Tanzeem ul Madaris Solved Past Paper 2022 | PDF (طلباء کے لیے)عالمیہ سال اول
پرچہ: علم الکلام (شرح عقائد نسفی)
سطح: عالمیہ سال اول (M.A Part 1)
سوال نمبر 1
(الف) علم کلام کی کوئی چار وجوہ تسمیہ تحریر کریں۔
علم کلام کو “کلام” کہنے کی مشہور وجوہات درج ذیل ہیں:
-
مسئلہ کلام الہی: اس علم میں سب سے زیادہ بحث اللہ تعالیٰ کی صفت “کلام” اور قرآن کریم کے مخلوق ہونے یا نہ ہونے پر کی گئی، اسی شہرت کی وجہ سے اس کا نام علم کلام پڑ گیا۔
-
قوتِ استدلال: جس طرح منطق (Logic) عقل کو زبان عطا کرتی ہے، یہ علم عقائد پر ایسی قدرت فراہم کرتا ہے کہ انسان مخالفین کے سامنے کلام کرنے اور انہیں لاجواب کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔
-
عنوانِ بحث: قدیم علماء جب اس علم کے مسائل لکھتے تھے تو ہر باب کا آغاز “الکلام فی کذا” (اس موضوع پر کلام یہ ہے) سے کرتے تھے، اسی مناسبت سے اسے علم کلام کہا جانے لگا۔
-
مقابلہ منطق: فلسفہ اور منطق کے مقابلے میں مسلمانوں نے جب اپنے عقائد کا دفاع کیا تو یونانی فلسفہ کے اثرات کو ختم کرنے کے لیے اس فن کو “کلام” کا نام دیا گیا تاکہ یہ فلسفہ سے ممتاز رہے۔
(ب) اہل سنت و جماعت اور معتزلہ کیسے وجود میں آئے؟ مکمل پس منظر تحریر کریں۔
-
معتزلہ کا ظہور: معتزلہ کا بانی واضل بن عطا تھا۔ یہ امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کی مجلس میں بیٹھا کرتا تھا۔ ایک بار “مرتکبِ کبیرہ” (بڑے گناہ کرنے والے) کے بارے میں سوال ہوا کہ وہ مومن ہے یا کافر؟ واصل بن عطا نے امام حسن بصری کے جواب سے پہلے ہی کہا کہ وہ “منزلة بین المنزلتین” (یعنی نہ کامل مومن ہے نہ کافر) میں ہے۔ یہ کہہ کر وہ امام کی مجلس سے الگ (اعتزال) ہو کر مسجد کے ایک ستون کے پاس بیٹھ گیا، جہاں سے اس کے گروہ کا نام معتزلہ (الگ ہونے والے) پڑ گیا۔
-
اہل سنت و جماعت کا ظہور: جب معتزلہ، خوارج اور دیگر فرقوں نے عقل کو بنیاد بنا کر اسلامی عقائد میں تحریف شروع کی، تو صحابہ کرام اور سلف صالحین کے نقش قدم پر چلنے والے علماء نے قرآن و سنت کی روشنی میں حقیقی عقائد کا دفاع کیا۔ امام ابو الحسن اشعری اور امام ابو منصور ماتریدی نے ان گمراہ فرقوں کے رد میں دلائل منظم کیے۔ وہ جماعت جو رسول اللہ ﷺ کی سنت اور صحابہ (جماعت) کے طریقے پر قائم رہی، اہل سنت و جماعت کہلائی۔
(ج) عبارت: “قَالَ أَهْلُ الْحَقِّ: حَقَائِقُ الْأَشْيَاءِ ثَابِتَةٌ، وَالْعِلْمُ بِهَا مُتَحَقِّقٌ؛ خِلَافًا لِلسُّوفَسْطَائِيَّةِ.”
-
ترجمہ: اہل حق (علماءِ اسلام) نے فرمایا کہ اشیاء کی حقیقتیں ثابت (برحق) ہیں اور ان کا علم حاصل ہونا یقینی ہے، بخلاف سوفسطائیہ کے (جو اشیاء کی حقیقت کا انکار کرتے ہیں)۔
-
شرح ملخصاً: علامہ تفتازانی فرماتے ہیں کہ کائنات میں موجود تمام اشیاء (جیسے زمین، آسمان، آگ، پانی) اپنی ذات میں حقیقت رکھتی ہیں، یہ کوئی وہم یا خیال نہیں ہیں۔ سوفسطائیہ کا گروہ کہتا ہے کہ دنیا محض ایک خواب یا خیال ہے، جبکہ اہل حق کا موقف ہے کہ یہ اشیاء موجود ہیں اور انسان کے حواسِ خمسہ اور عقل کے ذریعے ان کا درست علم حاصل کرنا ممکن ہے۔
سوال نمبر 2
(الف) عبارت پر اعراب اور ترجمہ
عبارت: “وَسَمَّوْا مَا يُفِيدُ مَعْرِفَةَ الْأَحْكَامِ الْعَمَلِيَّةِ عَنْ أَدِلَّتِهَا التَّفْصِيلِيَّةِ، وَمَعْرِفَةَ أَحْوَالِ الْأَدِلَّةِ إِجْمَالًا فِي إِفَادَتِهَا الْأَحْكَامَ بِأُصُولِ الْفِقْهِ. وَمَعْرِفَةَ الْعَقَائِدِ عَنْ أَدِلَّتِهَا التَّفْصِيلِيَّةِ بِالْكَلَامِ؛ لِأَنَّ عُنْوَانَ مَبَاحِثِهِ كَانَ قَوْلَهُمْ: اَلْكَلَامُ فِي كَذَا وَكَذَا. وَلِأَنَّ مَسْأَلَةَ الْكَلَامِ كَانَتْ أَشْهَرَ مَبَاحِثِهِ وَأَكْثَرَ إِنْزَاعًا وَجِدَالًا، حَتَّى أَنَّ بَعْضَ الْمُتَغَلِّبَةِ قَتَلَ كَثِيرًا مِنْ أَهْلِ الْحَقِّ لِعَدَمِ قَوْلِهِمْ بِخَلْقِ الْقُرْآنِ.”
ترجمہ: اور علماء نے اس علم کا نام “اصولِ فقہ” رکھا جو احکامِ عملیہ کی معرفت ان کے دلائلِ تفصیلیہ سے حاصل کرنے کا فائدہ دے، اور (جس میں) ادلہ کے احوال کی اجمالی معرفت ہو کہ وہ کس طرح احکام کا فائدہ دیتے ہیں۔ اور عقائد کی معرفت ان کے دلائلِ تفصیلیہ سے حاصل کرنے کا نام “کلام” رکھا۔ کیونکہ اس کے مباحث کا عنوان ان کا یہ قول ہوتا تھا: “کلام اس مسئلے میں اور اس مسئلے میں”۔ اور اس لیے بھی کہ “کلام” کا مسئلہ اس علم کا سب سے مشہور، سب سے زیادہ نزاعی اور بحث والا مسئلہ تھا، یہاں تک کہ بعض حکمرانوں نے بہت سے اہل حق کو صرف اس وجہ سے قتل کر دیا کہ وہ قرآن کے مخلوق ہونے کے قائل نہ تھے۔
(ب) خط کشیدہ الفاظ کے صیغے اور اسماء کا اعراب
-
سَمَّوْا: فعل ماضی، صیغہ جمع مذکر غائب، باب تفعیل سے۔ اس کا اعراب مبنی بر فتح (مقدرہ) ہے۔
-
أَدِلَّتِهَا: اسم (جمع تکسیر)، “عن” حرف جار کی وجہ سے حالتِ جری میں ہے، اسی لیے “تا” پر زیر ہے۔ “ہَا” ضمیر مضاف الیہ ہے۔
-
أَشْهَرَ: اسم تفضیل، “کانت” کی خبر ہونے کی وجہ سے حالتِ نصبی میں ہے (اس پر فتحہ ہے)۔
-
الْمُتَغَلِّبَةِ: اسم فاعل (مؤنث لفظاً)، مضاف الیہ ہونے کی وجہ سے حالتِ جری میں ہے (آخر میں کسرہ ہے)۔
سوال نمبر 3: (الف) اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات قدیم ہیں، شرح عقائد کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔
جواب: امام نسفی اور علامہ تفتازانی کے مطابق اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی تمام صفات (چاہے وہ صفاتِ ذات ہوں جیسے علم و قدرت، یا صفاتِ فعل جیسے تخلیق کرنا) قدیم ہیں۔ “قدیم” سے مراد وہ ہستی ہے جس کی ابتدا نہ ہو اور جو ہمیشہ سے ہو۔ اہل سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ اللہ کی صفات نہ تو عینِ ذات ہیں (کہ الگ نہ سمجھی جا سکیں) اور نہ ہی غیرِ ذات (کہ ذات سے جدا ہو سکیں)، بلکہ یہ ذاتِ باری تعالیٰ کے ساتھ ازل سے قائم ہیں۔ اگر صفات کو حادث (نیا) مانا جائے تو (معاذ اللہ) اللہ کی ذات محلِ حوادث بن جائے گی، جو کہ نقص ہے اور اللہ کی ذات ہر نقص سے پاک ہے۔
سوال نمبر 3: (ب) کوئی سے پانچ صفاتِ ازلیہ کی وضاحت کریں۔
جواب: شرح عقائد کی روشنی میں پانچ اہم صفاتِ ازلیہ درج ذیل ہیں:
-
العلم: اللہ تعالیٰ اپنی اس صفت سے تمام موجودات، معدومات، کلیات اور جزئیات کا ازل سے علم رکھتا ہے۔ اس سے کوئی ذرہ پوشیدہ نہیں۔
-
القدرة: یہ وہ صفت ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ ہر ممکن چیز کو پیدا کرنے یا فنا کرنے پر قادر ہے۔
-
الحیاة: اللہ تعالیٰ زندہ ہے، اور اس کی زندگی ہماری طرح روح یا جسم کی محتاج نہیں، بلکہ یہ وہ صفت ہے جو علم اور قدرت کی صحت کے لیے شرط ہے۔
-
الارادة: اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے اپنی مرضی اور ارادے سے کرتا ہے۔ کائنات میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اللہ کے ارادے کے تابع ہے۔
-
التکوین: ماتریدیہ کے نزدیک یہ ایک مستقل صفتِ ازلیہ ہے، جس کا معنی ہے “پیدا کرنا”۔ کائنات کی ہر چیز اسی صفتِ تکوین کے ذریعے وجود میں آئی ہے۔
سوال نمبر 4: (الف) اللہ تعالی خالقِ افعال ہے، اہل سنت و جماعت اور معتزلہ کے مذاہب سے دلائل تحریر کریں۔
جواب: اہل سنت و جماعت کا موقف: انسان کے تمام افعال کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ بندہ صرف ان افعال کا “کاسب” (اختیار کرنے والا) ہے۔ اللہ فرماتا ہے: “وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ” (اور اللہ نے تمہیں اور تمہارے کاموں کو پیدا کیا)۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ اگر بندہ اپنے فعل کا خالق ہوتا تو اسے اپنے فعل کی تمام تفصیلات کا علم ہوتا، جبکہ ایسا نہیں ہے۔ معتزلہ کا موقف: معتزلہ کہتے ہیں کہ بندہ اپنے افعال کا خود خالق ہے، تاکہ جزا اور سزا کا عدل قائم رہے۔ ان کے نزدیک اگر اللہ برائی پیدا کرے تو وہ (معاذ اللہ) ظالم کہلائے گا۔ اہل سنت اس کا رد یہ کرتے ہیں کہ برائی کو “پیدا کرنا” عیب نہیں بلکہ برائی کا “ارتکاب کرنا” عیب ہے۔
سوال نمبر 4: (ب) “ماهو الأصلح للعبد فليس ذلك بواجب على الله تعالى” عقیدہ مذکورہ کی کتاب کی روشنی میں وضاحت کریں۔
جواب: اس عبارت کا مطلب ہے کہ “بندے کے حق میں جو سب سے بہتر (اصلح) ہو، وہ اللہ پر واجب نہیں ہے”۔ معتزلہ کا کہنا تھا کہ اللہ پر واجب ہے کہ وہ بندے کے لیے وہی کرے جو اس کے لیے بہترین ہو، ورنہ یہ بخل یا جہل ہوگا۔ شرح عقائد کا موقف: اللہ تعالیٰ کسی کا پابند یا مجبور نہیں ہے۔ وہ مالکِ حقیقی ہے۔ اگر اللہ پر اصلح واجب ہوتا تو وہ کافر کو پیدا ہی نہ کرتا کیونکہ کفر اس کے لیے بدترین ہے، یا کسی بچے کو تکلیف میں مبتلا نہ کرتا۔ اللہ جو کچھ کرتا ہے اپنے فضل اور حکمت سے کرتا ہے، وجوب کے تحت نہیں۔
حل شدہ پرچہ: علم الفرائض (سراجی)
امتحان: عالمیہ سال اول (تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان)
سوال نمبر 1
(الف) عبارت: “قَالَ عُلَمَاؤُنَا رَحِمَهُمُ اللَّهُ تَعَالَى تَتَعَلَّقُ بِتَرِكَةِ الْمَيِّتِ حُقُوقٌ أَرْبَعَةٌ مُرَتَّبَةٌ…” پر اعراب لگا کر ترجمہ کریں۔
جواب (اعراب): قَالَ عُلَمَاؤُنَا رَحِمَهُمُ اللَّهُ تَعَالَى: تَتَعَلَّقُ بِتَرِكَةِ الْمَيِّتِ حُقُوقٌ أَرْبَعَةٌ مُرَتَّبَةٌ: اَلْأَوَّلُ يُبْدَأُ بِتَكْفِينِهِ وَتَجْهِيزِهِ مِنْ غَيْرِ تَبْذِيرٍ وَلَا تَقْتِيرٍ، ثُمَّ تُقْضَى دُيُونُهُ مِنْ جَمِيعِ مَا بَقِيَ مِنْ مَالِهِ، ثُمَّ تُنْفَذُ وَصَايَاهُ مِنْ ثُلُثِ مَا بَقِيَ بَعْدَ الدَّيْنِ، ثُمَّ يُقْسَمُ الْبَاقِي بَيْنَ وَرَثَتِهِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ وَإِجْمَاعِ الْأُمَّةِ.
ترجمہ: ہمارے علماء (رحمہم اللہ) نے فرمایا: میت کے ترکہ (چھوڑے ہوئے مال) کے ساتھ چار حقوق بالترتیب متعلق ہوتے ہیں: پہلا یہ کہ اس کی تکفین و تجہیز (کفن دفن) سے آغاز کیا جائے گا بغیر فضول خرچی اور بغیر تنگی کے، پھر اس کے تمام باقی مال سے اس کے قرضے ادا کیے جائیں گے، پھر قرض کے بعد بچنے والے مال کے ایک تہائی (1/3) سے اس کی وصیتیں پوری کی جائیں گی، پھر جو باقی بچ جائے اسے کتاب اللہ، سنتِ رسول اور اجماعِ امت کی روشنی میں وارثوں میں تقسیم کیا جائے گا۔
(ب) وصیت پر مختصر اور جامع نوٹ تحریر کریں جس سے شرعی حکم واضح ہو۔
جواب: وصیت لغت میں “جوڑنے” کو کہتے ہیں اور شرعاً مرنے کے بعد اپنے مال میں کسی کو تصرف کا حق دینا ہے۔
-
شرعی حیثیت: وصیت کرنا مستحب ہے، لیکن اگر میت پر اللہ کے حقوق (زکوٰۃ، حج) یا بندوں کے حقوق (امانتیں) ہوں تو وصیت کرنا واجب ہے۔
-
مقدار: وصیت صرف ایک تہائی (1/3) مال میں نافذ ہوتی ہے۔ اس سے زیادہ میں وارثوں کی رضامندی شرط ہے۔
-
اہلیت: وصیت کسی وارث کے لیے جائز نہیں (لا وصیة لوارث)، اور نہ ہی کسی ناجائز کام کے لیے وصیت کی جا سکتی ہے۔
سوال نمبر 2
(الف) پوتی کے پانچ احوال تحریر کریں۔
جواب: پوتی (بنت الابن) کے پانچ احوال درج ذیل ہیں:
-
نصف (1/2): اگر ایک ہو اور میت کی اپنی اولاد (بیٹا/بیٹی) موجود نہ ہو۔
-
ثلاثان (2/3): اگر دو یا دو سے زیادہ ہوں اور میت کی اپنی اولاد نہ ہو۔
-
سدس (1/6): اگر میت کی ایک بیٹی موجود ہو، تو پوتی کو “تکملہ للثلثین” (دو تہائی پورا کرنے) کے لیے چھٹا حصہ ملے گا۔
-
عصبہ: اگر پوتی کے ساتھ اس کا بھائی (پوتا) موجود ہو، تو وہ اسے عصبہ بنا دے گا (مرد کو دو حصے، عورت کو ایک)۔
-
حجب (محرومی): اگر میت کا بیٹا موجود ہو، یا میت کی دو بیٹیاں موجود ہوں (بشرطیکہ پوتا موجود نہ ہو)، تو پوتی محروم ہو جائے گی۔
(ب) علاتی بہن (باپ شریک بہن) کے پانچ احوال تحریر کریں۔
جواب:
-
نصف (1/2): اگر ایک ہو اور سگا بھائی بہن، یا اولاد و والد نہ ہو۔
-
ثلاثان (2/3): اگر دو یا دو سے زیادہ ہوں (باقی شرائط وہی ہیں)۔
-
سدس (1/6): اگر ایک سگی بہن موجود ہو تو علاتی بہن کو چھٹا حصہ ملے گا۔
-
عصبہ: اگر علاتی بھائی موجود ہو، تو وہ اسے عصبہ بالغیر بنا دے گا۔
-
حجب: سگا بھائی، دو سگی بہنیں، باپ، یا میت کا بیٹا موجود ہو تو علاتی بہن محروم ہو جائے گی۔
(ج) شوہر اور اخیافی اولاد (ماں شریک بہن بھائی) کے احوال تحریر کریں۔
جواب:
-
شوہر کے دو حال ہیں: (1) اولاد نہ ہو تو آدھا (1/2)۔ (2) اولاد ہو تو چوتھائی (1/4)۔
-
اخیافی اولاد کے تین حال ہیں: (1) ایک ہو تو چھٹا حصہ (1/6)۔ (2) دو یا زیادہ ہوں تو تہائی (1/3) میں سب برابر کے شریک ہوں گے۔ (3) اگر میت کی اولاد یا باپ دادا موجود ہوں تو یہ محروم ہو جائیں گے۔
سوال نمبر 3
(الف) عصبہ اور اس کی اقسام کی تفصیلی وضاحت کریں۔
جواب: عصبہ وہ وارث ہے جس کا حصہ قرآن میں مقرر نہیں، بلکہ ذوی الفروض سے بچا ہوا مال اسے ملتا ہے۔
-
عصبہ بنفسہ: وہ تمام مرد جن کے رشتے میں عورت کا واسطہ نہ ہو (مثلاً بیٹا، پوتا، باپ، دادا، سگا بھائی)۔
-
عصبہ بغیرہ: وہ عورتیں جو اپنے بھائی کے ساتھ ہونے کی وجہ سے عصبہ بنیں (مثلاً بیٹی بیٹے کے ساتھ، سگی بہن بھائی کے ساتھ)۔
-
عصبہ مع غیرہ: وہ بہنیں جو بیٹیوں یا پوتیوں کے ساتھ مل کر عصبہ بن جائیں۔
(ب) عول پر مفصل نوٹ لکھیں۔
جواب: عول کا لغوی معنی “زیادہ ہونا” ہے۔ اصطلاحِ فرائض میں جب ذوی الفروض کے حصوں کا مجموعہ مخرج (اصلی مسئلے) سے بڑھ جائے، تو مخرج کو بڑھا دیا جاتا ہے تاکہ سب کے حصوں میں متناسب کمی ہو جائے۔ اسے “عول” کہتے ہیں۔ مثلاً اگر مسئلہ 6 سے ہو اور حصے 7 بن جائیں، تو مخرج 7 مانا جائے گا۔
سوال نمبر 4: مسائل کا حل (لازمی)
(1) ابوین (ماں باپ) اور 10 بیٹیاں:
-
ماں: 1/6، باپ: 1/6، 10 بیٹیاں: 2/3۔ (مخرج: 6، ماں 1، باپ 1، بیٹیاں 4)۔
(2) شوہر (زوج) اور 5 سگی بہنیں:
-
شوہر: 1/2 (3 حصے)، 5 بہنیں: 2/3 (4 حصے)۔ مخرج 6 سے عول ہو کر 7 ہو جائے گا۔
(3) 4 بیویاں، 18 بیٹیاں، 15 دادیاں/نانیاں، 6 چچا:
-
بیویاں: 1/8، بیٹیاں: 2/3، دادیاں: 1/6، چچا: عصبہ۔ مخرج 24 سے بنے گا۔ (بیویاں 3، بیٹیاں 16، دادیاں 4، چچا 1 حصہ)۔
(4) بیوی، 4 دادیاں، 6 اخیافی بہنیں:
-
بیوی: 1/4 (3 حصے)، دادیاں: 1/6 (2 حصے)، اخیافی بہنیں: 1/3 (4 حصے)۔ (مخرج 12، باقی 3 حصے دوبارہ رد ہوں گے)۔
(5) شوہر، سگی بہن، علاتی بہن، ماں:
-
شوہر: 1/2 (3)، سگی بہن: 1/2 (3)، علاتی بہن: 1/6 (1)، ماں: 1/6 (1)۔ مخرج 6 سے عول ہو کر 8 ہو جائے گا۔
الورقة الثالثة: الفقه وأصوله
امتحان: عالمیہ سال اول (تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان)
حصه اول: فقه (ہدایہ)
سوال نمبر 1: وَإِذَا عَلِمَ الشَّفِيعُ بِالْبَيْعِ أَشْهَدَ فِي مَجْلِسِهِ ذَلِكَ عَلَى الْمُطَالَبَةِ
(الف) شفعہ کا لغوی اور شرعی معنی، نیز احناف اور شوافع کے نزدیک مستحقِ شفعہ:
-
لغوی معنی: شفعہ کا لغوی معنی “ملانا” یا “جفت کرنا” ہے (الضَّمُّ)۔
-
شرعی معنی: بیچی گئی زمین یا جائیداد کو اس قیمت پر حاصل کرنے کا حق جو خریدار نے ادا کی ہے، تاکہ پڑوس یا شرکت کی وجہ سے ہونے والے نقصان سے بچا جا سکے۔
-
مستحقِ شفعہ (احناف): احناف کے نزدیک تین لوگ ترتیب وار حقِ شفعہ رکھتے ہیں: (1) شریکِ نفسِ جائیداد (خلیط فی نفس المبیع)۔ (2) شریکِ حقوقِ جائیداد جیسے راستہ یا پانی (خلیط فی حق المبیع)۔ (3) پڑوسی (جارِ ملاصق)۔
-
مستحقِ شفعہ (شوافع): امام شافعی کے نزدیک شفعہ صرف اس شریک کے لیے ہے جس کی زمین ابھی تقسیم نہ ہوئی ہو (شریکِ مشاع)۔ ان کے ہاں پڑوسی اور حقوق کے شریک کے لیے شفعہ نہیں ہے۔
(ب) طلبِ شفعہ کی اقسام اور ان کا حکم: طلبِ شفعہ کی تین اقسام ہیں:
-
طلبِ مواثبت: جیسے ہی شفیع کو فروخت کا علم ہو، وہ اسی مجلس میں فوراً مطالبہ کرے۔ یہ واجب ہے، تاخیر سے حق ختم ہو سکتا ہے۔
-
طلبِ اشہاد (طلبِ تقریر): گواہ بنا کر مطالبہ کرنا۔ یعنی بائع، مشتری یا زمین کے پاس جا کر گواہوں کی موجودگی میں کہے کہ “میں نے طلبِ مواثبت کر لی تھی اب بھی مطالبہ کر رہا ہوں”۔
-
طلبِ خصومت (طلبِ تملیک): قاضی (عدالت) میں دعویٰ دائر کرنا تاکہ عدالت فیصلہ کر کے زمین اسے دلا دے۔
سوال نمبر 2: وَلَا بَأْسَ بِغُرَابِ الزَّرْعِ لِأَنَّهُ يَأْكُلُ الْحَبَّ وَلَا يَأْكُلُ الْجِيَفَ…
(الف) عبارت کی تشکیل اور ترجمہ:
-
ترجمہ: اور کھیتی والے کوے (پہاڑی کوے) کے کھانے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ وہ اناج کھاتا ہے، مردار نہیں کھاتا، اور وہ شکاری پرندوں میں سے نہیں ہے۔ اور وہ ابقع (چتکبرا کوا) نہیں کھایا جائے گا جو مردار کھاتا ہے، اور ایسے ہی غداف (بڑا کوا) بھی۔ امام ابوحنیفہ نے فرمایا: “عقعق” (نیل کنٹھ یا میگ پائی) کے کھانے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ وہ (حلال و حرام) خلط ملط کرتا ہے تو وہ مرغی کے مشابہ ہو گیا۔
(ب) جانور کے حلال اور حرام ہونے کا ضابطہ:
-
پرندوں میں: ہر وہ پرندہ جو “ذو مخلب” (پنجے سے شکار کرنے والا) ہو، وہ حرام ہے (مثلاً عقاب، باز)۔
-
درندوں میں: ہر وہ درندہ جو “ذو ناب” (کچلی کے دانت سے چیر پھاڑ کرنے والا) ہو، وہ حرام ہے (مثلاً شیر، کتا)۔
-
عام قاعدہ: جو جانور طیبات (پاکیزہ اشیاء) کھائیں وہ حلال ہیں اور جو خبائث (گندگی اور مردار) کھائیں وہ حرام یا مکروہ ہیں۔
(ج) غراب (کوے) کی اقسام مع احکام و ادلہ:
-
غرابِ زرع (کھیتی والا کوا): یہ صرف اناج کھاتا ہے، یہ حلال ہے۔
-
ابقع (چتکبرا): یہ کالا اور سفید ہوتا ہے اور مردار کھاتا ہے، یہ احناف کے نزدیک حرام/مکروہِ تحریمی ہے۔
-
غداف (بڑا کوا): یہ بھی مردار خور ہے، اس لیے حرام ہے۔
-
عقعق: یہ دانہ اور مردار دونوں کھاتا ہے، امام صاحب کے نزدیک حلال (مرغی کی طرح) اور صاحبین کے نزدیک مکروہ ہے۔
قسم ثانی: اصولِ فقہ (توضیح و تلویح)
سوال نمبر 4: (وَعَلَى أَفْضَلِ رُسُلِهِ مُصَلِّيًا) لَمَّا كَانَ أَجَلُّ النِّعَمِ الْوَاصِلَةِ إِلَى الْعَبْدِ هُوَ دِينُ الْإِسْلَامِ…
(الف) عبارت کی تشکیل اور ترجمہ:
-
ترجمہ: (اور ان کے بہترین رسولوں پر درود بھیجتے ہوئے)۔ چونکہ بندے تک پہنچنے والی نعمتوں میں سب سے عظیم نعمت دینِ اسلام ہے، اور اسی کے ذریعے دارِ سلام (جنت) کی دائمی نعمتوں تک پہنچنا ممکن ہے، اور یہ (دین) نبی ﷺ کے واسطے سے حاصل ہوا، اس لیے اللہ کی ثناء کے بعد دعا (درود) لائی گئی، پس حمد کے پیچھے صلاۃ (درود) کو ذکر کیا۔
(ب) مصنف نے نبی ﷺ کے اسمِ مبارک کی تصریح کیوں نہ کی؟ (دو جواب):
-
تعظیم کی وجہ سے: صفت “افضل الرسل” ذکر کرنا آپ ﷺ کی شان کو زیادہ واضح کرتا ہے کہ آپ تمام رسولوں میں سب سے افضل ہیں، جو کہ محض نام لینے سے زیادہ بلیغ ہے۔
-
تعریفِ عہدِ ذہنی: چونکہ مسلمانوں کے نزدیک “افضل الرسل” سے مراد متعین طور پر حضور ﷺ ہی ہیں، اس لیے نام لینے کی ضرورت نہیں رہی، ذہن خود بخود آپ ﷺ کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔
سوال نمبر 5: اَلْكِتَابُ مُرَتَّبٌ عَلَى مُقَدِّمَةٍ وَقِسْمَيْنِ لِأَنَّ الْمَذْكُورَ فِيهِ إِمَّا مِنْ مَقَاصِدِ الْفَنِّ أَوْ لَا…
(الف) با محاورہ ترجمہ: یہ کتاب ایک مقدمہ اور دو حصوں پر مرتب کی گئی ہے، کیونکہ اس میں جو کچھ ذکر کیا گیا ہے وہ یا تو اس فن کے مقاصد میں سے ہے یا نہیں۔ اگر نہیں، تو وہ “مقدمہ” ہے، اور اگر مقاصد میں سے ہے تو یا تو اس میں “ادلہ” (دلیلوں) سے بحث ہوگی اور وہ “پہلا حصہ” ہے، یا “احکام” سے بحث ہوگی اور وہ “دوسرا حصہ” ہے۔
(ب) تعریفِ حقیقی اور تعرِیفِ اسمی کی وضاحت:
-
تعریفِ حقیقی: وہ تعریف جو کسی چیز کی حقیقت اور ماہیت کو بیان کرے (جیسے انسان کی تعریف “حیوانِ ناطق” سے کرنا)۔
-
تعریفِ اسمی: وہ تعریف جو صرف لفظ کے معنی یا اس کے استعمال کو واضح کرے، چاہے وہ حقیقتِ اشیاء تک نہ پہنچے (جیسے لغت میں کسی لفظ کا معنی بتانا)۔
(ج) توضیح کس کتاب کی شرح ہے؟ متن اور ماتن کا نام:
-
توضیح: یہ کتاب “تنقیح الاصول” کی شرح ہے۔
-
متن: تنقیح الاصول۔
-
ماتن اور شارح (دونوں): صدر الشریعہ عبید اللہ بن مسعود البخاری (رحمہ اللہ)۔
سوال نمبر 6: نَقَلَ لِلْمُضَافِ تَعْرِيفَيْنِ، مَقْبُولًا وَمُزَيَّفًا…
(الف) عبارت کی تشکیل اور ترجمہ: اس نے (یعنی صدر الشریعہ نے) “مضاف” (فقہ کی تعریف کے پہلے جز) کی دو تعریفیں نقل کیں، ایک مقبول اور دوسری مردود (مزئیف)، اور “مضاف الیہ” (لفظِ فقہ) کی بھی دو تعریفیں نقل کیں، جن میں سے ایک کے غلط ہونے کی تصریح کی دوسرے کی نہیں، پھر اپنی طرف سے ایک تیسری تعریف ذکر کی۔
(ب) فقہ کی تینوں تعریفیں:
-
امام ابوحنیفہ کی تعریف: “مَعْرِفَةُ النَّفْسِ مَا لَهَا وَمَا عَلَيْهَا” (نفس کا اپنے نفع اور نقصان کی چیزوں کو پہچان لینا)۔
-
فقہاء کی مشہور تعریف: “الْعِلْمُ بِالْأَحْكَامِ الشَّرْعِيَّةِ الْعَمَلِيَّةِ الْمُكْتَسَبُ مِنْ أَدِلَّتِهَا التَّفْصِيلِيَّةِ” (احکامِ شرعیہ عملیہ کا وہ علم جو ان کے تفصیلی دلائل سے حاصل کیا گیا ہو)۔
-
صدر الشریعہ کی مختار تعریف: (جو انہوں نے اپنی طرف سے ذکر کی) وہ علم جو احکام کے نفسِ ثبوت یا ان کے طریقِ ثبوت سے بحث کرے۔
الورقة الرابعة: أصول الحديث وأصول التحقيق
سطح: عالمیہ سال اول (M.A Arabic & Islamic Studies)
القسم الأول: أصول الحديث (حدیث کے بنیادی اصول)
السوال الأول: (الف) حدیث مشہور کی تعریف لکھیں اور بتائیں کہ اسے حدیث مشہور کہنے کی وجہ کیا ہے؟
جواب: * حدیث مشہور کی تعریف: اصطلاحِ محدثین میں حدیثِ مشہور وہ حدیث ہے جس کے راویوں کی تعداد سند کے ہر طبقہ (شروع سے آخر تک) میں کم از کم تین ہو، اور وہ متواتر کی حد (جہاں جھوٹ ناممکن ہو) تک نہ پہنچے۔
-
وجہ تسمیہ: اسے “مشہور” کہنے کی بنیادی وجہ اس کا ظہور اور شہرت ہے۔ چونکہ اس کے روایت کرنے والے ہر دور میں ایک معقول تعداد (تین یا زائد) میں موجود رہے، اس لیے یہ محدثین کے حلقوں میں واضح اور نمایاں رہی۔ اسے “مشہور” اس لیے بھی کہا جاتا ہے کہ یہ کثرتِ طرق (راستوں کی زیادتی) کی وجہ سے غیر معروف نہیں رہتی۔
(ب) فقہاء کے نزدیک حدیث مشہور کی تعریف کیا ہے اور اس کی وجہ تسمیہ کیا ہے؟
جواب: * فقہاء (خصوصاً احناف) کی تعریف: فقہاء کے نزدیک “مشہور” وہ حدیث ہے جو عہدِ صحابہ میں تو “خبرِ واحد” تھی (یعنی اسے ایک یا دو صحابہ نے روایت کیا)، لیکن عہدِ تابعین اور تبع تابعین میں اس کی شہرت اتنی بڑھ گئی کہ اسے روایت کرنے والے جماعت در جماعت ہو گئے۔
-
وجہ تسمیہ: فقہاء کے نزدیک اسے مشہور کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس حدیث کو “تلقی بالقبول” (امت کا اسے متفقہ طور پر قبول کر لینا) حاصل ہو جاتا ہے۔ اسی شہرت کی بنا پر احناف کے نزدیک حدیثِ مشہور سے قرآن کے عام حکم کی تخصیص (زیادتی) بھی جائز ہے۔
(ج) بعض حضرات نے مستفیض اور مشہور میں ایک نسبت بیان کی ہے وہ کیا ہے؟
جواب: محدثین کے ایک گروہ کے نزدیک مشہور اور مستفیض مترادف (ہم معنی) ہیں، مگر محققین کے نزدیک ان میں عموم و خصوص مطلق کی نسبت ہے:
-
ہر مستفیض مشہور ہوتی ہے (کیونکہ اس میں بھی راوی تین یا زائد ہوتے ہیں)۔
-
ہر مشہور مستفیض نہیں ہوتی (کیونکہ مستفیض کے لیے شرط ہے کہ سند کے آغاز اور انجام، دونوں جگہ راویوں کی تعداد برابر ہو، جبکہ مشہور میں یہ شرط نہیں)۔
السوال الثاني: “وكلها أى الأقسام الأربعة المذكورة سوى الأول وهو المتواتر أحاد.”
(الف) ترجمہ کریں اور اقسامِ اربعہ کی وضاحت کریں۔
جواب: * ترجمہ: “اور یہ تمام (اقسام) یعنی مذکورہ چار اقسام سوائے پہلی قسم (متواتر) کے، سب کی سب خبرِ واحد (آحاد) ہیں۔”
-
اقسامِ اربعہ کی تفصیل: حدیث کو راویوں کی تعداد کے اعتبار سے چار درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے:
-
متواتر: جس کے راوی اتنے زیادہ ہوں کہ ان کا جھوٹ پر متفق ہونا عقل تسلیم نہ کرے۔
-
مشہور: جس کے راوی ہر طبقہ میں کم از کم تین ہوں۔
-
عزیز: جس کے راوی کسی بھی طبقہ میں دو سے کم نہ ہوں۔
-
غریب: جس کا راوی سند کے کسی بھی حصے میں صرف ایک رہ جائے۔ (نوٹ: مشہور، عزیز اور غریب کو مجموعی طور پر “آحاد” کہا جاتا ہے کیونکہ یہ متواتر کے درجے سے نیچے ہیں)
-
(ب) خبرِ واحد کی لغوی و اصطلاحی تعریف کریں اور اس کی دو قسموں مقبول و مردود کی وضاحت کریں۔
جواب: * لغوی تعریف: واحد کا معنی ہے ایک، یعنی ایک شخص کی دی ہوئی خبر۔
-
اصطلاحی تعریف: وہ حدیث جو متواتر کی شرائط پر پوری نہ اترتی ہو، اسے خبرِ واحد کہتے ہیں۔
-
خبرِ واحد کی اقسام:
-
مقبول: وہ حدیث ہے جس کے راویوں کی صداقت، حافظہ اور سند کا اتصال ثابت ہو (جیسے صحیح اور حسن)۔ اس پر عمل کرنا واجب ہے۔
-
مردود: وہ حدیث ہے جس میں مقبولیت کی شرائط میں سے کوئی شرط کم ہو (مثلاً راوی کا حافظہ کمزور ہو یا سند ٹوٹی ہوئی ہو)۔ اسے ضعیف کہا جاتا ہے اور یہ عقائد یا احکامِ شرعیہ میں حجت نہیں ہوتی۔
-
القسم الثاني: أصول التحقيق (تحقیق کے اصول)
السوال الرابع: (الف) موضوع کے اعتبار سے تحقیق کی اقسام پر روشنی ڈالیں۔
جواب: تحقیق کو موضوع کے تنوع کے لحاظ سے کئی اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے:
-
علمی تحقیق (Scientific Research): جو مادی اشیاء، تجربات اور مشاہدات پر مبنی ہو۔
-
ادبی و لسانی تحقیق: جس میں زبان کی اصل، الفاظ کے ارتقاء اور ادبی شہ پاروں کی پرکھ کی جائے۔
-
دینی و شرعی تحقیق: قرآن و سنت، فقہی مسائل اور کلامی مباحث میں نئے گوشوں کی تلاش۔
-
تاریخی تحقیق: قدیم آثار، مخطوطات اور ماضی کے واقعات کی صحت کا جائزہ لینا۔
-
سماجی تحقیق: معاشرتی مسائل، انسانی رویوں اور عمرانیات سے متعلق مطالعہ۔
(ب) تقابلی تحقیق کسے کہتے ہیں اور یہ کس اعتبار سے ہوتی ہے؟
جواب: * تعریف: تقابلی تحقیق (Comparative Research) سے مراد دو یا دو سے زیادہ مختلف چیزوں، نظریات، کتابوں یا مذاہب کے درمیان موازنہ کرنا ہے تاکہ ان کے مشترک اور امتیازی پہلو سامنے آسکیں۔
-
اعتبار: یہ عموماً درج ذیل پہلوؤں سے ہوتی ہے:
-
نظریاتی اعتبار سے: مثلاً دو مختلف مکاتبِ فکر (اشاعرہ و ماتریدیہ) کا موازنہ۔
-
زمانی اعتبار سے: قدیم اور جدید نظریات کا ٹکراؤ۔
-
کتابی اعتبار سے: ایک ہی موضوع پر لکھی گئی دو بڑی کتابوں کا علمی تقابل۔
-
السوال الخامس: (الف) لائبریری میں موجود کتب کی اقسام کا مختصر تذکرہ کریں۔
جواب: لائبریری میں کتب عموماً درج ذیل زمروں میں تقسیم ہوتی ہیں:
-
حوالہ جاتی کتب (Reference Books): لغات (Dictionaries)، انسائیکلوپیڈیا اور اشاریے، جنہیں صرف دیکھا جاتا ہے، گھر لے جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔
-
مخطوطات (Manuscripts): وہ نایاب کتابیں جو قلم سے لکھی گئی ہوں اور ابھی طبع نہ ہوئی ہوں۔
-
مطبوعہ کتب: وہ عام کتب جو چھپ چکی ہوں اور مطالعہ کے لیے دستیاب ہوں۔
-
جرائد و رسائل: روزنامہ اخبارات، ہفتہ وار یا ماہانہ علمی رسائل۔
(ب) لائبریری سے کتاب لینے کے کوئی سے چار اصول ذکر کریں۔
جواب: 1. رکنیت (Membership): لائبریری کا باقاعدہ کارڈ یا ممبر شپ ہونا ضروری ہے۔ 2. حفاظت: کتاب کو ہر قسم کے نشانات، فولڈنگ یا پانی وغیرہ سے محفوظ رکھنا۔ 3. وقت کی پابندی: مقررہ مدت کے اندر کتاب واپس کرنا تاکہ دوسرے قارئین محروم نہ رہیں۔ 4. خاموشی و آداب: لائبریری کے اندر خاموشی برقرار رکھنا اور کتاب کو اس کے اصل ریک (Shelf) سے نکالنے کے بعد بدنظمی پیدا نہ کرنا۔
السوال السادس: نامناسب موضوعات میں سے کوئی سے پانچ موضوعات کا مختصر مگر جامع خاکہ ذکر کریں۔
جواب: محقق کے لیے ضروری ہے کہ وہ تحقیق کے لیے ایسے موضوع کا انتخاب نہ کرے جو غیر علمی ہو:
-
انتہائی وسیع موضوع: مثلاً “پوری دنیا کی تاریخ”۔ یہ ایک مقالے کا احاطہ نہیں کر سکتا۔
-
غیر اہم موضوع: جس کے حل ہونے سے علم یا معاشرے کو کوئی فائدہ نہ ہو۔
-
فرقہ وارانہ نفرت پر مبنی موضوع: جو علمی ہونے کے بجائے صرف تعصب کو ہوا دے۔
-
ایسا موضوع جس پر مواد نہ ملے: مثلاً کسی ایسی قدیم قوم کی تاریخ جس کا کوئی تحریری ریکارڈ موجود نہ ہو۔
-
مکرر موضوع (Redundant): جس پر پہلے ہی سینکڑوں محققین مکمل کام کر چکے ہوں اور اب اس میں کچھ نیا کہنے کی گنجائش نہ ہو۔
الورقة الخامسة: الحديث الشريف (شرح معانی الآثار)
امتحان: عالمیہ سال اول (تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان)
سوال نمبر 1
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانُوا قَدْ أَرَادُوا أَنْ يَضْرِبُوا بِالنَّاقُوسِ وَأَنْ يَرْفَعُوا نَارًا لِأَعْلَامِ الصَّلَاةِ حَتَّى رَأَى ذَلِكَ الرَّجُلُ تِلْكَ الرُّؤْيَا فَأُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ.
(الف) حدیث شریف پر اعراب اور اردو ترجمہ:
-
اعراب: (اوپر عبارت میں لگا دیے گئے ہیں)۔
-
ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام نے ارادہ کیا کہ (نماز کی اطلاع کے لیے) ناقوس بجائیں یا آگ روشن کریں، یہاں تک کہ اس شخص (حضرت عبداللہ بن زید) نے وہ خواب دیکھا۔ پس حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ وہ اذان کے کلمات دو دو بار (جفت) کہیں اور اقامت کے کلمات ایک ایک بار (طاق) کہیں۔
(ب) حدیث شریف میں “شفع” اور “وتر” سے کیا مراد ہے؟
-
شفع (جفت): اس سے مراد اذان کے کلمات کو دو دو مرتبہ ادا کرنا ہے، جیسے “اللہ اکبر، اللہ اکبر”۔
-
وتر (طاق): اس سے مراد اقامت کے کلمات کو ایک ایک بار ادا کرنا ہے (بجز قد قامت الصلوۃ کے)۔ یہ امام شافعی کا موقف ہے، جبکہ احناف کے نزدیک اس کی تاویلات مختلف ہیں۔
(ج) اقامت کی کیفیت کے بارے میں اختلافِ ائمہ مع دلائل:
-
امام شافعی و امام مالک: ان کے نزدیک اقامت کے کلمات ایک ایک بار (طاق/وتر) ہیں۔ ان کی دلیل یہی حدیثِ انس ہے کہ “وتر الاقامہ”۔
-
امام ابوحنیفہ و ائمہ احناف: احناف کے نزدیک اقامت کے کلمات بھی اذان کی طرح دو دو بار (جفت) ہیں۔
-
دلیل 1: حضرت ابو محذورہ کی حدیث جس میں حضور ﷺ نے انہیں اقامت کے کلمات دو دو بار سکھائے۔
-
دلیل 2: حضرت بلال کو “وتر” کا حکم تنگیِ وقت یا ابتدا میں تھا، بعد میں جفت کا حکم مستحکم ہوا۔
-
نظرِ طحاوی: امام طحاوی فرماتے ہیں کہ “وتر” سے مراد کلمات کو ملا کر پڑھنا ہے (درج کرنا) نہ کہ کلمات کی تعداد کم کرنا۔
-
سوال نمبر 2
(الف) حدیث شریف کی تشکیل (اعراب) اور ترجمہ: عبارت: فَقَالَ أَلْقِهِنَّ عَلَى بِلَالٍ فَإِنَّهُ أَنْدَى صَوْتًا مِنْكَ فَلَمَّا أَذَّنَ بِلَالٌ نَدِمَ عَبْدُ اللَّهِ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ يُقِيمَ.
-
ترجمہ: (آپ ﷺ نے حضرت عبداللہ بن زید سے) فرمایا: یہ کلمات بلال کو سکھا دو کیونکہ وہ تم سے زیادہ بلند اور میٹھی آواز والے ہیں۔ پس جب بلال نے اذان دی تو عبداللہ (اپنے دل میں) کچھ افسردہ ہوئے (کہ خواب میں نے دیکھا اور اذان انہوں نے دی)، تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اقامت کہیں۔
(ب) کیا ایک شخص کا اذان پڑھنا اور دوسرے کا اقامت کہنا جائز ہے؟
-
اختلافِ ائمہ: عام طور پر مستحب یہی ہے کہ جو اذان دے وہی اقامت کہے۔ اگر کوئی دوسرا اقامت کہے تو امام شافعی کے نزدیک جائز ہے لیکن احناف کے نزدیک بلا عذر ایسا کرنا مکروہِ تنزیہی ہے۔
-
نظرِ طحاوی: امام طحاوی اس تعارض کو یوں حل کرتے ہیں کہ اصل حق اذان دینے والے کا ہے، لیکن اگر امام یا صاحبِ خواب (جیسے عبداللہ بن زید) کو دلجوئی کے لیے حکم دیا جائے تو جائز ہے، جیسا کہ حضور ﷺ نے حضرت عبداللہ بن زید کو اقامت کا حکم دے کر ان کی ندامت دور فرمائی۔
سوال نمبر 3
(الف) حدیث کا ترجمہ اور شفق کا معنی:
-
ترجمہ: حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ جب وہ سفر میں جلدی میں ہوتے تو مغرب اور عشاء کو جمع کر لیتے شفق غائب ہونے کے بعد، اور فرماتے کہ رسول اللہ ﷺ بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
-
شفق کا معنی:
-
صاحبین (امام ابو یوسف و محمد): اس سے مراد “سرخی” (حمرہ) ہے جو سورج ڈوبنے کے بعد افق پر ہوتی ہے۔
-
امام ابوحنیفہ: آپ کے نزدیک شفق سے مراد وہ “سفیدی” (بیاض) ہے جو سرخی کے غائب ہونے کے بعد ظاہر ہوتی ہے۔ (مفتی بہ قول سرخی والا ہے)۔
-
(ب) کیا جمع بین الصلاتین جائز ہے؟
-
امام مالک و امام شافعی: ان کے نزدیک سفر یا بارش میں دو نمازوں کو ایک وقت میں جمع کرنا (جمعِ حقیقی) جائز ہے۔
-
احناف کا مؤقف و جواب: احناف کے نزدیک “جمعِ حقیقی” (ایک وقت میں دو نمازیں) سوائے حج (عرفات و مزدلفہ) کے کہیں جائز نہیں۔
-
جوابِ حدیث: احناف فرماتے ہیں کہ حدیث میں مذکور جمع سے مراد “جمعِ صوری” ہے، یعنی مغرب کو اس کے آخری وقت میں پڑھنا اور عشاء کو اس کے اول وقت میں، جس سے دیکھنے والے کو لگتا ہے کہ جمع کی گئی ہیں، حالانکہ ہر نماز اپنے وقت میں ہوتی ہے۔
-
سوال نمبر 4
(الف) حدیث کی تشکیل اور ترجمہ: عبارت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ يُكَبِّرُ ثُمَّ يَقُولُ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ…
-
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ جب نماز شروع فرماتے تو اپنے ہاتھ کندھوں کے برابر اٹھاتے، پھر تکبیر کہتے، پھر کہتے: “اے اللہ! تو پاک ہے اپنی حمد کے ساتھ، تیرا نام برکت والا ہے، تیری شان بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔”
(ب) کیا ثناء کے ساتھ مزید اذکار ملانا جائز ہے؟
-
اختلافِ ائمہ احناف:
-
امام ابوحنیفہ: صرف “سبحانک اللھم…” پڑھنا سنت ہے، کیونکہ حضور ﷺ سے فرض نمازوں میں اسی کی تعلیم منقول ہے۔
-
صاحبین: اگر کوئی اکیلا نماز پڑھ رہا ہو یا نفل ہو تو وہ دیگر منقول دعائیں (جیسے “وجھت وجھی…”) بھی ملا سکتا ہے۔
-
تفصیل: امام طحاوی کے نزدیک اصل ثناء وہی ہے جو حضور ﷺ نے سکھائی، زیادہ اذکار ملانا مقتدی کے لیے بوجھ بن سکتا ہے اس لیے فرائض میں اختصار بہتر ہے۔
-
الورقة السادسة: للمؤطين (موطا امام مالک و موطا امام محمد)
امتحان: عالمیہ سال اول (تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان)
القسم الأول: موطا امام مالک
السوال الأول: مَالِكٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي ضَمْرَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنِ الْعَقِيقَةِ فَقَالَ لَا أُحِبُّ الْعُقُوقَ وَقَالَ مَنْ وُلِدَ لَهُ وَلَدٌ فَأَحَبَّ أَنْ يَنْسُكَ عَنْ وَلَدِهِ فَلْيَفْعَلْ.
(الف) عبارت کی تشکیل (اعراب)، اردو ترجمہ اور “لا احب العقوق” کی وجہ:
-
اعراب: (اوپر عبارت میں لگا دیے گئے ہیں)۔
-
ترجمہ: امام مالک نے زید بن اسلم سے، انہوں نے بنی ضمرہ کے ایک شخص سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے عقیقہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: “میں نافرمانی (عقوق) کو پسند نہیں کرتا” اور فرمایا: “جس کے ہاں بچہ پیدا ہو اور وہ چاہے کہ اس کی طرف سے قربانی (ذبیحہ) کرے تو وہ کر لے۔”
-
وجہ: آپ ﷺ نے “لا احب العقوق” اس لیے فرمایا کیونکہ لفظ “عقیقہ” مادہ “عق” سے نکلا ہے جس کا ایک معنی “نافرمانی کرنا” یا “قطع کرنا” ہے۔ چونکہ اسلام میں اچھے ناموں کو پسند کیا جاتا ہے، اس لیے آپ ﷺ نے اس لفظ کی رعایت سے یہ جملہ ارشاد فرمایا تاکہ یہ واضح ہو کہ اصل مقصود اللہ کی راہ میں جانور ذبح کرنا (نسک) ہے، نہ کہ لفظی معنی کی نحوست۔
(ب) عقیقہ مستحب ہے، سنت یا واجب؟ فقہاء کے اقوال:
-
ائمہ ثلاثہ (مالک، شافعی، احمد): ان کے نزدیک عقیقہ “سنتِ مؤکدہ” ہے۔
-
احناف کا مشہور قول: احناف کے نزدیک عقیقہ نہ واجب ہے نہ سنتِ مؤکدہ، بلکہ یہ “مباح” یا “نفل” (مستحب) ہے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ قربانی کے حکم نے تمام سابقہ ذبیحوں کے وجوب کو منسوخ کر دیا ہے۔
-
اہلِ ظاہر: بعض اہل ظاہر اسے واجب قرار دیتے ہیں۔
السوال الثاني: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ جَاءَتِ الْيَهُودُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَذَكَرُوا لَهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْهُمْ وَامْرَأَةً زَنَيَا…
(الف) عبارت کی تشکیل اور ترجمہ:
-
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ یہودی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ذکر کیا کہ ان میں سے ایک مرد اور عورت نے زنا کیا ہے۔ آپ ﷺ نے ان سے پوچھا: تم تورات میں رجم (سنگسار کرنے) کے بارے میں کیا پاتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم انہیں رسوا کرتے ہیں اور انہیں کوڑے مارے جاتے ہیں۔ تو حضرت عبداللہ بن سلام نے فرمایا: تم نے جھوٹ بولا (تورات میں رجم موجود ہے)۔
(ب) احصان کا معنی اور شرائط:
-
معنی: احصان کا لغوی معنی “قلعہ بند ہونا” یا “محفوظ ہونا” ہے۔ شرعاً اس سے مراد وہ صفت ہے جس کی وجہ سے زانی رجم کا مستحق ہوتا ہے۔
-
شرائط: (1) آزاد ہونا۔ (2) مسلمان ہونا (احناف کے نزدیک)۔ (3) عاقل و بالغ ہونا۔ (4) صحیح نکاح کے بعد صحبت (ہم بستری) ہو چکی ہو۔
(ج) کیا رجم حدِ شرعی ہے؟ دلائل: جی ہاں، رجم ایک قطعی حدِ شرعی ہے جو شادی شدہ زانی کے لیے مقرر ہے۔
-
دلیل 1: حضور ﷺ کا فعل کہ آپ ﷺ نے حضرت ماعز اسلمی اور غامدیہ عورت کو رجم فرمایا۔
-
دلیل 2: حضرت عمر فاروق کا خطبہ جس میں انہوں نے فرمایا کہ قرآن میں آیتِ رجم نازل ہوئی تھی جسے ہم نے پڑھا اور سمجھا، پھر اس کی تلاوت منسوخ ہوئی مگر حکم باقی رہا۔
القسم الثاني: موطا امام محمد
السوال الرابع: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ… صَلِّ الظُّهْرَ إِذَا كَانَ ظِلُّكَ مِثْلَكَ وَالْعَصْرَ إِذَا كَانَ ظِلُّكَ مِثْلَيْكَ…
(الف) عبارت کی تشکیل اور ترجمہ:
-
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ سے (وقتِ نماز کے بارے میں) پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: میں تمہیں بتاتا ہوں؛ ظہر اس وقت پڑھو جب تمہارا سایہ تمہارے قد کے برابر (ایک مثل) ہو جائے، اور عصر اس وقت پڑھو جب تمہارا سایہ تمہارے قد سے دوگنا (دو مثل) ہو جائے، اور مغرب جب سورج ڈوب جائے، اور عشاء تمہارے اور تہائی رات کے درمیان، اور صبح کی نماز “غلس” (اندھیرے) میں پڑھو۔
(ب) عصر کے وقت میں امام ابوحنیفہ اور امام محمد کا اختلاف:
-
امام محمد (اور صاحبین): ان کے نزدیک عصر کا وقت اس وقت شروع ہو جاتا ہے جب اصلی سائے کے علاوہ ہر چیز کا سایہ اس کے ایک مثل (برابر) ہو جائے۔ (یہ ائمہ ثلاثہ کا بھی قول ہے)۔
-
امام ابوحنیفہ: آپ کے نزدیک عصر کا وقت اس وقت شروع ہوتا ہے جب ہر چیز کا سایہ اصلی سائے کے علاوہ اس کے دو مثل (دوگنا) ہو جائے۔
-
دلیلِ ابوحنیفہ: حدیثِ ابوہریرہ (جو اوپر مذکور ہے) اور یہ قاعدہ کہ “یقین سے وقت داخل ہونے تک نماز مؤخر کرنا بہتر ہے”۔
-
السوال الخامس: (الف) حدیث “مالي أنازع القرآن” کا اردو ترجمہ:
-
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک ایسی نماز (جہری) سے فارغ ہوئے جس میں آپ ﷺ نے قراءت فرمائی تھی، تو پوچھا: کیا تم میں سے کسی نے میرے ساتھ قراءت کی ہے؟ ایک شخص نے کہا: جی ہاں یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: “میں بھی یہی کہوں کہ کیا بات ہے کہ مجھ سے قرآن میں جھگڑا کیا جا رہا ہے (یعنی میری قراءت میں خلل پڑ رہا ہے)۔”
(ب) مقتدی کے لیے امام کے پیچھے سورہ فاتحہ کی ممانعت پر مقالہ: احناف کے نزدیک مقتدی پر امام کے پیچھے قراءت کرنا (خواہ فاتحہ ہو یا کوئی اور سورت) مکروہِ تحریمی ہے۔
-
دلیلِ قرآنی: “جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور خاموش رہو” (الاعراف)۔ یہ آیت نماز کے بارے میں نازل ہوئی۔
-
دلیلِ حدیث: حضور ﷺ نے فرمایا: “جس کا امام ہو، تو امام کی قراءت ہی اس کی قراءت ہے” (من كان له إمام فقراءت الإمام له قراءت)۔
-
عقلی دلیل: مقتدی کا کام پیروی کرنا ہے، جیسے رکوع و سجود میں امام کی پیروی کی جاتی ہے، ویسے ہی قراءت میں بھی امام کی قراءت مقتدی کی طرف سے کافی ہے۔
