ترجمہ: تم فرماؤ اے کتابیو! اللہ کی راہ سے اسے کیوں روکتے ہو جو ایمان لایا، اس میں کجی چاہتے ہوئے حالانکہ تم خود گواہ ہو، اور اللہ تمہارے کاموں سے بے خبر نہیں۔
ترجمہ: اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لاتے ہیں اور بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے منع کرتے ہیں اور نیک کاموں میں دوڑتے ہیں، اور یہ لوگ صالحین (نیکوں) میں سے ہیں۔
ترجمہ: اب ہم کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دیں گے اس لیے کہ انہوں نے اللہ کا شریک ٹھہرایا اس چیز کو جس کی اس نے کوئی سند نہ اتاری، اور ان کا ٹھکانا آگ ہے، اور کیا ہی برا ٹھکانا ہے ظالموں کا۔
ترجمہ: یہ اللہ کی حدیں ہیں، اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانے گا اللہ اسے باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں رواں، ہمیشہ ان میں رہیں گے، اور یہی بڑی کامیابی ہے۔
ترجمہ: اور یاد کرو اللہ کا احسان اپنے اوپر اور وہ عہد جو اس نے تم سے لیا جبکہ تم نے کہا کہ ہم نے سنا اور مانا، اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ دلوں کی بات جانتا ہے۔
ترجمہ: جب حواریوں نے کہا اے عیسیٰ بن مریم! کیا آپ کا رب ایسا کر سکتا ہے کہ ہم پر آسمان سے ایک خوان (کھانے کا دسترخوان) اتارے؟ فرمایا اللہ سے ڈرو اگر تم ایمان رکھتے ہو۔
سوال نمبر 2: درج ذیل میں سے صرف پانچ الفاظ کے معانی لکھیں۔
قَرْح:زخم / چوٹ
سُنَن: طریقے / دستور (سنت کی جمع)
السُّدُس:چھٹا حصہ (1/6)
قِسِّيسِيْن: عیسائی درویش / علماء
بَحِيرَة: وہ اونٹنی جس کا کان چیر کر بتوں کے نام پر چھوڑ دیا جاتا تھا
سَائِبَة:وہ جانور جسے بتوں کی نذر کر کے آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا
مَعْز: بکری
حصہ دوم: فقہ
سوال نمبر 3:(الف) نماز کے صحیح ہونے کی کوئی سی آٹھ شرطیں لکھیں
۔جواب: نماز کی شرائط درج ذیل ہیں:
بدن کا پاک ہونا۔ 2. کپڑوں کا پاک ہونا۔ 3. جگہ کا پاک ہونا۔ 4. سترِ عورت (بدن چھپانا)۔ 5. وقت کا ہونا۔ 6. قبلہ کی طرف رخ کرنا۔ 7. نیت کرنا۔ 8. تکبیرِ تحریمہ کہنا۔
(ب) نماز کے نو مفسدات (نماز توڑنے والی چیزیں) لکھیں۔
جواب: 1. نماز میں کلام کرنا۔ 2. کسی کو سلام کرنا۔ 3. سلام کا جواب دینا۔ 4. چھینک آنے پر “الحمدللہ” کہنا۔ 5. درد یا تکلیف کی وجہ سے “آہ” یا “اف” کرنا۔ 6. بلا ضرورت کھنکھارنا۔ 7. عملِ کثیر (ایسا کام کرنا جس سے دیکھنے والا سمجھے کہ یہ نماز میں نہیں ہے)۔ 8. قرآن مجید دیکھ کر پڑھنا۔ 9. نماز میں کھانا یا پینا۔
ترجمہ: اور تھوڑا پانی جب اس میں سے کوئی جانور پی لے تو (حکم کے اعتبار سے) اس کی چار قسمیں ہوتی ہیں اور اسے “جُھوٹا” کہا جاتا ہے۔ پہلی قسم پاک اور پاک کرنے والا ہے اور یہ وہ پانی ہے جس سے انسان یا گھوڑے نے پیا ہو۔
(ب) وضو کی کوئی سات سنتیں تحریر کریں۔
جواب: 1. نیت کرنا۔ 2. بسم اللہ پڑھنا۔ 3. دونوں ہاتھوں کو پہنچوں تک دھونا۔ 4. مسواک کرنا۔ 5. تین بار کلی کرنا۔ 6. تین بار ناک میں پانی ڈالنا۔ 7. تمام سر کا ایک بار مسح کرنا۔
سوال نمبر 5:(الف) جمعہ کے فرض ہونے کی کوئی پانچ شرائط لکھیں۔
جواب: 1. شہر یا فنائے شہر (بڑے گاؤں) میں ہونا۔ 2. تندرست ہونا (مریض پر فرض نہیں)۔ 3. آزاد ہونا (غلام پر فرض نہیں)۔ 4. مقیم ہونا (مسافر پر فرض نہیں)۔ 5. مرد ہونا (عورتوں پر فرض نہیں)۔
(ب) نمازِ خوف کس صورت میں ادا کی جاتی ہے اور طریقہ کیا ہے؟
جواب:صورت: جب دشمن کا سامنا ہو یا درندے کا خوف ہو اور سواری سے اترنا ممکن نہ ہو۔ طریقہ: امام دو گروہ بنا لے گا۔ ایک گروہ دشمن کے سامنے رہے گا، دوسرا امام کے پیچھے آدھی نماز پڑھے گا۔ پھر یہ گروہ دشمن کے سامنے چلا جائے گا اور پہلا گروہ آ کر اپنی بقیہ نماز امام کے بغیر مکمل کرے گا۔ (نوٹ: یہ قدیم جنگی طریقہ ہے، آج کل کی صورتحال میں اگر بالکل بھی ممکن نہ ہو تو اشارے سے بھی پڑھی جا سکتی ہے)۔
Paper: تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان
الشہادۃ الثانویۃ العامۃ (میٹرک سال دوم)
2022دوسرا پرچہ: صرف (علم الصرف)
حل شدہ پرچہ
سوال نمبر 1: (الف) اسمائے مشتقہ میں سے پانچ کی تعریف کریں۔
جواب: اسم مشتق وہ اسم ہے جو مصدر سے نکلا ہو۔ اس کی پانچ اقسام درج ذیل ہیں:
اسم فاعل:وہ اسم جو اس ذات پر دلالت کرے جس سے فعل صادر ہوا ہو (جیسے: نَاصِرٌ – مدد کرنے والا)۔
اسم مفعول: وہ اسم جو اس ذات پر دلالت کرے جس پر فعل واقع ہوا ہو (جیسے: مَنْصُوْرٌ – جس کی مدد کی گئی)۔
اسم ظرف: وہ اسم جو جگہ یا وقت کے معنی پر دلالت کرے (جیسے: مَسْجِدٌ – سجدہ کرنے کی جگہ)۔
اسم آلہ:وہ اسم جو اس چیز پر دلالت کرے جس کے ذریعے کام کیا جائے (جیسے: مِفْتَاحٌ – چابی)۔
اسم تفضیل: وہ اسم جو ایک کی دوسرے پر زیادتی ظاہر کرے (جیسے: اَکْبَرُ – سب سے بڑا)۔
خُذْ: یہ امر حاضر معروف، واحد مذکر حاضر کا صیغہ ہے۔ اصل میں اُؤْخُذْ تھا، کثرتِ استعمال کی وجہ سے حمزہ حذف کر دیا گیا تو “خُذْ” رہ گیا۔
اُخْتِيْرَ:فعل ماضی مجہول، واحد مذکر غائب، باب افتعال۔ اصل میں اُخْتُيِرَ تھا۔ “ی” متحرک ماقبل مکسور تھی، قاعدہ کے مطابق “ی” کے کسرہ کو ماقبل کی طرف منتقل کیا گیا اور ثقل کی وجہ سے الف سے بدلا گیا (یا یائے ساکن رہی) تو “اُخْتِيْرَ” ہو گیا۔
مَقُوْلٌ: اسم مفعول، واحد مذکر، باب نصر۔ اصل میں مَقْوُوْلٌ تھا۔ واو متحرک ماقبل ساکن، حرکت ماقبل کو دی، دو واو ساکن جمع ہوئے، ایک کو حذف کر دیا گیا تو “مَقُوْلٌ” بن گیا۔
سوال نمبر 2: (الف) الِاهْدِمَامُ سے صرفِ صغیر لکھیں
(ب) مُزَّمِّلٌ کی تعلیل اور جاری ہونے والا قانون لکھیں۔
جواب: اصل میں مُتَزَمِّلٌ (اسم فاعل از باب تفعل) تھا۔ قاعدہ یہ ہے کہ جب “ت” کے بعد “ز” آئے تو “ت” کو “ز” سے بدل کر “ز” کا “ز” میں ادغام کر دیتے ہیں۔ لہذا “ت” کو “ز” کیا گیا اور ساکن کر کے ادغام کیا گیا تو “مُزَّمِّلٌ” بن گیا۔
سوال نمبر 3: (الف) ثلاثی مزید فیہ با ہمزہ وصل کے ابواب کے نام اور مثالیں:
جواب: اس کے مشہور 9 ابواب ہیں، پانچ درج ذیل ہیں:
افتعال: جیسے اِجْتِنَابٌ
انفعال: جیسے اِنْصِرَافٌ
افعلال: جیسے اِحْمِرَارٌ
استفعال: جیسے اِسْتِنْصَارٌ
افعیعال: جیسے اِعْشِيْشَابٌ
(ب) درج ذیل صیغوں کا حل:
يَعِدُ:(سہ اقسام: فعل) (شش: ثلاثی مجرد) (ہفت: مثالِ واوی) (باب: ضرب)۔ اصل میں یَوْعِدُ تھا۔
تصبیر اور تجنب: تصبیر کا معنی کسی کو صابر بنانا (باب تفعیل)۔ تجنب کا معنی ہے کسی چیز سے بچنا یا دور ہونا (باب تفعل)۔
مبالغہ اور مغالبہ: مبالغہ کا معنی کام میں زیادتی کرنا۔ مغالبہ کا معنی ہے ایکدوسرے پر غالب آنے کی کوشش کرنا۔
بابِ سَمِعَ کے دو خاصے: (1) موافقتِ ثلاثی مجرد (2) اکثر لازم ہوتا ہے۔
بابِ افعال کے دو خاصے:(1) تعدیہ (لازم کو متعدی کرنا) (2) صیرورت (کسی حالت میں داخل ہونا)۔
Paper: تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان
الشہادۃ الثانویۃ العامۃ (میٹرک سال دوم)
2022تیسرا پرچہ: نحو (ہدایۃ النحو و شرح مائۃ عامل)
حصہ اول: ہدایۃ النحو
سوال نمبر 1: الأسماء المرفوعات ثمانية أقسام
(الف) تمام اسماء مرفوعہ کے نام اور ایک ایک مثال لکھیں۔
جواب: اسماء مرفوعہ آٹھ ہیں:
فاعل: جیسے “جاءَ زیدٌ“۔
نائب فاعل: جیسے “ضُرِبَ زیدٌ“۔
مبتدا: جیسے “زیدٌ قائمٌ”۔
خبر: جیسے “زیدٌ قائمٌ“۔
خبرِ انَّ (اور اس کے اخوات): جیسے “انَّ زیداً قائمٌ“۔
اسمِ کانَ (اور اس کے اخوات): جیسے “کانَ زیدٌ قائماً”۔
اسمِ ما ولا مشابہ بلیس: جیسے “ما زیدٌ قائماً”۔
لا نفی جنس کی خبر: جیسے “لا رجلَ افضلُ منک”۔
(ب) الف نون زائدتان اور جمع کے غیر منصرف بننے کی شرائط و امثلہ لکھیں۔
جواب:
الف نون زائدتان: اگر اسمِ صفت ہو تو شرط یہ ہے کہ اس کا مؤنث “فعلانۃ” کے وزن پر نہ آئے (جیسے: سکران)۔ اگر علم (نام) ہو تو اس کے لیے کوئی شرط نہیں (جیسے: عثمان)۔
جمع:اس کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ “منتہی الجموع” کے وزن پر ہو، یعنی الفِ جمع کے بعد دو حرف ہوں (جیسے: مساجد) یا تین حرف ہوں اور درمیان والا ساکن ہو (جیسے: مصابیح)۔
سوال نمبر 2: (الف) عبارت پر اعراب، ترجمہ اور کلامِ موجب کی تعریف۔
اعراب: اِعْلَمْ أَنَّ إِعْرَابَ الْمُسْتَثْنٰی عَلٰی أَرْبَعَةِ أَقْسَامٍ، فَإِنْ كَانَ مُتَّصِلاً وَقَعَ بَعْدَ “إِلَّا” فِي كَلَامٍ مُوْجَبٍ، أَوْ مُنْقَطِعاً كَمَا مَرَّ، أَوْ مُقَدَّماً عَلَی الْمُسْتَثْنٰی مِنْهُ نَحْوُ: مَا جَاءَنِي إِلَّا زَيْداً أَحَدٌ، أَوْ كَانَ بَعْدَ خَلَا وَ عَدَا عِنْدَ الْأَكْثَرِ۔ ترجمہ: جان لو کہ مستثنیٰ کا اعراب چار اقسام پر ہے، پس اگر وہ مستثنیٰ متصل ہو اور کلامِ موجب میں “الّا” کے بعد واقع ہو، یا مستثنیٰ منقطع ہو جیسا کہ گزر چکا، یا مستثنیٰ منہ پر مقدم ہو جیسے “ما جاءنی الا زیداً احدٌ”، یا اکثر (نحویوں) کے نزدیک “خلا” اور “عدا” کے بعد ہو (تو ان تمام صورتوں میں مستثنیٰ منسوب ہوگا)۔ کلامِ موجب: وہ کلام جس میں نفی، نہی یا استفہام نہ پایا جائے بلکہ بات مثبت ہو۔
سوال نمبر 3: (الف) اسم اور فعل کی علامات مع امثلہ لکھیں۔
اسم کی علامات: 1. اس پر “ال” آنا (الرجل)۔ 2. اس پر حرفِ جر آنا (فی الدارِ)۔ 3. اس پر تنوین ہونا (زیدٌ)۔ فعل کی علامات: 1. اس پر “قد” آنا (قد قامَ)۔ 2. اس پر “س” یا “سوف” آنا (سیعلمون)۔ 3. اس کا امر یا نہی ہونا (اِضرب)۔
(ب) کلام حاصل ہونے کی کوئی تین صورتیں مع امثلہ لکھیں۔
جواب:
دو اسموں سے: جیسے “زیدٌ قائمٌ” (مبتدا خبر)۔
فعل اور اسم سے: جیسے “قامَ زیدٌ” (فعل فاعل)۔
ایک کلمہ دوسرے کے حکم میں ہو: جیسے “اِضرب” (اس میں ‘انت’ ضمیر چھپی ہوئی ہے)۔
حصہ دوم: شرح مائۃ عامل
سوال نمبر 4: کوئی سے پانچ اجزاء حل کریں۔
(1) وتتنوع السماعية منها على ثلاثة عشر نوعا کی ترکیب نحوی۔ترکیب: (و) حرفِ استئناف (تتنوع) فعل مضارع (السماعیۃ) صفت اپنے موصوف محذوف (العوامل) سے مل کر فاعل (منہا) جار مجرور مل کر حال (علی) حرفِ جر (ثلاثۃ عشر) مرکبِ بنائی ہو کر مجرور (نوعاً) تمیز۔ جار مجرور متعلق فعل کے۔ فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ ہوا۔
(2) نحو أخذت من الدراهم أى بعض الدراهم کی ترکیب۔ترکیب: (أخذتُ) فعل فاعل (من) حرفِ جر (الدراہم) مجرور۔ جار مجرور متعلق فعل کے۔ (أی) حرفِ تفسیر (بعضَ) مضاف(الدراہم) مضاف الیہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مفسَّر ہوا۔
(4) فاغسلوا وجوهكم وأيديكم إلى المرافق کی ترکیب۔ترکیب: (ف) جزا (اغسلوا) فعلِ امر، “واؤ” ضمیر فاعل (وجوہ) مضاف (کم) ضمیر مضاف الیہ، مضاف مضاف الیہ مل کر معطوف علیہ۔ (و) حرفِ عطف (أیدی) مضاف (کم) مضاف الیہ، مضاف مضاف الیہ مل کر معطوف۔ معطوف علیہ و معطوف مل کر مفعول بہ۔ (الی المرافق) جار مجرور متعلق فعل کے۔
(6) مِن، لام اور فی کے دو دو معانی:
مِن: 1. ابتدا (من البصرۃ) 2. تبعیض (اخذت من الدراہم)۔
سوال نمبر 1: (الف) درج ذیل اجزاء کا سلیس اردو میں ترجمہ کریں۔
(1) لم تسكت قريش ولم تهدأ ثائرتهم وإنما تعاقبوه إلى دار هجرته فكانت بينه وبينهم غزوات أشهرها غزوة بدر
ترجمہ: قریش خاموش نہ ہوئے اور نہ ہی ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا، بلکہ انہوں نے (نبی کریم ﷺ کا) ان کے دارِ ہجرت (مدینہ منورہ) تک پیچھا کیا، پس ان کے اور آپ ﷺ کے درمیان کئی غزوات ہوئے جن میں سب سے زیادہ مشہور غزوہ بدر ہے۔
(2) الرحلات الجوية خطيرة ولكنها مريحة وسريعة يستطيع الإنسان أن يقطع مسافة الشهور في الأيام
ترجمہ: فضائی سفر خطرناک ہوتے ہیں لیکن وہ آرام دہ اور تیز رفتار ہوتے ہیں، انسان مہینوں کا فاصلہ دنوں میں طے کر سکتا ہے۔
(3) وشارك أبو بكر رضى الله عنه فى الغزوات النبوية كلها وبذل لخدمة الله ورسوله جميع ما كان يملكه من نفسه و نفیسه
ترجمہ: اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تمام نبوی غزوات میں شریک ہوئے اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی خدمت کے لیے اپنی جان اور اپنا قیمتی مال، جو کچھ بھی ان کی ملکیت میں تھا، سب قربان کر دیا۔
(ب) درج ذیل میں سے صرف دو کو مفید جملوں میں استعمال کریں۔
السكك الحديدية: اَلسِّکَکُ الْحَدِیْدِیَّةُ ضَرُوْرِیَّةٌ لِلسَّفَرِ (ریلوے لائن سفر کے لیے ضروری ہے)۔
مقر الحاكم:ذَهَبَ الرَّجُلُ اِلٰی مَقَرِّ الْحَاکِمِ (آدمی حاکم کی جائے قیام/دفتر کی طرف گیا)۔
سوال نمبر 2: (الف) درج ذیل کے جواب عربی میں لکھیں۔
سوال نمبر 4: (الف) منطق کی وجہ تسمیہ اور تقدم کی کوئی دو قسمیں لکھیں۔
جواب:
وجہ تسمیہ:منطق ‘نطق’ سے مشتق ہے، جس کے معنی “بولنا” (نطقِ ظاہری) اور “ادراکِ کلیات” (نطقِ باطنی) کے ہیں۔ چونکہ یہ علم نطقِ باطنی کو قوت بخشتا ہے اور نطقِ ظاہری کو درستی عطا کرتا ہے، اس لیے اسے منطق کہتے ہیں۔
تقدم کی دو قسمیں: 1. تقدم بالزمان: جیسے باپ کا بیٹے پر مقدم ہونا۔ 2. تقدم بالطبع: جیسے ایک کا دو پر مقدم ہونا (یعنی علتِ ناقصہ کا معلول پر مقدم ہونا)۔
(ب) متواطی اور مشکک کی تعریفات و امثلہ لکھیں۔
جواب:
متواطی: وہ کلی جس کے معنی اس کے تمام افراد میں برابر پائے جائیں (جیسے ‘انسان’ کے معنی زید و عمر میں برابر ہیں)۔
مشکک: وہ کلی جس کے معنی افراد میں برابر نہ ہوں بلکہ کمی بیشی یا اولیت و ثانویت کے ساتھ ہوں (جیسے ‘نور’ کا اطلاق سورج پر قوی اور چراغ پر ضعیف ہے)۔
سوال نمبر 5: (الف) افرادِ کلی کے خارج میں پائے جانے کے اعتبار سے پانچ اقسام۔
جواب:
جس کے افراد خارج میں موجود ہوں اور کثیر ہوں (جیسے انسان)۔
جس کے افراد خارج میں موجود ہوں اور صرف ایک ہو (جیسے سورج – بعض کے نزدیک)۔
جس کے افراد کا پایا جانا ممکن ہو مگر پائے نہ جائیں (جیسے عنقا)۔
جس کے افراد کا پایا جانا محال ہو (جیسے شریکِ باری تعالیٰ)۔
جس کا ایک فرد پایا جائے اور دوسرے کا پایا جانا محال ہو (جیسے واجب الوجود)۔
سوال نمبر 6: پانچ اصطلاحات کی تعریفات و امثلہ۔
تصدیقِ بدیہی: وہ تصدیق جس کے لیے غور و فکر کی ضرورت نہ ہو (جیسے: آگ گرم ہے)۔
جنسِ قریب: وہ جنس جو نوع کے سب سے زیادہ قریب ہو اور اسے دوسری اصناف سے ممتاز کرے (جیسے انسان کے لیے ‘حیوان’)۔
حدِ تام:وہ تعریف جو جنسِ قریب اور فصلِ قریب سے مل کر بنے (جیسے انسان کی تعریف ‘حیوانِ ناطق’ سے کرنا)۔
نوعِ حقیقی: وہ کلی جو ایسی حقیقتوں پر بولی جائے جن کی ماہیت ایک ہو (جیسے ‘انسان’)۔
معرف و قولِ شارح:وہ معلوم تصوری جس کے ذریعے کسی مجہول تصوری کا علم
حاصل ہو (جیسے انسان کو سمجھنے کے لیے ‘حیوانِ ناطق’ کہنا)۔
Paper: تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان
الشہادۃ الثانویۃ العامۃ (میٹرک سال دوم)
2022پانچواں پرچہ: حساب (Math)
حل شدہ پرچہ
سوال نمبر 1: (الف) خالی جگہ پر کریں۔
(i) وسطین کا حاصل ضرب = طرفین کا حاصل ضرب
(ii) 24:12 آسان ترین شکل = 2 : 1 (دونوں کو 12 پر تقسیم کرنے سے)
(iii) 48% کی کسر کی آسان شکل = 12/25 (یعنی 48/100 کو 4 پر تقسیم کرنے سے) (iv) 1.26 کی کسر کی شکل = 63/50 (یعنی 126/100 کو 2 پر تقسیم کرنے سے)
سوال نمبر 2:(i) موٹر سائیکل کے لیے پٹرول کی مقدار معلوم کریں:
2 لیٹر پٹرول = 90 کلومیٹر 1 کلومیٹر کے لیے پٹرول = 2/90 225 کلومیٹر کے لیے پٹرول = (2/90)×225=5 لیٹر جواب: 225 کلومیٹر کے لیے 5 لیٹر پٹرول درکار ہوگا۔
(ii) 50 بائسیکلوں پر سیلز ٹیکس معلوم کریں:
ایک بائسیکل کی قیمت = 3500 روپے 50 بائسیکلوں کی قیمت = 3500×50=1,75,000 روپے ٹیکس کی شرح = 16% کل سیلز ٹیکس = 1,75,000×(16/100)=28,000 روپے جواب: کل سیلز ٹیکس 28,000 روپے ہوگا۔
سوال نمبر 3: خالد کی تعلیمی کارکردگی کا موازنہ (فیصد نکال کر):
ریاضی:(46/50)×100=92%
کیمسٹری:(64/75)×100=85.33%
فزکس:(72/80)×100=90%جواب: خالد نے ریاضی میں بہترین کارکردگی دکھائی۔
سوال نمبر 4:(i) واجب الادا زکوٰۃ معلوم کریں:
شخص کی بچت = 2400 روپے بیوی کے زیور کی مالیت = 2050 روپے کل مالیت جس پر زکوٰۃ دینی ہے = 2400+2050=4450 روپے زکوٰۃ کی شرح = 2.5% (یا چالیسواں حصہ) زکوٰۃ کی رقم = 4450×(2.5/100)=111.25 روپے جواب: واجب الادا زکوٰۃ 111.25 روپے ہے۔
(ii) شہزاد کے خرچ کا فیصد: کل جیب خرچ = 40 روپے، خرچ کی گئی رقم = 24 روپے فیصد خرچ = (24/40)×100=60%جواب: شہزاد نے 60 فیصد رقم خرچ کی۔
سوال نمبر 5:(i) مثلث کے زاویوں کے درمیان نسبت:
مثلث کے تینوں زاویوں کا مجموعہ = 180 ڈگری ہوتا ہے۔
دئیے گئے دو زاویے = 54 اور 72۔ ان کا مجموعہ = 54+72=126 تیسرا زاویہ = 180−126=54 مجموعہ اور تیسرے زاویے میں نسبت = 126:54 آسان شکل (18 پر تقسیم کرنے سے) = 7 : 3
(ii) وراثت کی تقسیم (ترکہ 7,50,000 روپے):
بیوہ کا حصہ (1/8):7,50,000/8=93,750 روپے
باقی ترکہ:7,50,000−93,750=6,56,250 روپے
حصوں کی نسبت (بیٹا : بیٹا : بیٹی):2:2:1 (مجموعہ نسبت = 5)
ایک بیٹے کا حصہ:(6,56,250/5)×2=2,62,500 روپے
بیٹی کا حصہ:(6,56,250/5)×1=1,31,250 روپے جواب: بیوہ: 93,750 روپے، ہر بیٹا: 2,62,500 روپے، بیٹی: 1,31,250 روپے۔
سوال نمبر 6:(i) گاڑی کی نئی رفتار معلوم کریں:
فاصلہ = رفتار × وقت = 45×5=225 کلومیٹر نئی رفتار (اگر وقت 3 گھنٹے ہو) = فاصلہ / وقت = 225/3=75 کلومیٹر فی گھنٹہ۔
(ii) قدرتی ذرائع سے پیدا شدہ چاول پر عشر: قدرتی ذرائع (بارش وغیرہ) پر عشر کی شرح 10% ہوتی ہے۔
فصل کی مالیت = 40,000 روپے عشر کی رقم = 40,000×(10/100)=4,000 روپے۔
Paper: تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان
الشہادۃ الثانویۃ العامۃ (میٹرک سال دوم)
2022چھٹا پرچہ: انگریزی (English)
Q No 1. Translate into Urdu any two of the following paragraphs.
(a) In the fifth and sixth centuries, mankind stood on the verge of chaos. It seemed that the civilization which had taken four thousand years to grow had started crumbling.
ترجمہ: پانچویں اور چھٹی صدی میں بنی نوع انسان تباہی کے دہانے پر کھڑی تھی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ تہذیب جس نے پروان چڑھنے میں چار ہزار سال لیے تھے، اب ٹکڑے ٹکڑے ہونا (بکھرنا) شروع ہو گئی ہے۔
(b) Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah was a nation builder and a great patriot. He wanted to protect the values, culture, and traditions of the muslims of subcontinent.
ترجمہ: قائد اعظم محمد علی جناح ایک معمارِ قوم اور عظیم محبِ وطن تھے۔ وہ برصغیر کے مسلمانوں کی اقدار، ثقافت اور روایات کا تحفظ کرنا چاہتے تھے۔
(c) On the night of the migration, a tribal chief of disbelievers, Abu Jehl, in a fit of fury headed towards Hazrat Abu Bakar Siddique’s home. He began knocking at the door violently.
ترجمہ: ہجرت کی رات، کافروں کا ایک قبائلی سردار ابوجہل غصے کی حالت میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف روانہ ہوا۔ اس نے زور زور سے دروازہ کھٹکھٹانا شروع کر دیا۔
Q No 2. Write an essay of 150 words on any one of the following.(b) My Best Friend
My Best Friend Friendship is a great blessing of Allah. I have many friends but [Friend’s Name] is my best friend. He is my classmate and neighbor. He belongs to a noble family. He is very hardworking and punctual. He always speaks the truth and helps me in my studies. We go to the Madrasa together. He is very kind-hearted and respects all the teachers. All my teachers and friends like him very much. I am proud of my friend. May he live long!
Q No 3. Use any five of the following words in your own sentences.
Nation: We are a brave nation.
Door: Someone is knocking at the door.
Motherland: We should love our motherland.
Prophet: Hazrat Muhammad (ﷺ) is the last Prophet of Allah.
Quran: I recite the Holy Quran every morning.
Q.No 4. Write an application to the principal for sick leave.
To, The Principal, Jamia [Your Jamia Name], [City Name].
Subject: Application for Sick Leave
Respected Sir, With due respect, it is stated that I am suffering from fever since last night. The doctor has advised me to take complete rest for two days. Therefore, I cannot attend the Madrasa. Kindly grant me leave for two days from [Date] to [Date]. I shall be very thankful to you.
Yours obediently, [Your Name], Roll No: [Your Roll No], Class: Aama Sal-e-Dom.
Q.No 5. Answer any five of the following questions.
(1) What was the first revelation?
Answer: The first revelation was: “Read in the name of thy Lord Who created; created man from a clot (of congealed blood): Read and thy Lord is most Bountiful, Who taught (the use of) the pen, taught man that which he knew not.”
(2) How will you define patriotism?
Answer: Patriotism means love for the motherland or devotion to one’s country.
(3) Why was Hazrat Abu Quhafah (رضی اللہ عنہ) worried?
Answer: He was worried because he thought that Hazrat Abu Bakr (رضی اللہ عنہ) had taken all the wealth with him, leaving the children empty-handed and helpless.
(4) Why did the Holy Prophet (ﷺ) stay in the cave of Hira?
Answer: The Holy Prophet (ﷺ) stayed in the cave of Hira for meditation and to spend time in solitude in remembrance of Allah.
(5) What are the qualities of a patriot?
Answer: A patriot loves his country and is always ready to sacrifice his life for its sovereignty, integrity, and honor.