Tanzeem ul Madaris Solved Past Paper 2023 | PDF (طلباء کے لیے) عالیہ سال دوم


حل شدہ پرچہ 2023ء: الورقۃ الاولٰی – التفسیر وأصولہ

پہلا حصہ: التفسیر (تفسیر بیضاوی)

سوال نمبر 1: تسمیہ (بسم اللہ) سورہ فاتحہ کا جز ہے یا نہیں؟ احناف اور شوافع کا مؤقف مدلل لکھیں۔
جواب: “بسم اللہ الرحمن الرحیم” کے سورہ فاتحہ یا ہر سورت کا جز ہونے میں ائمہ کے درمیان اختلاف ہے:
  1. احناف کا مؤقف: امام اعظم ابوحنیفہؒ کے نزدیک بسم اللہ نہ تو سورہ فاتحہ کا جز ہے اور نہ ہی دیگر سورتوں کا، بلکہ یہ ایک مستقل آیت ہے جو دو سورتوں کے درمیان فصل (فرق) کرنے کے لیے نازل ہوئی ہے۔
    • دلیل: حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ سورتوں کے درمیان فرق نہیں جانتے تھے یہاں تک کہ “بسم اللہ” نازل ہوئی۔ نیز قرآن کی حفاظت کا ذمہ اللہ نے لیا ہے اور بسم اللہ کے ہر سورت کا جز ہونے پر کوئی قطعی دلیل (تواتر) موجود نہیں۔
  2. شوافع کا مؤقف: امام شافعیؒ کے نزدیک بسم اللہ سورہ فاتحہ کی بھی ایک آیت ہے اور ہر اس سورت کا جز ہے جس کے شروع میں یہ لکھی ہوئی ہے۔
    • دلیل: حضرت ام سلمہؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے بسم اللہ کو سورہ فاتحہ کی پہلی آیت شمار فرمایا۔

سوال نمبر 2: (وَالِاسْمُ عِنْدَ أَصْحَابِنَا الْبَصْرِيِّينَ مِنَ الْأَسْمَاءِ الَّتِي حُذِفَتْ أَعْجَازُهَا لِكَثْرَةِ الِاسْتِعْمَالِ، وَبُنِيَتْ أَوَائِلُهَا عَلَى السُّكُونِ فَادْخُلْ عَلَيْهَا مُبْتَدَأً بِهَا هَمْزَةُ الْوَصْلِ لِأَنَّ مِنْ دَأْبِهِمْ أَنْ يَبْتَدُوا بِالْمُتَحَرِّكِ وَيَقِفُوا عَلَى السَّاكِنِ)
جواب: (الف) ترجمہ: “اور ‘اسم’ ہمارے بصری اصحاب (نحویوں) کے نزدیک ان اسماء میں سے ہے جن کے آخری حروف کثرتِ استعمال کی وجہ سے حذف کر دیے گئے ہیں، اور ان کے شروع کے حروف کو سکون پر مبنی رکھا گیا، پس ان پر (شروع میں) ہمزہ وصلی داخل کیا گیا تاکہ کلام کی ابتداء ہو سکے، کیونکہ عربوں کی عادت یہ ہے کہ وہ متحرک حرف سے ابتداء کرتے ہیں اور ساکن پر وقف کرتے ہیں۔”
(ب) اسم اپنے مسمی کا عین ہوتا ہے یا غیر؟
  • اشاعرہ اور ماتریدیہ: ان کے نزدیک اسم “عینِ مسمی” ہے (یعنی اللہ کا نام اللہ کی ذات ہی ہے)۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ اگر اسم غیرِ مسمی ہو تو “سبح اسم ربک” میں صرف نام کی تسبیح لازم آئے گی جبکہ مقصد ذات کی تسبیح ہے۔
  • معتزلہ: ان کے نزدیک اسم “غیرِ مسمی” ہے، کیونکہ نام ایک لفظ ہے جو حادث ہے جبکہ اللہ کی ذات قدیم ہے۔
  • موقفِ بیضاوی: علامہ بیضاوی کے نزدیک یہ بحث لفظی ہے، اگر ‘اسم’ سے مراد ‘ذات’ ہو تو وہ عین ہے، اور اگر ‘لفظ’ مراد ہو تو وہ غیر ہے۔

سوال نمبر 3: (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ، لَمَّا افْتَتَحَ سُبْحَانَهُ بِشَرْحِ حَالِ الْكِتَابِ الْعَظِيمِ وَسَاقَ لِبَيَانِهِ ذِكْرَ الْمُؤْمِنِينَ الَّذِينَ أَخْلَصُوا دِينَهُمْ لِلَّهِ تَعَالَى وَوَاطَأَتْ فِيهِ قُلُوبُهُمْ أَلْسِنَتَهُمْ وَثَنَّى بِأَضْدَادِهِمُ الَّذِينَ مَحَضُوا الْكُفْرَ ظَاهِرًا وَبَاطِنًا)
جواب: (الف) ترجمہ: “اور لوگوں میں سے کچھ وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان لائے۔ جب اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے کتابِ عظیم (قرآن) کے حال کی شرح سے ابتداء فرمائی اور اس کے بیان کے لیے ان مومنین کا ذکر فرمایا جنہوں نے اپنا دین اللہ کے لیے خالص کیا اور ان کے دلوں نے ان کی زبانوں کی موافقت کی، اور پھر ان کے برعکس (کافروں) کا ذکر کیا جنہوں نے ظاہر و باطن میں کفر کو خالص کر لیا۔”
(ب) لفظ ‘الناس’ کی تحقیق:
  • جمع یا اسم جمع: بصریوں کے نزدیک ‘الناس’ اصل میں ‘أُنَاس’ تھا، ہمزہ حذف کر کے الف لام لگایا گیا، یہ اسمِ جمع ہے۔ بعض کے نزدیک یہ ‘نوس’ (حرکت) سے مشتق ہے۔
  • الف لام کی قسم:الناس’ پر الف و لام “عہدِ خارجی” کا ہے، جس سے مراد وہ خاص منافقین ہیں جو حضور ﷺ کے دور میں موجود تھے (مثلاً عبداللہ بن ابی وغیرہ)۔

سوال نمبر 4: (اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ، وَالْفِعْلُ مِنْهُ هَدَى وَأَصْلُهُ يُعَدَّى بِاللَّامِ أَوْ إِلَى فَعُومِلَ مَعَهُ مُعَامَلَةَ اخْتَارَ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: وَاخْتَارَ مُوسَى قَوْمَهُ، وَهِدَايَةُ اللَّهِ تَتَنَوعُ أَنْوَاعًا لَا يُحْصِيهَا عَدٌّ لَكِنَّهَا تَنْحَصِرُ فِي أَجْنَاسٍ مُتَرَتِّبَةٍ)
جواب: (الف) ترجمہ:ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت (رئنمائی) فرما۔ اور اس کا فعل ‘ہدیٰ’ ہے، اس کا اصل یہ ہے کہ یہ صلہ ‘لام’ یا ‘الیٰ’ کے ساتھ متعدی ہوتا ہے، پس اس کے ساتھ وہی معاملہ کیا گیا جو اللہ کے اس قول ‘واختار موسیٰ قومہ’ میں ‘اختار’ کے ساتھ کیا گیا (یعنی صلہ حذف کر دیا گیا)۔ اور اللہ کی ہدایت کی اتنی قسمیں ہیں کہ جنہیں گنتی میں نہیں لایا جا سکتا، مگر وہ چند مرتب شدہ اجناس میں منحصر ہیں۔”
خط کشیدہ کی تشریح: ہدایت کی چار بنیادی اجناس (درجات) ہیں:
  1. ہدایتِ عامہ جو ہر جاندار کو دی گئی (جیسے جبلت)۔
  2. ہدایت جو دلائل اور انبیاء کے ذریعے دی گئی۔
  3. ہدایت جو توفیق اور الہام کے ذریعے ملتی ہے۔
  4. ہدایت جو آخرت میں جنت کی طرف لے جائے گی۔
(ب) اعراب کی وضاحت:
  • المستقیم: یہ ‘الصراط’ کی صفت ہونے کی وجہ سے “منصوب” ہے۔
  • ہدیٰ: فعلِ ماضی، مبنی بر فتحِ مقدر۔
  • اختار: فعلِ ماضی، مبنی بر فتح۔

دوسرا حصہ: اصولِ تفسیر

سوال نمبر 5: (صرف تین اجزاء)
(1) تلاوتِ قرآن کے پانچ آداب:
  1. باوضو ہونا اور قبلہ رو بیٹھنا۔
  2. تلاوت سے پہلے تعوذ (اعوذ باللہ) اور تسمیہ (بسم اللہ) پڑھنا۔
  3. ترتیل (ٹھہر ٹھہر کر) اور خوش الحانی کے ساتھ پڑھنا۔
  4. دورانِ تلاوت آیاتِ رحمت پر سوال اور آیاتِ عذاب پر پناہ مانگنا۔
  5. کلامِ الٰہی کی عظمت کا تصور کر کے تدبر و تفکر کرنا۔
(2) قرآن مجید کی تعریف و قیود:
  • تعریف: قرآن وہ کلام ہے جو اللہ کی طرف سے نبی ﷺ پر معجزانہ طور پر نازل ہوا، جو مصاحف میں لکھا ہوا ہے اور ہم تک تواتر کے ساتھ پہنچا ہے۔
  • فوائد و قیود: “منزل علی الرسول” کی قید سے سابقہ کتب نکل گئیں۔ “معجز” سے احادیثِ قدسیہ نکل گئیں اور “متواتر” سے قراتِ شاذہ نکل گئیں۔
(3) اعتبارِ عمومِ لفظ یا خصوصِ سبب:
  • جمہور کا مؤقف: اصولِ تفسیر کا قاعدہ ہے: “الْعِبْرَةُ بِعُمُومِ اللَّفْظِ لَا بِخُصُوصِ السَّبَبِ” (اعتبار لفظ کے عموم کا ہوتا ہے، نہ کہ اس خاص واقعے کا جس کی وجہ سے آیت نازل ہوئی)۔ یعنی اگر کوئی آیت کسی خاص بندے کے بارے میں نازل ہوئی ہو، مگر اس کے الفاظ عام ہوں، تو وہ حکم قیامت تک سب کے لیے ہوگا۔
(4) چار قراء صحابہ کے نام: نبی ﷺ نے جن چار اشخاص سے قرآن سیکھنے کا حکم دیا وہ یہ ہیں:
  1. حضرت عبداللہ بن مسعودؓ 2. حضرت ابی بن کعبؓ 3. حضرت معاذ بن جبلؓ 4. حضرت سالم مولیٰ ابی حذیفہؓ۔
  • مؤقف: ان چار کے علاوہ دوسروں سے قرآن سیکھنا بالکل جائز ہے، کیونکہ حضور ﷺ کا ان کا نام لینا ان کی مہارت اور امت کی سہولت کے لیے تھا، نہ کہ دوسروں کی نفی کے لیے۔

حل شدہ پرچہ 2023ء: الورقۃ الثالثۃ – الفقہ (ہدایہ اولین)

سوال نمبر 1: ويجوز بيع الطعام في مكيله بغير مكيله من جنسه متفاضلا و بغير جنسه متفاضلا ونسيئة وكذا في موزونه. (الف) عبارت کا ترجمہ کریں۔ (ب) مذکورہ عبارت میں جن دو صورتوں کا ذکر ہے ان کا حکم مع دلیل تحریر کریں۔ (ج) ربا (سود) کی تعریف اور اس کی حرمت کی علت (وجہ) بیان کریں۔
جواب:
(الف) ترجمہ: “اور جائز ہے غلے (کھانے کی چیز) کی بیع اس کے ماپنے والے برتن (مکیل) میں، اسی کی جنس کی کسی ایسی چیز کے بدلے جو ماپ کر نہ بیچی جاتی ہو (غیر مکیل) کمی بیشی کے ساتھ، اور (جائز ہے) غیر جنس کے بدلے کمی بیشی اور ادھار کے ساتھ۔ اور یہی حکم وزن کی جانے والی چیز (موزون) کا بھی ہے۔”
(ب) صورتوں کا حکم اور دلیل:
  1. پہلی صورت (جنس ایک ہو مگر آلہ پیمائش الگ ہو): مثلاً گندم کی بیع گندم کے بدلے، لیکن ایک طرف ماپ (کیل) ہو اور دوسری طرف وزن ہو۔ اگر مقدار برابر ہو تو جائز ہے، کمی بیشی ہو تو ناجائز۔ کیونکہ جنس ایک ہونے سے “ربا” کا شبہ ہوتا ہے۔
  2. دوسری صورت (جنس الگ ہو): مثلاً گندم کی بیع جو (Barley) کے بدلے۔ یہاں کمی بیشی (تفاضل) بھی جائز ہے اور ادھار (نسیئہ) بھی۔ کیونکہ جب جنس بدل گئی تو برابری کی شرط ختم ہو گئی۔
(ج) ربا کی تعریف اور علت:
  • تعریف: عقدِ بیع میں ایسی زیادتی جو عوض (بدلے) سے خالی ہو اور وہ زیادتی کسی ایک فریق کے لیے مشروط ہو۔
  • حرمت کی علت (وجہ): احناف کے نزدیک سود کی حرمت کی علت دو چیزیں ہیں: (1) قدر (یعنی ناپ یا تول میں آنا) اور (2) جنس کا ایک ہونا۔ جہاں یہ دونوں پائے جائیں گے وہاں کمی بیشی حرام ہوگی۔

سوال نمبر 2: ولا يجوز بيع السمك قبل أن يصطاد لأنه بيع ما ليس عنده ولا بيع ما صيد ثم ألقى في حظيرة لا يستطيع أخذه إلا بصيد. (الف) عبارت کا اعراب لگا کر ترجمہ کریں۔ (ب) مچھلی کی بیع کی مختلف صورتیں اور ان کا شرعی حکم بیان کریں۔ (ج) بیعِ معدوم کی تعریف اور اس کا حکم مع مثال لکھیں۔
جواب:
(الف) اعراب و ترجمہ:
  • اعراب: وَلَا يَجُوزُ بَيْعُ السَّمَكِ قَبْلَ أَنْ يُصْطَادَ لِأَنَّهُ بَيْعُ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ، وَلَا بَيْعُ مَا صِيدَ ثُمَّ أُلْقِيَ فِى حَظِيرَةٍ لَا يَسْتَطِيعُ أَخْذَهُ إِلَّا بِصَيْدٍ۔
  • ترجمہ: “اور مچھلی کی بیع پکڑنے سے پہلے جائز نہیں ہے، کیونکہ یہ اس چیز کی بیع ہے جو اس کے پاس (ملکیت و قبضے میں) نہیں ہے۔ اور نہ ہی اس مچھلی کی بیع جائز ہے جسے پکڑ کر ایسے بڑے تالاب میں ڈال دیا گیا ہو جہاں سے بغیر شکار (دوبارہ محنت) کے پکڑنا ممکن نہ ہو۔”
(ب) مچھلی کی بیع کی صورتیں:
  1. دریا یا کھلے پانی میں: بیع باطل ہے (قبضہ نہ ہونے کی وجہ سے)۔
  2. بڑے تالاب میں (جہاں پکڑنے کے لیے جال چاہیے): بیع ناجائز/فاسد ہے (کیونکہ مبیع کی سپردگی پر قدرت نہیں)۔
  3. چھوٹے حوض میں (جہاں ہاتھ سے پکڑی جا سکے): اس کی بیع جائز ہے۔
(ج) بیعِ معدوم:
  • تعریف: ایسی چیز کی بیع کرنا جو عقد کے وقت سرے سے موجود ہی نہ ہو۔
  • حکم: یہ بیع باطل ہے۔
  • مثال: جانور کے پیٹ کے بچے کی بیع کرنا، یا درخت پر ابھی پھل نہ آیا ہو اور اس کی بیع کر دینا۔

سوال نمبر 3: (الف) بیعِ فاسد، بیعِ باطل اور بیعِ مکروہ کی تعریف مع امثلہ تحریر کریں۔ (ب) خیارِ شرط، خیارِ عیب اور خیارِ رؤیت کی تعریف کریں اور بتائیں کہ ان میں سے کون سا خیار وارث کو منتقل ہوتا ہے؟
جواب:
(الف) اقسامِ بیع:
  1. بیعِ باطل: جس کی اصل اور صفت دونوں میں خرابی ہو۔ مثلاً: مردار یا خون کی بیع۔ (حکم: اس سے ملکیت ثابت نہیں ہوتی)۔
  2. بیعِ فاسد: جس کی اصل (ایجاب و قبول) صحیح ہو مگر صفت (کسی شرط) میں خرابی ہو۔ مثلاً: ایسی بیع جس میں قیمت نامعلوم ہو۔ (حکم: قبضے سے ملکیت ثابت ہو جاتی ہے مگر گناہ ہوتا ہے اور اسے ختم کرنا واجب ہے)۔
  3. بیعِ مکروہ: جس میں اصل اور صفت درست ہو مگر کسی بیرونی وجہ سے منع ہو۔ مثلاً: جمعہ کی اذان کے وقت بیع۔
(ب) خیارات:
  1. خیارِ شرط: سودا کرتے وقت واپسی کے لیے چند دن کی مہلت لینا (مثلاً تین دن)۔
  2. خیارِ عیب: چیز میں نقص نکلنے پر واپس کرنے کا حق۔
  3. خیارِ رؤیت: بغیر دیکھی چیز خریدی تو دیکھنے کے بعد پسند نہ آنے پر واپس کرنے کا حق۔
  • انتقالِ خیار: احناف کے نزدیک خیارِ عیب وارث کو منتقل ہوتا ہے، جبکہ خیارِ شرط اور خیارِ رؤیت موت سے ختم ہو جاتے ہیں (کیونکہ یہ متکلم کی خواہش پر مبنی ہیں جو وارث میں منتقل نہیں ہوتی)۔

سوال نمبر 4: الإجارة عقد على المنافع بعوض. (الف) اجارہ کی لغوی و اصطلاحی تعریف کریں اور اس کے ارکان لکھیں۔ (ب) اجارہ کن وجوہات سے فسخ (ختم) ہو جاتا ہے؟ کوئی سی چار وجوہات بیان کریں۔ (ج) کیا مشترک چیز کا اجارہ جائز ہے؟ ائمہ کا اختلاف مع دلائل لکھیں۔
جواب:
(الف) تعریف و ارکان:
  • لغوی تعریف: مزدوری یا بدلہ دینا۔
  • اصطلاحی تعریف: نفع کا بدلے (قیمت) کے ساتھ معاہدہ کرنا۔
  • ارکان: ایجاب و قبول، عاقدین (مالک و کرایہ دار)، اجرت اور نفع (وہ کام جس کے لیے اجارہ ہو رہا ہے)۔
(ب) فسخِ اجارہ کی وجوہات:
  1. معاہدہ کی مدت ختم ہونا: مثلاً مکان ایک سال کے لیے تھا، سال پورا ہو گیا۔
  2. مبیع کا ضائع ہونا: مثلاً جس گھوڑے کو کرائے پر لیا وہ مر گیا۔
  3. عذرِ شرعی: مثلاً کسی نے دکان کرائے پر لی پھر وہ دیوالیہ ہو گیا یا پیشہ چھوڑ دیا۔
  4. عاقدین میں سے کسی کی موت: احناف کے نزدیک کسی ایک کی موت سے اجارہ ختم ہو جاتا ہے۔
(ج) مشترک چیز کا اجارہ:
  • امام ابوحنیفہؒ: مشترک چیز (مثلاً دو بندوں کی مشترک دکان) کا اجارہ غیر شریک کو دینا جائز نہیں۔ کیونکہ نفع تقسیم نہیں ہو سکتا۔
  • صاحبین (امام ابو یوسفؒ و محمدؒ): یہ جائز ہے، کیونکہ جب بیع جائز ہے تو اجارہ بھی جائز ہونا چاہیے۔ (مفتیٰ بہ قول صاحبین کا ہے)۔

حل شدہ پرچہ 2023ء: الورقۃ الرابعۃ – البلاغۃ (مختصر المعانی)

سوال نمبر 1: وَالْمُقَدِّمَةُ مَأْخُوذَةٌ مِنْ مُقَدِّمَةِ الْجَيْشِ لِلْجَمَاعَةِ الْمُتَقَدِّمَةِ مِنْهَا مِنْ قَدِمَ بِمَعْنَى تَقَدَّمَ، يُقَالُ مُقَدِّمَةُ الْعِلْمِ وَمُقَدِّمَةُ الْكِتَابِ، وَلِعَدَمِ فَرْقِ الْبَعْضِ بَيْنَ مُقَدِّمَةِ الْعِلْمِ وَمُقَدِّمَةِ الْكِتَابِ أَشْكَلَ عَلَيْهِمْ أَمْرَانِ احْتَاجُوا فِي التَّفَصِّي عَنْهُمَا إِلَى تَكَلُّفٍ. (الف) عبارت کا ترجمہ کریں۔ (ب) مقدمۃ العلم اور مقدمۃ الکتاب کی تعریف لکھیں اور بتائیں عدمِ فرق سے کون سی دو مشکلات آتی ہیں؟ (ج) فصاحت کی اقسام لکھیں۔
جواب:
(الف) ترجمہ: “اور لفظ ‘مقدمہ’ لشکر کے اس ہراول دستے (مقدمۃ الجیش) سے لیا گیا ہے جو سب سے آگے ہوتا ہے، یہ ‘قَدِمَ’ سے مشتق ہے جس کے معنی ‘آگے ہونا’ کے ہیں۔ کہا جاتا ہے: ‘مقدمۃ العلم’ اور ‘مقدمۃ الکتاب’۔ اور بعض لوگوں کی جانب سے ان دونوں کے درمیان فرق نہ کرنے کی وجہ سے انہیں دو مشکلیں پیش آئیں، جن سے نکلنے کے لیے انہیں بہت تکلف (دقت) کرنا پڑی۔”
(ب) تعریفات اور مشکلات:
  • مقدمۃ العلم: وہ مطالب جن پر اس علم کی بصیرت (سمجھ) موقوف ہو، جیسے علم کی تعریف، موضوع اور غرض۔
  • مقدمۃ الکتاب: وہ کلام جو کتاب کے مقاصد سے پہلے ذکر کیا جائے تاکہ مقاصد سے ایک مناسبت پیدا ہو جائے (جیسے خطبہ)۔
  • دو مشکلات:
    1. اگر دونوں ایک ہی ہیں، تو ‘مقدمہ’ کا لفظ ان مطالب پر کیسے صادق آئے گا جو کتاب کا حصہ نہیں مگر سمجھنے کے لیے ضروری ہیں؟
    2. یہ اعتراض کہ مقدمہ تو مقاصد سے پہلے ہوتا ہے، لیکن کتاب میں یہ مقاصد کے اندر بھی ذکر کر دیا جاتا ہے، تو پھر اسے مقدمہ کیوں کہا جاتا ہے؟
(ج) فصاحت کی اقسام: فصاحت کی تین اقسام ہیں:
  1. فصاحتِ کلمہ (ایک لفظ کا عیب سے پاک ہونا)۔
  2. فصاحتِ کلام (پورے جملے کا فصیح ہونا)۔
  3. فصاحتِ متکلم (بولنے والے کی وہ صفت جس سے وہ اپنے مقصود کو فصیح کلام میں بیان کر سکے)۔

سوال نمبر 2: (الف) مندرجہ ذیل میں سے کوئی سے چار کی تعریفات و امثلہ لکھیں: حال، شاہد، تعقیدِ معنوی، مخالفتِ قیاس، کثرتِ تکرار۔ (ب) شعر: “سَأَطْلُبُ بُعْدَ الدَّارِ عَنْكُمْ لِتَقْرُبُوا… وَتَسْكُبُ عَيْنَايَ الدُّمُوعَ لِتَجْمُدَا” کا ترجمہ کریں اور بتائیں یہ کس کی مثال ہے؟ (ج) بلاغت کی اقسام لکھیں۔
جواب:
(الف) اصطلاحات:
  1. حال: وہ صورتِ حال جو متکلم کو ایک خاص طریقے پر کلام لانے پر مجبور کرے۔ (مثلاً: مخاطب کا منکر ہونا ‘حال’ ہے، تو کلام میں ‘تاکید’ لانا اس کا مقتضیٰ ہے)۔
  2. تعقیدِ معنوی: کلام میں ایسا استعارہ یا کنایہ لانا کہ مراد سمجھنے میں دشواری ہو۔ مثال: اوپر والا شعر۔
  3. مخالفتِ قیاس: کلمہ کا صرفی قواعد کے خلاف ہونا۔ جیسے ‘اجلل’ کو ‘اجلّ’ کی جگہ استعمال کرنا۔
  4. کثرتِ تکرار: کلام میں ایک ہی لفظ یا حرف کا بار بار آنا جو کانوں پر بوجھل ہو۔
(ب) شعر کا ترجمہ اور مثال:
  • ترجمہ:میں آپ سے گھر کی دوری اختیار کروں گا تاکہ آپ قریب ہو جائیں، اور میری آنکھیں آنسو بہائیں گی تاکہ وہ منجمد (خوش) ہو جائیں۔”
  • مثال: یہ تعقیدِ معنوی کی مثال ہے۔ شاعر نے ‘جمودِ عین’ (آنکھوں کا خشک ہونا) سے مراد ‘خوشی’ لی ہے، حالانکہ عربی میں یہ غم کے وقت آنسو نہ نکلنے کے لیے بولا جاتا ہے۔ یہ معنی تک پہنچنا بہت دور کی بات ہے۔
(ج) بلاغت کی اقسام: بلاغت کی دو اقسام ہیں:
  1. بلاغتِ کلام (کلام کا مقتضیٰ حال کے مطابق ہونا)۔
  2. بلاغتِ متکلم (بات کرنے والے کی وہ قوت جس سے وہ مقتضیٰ حال کے مطابق بات کر سکے)۔ (یاد رہے کہ ‘بلاغتِ کلمہ’ نہیں ہوتی کیونکہ بلاغت کے لیے مقتضیٰ حال ضروری ہے جو ایک لفظ میں نہیں پایا جاتا)۔

سوال نمبر 3: (الف) “غَدَائِرُهُ مُسْتَشْزِرَاتٌ إِلَى الْعُلَى” شعر مکمل کریں، ترجمہ کریں اور شاعر کا نام بتائیں۔ (ب) تنافرِ کلمہ کی تعریف کریں اور بتائیں ‘مستشزرات’ میں ثقل (بوجھ) کا منشا کیا ہے؟ (ج) مطول کے مصنف کا نام لکھیں۔
جواب:
(الف) شعر کی تکمیل:

غَدَائِرُهُ مُسْتَشْزِرَاتٌ إِلَى الْعُلَى... تَضِلُّ الْمَدَارَى فِي مُثَنًّى وَمُرْسَلِ

  • ترجمہ: اس کے (گھوڑے یا محبوبہ کے) گیسو اوپر کی طرف چڑھے ہوئے ہیں، ان کے کچھ بال لپٹے ہوئے اور کچھ کھلے ہوئے ہیں جن میں کنگھیاں گم ہو جاتی ہیں۔
  • شاعر: یہ امرؤ القیس کا شعر ہے۔
(ب) تنافرِ کلمہ اور ‘مستشزرات’:
  • تنافرِ کلمہ: کلمہ میں حروف کی ایسی ترتیب کہ اس کا زبان سے ادا کرنا بوجھل اور مشکل ہو۔
  • مستشزرات میں ثقل کا سبب: اس لفظ میں حروف کے مخرج ایک دوسرے کے قریب ہیں اور ‘شین’ (ساکن) کے بعد ‘زے’ کا آنا زبان پر ثقل (بوجھ) پیدا کرتا ہے، جس کی وجہ سے فصاحت ختم ہو جاتی ہے۔
(ج) مطول کے مصنف: کتاب ‘المطول’ (جو تلخیص المفتاح کی شرح ہے) کے مصنف علامہ سعد الدین تفتازانیؒ ہیں۔

سوال نمبر 4: وَيَنْحَصِرُ الْمَقْصُودُ مِنْ عِلْمِ الْمَعَانِي فِي ثَمَانِيَةِ أَبْوَابٍ انْحِصَارَ الْكُلِّ فِي أَجْزَائِهِ لَا الْكُلِّيِّ فِي جُزْئِيَّاتِهِ. (الف) علمِ معانی کی تعریف، موضوع اور غرض بیان کریں۔ (ب) ابواب کے نام لکھیں اور خط کشیدہ کی وضاحت کریں۔ (ج) ‘اما بعد’ کی تشریح مطول کی روشنی میں لکھیں۔
جواب:
(الف) علمِ معانی:
  • تعریف: ایسا علم جس کے ذریعے عربی کلام کے ان احوال کو جانا جائے جن سے کلام مقتضیٰ حال کے مطابق ہو جائے۔
  • موضوع: کلامِ عرب (اس حیثیت سے کہ وہ مقتضیٰ حال کے مطابق ہو)۔
  • غرض: کلام کے اسرار و لطائف کو سمجھنا اور اعجازِ قرآن کا ادراک کرنا۔
(ب) ابواب اور انحصار:
  • آٹھ ابواب: 1. احوالِ اسنادِ خبری، 2. احوالِ مسند الیہ، 3. احوالِ مسند، 4. احوالِ متعلقاتِ فعل، 5. قصر، 6. انشاء، 7. فصل و وصل، 8. ایجاز و اطناب و مساوات۔
  • خط کشیدہ کی وضاحت: علمِ معانی کے مقاصد کا ان آٹھ ابواب میں انحصار “کل کا اجزاء میں انحصار” ہے (جیسے کرسی اپنے پائے اور تختوں کا مجموعہ ہوتی ہے)۔ اس کا مطلب ہے کہ ان آٹھوں ابواب کو ملا کر ہی علمِ معانی مکمل ہوتا ہے، کوئی ایک باب پورے علمِ معانی کو نہیں ظاہر کر سکتا۔
(ج) ‘اما بعد’ کی تشریح: ‘اما’ اصل میں ‘مہما یکن من شیء’ (جو کچھ بھی ہو) کے معنی میں ہے، اور ‘بعد’ سے مراد حمد و صلاۃ کے بعد کا وقت ہے۔ یہ کلام میں ایک مضمون سے دوسرے مضمون کی طرف منتقلی کے لیے استعمال ہوتا ہے جسے “فصل الخطاب” بھی کہا جاتا ہے۔

حل شدہ پرچہ 2023ء: الورقۃ الخامسۃ – الفلسفۃ والمناظرۃ

حصہ اول: الفلسفہ (ہدایۃ الحکمۃ)
سوال نمبر 1: الْهِيُولَى لَا تَتَجَرَّدُ عَنِ الصُّورَةِ۔ (الف) عبارت میں مذکورہ دعویٰ پر دلیل پیش کریں۔ (ب) درج ذیل اصطلاحات کی تعریف تحریر کریں: ہیولیٰ، صورتِ جسمیہ، سطح، جوہر، جزء لایتجزیٰ، حرکت۔
جواب:
(الف) دعویٰ کی دلیل: دعویٰ یہ ہے کہ “ہیولیٰ (مادہ) کبھی بھی صورت (شکل و کیفیت) سے خالی نہیں ہو سکتا”۔
  • دلیل: اگر ہیولیٰ صورت سے خالی ہو، تو وہ یا تو کسی جگہ (مکان) میں ہوگا یا نہیں۔ اگر مکان میں ہے، تو اس کی کوئی خاص شکل (Dimension) ہوگی، اور شکل خود ایک “صورت” ہے۔ اگر مکان میں نہیں ہے، تو اس کا اشارہِ حسی ممکن نہیں ہوگا، اور جس چیز کی طرف اشارہ نہ ہو سکے وہ مادہ نہیں ہو سکتی۔ لہذا ثابت ہوا کہ مادہ (ہیولیٰ) ہمیشہ کسی نہ کسی صورت کے ساتھ جڑا رہتا ہے۔
(ب) اصطلاحات کی تعریفات:
  1. ہیولیٰ: وہ جوہرِ بسیط جو محض استعداد (Potential) ہے اور صورت کو قبول کرنے کے لیے تیار رہتا ہے۔
  2. صورتِ جسمیہ: وہ جوہر جس سے جسم میں لمبائی، چوڑائی اور گہرائی پیدا ہوتی ہے۔
  3. سطح: جسم کی وہ بیرونی حد جو اسے دوسرے اجسام سے جدا کرتی ہے۔
  4. جوہر: وہ موجود جو اپنے وجود میں کسی دوسرے کا محتاج نہ ہو (جیسے مادہ)۔
  5. جزء لایتجزیٰ: وہ باریک ذرہ جس کے مزید ٹکڑے ہونا ممکن نہ ہو (فلاسفہ اس کے قائل نہیں)۔
  6. حرکت: کسی چیز کا قوت سے فعل کی طرف بتدریج نکلنا۔

سوال نمبر 2: فَصْلٌ فِي إِبْطَالِ الَّذِي لَا يَتَجَزَّى۔ (الف) مذکورہ عبارت کی تشریح کریں۔ (ب) مذکورہ دعویٰ پر کوئی ایک دلیل پیش کریں۔ (ج) جسم کے متعلق متکلمین، اشراقیین اور مشائین کا مسلک واضح کریں۔
جواب:
(الف) تشریح: مصنف اس باب میں “جزء لایتجزیٰ” (Atomism) کے نظریے کو باطل ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے نزدیک جسم کو جتنا بھی چھوٹا کر لیا جائے، وہ عقلی یا وہمی طور پر مزید تقسیم ہو سکتا ہے۔
(ب) دلیل: اگر تین ذرات (Parts) ایک لائن میں رکھے جائیں، تو درمیانی ذرہ دونوں کے لیے “حائل” (رکاوٹ) بنے گا۔ اس کا ایک رخ دائیں والے سے ملے گا اور دوسرا بائیں والے سے۔ جب اس کے دو رخ ثابت ہو گئے، تو ثابت ہوا کہ وہ تقسیم ہو سکتا ہے، لہذا وہ “جزء لایتجزیٰ” نہ رہا۔
(ج) جسم کے متعلق مختلف مسالک:
  • متکلمین: جسم ایسے اجزاء کا مجموعہ ہے جو مزید تقسیم نہیں ہو سکتے (جزء لایتجزیٰ کے قائل ہیں)۔
  • مشائین (ارسطو کے پیروکار): جسم ہیولیٰ اور صورت کا مجموعہ ہے اور لامتناہی طور پر تقسیم ہو سکتا ہے۔
  • اشراقیین: جسم محض “مقدارِ جوہری” (Extension) کا نام ہے، اس میں ہیولیٰ کا کوئی وجود نہیں۔

سوال نمبر 3: (الف) عرض کی اقسام بیان کریں اور کسی تین کی تعریفات مع امثلہ سپردِ قلم کریں۔ (ب) حرکت کی اقسامِ اربعہ مع امثلہ تحریر کریں۔
جواب:
(الف) عرض کی اقسام: عرض کی کل 9 اقسام ہیں (جنہیں مقولاتِ عرضیہ کہا جاتا ہے)۔ تین درج ذیل ہیں:
  1. کَیْف (Quality): وہ حالت جو جسم میں تقسیم کا تقاضا نہ کرے، جیسے رنگ (سفیدی) یا ذائقہ (مٹھاس)۔
  2. أَیْن (Place): جسم کی نسبت اس کے مکان کی طرف، جیسے: “زید مدرسے میں ہے”۔
  3. مَتٰی (Time): جسم کی نسبت وقت کی طرف، جیسے: “زید صبح آیا“۔
(ب) حرکت کی چار اقسام (اقسامِ اربعہ):
  1. حرکت فی الکَم (مقدار): جسم کا بڑا یا چھوٹا ہونا، جیسے بچہ بڑھ کر جوان ہو گیا۔
  2. حرکت فی الکَیْف (کیفیت): رنگ یا درجہ حرارت کا بدلنا، جیسے پانی کا گرم سے ٹھنڈا ہونا۔
  3. حرکت فی الأَیْن (مکان): ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا، جیسے چلنا۔
  4. حرکت فی الوضع (حالت): اپنی جگہ پر رہتے ہوئے گھومنا، جیسے لٹو یا پنکھے کی حرکت۔

حصہ دوم: المناظرہ (الرشیدیۃ)
سوال نمبر 4: الْحَمْدُ هُوَ الْوَصْفُ بِالْجَمِيلِ عَلَى الْجَمِيلِ الِاخْتِيَارِيِّ حَقِيقَةً أَوْ حُكْمًا كَصِفَاتِ الْبَارِي تَعَالَى، وَاللَّامُ فِيهِ لِلْجِنْسِ أَوْ لِلِاسْتِغْرَاقِ وَيَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ لِلْعَهْدِ إِشَارَةً إِلَى الْحَمْدِ الْمَحْبُوبِ وَالْمَرْضِيِّ لَهُ تَعَالَى الْمَذْكُورِ فِي قَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ أَضْعَافَ مَا حَمِدَهُ خَلْقُهُ كَمَا يُحِبُّ وَيَرْضَى۔ (الف) عبارت پر اعراب لگا کر ترجمہ کریں۔ (ب) تشریح اس انداز سے کریں کہ شارح کی غرض واضح ہو جائے۔
جواب:
(الف) ترجمہ: “حمد سے مراد کسی کی خوبی بیان کرنا ہے اس کے ایسے اچھے کام پر جو اس نے اپنی مرضی سے کیا ہو، خواہ وہ حقیقت میں اختیاری ہو یا حکماً، جیسے اللہ تعالیٰ کی صفات۔ اور لفظ ‘الحمد’ میں ‘لام’ یا تو جنس کے لیے ہے یا تمام افراد (استغراق) کو شامل کرنے کے لیے، اور یہ بھی احتمال ہے کہ یہ ‘عہد’ کے لیے ہو جس سے مراد وہ پسندیدہ حمد ہو جو اللہ کو محبوب ہے، جیسا کہ نبی ﷺ کے فرمان میں ہے: ‘اللہ کے لیے ایسی حمد ہے جو اس کی مخلوق کی حمد سے کئی گنا زیادہ ہے جیسی وہ پسند کرتا ہے‘۔”
(ب) شارح کی غرض: شارح یہاں حمد کی جامع تعریف بیان کرنا چاہتے ہیں تاکہ مدح اور شکر سے اس کا فرق واضح ہو۔ “اختیاری” کی قید سے یہ واضح کیا کہ حمد صرف ان کاموں پر ہوتی ہے جو شعوری طور پر کیے جائیں (جیسے علم و سخاوت)، نہ کہ قدرتی خوبصورتی پر۔

سوال نمبر 5: (الف) الْمُنَاظَرَةُ تَوَجُّهُ الْمُتَخَاصِمَيْنِ فِي النِّسْبَةِ بَيْنَ الشَّيْئَيْنِ إِظْهَارًا لِلصَّوَابِ۔ عبارت پر اعراب لگا کر ترجمہ کریں۔ (ب) مناظرہ کا لغوی معنی اور تین وجوہِ تسمیہ لکھیں۔ (ج) مجادلہ اور مکابرہ کی تعریف کریں۔
جواب:
(الف) ترجمہ: “مناظرہ سے مراد دو جھگڑا کرنے والوں (بحث کرنے والوں) کا دو چیزوں کے درمیان نسبت (تعلق) کی طرف متوجہ ہونا ہے تاکہ سچائی (صواب) ظاہر ہو جائے۔”
(ب) لغوی معنی و وجوہِ تسمیہ:
  • لغوی معنی: ایک دوسرے کے سامنے ہونا یا غور و فکر کرنا۔
  • وجوہِ تسمیہ:
    1. اس لیے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کی “نظیر” (برابر) ہوتے ہیں۔
    2. اس لیے کہ اس میں “نظر” (بصیرت و فکر) کا استعمال ہوتا ہے۔
    3. اس لیے کہ اس کا مقصد حق کو “منظرِ عام” پر لانا ہے۔
(ج) تعریفات:
  • مجادلہ: بحث میں دوسرے کو خاموش کرنے یا اسے مغلوب کرنے کی کوشش کرنا۔
  • مکابرہ: حق واضح ہو جانے کے باوجود اسے تسلیم نہ کرنا اور ضد پر اڑے رہنا۔

سوال نمبر 6: (الف) معارضہ اور اس کی اقسام کی تعریفات و امثلہ سپردِ قلم کریں۔ (ب) کسی تین کی تعریف لکھیں: تصحیحِ نقل، مدعی، سائل، دعویٰ، دلیل۔
جواب:
(الف) معارضہ: سائل کا اپنی بات ثابت کرنے کے لیے ایسی دلیل لانا جو مستدل (مدعی) کی دلیل کے برابر یا مخالف ہو۔
  • اقسام:
    1. معارضہ فی القلب: مدعی کی دلیل کو خود اس کے خلاف پلٹ دینا۔
    2. معارضہ فی الدلیل: مدعی کی دلیل کے مقابلے میں دوسری دلیل لانا۔
(ب) اصطلاحات:
  1. مدعی: وہ شخص جو کسی دعوے کو ثابت کرنے کی ذمہ داری لیتا ہے۔
  2. سائل: وہ شخص جو مدعی کی بات پر اعتراض کرتا ہے یا دلیل طلب کرتا ہے۔
  3. دلیل: وہ کلام جس سے کسی دعوے کی سچائی ثابت کی جائے۔

حل شدہ پرچہ 2023ء: الورقۃ السادسۃ – الأدب العربي

القسم الأول: ديوان الحماسة

سوال نمبر 1: مندرجہ ذیل میں سے صرف چار اشعار کا سلیس اردو میں ترجمہ کریں اور خط کشیدہ پانچ صیغے مکمل طور پر حل کریں۔ (20 + 10 = 30)
جواب:
(الف) اشعار کا ترجمہ:
  1. وَلَمْ يَبْقَ سِوَى الْعُدْوَانِ دِنَّاهُمْ كَمَا دَانُوا: اور جب دشمنی کے سوا کچھ باقی نہ رہا تو ہم نے بھی ان کے ساتھ ویسا ہی بدلہ (سلوک) کیا جیسا انہوں نے (ہمارے ساتھ) کیا تھا۔
  2. فَدَتْ نَفْسِي وَمَا مَلَكَتْ يَمِينِي فَوَارِسَ صَدَّقَتْ فِيهِمْ ظُنُونِي: میری جان اور میرا سب مال ان شہسواروں پر قربان ہو جائے جنہوں نے ان کے بارے میں میرے گمان (امیدوں) کو سچا کر دکھایا۔
  3. وَلَمْ نَدْرِ إِنْ حِضْنَا مِنَ الْمَوْتِ حِيْضَةً كَمِ الْعُمُرُ بَاقٍ وَالْمَدَى مُتَطَاوِلُ: اور ہم نہیں جانتے کہ اگر ہم موت سے ایک بار بچ بھی گئے تو کتنا عمر باقی ہے اور منزل تو ابھی بہت دور ہے۔
  4. وَمُبَرَّءٍ مِنْ كُلِّ غَيْرِ حِيْضَةٍ وَفَسَادِ مُرْضِعَةٍ وَدَاءٍ مُغِيلٍ: اور وہ (بچہ) ہر اس عیب سے پاک ہے جو حیض کے دوران حمل ٹھہرنے، دودھ پلانے والی کے فساد یا (ماں کے دودھ کے) خطرناک مرض سے پیدا ہوتا ہے۔
(ب) صیغوں کا حل:
  1. يَبْقَ: صیغہ واحد مذکر غائب، فعل مضارع مجزوم بلم، مادہ: ب ق ی (ناقص یائی)، معنی: باقی رہنا۔
  2. دِنَّاهُمْ: صیغہ جمع متکلم، فعل ماضی معروف، مادہ: د ی ن (اجوف یائی)، معنی: ہم نے بدلہ دیا۔
  3. مَلَكَتْ: صیغہ واحد مؤنث غائب، فعل ماضی معروف، مادہ: م ل ک (صحیح)، معنی: وہ مالک ہوئی۔
  4. نَدْرِ: صیغہ جمع متکلم، فعل مضارع مجزوم بلم، مادہ: د ر ی (ناقص یائی)، معنی: ہم جانتے ہیں۔
  5. أَبْتُ: صیغہ واحد متکلم، فعل ماضی معروف، مادہ: ا و ب (اجوف واوی)، معنی: میں لوٹا۔

سوال نمبر 2: مندرجہ ذیل میں سے چار اشعار کا سلیس اردو میں ترجمہ کریں نیز خط کشیدہ شعر پر اعراب لگائیں۔ (20 + 10 = 30)
جواب:
(الف) اشعار کا ترجمہ:
  1. إِذَا مَا ابْتَدَرْنَا مَأْزِقًا فُرِجَتْ لَنَا بِأَيْمَانِنَا بِيْضٌ جَلَتْهَا الصَّيَاقِلُ: جب ہم لڑائی کے تنگ مقام میں ایک دوسرے سے سبقت لے جاتے ہیں، تو ہمارے دائیں ہاتھوں میں موجود وہ چمکدار تلواریں راستہ کھول دیتی ہیں جنہیں صیقل کرنے والوں نے چمکایا ہوتا ہے۔
  2. وَإِنَّا لَقَوْمٌ مَا نَرَى الْقَتْلَ سُبَّةً إِذَا مَا رَأَتْهُ عَامِرٌ وَسَلُولُ: اور بے شک ہم ایسی قوم ہیں جو میدانِ جنگ میں قتل ہونے کو عیب نہیں سمجھتے، جب کہ عامر اور سلول (جیسے بزدل قبائل) اسے عیب سمجھتے ہیں۔
  3. صَفَوْنَا وَلَمْ نَكْدُرْ وَأَخْلَصَ سِرَّنَا إِنَاثٌ أَطَابَتْ حَمْلَنَا فَحُولُ: ہم صاف ستھرے رہے اور کبھی میلے (بدکردار) نہ ہوئے، اور ہمارے حسب و نسب کو ان ماؤں نے پاک رکھا جن کا بوجھ بہادر باپوں نے اٹھایا تھا۔
  4. وَمَا أُخْمِدَتْ نَارٌ لَنَا دُوْنَ طَارِقٍ وَلَا ذَمَّنَا فِي النَّازِلِينَ نَزِيلٌ: ہماری (مہمان نوازی کی) آگ کبھی کسی آنے والے مسافر کے لیے ٹھنڈی نہیں ہوئی، اور ہمارے ہاں ٹھہرنے والے کسی مہمان نے کبھی ہماری برائی نہیں کی۔
(ب) خط کشیدہ شعر پر اعراب:

وَأَيَّامُنَا مَشْهُورَةٌ فِي عَدُوِّنَا، لَهَا غُرَرٌ مَعْلُومَةٌ وَحُجُولُ


القسم الثاني: ديوان المتنبي

سوال نمبر 3: مندرجہ ذیل میں سے صرف تین اشعار کا سلیس اردو میں ترجمہ کریں اور خط کشیدہ میں سے پانچ کے واحد اور جمع لکھیں۔ (15 + 5 = 20)
جواب:
(الف) اشعار کا ترجمہ:
  1. وَإِذَا نَظَرْتَ إِلَى الْجِبَالِ رَأَيْتَهَا فَوْقَ السُّهُولِ عَوَاسِلًا وَقَوَاضِبًا: اور جب تم پہاڑوں کی طرف دیکھو گے تو تم انہیں میدانوں کے اوپر (لہراتے ہوئے) نیزوں اور (چمکتی ہوئی) تلواروں کی طرح پاؤ گے۔
  2. قَدْ عَسْكَرَتْ مَعَهَا الرَّزَايَا عَسْكَرًا وَتَكَتَّبَتْ فِيهَا الرِّجَالُ كَتَائِبًا: یقیناً مصیبتوں نے اس کے ساتھ ایک لشکر تیار کر لیا ہے اور مردوں نے اس میں اپنے دستے ترتیب دے دیے ہیں۔
  3. أَظْمَأَتْنِي الدُّنْيَا فَلَمَّا جِئْتُهَا مُسْتَسْقِيًا مَطَرَتْ عَلَيَّ مَصَائِبَا: دنیا نے مجھے پیاسا رکھا، پھر جب میں اس کے پاس پانی مانگنے (حاجت لے کر) آیا تو اس نے مجھ پر مصیبتوں کی بارش کر دی۔
(ب) واحد اور جمع:
  1. الْجِبَال: واحد: جَبَل
  2. الرَّزَايَا: واحد: رَزِيَّة (مصیبت)
  3. الرِّجَال: واحد: رَجُل
  4. كَتَائِب: واحد: كَتِيْبَة
  5. مَصَائِب: واحد: مُصِيْبَة

سوال نمبر 4: مندرجہ ذیل میں سے صرف تین اشعار کا سلیس اردو میں ترجمہ کریں اور خط کشیدہ الفاظ میں سے پانچ کے معانی لکھیں۔ (15 + 5 = 20)
جواب:
(الف) اشعار کا ترجمہ:
  1. مَنْ لِلسُّيُوفِ بِأَنْ يَكُونَ سَمِيُّهَا فِي أَصْلِهِ وَفِرِنْدِهِ وَوَفَائِهِ: تلواروں کے لیے یہ کہاں ممکن ہے کہ وہ اپنے جوہر، اپنی چمک اور اپنی وفاداری میں اس (ممدوح یعنی سیف الدولہ) جیسی ہو سکیں جس کا وہ نام لیے ہوئے ہیں۔
  2. حُسْنُ الْحَضَارَةِ مَجْلُوبٌ بِتَطْرِيَةٍ وَفِي الْبَدَاوَةِ حُسْنٌ غَيْرُ مَجْلُوبِ: شہری زندگی کا حسن بناؤ سنگھار کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے، جبکہ دیہاتی زندگی (بدوؤں) میں ایسا حسن ہوتا ہے جو بناوٹی نہیں ہوتا۔
  3. أَيْنَ الْمَعِيزُ مِنَ الْأَرَامِ نَاظِرَةً وَغَيْرَ نَاظِرَةٍ فِي الْحُسْنِ وَالطِّيبِ: خوبصورتی اور پاکیزگی میں بکریاں بھلا ان ہرنوں کے برابر کہاں ہو سکتی ہیں جو دیکھنے میں (بھی حسین) ہوں اور نہ دیکھنے میں بھی۔
(ب) الفاظ کے معانی:
  1. السُّيُوف: تلواریں۔
  2. أَصْلِهِ: اس کی بنیاد/جوہر۔
  3. الْحَضَارَة: شہری زندگی/تمدن۔
  4. الْبَدَاوَة: دیہاتی یا صحرائی زندگی۔
  5. الْأَرَام: سفید ہرن۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *