جواب: ترجمہ: اور “عباد الرحمن” (رحمن کے بندے) مبتدا ہے اور اس کے بعد والی آیات اس کی صفات ہیں یہاں تک کہ “أُولَئِكَ يُجْزَوْنَ” تک، (وہ بندے) جو زمین پر عاجزی سے چلتے ہیں یعنی سکون اور انکساری کے ساتھ، اور جب جاہل ان سے ایسی بات کریں جو انہیں ناپسند ہو تو وہ سلام کہتے ہیں یعنی ایسی بات کہتے ہیں جس میں وہ گناہ سے محفوظ رہیں۔ اور وہ جو اپنے رب کے لیے سجدہ کرتے ہوئے اور قیام کرتے ہوئے (جمع ہے ساجد کی اور قیام بمعنی قائمین ہے) رات گزارتے ہیں، یعنی وہ رات کو نماز پڑھتے ہیں۔
سوال نمبر 1: (ب) اغراضِ مفسر کی وضاحت کریں۔
جواب: مفسر نے “عباد الرحمن” کو نحوی اعتبار سے مبتدا قرار دے کر یہ بتایا کہ پوری آیت ایک جامع کلام ہے۔ “ہوناً” کی تفسیر “سکینہ و تواضع” سے کر کے یہ واضح کیا کہ یہ چال تکبر سے خالی ہوتی ہے۔ “سلاماً” کی وضاحت “قولاً یسلمون” سے کی تاکہ یہ وہم نہ ہو کہ یہ عام سلام ہے، بلکہ اس سے مراد جاہلوں سے بچ کر نکلنا ہے۔ “سجداً و قیاماً” کی تشریح سے رات کی عبادت (تہجد) کی اہمیت واضح کی۔
سوال نمبر 1: (ج) سورہ فرقان میں رحمن کے بندوں کی کتنی اور کونسی صفات بیان ہوئی ہیں؟
جواب: سورہ فرقان کے آخری رکوع میں رحمن کے بندوں کی درج ذیل صفات بیان ہوئی ہیں: زمین پر عاجزی سے چلنا۔ جاہلوں کے مخاطب کرنے پر سلامتی والی بات کہنا۔ تہجد کی نماز ادا کرنا۔ عذابِ جہنم سے پناہ مانگنا۔ خرچ میں اعتدال (نہ فضول خرچی، نہ کنجوسی)۔ شرک، ناحق قتل اور زنا سے بچنا۔ جھوٹی گواہی نہ دینا اور لغویات سے اعراض کرنا۔
سوال نمبر 2: (الف) کلامِ باری تعالیٰ اور کلامِ مفسر پر اعراب لگا کر ترجمہ کریں۔
جواب: ترجمہ: اور بے شک ہم نے لقمان کو حکمت عطا کی (جس سے مراد علم، دینداری اور بات میں درستی ہے) اور بہت سی منقول حکمتیں (عطا کیں۔ وہ حضرت داؤد علیہ السلام کی بعثت سے پہلے فتویٰ دیا کرتے تھے، پھر آپ کا زمانہ پایا، آپ سے علم حاصل کیا اور فتویٰ دینا چھوڑ دیا۔ انہوں نے اس بارے میں کہا: کیا میں کافی نہ سمجھوں جب میری طرف سے کفایت کر لی گئی؟ اور ان سے پوچھا گیا کہ کون سا آدمی سب سے برا ہے؟ انہوں نے فرمایا: وہ جو اس بات کی پرواہ نہ کرے کہ لوگ اسے برا کام کرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔
سوال نمبر 2: (ب) حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو کیا وصیتیں کیں؟
جواب: حضرت لقمان کی مشہور وصیتیں یہ ہیں: اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا۔ نماز قائم کرنا۔ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔ تکلیف پر صبر کرنا۔ لوگوں سے رخ پھیر کر (تکبر سے) بات نہ کرنا۔ زمین پر اکڑ کر نہ چلنا اور اپنی آواز کو پست رکھنا۔
سوال نمبر 3: (الف) کلامِ باری تعالیٰ اور کلامِ مفسر پر اعراب لگا کر ترجمہ کریں۔
جواب: ترجمہ: اے ایمان والو! اپنے اوپر اللہ کی نعمت یاد کرو جب تمہارے پاس (کفار کے) لشکر آئے جو خندق کھودنے کے دنوں میں گروہ بنا کر آئے تھے، پس ہم نے ان پر ہوا بھیجی اور وہ لشکر بھیجے جنہیں تم نے نہ دیکھا (یعنی فرشتے)۔ اور اللہ جو تم کرتے ہو اسے (لفظ ‘تعملون’ تاء کے ساتھ یعنی تمہارا خندق کھودنا، اور یاء کے ساتھ یعنی مشرکین کا گروہ بنانا) دیکھ رہا ہے۔
سوال نمبر 3: (ب) غزوہ احزاب کا واقعہ تفصیل کے ساتھ قلمبند کریں۔
جواب: غزوہ احزاب 5ھ میں پیش آیا۔ مشرکینِ مکہ، بنو نضیر اور دیگر قبائل نے مل کر مدینہ پر چڑھائی کی جس کی تعداد 10 ہزار تھی۔ مسلمانوں نے دفاع کے لیے مدینہ کے گرد خندق کھودی۔ کفار نے کئی دن محاصرہ کیے رکھا۔ آخر کار اللہ نے شدید ہوا اور فرشتوں کے ذریعے ان کے خیمے اکھاڑ دیے اور وہ ناکام ہو کر لوٹ گئے۔
سوال نمبر 3: (ج) خندق کھودنے کا مشورہ کس صحابی نے دیا؟
جواب: خندق کھودنے کا مشورہ مشہور صحابیِ رسول حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے دیا تھا۔
مختصر سوالات
س 1: “نکحتم” کون سا صیغہ ہے؟
ج: یہ فعل ماضی، جمع مذکر حاضر، باب نصر ینصر سے ہے۔
س 2: طلاقِ حسن اور طلاقِ احسن میں کیا فرق ہے؟
ج: طلاقِ احسن یہ ہے کہ ایک طہر میں ایک طلاق دی جائے اور عدت گزرنے دی جائے۔ طلاقِ حسن یہ ہے کہ تین طہروں میں الگ الگ تین طلاقیں دی جائیں۔
س 3: طلاقِ بدعی سے کیا مراد ہے؟
ج: طلاقِ بدعی وہ ہے جو سنت کے خلاف ہو، مثلاً ایک ہی وقت میں تین طلاقیں دینا یا حالتِ حیض میں طلاق دینا۔
س 4: بغیر چھونے (قبل ان تمسوہن) طلاق ہو جائے تو عدت کا کیا حکم ہے؟
ج: اگر نکاح کے بعد خلوتِ صحیحہ یا جماع سے پہلے طلاق ہو جائے تو عورت پر کوئی عدت نہیں ہے۔
خاصہ سال دوم – 2023 (دوسرا پرچہ: حدیث و عربی ادب)
قسم اول: حدیثِ مبارکہ
سوال نمبر 1: (الف) حدیثِ شریف پر اعراب لگا کر ترجمہ کریں۔
جواب: ترجمہ: (حضرت جبریل علیہ السلام نے) عرض کیا: پس مجھے قیامت کے بارے میں بتائیے کہ وہ کب ہوگی؟ (نبی کریم ﷺ نے) فرمایا: اس کے بارے میں جس سے پوچھا جا رہا ہے وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا، لیکن اس کی کچھ نشانیاں (شرائط) ہیں۔
سوال نمبر 1: (ب) کیا نبی کریم ﷺ کو قیامت کا علم تھا؟ اہل سنت کا موقف لکھیں۔
جواب: اہل سنت و جماعت کا موقف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو قیامت کے وقتِ دقیق سمیت تمام غیبی امور کا علم عطا فرما دیا تھا۔ اس حدیث میں “ما المسؤول عنھا” فرمانے کی حکمت یہ تھی کہ اس وقت کے تقاضے کے مطابق سائل کو یہ بتانا مقصود تھا کہ اس کا وقت بتانا مصلحتِ الہیہ کے خلاف ہے، یا یہ کہ مخلوق میں سے کوئی بھی اللہ کی عطا کے بغیر اسے نہیں جان سکتا۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ وصالِ ظاہری سے پہلے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو قیامت کے وقت کا علم بھی عطا کر دیا تھا۔
سوال نمبر 2: (الف) حدیثِ مذکور کی تشکیل و ترجمہ کریں۔
جواب: ترجمہ: حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے قدریہ پر لعنت فرمائی ہے، اور فرمایا کہ مجھ سے پہلے اللہ نے جو بھی نبی بھیجا اس نے اپنی امت کو ان (قدریہ) سے ڈرایا، اللہ ان پر لعنت کرے۔
سوال نمبر 2: (ج) فرقہ قدریہ کے عقائد تحریر کریں۔
جواب: فرقہ قدریہ وہ ہے جو تقدیر کا انکار کرتا ہے۔ ان کا بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ انسان اپنے افعال کا خود خالق ہے اور اللہ تعالیٰ کو انسان کے عمل کرنے سے پہلے اس کا علم نہیں ہوتا (معاذ اللہ)۔ وہ کہتے ہیں کہ نیکی اور بدی سب انسان کی اپنی مشیت سے ہے، اللہ کی تقدیر کا اس میں کوئی دخل نہیں۔ اسی باطل عقیدے کی بنا پر انہیں اس امت کا “مجوس” کہا گیا ہے۔
سوال نمبر 3: (ب) رفع یدین کے متعلق امام اعظم اور امام اوزاعی کا مکالمہ تحریر کریں۔
جواب: مکہ مکرمہ میں امام اوزاعی نے امام اعظم سے پوچھا کہ آپ رکوع جاتے اور اٹھتے وقت رفع یدین کیوں نہیں کرتے؟
امام اعظم نے فرمایا کیونکہ اس بارے میں نبی ﷺ سے (ترکِ رفع یدین کی) صحیح حدیث ثابت ہے۔
امام اوزاعی نے اپنی سند پیش کی، تو امام اعظم نے اس کے مقابلے میں اپنی بلند تر اور فقہی اعتبار سے مضبوط سند پیش کی (امام حماد عن ابراہیم عن علقمہ عن ابن مسعود) اور فرمایا کہ میرے راوی آپ کے راویوں سے زیادہ فقیہ ہیں، اور فقیہ کی روایت کو غیر فقیہ پر ترجیح حاصل ہوتی ہے۔ امام اوزاعی یہ سن کر خاموش ہو گئے۔
قسم ثانی: عربی ادب
سوال نمبر 4: درج ذیل اشعار میں سے پانچ کا ترجمہ کریں۔
جواب:
میں کئی پہرے داروں اور ایسے گروہ سے بچ کر اس (محبوبہ) تک پہنچا جو میرے قتل کے حریص تھے اور اسے چھپائے ہوئے تھے۔
میں نے اس کے سر کو اپنی طرف جھکایا تو وہ مجھ پر جھک گئی، وہ پتلی کمر والی اور بھری ہوئی پنڈلیوں والی ہے۔
اور اس کے بال (محبوبہ کے) پیٹھ کو زینت دیتے ہیں، وہ سیاہ فام، گھنے اور کھجور کے خوشے کی طرح گتھے ہوئے ہیں۔
اے لمبی رات! کیا تو صبح کے ساتھ روشن نہیں ہوگی؟ حالانکہ تیری صبح بھی تجھ سے کچھ بہتر نہیں ہے۔
اور وہ (محبوبہ) تبسم کرتی ہے تو صاف چمکتے دانت ظاہر ہوتے ہیں گویا وہ ریت کے ٹیلے پر کھلی ہوئی چنبیلی ہو۔
سوال نمبر 5: درج ذیل جموع کے مفردات مع معانی تحریر کریں۔
جواب:
سَمَاوَات: (مفرد: سَمَاء) – معنی: آسمان۔
التَّمَائِم: (مفرد: تَمِيْمَة) – معنی: تعویذ۔
غَدَائِر: (مفرد: غَدِيْرَة) – معنی: بالوں کی لٹیں/میڈھیاں۔
أَسَارِيع: (مفرد: أُسْرُوْع) – معنی: ریشم کا کیڑا یا ریت کا سرخ کیڑا۔
ترجمہ: اور حیض کی مدت میں دو خونوں کے درمیان آنے والی پاکی (طہر) لگاتار خون آنے کی طرح ہے۔ فرمایا:
یہ امام ابوحنیفہ کی روایات میں سے ایک روایت ہے، اور امام ابو یوسف سے (بھی یہی مروی ہے) اور یہ امام ابوحنیفہ سے (دوسری) روایت ہے، اور کہا گیا ہے کہ یہی آپ کا آخری قول ہے کہ جب طہر پندرہ دن سے کم ہو تو وہ فاصلہ (حیض کو ختم) نہیں کرتا اور وہ سب کا سب لگاتار خون کی طرح شمار ہوگا، اور اسی قول پر عمل کرنا زیادہ آسان ہے۔
سوال نمبر 1: ہدایہ کی روشنی میں ہر دوروایات کی وجہ تحریر کریں۔
پہلی روایت کی وجہ یہ ہے کہ حیض میں خون کا بہنا مسلسل نہیں ہوتا بلکہ رک رک کر آتا ہے، لہٰذا درمیان کی پاکی کو بھی حیض ہی مانا جائے گا تاکہ تسلسلِ حیض برقرار رہے کیونکہ خون کا مکمل بند ہونا مراد نہیں بلکہ اس کا وقت مراد ہے۔ دوسری روایت (صاحبین کی) یہ ہے کہ چونکہ اقلِ طہر (کم سے کم پاکی کی مدت) پندرہ دن ہے، اس لیے پندرہ دن سے کم کا طہر دو خونوں کے درمیان حقیقی جدائی پیدا نہیں کر سکتا، لہٰذا اسے خون کے حکم میں ہی رکھا جائے گا اور یہی فتویٰ کے لیے زیادہ آسان ہے۔
سوال نمبر 1: ہدایہ کی روشنی میں پانچ واجباتِ نماز سپردِ قلم کریں۔
سورہ فاتحہ پڑھنا فاتحہ کے ساتھ کوئی سورت یا تین چھوٹی آیات ملانا فرض نماز کی پہلی دو رکعتوں میں قرأت کرنا قومہ کرنا یعنی رکوع سے سیدھا کھڑا ہونا جلسہ کرنا یعنی دو سجدوں کے درمیان بیٹھنا
سوال نمبر 2: عبارت (المفروض فى مسح الرأس…) کا ترجمہ اور ہدایہ کی روشنی میں دلیل پیش کریں۔
ترجمہ: سر کے مسح میں فرض کی مقدار پیشانی کے بالوں (ناصیہ) کے برابر ہے اور وہ چوتھائی سر ہے۔ دلیل: امام قدوری اور صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے وضو فرمایا اور اپنی پیشانی (ناصیہ) اور عمامے پر مسح فرمایا، چونکہ ناصیہ چوتھائی سر کے برابر ہے، اس لیے احناف کے نزدیک چوتھائی سر کا مسح فرض قرار پایا۔
سوال نمبر 2: مذکورہ مسئلہ (مسحِ رأس) میں ائمہ کا اختلاف تحریر کریں۔
امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک چوتھائی سر کا مسح فرض ہے امام شافعی کے نزدیک کم از کم تین بالوں کی مقدار مسح کرنا بھی کافی ہے امام مالک اور امام احمد بن حنبل کے نزدیک پورے سر کا مسح کرنا فرض ہے
سوال نمبر 3: عبارت (و اذا كان يوم غيم…) پر اعراب لگا کر ترجمہ کریں اور ہر دو حکم کی وجہ تحریر کریں۔
ترجمہ: اور جب بادلوں والا دن ہو تو مستحب یہ ہے کہ فجر، ظہر اور مغرب میں تاخیر کی جائے، اور عصر و عشاء میں جلدی کی جائے۔
وجہ (تاخیر): فجر، ظہر اور مغرب میں تاخیر اس لیے کی جاتی ہے تاکہ وقت داخل ہونے کا سو فیصد یقین ہو جائے کیونکہ بادلوں میں سورج چھپا ہونے کی وجہ سے وقت سے پہلے نماز ادا ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔
وجہ (تعجیل): عصر اور عشاء میں جلدی اس لیے مستحب ہے تاکہ بادلوں کی وجہ سے وقتِ مکروہ (غروبِ آفتاب) میں نماز نہ چلی جائے یا عشاء میں بادلوں کی وجہ سے زیادہ تاخیر اور سستی نہ ہو جائے۔
س: “خارج من غیر السبیلین” میں احناف و شوافع کا اختلاف مع دلیل کیا ہے؟
ج: احناف کے نزدیک بدن کے کسی حصے سے نجاست (خون، پیپ) نکل کر بہہ جائے تو وضو ٹوٹ جاتا ہے، دلیل حدیث ہے: “الوضوء من کل دم سائل”۔ امام شافعی کے نزدیک وضو صرف سبیلین سے نکلنے والی چیزوں سے ٹوٹتا ہے۔
س: افتتاحِ صلوٰۃ بالفارسی (فارسی میں نماز شروع کرنا) میں ائمہ کا کیا اختلاف ہے؟
ج: امام اعظم کے نزدیک فارسی میں نماز شروع کرنا جائز ہے (اگرچہ خلافِ سنت ہے)، جبکہ صاحبین کے نزدیک اگر عربی پر قدرت ہو تو فارسی میں شروع کرنا جائز نہیں ہے۔
س: غسل واجب کرنے والے چار اسباب مع دلیل تحریر کریں۔
ج: جماع (خواہ انزال نہ ہو) خروجِ منی شہوت کے ساتھ حیض کا ختم ہونا نفاس کا ختم ہونا (دلیل قرآن: “وَإِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوا”)
س: اگر امام قرأت سے عاجز ہو جائے (ان حصر الامام) تو کیا حکم ہے؟
ج: اگر امام قرأت نہ کر سکے اور کسی دوسرے کو اپنی جگہ امام بنا کر آگے کر دے تو سب کی نماز جائز ہو جائے گی۔
س: سجدہ اگر عمامے کے پیچ (کورِ عمامہ) پر کیا جائے تو کیا جائز ہے؟
ج: جی ہاں، اگر عمامہ پیشانی پر ہو اور اس پر سجدہ کیا جائے تو جائز ہے، بشرطیکہ پیشانی کی سختی زمین پر محسوس ہو۔
س: نجاست اگر مخرج سے ایک درہم سے زیادہ تجاوز کر جائے تو کیا حکم ہے؟
ج: ایسی صورت میں صرف پتھر یا ڈھیلے سے پاکی حاصل نہیں ہوگی بلکہ پانی سے دھونا واجب ہے۔
خاصہ سال دوم – 2023 (چوتھا پرچہ: اصولِ فقہ – نور الانوار)
سوال نمبر 1: عبارت (اعلم أن أصول الشرع ثلثة…) کا ترجمہ کریں اور بتائیں اصول الشرع کی بجائے اصول الفقہ کیوں نہیں کہا؟
ترجمہ: جان لے کہ شرع کے اصول تین ہیں: اللہ کی کتاب، (رسول اللہ ﷺ کی) سنت اور امت کا اجماع۔
اصولِ فقہ کی بجائے اصولِ شرع کہنے کی وجہ یہ ہے کہ “فقہ” ایک خاص علم (فروعی احکام کی معرفت) کا نام ہے،
جبکہ “شرع” کا مفہوم عام ہے جو عقائد، اخلاقیات اور احکامِ عملیہ سب کو شامل ہے۔ چونکہ کتاب و سنت سے صرف فقہ نہیں بلکہ پورا دین ثابت ہوتا ہے،
اس لیے مصنف نے “اصولِ شرع” کا لفظ استعمال کیا تاکہ ان اصولوں کی جامعیت واضح ہو سکے۔
سوال نمبر 1: ادلہ شرعیہ کی وجہ حصر تحریر کرتے ہوئے بتائیں کہ قیاس کو “والأصل الرابع” کہہ کر الگ کیوں بیان کیا؟
وجہِ حصر یہ ہے کہ دلیل یا تو اللہ کا کلام ہوگی (کتاب اللہ)، یا اللہ کے رسول ﷺ کا قول و فعل (سنت)، یا پھر امت کے مجتہدین کا اتفاق (اجماع)۔
اگر ان تینوں میں حکم صراحتاً نہ ملے تو ان سے استنباط کیا جائے گا جسے قیاس کہتے ہیں۔ قیاس کو “والاصل الرابع” کہہ کر الگ اس لیے ذکر کیا گیا کیونکہ پہلے تین اصول (کتاب، سنت، اجماع) دلائلِ قطعیہ اور مستقل بالذات ہیں،
یعنی ان سے حکم خود ثابت ہوتا ہے۔ جبکہ قیاس ایک “مظہرِ حکم” (حکم کو ظاہر کرنے والا) ہے، یہ حکم پیدا نہیں کرتا بلکہ سابقہ تین اصولوں سے حکم نکال کر واضح کرتا ہے، اسی لیے اسے تبعا ذکر کیا گیا۔
سوال نمبر 1: قیاس المستنبط من الکتاب، السنۃ اور الاجماع میں سے ہر ایک کی مثال سپردِ قلم کریں۔
قیاس من الکتاب: قرآن میں والدین کو “اُف” کہنے کی ممانعت ہے، اس پر قیاس کرتے ہوئے انہیں مارنا پیٹنا بھی حرام قرار دیا گیا (علت: ایذاء رسانی)۔
قیاس من السنۃ: نبی ﷺ نے بلی کے جھوٹے کو پاک قرار دیا کیونکہ وہ گھروں میں آنے جانے والا جانور ہے، اسی علت پر چوہے کے جھوٹے کو بھی پاک قیاس کیا گیا۔
قیاس من الاجماع: صحابہ کا اجماع ہے کہ جس طرح شراب پینے پر حد لگتی ہے اسی طرح تہمت لگانے پر بھی حد لگے گی (علت: عقل و آبرو کی حفاظت)۔
سوال نمبر 2: عبارت (واما المحكم فما احكم المرادبه…) پر اعراب لگا کر ترجمہ تحریر کریں۔
ترجمہ: اور رہا “محکم” تو یہ وہ (لفظ) ہے جس کے معنی کو نسخ اور تبدیلی کے احتمال سے پختہ کر دیا گیا ہو۔ یہاں “عن” کا صلہ لانا “امتناع” (رک جانے) کے معنی کو شامل کرنے کے لیے ہے، یعنی اس کے معنی کو اس حال میں پختہ کیا گیا کہ وہ نسخ اور تبدیلی کے احتمال سے رکا ہوا (ناممکن) ہے۔
سوال نمبر 2: وأحل الله البيع وحرم الربوا آیت مبارکہ میں ظاہر و نص کی تعین سپردِ قلم کریں۔
اس آیت میں “ظاہر” بیع (خرید و فروخت) کا حلال ہونا اور سود کا حرام ہونا ہے، کیونکہ کلام کا لفظی مفہوم یہی سمجھ آ رہا ہے۔
اس میں “نص” بیع اور سود کے درمیان فرق کو واضح کرنا ہے، کیونکہ یہ آیت ان کفار کے رد میں نازل ہوئی جو کہتے تھے کہ “بیع بھی تو سود کی طرح ہے”، پس اللہ نے ان کے درمیان فرق بیان کرنے کے لیے یہ کلام فرمایا۔
سوال نمبر 3: عبارت (وحكم الأمر نوعان أداء…) کا ترجمہ اور تشریح سپردِ قلم کریں۔
ترجمہ: اور امر (حکم) کا حکم دو قسم پر ہے: ایک “اداء” یعنی واجب کی وہ عین چیز سپرد کرنا جو امر سے ثابت ہوئی ہو (یعنی وہ وجوب جو امر سے ثابت ہوا)۔ اور دوسرا “قضا” یعنی واجب جیسی چیز سپرد کرنا۔
تشریح: ادا کا مطلب ہے کہ اللہ نے جو حکم جس وقت اور جس حالت میں دیا، اسے اسی طرح پورا کرنا (مثلاً وقت پر نماز پڑھنا)۔
قضا کا مطلب ہے کہ اگر وہ عین واجب فوت ہو جائے تو اس کی مثل (بدل) پیش کرنا (مثلاً چھوٹی ہوئی نماز بعد میں پڑھنا)۔
سوال نمبر 4: عبارت (الراوي ان عرف بالفقه…) میں مذکور ضابطہ کی مثال دے کر تشریح کریں۔
ضابطہ یہ ہے کہ اگر راوی فقیہ اور مجتہد ہو (جیسے خلفائے راشدین) تو اس کی حدیث کو قیاس پر مقدم رکھا جائے گا اور قیاس چھوڑ دیا جائے گا۔
مثال: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث “المصرات” (وہ جانور جس کا دودھ تھنوں میں روک لیا گیا ہو) کے بارے میں احناف نے قیاس کو ترجیح دی کیونکہ ان کے نزدیک راوی (ابوہریرہ) فقیہ تو تھے مگر خلفائے راشدین جیسے درجے کے مجتہد نہ تھے، جبکہ امام مالک کے نزدیک راوی کی حدیث بہرحال مقدم ہے۔
س: خلفاء راشدین اور “العبادلہ” سے کیا مراد ہے؟
ج: خلفاء راشدین سے مراد حضرت ابوبکر، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم ہیں۔ “العبادلہ” سے مراد وہ صحابہ ہیں جن کا نام عبداللہ تھا اور وہ صاحبِ فتویٰ تھے، جیسے عبداللہ بن مسعود، عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم۔
س: اجماع کی تعریف کریں اور بتائیں کہ اجماع کا اہل کون ہے؟
ج: اجماع سے مراد نبی ﷺ کی وفات کے بعد کسی بھی زمانے میں امت کے مجتہدین کا کسی شرعی حکم پر متفق ہو جانا ہے۔ اجماع کا اہل صرف وہ “مجتہد” ہے جو قرآن، سنت اور اصولِ استنباط کا مکمل علم رکھتا ہو، عام آدمی یا جاہل اجماع کا اہل نہیں ہے۔
س: نور الانوار کے متن اور مصنف کا نام کیا ہے؟
ج: نور الانوار کے متن کا نام “منار الانوار” ہے جس کے مصنف امام نسفی ہیں، اور شرح (نور الانوار) کے مصنف کا نام “ملا جیون” (شیخ احمد بن ابو سعید) ہے۔
س: اداءِ کامل اور اداءِ قاصر کی تعریف کریں۔
ج: اداءِ کامل وہ ہے جو تمام اوصاف و کمالات کے ساتھ ادا کی جائے (جیسے باجماعت نماز)۔ اداءِ قاصر وہ ہے جس میں کوئی صفت کم ہو (جیسے اکیلے نماز پڑھنا یا مکروہ وقت میں ادا کرنا)۔
س: کیا ادا اور قضا ایک دوسرے کی جگہ استعمال ہو سکتے ہیں؟
ج: جی ہاں، کبھی مجازاً ادا کو قضا اور قضا کو ادا کہہ دیا جاتا ہے (جیسے قرآن میں ہے: “فإذا قضيتم الصلاة” یہاں مراد نماز ادا کرنا ہے)۔ ان دونوں میں “ادا” عام ہے کیونکہ یہ ہر واجب کو شامل ہے۔
کلاس: الشہادۃ الثانویہ الخاصہ (ایف اے سال دوم)پانچواں پرچہ: نحو (شرح جامی) – سال 2023
وَلَا يَتَأَتَّى أَيْ لَا يَحْصُلُ ذَلِكَ أَيْ الْكَلَامُ إِلَّا فِي ضِمْنِ اسْمَيْنِ أَحَدُهُمَا مُسْنَدٌ وَالْآخَرُ مُسْنَدٌ إِلَيْهِ اور کلام حاصل نہیں ہوتا مگر دو اسموں کے ضمن میں کہ ان میں سے ایک مسند اور دوسرا مسند الیہ ہو۔
کلام کی تعریف کریں نیز کلام بننے کی عقلی صورتیں مع امثلہ لکھیں۔
کلام وہ ہے جو دو کلموں کی ایسی نسبت پر مشتمل ہو کہ سننے والے کو پورا فائدہ حاصل ہو؛
اس کی عقلی صورتیں 6 ہیں: (1) اسم + اسم (درست: زیدٌ قائمٌ) (2) اسم + فعل (درست: قامَ زیدٌ) (3) فعل + فعل (غلط) (4) فعل + حرف (غلط) (5) اسم + حرف (غلط) (6) حرف + حرف (غلط)۔
“لایتاتی” کی صرفی تحقیق کریں۔
یہ فعل مضارع منفی، واحد مذکر غائب، باب تفعل (تأتی) سے ہے، اس کا مادہ “ا ت ی” (مہموز الفا اور ناقصِ یائی) ہے۔
العَامِلُ مَا بِهِ يَتَقَوَّمُ الْمَعْنَى الْمُقْتَضِي لِلْإِعْرَابِ عامل وہ ہے جس کے ذریعے وہ معنی قائم ہو جو اعراب کا تقاضا کرتا ہے۔
معنی مقتضی للإعراب سے کیا مراد ہے اور اعراب کی وجہ تسمیہ کیا ہے؟
اس سے مراد وہ معانی (فاعلیت، مفعولیت وغیرہ) ہیں جن کی وجہ سے اعراب بدلتا ہے؛ اعراب کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ یہ اسم کے معنی کو واضح (اعراب کا لغوی معنی واضح کرنا) کر دیتا ہے۔
مثنی اور اس کے ملحقات کے اعراب کی وضاحت کریں۔
مثنی (اور کِلا، کِلتا، اِثنانِ) کا اعراب حالتِ رفع میں “الف” کے ساتھ اور حالتِ نصب و جر میں “یا” ماقبل مفتوح کے ساتھ آتا ہے۔
غَيْرُ الْمُنْصَرِفِ مَا فِيهِ عِلَّتَانِ مِنْ عِلَلٍ تِسْعٍ أَوْ عِلَّةٌ وَاحِدَةٌ مِنْهَا غیر منصرف وہ اسم ہے جس میں نو اسبابِ منعِ صرف میں سے دو سبب پائے جائیں یا ایک ایسا سبب ہو جو دو کے قائم مقام ہو۔
عدل اور اس کی اقسام کی تعریفات مع امثلہ قلمبند کریں۔
عدل یہ ہے کہ اسم اپنی اصلی صورت سے بدل کر دوسری صورت میں آ جائے؛ اس کی دو قسمیں ہیں: عدلِ تحقیقی (جیسے ثُلاث سے مَثْلث) اور عدلِ تقریری (جیسے عُمَر جو عامِر سے معدول مانا جاتا ہے)۔
عللِ تسع (نو اسباب) کے متعلق ماتن کا شعر تحریر کریں۔
الْمَرْفُوعَاتُ هُوَ مَا اشْتَمَلَ عَلَى عَلَمِ الْفَاعِلِيَّةِ مرفوعات وہ (اسم) ہیں جو فاعلیت کی علامت پر مشتمل ہوں۔
فاعل کی تعریف کریں نیز فاعل کو تمام مرفوعات سے مقدم کرنے کی وجہ لکھیں۔
فاعل وہ اسم ہے جس سے پہلے ایسا فعل ہو جو اس کی طرف منسوب ہو؛ اسے مقدم اس لیے کیا گیا کیونکہ فاعل جملہ فعلیہ کا رکنِ اعظم اور عمدہ (بنیادی حصہ) ہے جبکہ دیگر مرفوعات (جیسے مفعول مالم یسم فاعلہ) اس کے نائب ہوتے ہیں۔
ضَرَبَ غُلَامُهُ زَيْدٌ کے جائز ہونے اور ضَرَبَ غُلَامُهُ زَيْدًا کے ناجائز ہونے کی وجہ کیا ہے؟
پہلی صورت (زیدٌ مرفوع) میں زید فاعل ہے، یہاں ضمیر مفعول کی طرف جا رہی ہے جو لفظاً موخر ہے مگر رتبۃً مقدم ہے (جائز ہے)؛ دوسری صورت میں ضمیر مفعول (زیداً) کی طرف جا رہی ہے جو لفظاً اور رتبۃً دونوں طرح موخر ہے، اسے “اضمار قبل الذکر” کہتے ہیں جو ناجائز ہے۔
ترجمہ: اور متکلم میں (بلاغت) ایک ایسا ملکہ ہے جس کے ذریعے وہ بلیغ کلام کی تالیف پر قدرت حاصل کرتا ہے، پس معلوم ہوا کہ ہر بلیغ فصیح ہوتا ہے لیکن اس کا عکس ضروری نہیں (یعنی ہر فصیح کا بلیغ ہونا لازم نہیں)۔
اور بلاغت کا مرجع مرادی معنی کی ادائیگی میں غلطی سے بچنے اور فصیح کو غیر فصیح سے ممتاز کرنے کی طرف ہے۔ اور اس (امتیاز) کی دوسری قسم وہ ہے جو علمِ لغت، صرف یا نحو میں بیان کی جاتی ہے یا حس (قوتِ سماعت) سے معلوم ہوتی ہے اور وہ “تعقیدِ معنوی” کے علاوہ تمام مفسداتِ فصاحت ہیں۔
سوال نمبر 1: بلیغ و فصیح کے درمیان نسبت واضح کر کے علم معانی، بیان اور بدیع کی تعریف کریں۔
بلیغ اور فصیح کے درمیان عموم و خصوص مطلق کی نسبت ہے۔
ہر بلیغ فصیح ہوتا ہے کیونکہ بلاغت کے لیے فصاحت شرط ہے،
لیکن ہر فصیح کا بلیغ ہونا ضروری نہیں، کیونکہ ہو سکتا ہے کلام فصیح تو ہو مگر مقتضیٰ حال کے مطابق نہ ہو۔
علمِ معانی: وہ علم ہے جس کے ذریعے عربی کلام کے ان احوال کو پہچانا جاتا ہے جن سے کلام مقتضیٰ حال کے مطابق ہو جائے۔
علمِ بیان: وہ علم ہے جس کے ذریعے ایک ہی معنی کو مختلف طریقوں (تشبیہ، استعارہ، کنایہ) سے ادا کرنے کے طریقے معلوم ہوں تاکہ معنی میں وضوح پیدا ہو۔
علمِ بدیع: وہ علم ہے جس کے ذریعے کلام کی لفظی اور معنوی خوبصورتی (محسنات) کو پہچانا جاتا ہے۔
سوال نمبر 2: فائدہ خبر اور لازم فائدہ خبر کی وضاحت کر کے کلام ابتدائی، طلبی اور انکاری کی تعریف کریں۔
فائدہ خبر: اس سے مراد مخاطب کو کسی ایسے حکم کی اطلاع دینا ہے جس کا اسے پہلے علم نہ ہو (مثلاً: زید عالم ہے)۔
لازمِ فائدہ خبر: اس سے مراد مخاطب کو یہ بتانا ہے کہ متکلم کو بھی اس بات کا علم ہے (مثلاً: تم نے کل سبق پڑھا)۔ ابتدائی: جب مخاطب حکم سے بالکل خالی الذہن ہو، اس میں کلام کو تاکید سے خالی رکھا جاتا ہے۔
طلبی: جب مخاطب حکم میں شک یا تردد رکھتا ہو، اس میں کلام کو ایک مؤکد (تاکید) کے ساتھ لانا حسن (بہتر) ہے۔ انکاری: جب مخاطب حکم کا انکار کر رہا ہو، اس میں انکار کی شدت کے مطابق تاکید لانا واجب ہے۔
حصہ دوم: منطق (شرح تہذیب)
سوال نمبر 4: عبارت (ويقتسمان بالضرورة الضرورة والاكتساب…) پر اعراب لگا کر ترجمہ تحریر کریں۔
ترجمہ: اور وہ دونوں (تصور و تصدیق) ضرورت (بدیہی) اور اکتساب (نظری) کی طرف تقسیم ہوتے ہیں۔ اور اکتساب “نظر” کے ذریعے ہوتا ہے، اور نظر سے مراد مجہول کو حاصل کرنے کے لیے معلوم باتوں کو ترتیب دینا (غور و فکر کرنا) ہے۔ اور اس (فکر) میں غلطی واقع ہو سکتی ہے، اس لیے ایک ایسے قانون کی ضرورت پڑی جو فکر میں غلطی سے بچائے اور وہ “منطق” ہے۔
سوال نمبر 4: ماتن کے علم کی تعریف ذکر نہ کرنے کی وجہ، علم کی تعریف اور حکماء و امام رازی کا مذہب تحریر کریں۔
ماتن نے علم کی تعریف اس لیے ذکر نہیں کی کیونکہ علم ایک “بدیہی” چیز ہے جسے تعریف کی ضرورت نہیں، یا اس لیے کہ اس کی تعریف بہت مشہور ہے۔
علم کی تعریف: “العلم هو الصورة الحاصلة من الشيء عند العقل” (عقل کے پاس کسی چیز کی صورت کا حاصل ہونا علم ہے)۔
حکماء کے نزدیک علم “صفتِ ذات” ہے جبکہ امام رازی کے نزدیک علم “ذات اور معلوم کے درمیان ایک تعلق” (اضافت) کا نام ہے۔
شارح نے حکماء کے مذہب کو پسند کیا ہے کیونکہ علم نفس میں ایک پختہ صفت کی طرح ہوتا ہے محض ایک تعلق نہیں۔
سوال نمبر 5: معرف الشئی کی تعریف، اس کی شرائط اور حد و رسم کی وضاحت کریں۔
معرف (تعریف): وہ معلوم تصوری بات جس کے ذریعے کسی مجہول تصوری چیز کو حاصل کیا جائے (مثلاً انسان کی پہچان کے لیے “حیوانِ ناطق” کہنا)۔
شرائط: معرف کو “جامع” (اپنے تمام افراد کو شامل) اور “مانع” (غیر کو نکالنے والا) ہونا چاہیے۔ نیز معرف کو “اجلیٰ” (واضح تر) ہونا چاہیے تاکہ وہ پہچان کروا سکے۔
حد: وہ تعریف جو اجزائے ذاتیہ (جنس اور فصل) سے مل کر بنے (مثلاً انسان کے لیے حیوانِ ناطق)۔
رسم:وہ تعریف جو عرضیات (خاصہ) سے مل کر بنے (مثلاً انسان کے لیے حیوانِ ضاحک)۔
س: فصاحت فی المفرد سے کیا مراد ہے؟
ج: کلمہ کا تنافرِ حروف، غرابت اور مخالفتِ قیاس سے پاک ہونا فصاحتِ مفرد کہلاتا ہے۔
س: مجازِ مرسل کی تعریف اور مثال کیا ہے؟
ج: ایسا لفظ جو اپنے حقیقی معنی کے علاوہ کسی اور معنی میں استعمال ہو اور ان کے درمیان علاقہ (تعلق) تشبیہ کا نہ ہو (مثلاً انگلی کا سرا کاٹ کر کہنا کہ “میں نے انگلی کاٹ دی”)۔
س: دلالتِ لفظیہ وضعیہ کسے کہتے ہیں؟
ج: جب لفظ کو سن کر اس کے معنی کا علم وضع کی وجہ سے ہو جائے (مثلاً لفظ “زید” سن کر اس کی ذات کا خیال آنا)۔
س: “ہدیٰ” کے ترکیبی احتمالات کیا ہیں؟
ج: یہ یا تو “ارسل” کے فاعل سے حال ہے، یا مفعول سے حال ہے، یا پھر مفعول لہ (بھیجنے کی وجہ) ہے۔
س: منطق کی غرض و غایت کیا ہے؟
ج: غور و فکر کے دوران ذہن کو علمی غلطی سے بچانا منطق کی بنیادی غرض ہے۔
س: نوع الانواع کی تعریف کیا ہے؟
ج: وہ نوع جس کے نیچے صرف افراد پائے جائیں اور کوئی نوع نہ ہو (مثلاً انسان)۔