ترجمہ: اور (اے محبوب!) تمہیں وہ لوگ غمگین نہ کریں جو کفر میں دوڑتے ہیں، بیشک وہ اللہ کا کچھ نہ بگاڑیں گے، اللہ چاہتا ہے کہ آخرت میں ان کا کچھ حصہ نہ رکھے، اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔
ترجمہ: اگر تمہیں کوئی زخم (چوٹ) پہنچا ہے تو ان لوگوں کو بھی ویسا ہی زخم پہنچ چکا ہے، اور یہ دن ہیں کہ ہم انہیں لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں، اور اس لیے کہ اللہ ایمان والوں کی پہچان کر دے اور تم میں سے کچھ کو گواہ (شہید) بنائے، اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔
ترجمہ: اور ہم نے کوئی رسول نہ بھیجا مگر اس لیے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے، اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو (اے محبوب!) تمہارے حضور حاضر ہوں اور اللہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت کرے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔
ترجمہ: تو تمہیں کیا ہوا کہ منافقوں کے بارے میں دو گروہ ہو گئے؟ حالانکہ اللہ نے انہیں ان کے کرتوتوں کے سبب اوندھا کر دیا، کیا تم اسے ہدایت دینا چاہتے ہو جسے اللہ نے گمراہ کیا؟ اور جسے اللہ گمراہ کرے تو اس کے لیے ہرگز کوئی راہ نہ پائے گا۔
ترجمہ: اور کافروں کا پیچھا کرنے میں سستی نہ کرو، اگر تمہیں تکلیف پہنچتی ہے تو انہیں بھی ویسی ہی تکلیف پہنچتی ہے جیسی تمہیں، اور تم اللہ سے وہ امید رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھتے، اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔
ترجمہ: اور ان کے پاس ان کے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی نہیں آتی مگر وہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں، تو بیشک انہوں نے حق کو جھٹلایا جب ان کے پاس آیا، تو اب جلد ہی ان کے پاس ان چیزوں کی خبریں آئیں گی جن کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔
ترجمہ: تم فرماؤ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں، اور نہ یہ کہ میں (بذاتِ خود) غیب جانتا ہوں اور نہ تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں، میں تو صرف اسی کا پیرو ہوں جو مجھے وحی آتی ہے، تم فرماؤ کیا اندھا اور انکھیارا برابر ہو جائیں گے؟ تو کیا تم غور نہیں کرتے؟
سوال نمبر 2: درج ذیل میں سے صرف دس الفاظ کے معانی لکھیں۔
مائدة: دسترخوان (کھانے سے بھرا ہوا)
حُوبًا كَبِيرًا:بہت بڑا گناہ
بَغْتَةً: اچانک
حَرْث:کھیتی
قرح:زخم / چوٹ
وَصِيْلة:وہ بکری جو جاہلیت میں بتوں کے نام پر چھوڑ دی جاتی تھی
دَمًا مَّسْفُوحًا:بہتا ہوا لہو (خون)
حَام: وہ اونٹ جس کی پشت بتوں کے نام پر محفوظ کر لی جاتی تھی
ترجمہ: اور جامد (ٹھوس) اشیاء کے پانی میں ملنے سے غلبہ تب مانا جائے گا جب وہ پانی کو اس کی رقت (پتلے پن) اور بہنے کی صلاحیت سے نکال دے، اور جامد چیز (جیسے زعفران، پھل یا درخت کے پتے) سے پانی کے تمام اوصاف کا بدل جانا نقصان دہ نہیں (یعنی پانی پاک رہے گا جب تک پتلا رہے)۔
(ب) ماءِ نجس اور ماءِ مشکوک کی تعریف و احکام:
ماءِ نجس: وہ تھوڑا پانی جس میں نجاست گر جائے (خواہ اوصاف نہ بدلیں) یا وہ جاری پانی جس کے اوصاف نجاست سے بدل جائیں۔ حکم: اس سے وضو و غسل جائز نہیں۔
ماءِ مشکوک:وہ پانی جس سے گدھے یا خچر نے منہ ڈال کر پیا ہو۔ حکم: اس سے وضو ہو سکتا ہے لیکن احتیاطاً تیمم بھی ساتھ کرنا ضروری ہے۔
سوال نمبر 4:(الف) نور الایضاح کی روشنی میں غسل کے فرائض لکھیں۔ (کتاب میں 3 مشہور ہیں، پرچے میں 5 پوچھے گئے ہیں جو کہ تفصیل میں یوں ہیں):
کلی کرنا۔ 2. ناک میں پانی ڈالنا۔ 3. تمام ظاہرِ بدن پر پانی بہانا۔ 4. داڑھی کے بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچانا۔ 5. ناف اور جسم کے تمام شگافوں میں پانی پہنچانا۔
(ب) موزوں پر مسح کے صحیح ہونے کی دو شرائط لکھیں۔
موزے ایسی حالت میں پہنے ہوں جب مکمل طہارت (وضو) موجود ہو۔
موزے اتنے موٹے ہوں کہ بغیر جوتے کے ان میں تین میل پیدل چلنا ممکن ہو۔
سوال نمبر 5:(الف) نماز کے پانچ واجبات تحریر کریں۔
سورہ فاتحہ پڑھنا۔ 2. فاتحہ کے ساتھ سورت ملانا۔ 3. رکوع و سجود میں ترتیب قائم رکھنا۔ 4. قعدہ اولیٰ کرنا۔ 5. دونوں سلام پھیرنا۔
ترجمہ: تمام زبانی، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ سلام ہو آپ پر اے نبی اور اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہوں۔ سلام ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد (ﷺ) اس کے بندے اور رسول ہیں۔
Paper: تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان
الشہادۃ الثانویۃ العامۃ (میٹرک سال دوم)
2023دوسرا پرچہ: صرف (علم الصرف)
حل شدہ پرچہ
سوال نمبر 1:(الف) اسم تفضیل کی تعریف اور گردان:
تعریف: وہ اسم مشتق جو اس بات پر دلالت کرے کہ ایک ذات میں دوسرے کی نسبت معنی زیادہ پائے جاتے ہیں۔ گردان (مذکر): أَفْعَلُ (أَنْصَرُ)، أَفْعَلَانِ (أَنْصَرَانِ)، أَفْعَلُونَ (أَنْصَرُونَ)۔ گردان (مؤنث): فُعْلٰی (نُصْرٰی)، فُعْلَيَانِ (نُصْرَيَانِ)، فُعْلَيَاتٌ (نُصْرَيَاتٌ)۔
مہموز کا قاعدہ:جب دو حمزہ ایک کلمہ میں جمع ہوں اور پہلا متحرک دوسرا ساکن ہو تو دوسرے حمزہ کو پہلے کی حرکت کے موافق حرفِ علت سے بدل دیتے ہیں (جیسے: اِأْمَانٌ سے اِيْمَانٌ)۔
معتل کا قاعدہ: واو یا یاء متحرک ہو اور اس کا ماقبل مفتوح (زبر والا) ہو تو اسے الف سے بدل دیتے ہیں (جیسے: قَوَلَ سے قَالَ)۔
(ب) تعلیلات:
مَرْضِیٌّ: اصل میں مَرْضُوْوٌ تھا۔ واو اور یاء ایک کلمہ میں جمع ہوئے، پہلے کو دوسرے میں ادغام کیا اور ضمہ کو کسرہ سے بدلا تو “مَرْضِیٌّ” بن گیا۔
يَقُوْلُ: اصل میں یَقْوُلُ تھا۔ واو کی حرکت ماقبل ساکن کو دی تو “يَقُوْلُ” بن گیا۔
مِیْعَادٌ: اصل میں مِوْعَادٌ تھا۔ واو ساکن ماقبل مکسور کو “یاء” سے بدلا تو “مِیْعَادٌ” بن گیا۔
سوال نمبر 4: (صرف چار اجزا)
بابِ تفاعل کے خواص: (1) تشارک: دو افراد کا ایک کام میں شریک ہونا (تضارب زید وعمر)۔ (2) تکلف: بناوٹ ظاہر کرنا (تمارض – بیماری کا بہانہ کرنا)۔
بابِ افعال کے خواص: (1) تعدیہ: لازم کو متعدی کرنا (اکرمتُ زیداً)۔ (2) صیرورت: کسی حالت کا مالک بننا (البن الرجل – آدمی دودھ والا ہو گیا)۔
وجدان اور صیرورت:وجدان: کسی چیز کو کسی صفت پر پانا۔ صیرورت: ایک حالت سے دوسری حالت میں بدل جانا۔
تحویل اور تخلیط:تحویل: ایک چیز کو دوسری میں بدلنا۔ تخلیط: ایک چیز کو دوسری میں ملانا۔
Paper: تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان
الشہادۃ الثانویۃ العامۃ (میٹرک سال دوم)
2023تیسرا پرچہ: نحو (ہدایۃ النحو و شرح مائۃ عامل)
حصہ اول: ہدایۃ النحو
سوال نمبر 1: الأسماء المرفوعة ثمانية أقسام
(الف) تمام اسماء مرفوعہ کے نام اور چار کی مثالیں:
جواب: اسماء مرفوعہ آٹھ ہیں:
فاعل: (مثال: جَاءَ زَيْدٌ)
نائب فاعل: (مثال: ضُرِبَ زَيْدٌ)
مبتدا: (مثال: زَيْدٌ قَائِمٌ)
خبر: (مثال: زَيْدٌ قَائِمٌ)
خبرِ انّ (اور اس کے اخوات)۔
اسمِ کان (اور اس کے اخوات)۔
اسمِ ما ولا مشابہ بلیس۔
لا نفی جنس کی خبر۔
(ب) الف نون زائدتان اور جمع کے غیر منصرف بننے کی شرائط:
جواب:
الف نون زائدتان: اگر یہ اسمِ صفت میں ہوں تو شرط یہ ہے کہ اس کا مؤنث “فَعْلَانَة” کے وزن پر نہ آئے (جیسے سَكْرَان)۔ اگر علم (نام) میں ہوں تو کوئی شرط نہیں (جیسے عُثْمَان)۔
جمع:اس کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ “منتہی الجموع” کے وزن پر ہو (یعنی الفِ جمع کے بعد دو حرف ہوں جیسے مَسَاجِد یا تین حرف ہوں اور درمیان والا ساکن ہو جیسے مَصَابِيح)۔
ترجمہ:جان لو کہ تثنیہ کا نون ہمیشہ مکسور (زیر والا) ہوتا ہے اور جمع (مذکر سالم) کا نون ہمیشہ مفتوح (زبر والا) ہوتا ہے، اور یہ دونوں اضافت کے وقت گر جاتے ہیں۔ تم کہو گے: “جاءنی غلاما زید” (میرے پاس زید کے دو غلام آئے) اور “مسلموا مصر” (مصر کے مسلمان)۔
(ب) اعراب کی وضاحت مع امثلہ:
غیر منصرف: حالتِ رفع میں ضمہ، حالتِ نصب و جر میں فتحہ (زبر) آتا ہے۔ (مثال: جَاءَ عُمَرُ، رَأَيْتُ عُمَرَ، مَرَرْتُ بِعُمَرَ)۔
جمع مذکر سالم: حالتِ رفع میں “واؤ” ماقبل مضموم، حالتِ نصب و جر میں “یاء” ساکن ماقبل مکسور۔ (مثال: جَاءَ مُسْلِمُوْنَ، رَأَيْتُ مُسْلِمِيْنَ)۔
مفرد منصرف صحیح:حالتِ رفع میں ضمہ، نصب میں فتحہ، جر میں کسرہ۔ (مثال: جَاءَ زَيْدٌ، رَأَيْتُ زَيْداً، مَرَرْتُ بِزَيْدٍ)۔
سوال نمبر 3: پانچ کی تعریفات اور امثلہ (انتخاب):
فاعل:وہ اسم جس سے پہلے فعل یا شبہ فعل ہو اور اس کی اسناد اس اسم کی طرف ہو بطریقِ قیام۔ (مثال: قَامَ زَيْدٌ)۔
مبتدا:وہ اسم جو عواملِ لفظیہ سے خالی ہو اور مسند الیہ ہو۔ (مثال: زَيْدٌ قَائِمٌ)۔
مفعول مطلق: وہ مصدر جو اپنے فعل کے بعد آئے تاکہ اس کی تاکید کرے یا نوعیت بتائے۔ (مثال: ضَرَبْتُ ضَرْباً)۔
حال:وہ اسم جو فاعل یا مفعول بہ کی کیفیت بیان کرے۔ (مثال: جَاءَ زَيْدٌ رَاكِباً)۔
تمیز: وہ اسم جو اپنے سے پہلے اسم یا جملے کی پوشیدہ ابہام (شک) کو دور کرے۔ (مثال: طَابَ زَيْدٌ نَفْساً)۔
حصہ دوم: شرح مائۃ عامل
سوال نمبر 4: کوئی سے پانچ اجزاء حل کریں۔
(1) الحمد لله على نعمائه الشاملة والائه الكاملة کی ترکیب:
علیٰ نعمائہ الشاملۃ: جار، مضاف، مضاف الیہ (موصوف)، صفت۔ یہ متعلق ہے “الحمد” یا “ثابت” کے۔
والائہ الکاملۃ:معطوف (اسی طرز پر)۔ جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔
(2) حروف تجر الاسم فقط کی ترکیب:
حروفٌ: مبتدا۔ تجرُّ: فعل، اس میں “ہی” ضمیر فاعل۔ الاسمَ: مفعول بہ۔ فقط: “ف” جزائیہ، “قط” اسم بمعنی “حسب”۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر خبر۔
(5) حتیٰ اور عَنْ کے معانی:
حتیٰ: انتہائے غایت (حد ختم ہونا)۔ (مثال: نِمْتُ حَتَّی الصَّبَاحِ – میں صبح تک سویا)۔
عَنْ:مجاوزت (دوری/تجاوز)۔ (مثال: رَمَيْتُ السَّهْمَ عَنِ الْقَوْسِ – میں نے کمان سے تیر چلایا/دور کیا)۔
(6) اسماء شرطیہ کا جزم:
وجوباً:جب شرط اور جزا دونوں فعل مضارع ہوں (جیسے: اِنْ تَضْرِبْ اَضْرِبْ)۔
جوازاً: اگر شرط ماضی ہو اور جزا مضارع، تو مضارع کو جزم دینا جائز ہے (جیسے: اِنْ ضَرَبْتَ اَضْرِبْ یا اَضْرِبُ)۔
Paper: تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان
الشہادۃ الثانویۃ العامۃ (میٹرک سال دوم)
2023چوتھا پرچہ: عربی ادب و منطق
حصہ اول: عربی ادب
سوال نمبر 1: درج ذیل اجزا میں سے دو کا سلیس اردو میں ترجمہ کریں۔
(الف) أول الناس إسلاما وإيمانا به هي أم المؤمنين خديجة رضى الله عنها و من الرجال أبوبكر و من الصبيان على ومن الموالي زيد بن الحارثة رضی اللہ عنہم ثم دعا الناس كافة إلى دين الله۔
ترجمہ: لوگوں میں سب سے پہلے آپ ﷺ پر ایمان لانے اور اسلام قبول کرنے والی ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ہیں، اور مردوں میں حضرت ابوبکر، بچوں میں حضرت علی اور آزاد کردہ غلاموں میں حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہم ہیں، پھر آپ ﷺ نے تمام لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف دعوت دی۔
(ج) كان سيدنا رسول الله ﷺ أحسن الناس خلقا وأكر مهم خلقا و هو من أغراض بعثته كما أخبرنا به فقال إنما بعثت لأتمم مكارم الأخلاق و محاسن الأعمال۔
ترجمہ: ہمارے سردار رسول اللہ ﷺ لوگوں میں سب سے بہترین اخلاق اور سب سے زیادہ معزز عادات والے تھے اور یہی آپ ﷺ کی بعثت کے مقاصد میں سے ہے جیسا کہ آپ ﷺ نے ہمیں اس کی خبر دی اور فرمایا: “بیشک میں اس لیے بھیجا گیا ہوں تاکہ میں اچھے اخلاق اور نیک اعمال کی تکمیل کروں”۔
سوال نمبر 2: درج ذیل اجزا میں سے دو کا اردو میں ترجمہ کریں۔
(الف) وأحسن منك لم ترقط عينى … كأنك قد خلقت كما تشاءترجمہ:
اور آپ (ﷺ) سے زیادہ حسین میری آنکھ نے کبھی نہیں دیکھا، اور آپ سے زیادہ خوبصورت کسی عورت نے جنا ہی نہیں۔ آپ ایسے پیدا کیے گئے جیسے ہر عیب سے پاک ہوں، گویا آپ ایسے ہی پیدا ہوئے جیسا آپ نے چاہا۔
(ب) يا من يرى ما في الضمير ويسمع … يا من يرجى للشدائد كلها
ترجمہ: اے وہ جو دلوں کے بھید دیکھتا اور سنتا ہے، تو ہی ہر اس چیز کے لیے تیار (مددگار) ہے جس کی توقع کی جاتی ہے۔ اے وہ جس سے تمام سختیوں میں امید رکھی جاتی ہے، اے وہ جس کی طرف فریاد اور پناہ لے جائی جاتی ہے۔
سوال نمبر 3: درج ذیل میں سے پانچ جملوں کی عربی بنائیں۔
(الف) اللہ کا شکر ادا کرو۔عربی: اُشْكُرِ اللّٰهَ۔
(ب) بھلائی سب اللہ کے پاس ہے۔عربی: اَلْخَيْرُ كُلُّهُ عِنْدَ اللّٰهِ۔
(ج) آپ ﷺ سب سے افضل ہیں۔عربی: أَنْتَ أَفْضَلُ النَّاسِ۔
(د) لاہور میں تین یونیورسٹیاں ہیں۔عربی: فِي لَاهُوْرَ ثَلَاثُ جَامِعَاتٍ۔
(ہ) قائد اعظم ایک مخلص قائد تھے۔عربی: كَانَ الْقَائِدُ الْأَعْظَمُ قَائِدًا مُخْلِصًا۔
حصہ دوم: منطق
سوال نمبر 4: (الف) علم منطق کی تعریف، موضوع، غایت، واضع اور وجہ تسمیہ۔
تعریف: ایسے قوانین کا جاننا جن کا لحاظ رکھنا ذہن کو سوچ و بچار میں غلطی سے بچائے۔
موضوع:معلوماتِ تصوریہ اور معلوماتِ تصدیقیہ۔
غایت: فکر میں غلطی سے بچنا۔
واضع: ارسطو (Aristotle)۔
وجہ تسمیہ:یہ ‘نطق’ سے ہے، چونکہ یہ علم انسان کی قوتِ گویائی (باطنی ادراک) کو جِلا بخشتا ہے، اس لیے اسے منطق کہتے ہیں۔
(ب) قولِ شارح اور دلیل و حجت کی تعریفات مع امثلہ۔
قولِ شارح:وہ معلوم تصوری جس کے ذریعے کسی مجہول تصوری تک پہنچا جائے (جیسے انسان کو سمجھنے کے لیے ‘حیوانِ ناطق’ کہنا)۔
دلیل و حجت:وہ معلوم تصدیقی جس کے ذریعے کسی مجہول تصدیقی تک پہنچا جائے (جیسے: عالم متغیر ہے، اور ہر متغیر حادث ہے، لہذا عالم حادث ہے)۔
سوال نمبر 5: (ب) دلالتِ لفظیہ وضعیہ کی اقسام مع تعریفات و امثلہ۔
اس کی تین اقسام ہیں:
دلالتِ مطابقی: لفظ کا اپنے پورے معنی پر دلالت کرنا (جیسے ‘انسان’ کا ‘حیوانِ ناطق’ پر دلالت کرنا)۔
دلالتِ تضمنی: لفظ کا اپنے معنی کے جز (حصے) پر دلالت کرنا (جیسے ‘انسان’ کا صرف ‘ناطق’ پر دلالت کرنا)۔
دلالتِ التزامی: لفظ کا ایسے معنی پر دلالت کرنا جو حقیقت کا حصہ تو نہ ہو مگر اس کے لیے لازم ہو (جیسے ‘انسان’ کا ‘کاتب’ یا ‘علم قبول کرنے والا’ ہونے پر دلالت کرنا)۔
سوال نمبر 6: (ب) درج ذیل میں سے تین کی تعریفات و امثلہ۔
تصدیق: نسبتِ خبریہ کے وقوع یا عدمِ وقوع کا اذعان (یقین) کر لینا۔ (مثال: زید کھڑا ہے)۔
قضیہ: وہ قول جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے۔ (مثال: پالا ٹھنڈا ہے)۔
منقول:وہ لفظ جو ایک معنی سے دوسرے معنی کی طرف منتقل ہو گیا ہو اور پہلا معنی ترک کر دیا گیا ہو۔ (مثال: ‘صلاۃ’ جو دعا سے نماز کے معنی میں منتقل ہوا)۔
Paper: تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان
الشہادۃ الثانویۃ العامۃ (میٹرک سال دوم)
2023پانچواں پرچہ: حساب (Math)
حل شدہ پرچہ
سوال نمبر 1:(الف) درج ذیل فی صد کو کسروں کی آسان شکل میں واضح کریں۔
زید کا سرمایہ = 600 | عمر کا سرمایہ = 700 | کل نفع = 117 روپے مجموعہ نسبت = 600+700=1300
زید کا حصہ:(600/1300)×117=54 روپے
عمر کا حصہ:(700/1300)×117=63 روپے
سوال نمبر 6: واجب الزکوٰۃ معلوم کریں۔
بچت = 20,000 | زیور کی مالیت = 15,000 | کل مال = 35,000 روپے زکوٰۃ (2.5%): 35,000×0.025=875 روپے
سوال نمبر 7: تعلیمی کارکردگی کا موازنہ۔
انگلش: (35/50)×100=70%
اردو: (60/75)×100=80%
مطالعہ پاکستان: (72/75)×100=96%جواب:مطالعہ پاکستان میں کارکردگی سب سے بہتر رہی۔
Paper: تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان
الشہادۃ الثانویۃ العامۃ (میٹرک سال دوم)
2023چھٹا پرچہ: انگریزی (English)
Q.1: Translate any one of the following into Urdu.
(i) Such a thorough transformation of man and society owes to the Holy Prophet’s (ﷺ) deep faith in Allah Almighty…
ترجمہ: انسان اور معاشرے کی ایسی مکمل تبدیلی نبی کریم ﷺ کا اللہ تعالیٰ پر پختہ ایمان، انسانیت کے لیے آپ ﷺ کی محبت اور آپ ﷺ کے کردار کی شرافت کی مرہونِ منت ہے۔ بلاشبہ آپ ﷺ کی زندگی پیروی کے لیے ایک مکمل نمونہ ہے۔ نبی کریم ﷺ کی زندگی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: “آپ ﷺ کے اخلاق اور کردار قرآن مجید کا جیتا جاگتا نمونہ ہیں۔”
(ii) The preparation for this journey was made at the house of Hazrat Abu Bakr Siddique
(رضی اللہ عنہ)…ترجمہ: اس سفر کی تیاری حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھر پر کی گئی۔ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے اس سلسلے میں مفید خدمات سرانجام دیں۔ انہوں نے اس سفر کے لیے کھانا تیار کیا۔ انہوں نے کھانے کو اپنی ہی کمر بند (پٹکے) سے اونٹ کی پشت پر باندھ دیا کیونکہ اور کوئی چیز نہ مل سکی۔ اس خدمت کے صلے میں نبی کریم ﷺ نے انہیں “ذات النطاقین” کا لقب عطا فرمایا۔
Q.2: Write an essay of 120 words on any one of the following.(ii) My Jamia
My Jamia The name of my Jamia is [Insert Name]. It is one of the most famous educational institutions in our city. It has a grand building with many spacious classrooms, a large library, and a beautiful mosque. The environment of my Jamia is very peaceful and religious. There are many qualified teachers who teach us the Holy Quran, Hadith, Fiqh, and other modern subjects with great care. They focus not only on our education but also on our moral training. There is a big playground where students play in the evening. I love my Jamia because it is lighting the candle of knowledge and helping us to become better Muslims and citizens. May it prosper forever!
Q.3: Write meanings and use them in sentences.
Mad with anger (غصے میں پاگل ہونا):
Abu Jehl was mad with anger when he found out about the migration.
Reveal the secret (راز فاش کرنا):
Hazrat Asma (رضی اللہ عنہا) did not reveal the secret of the journey to Abu Jehl.
Gave away (بانٹ دینا/تقسیم کرنا):
Hazrat Ayesha (رضی اللہ عنہا) gave away all the money to the poor and needy.
Q.4: Answer any three of the following.
For which ability were Arabs famous?
Answer: The Arabs were famous for their remarkable memory and eloquence.
What was the first revelation?
Answer: The first revelation was: “Read in the name of thy Lord Who created; created man from a clot… Read and thy Lord is most Bountiful…”
How will you define patriotism?
Answer: Patriotism means love for the motherland or devotion to one’s country.
What is the central idea of the poem (Daffodils)?
Answer: The central idea of the poem is the beauty of nature and its soothing impact on the human mind.
Q.5: Write an application to the principal of jamia for leave due to fever.
To, The Principal, Jamia [Name of Jamia], [City Name].
Subject: Application for Sick Leave
Respected Sir, With due respect, it is stated that I am suffering from high fever since last evening. Due to this, I am unable to attend the Jamia today. Kindly grant me leave for one day, i.e., [Date]. I shall be very grateful to you for this favor.