Tanzeem ul Madaris Solved Past Paper 2022 | PDF (طلباء کے لیے) عامہ سال اول


کلاس: الشہادۃ الثانویہ العامه (میٹرک سال اول)

پہلا پرچہ: قرآن مجید و تجوید (سال 2022)

وقت: تین گھنٹے تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان کل نمبر: 100

حصہ اول: قرآن مجید

سوال نمبر 1: جز (1) يَأَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
ترجمہ: اے لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے اگلوں کو پیدا کیا اس امید پر کہ تمہیں پرہیزگاری ملے۔
سوال نمبر 1: جز (2) وَالَّذِينَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوا بِأَيْتِنَا أُولَئِكَ أَصْحَبُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَلِدُوْنَ
ترجمہ: اور وہ جو کفر کریں اور ہماری آیتیں جھٹلائیں وہ دوزخ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
سوال نمبر 1: جز (3) ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ فَلَوْ لَا فَضْلُ اللهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ لَكُنتُمْ مِنَ الْخَسِرِينَ
ترجمہ: پھر تم اس کے بعد پھر گئے، تو اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوتے۔
سوال نمبر 1: جز (4) يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِيْنُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلُوةِ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصُّبِرِينَ
ترجمہ: اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد چاہو، بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
سوال نمبر 1: جز (5) وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيْبٌ أُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ
ترجمہ: اور اے محبوب جب میرے بندے تم سے میرے بارے میں پوچھیں تو میں قریب ہوں، پکارنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارے۔
سوال نمبر 1: جز (6) قَالُوا نَعْبُدُ إِلَهَكَ وَإِلَهَ آبَائِكَ إِبْرَاهِيْمَ وَ إِسْمَعِيلَ وَإِسْحَقَ إِلَهًا وَاحِدًا
ترجمہ: وہ بولے: ہم پوجیں گے اسے جو آپ کا خدا ہے اور آپ کے باپ دادا ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق کا خدا ہے، جو ایک اکیلا خدا ہے۔

سوال نمبر 2: لفظ “مُطَهَّرَةً” کا معنی کیا ہے؟
جواب: پاکیزہ یا ستھری۔
سوال نمبر 2: لفظ “عَدْلٌ” کا معنی کیا ہے؟
جواب: بدلہ یا انصاف۔
سوال نمبر 2: لفظ “الْعِجْلَ” کا معنی کیا ہے؟
جواب: بچھڑا۔
سوال نمبر 2: لفظ “قِرَدَةً” کا معنی کیا ہے؟
جواب: بندر۔
سوال نمبر 2: لفظ “الْفُلْكِ” کا معنی کیا ہے؟
جواب: کشتی۔

حصہ دوم: تجوید

سوال نمبر 3: (الف) علم تجوید کی تعریف، موضوع اور غرض تحریر کریں؟
جواب: تعریف: ہر حرف کو اس کے مخرج سے تمام صفات کے ساتھ ادا کرنا۔ موضوع: حروفِ تہجی۔ غرض: قرآن پڑھتے ہوئے زبان کو غلطی سے بچانا۔
سوال نمبر 3: (ب) خوش آوازی سے قرآن پاک پڑھنا کیسا ہے؟
جواب: قرآن مجید کو اچھی آواز میں پڑھنا مستحب اور پسندیدہ ہے کیونکہ یہ قرآن کی زینت ہے۔
سوال نمبر 3: (ج) حرف “ش” (شین) کا مخرج کیا ہے؟
جواب: زبان کا درمیان جب اوپر کے تالو سے لگے۔
سوال نمبر 3: (ج) حرف “ن” (نون) کا مخرج کیا ہے؟
جواب: زبان کا کنارہ جب اوپر کے اگلے دانتوں کے مسوڑھوں سے لگے۔

کلاس: الشہادۃ الثانویہ العامه (میٹرک سال اول)

دوسرا پرچہ: عقائد و فقہ (سال 2022)


حصہ اول: عقائد

سوال نمبر 1: (الف) ہمارے افعال کا خالق کون ہے؟
جواب: ہمارے تمام افعال کا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔
سوال نمبر 1: (ب) اللہ تعالیٰ کے واجب الوجود ہونے کا کیا مطلب ہے؟
جواب: واجب الوجود کا مطلب ہے وہ ذات جس کا ہونا ضروری ہو اور جس کا فنا ہونا ناممکن ہو۔
سوال نمبر 1: (ج) کرامت کسے کہتے ہیں؟
جواب: نبی کے سچے پیروکار (ولی) کے ہاتھ سے جو خلافِ عادت کام ظاہر ہو اسے کرامت کہتے ہیں۔
سوال نمبر 1: (د) نبی کون ہوتا ہے؟
جواب: نبی وہ بشر ہے جس کی طرف اللہ نے وحی بھیجی ہو تاکہ وہ لوگوں کو راہِ حق دکھائے۔
سوال نمبر 1: (ہ) آسمانی کتابوں کے نام تحریر کریں۔
جواب: تورات، زبور، انجیل اور قرآن مجید۔
سوال نمبر 1: (و) تقدیر کسے کہتے ہیں؟
جواب: اللہ تعالیٰ کا اپنے علمِ ازلی کے مطابق کائنات کے ہر واقعے کا ایک اندازہ مقرر فرمانا تقدیر ہے۔

سوال نمبر 2: (الف) کوئی سی پانچ علاماتِ قیامت تحریر کریں۔
جواب:
  1. علمِ دین اٹھ جانا۔ 2. جہالت عام ہونا۔ 3. دجال کا نکلنا۔ 4. عیسیٰ علیہ السلام کا نزول۔ 5. سورج کا مغرب سے نکلنا۔
سوال نمبر 2: (د) خلفائے راشدین کے نام تحریر کریں۔
جواب:
  1. حضرت ابوبکر صدیق۔ 2. حضرت عمر فاروق۔ 3. حضرت عثمان غنی۔ 4. حضرت علی مرتضیٰ (رضی اللہ عنہم)۔

حصہ دوم: فقہ

سوال نمبر 3: (ب) نماز کے فرائض تحریر کریں۔
جواب: نماز کے فرائض یہ ہیں: 1. تکبیرِ تحریمہ 2. قیام 3. قرات 4. رکوع 5. سجدے 6. قعدہ اخیرہ 7. خروج بصنعہ۔
سوال نمبر 3: (ج) سجدہ سہو کب لازم ہوتا ہے؟
جواب: جب نماز کا کوئی واجب بھولے سے چھوٹ جائے تو سجدہ سہو لازم ہوتا ہے۔
سوال نمبر 3: (و) وضو کا طریقہ تحریر کریں۔
جواب: نیت کرنا، بسم اللہ پڑھنا، ہاتھ دھونا، کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، چہرہ دھونا، کہنیاں دھونا، مسح کرنا اور پاؤں دھونا۔

سوال نمبر 4: (د) غسل کے فرائض تحریر کریں۔
جواب:
  1. کلی کرنا۔ 2. ناک میں پانی ڈالنا۔ 3. پورے بدن پر پانی بہانا۔

کلاس: الشہادۃ الثانویہ العامه (میٹرک سال اول)

تیسرا پرچہ: علم الصرف (میزان و منشعب و صرفِ بھترال)

وقت: تین گھنٹے | تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان | کل نمبر: 100

حصہ اول: میزان الصرف و منشعب

سوال نمبر 1: (الف) فعل ماضی مطلق کی تعریف اور بنانے کا طریقہ تحریر کریں۔
جواب: ماضی مطلق وہ فعل ہے جس سے گزرے ہوئے زمانے میں کسی کام کا ہونا معلوم ہو (نہ نزدیکی کا لحاظ ہو نہ دوری کا)۔ اسے مصدر سے بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ علامتِ مصدر (اردو میں “نا” اور فارسی میں “دَن” یا “تَن”) کو گرا کر آخر میں “د” یا “ت” ساکن لگا دی جائے جیسے “گُفْتَن” سے “گُفْت”۔
سوال نمبر 1: (ب) الفتح مصدر سے مکمل صرفِ صغیر تحریر کریں۔
جواب: فَتَحَ، يَفْتَحُ، فَتْحًا، فَهُوَ فَاتِحٌ، وَفُتِحَ، يُفْتَحُ، فَتْحًا، فَهُوَ مَفْتُوْحٌ، اَلْاَمْرُ مِنْهُ اِفْتَحْ، وَالنَّهْيُ عَنْهُ لَا تَفْتَحْ۔

سوال نمبر 2: (الف) اسم فاعل بنانے کا طریقہ بیان کریں نیز اسم مفعول کی گردان تحریر کریں۔
جواب: ثلاثی مجرد سے اسم فاعل “فَاعِلٌ” کے وزن پر آتا ہے، جیسے “نَصَرَ” سے “نَاصِرٌ”۔ اسم مفعول کی گردان یہ ہے: مَنْصُوْرٌ، مَنْصُوْرَانِ، مَنْصُوْرُوْنَ، مَنْصُوْرَةٌ، مَنْصُوْرَتَانِ، مَنْصُوْرَاتٌ۔
سوال نمبر 2: (ب) رباعی مزید فیہ کی تعریف مع مثال تحریر کریں۔
جواب: وہ فعل جس کے ماضی کے پہلے صیغے میں چار حرفِ اصلی ہوں اور کچھ زائد حروف بھی ہوں، جیسے: “تَدَحْرُجٌ” (مصدر) سے “تَدَحْرَجَ”۔

سوال نمبر 3: (ب) سہ اقسام کی تعریفات و امثلہ سپردِ قلم کریں۔
جواب: سہ اقسام سے مراد اسم، فعل اور حرف ہیں۔ اسم (جیسے: زَيْدٌ)، فعل (جیسے: نَصَرَ)، اور حرف (جیسے: فِی)۔

حصہ دوم: صرفِ بھترال

سوال نمبر 4: (الف) درج ذیل عبارت کا ترجمہ کریں: “ہر نون تنوین وقت دخول الف لام واضافت و نون تثنیه و جمع بوقت اضافت ساقط میشود”
ترجمہ: ہر نونِ تنوین “الف لام” کے داخل ہونے کے وقت اور “اضافت” کے وقت، اور تثنیہ و جمع کا نون “اضافت” کے وقت گر جاتا ہے۔
مثالیں: نون تنوین کی مثال: “رَجُلٌ” سے “اَلرَّجُلُ” (الف لام آنے پر تنوین گر گئی)۔ نونِ تثنیہ کی مثال: “غُلَامَانِ زَیْدٍ” سے “غُلَامَا زَیْدٍ” (اضافت کی وجہ سے نون گر گیا)۔
سوال نمبر 4: (ب) علمِ صرف کی تعریف، موضوع اور غرض و غایت بیان کریں۔
جواب: تعریف: وہ علم جس سے کلمات کی گردان اور ایک صورت سے دوسری صورت بنانے کے قاعدے معلوم ہوں۔ موضوع: “کلمہ” (صیغوں کے اعتبار سے)۔ غرض: صیغوں کے بنانے میں غلطی سے بچنا۔

سوال نمبر 5: (ب) درج ذیل میں سے تین کی تعریفات مع امثلہ لکھیں۔
1. صحیح جواب: وہ کلمہ جس کے حروفِ اصلی میں حروفِ علت (و، ا، ی) اور ہمزہ نہ ہو اور نہ ہی ایک جنس کے دو حروف ہوں، جیسے: “نَصَرَ”۔
2. امر جواب: وہ فعل جس کے ذریعے کسی کام کا حکم دیا جائے، جیسے: “اُصْنُرْ” (مدد کر)۔
3. ناقص جواب: وہ کلمہ جس کے “لام” کلمہ کے مقابلے میں حرفِ علت ہو، جیسے: “دَعَا” (اصل میں دَعَوَ تھا)۔

سوال نمبر 6: (ب) رأس اور میزان والا قانون مع امثلہ تحریر کریں۔
جواب: رأس والا قانون: ہر وہ ہمزہ جو ساکن ہو اور اس سے پہلے والے حرف پر ضمہ (پیش) ہو، تو اس ہمزہ کو “واؤ” سے بدلنا جائز ہے، جیسے: “رُؤْسٌ” سے “رُوْسٌ”۔ میزان والا قانون: ہر وہ “واؤ” جو ساکن ہو اور اس سے پہلے کسرہ (زیر) ہو، تو اس واؤ کو “یاء” سے بدلنا واجب ہے، جیسے: “مِوْزَانٌ” سے “مِيْزَانٌ”۔

کلاس: الشہادۃ الثانویہ العامه (میٹرک سال اول)

چوتھا پرچہ: علم النحو (نحو میر و نظم مائۃ عامل)

وقت: تین گھنٹے | تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان | کل نمبر: 100

حصہ اول: نحو میر

سوال نمبر 1: (الف) علمِ نحو کی تعریف، موضوع، غرض، واضع اور وجہ تسمیہ قلمبند کریں۔
جواب: تعریف: وہ علم جس میں کلمات کو جوڑنے کا طریقہ اور ان کے آخری حرف کا اعراب معلوم ہو۔ موضوع: کلمہ اور کلام۔ غرض: عربی زبان بولنے اور لکھنے میں لفظی غلطی سے بچنا۔ واضع: حضرت ابوالاسود دُؤلی (حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے حکم سے)۔ وجہ تسمیہ: “نحو” کے معنی راستہ کے ہیں، چونکہ یہ علم کلامِ عرب کے راستے پر چلنے میں مدد دیتا ہے۔
سوال نمبر 1: (ب) جملہ خبریہ کی اقسام مع تعریفات و امثلہ تحریر کریں۔
جواب:
  1. جملہ اسمیہ: جس کا پہلا جز اسم ہو، جیسے: زَيْدٌ قَائِمٌ (زید کھڑا ہے)۔ 2. جملہ فعلیہ: جس کا پہلا جز فعل ہو، جیسے: قَامَ زَيْدٌ (زید کھڑا ہوا)۔
سوال نمبر 1: (ج) اسم غیر متمکن کی تعریف اور اس کی تین قسموں کے نام مع امثلہ تحریر کریں۔
جواب: تعریف: وہ اسم جو مبنی الاصل کے مشابہ ہو اور اس کا اعراب تبدیل نہ ہو۔ تین قسمیں: 1. مضمرات (جیسے: اَنَا) 2. اسمائے اشارہ (جیسے: هذَا) 3. اسمائے موصولہ (جیسے: اَلَّذِی

سوال نمبر 2: (الف) نحومیر کی روشنی میں کوئی سی پانچ علاماتِ اسم تحریر کریں۔
جواب:
  1. شروع میں “ال” ہونا۔ 2. حرفِ جر کا داخل ہونا۔ 3. آخر میں تنوین ہونا۔ 4. مضاف ہونا۔ 5. مسند الیہ ہونا۔
سوال نمبر 2: (ج) مؤنث کی اقسام مع تعریفات و امثلہ تحریر کریں۔
جواب:
  1. مؤنث حقیقی: جس کے مقابلے میں جاندار نر ہو، جیسے: اِمْرَاَةٌ (عورت)۔ 2. مؤنث لفظی (غیر حقیقی): جس کے مقابلے میں نر نہ ہو لیکن اس میں تائے تانیث ہو، جیسے: ظُلْمَةٌ (اندھیرا)۔

سوال نمبر 3: (ب) مرکب غیر مفید کی کوئی سی دو اقسام مع تعریفات و امثلہ تحریر کریں۔
جواب:
  1. مرکبِ اضافی: جو مضاف اور مضاف الیہ سے مل کر بنے، جیسے: غُلَامُ زَيْدٍ (زید کا غلام)۔ 2. مرکبِ بنائی: دو اسموں کو ملا کر ایک کر دیا جائے اور دوسرا اسم حرف کو شامل ہو، جیسے: اَحَدَ عَشَرَ (گیارہ)۔

حصہ دوم: نظم مائۃ عامل

سوال نمبر 4: (ب) نظم مائۃ عامل کی روشنی میں بتائیں کہ حروفِ جازمہ کتنے اور کون کون سے ہیں؟
جواب: حروفِ جازمہ پانچ (5) ہیں: 1. لَمْ 2. لَمَّا 3. لَامِ امر 4. لائے نہی 5. اِنْ شرطیہ۔
سوال نمبر 4: (ج) حروفِ ناصبہ کتنے ہیں نیز شعر بھی لکھیں؟
جواب: حروفِ ناصبہ چار (4) ہیں: اَنْ، لَنْ، کَیْ، اِذَنْ۔ شعر: “اَنْ” و “لَنْ” و “کَیْ” و “اِذَنْ” اے ہوشمند — بر مضارع نصب مے آرد بہ پند
سوال نمبر 4: (د) درج ذیل اشعار کا ترجمہ تحریر کریں۔
فارسی عبارت: نوع اول هفده حرف جر بود میداں یقین — كاندرين يك بيت آمد جمله بیچون و چرا
ترجمہ: پہلی قسم (عوامل کی) سترہ حروفِ جارہ ہیں، اس بات کا یقین کر لو، کیونکہ یہ تمام کے تمام اس ایک ہی شعر میں بلا کسی شک و شبہ کے بیان کر دیے گئے ہیں۔
فارسی عبارت: باؤ تاؤ كاف ولام و واؤ منذ ومدخلا — رب حاشا من عدا في عن على حتى الى
ترجمہ: (وہ حروف یہ ہیں): با، تا، کاف، لام، واؤ، مُنذ، مُذ، خلا، رُبَّ، حاشا، مِنْ، عدا، فِی، عَنْ، علیٰ، حتّٰی اور اِلیٰ۔

کلاس: الشہادۃ الثانویہ العامه (میٹرک سال اول)

پانچواں پرچہ: عربی ادب (سال 2022)

وقت: تین گھنٹے | تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان | کل نمبر: 100

سوال نمبر 1: (الف) درج ذیل جملوں کا اردو میں ترجمہ کریں۔
(1) خَالِدٌ يَمْشِي فِي الْحَدِيْقَةِ ترجمہ: خالد باغ میں چل رہا ہے۔
(2) أَنَا فِي غُرْفَةِ صَدِيْقِي ترجمہ: میں اپنے دوست کے کمرے میں ہوں۔
(3) عِنْدِي مَالٌ قَلِيْلٌ ترجمہ: میرے پاس تھوڑا مال ہے۔
(4) ضَعْ يَدَكَ عَلَى أُذُنَيْكَ ترجمہ: اپنا ہاتھ اپنے دونوں کانوں پر رکھو۔
(5) أَسْمَعُ صَوْتَ الْجَرَسِ ترجمہ: میں گھنٹی کی آواز سن رہا ہوں۔
(6) اَلثَّوْرُ حَيَوَانٌ كَبِيْرٌ ترجمہ: بیل ایک بڑا جانور ہے۔

سوال نمبر 1: (ب) عبارت کا اردو میں ترجمہ کریں۔ (جز نمبر 2)
عبارت: فُصُولُ السَّنَةِ أَرْبَعَةٌ هِيَ الشِّتَاءُ وَالرَّبِيعُ وَالصَّيْفُ وَالْخَرِيْفُ… اِلٰی آخِرِہٖ ترجمہ: سال کے چار موسم ہیں، وہ سردی، بہار، گرمی اور خزاں ہیں۔ کراچی میں سردی معتدل ہوتی ہے اور وہاں گرمی ہوتی ہے لیکن وہ سخت گرم نہیں ہوتی۔ البتہ لاہور میں سردی بہت زیادہ ہوتی ہے اور گرمی بھی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ پاکستان ایک گرم ملک ہے، اس میں سال کے اکثر دنوں میں گرمی شدت اختیار کر جاتی ہے۔

سوال نمبر 2: (الف) درج ذیل جملوں کی عربی بنائیں۔
(1) آسمان میرے سر کے اوپر ہے۔ عربی: اَلسَّمَاءُ فَوْقَ رَأْسِي۔
(2) یہ لمبا درخت ہے۔ عربی: هذِهِ شَجَرَةٌ طَوِيْلَةٌ۔
(3) اے یاسر! تو دروازہ کھول۔ عربی: يَا يَاسِرُ! اِفْتَحِ الْبَابَ۔
(4) یہ میرا دوست حامد ہے۔ عربی: هذَا صَدِيْقِي حَامِدٌ۔

سوال نمبر 2: (ب) خالی جگہ پر کریں۔
(1) اَلْجَمَلُ [حَيَوَانٌ] كَبِيْرٌ (2) اِسْمُ وَالِدِي [مُحَمَّدٌ] (یا کوئی بھی نام) (3) اَلْقَلَمُ [فِي] جَيْبِي (4) عِنْدَهُ [تِلْكَ] السَّاعَةُ (5) يَدِي [فَوْقَ] رَأْسِي

سوال نمبر 3: (ب) الفاظ کے معانی تحریر کریں۔
1. اَلْوَرَقَةُ معنی: کاغذ / پتہ۔
2. سَيَّارَةٌ معنی: کار / گاڑی۔
3. تِلْمِيْذٌ معنی: شاگرد / طالب علم۔
4. قِطْعَةُ الْخُبْزِ معنی: روٹی کا ٹکڑا۔
5. طَوِيْلٌ معنی: لمبا۔

سوال نمبر 4: (ب) جسم کے پانچ اعضاء کے نام (عربی اور اردو)۔
1. رَأْسٌ اردو: سر۔
2. عَيْنٌ اردو: آنکھ۔
3. أَنْفٌ اردو: ناک۔
4. يَدٌ اردو: ہاتھ۔
5. رِجْلٌ اردو: پاوں۔

کلاس: الشہادۃ الثانویہ العامه (میٹرک سال اول)

چھٹا پرچہ: جنرل سائنس و مطالعہ پاکستان (سال 2022)

وقت: تین گھنٹے | تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان | کل نمبر: 100

حصہ اول: جنرل سائنس

سوال نمبر 1: (الف) ابو علی سینا کی سائنسی خدمات تحریر کریں۔
جواب: ابو علی سینا کو بابائے طب کہا جاتا ہے۔ ان کی مشہور کتاب “القانون فی الطب” صدیوں تک یورپ میں پڑھائی جاتی رہی۔ انہوں نے جراثیم کے ذریعے بیماریوں کے پھیلنے کا نظریہ پیش کیا۔
سوال نمبر 1: (ب) وائرس اور بیکٹیریا میں کیا فرق ہے؟
جواب: بیکٹیریا ایک خلیے والے جاندار ہیں جو انسانی جسم کے اندر اور باہر زندہ رہ سکتے ہیں، جبکہ وائرس صرف زندہ خلیوں کے اندر ہی اپنی نسل بڑھا سکتے ہیں اور یہ بیکٹیریا سے بہت چھوٹے ہوتے ہیں۔
سوال نمبر 2: (الف) متوازن غذا سے کیا مراد ہے؟
جواب: ایسی غذا جس میں انسانی جسم کی ضرورت کے مطابق تمام ضروری اجزاء (پروٹین، کاربوہائیڈریٹس، وٹامنز، چکنائی اور معدنیات) صحیح مقدار میں موجود ہوں، اسے متوازن غذا کہتے ہیں۔

حصہ دوم: مطالعہ پاکستان

سوال نمبر 3: (الف) نظریہ پاکستان سے کیا مراد ہے؟
جواب: نظریہ پاکستان سے مراد وہ سوچ ہے جس کی بنیاد پر برصغیر کے مسلمانوں نے اپنے لیے ایک علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا تاکہ وہ وہاں اسلام کے سنہری اصولوں کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ اس کی اصل بنیاد “کلمہ طیبہ” ہے۔
سوال نمبر 3: (ب) قراردادِ مقاصد کے کوئی سے تین نکات تحریر کریں۔
جواب:
  1. کائنات کا اصل حاکم اللہ تعالیٰ ہے۔ 2. پاکستان میں جمہوریت، آزادی اور مساوات کے اصول اپنائے جائیں گے۔ 3. مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی طور پر اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کا موقع دیا جائے گا۔
سوال نمبر 4: (الف) تحریکِ پاکستان میں علماء اور مشائخ کے کردار پر نوٹ لکھیں۔
جواب: علماء اور مشائخ نے برصغیر کے کونے کونے میں دو قومی نظریہ کا پرچار کیا۔ جمعیت علماء ہند (تھانوی گروپ) اور مشائخِ عظام نے مسلم لیگ کا بھرپور ساتھ دیا جس سے قیامِ پاکستان کی راہ ہموار ہوئی۔
سوال نمبر 4: (ب) پاکستان کے جغرافیائی محل وقوع کی اہمیت بیان کریں۔
جواب: پاکستان ایشیا کے وسط میں واقع ہے، جس کے ایک طرف افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستیں ہیں، دوسری طرف چین اور بھارت جیسے بڑے ممالک ہیں۔ بحیرہ عرب کے ذریعے پاکستان دنیا کی اہم تجارتی گزرگاہوں سے جڑا ہوا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *