Tanzeem ul Madaris Solved Past Paper 2022 | PDF (طلباء کے لیے) عالیہ سال اول

کلاس: الشہادۃ العالیہ (بی اے سال اول)
پہلا پرچہ: التفسیر واصولہ (جلالین و الفوز الکبیر) – سال 2022

قسم اول: تفسیر (جلالین)

سوال نمبر 1: (الف) وَاذْكُرْ إِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ إِنَّنِي بَرَاءٌ أَيْ بَرِيءٌ مِمَّا تَعْبُدُونَ إِلَّا الَّذِي فَطَرَنِي خَلَقَنِي فَإِنَّهُ سَيَهْدِينِ يُرْشِدُنِي لِدِينِهِ پر اعراب لگائیں، ترجمہ و تشریح کریں۔
جواب: ترجمہ: اور (اے محبوب!) یاد کیجیے جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ (چچا) اور اپنی قوم سے فرمایا: بیشک میں ان سب سے بیزار ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو۔ سوائے اس کے جس نے مجھے پیدا کیا، پس بیشک وہی عنقریب مجھے اپنے دین کی طرف ہدایت دے گا۔ تشریح: حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کو دو ٹوک پیغام دیا کہ وہ شرک سے پاک ہیں اور ان کا تعلق صرف اس ایک اللہ سے ہے جو خالقِ کائنات ہے۔
سوال نمبر 1: (ب) “إذ قال” سے پہلے “اذکر” کیوں نکالا؟ “اذکر” کا مخاطب کون ہے نیز بتائیں “لأبیہ” سے کیا مراد ہے؟
جواب: “إذ” چونکہ ظرف ہے اس لیے اس کے ناصب کے طور پر فعل “اذکر” نکالا گیا تاکہ کلام مکمل ہو۔ “اذکر” کے مخاطب نبی کریم ﷺ ہیں۔ یہاں “لأبیہ” (باپ) سے مراد آپ کا چچا “آزر” ہے، کیونکہ انبیاء کے آباء و اجداد مشرک نہیں ہوتے۔
سوال نمبر 1: (ج) “براء” کون سا صیغہ ہے نیز بتائیں “إلا الذی” میں استثنا کون سا ہے؟
جواب: “براء” مصدر ہے جو صفت (بریء) کے معنی میں مبالغہ کے لیے استعمال ہوا ہے اور واحد، تثنیہ، جمع سب کے لیے یکساں استعمال ہوتا ہے۔ “إلا الذی” میں استثنا “متصل” ہے یعنی میں تمام معبودوں سے بیزار ہوں مگر اللہ سے نہیں، یا یہ استثنا “منقطع” ہے (یعنی مگر اللہ تو میرا پیدا کرنے والا ہے)۔
سوال نمبر 2: (الف) فَأَقْبَلَتِ امْرَأَتُهُ سَارَةُ فِي صَرَّةٍ صَيْحَةٍ حَالٍ أَيْ جَاءَتْ صَائِحَةً فَصَكَّتْ وَجْهَهَا لَطَمَتْهُ وَقَالَتْ عَجُوزٌ عَقِيمٌ لَمْ تَلِدْ قَطُّ کی تشکیل، ترجمہ و تشریح کریں۔
جواب: ترجمہ: پھر ان کی بیوی (سارہ) چلا کر (شور مچاتی ہوئی) آگے بڑھیں—یہ حال ہے یعنی وہ چلاتی ہوئی آئیں—پس انہوں نے اپنے چہرے پر تھپڑ مارا (حیرت سے ماتھا پیٹا) اور کہا: (میں تو) بوڑھی ہوں اور بانجھ ہوں (کبھی بچہ نہیں جنا)۔
تشریح: جب فرشتوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بڑھاپے میں بیٹے کی خوشخبری دی تو حضرت سارہ بشری تقاضے کے تحت حیران ہوئیں اور ماتھا پیٹا کہ اس عمر میں بچہ کیسے ہوگا؟
سوال نمبر 2: (ب) “عجوز عقیم” ترکیب میں کیا بنتا ہے؟ آپ نے طمانچہ کیوں مارا؟ سارہ کون تھیں؟
جواب: “عجوز عقیم” ترکیب میں خبر ہے (أنا عجوز عقیم)۔ آپ نے طمانچہ حیرت اور تعجب کی شدت کی وجہ سے مارا جو کہ عورتوں کی عادت ہے۔ حضرت سارہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زوجہ محترمہ اور حضرت اسحاق علیہ السلام کی والدہ تھیں۔
سوال نمبر 2: (ج) “بِغُلَامٍ عَلِيمٍ” کا مفہوم بیان کریں اور اس سے کون مراد ہیں؟
جواب: اس کا مفہوم ہے “ایک علم والا بیٹا”۔ اس سے مراد حضرت اسحاق علیہ السلام ہیں جن کی ولادت کی خوشخبری فرشتوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دی تھی۔
سوال نمبر 3: (الف) يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ إِذَا نَطَقْتُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ إِذَا نَطَقَ… پر اعراب لگا کر ترجمہ کریں نیز آیت کا شانِ نزول بیان کریں۔
جواب: ترجمہ: اے ایمان والو! جب تم بولو تو اپنی آوازوں کو نبی ﷺ کی آواز پر بلند نہ کرو… تاکہ تمہارے اعمال برباد نہ ہو جائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔ شانِ نزول: یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما کے بارے میں نازل ہوئی جب بنو تمیم کے وفد کے معاملے میں ان دونوں کی آوازیں نبی ﷺ کی بارگاہ میں بحث کرتے ہوئے بلند ہو گئی تھیں۔
سوال نمبر 3: (ب) بارگاہِ رسالت کے پانچ آداب تحریر کریں نیز بتائیں کیا یہ آداب وصال کے بعد بھی ہیں؟
جواب: (1) حضور ﷺ کی آواز سے آواز بلند نہ کرنا۔ (2) بات کرتے ہوئے ادب و وقار ملحوظ رکھنا۔ (3) پکارتے وقت القاب و احترام کا خیال رکھنا۔ (4) آپ ﷺ کی موجودگی میں شور نہ کرنا۔ (5) آپ ﷺ کے فیصلے پر سرِ تسلیم خم کرنا۔ یہ آداب وصال کے بعد بھی باقی ہیں کیونکہ آپ ﷺ اپنی قبر انور میں زندہ ہیں اور آپ کی سنت و حدیث کی توہین بھی بے ادبی ہے۔

قسم ثانی: اصولِ تفسیر (الفوز الکبیر)

سوال نمبر 5: (ب) قرآن پاک نے جن علومِ پنجگانہ کو صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے ان کے نام اور تعارف لکھیں۔
جواب: شاہ ولی اللہ کے مطابق علومِ پنجگانہ یہ ہیں:
  1. علم الاحکام: حلال و حرام، فرائض و واجبات کا علم۔
  2. علم مخاصمہ: چار باطل گروہوں (یہود، نصاریٰ، مشرکین، منافقین) کے عقائد کا رد۔
  3. علم تذکیر بآلاء اللہ: اللہ کی نعمتوں اور اس کی کائنات میں پھیلی نشانیوں کا ذکر۔
  4. علم تذکیر بایام اللہ: سابقہ قوموں پر آنے والے انعامات اور عذابات کا تذکرہ۔
  5. علم تذکیر بالموت وما بعدہ: موت، قبر، حشر اور جنت و دوزخ کا علم۔
سوال نمبر 5: (ج) قرآنی آیات اور اشعار میں فرق تحریر کریں۔
جواب: (1) قرآن کلامِ الٰہی ہے جبکہ شعر انسانی کلام ہے۔ (2) قرآن کا مقصد ہدایت ہے جبکہ شعر کا مقصد تخیل اور جذبات ہیں۔ (3) قرآن میں وزن اور قافیہ شعری تقاضوں کے تحت نہیں بلکہ فصاحت کے لیے ہے، جبکہ شعر بحر اور وزن کا پابند ہوتا ہے۔ (4) قرآن معجزہ ہے جس کی مثل لانا ناممکن ہے، شعر کا جواب لایا جا سکتا ہے۔
کلاس: الشہادۃ العالیہ (بی اے سال اول)
دوسرا پرچہ: الحدیث واصولہ (مشکوٰۃ المصابیح و نزہۃ النظر) – سال 2022

حصہ اول: حدیث

سوال نمبر 1: (الف) عَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ مَنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ وَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَاللهُ يُعْطِي حدیث کا ترجمہ اور حضرت امیر معاویہ کا تعارف لکھیں۔
جواب: ترجمہ: حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی سمجھ (فقہ) عطا فرما دیتا ہے، اور میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں جبکہ عطا اللہ ہی فرماتا ہے۔ تعارف: حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کاتبِ وحی ہیں، آپ نے طویل عرصے تک اسلامی سلطنت کی خدمت کی اور آپ کے دور میں بحری بیڑے کی بنیاد رکھی گئی۔
سوال نمبر 1: (ب) تفقہ فی الدین (دین کی سمجھ) کے فضائل پر نوٹ لکھیں۔
جواب: دین کی سمجھ بوجھ رکھنا اللہ کی خاص عنایت ہے؛ ایک فقیہ شیطان پر ایک ہزار عابدوں سے زیادہ بھاری ہوتا ہے۔ فقیہ وہ ہے جو حلال و حرام کے فرق کو سمجھے اور اس کے مطابق اپنی اور دوسروں کی زندگی کی اصلاح کرے۔
سوال نمبر 1: (ج) حضور ﷺ قاسمِ نعم (نعمتیں بانٹنے والے) ہیں، قرآن و سنت کے دلائل سے واضح کریں۔
جواب: حدیث میں صراحت ہے “انما انا قاسم” کہ کائنات کی تمام ظاہری اور باطنی نعمتیں اللہ کی عطا سے حضور ﷺ ہی تقسیم فرماتے ہیں۔ قرآن میں ہے: “اگر وہ اس پر راضی ہو جاتے جو اللہ اور اس کے رسول نے انہیں دیا”۔ معلوم ہوا کہ اللہ معطی ہے اور رسول ﷺ قاسم ہیں۔
سوال نمبر 2: (الف) عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَلَّمَا خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ ﷺ إِلَّا قَالَ لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ حدیث کا ترجمہ اور اعراب لکھیں۔
جواب: ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایسا کم ہی ہوتا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا ہو اور یہ نہ فرمایا ہو: اس شخص کا کوئی کامل ایمان نہیں جس میں امانت داری نہیں اور اس کا کوئی (کامل) دین نہیں جس میں عہد کی پاسداری نہیں۔
سوال نمبر 2: (ب) پاسداریِ امانت اور ایفائے عہد پر جامع نوٹ لکھیں۔
جواب: امانت صرف مال کی نہیں بلکہ راز اور عہدے کی بھی ہوتی ہے، اسے اس کے حقدار تک پہنچانا واجب ہے۔ ایفائے عہد (وعدہ پورا کرنا) مومن کی نشانی ہے جبکہ وعدہ خلافی منافق کی علامت ہے۔
سوال نمبر 3: (الف) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ خَمْسٌ رَدُّ السَّلَامِ وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ وَاتِّبَاعُ الْجَنَائِزِ وَإِجَابَةُ الدَّعْوَةِ وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ کا ترجمہ کریں۔
جواب: ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ حق ہیں: سلام کا جواب دینا، مریض کی مزاج پرسی کرنا، جنازے کے ساتھ جانا، دعوت قبول کرنا اور چھینک کا جواب دینا۔
سوال نمبر 4: (الف) عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ لَا يَبِيعُ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ وَلَا يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ إِلَّا أَنْ يَأْذَنَ لَهُ کا ترجمہ اور ترکیب کریں۔
جواب: ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی شخص اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے اور نہ ہی اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر پیغام بھیجے جب تک کہ وہ اسے اجازت نہ دے دے۔ ترکیب: “لا یبیعُ” فعل، “الرجلُ” فاعل، “علی بیعِ اخیہ” متعلق فعل (جار مجرور)۔
سوال نمبر 4: (ب) مسلمان بھائی کی بیع پر بیع سے کیوں منع کیا گیا؟ دو حکمتیں لکھیں۔
جواب: (1) اس سے مسلمانوں کے درمیان نفرت اور کینہ پیدا ہوتا ہے۔ (2) اس سے پہلے سے طے شدہ معاملے میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے جو معاشرتی بدامنی کا باعث بنتا ہے۔

حصہ دوم: اصولِ حدیث

سوال نمبر 5: (الف) حدیثِ عزیز اور مشہور سے کیا مراد ہے؟
جواب: مشہور: وہ حدیث جسے ہر طبقے میں کم از کم تین راویوں نے روایت کیا ہو۔ عزیز: وہ حدیث جسے ہر طبقے میں کم از کم دو راویوں نے روایت کیا ہو۔
سوال نمبر 5: (ب) صحاحِ ستہ سے کیا مراد ہے؟
جواب: حدیث کی وہ چھ مستند کتابیں جن پر امت کا اتفاق ہے: صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابی داؤد، سنن ترمذی، سنن نسائی اور سنن ابن ماجہ۔
سوال نمبر 5: (ج) حدیث کا لغوی و اصطلاحی معنی اور حدیثِ حسن کی تعریف لکھیں۔
جواب: لغوی معنی: نئی بات۔
اصطلاحی معنی: وہ قول، فعل یا تقریر جس کی نسبت نبی ﷺ کی طرف ہو۔
حسن: وہ حدیث جس میں صحیح والی شرائط ہوں مگر کسی راوی کا ضبط (یاداشت) تھوڑا کم ہو۔
کلاس: الشہادۃ العالیہ (بی اے سال اول)
تیسرا پرچہ: اصولِ فقہ (نور الانوار) – سال 2022

سوال نمبر 1: (الف) قیاس کی لغوی و اصطلاحی تعریف لکھیں نیز اس کی شرائطِ اربعہ میں سے کوئی دو شرطیں مع امثلہ لکھیں۔
جواب: لغوی تعریف: قیاس کا معنی ہے “اندازہ کرنا” یا “دو چیزوں کو برابر کرنا”۔ اصطلاحی تعریف: کسی ایسی چیز کا حکم جس کے بارے میں نص موجود نہ ہو، نص میں موجود کسی چیز کے حکم کی طرح ثابت کرنا اس علت کی بنیاد پر جو دونوں میں مشترک ہو۔
دو شرطیں: (1) یہ کہ قیاس نص کے مقابلے میں نہ ہو، جیسے مقتول کا وارث ہونے کے بارے میں نص موجود ہے تو وہاں قیاس نہیں چلے گا۔ (2) یہ کہ “اصل” کا حکم اپنی علت کے ساتھ دوسری جگہ منتقل ہونے کے قابل ہو، جیسے حج میں نیابت (دوسرے کی طرف سے حج) خلافِ قیاس ہے، اسے دیگر عبادات پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔
سوال نمبر 1: (ب) مذکورہ عبارت شوافع کی طرف سے احناف پر ایک اعتراض کا جواب ہے۔ آپ اعتراض و جواب وضاحت کے ساتھ لکھیں۔
جواب: اعتراض: شوافع احناف پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ آپ نے زکوٰۃ میں قیمت کی ادائیگی (ابدال) کو جائز قرار دیا ہے، حالانکہ زکوٰۃ میں نص نے خاص مال (مثلاً بکری) کا حکم دیا ہے، تو آپ نے قیاس سے نص کو کیوں بدلا؟
جواب: احناف جواب دیتے ہیں کہ زکوٰۃ میں قیمت کا جواز قیاس سے نہیں بلکہ نص سے ثابت ہے، کیونکہ زکوٰۃ کا مقصد فقراء کی حاجت پوری کرنا ہے اور قیمت (ابدال) سے یہ مقصد زیادہ بہتر طور پر حاصل ہوتا ہے۔
سوال نمبر 2: (الف) ثُمَّ الْمُسْتَحْسَنُ بِالْقِيَاسِ الْخَفِيِّ يَصِحُّ تَعْدِيَتُهُ بِخِلَافِ الْمُسْتَحْسَنِ بِالْأَثَرِ أَوِ الْإِجْمَاعِ أَوِ الضَّرُورَةِ پر اعراب لگا کر سلیس ترجمہ کریں نیز استحسان کی تعریف سپرد قلم کریں۔
جواب: ترجمہ: پھر وہ استحسان جو قیاسِ خفی (چھپے ہوئے قیاس) کی وجہ سے ہو اس کا (حکم) متعدی کرنا صحیح ہے، برخلاف اس استحسان کے جو اثر (حدیث)، اجماع یا ضرورت کی وجہ سے ہو۔
استحسان کی تعریف: کسی مسئلے میں ایک ظاہر قیاس کو چھوڑ کر کسی مضبوط دلیل یا مخفی قیاس کی وجہ سے دوسرے حکم کی طرف رجوع کرنا استحسان کہلاتا ہے۔
سوال نمبر 2: (ب) قیاسِ جلی کے مقابل استحسان بالنص اور استحسان بالضرورت کی امثلہ وضاحت کے ساتھ لکھیں۔
جواب: استحسان بالنص: قیاسِ جلی کا تقاضا ہے کہ روزے کی حالت میں بھول کر کھانے سے روزہ ٹوٹ جائے (کیونکہ روزہ ترک ہوا)، مگر نص (حدیث) کی وجہ سے ہم کہتے ہیں کہ روزہ نہیں ٹوٹتا۔
استحسان بالضرورت: قیاس کا تقاضا ہے کہ کنوئیں میں گندگی گرنے سے وہ کبھی پاک نہ ہو (کیونکہ پانی محدود ہے)، مگر ضرورت کی وجہ سے حکم دیا گیا کہ مخصوص ڈول نکالنے سے کنواں پاک ہو جائے گا۔
سوال نمبر 3: (الف) وَأَمَّا حُكْمُهُ فَتَعْدِيَةُ حُكْمِ النَّصِّ إِلَى مَا لَا نَصَّ فِيهِ لِيَثْبُتَ فِيهِ بِغَالِبِ الرَّأْي عَلَى احْتِمَالِ الْخَطَاءِ پر اعراب لگا کر سلیس ترجمہ کریں۔
جواب: ترجمہ: اور بہرحال قیاس کا حکم نص کے حکم کو ایسی جگہ منتقل کرنا (متعدی کرنا) ہے جس کے بارے میں نص موجود نہیں، تاکہ اس میں (حکم) غالب گمان کے ساتھ ثابت ہو جائے باوجود خطا کے احتمال کے۔
سوال نمبر 3: (ب) تعدیہِ حکم سے کیا مراد ہے؟ احناف و شوافع کے اختلاف کی روشنی میں مثال کے ذریعے وضاحت فرمائیں۔
جواب: تعدیہِ حکم کا مطلب ہے کسی علت کی بنیاد پر اصل کا حکم فرع (نئی چیز) میں جاری کرنا۔ احناف کے نزدیک علت کا مقصد ہی حکم کو آگے پہنچانا ہے، جبکہ شوافع کے نزدیک علت بغیر تعدیہ کے بھی صحیح ہو سکتی ہے۔
مثال: احناف کے نزدیک سونا اور چاندی ہونے میں علت “ثمنیت” ہے تاکہ اسے دوسری چیزوں تک متعدی کیا جا سکے، جبکہ شوافع کے نزدیک ثمنیت صرف سونے چاندی تک محدود ہو سکتی ہے۔
سوال نمبر 4: (الف) وَأَمَّا فَسَادُ الْوَضْعِ فَمِثْلُ تَعْلِيلِهِمْ لِإِيجَابِ الْفُرْقَةِ بِإِسْلَامِ أَحَدِ الزَّوْجَيْنِ… پر اعراب لگا کر سلیس ترجمہ کریں نیز فسادِ وضع کی تعریف لکھیں۔
جواب: ترجمہ: اور بہرحال فسادِ وضع کی مثال ان (شوافع) کی یہ دلیل ہے کہ میاں بیوی میں سے ایک کے اسلام لانے سے جدائی واجب ہو جائے (نکاح ٹوٹ جائے)۔ فسادِ وضع کی
تعریف: کسی ایسی چیز کو علت بنانا جو حکم کے الٹ اثر رکھتی ہو، جیسے اسلام کو نکاح توڑنے کی علت بنانا حالانکہ اسلام رشتوں کو جوڑنے اور مضبوط کرنے کے لیے آیا ہے۔
سوال نمبر 5: (الف) وَأَمَّا رُكْنُهُ فَمَا جُعِلَ عَلَمًا عَلَى حُكْمِ النَّصِّ مِمَّا اشْتَمَلَ عَلَيْهِ النَّصُّ… پر اعراب لگا کر سلیس ترجمہ کریں۔
جواب: ترجمہ: اور بہرحال قیاس کا رکن وہ وصف ہے جسے نص کے حکم پر علامت بنایا گیا ہو ان چیزوں میں سے جن پر نص مشتمل ہے، اور فرع کو اس کے حکم میں اس (وصف) کے پائے جانے کی وجہ سے اصل کی طرح قرار دیا گیا ہو۔
کلاس: الشہادۃ العالیہ (بی اے سال اول)
چوتھا پرچہ: فقہ (ہدایہ اولین) – سال 2022

سوال نمبر 1: (الف) وَإِذَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ طَلَاقًا بَائِنًا أَوْ رَجْعِيًّا لَمْ يَجُزْ لَهُ أَنْ يَتَزَوَّجَ بِأُخْتِهَا حَتَّى تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا پر اعراب لگا کر ترجمہ کریں۔
جواب: ترجمہ: اور جب کسی شخص نے اپنی بیوی کو طلاقِ بائن یا رجعی دی، تو اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس کی بہن سے نکاح کرے جب تک کہ اس (مطلقہ بیوی) کی عدت مکمل نہ ہو جائے۔
سوال نمبر 1: (ب) مذکورہ مسئلہ میں اختلافِ ائمہ مع دلائل بیان کریں۔
جواب: احناف کے نزدیک عدت کے دوران بہن سے نکاح جائز نہیں کیونکہ عدت کے دوران بھی نکاح کے کچھ اثرات باقی رہتے ہیں، لہذا یہ “جمع بین الاختین” (دو بہنوں کو ایک ساتھ نکاح میں رکھنا) کے حکم میں آئے گا جو حرام ہے۔ امام شافعی کے نزدیک طلاقِ بائن کی صورت میں عدت کے دوران بہن سے نکاح جائز ہے کیونکہ بائن سے نکاح کا تعلق مکمل ختم ہو جاتا ہے۔
سوال نمبر 1: (ج) حالتِ احرام میں نکاح کے بارے میں اختلافِ ائمہ بالتفصیل لکھیں۔
جواب: امام شافعی، مالک اور احمد بن حنبل کے نزدیک محرم (احرام والا) کے لیے نکاح کرنا جائز نہیں اور ایسا نکاح باطل ہے۔
امام ابو حنیفہ کے نزدیک حالتِ احرام میں نکاح کرنا جائز ہے مگر جماع کرنا حرام ہے۔
احناف کی دلیل حضرت ابن عباس کی روایت ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت میمونہ سے نکاح فرمایا جبکہ آپ احرام میں تھے۔
سوال نمبر 2: (الف) وَتُعْتَبَرُ الْكَفَاءَةُ أَيْضًا فِي الدِّينِ وَتُعْتَبَرُ فِي الْمَالِ عبارت کا ترجمہ کریں۔ کفاءت کا لغوی اور اصطلاحی معنی لکھیں۔
جواب: ترجمہ: اور کفاءت (برابری) کا اعتبار دین میں بھی کیا جائے گا اور مال میں بھی کیا جائے گا۔
لغوی معنی: برابری اور مساوات۔ اصطلاحی معنی:
نکاح کے معاملے میں مرد کا عورت کے برابر ہونا تاکہ رشتہ نباہنے میں آسانی ہو اور اولیاء کے لیے باعثِ عار نہ ہو۔
سوال نمبر 2: (ب) کفاءت فی الدین میں امام صاحب اور امام محمد کا اختلاف دلائل کے ساتھ بیان کریں۔
جواب: امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف کے نزدیک کفاءت فی الدین کا مطلب پرہیزگاری ہے (یعنی فاسق، صالحہ عورت کا کفو نہیں)۔
امام محمد کے نزدیک دین میں کفاءت معتبر نہیں جب تک کہ وہ شخص اعلانیہ فسق و فجور نہ کرتا ہو یا اس کے گناہ حد سے نہ بڑھ گئے ہوں۔
سوال نمبر 2: (ج) کتنے مال میں کفاءت معتبر ہے؟ کیا فقیر عورت غنی کا کفو ہو سکتی ہے؟
جواب: مال میں کفاءت اس حد تک معتبر ہے کہ مرد مہرِ معجل اور نان و نفقہ دینے کی طاقت رکھتا ہو۔
احناف کے نزدیک فقیر عورت غنی (مالدار) مرد کا کفو ہو سکتی ہے، کیونکہ مرد کا مرتبہ بلند ہونا عورت کے لیے باعثِ عار نہیں، لیکن مرد کا عورت سے بہت کم تر ہونا اولیاء کے لیے باعثِ عار ہو سکتا ہے۔
سوال نمبر 3: (الف) اَلطَّلَاقُ عَلَى ضَرْبَيْنِ صَرِيحٌ وَكِنَايَةٌ فَالصَّرِيحُ قَوْلُهُ أَنْتِ طَالِقٌ وَمُطَلَّقَةٌ وَطَلَّقْتُكِ… عبارت پر اعراب لگا کر نفس مسئلہ کی وضاحت کریں۔
جواب: وضاحت: طلاق کے دو طریقے ہیں: (1) صریح: وہ الفاظ جو طلاق کے لیے ہی بنے ہیں، ان سے طلاقِ رجعی واقع ہوتی ہے چاہے نیت ہو یا نہ ہو۔
کنایہ: وہ الفاظ جن میں طلاق اور غیر طلاق دونوں کا احتمال ہو، ان سے نیت کے بغیر
(2) طلاق واقع نہیں ہوتی اور واقع ہو تو طلاقِ بائن ہوتی ہے۔
سوال نمبر 3: (ب) طلاقِ حسن، احسن اور بدعی میں سے ہر ایک کی تعریف اور حکم بیان کریں۔
جواب: احسن: ایک طلاقِ رجعی پاکیزگی (طہر) میں دینا جس میں جماع نہ کیا ہو۔
حسن: تین طہروں میں تین طلاقیں الگ الگ دینا۔ بدعی: حیض کی حالت میں طلاق دینا یا ایک ہی کلمہ سے تین طلاقیں دینا؛ یہ طریقہ گناہ ہے مگر طلاق واقع ہو جاتی ہے۔
سوال نمبر 3: (ج) نکاحِ متعہ کی تعریف و حکم سپردِ قرطاس کریں۔
جواب: تعریف: کسی عورت سے ایک متعین وقت (مثلاً ایک ماہ یا ایک سال) کے لیے مال کے بدلے نفع اٹھانے کا معاہدہ کرنا۔
حکم: نکاحِ متعہ باطل اور حرام ہے، اسلام کے ابتدائی دور میں اس کی اجازت تھی مگر بعد میں قیامت تک کے لیے اسے حرام قرار دے دیا گیا۔
سوال نمبر 4: (الف) درج ذیل اصطلاحات کی تعریفیں کریں۔ جواب:
  1. خلوتِ صحیحہ: میاں بیوی کا ایسی جگہ تنہائی میں ملنا جہاں جماع میں کوئی حسی (بیماری)، شرعی (روزہ، احرام) یا طبعی رکاوٹ نہ ہو۔
  2. خلع: عورت کا شوہر کو کچھ مال دے کر نکاح ختم کرنے کا مطالبہ کرنا۔
  3. ایلاء: شوہر کا چار ماہ یا اس سے زیادہ مدت تک بیوی سے جماع نہ کرنے کی قسم کھانا۔
  4. ظہار: شوہر کا اپنی بیوی کو اپنی محرم عورت (جیسے ماں) کے کسی عضو سے تشبیہ دینا۔
سوال نمبر 4: (ب) اکثر مدتِ حمل کتنی ہے؟
جواب: امام ابو حنیفہ کے نزدیک حمل کی زیادہ سے زیادہ مدت دو سال ہے
(دلیل: حضرت عائشہ صدیقہ کا قول کہ بچہ دو سال سے زیادہ پیٹ میں نہیں رہتا)۔
کلاس: الشہادۃ العالیہ (بی اے سال اول)
پانچواں پرچہ: الادب العربی والبلاغہ (مقاماتِ حریری و مختصر المعانی) –
سال 2022

القسم الأول: عربی ادب (مقاماتِ حریری)

سوال نمبر 1: (الف) فَرَأَيْتُ فِي بَهْرَةِ الْحَلْقَةِ شَخْصًا شَخْتَ الْخِلْقَةِ عَلَيْهِ أُهْبَةُ السَّيَاحَةِ وَلَهُ رَنَّةُ النِّيَاحَةِ… پر اعراب لگا کر سلیس ترجمہ کریں۔
جواب: ترجمہ: پس میں نے مجمع کے درمیان ایک دبلے پتلے جثے کا شخص دیکھا، جس پر سیاحت (مسافرت) کے آثار تھے اور اس کی آواز میں گریہ و زاری کی کیفیت تھی۔ وہ اپنے موتیوں جیسے الفاظ سے مقفیٰ کلام بنا رہا تھا اور اپنے وعظ کی نصیحتوں سے لوگوں کے کان کھول رہا تھا۔ لوگوں کی ٹولیاں اس کے گرد اس طرح جمع تھیں جیسے چاند کے گرد ہالہ اور کھجور کے خوشے کے گرد غلاف ہوتا ہے۔ میں اس کی طرف مائل ہوا تاکہ اس کے فوائد سے کچھ حاصل کروں اور اس کی انوکھی باتوں کو چن لوں۔ پس میں نے اسے اپنی جولان گاہ میں تیزی سے یہ کہتے ہوئے سنا:
سوال نمبر 1: (ب) خط کشیدہ مفردات کی جمع اور جمع کے مفردات لکھیں۔ جواب:
  1. حلقۃ: جمع: حَلَق، حَلَقَات
  2. شخص: جمع: أَشْخَاص
  3. أُهْبَة: جمع: أُهَب
  4. جواهر: مفرد: جَوْهَرَة
  5. فرائد: مفرد: فَرِيدَة
سوال نمبر 2: (الف) تَعَارَجْتُ لِأَغْرِبَةِ فِي الْعَرَجِ وَلَكِنْ لِأَقْرَعَ بَابَ الْفَرَجِ… پر اعراب لگا کر سلیس ترجمہ کریں۔
جواب: ترجمہ: (ابوزید نے کہا) میں نے لنگڑا کر چلنے کا تکلف کیا تاکہ میں لنگڑوں کی طرح لگوں، لیکن میرا مقصد اس سے صرف کامیابی (راحت) کا دروازہ کھٹکھٹانا تھا۔ میں نے اپنی لگام اپنے کندھے پر ڈال دی (آزاد ہو گیا) اور اسی راستے پر چل پڑا جس پر پہلے لوگ گزر چکے ہیں۔ پس اگر لوگ مجھے ملامت کریں تو میں کہوں گا کہ معذور سمجھو، کیونکہ لنگڑے پر کوئی حرج (تنگی) نہیں ہے۔
سوال نمبر 2: (ب) خط کشیدہ الفاظ کے باب اور صیغے بتائیں۔ جواب:
  1. أتقلب: باب تفعّل، صیغہ واحد متکلم مضارع معروف۔
  2. انشد: باب نصر، صیغہ واحد مذکر غائب ماضی معروف۔
  3. اعذروا: باب ضرب، صیغہ جمع مذکر حاضر امر معروف۔
  4. أقرع: باب فتح، صیغہ واحد متکلم مضارع معروف۔

القسم الثانی: بلاغت (مختصر المعانی)

سوال نمبر 4: (الف) ثُمَّ قَالَ السَّكَّاكِيُّ وَشَرْطُ جَعْلِ الْمُنَكَّرِ مِنْ هَذَا الْبَابِ وَاعْتِبَارِ التَّقْدِيمِ وَالتَّأْخِيرِ فِيهِ… پر اعراب لگا کر ترجمہ کریں۔
جواب: ترجمہ: پھر سکاکی نے فرمایا: اور اسمِ نکرہ کو اس باب (تقدیم و تاخیر) سے بنانے اور اس میں تقدیم و تاخیر کا اعتبار کرنے کی شرط یہ ہے کہ تخصیص سے کوئی مانع (رکاوٹ) نہ ہو، جیسے تمہارا قول “رجلٌ جاءنی” (ایک مرد میرے پاس آیا) جیسا کہ پہلے گزرا، کیونکہ اس کا معنی یہ ہے کہ ایک مرد آیا ہے نہ کہ عورت، یا ایک مرد آیا ہے نہ کہ دو۔ برخلاف اہل عرب کے اس قول کے “شرٌّ أهرَّ ذا نابٍ” (کسی بڑی برائی نے کتے کو بھونکنے پر مجبور کیا)۔
سوال نمبر 5: درج ذیل میں سے پانچ کی تعریفات و امثال لکھیں۔ جواب:
  1. تتابعِ اضافات: پے در پے کئی اسموں کو مضاف مضاف الیہ بنانا جس سے کلام بوجھل ہو جائے۔ مثال: “حمامةَ جُرَیٍّ حومةَ الجندلِ”۔
  2. مخالفتِ قیاس: کلمہ کا صرفی قواعد کے خلاف ہونا۔ مثال: “الحمدُ لله العليِّ الأجللِ” (قاعدہ کے خلاف ادغام نہ کرنا)۔
  3. تنافرِ کلمات: کلمات کا ایک ساتھ بولنے میں زبان پر دشوار ہونا۔ مثال: “وقبرُ حربٍ بمكانٍ قفرٍ”۔
  4. تعقیدِ لفظی: الفاظ کی ترتیب ایسی الٹ پلٹ ہونا کہ معنی سمجھنا مشکل ہو جائے۔ مثال: “فأصبحتْ بعدَ خطٍّ بهجتُها”۔
  5. حشو: کلام میں ایسا زائد لفظ لانا جس کا کوئی فائدہ نہ ہو۔ مثال: “واعلمْ علمَ اليومِ والأمسِ قبلَه” (لفظ ‘قبلہ’ یہاں حشو ہے
سوال نمبر 6: (الف) حقیقتِ عقلیہ کی تعریف اور اس کی دو اقسام کی امثلہ دیں۔
جواب: تعریف: فعل یا معنیِ فعل کی اسناد اس چیز کی طرف کرنا جو متکلم کے نزدیک حقیقت میں فاعل ہو۔
اقسام: (1) طرفین اور اسناد دونوں حقیقت ہوں: جیسے “أنبتَ اللهُ البقلَ” (اللہ نے سبزی اگائی)۔ (2) طرفین مجاز ہوں مگر اسناد حقیقت ہو: جیسے “أحيَا الأرضَ شبابُ الزمانِ”۔
سوال نمبر 6: (ب) مجازِ عقلی کی تعریف اور قرآن سے دو مثالیں دیں۔
جواب: تعریف: فعل یا معنیِ فعل کی اسناد غیر ملابس (جس کا وہ کام نہیں) کی طرف کرنا کسی تعلق کی وجہ سے۔ قرآن میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔
مثال 1: “يُذَبِّحُ أَبْنَاءَهُمْ” (وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرتا تھا) یہاں ذبح کی نسبت فرعون کی طرف ہے جبکہ ذبح لشکری کر رہے تھے۔
مثال 2: “فَمَا رَبِحَتْ تِجَارَتُهُمْ” (پس ان کی تجارت نے نفع نہ دیا) یہاں نفع کی نسبت تجارت کی طرف ہے جبکہ نفع تاجر کو ہوتا ہے۔
کلاس: الشہادۃ العالیہ (بی اے سال اول)
چھٹا پرچہ: العقائد والمنطق (شرح العقائد و شرح تہذیب) – سال 2022

حصہ اول: عقائد

سوال نمبر 1: (الف) قَالَ أَهْلُ الْحَقِّ حَقَائِقُ الْأَشْيَاءِ ثَابِتَةٌ وَالْعِلْمُ بِهَا مُتَحَقِّقٌ خِلَافًا لِلسُّوفَسْطَائِيَّةِ وَأَسْبَابُ الْعِلْمِ لِلْخَلْقِ ثَلَاثَةٌ پر اعراب لگا کر ترجمہ و سوفسطائیہ کا موقف لکھیں۔
جواب: ترجمہ: اہل حق (علماء) نے فرمایا کہ اشیاء کی حقیقتیں ثابت ہیں اور ان کا علم حاصل ہونا یقینی ہے، برخلاف سوفسطائیہ کے، اور مخلوق کے لیے علم حاصل ہونے کے تین اسباب (حواسِ خمسہ، خبرِ صادق، عقل) ہیں۔
سوفسطائیہ کا موقف: سوفسطائیہ حقائقِ اشیاء کے منکر ہیں۔ ان میں “عنادیہ” وہ ہیں جو سرے سے اشیاء کے وجود کے منکر ہیں، “عندیہ” وہ ہیں جو کہتے ہیں حقائق تابعِ عقیدہ ہیں، اور “لا ادریہ” وہ ہیں جو کہتے ہیں ہمیں کچھ معلوم نہیں کہ حقائق ہیں یا نہیں۔
سوال نمبر 1: (ب) اللہ تعالیٰ کی صفاتِ ازلیہ قائم بذاتہ میں سے کوئی سی پانچ صفات تحریر کریں۔
جواب: (1) حیات: اللہ تعالیٰ زندہ ہے (2) علم: وہ ہر چیز کو جاننے والا ہے (3) قدرت: وہ ہر ممکن چیز پر قادر ہے (4) ارادہ: وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے (5) کلام: وہ کلام فرمانے والا ہے۔
سوال نمبر 2: (الف) آثارِ صالحین سے برکت حاصل کرنا جائز ہے یا نہیں؟ دو دلیلیں تحریر کریں۔
جواب: آثارِ صالحین سے برکت حاصل کرنا جائز و مستحسن ہے۔
دلیل 1: قرآن پاک میں حضرت یوسف علیہ السلام کی قمیص سے حضرت یعقوب علیہ السلام کی آنکھوں کی بینائی لوٹ آنے کا ذکر ہے۔
دلیل 2: صحابہ کرام حضور ﷺ کے وضو کے پانی اور موئے مبارک سے برکت حاصل کرتے تھے۔
سوال نمبر 2: (ب) کرامت کی تعریف کریں نیز بتائیں کہ اولیاء اللہ کے لیے کرامات ثابت ہیں یا نہیں؟ قرآن و حدیث سے دلیل لکھیں۔
جواب: تعریف: مدعیِ نبوت کے علاوہ کسی برگزیدہ بندے (ولی) کے ہاتھ پر خلافِ عادت کام کا ظاہر ہونا کرامت ہے۔
اولیاء کے لیے کرامات حق ہیں۔ دلیل (قرآن): حضرت مریم کے پاس بے موسمی پھلوں کا آنا۔ دلیل (حدیث): حضرت عمر کا مدینہ سے “یا ساریۃ الجبل” پکارنا اور ایران میں لشکر کا سن لینا۔
سوال نمبر 3: درج ذیل عنوانات پر ایک ایک دلیل تحریر کریں۔ جواب:
  1. البدعۃ الحسنہ: حضرت عمر کا تراویح کو باجماعت جمع کرنا اور اسے “نعمت البدعۃ” فرمانا۔
  2. التوسل: حضرت آدم علیہ السلام کا نبی کریم ﷺ کے وسیلے سے دعا مانگنا۔
  3. تقبیل القبور: حضرت بلال کا مزارِ اقدس پر حاضر ہو کر اپنی پیشانی رگڑنا اور چومنا۔

حصہ دوم: منطق

سوال نمبر 4: (الف) دلالاتِ ثلاثہ مطابقی، تضمنی اور التزامی کی تعریفات و امثلہ لکھیں۔
جواب: (1) مطابقی: لفظ کا پورے معنی پر دلالت کرنا، جیسے “انسان” سے “حیوانِ ناطق” مراد لینا۔ (2) تضمنی: لفظ کا معنی کے جز پر دلالت کرنا، جیسے “انسان” سے صرف “ناطق” مراد لینا۔ (3) التزامی: لفظ کا ایسے معنی پر دلالت کرنا جو معنی کا حصہ نہ ہو مگر اس سے جدا نہ ہو، جیسے “انسان” سے “لکھنے کی صلاحیت” مراد لینا۔
سوال نمبر 4: (ب) معرف اور دلیل کی تعریفات اور وجہ تسمیہ لکھیں۔
جواب: معرف (قولِ شارح): وہ معلوم تصوری جس سے نامعلوم تصور حاصل ہو؛ وجہ تسمیہ یہ ہے کہ یہ حقیقت کی شرح کرتا ہے۔
دلیل (حجت): وہ معلوم تصدیقی جس سے نامعلوم تصدیق حاصل ہو؛ وجہ تسمیہ یہ ہے کہ یہ مد مقابل پر غلبہ پانے کا ذریعہ ہے۔
سوال نمبر 5: (الف) عبارت (الکلیان متساویان…) کا ترجمہ کریں اور تین امثلہ تحریر کریں۔
جواب: ترجمہ: دو کلیاں متساوی ہیں اگر ایک کا صدق دوسرے پر برابر ہو؛ اور عموم و خصوص مطلق ہے اگر ایک کا صدق دوسرے پر ہو مگر الٹ نہ ہو؛ اور عموم و خصوص من وجہ ہے اگر ہر ایک کا صدق دوسرے کے بعض پر ہو۔ امثلہ: (1) متساویان: انسان اور ناطق (2) عموم و خصوص مطلق: حیوان اور انسان (3) عموم و خصوص من وجہ: حیوان اور سفید۔
سوال نمبر 6: (الف) عبارت (واعلم ان المشهور…) کا ترجمہ کریں۔
جواب: ترجمہ: اور جان لو کہ قوم میں مشہور یہ ہے کہ علم یا تو تصور ہے یا تصدیق، مگر مصنف نے اس سے عدول کیا اور “تصورِ ساذج” اور “تصدیق” کی طرف گیا، اور اس عدول کی وجہ مشہور تقسیم پر دو طرح سے اعتراض کا وارد ہونا ہے۔
سوال نمبر 6: (ب) علم کی مشہور تقسیم پر دو وجہ سے اعتراض تحریر کریں۔
جواب: (1) تقسیمِ مشہور میں “تصور” کو مقسم اور قسم دونوں بنایا گیا ہے جو کہ عقلی طور پر درست نہیں (2) اس سے یہ وہم ہوتا ہے کہ تصدیق، تصور کی قسم نہیں ہے حالانکہ تصدیق بھی ایک نوع کا تصور ہی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *