Tanzeem ul Madaris Solved Past Paper 2023 | PDF (طلباء کے لیے) عالیہ سال اول

شهادة العالية (بی اے) السنة الاولى –

الورقة الأولى: التفسير وأصوله (2023)

قسم اول: تفسیر

سوال نمبر 1 (الف): إِلَيْهِ يُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَةِ… (عبارت پر اعراب اور ترجمہ)
جواب: اعراب: إِلَيْهِ يُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَةِ مَتَى تَكُونُ؟ لَا يَعْلَمُهُ غَيْرُهُ، وَمَا تَخْرُجُ مِنْ ثَمَرَةٍ (وَفِي قِرَاءَةٍ: ثَمَرَاتٍ) مِنْ أَكْمَامِهَا (أَوْعِيَتِهَا، جَمْعُ كِمٍّ بِكَسْرِ الْكَافِ) إِلَّا بِعِلْمِهِ، وَمَا تَحْمِلُ مِنْ أُنْثَىٰ وَلَا تَضَعُ إِلَّا بِعِلْمِهِ، وَيَوْمَ يُنَادِيهِمْ أَيْنَ شُرَكَائِي؟ قَالُوا: آذَنَّاكَ (أَيْ أَعْلَمْنَاكَ الْآنَ) مَا مِنَّا مِنْ شَهِيدٍ.
ترجمہ: قیامت کا علم اسی (اللہ) کی طرف لوٹایا جاتا ہے (یعنی اس کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ وہ کب ہوگی)۔ اور کوئی پھل اپنے شگوفوں (غلافوں) سے نہیں نکلتا، اور نہ ہی کوئی مادہ حاملہ ہوتی ہے اور نہ بچہ جنتی ہے مگر اس کے علم سے۔ اور جس دن وہ (اللہ) انہیں پکارے گا کہ کہاں ہیں میرے شریک؟ وہ کہیں گے: ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ ہم میں سے کوئی (اس بات پر) گواہ نہیں۔
سوال نمبر 1 (ب): مفسر کی عبارت کی اغراض بیان کریں۔
جواب: مفسر (صاحبِ جلالین) نے یہاں چند اہم نکات کی وضاحت کی ہے: 1. “إِلَيْهِ يُرَدُّ” سے مراد یہ لی ہے کہ قیامت کا وقت اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ 2. “ثمرات” کی دوسری قرات کی طرف اشارہ کیا۔ 3. “اکمام” کی لغوی تشریح “اوعیہ” (برتن/غلاف) سے کی اور اس کا مفرد “کِم” بتایا۔ 4. “آذناک” کی تفسیر “اعلمناک” سے کی تاکہ واضح ہو کہ مشرکین اپنی بے بسی کا اعتراف کر رہے ہیں۔
سوال نمبر 1 (ج): “شهيد” کونسا صیغہ ہے اور یہاں کس معنی میں مستعمل ہے؟
جواب: “شہید” صفتِ مشبہ کا صیغہ ہے (بروزن فعیل)۔ یہاں یہ “گواہ” کے معنی میں مستعمل ہے۔ یعنی مشرکین کہیں گے کہ آج ہم میں سے کوئی اس بات کی گواہی دینے والا نہیں کہ آپ کا کوئی شریک ہے۔

سوال نمبر 2 (الف): لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ… (عبارت پر اعراب، ترجمہ و تشریح) جواب: اعراب: لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ بِالْحُدَيْبِيَةِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ (هِيَ سَمُرَةٌ، وَهُمْ أَلْفٌ وَثَلَاثُمِائَةٍ أَوْ أَكْثَرُ) ثُمَّ بَايَعَهُمْ عَلَى أَنْ يُنَاجِزُوا قُرَيْشًا وَأَنْ لَا يَفِرُّوا عَلَى الْمَوْتِ، فَعَلِمَ اللَّهُ مَا فِي قُلُوبِهِمْ مِنَ الْوَفَاءِ وَالصِّدْقِ فَأَنْزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا.
ترجمہ: بیشک اللہ مومنوں سے راضی ہوا جب وہ حديبیہ میں درخت کے نیچے آپ کی بیعت کر رہے تھے (وہ کیکر کا درخت تھا اور وہ تیرہ سو یا اس سے زائد لوگ تھے) پھر انہوں نے اس بات پر بیعت کی کہ وہ قریش سے لڑیں گے اور موت سے نہیں بھاگیں گے۔ اللہ نے ان کے دلوں کا اخلاص اور سچائی جان لی، پس ان پر اطمینان نازل فرمایا اور انہیں قریبی فتح عطا کی۔ تشریح: یہ آیت “بیعتِ رضوان” کے بارے میں ہے۔ جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی افواہ پھیلی، تو صحابہ نے نبی کریم ﷺ کے ہاتھ پر جانثاری کا عہد کیا۔ اللہ نے ان کی نیتوں کی بنا پر اپنی رضا کا اعلان فرمایا۔
سوال نمبر 2 (ب): “فتحا قريباً” ترکیب میں کیا بنتا ہے؟ اور فتح سے کونسی فتح مراد ہے؟ نیز یہ فتح کس موقع پر حاصل ہوئی؟
جواب: ترکیب میں “فتحاً” مفعول بہ ہے اور “قريباً” اس کی صفت ہے۔ اس فتح سے مراد “فتحِ خیبر” ہے (بعض کے نزدیک صلحِ حدیبیہ بھی فتحِ مبین ہے)۔ یہ فتح حدیبیہ سے واپسی کے فوراً بعد خیبر کے مقام پر حاصل ہوئی تھی۔
سوال نمبر 2 (ج): “السكينة” کا لفظی معنی لکھنے کے بعد اس کا مفہوم قلمبند کریں۔
جواب: “السکینہ” کا لفظی معنی ہے “اطمینان، سکون اور قرار”۔ اصطلاحی مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کے دلوں میں وہ ثبات اور ڈگمگاہٹ سے پاک یقین پیدا فرما دیا جس نے انہیں جنگی حالات اور کڑی آزمائش میں بھی پرسکون رکھا۔

قسم ثانی: اصولِ تفسیر

سوال نمبر 4 (ب): نصاری کا عقیدہ تثلیث اور اس پر قرآن مجید کا رد مفصلاً بیان کریں۔
جواب: نصاریٰ کے نزدیک خدا تین اقنوم (اشخاص) کا مجموعہ ہے: باپ، بیٹا اور روح القدس۔ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا یا خود خدا قرار دیتے ہیں۔
قرآنی رد: قرآن مجید نے سورہ المائدہ اور سورہ النساء میں اس کا سختی سے رد کیا۔ اللہ فرماتا ہے: “لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ” (بیشک وہ کافر ہوئے جنہوں نے کہا کہ اللہ تین میں کا تیسرا ہے)۔ قرآن کہتا ہے کہ اللہ اکیلا ہے، اس کی کوئی اولاد نہیں اور عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔
سوال نمبر 4 (ج): متقدمین اور متاخرین کے نزدیک منسوخ آیات کی تعداد بیان کر کے بتائیں کہ شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کا اس بارے کیا موقف ہے؟
جواب: متقدمین (قدیم علماء) منسوخ آیات کی تعداد بہت زیادہ بتاتے تھے (سینکڑوں میں)۔ تاہم، متاخرین کے نزدیک یہ تعداد کم ہو کر تقریباً 20 کے قریب رہ گئی۔
شاہ ولی اللہ کا موقف: شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب “الفوز الکبیر” میں ان تمام آیات کا علمی جائزہ لیا اور فرمایا کہ صرف 5 آیات ایسی ہیں جنہیں فنی طور پر منسوخ مانا جا سکتا ہے، باقی آیات میں تطبیق دی جا سکتی ہے۔

شهادة العالية (بی اے) السنة الاولى –

الورقة الثانية: الحديث وأصوله (2023)

حصہ اول: حدیث

سوال نمبر 1 (الف): عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ… (حدیث پر اعراب اور ترجمہ) جواب: اعراب: عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: ثَلَاثَةٌ لَهُمْ أَجْرَانِ: رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمَنَ بِنَبِيِّهِ وَآمَنَ بِمُحَمَّدٍ، وَالْعَبْدُ الْمَمْلُوكُ إِذَا أَدَّى حَقَّ اللَّهِ وَحَقَّ مَوَالِيهِ، وَرَجُلٌ كَانَتْ عِنْدَهُ أَمَةٌ يَطَأُهَا فَأَدَّبَهَا فَأَحْسَنَ تَأْدِيبَهَا وَعَلَّمَهَا فَأَحْسَنَ تَعْلِيمَهَا ثُمَّ أَعْتَقَهَا فَتَزَوَّجَهَا فَلَهُ أَجْرَانِ۔
ترجمہ: حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین شخص ایسے ہیں جن کے لیے دوہرا اجر ہے: (1) وہ کتابی (یہودی یا عیسائی) جو اپنے نبی پر ایمان لایا اور (پھر) محمد ﷺ پر ایمان لایا۔ (2) وہ مملوک غلام جو اللہ کا حق بھی ادا کرے اور اپنے آقاؤں کا حق بھی۔ (3) وہ شخص جس کے پاس کوئی لونڈی ہو جس سے وہ صحبت کرتا ہو، پھر اس نے اسے ادب سکھایا اور اچھا ادب سکھایا، اسے تعلیم دی اور اچھی تعلیم دی، پھر اسے آزاد کر کے اس سے نکاح کر لیا، تو اس کے لیے بھی دوہرا اجر ہے۔
سوال نمبر 1 (ب): حدیث میں مذکور تین شخصوں کو دگنا اجر ملنے کی وجہ بیان کریں۔ جواب: دگنا اجر ملنے کی وجوہات درج ذیل ہیں:
  1. اہلِ کتاب: اسے ایک اجر اپنے سابقہ نبی پر ایمان لانے کا اور دوسرا اجر حضور ﷺ پر ایمان لانے اور سابقہ دین چھوڑ کر اسلام قبول کرنے کی مشقت پر ملتا ہے۔
  2. غلام: اسے ایک اجر اللہ کی عبادت (حق اللہ) پر اور دوسرا اجر اپنے مالک کی خدمت (حق العباد) پر ملتا ہے۔
  3. لونڈی کا مالک: اسے ایک اجر اپنی ملکیت ختم کر کے (آزاد کر کے) اسے معاشرتی عزت دینے پر اور دوسرا اجر اسے تعلیم و تربیت سے آراستہ کرنے اور نکاح کر کے بیوی کا درجہ دینے پر ملتا ہے۔
سوال نمبر 1 (ج): “العبد المملوك” میں “العبد” کے ساتھ “المملوك” کی صفت لگانے کی وجہ تحریر کریں۔
جواب: لغوی اعتبار سے “عبد” کا اطلاق ہر انسان پر ہوتا ہے کیونکہ سب اللہ کے بندے (عابد) ہیں۔ یہاں “المملوک” کی صفت اس لیے لگائی گئی تاکہ واضح ہو جائے کہ یہاں “بندہ” سے مراد اصطلاحی “غلام” ہے جو کسی کی ملکیت میں ہو، نہ کہ عام انسان۔

سوال نمبر 2 (الف): عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ يَهُودِيَّةً… (ترجمہ اور ضمیروں کے مرجع کی وضاحت)
جواب: ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت ان کے پاس آئی اور قبر کے عذاب کا ذکر کیا، اس نے (عائشہ رضی اللہ عنہا سے) کہا: اللہ آپ کو قبر کے عذاب سے پناہ میں رکھے۔ پھر حضرت عائشہ نے رسول اللہ ﷺ سے عذابِ قبر کے بارے میں دریافت کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، عذابِ قبر حق ہے۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ اس کے بعد میں نے رسول اللہ ﷺ کو کبھی نہیں دیکھا کہ آپ نے کوئی نماز پڑھی ہو اور اس میں عذابِ قبر سے پناہ نہ مانگی ہو۔ مرجع کی وضاحت: “فقالت لھا” میں “قالت” کی ضمیرِ فاعل کا مرجع یہودی عورت ہے، اور “لھا” میں ضمیرِ مجرور کا مرجع حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں۔
سوال نمبر 2 (ب): عذاب قبر کے متعلق تین احادیث بیان کریں۔
جواب: 1. نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: “قبر یا تو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا”۔ 2. آپ ﷺ دو قبروں کے پاس سے گزرے اور فرمایا: “ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے اور کسی بڑے (بظاہر مشکل) کام کی وجہ سے نہیں” (ایک چغلی کھاتا تھا، دوسرا پیشاب کے چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا)۔ 3. آپ ﷺ ہر نماز کے آخر میں یہ دعا مانگتے تھے: “اللہم انی اعوذ بک من عذاب القبر”۔
سوال نمبر 2 (ج): حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کا مختصر تعارف سپرد قلم کریں۔
جواب: آپ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی اور رسول اللہ ﷺ کی محبوب ترین زوجہ ہیں۔ آپ کی کنیت “ام عبداللہ” اور لقب “صدیقہ” و “حمیرا” ہے۔ آپ خواتین میں سب سے بڑی فقیہہ اور عالمہ تھیں، آپ سے 2210 احادیث مروی ہیں۔ آپ کا وصال 58 ہجری میں ہوا اور جنت البقیع میں دفن ہوئیں۔

حصہ دوم: اصولِ حدیث

سوال نمبر 4 (الف): صحیح لذاتہ اور صحیح لغیرہ سے کیا مراد ہے؟
جواب: * صحیح لذاتہ: وہ حدیث ہے جس کی سند متصل ہو، اسے عادل اور مکمل ضبط رکھنے والے راوی نے اپنے جیسے راوی سے روایت کیا ہو، اور وہ شذوذ اور علتِ قادحہ سے پاک ہو۔
  • صحیح لغیرہ: وہ “حسن لذاتہ” حدیث ہے جو متعدد سندوں سے مروی ہونے کی وجہ سے قوت حاصل کر لے اور صحیح کے درجے تک پہنچ جائے۔
سوال نمبر 4 (ب): حدیث کا لغوی و اصطلاحی معنی بیان کرنے کے بعد حدیث اور خبر میں فرق تحریر کریں۔
جواب: * لغوی معنی: حدیث کا معنی ہے “نئی بات” (قدیم کی ضد)۔
  • اصطلاحی معنی: نبی کریم ﷺ کے قول، فعل، تقریر (خاموشی) یا آپ کی صفات کو حدیث کہتے ہیں۔
  • فرق: حدیث خاص طور پر قولِ رسول ﷺ کو کہا جاتا ہے، جبکہ “خبر” عام ہے جو رسول اللہ ﷺ کی طرف بھی منسوب ہو سکتی ہے اور کسی دوسرے (مثلاً بادشاہوں یا عام لوگوں) کی طرف بھی۔ ہر حدیث خبر ہے، لیکن ہر خبر حدیث نہیں۔

شهادة العالية (بی اے) السنة الاولى –

الورقة الثالثة: أصول الفقه (2023)

سوال نمبر 1: فَالْقِيَاسُ هُوَ التَّقْدِيرُ لُغَةً يُقَالُ قِسِ النَّعْلَ بِالنَّعْلِ…
(الف) عبارت پر اعراب لگا کر ترجمہ کریں۔
جواب: اعراب: فَالْقِيَاسُ هُوَ التَّقْدِيرُ لُغَةً، يُقَالُ: قِسِ النَّعْلَ بِالنَّعْلِ أَيْ قَدِّرْهُ بِهِ، وَاجْعَلْهُ نَظِيرًا لِلْآخَرِ، وَالْفُقَهَاءُ إِذَا أَخَذُوا حُكْمَ الْفَرْعِ مِنَ الْأَصْلِ سَمَّوْا ذٰلِكَ قِيَاسًا لِتَقْدِيرِهِمُ الْفَرْعَ بِالْأَصْلِ فِي الْحُكْمِ وَالْعِلَّةِ.
ترجمہ: پس قیاس لغت میں “اندازہ کرنے” کو کہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے: “جوتے کو جوتے سے ناپو” یعنی اس کے برابر اندازہ کرو اور اسے دوسرے کی مثل بنا دو۔ اور فقہاء جب فرع کا حکم اصل سے حاصل کرتے ہیں تو اس کا نام “قیاس” رکھتے ہیں، کیونکہ وہ حکم اور علت میں فرع کا اندازہ اصل کے ساتھ کرتے ہیں۔
(ب) اصل اور فرع سے کیا مراد ہے؟ جواب:
  • اصل: وہ بنیادی مسئلہ ہے جس کا حکم نص (قرآن، سنت یا اجماع) سے ثابت ہو، جیسے شراب (خمر) کی حرمت نص سے ثابت ہے، لہذا شراب “اصل” ہے۔
  • فرع: وہ نیا مسئلہ جس کا حکم صراحت کے ساتھ نص میں موجود نہ ہو بلکہ اسے اصل پر قیاس کیا جائے، جیسے منشیات کو شراب پر قیاس کرنا، تو منشیات “فرع” ہے۔
(ج) قیاس کے لغوی و اصطلاحی معنی میں مناسبت بیان کریں۔
جواب: لغت میں قیاس کا معنی “دو چیزوں کو برابر کرنا” ہے، اور اصطلاح میں بھی مجتہد فرع کو اصل کے برابر کر دیتا ہے (حکم اور علت میں)۔ لغوی معنی میں حسی برابری ہوتی ہے جبکہ اصطلاحی میں معنوی، اسی برابری کی وجہ سے دونوں میں گہری مناسبت ہے۔

سوال نمبر 2: وَالشَّرْطُ الرَّابِعُ أَنْ يَبْقَى حُكْمُ الْأَصْلِ بَعْدَ التَّعْلِيلِ…
(الف) عبارت پر اعراب لگا کر ترجمہ کریں۔
جواب: اعراب: وَالشَّرْطُ الرَّابِعُ أَنْ يَبْقَى حُكْمُ الْأَصْلِ بَعْدَ التَّعْلِيلِ عَلَىٰ مَا كَانَ قَبْلَهُ، لِأَنَّ تَغْيِيرَ حُكْمِ النَّصِّ فِي نَفْسِهِ بِالرَّأْيِ بَاطِلٌ كَمَا أَبْطَلْنَاهُ فِي الْفُرُوعِ.
ترجمہ: اور (قیاس کی) چوتھی شرط یہ ہے کہ علت نکالنے کے بعد بھی اصل کا حکم اپنی اسی حالت پر رہے جس پر وہ پہلے تھا، کیونکہ نص کے حکم کو اپنی رائے سے بدل دینا بذاتِ خود باطل ہے جیسا کہ ہم نے اسے فروع میں باطل کیا ہے۔
(ب) عبارت کی تشریح اس انداز سے کریں کہ مطلب واضح ہو جائے۔
جواب: اس کا مطلب یہ ہے کہ قیاس کا مقصد نص کے حکم کو دوسری جگہ منتقل کرنا ہے، اسے تبدیل کرنا نہیں۔ اگر ہم کسی حکم کی ایسی علت (Reason) بیان کریں جس سے نص کا اپنا بنیادی حکم ہی بدل جائے یا اس میں کمی بیشی ہو جائے، تو ایسا قیاس باطل ہوگا کیونکہ قیاس نص کے تابع ہوتا ہے، نص قیاس کے تابع نہیں ہوتی۔
(ج) قیاس کی شروط اربعہ میں سے کسی ایک کی مثال بیان کریں۔
جواب: ایک شرط یہ ہے کہ “فرع اصل سے مقدم نہ ہو”۔ مثلاً وضو میں نیت کرنا؛ امام شافعی تیمم (جو کہ فرع ہے) پر قیاس کر کے وضو میں نیت کو فرض کہتے ہیں، جبکہ وضو پہلے مشروع ہوا اور تیمم بعد میں، لہذا یہ قیاس درست نہیں۔

سوال نمبر 3: أَمَّا الْمُعَارَضَةُ فَهِيَ نَوْعَانِ مُعَارَضَةٌ فِيهَا مُنَاقَضَةٌ…
(الف) عبارت کا ترجمہ کرنے کے بعد معارضہ اور قلب کی تعریف کریں۔
جواب: ترجمہ: بہرحال معارضہ (مقابلہ) کی دو قسمیں ہیں: وہ معارضہ جس میں مناقضہ (ٹکراؤ) ہو اور معارضہ خالصہ۔ پس وہ معارضہ جس میں مناقضہ ہو وہ “قلب” ہے۔ تعریفیں:
  • معارضہ: دلیل کے مقابلے میں ایسی دلیل لانا جو مخالف کے نتیجے کے خلاف ہو۔
  • قلب: سائل کا مجتہد کی دلیل کو خود اس کے خلاف پلٹ دینا (یعنی اسی کی دلیل سے اپنا مطلب ثابت کرنا)۔
(ج) مناقضہ کی تعریف کریں۔
جواب: مناقضہ کا لغوی معنی توڑنا ہے۔ اصطلاح میں اس سے مراد کسی دلیل کے مقدمات یا نتیجے کو باطل کر کے اسے بے اثر کر دینا ہے۔

سوال نمبر 4: أَمَّا الْأَحْكَامُ فَأَنْوَاعٌ أَرْبَعَةٌ حُقُوقُ اللَّهِ تَعَالَى خَالِصَةً…
(الف) عبارت کا ترجمہ و تشریح کریں۔
جواب: ترجمہ: بہرحال احکام کی چار اقسام ہیں: (1) خالص اللہ تعالیٰ کے حقوق، (2) خالص بندوں کے حقوق، (3) وہ جس میں دونوں حق ہوں مگر اللہ کا حق غالب ہو جیسے حدِ قذف، (4) وہ جس میں دونوں حق ہوں مگر بندے کا حق غالب ہو جیسے قصاص۔ تشریح: مصنف نے انسانی حقوق و فرائض کو ان کے اثرات کے مطابق تقسیم کیا ہے۔ حدِ قذف (تہمت) میں اللہ کا حق اس لیے غالب ہے کہ اس میں معاشرے کی عزت کا تحفظ ہے، جبکہ قصاص میں بندے کا حق غالب ہے کیونکہ مقتول کے وارث کو بدلہ لینے یا معاف کرنے کا اختیار ہے۔
(ب) حقوق اللہ کی اقسام تحریر کریں۔
جواب: حقوق اللہ کی مشہور اقسام آٹھ ہیں: 1. خالص عبادات، 2. وہ عبادات جن میں مشقت ہو، 3. مالی حقوق (زکوٰۃ)، 4. عشر، 5. خراج، 6. سزائیں (حدود)، 7. ناقص سزائیں، 8. وہ حقوق جو عبادات اور سزا کے درمیان ہوں (کفارہ)۔
(ج) درج ذیل اصطلاحات میں سے دو کا مفہوم واضح کریں: سبب، علت۔ جواب:
  1. سبب: وہ ذریعہ جس کے پائے جانے سے حکم واجب ہو جائے (جیسے نماز کے لیے وقت)۔
  2. علت: وہ صفت جس کی بنیاد پر حکم قائم ہو (جیسے نشہ، شراب کی حرمت کی علت ہے)۔

شهادة العالية (بی اے) السنة الاولى –

الورقة الرابعة: الفقه (2023)

سوال نمبر 1: النِّكَاحُ يَنْعَقِدُ بِالْإِيجَابِ وَالْقَبُولِ…
(الف) عبارت پر اعراب لگا کر ترجمہ کریں۔
جواب: اعراب: النِّكَاحُ يَنْعَقِدُ بِالْإِيجَابِ وَالْقَبُولِ بِلَفْظَيْنِ يُعَبَّرُ بِهِمَا عَنِ الْمَاضِي لِأَنَّ الصِّيغَةَ وَإِنْ كَانَتْ لِلْإِخْبَارِ وَضْعًا فَقَدْ جُعِلَتْ لِلْإِنْشَاءِ شَرْعًا دَفْعًا لِلْحَاجَةِ وَيَنْعَقِدُ بِلَفْظَيْنِ يُعَبَّرُ بِأَحَدِهِمَا عَنِ الْمَاضِي وَبِالْآخَرِ عَنِ الْمُسْتَقْبَلِ.
ترجمہ: نکاح ایجاب اور قبول کے ذریعے ایسے دو لفظوں سے منعقد ہوتا ہے جن کے ذریعے ماضی (گزرے ہوئے زمانے) کی خبر دی گئی ہو، کیونکہ یہ صیغہ اگرچہ وضع کے اعتبار سے خبر دینے کے لیے ہے لیکن شرعی طور پر اسے ضرورت کے پیشِ نظر “انشاء” (عقد کو قائم کرنے) کے لیے مقرر کر دیا گیا ہے۔ اور نکاح ایسے دو لفظوں سے بھی منعقد ہو جاتا ہے جن میں سے ایک ماضی کا ہو اور دوسرا مستقبل کا۔
(ب) عبارت میں مذکورہ مسئلہ کی تشریح اس انداز سے کریں کہ مطلب واضح ہو جائے۔ جواب: نکاح میں ماضی کے الفاظ (مثلاً: میں نے نکاح کیا) اس لیے استعمال ہوتے ہیں تاکہ بات میں پختگی اور یقین پیدا ہو۔ مستقبل کے الفاظ (مثلاً: میں نکاح کروں گا) عام طور پر وعدہ سمجھے جاتے ہیں، لیکن اگر مجلسِ نکاح میں ایک فریق ماضی کا لفظ کہے اور دوسرا مستقبل کا، اور ان کا مقصد ابھی نکاح کرنا ہی ہو، تو ضرورت کی بنا پر اسے بھی جائز قرار دیا گیا ہے۔
(ج) ایجاب اور قبول کی تعریف کریں۔
جواب: * ایجاب: وہ لفظ جو نکاح کی مجلس میں عقد (معاہدہ) کی پیشکش کے لیے پہلے بولا جائے۔
  • قبول: وہ لفظ جو ایجاب کے جواب میں بولا جائے تاکہ عقد مکمل ہو جائے۔

سوال نمبر 2: وَيَنْعَقِدُ نِكَاحُ الْحُرَّةِ الْعَاقِلَةِ الْبَالِغَةِ بِرِضَائِهَا…
(الف) عبارت کا ترجمہ کریں “ولی، بکر اور ثیبہ” کا مفہوم بیان کریں۔
جواب: ترجمہ: آزاد، عاقلہ اور بالغہ عورت کا نکاح اس کی رضا مندی سے منعقد ہو جاتا ہے اگرچہ ولی نے اس کا نکاح نہ کیا ہو، خواہ وہ کنواری ہو یا بیوہ/مطلقہ۔ مفہوم: * ولی: وہ سرپرست (مثلاً باپ یا دادا) جو نکاح کا ذمہ دار ہو۔
  • بکر: وہ بالغ لڑکی جس کا پہلے کبھی نکاح نہ ہوا ہو۔
  • ثیبہ: وہ عورت جو پہلے نکاح اور صحبت کے تجربے سے گزر چکی ہو۔
(ج) نکاح کی اجازت کے وقت باکرہ بالغہ ہنس پڑے یا خاموش ہو جائے تو نکاح کا کیا حکم ہے؟
جواب: باکرہ بالغہ لڑکی کا خاموش رہنا، مسکرانا یا (بغیر استہزاء کے) ہنس دینا اس کی طرف سے خاموش رضامندی (اجازت) تصور کی جاتی ہے اور نکاح منعقد ہو جاتا ہے۔

سوال نمبر 3: وَطَلَاقُ الْبِدْعَةِ أَنْ يُطَلِّقَهَا ثَلَاثًا بِكَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ…
(الف) عبارت کا ترجمہ کریں نیز طلاقِ احسن اور طلاقِ حسن کی تعریف تحریر کریں۔
جواب: ترجمہ: طلاقِ بدعت یہ ہے کہ عورت کو ایک ہی کلمہ سے تین طلاقیں دے دی جائیں یا ایک ہی طہر (پاکی) میں تین طلاقیں دی جائیں۔ پس جب مرد ایسا کرے گا تو طلاق واقع ہو جائے گی لیکن وہ گناہگار ہوگا۔ تعریفیں: * طلاقِ احسن: پاکی کے ایسے ایام میں ایک طلاق دینا جس میں صحبت نہ کی ہو، اور پھر عدت گزرنے تک اسے چھوڑ دینا۔
  • طلاقِ حسن: مدخولہ عورت کو تین الگ الگ طہروں (پاکی کے ایام) میں تین طلاقیں دینا۔

سوال نمبر 4: وَإِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِامْرَأَتِهِ أَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي…
(الف) عبارت کا ترجمہ کریں اور مذکورہ مسئلہ پر قرآن سے دلیل دیں۔
جواب: ترجمہ: اور جب آدمی اپنی بیوی سے کہے کہ “تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے” تو وہ اس پر حرام ہو جاتی ہے۔ اس کے لیے اس سے صحبت کرنا، چھونا اور بوسہ لینا حلال نہیں جب تک کہ وہ اپنے ظہار کا کفارہ ادا نہ کر دے۔
قرآنی دلیل: سورہ المجادلہ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں، ان کے ذمے صحبت سے پہلے کفارہ (غلام آزاد کرنا، یا روزے رکھنا یا کھانا کھلانا) واجب ہے۔

شهادة العالية (بی اے) السنة الاولى –

الورقة الخامسة: الأدب والبلاغة (2023)

پہلا حصہ: عربی ادب

سوال نمبر 1: أَيُّهَا السَّادِرُ فِي غَلَوَائِهِ… (عبارت پر اعراب اور ترجمہ)
جواب: اعراب: أَيُّهَا السَّادِرُ فِي غَلَوَائِهِ، السَّادِلُ ثَوْبَ خُيَلَائِهِ، الْجَامِحُ فِي جَهَالَاتِهِ، الْجَانِحُ إِلَى خُزَعْبَلَاتِهِ، أَلَامَ تَسْتَمِرُّ عَلَى غَيِّكَ؟ أَمَا الْحِمَامُ مِيعَادُكَ فَمَا إِعْدَادُكَ؟ وَبِالْمَشِيبِ إِنْذَارُكَ فَمَا أَعْذَارُكَ؟ وَفِي اللَّحْدِ مَقِيلُكَ فَمَا قِيلُكَ؟ وَإِلَى اللَّهِ مَصِيرُكَ فَمَنْ نَصِيرُكَ؟
ترجمہ: اے اپنی گمراہی میں حیران پھرنے والے! اپنی تکبر کی چادر لٹکانے والے! اپنی جہالتوں میں سرکش ہونے والے اور اپنی لغویات کی طرف مائل ہونے والے! کب تک تو اپنی گمراہی پر قائم رہے گا؟ کیا موت تیرا وعدہ (مقام) نہیں ہے؟ تو پھر تیری تیاری کیا ہے؟ اور بڑھاپا تجھے ڈرا رہا ہے تو پھر تیرے عذر کیا ہیں؟ اور قبر میں تیرا ٹھکانہ ہے تو تیرا قول (دفاع) کیا ہوگا؟ اور اللہ ہی کی طرف تیرا لوٹنا ہے، تو پھر تیرا مددگار کون ہوگا؟
سوال نمبر 1 (ب): الفاظ کے معنی (کوئی سے پانچ): جواب:
  1. صَحَائِف: ورق، کتابچے (جمع صحیفہ)۔
  2. أَلْوَان: رنگ (جمع لون)۔
  3. الأُدَبَاء: ادب والے، پڑھے لکھے لوگ۔
  4. أُهْبَة: تیاری، سامانِ سفر۔
  5. جِرَاب: تھیلا، چمڑے کی تھیلی۔

سوال نمبر 4: فَالْفَصَاحَةُ فِي الْمُفْرَدِ خُلُوصُهُ… (اعراب، ترجمہ و تشریح)
جواب: اعراب: فَالْفَصَاحَةُ فِي الْمُفْرَدِ خُلُوصُهُ مِنْ تَنَافُرِ الْحُرُوفِ، وَالْغَرَابَةِ، وَمُخَالَفَةِ الْقِيَاسِ اللُّغَوِيِّ.
ترجمہ: پس مفرد (لفظ) میں فصاحت یہ ہے کہ وہ حروف کے باہمی ٹکراؤ (ثقالت)، غراہت (اجنبیت) اور لغوی قواعد کی مخالفت سے پاک ہو۔ تنافرِ حروف: اس سے مراد لفظ میں ایسے حروف کا ہونا ہے جن کا زبان سے ادا کرنا ثقیل (بھاری) ہو، جیسے “الْهُخْعُخُ” (ایک پودے کا نام)۔
سوال نمبر 4 (ب): فصاحت کو بلاغت پر مقدم کرنے کی وجہ:
جواب: فصاحت کو بلاغت پر اس لیے مقدم کیا گیا کیونکہ فصاحت “آلہ” ہے اور بلاغت “مقصد”۔ فصاحت مفرد، کلام اور متکلم تینوں کی صفت بنتی ہے جبکہ بلاغت صرف کلام اور متکلم کی صفت بنتی ہے۔ کسی کلام کے بلیغ ہونے کے لیے اس کا فصیح ہونا شرط ہے، اس لیے شرط (فصاحت) کو مشروط (بلاغت) پر مقدم کیا گیا۔

سوال نمبر 5: تعریفات و امثلہ (کوئی سے پانچ): جواب:
  1. تنافرِ حروف: کلمہ میں ایسے حروف کا اجتماع جو زبان پر بھاری ہوں، جیسے: “مستشزرات”۔
  2. ضعفِ تالیف: کلام کا علمِ نحو کے مشہور قوانین کے خلاف ہونا، جیسے ضمیر کا ذکر ایسے اسم سے پہلے کرنا جو لفظاً اور رتبتاً مؤخر ہو۔
  3. تعقیدِ معنوی: کلام میں ایسے الفاظ کا استعمال کہ معنی سمجھنے میں دشواری ہو، جیسے کنایہ کے استعمال میں دوری۔
  4. حقیقتِ عقلیہ: فعل کی نسبت اس کے اصل فاعل کی طرف کرنا، جیسے: “أنبت الله البقل” (اللہ نے سبزی اگائی)۔
  5. مجازِ عقلی: فعل کی نسبت فاعل کے بجائے کسی سبب یا مکان کی طرف کرنا، جیسے: “أنبت الربيع البقل” (بہار نے سبزی اگائی

شهادة العالية (بی اے) السنة الاولى –

الورقة السادسة: العقائد والمنطق (2023)

قسم اول: عقائد

سوال نمبر 1 (الف): لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ (تشریح و جوابِ اعتراض)
جواب: اس حدیث سے وہ لوگ اہل سنت پر اعتراض کرتے ہیں جو مزاراتِ اولیاء پر مساجد کی تعمیر کو ناجائز کہتے ہیں۔
جوابِ اعتراض: اہل سنت کا موقف یہ ہے کہ حدیث میں “اتخاذِ مساجد” سے مراد قبروں کو “قبلہ” بنانا یا ان کی طرف “سجدہ” کرنا ہے جیسا کہ یہود و نصاریٰ کرتے تھے۔ اگر مسجد مزار کے پہلو میں ہو اور سجدہ صرف اللہ کے لیے ہو تو یہ جائز ہے۔ قرآن میں اصحابِ کہف کے غار پر مسجد بنانے کا ذکر (لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيْهِمْ مَّسْجِدًا) اس کی تائید کرتا ہے۔
سوال نمبر 1 (ب): “إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ…” اور “أَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ” میں تعارض کا خاتمہ۔
جواب: آیت کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو عدل کے طور پر صرف وہی ملے گا جو اس نے کیا۔ جبکہ حدیث ایصالِ ثواب اور صدقہ جاریہ کی بات کرتی ہے۔ دونوں میں تعارض یوں ختم ہوتا ہے کہ دوسروں کا کیا ہوا عمل (ایصالِ ثواب) اللہ کے “فضل” سے میت کو پہنچتا ہے، جبکہ اس کی اپنی کوشش (سعی) اس کا “حق” ہے۔ نیز ایصالِ ثواب کرنے والے کا انتخاب بھی میت کی زندگی کے حسنِ سلوک کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔

سوال نمبر 2 (الف): استغاثہ کی تعریف اور مشروعیت پر دو حدیثیں۔
جواب: تعریف: کسی نبی یا ولی کو اللہ کی دی ہوئی عطا سے مدد کے لیے پکارنا استغاثہ کہلاتا ہے۔ احادیث: 1. میدانِ محشر میں لوگ یکے بعد دیگرے انبیاء سے استغاثہ (شفاعت کی درخواست) کریں گے۔ 2. حدیثِ نابینا: آپ ﷺ نے ایک نابینا صحابی کو دعا سکھائی جس میں “یا محمد” (ﷺ) کہہ کر پکارنے کی تعلیم دی۔
سوال نمبر 2 (ب): کیا اہل قبور سنتے ہیں؟ “وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُورِ” کا مطلب۔
جواب: اہل سنت کے نزدیک سماعِ موتی (مردوں کا سننا) حق ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ “جس طرح مردے سن کر ہدایت قبول نہیں کر سکتے، اے محبوب! آپ ان کافروں کو ہدایت نہیں سنا سکتے جن کے دل مر چکے ہیں”۔ یہ سماعِ ہدایت کی نفی ہے، نہ کہ مطلق سماع (آواز سننے) کی۔

قسم ثانی: منطق

سوال نمبر 4: وَالْمُرَادُ بِالْمُقَدِّمَةِ هَهُنَا مَا يَتَوَقَّفُ عَلَيْهِ الشُّرُوعُ فِي الْعِلْمِ.
(الف) “مقدمہ العلم” اور “مقدمہ الکتاب” کی تعریف اور عبارت کی وضاحت۔
جواب: * مقدمہ الکتاب: وہ کلام جو مقصودِ کتاب سے پہلے لایا جائے تاکہ کتاب سے مناسبت پیدا ہو (جیسے خطبہ)۔
  • مقدمہ العلم: وہ باتیں جن پر علم کا شروع کرنا موقوف ہو (جیسے تعریف، موضوع، غرض)۔ عبارت میں مذکور تعریف “مقدمہ العلم” کی ہے۔
(ب) شروع فی العلم ان تینوں پر کیوں موقوف ہے؟
جواب: 1. تعریف: تاکہ طالبِ علم کو پتہ ہو کہ وہ کیا سیکھنے جا رہا ہے (طلبِ مجہول لازم نہ آئے)۔ 2. موضوع: تاکہ علم کے مسائل دیگر علوم سے ممتاز ہو جائیں۔ 3. غرض: تاکہ علم کا سیکھنا عبث (فضول) نہ رہے بلکہ اس کا فائدہ سامنے ہو۔

سوال نمبر 5 (الف): وَاعْلَمْ أَنَّ الْمَشْهُورَ… (اعراب اور ترجمہ) جواب: اعراب: وَاعْلَمْ أَنَّ الْمَشْهُورَ فِيمَا بَيْنَ الْقَوْمِ أَنَّ الْعِلْمَ إِمَّا تَصَوُّرٌ أَوْ تَصْدِيقٌ، وَالْمُصَنِّفُ عَدَلَ عَنْهُ إِلَى التَّصَوُّرِ السَّاذَجِ وَالتَّصْدِيقِ.
ترجمہ: اور جان لو کہ قوم (منطقیوں) کے درمیان مشہور یہ ہے کہ علم یا تو تصور ہے یا تصدیق، جبکہ مصنف نے اس سے عدول (انحراف) کیا ہے “تصورِ سادہ” اور “تصدیق” کی طرف۔
(ج) تصور برسیمہ کسے کہتے ہیں؟ جواب: تصور برسیمہ (تصورِ ساذج) سے مراد وہ علم ہے جس میں کسی چیز کا ادراک تو ہو لیکن اس کے ساتھ کوئی حکم (ہاں یا نہ) موجود نہ ہو، جیسے صرف “زید” کا تصور۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *