzeem ul Madaris Solved Past Paper 2023 | PDF (طلباء کے لیے) خاصه سال اول

حل شدہ پرچہ: ترجمہ قرآن وحديث (خاصہ سال اول – 2023)

حصہ اول: ترجمہ قرآن مجید

سوال: “إِذْ يُرِيْكَهُمُ اللَّهُ فِي مَنَامِكَ قَلِيْلًا وَلَوْ أَرَاكَهُمْ كَثِيْرًا لَفَشِلْتُمْ وَلَتَنَازَعْتُمْ فِي الْأَمْرِ…” کا ترجمہ کریں۔
جواب: (اے محبوب!) یاد کریں جب اللہ نے آپ کو آپ کے خواب میں ان (کفار) کی تعداد تھوڑی دکھائی، اور اگر وہ آپ کو ان کی تعداد زیادہ دکھاتا تو تم (مسلمان) ہمت ہار دیتے اور معاملے میں جھگڑنے لگتے، لیکن اللہ نے (تمہیں) بچا لیا، بے شک وہ سینوں کی بات جاننے والا ہے۔
سوال: “يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا آبَاءَكُمْ وَإِخْوَانَكُمْ أَوْلِيَاءَ إِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَى الْإِيمَانِ…” کا ترجمہ کریں۔
جواب: اے ایمان والو! اپنے باپ دادا اور اپنے بھائیوں کو دوست نہ بناؤ اگر وہ ایمان کے مقابلے میں کفر کو پسند کریں، اور تم میں سے جو کوئی ان سے دوستی کرے گا تو وہی لوگ ظالم ہیں۔
سوال: “سَيَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَكُمْ إِذَا انْقَلَبْتُمْ إِلَيْهِمْ لِتَعْرِضُوا عَنْهُمْ فَأَعْرِضُوا عَنْهُمْ إِنَّهُمْ رِجْسٌ…” کا ترجمہ کریں۔
جواب: جب تم ان کی طرف واپس لوٹو گے تو وہ تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے درگز فرماؤ، تو تم ان سے کنارہ کشی کر لو، بے شک وہ گندگی ہیں اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے، یہ ان کے کرتوتوں کا بدلہ ہے۔
سوال: “وَمَا كَانَ هَذَا الْقُرْآنُ أَنْ يُفْتَرَى مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلَكِنْ تَصْدِيقَ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ…” کا ترجمہ کریں۔
جواب: اور اس قرآن کی یہ شان نہیں کہ اسے اللہ کے سوا کوئی گھڑ لے، بلکہ یہ تو ان (کتابوں) کی تصدیق ہے جو اس سے پہلے (نازل) ہوئیں اور کتاب (لوحِ محفوظ) کی تفصیل ہے، اس میں کوئی شک نہیں (کہ یہ) رب العالمین کی طرف سے ہے۔

سوال نمبر 2: قرآنی الفاظ کے معانی
سوال: درج ذیل الفاظ کے معانی لکھیں: قِلَّة، الْخَالِدِيْنَ، وَلِيجَة، دَائِرَة، اضْدَادًا، مُلَقُون، يُوجَار، طَوْعًا، كُلَّ مَرْصَد، زُخْرُفَهَا۔ جواب:
  • قِلَّة: تھوڑی تعداد۔
  • الْخَالِدِيْن: ہمیشہ رہنے والے۔
  • وَلِيجة: بھیدی یا خاص دوست۔
  • دَائِرة: گردش یا آفت۔
  • اضْدَادًا: مخالف یا دشمن۔
  • مُلَقُون: ملنے والے۔
  • يُوجَار: وہ پناہ مانگتے ہیں۔
  • طَوْعًا: خوشی سے۔
  • كُلَّ مَرْصَد: ہر گھات کی جگہ۔
  • زُخْرُفَهَا: اس کی رونق/آرائش۔

حصہ دوم: ریاض الصالحین (احادیث)

سوال: “عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا…” کا ترجمہ کریں۔
جواب: حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: چار عادتیں ایسی ہیں کہ جس میں وہ ہوں وہ پکا منافق ہے، اور جس میں ان میں سے ایک عادت ہو اس میں نفاق کا ایک حصہ ہے یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے: (1) جب امانت دی جائے تو خیانت کرے، (2) جب بات کرے تو جھوٹ بولے، (3) جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے، (4) جب جھگڑا کرے تو گالی گلوچ پر اتر آئے۔
سوال: “عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ دَفَعَ مَعَ النَّبِيِّ يَوْمَ عَرَفَةَ فَسَمِعَ النَّبِيُّ ﷺ وَرَاءَهُ زَجْرًا شَدِيْدًا…” کا ترجمہ کریں۔
جواب: حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ وہ عرفہ کے دن نبی ﷺ کے ساتھ (مزدلفہ کی طرف) چلے، تو نبی ﷺ نے اپنے پیچھے سے (اونٹوں کو) زور سے ڈانٹنے اور مارنے کی آواز سنی، تو آپ نے اپنے کوڑے سے اشارہ فرمایا اور کہا: اے لوگو! سکون و وقار کو لازم پکڑو، کیونکہ اونٹوں کو تیز دوڑانا نیکی نہیں ہے۔
سوال: “عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ…” کا ترجمہ کریں۔
جواب: حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اپنے مہمان کی عزت کرے، اور جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ رشتہ داری نبھائے، اور جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ بھلی بات کہے یا خاموش رہے۔

سوال نمبر 4: الفاظ کے معانی (احادیث)
سوال: درج ذیل الفاظ کے معانی لکھیں: اَلشِّمَال، اَلِاكْتِحَال، شِيْبَة، اَلْإِنْكَات، اَلْقَصَب، تَطِيْش، اَلْجَدْوَل، ضَيْف، آنِيَةُ الذَّهَب، يُجَرْجِر، غَلِيْظُ الْقَلْب۔ جواب:
  • اَلشِّمَال: بایاں ہاتھ۔
  • اَلِاكْتِحَال: سرمہ لگانا۔
  • شِيْبَة: بڑھاپا/سفید بال۔
  • اَلْإِنْكَات: زمین کریدنا (فکر کی حالت میں)۔
  • اَلْقَصَب: آنتیں۔
  • تَطِيْش: وہ (ہاتھ) گھومتا ہے۔
  • اَلْجَدْوَل: چھوٹی نہر۔
  • ضَيْف: مہمان۔
  • آنِيَةُ الذَّهَب: سونے کے برتن۔
  • يُجَرْجِر: وہ گڑگڑاتا ہے (آواز نکالنا)۔
  • غَلِيْظُ الْقَلْب: سخت دل والا۔

حل شدہ پرچہ: فقہ و اصول فقہ (دوسرا پرچہ – 2023) – تنظیم المدارس

حصہ اول: فقہ (مختصر القدوری)

سوال 1 (الف): “فَإِذَا حَصَلَ الْإِيْجَابُ وَالْقَبُوْلُ لَزِمَ الْبَيْعُ…” پر اعراب لگائیں اور ترجمہ کریں۔
جواب: تَرْجُمَہ: پس جب ایجاب و قبول حاصل ہو جائے تو بیع لازم ہو جاتی ہے اور ان دونوں (بائع و مشتری) میں سے کسی کو (بیع فسخ کرنے کا) اختیار نہیں رہتا، سوائے عیب کی وجہ سے یا (چیز کو) نہ دیکھنے کی وجہ سے۔
سوال 1 (ب): خیارِ شرط کی مدت مع اختلافِ ائمہ تحریر کریں؟
جواب: امام ابوحنیفہؒ اور امام زفرؒ کے نزدیک خیارِ شرط کی مدت تین دن اور تین راتیں ہے، اس سے زیادہ جائز نہیں۔ امام ابویوسفؒ اور امام محمدؒ (صاحبین) کے نزدیک اگر مدت متعین ہو تو تین دن سے زیادہ بھی جائز ہے۔
سوال 1 (ج): مختصر القدوری کی روشنی میں اندھے کا خیار کس طرح ساقط ہوتا ہے؟
جواب: اندھے کا خیارِ رؤیت اس وقت ساقط ہوتا ہے جب وہ چیز کو چھو لے (اگر چھونے سے معلوم ہو سکے) یا اس کو سونگھ لے (اگر سونگھنے والی ہو) یا اسے چکھ لے (اگر چکھنے والی ہو)۔
سوال 2 (الف): بیع مرابحہ اور بیع تولیہ کی تعریفات تحریر کریں؟
جواب: مرابحہ: جس قیمت پر چیز خریدی اس پر کچھ نفع شامل کر کے بیچنا۔ تولیہ: جس قیمت پر چیز خریدی، بغیر کسی نفع یا نقصان کے اسی قیمت پر آگے بیچ دینا۔
سوال 2 (ب): ربا کی اقسام مع تعریفات تحریر کریں؟
جواب: (1) ربا الفضل: ہم جنس اشیاء کے تبادلے میں ایک طرف زیادتی ہونا (مثلاً ایک کلو گندم کے بدلے ڈیڑھ کلو گندم)۔ (2) ربا النساء: ہم جنس یا قدر میں مشترک اشیاء کے تبادلے میں ایک طرف سے ادائیگی میں تاخیر یا ادھار کرنا۔
سوال 2 (ج): کسی چیز کے مکیلی یا موزونی ہونے کا معیار کیا ہے؟
جواب: معیار یہ ہے کہ جو چیزیں نبی کریم ﷺ کے عہدِ مبارک میں ناپ کر (مکیلی) بکتی تھیں وہ ہمیشہ مکیلی رہیں گی اور جو وزن کر کے (موزونی) بکتی تھیں وہ ہمیشہ موزونی رہیں گی، چاہے لوگوں کا عرف بدل جائے۔
سوال 3 (الف): اجارہ کی اقسام مع تعریفات و امثلہ تحریر کریں؟
جواب: (1) اجیرِ خاص: وہ جو ایک وقتِ مقررہ کے لیے صرف ایک ہی شخص کا کام کرے، جیسے ماہانہ ملازم۔ (2) اجیرِ مشترک: وہ جو ایک وقت میں بہت سے لوگوں کا کام کرے، جیسے درزی یا دھوبی۔
سوال 3 (ب): مختصر القدوری کی روشنی میں اجارہ کے فسخ ہونے کی پانچ صورتیں لکھیں؟ جواب: (1) چیز میں ایسا عیب نکلنا جو نفع حاصل کرنے میں مانع ہو۔ (2) جس چیز کا اجارہ کیا وہ ہلاک ہو جائے۔ (3) مدتِ اجارہ ختم ہو جائے۔ (4) عذرِ شرعی ظاہر ہونا (مثلاً دکان کرائے پر لی پھر دیوالیہ ہو گیا)۔ (5) عاقدین (مالک یا کرایہ دار) میں سے کسی ایک کا انتقال ہو جانا۔

حصہ دوم: اصولِ فقہ (اصول الشاشی)

سوال 4 (الف): “إِذَا أُطْلِقَ الثَّمَنُ فِي الْبَيْعِ كَانَ عَلَى غَالِبِ نَقْدِ الْبَلَدِ…” کا ترجمہ کریں۔
جواب: تَرْجُمَہ: جب بیع میں قیمت (ثمن) کو مطلق چھوڑ دیا جائے (یعنی سکہ متعین نہ ہو) تو وہ اس شہر کے عام رائج سکے پر محمول ہوگی، یہ حکم ‘تاویل’ کے طریقے سے ثابت ہوتا ہے۔
سوال 4 (ب): مشترک اور مؤول کی تعریفات مع احکام تحریر کریں؟
جواب: مشترک: وہ لفظ جو کئی معانی کے لیے وضع کیا گیا ہو (جیسے ‘قُرء’)؛ اس کا حکم یہ ہے کہ غور و فکر سے ایک معنی متعین کیا جائے۔ مؤول: مشترک کے کئی معانی میں سے جب ایک معنی کو غالب گمان سے متعین کر لیا جائے؛ اس کا حکم یہ ہے کہ اس پر عمل واجب ہے مگر اس میں خطا کا احتمال رہتا ہے۔
سوال 5 (الف): مطلق کی تعریف اور اس کا حکم تحریر کریں؟
جواب: تعریف: وہ لفظ جو اپنی ذات پر دلالت کرے اور کسی قید (صفت یا شرط) سے آزاد ہو۔ حکم: یہ اپنے معنی پر قطعی طور پر دلالت کرتا ہے جب تک کہ اس کو مقید کرنے والی کوئی دلیل نہ مل جائے۔
سوال 5 (ب): پانی میں زعفران ملنے کے مسئلے میں امام اعظم اور امام شافعی کا اختلاف لکھیں؟
جواب: امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک اگر زعفران ملنے سے پانی کے تمام اوصاف (رنگ، بو، مزہ) نہ بدلیں اور وہ گاڑھا نہ ہو تو اس سے وضو جائز ہے۔ امام شافعیؒ کے نزدیک جب پانی کا نام بدل جائے (زعفران کا پانی کہلائے) تو اس سے وضو جائز نہیں۔
سوال 6 (ب): حقیقت اور مجاز کی تعریفات مع امثلہ تحریر کریں؟
جواب: حقیقت: وہ لفظ جو اپنے اصلی موضوع لہ (جس کے لیے بنایا گیا) میں استعمال ہو، جیسے ‘اسد’ شیر (درندے) کے لیے۔ مجاز: وہ لفظ جو اپنے اصلی معنی کے بجائے دوسرے معنی میں کسی تعلق کی وجہ سے استعمال ہو، جیسے بہادر آدمی کو ‘اسد’ کہنا۔
سوال 6 (ج): حقیقتِ متعذرہ کی تعریف مع حکم تحریر کریں؟
جواب: تعریف: وہ لفظ جس کے حقیقی معنی پر عمل کرنا عادتاً یا شرعاً ناممکن ہو، جیسے کوئی کہے “میں اس درخت سے نہیں کھاؤں گا” (مراد اس کا پھل ہے)۔ حکم: اس صورت میں کلام کو مجاز پر محمول کیا جاتا ہے۔

حل شدہ پرچہ: علم النحو (تیسرا پرچہ – 2023) – تنظیم المدارس

سوال نمبر 1: اعراب کی اقسام اور غیر منصرف
سوال (الف): جمع مکسر منصرف، اسم منقوص، اسماء ستہ مکبرہ اور اسم مقصور کا اعراب مع امثلہ تحریر کریں؟
جواب: جمع مکسر منصرف: حالتِ رفع میں ضمہ، نصب میں فتحہ، جر میں کسرہ (جیسے رِجالٌ)۔ اسم منقوص: حالتِ رفع و جر میں تقدیری، نصب میں لفظی فتحہ (جیسے القاضِیَ)۔ اسماء ستہ مکبرہ: حالتِ رفع میں واؤ، نصب میں الف، جر میں یاء (جیسے اَبُوْکَ، اَبَاکَ، اَبِيْکَ)۔ اسم مقصور: تینوں حالتوں میں اعراب تقدیری ہوتا ہے (جیسے مُوْسٰی)۔
سوال (ب): وزنِ فعل، جمع اور وصف کے غیر منصرف کا سبب بننے کی شرائط لکھیں؟
جواب: وزنِ فعل: وہ وزن فعل کے ساتھ خاص ہو یا اس کے شروع میں حروفِ اتین میں سے کوئی حرف ہو (جیسے اَحْمَد)۔ جمع: وہ جمع منتہی الجموع کے وزن پر ہو (جیسے مَسَاجِد)۔ وصف: یہ وصف اپنی وضعِ اصلی کے اعتبار سے ہو اور اس کا مؤنث ‘تانیث بالتاء’ کے ساتھ نہ آئے۔

سوال نمبر 2: مفعول مطلق کے احکام
سوال (الف): عبارت “المفعول المطلق وهو اسم ما فعله فاعل فعل مذکور…” پر اعراب لگا کر ترجمہ کریں؟
جواب: تَرْجُمَہ: مفعول مطلق وہ اسم ہے جسے مذکورہ فعل کے فاعل نے اسی فعل کے معنی میں کیا ہو، اور یہ کبھی تاکید، کبھی نوع (قسم) اور کبھی عدد (تعداد) بتانے کے لیے ہوتا ہے، پس پہلا (تاکیدی) نہ تثنیہ لایا جاتا ہے نہ جمع، بخلاف اپنے باقی دو بھائیوں (نوع اور عدد) کے، اور کبھی یہ اپنے فعل کے لفظ کے علاوہ (ہم معنی) لفظ سے بھی آتا ہے جیسے ‘قعدتُ جلوساً’۔
سوال (ب): مفعول مطلق کے فعل ناصب کو قیاسی طور پر حذف کرنے کے کوئی سے دو مقامات لکھیں؟
جواب: (1) جہاں مفعول مطلق قرینہِ حالیہ کی وجہ سے سمجھ آ رہا ہو، جیسے حاجی کو دیکھ کر کہنا: “حجاً مبروراً” (ای ‘حججتَ حجاً مبروراً’)۔ (2) جہاں مفعول مطلق ایسے جملے کے بعد آئے جو اس کے معنی کا احتمال رکھتا ہو، جیسے: “انت ابی حقاً”۔

سوال نمبر 3: کلمہ کی اقسام اور فعل کے خواص
سوال (الف): کلمہ کی تعریف، اقسام مع تعریفات و امثلہ اور وجہِ حصر لکھیں؟
جواب: تعریف: وہ لفظ جو اکیلے معنی کے لیے وضع ہو۔ اقسام: اسم (جیسے زید)، فعل (جیسے نَصَرَ)، حرف (جیسے فِی)۔ وجہِ حصر: کلمہ یا تو اپنے معنی خود بتائے گا یا نہیں، اگر نہیں تو وہ ‘حرف’ ہے، اور اگر بتائے تو اس میں زمانہ پایا جائے گا (فعل) یا نہیں (اسم)۔
سوال (ب): کافیہ کی روشنی میں فعل کے خواص (خصوصیات) تحریر کریں؟
جواب: فعل کے خواص درج ذیل ہیں: (1) اس پر ‘قد’ کا آنا۔ (2) ‘سین’ اور ‘سوف’ کا آنا۔ (3) جزم کا آنا۔ (4) حرفِ مشبہ بفعل کا اس پر داخل نہ ہونا۔ (5) اس کا مسند الیہ نہ بن سکنا۔ (6) تائے تانیث ساکنہ کا آخر میں لگنا۔

سوال نمبر 4: اضافت کی اقسام اور فوائد
سوال (الف): اضافتِ لفظیہ و معنویہ کی تعریفات و امثلہ لکھیں؟
جواب: اضافتِ معنویہ: جس میں مضاف صفت کا صیغہ نہ ہو یا اپنے معمول کی طرف مضاف نہ ہو، جیسے: “غلامُ زیدٍ”۔ اضافتِ لفظیہ: جس میں مضاف صفت کا صیغہ ہو اور اپنے معمول کی طرف مضاف ہو، جیسے: “ضاربُ زیدٍ”۔
سوال (ب): اضافتِ معنویہ کی تینوں اقسام مع امثلہ سپرد قلم کریں؟
جواب: (1) اضافتِ لامیہ: جہاں ‘لام’ کا معنی ہو (ملکیت)، جیسے ‘غلامُ زیدٍ’ (زید کا غلام)۔ (2) اضافتِ بیانیہ: جہاں ‘مِن’ کا معنی ہو، جیسے ‘خاتمُ فضۃٍ’ (چاندی کی انگوٹھی)۔ (3) اضافتِ ظرفیہ: جہاں ‘فِی’ کا معنی ہو، جیسے ‘مکرُ اللیلِ’ (رات کی چال)۔
سوال (ج): اضافت کے فوائد کافیہ کی روشنی میں تحریر کریں؟
جواب: اضافتِ معنویہ کے دو بڑے فائدے ہیں: (1) تعریف: اگر مضاف الیہ معرفہ ہو تو مضاف بھی معرفہ بن جاتا ہے۔ (2) تخصیص: اگر مضاف الیہ نکرہ ہو تو مضاف میں تخصیص (خاص ہونا) پیدا ہو جاتی ہے۔ اضافتِ لفظیہ کا فائدہ صرف لفظی تخفیف (تنویر گرانا) ہے۔

حل شدہ پرچہ: منطق و عربی ادب (چوتھا پرچہ – 2023) – تنظیم المدارس

حصہ اول: منطق
سوال 1 (الف): عبارت “إِيَّاكَ وَأَنْ تَظُنَّ أَنَّ كُلَّ تَرْتِيْبٍ يَكُوْنُ صَوَابًا…” پر اعراب لگا کر ترجمہ کریں۔
جواب: تَرْجُمَہ: تم اس بات سے بچو کہ یہ گمان کر بیٹھو کہ ہر ترتیب درست اور صحیح علم تک پہنچانے والی ہوتی ہے، بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو صاحبانِ نظر (علماء) کے درمیان اختلاف اور تناقض واقع نہ ہوتا، حالانکہ وہ واقع ہوا ہے، پس کوئی کہنے والا کہتا ہے کہ عالم (دنیا) حادث ہے۔
سوال 1 (ب): علمِ منطق کی تعریف اور وجہ تسمیہ لکھیں؟
جواب: تعریف: وہ علم جس کے قواعد کا لحاظ رکھنا ذہن کو سوچ و بچار میں غلطی سے بچائے۔ وجہ تسمیہ: یہ ‘نطق’ سے نکلا ہے، نطقِ ظاہری (کلام) اور نطقِ باطنی (ادراک) دونوں کو درست کرتا ہے۔
سوال 2 (الف): کلی کی پانچ مشہور اقسام (کلیاتِ خمسہ) میں سے تین کی تعریفات و امثلہ لکھیں؟
جواب: (1) جنس: وہ کلی جو ایسی حقیقتوں پر بولی جائے جو مختلف ہوں، جیسے ‘حیوان’ (انسان اور گھوڑے پر بولا جاتا ہے)۔ (2) نوع: وہ کلی جو ایسی حقیقتوں پر بولی جائے جو متفق ہوں، جیسے ‘انسان’۔ (3) فصل: وہ کلی جو کسی چیز کو اس کی جنس میں موجود دیگر اشیاء سے ممتاز کرے، جیسے ‘ناطق’۔
سوال 2 (ب): تساوی اور عموم و خصوص من وجہ کی تعریف اور مثال تحریر کریں؟
جواب: تساوی: جب دو کلیوں کے افراد مکمل طور پر ایک دوسرے پر صادق آئیں، جیسے ‘انسان’ اور ‘ناطق’۔ عموم و خصوص من وجہ: جب دو کلیاں کچھ افراد میں شریک ہوں اور کچھ میں جدا، جیسے ‘حیوان’ اور ‘سفید’ (کچھ حیوان سفید ہیں، کچھ حیوان سفید نہیں، اور کچھ سفید چیزیں حیوان نہیں)۔
سوال 3 (الف): مرکب کی دونوں اقسام (تام و ناقص) مع تعریفات و امثلہ لکھیں؟
جواب: مرکبِ تام: وہ کلام جس پر بات مکمل ہو جائے اور سننے والے کو فائدہ حاصل ہو، جیسے ‘زیدٌ قائمٌ’۔ مرکبِ ناقص: وہ کلام جس پر بات مکمل نہ ہو اور مزید سننے کا انتظار رہے، جیسے ‘غلامُ زیدٍ’ (زید کا غلام)۔
سوال 3 (ب): مرکبِ تام کی اقسام اور کلمہ کی اقسام تحریر کریں؟
جواب: مرکبِ تام کی دو بڑی اقسام ہیں: (1) خبریہ: جسے سچا یا جھوٹا کہا جا سکے، (2) انشائیہ: جسے سچا یا جھوٹا نہ کہا جا سکے۔ کلمہ کی تین اقسام ہیں: اسم، فعل اور حرف۔

حصہ دوم: عربی ادب

سوال 4 (الف): اسلامی ادبیات پر اثر انداز ہونے والے کوئی سے تین اسباب بیان کریں؟
جواب: (1) قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت۔ (2) احادیثِ مبارکہ کا جامع اور حکیمانہ اسلوب۔ (3) اسلامی فتوحات کے نتیجے میں عربوں کا دیگر تہذیبوں کے ساتھ اختلاط۔
سوال 4 (ب): حدیث کے طرزِ اسلوب پر مثالوں کے ساتھ جامع نوٹ لکھیں؟
جواب: حدیثِ نبوی کا اسلوب ‘جوامع الکلم’ (کم الفاظ میں زیادہ معنی) پر مبنی ہے، جیسے “انما الاعمال بالنیات”۔ اس میں سادگی، تاثیر، تشبیہات اور تمثیلات کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے جو براہِ راست دل میں اتر جاتا ہے۔
سوال 5 (الف): اشعار “وَقَدْ يَنْبُتُ الْمَرْعَى…” پر اعراب لگائیں اور ترجمہ کریں۔
جواب: ترجمہ: (1) بسا اوقات کوڑے کرکٹ پر بھی سبزہ اگ آتا ہے، مگر دلوں کے کینے اپنی جگہ باقی رہتے ہیں۔ (2) اے ہند! (بنو بکر کی بیٹی) سلامت رہو، اگرچہ ہمارے قبیلے ایک دوسرے کے دشمن ہی کیوں نہ رہیں۔ (3) جب میں بنو تیم کے غلاموں سے ملتا ہوں تو کہتا ہوں کہ ان میں سے اصلی غلام کون ہے؟ (یہ شعر ہجو پر مبنی ہے)۔
سوال 5 (ب): قراءِ سبعہ (سات مشہور قراء) میں سے کسی پانچ کے نام لکھیں؟
جواب: (1) امام نافع مدنی۔ (2) امام عاصم کوفی۔ (3) امام ابن کثیر مکی۔ (4) امام ابو عمرو بصری۔ (5) امام حمزہ کوفی۔
سوال 6 (الف): حجازی شاعری کی کوئی تین خصوصیات لکھیں؟
جواب: (1) اس میں غزل اور رومانوی انداز غالب تھا۔ (2) زبان انتہائی نرم، سلیس اور دلکش تھی۔ (3) قبائلی جنگ و جدل کے بجائے انسانی جذبات اور حسن و جمال کا ذکر زیادہ ملتا ہے۔
سوال 6 (ب): حضرت خنساء اور حضرت حسان کی شاعری پر جامع نوٹ لکھیں؟
جواب: حضرت خنساء: آپ مرثیہ گوئی میں مشہور تھیں، اپنے بھائیوں (صخر اور معاویہ) کی موت پر لکھے گئے آپ کے اشعار آج بھی ادبِ عربی کا شاہکار ہیں۔ حضرت حسان بن ثابت: آپ ‘شاعرِ رسول’ کہلاتے ہیں، آپ نے اپنی شاعری کے ذریعے اسلام کا دفاع کیا اور مشرکینِ مکہ کی ہجو کا بھرپور جواب دیا۔

حل شدہ پرچہ: سیرت و تاریخ (پانچواں پرچہ – 2023) – تنظیم المدارس

پہلا حصہ: سیرتِ طیبہ ﷺ

سوال 1 (الف): حربِ فجار اور حلف الفضول پر مختصر مضمون تحریر کریں۔
جواب: حربِ فجار: یہ وہ جنگ تھی جو قریش اور قیس کے درمیان حرمت والے مہینوں میں لڑی گئی، اس میں حضور ﷺ نے شرکت فرمائی مگر کسی پر ہاتھ نہیں اٹھایا۔ حلف الفضول: اس جنگ کے بعد مکہ کے کچھ لوگوں نے معاہدہ کیا کہ ہم مظلوم کی مدد کریں گے، نبی ﷺ نے اس میں شرکت فرمائی اور اسے بہت پسند فرمایا۔
سوال 2 (ب): ابتداءِ وحی پر مختصر مضمون سپردِ قلم کریں۔
جواب: نبی ﷺ غارِ حرا میں عبادت میں مشغول تھےسوال 1 (ب): تولد شریف (پیدائش) کے وقت کے خوارق (معجزات) میں سے دو ضبطِ تحریر میں لائیں۔
جواب: (1) حضور ﷺ کی پیدائش کے وقت ایوانِ کسریٰ (ایران کے بادشاہ کا محل) کے چودہ کنگرے گر گئے۔ (2) فارس کا آتش کدہ جو ایک ہزار سال سے روشن تھا، وہ بجھ گیا۔
سوال 2 (الف): تعمیرِ کعبہ کے بارے میں مختصر مگر جامع نوٹ لکھیں۔
جواب: جب نبی ﷺ کی عمر 35 سال تھی، قریش نے کعبہ کی تعمیرِ نو کی۔ حجرِ اسود رکھنے پر جھگڑا ہوا تو آپ ﷺ نے اپنی چادر میں حجرِ اسود رکھ کر تمام قبائل کے سرداروں سے اسے اٹھوایا اور خود اپنے دستِ مبارک سے نصب فرما کر ایک بڑی جنگ کو ٹال دیا۔
 کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے اور سورہ علق کی ابتدائی پانچ آیات پڑھنے کو کہا۔ یہ نبوت کا آغاز تھا، اس کے بعد آپ ﷺ گھر تشریف لائے اور حضرت خدیجہ نے آپ ﷺ کو تسلی دی۔
سوال 3 (الف): برکاتِ نورِ محمدی ﷺ پر جامع نوٹ لکھیں۔
جواب: نورِ محمدی ﷺ کی برکت سے کائنات کی تخلیق ہوئی، یہ نور انبیاء کرام کی پیشانیوں میں منتقل ہوتا رہا یہاں تک کہ آپ ﷺ کی ولادت ہوئی۔ اس نور کی برکت سے حضرت حلیمہ کے گھر میں خوشحالی آئی اور مکہ کی بنجر زمینوں پر ہریالی آگئی۔
سوال 3 (ب): بیعتِ رضوان اور صلحِ حدیبیہ کے بارے میں اپنی معلومات رقم کریں۔
جواب: 6 ہجری میں حضرت عثمان کی شہادت کی افواہ پر نبی ﷺ نے صحابہ سے موت پر بیعت لی جسے بیعتِ رضوان کہتے ہیں۔ اس کے بعد قریش نے صلح کی پیشکش کی جسے صلحِ حدیبیہ کہا جاتا ہے، اس میں دس سال کے لیے جنگ بندی کا معاہدہ ہوا جسے قرآن نے ‘فتحِ مبین’ قرار دیا۔

دوسرا حصہ: تاریخِ اسلام

سوال 4 (الف): حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانہ جاہلیت کے احوال سپردِ قلم کریں۔
جواب: زمانہ جاہلیت میں بھی آپ رضی اللہ عنہ اپنی اعلیٰ اخلاقی صفات، دیانت داری اور عفت کے لیے مشہور تھے۔ آپ نے کبھی بت پرستی نہیں کی اور نہ ہی کبھی شراب کو ہاتھ لگایا، آپ قریش میں نہایت معزز اور علمِ انساب کے ماہر مانے جاتے تھے۔
سوال 4 (ب): حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت آیات و احادیث کی روشنی میں لکھیں۔
جواب: قرآن کی آیت “وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ” آپ کی شان میں نازل ہوئی۔ حدیث میں نبی ﷺ نے فرمایا: “میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے” اور غدیرِ خم کے موقع پر فرمایا: “جس کا میں مولیٰ ہوں اس کا علی مولیٰ ہے”۔
سوال 5 (الف): اولیات سے کیا مراد ہے؟ اولیاتِ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ میں پانچ ضبطِ تحریر میں لائیں؟
جواب: اولیات سے مراد وہ کام ہیں جو کسی نے سب سے پہلے شروع کیے ہوں۔ حضرت عمر کی 5 اولیات: (1) ہجری کیلنڈر کا اجرا، (2) نمازِ تراویح کا باجماعت اہتمام، (3) بیت المال کا قیام، (4) ڈاک کا نظام، (5) زکوٰۃ کی وصولی کے لیے باقاعدہ نظام۔
سوال 5 (ب): حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا کوئی ایک خطبہ تحریر کریں؟
جواب: آپ کا پہلا خطبہ: “لوگو! میں تم پر حاکم بنایا گیا ہوں حالانکہ میں تم سے بہتر نہیں ہوں۔ اگر میں ٹھیک کام کروں تو میری مدد کرو اور اگر غلطی کروں تو مجھے سیدھا کر دو۔ جب تک میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کروں تم میری اطاعت کرو”۔
سوال 6: درج ذیل میں سے کسی دو پر نوٹ لکھیں: سنۃ الرعاف، فیصلہ قاضی شریح، جمعِ قرآن۔
جواب: جمعِ قرآن: حضرت ابوبکر کے دور میں جنگِ یمامہ کے بعد حضرت عمر کے مشورے پر قرآن کو ایک جگہ جمع کرنے کا کام حضرت زید بن ثابت کے سپرد کیا گیا۔ فیصلہ قاضی شریح: حضرت عمر کا ایک یہودی کے ساتھ گھوڑے کا تنازع ہوا، قاضی شریح نے خلیفہ کے خلاف اور یہودی کے حق میں فیصلہ دیا، جس پر حضرت عمر نے خوش ہو کر انہیں عہدے پر برقرار رکھا۔

حل شدہ پرچہ: علم البلاغت (چھٹا پرچہ – 2023) – تنظیم المدارس

سوال نمبر 1: خبر، انشاء اور جملے کی اقسام

سوال (الف): عبارت “كُلُّ كَلَامٍ فَهُوَ إِمَّا خَبَرٌ أَوْ إِنْشَاءٌ…” کا ترجمہ کریں۔
جواب: تَرْجُمَہ: ہر کلام یا تو خبر ہوتا ہے یا انشاء، خبر وہ ہے جس کے کہنے والے کے بارے میں یہ کہنا درست ہو کہ وہ اس میں سچا ہے یا جھوٹا، جیسے “محمد نے سفر کیا” اور “علی مقیم ہے”۔ اور انشاء وہ ہے جس کے کہنے والے کے بارے میں یہ کہنا درست نہ ہو (کہ وہ سچا ہے یا جھوٹا) جیسے “اے محمد سفر کرو” اور “اے علی قیام کرو”۔
سوال (ب): جملہ اسمیہ اور جملہ فعلیہ کا موضوع لہ مع امثلہ تحریر کریں؟
جواب: (1) جملہ اسمیہ: اس کا موضوع لہ کسی چیز کے لیے کسی صفت کا ثبوت (دوام و استمرار) بتانا ہے، جیسے “زیدٌ قائمٌ” (زید کھڑا ہے)۔ (2) جملہ فعلیہ: اس کا موضوع لہ کسی خاص زمانے میں فعل کا حدوث (واقع ہونا) بتانا ہے، جیسے “قامَ زیدٌ” (زید کھڑا ہوا)۔
سوال (ج): فائدہ خبر کسے کہتے ہیں؟ مع مثال تحریر کریں؟
جواب: فائدہ خبر یہ ہے کہ مخاطب کو اس حکم سے آگاہ کیا جائے جو اس کے پاس پہلے سے نہیں تھا، جیسے کسی کو یہ بتانا جس کو علم نہ ہو: “قامَ زیدٌ” (زید کھڑا ہو گیا ہے)۔

سوال نمبر 2: نداء اور اَم
سوال (الف): نداء کی تعریف مع ادواتِ نداء تحریر کریں؟
جواب: نداء وہ کلام ہے جس کے ذریعے مخاطب کو اپنی طرف متوجہ کیا جائے۔ ادواتِ نداء یہ ہیں: (یا، اَ، اَیْ، اٰ، اَیَا، ھَیَا)۔
سوال (ب): دروس البلاغہ کی روشنی میں حرفِ ندا کا استعمال مع امثلہ تحریر کریں؟
جواب: حرفِ ندا (یا) قریب اور بعید دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے، لیکن اصل میں یہ ‘بعید’ کے لیے وضع کیا گیا ہے۔ مثال: “یا اللہ” (اللہ قریب ہونے کے باوجود اس کی عظمت کی وجہ سے حرفِ ندا بعید والا لایا جاتا ہے)۔
سوال (ج): اَم متصلہ اور اَم منقطعہ کی تعریفات مع امثلہ تحریر کریں؟
جواب: (1) اَم متصلہ: وہ جو ‘ہمزہ استفہام’ کے بعد آئے اور دو چیزوں میں سے ایک کا تعین مقصود ہو، جیسے: “أَزیدٌ عندك أم عمروٌ؟”۔ (2) اَم منقطعہ: جو ‘بل’ کے معنی میں ہو اور پچھلی بات سے ہٹ کر نئی بات شروع کرے، جیسے: “إنها لَإبلٌ أم هي غنمٌ”۔

سوال نمبر 3: ذکر اور حذف کے احوال
سوال (الف): عبارت “إِذَا أُرِيْدَ إِفَادَةُ السَّامِعِ حُكْمًا…” کا ترجمہ کریں۔
جواب: تَرْجُمَہ: جب سننے والے کو کسی حکم کا فائدہ دینا مقصود ہو، تو ہر وہ لفظ جو اس معنی پر دلالت کرے، اصل یہ ہے کہ اسے ذکر کیا جائے۔
سوال (ب): کوئی سے پانچ دواعیِ ذکر (ذکر کرنے کی وجوہات) مع امثلہ لکھیں؟
جواب: (1) اصل کا تقاضا: جیسے “زیدٌ قائمٌ”۔ (2) تاکید: “اللہُ ربُّنا”۔ (3) تعظیم: “خَلَقَ اللَّهُ الْأَرْضَ”۔ (4) تبرک: “اللہُ ہادی”۔ (5) اہانت: “السارقُ فی السجنِ”۔
سوال (ج): فاعل کو حذف کرنے کی وجوہات مع امثلہ تحریر کریں؟
جواب: (1) علمِ مخاطب: فاعل کا سب کو پتہ ہونا، جیسے “خُلِقَ الْإِنْسَانُ” (پتہ ہے کہ خالق اللہ ہے)۔ (2) جہالت: جب فاعل کا پتہ نہ ہو، جیسے “سُرِقَ المتاعُ” (سامان چوری ہو گیا)۔ (3) خوف: فاعل کا نام لینے سے ڈر لگنا۔

سوال نمبر 4: قصر کی اقسام، طرق اور تعریفات
سوال (الف): قصر کی اقسام مع تعریفات و امثلہ تحریر کریں؟
جواب: (1) قصرِ موصوف علی الصفت: جیسے “ما زیدٌ إلا کاتبٌ” (زید صرف لکھنے والا ہے)۔ (2) قصرِ صفت علی الموصوف: جیسے “لا الہٰ الا اللہ” (الوہیت صرف اللہ کے لیے ہے)۔
سوال (ب): قصر کے طرق (طریقے) مع امثلہ تحریر کریں؟
جواب: (1) انما کے ذریعے: “انما انت منذر”۔ (2) نفی و استثناء: “ما زیدٌ الا رسول”۔ (3) عطف کے ذریعے: “زیدٌ شاعرٌ لا کاتبٌ”۔ (4) تقدیمِ ما حقہ التاخیر: “ایاک نعبد”۔
سوال (ج): درج ذیل میں سے تین کی تعریفات مع امثلہ لکھیں؟
جواب: (1) مقتضائے حال: وہ صورت جو کلام کے موقع و محل کے مطابق ہو، جیسے منکر کے سامنے کلام تاکید سے لانا۔ (2) تعقیدِ لفظی: الفاظ کی ترتیب خراب ہونے سے معنی کا چھپ جانا۔ (3) تنافرِ حروف: ایسے حروف کا اکٹھا ہونا جو زبان پر بوجھ بنیں، جیسے “ھُخْعُ”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *