Tanzeem ul Madaris Solved Past Paper 2022 | PDF (طلباء کے لیے) عالمیہ سال دوم


حل ورقة صحيح البخاري – العالمية السنة الثانية (2022)

سؤال الأول: بدء الوحي وموقف السيدة خديجة رضي الله عنها
السؤال (i): ترجم النص إلى الأردية واذكر من أين وإلى أين رجع رسول الله ﷺ؟
الجواب: ترجمہ: “رسول اللہ ﷺ اس (وحی) کے ساتھ واپس آئے اس حال میں کہ آپ کا دل دھک دھک کر رہا تھا، آپ حضرت خدیجہ بنت خویلدؓ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: مجھے چادر اڑھا دو، مجھے چادر اڑھا دو۔ انہوں نے چادر اڑھا دی یہاں تک کہ آپ کا ڈر دور ہو گیا۔ آپ نے خدیجہؓ کو سارا واقعہ سنایا اور فرمایا: مجھے اپنی جان کا خوف ہے۔ حضرت خدیجہؓ نے کہا: ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔” رسول اللہ ﷺ غارِ حراء سے واپس اپنے گھر مکہ مکرمہ تشریف لائے تھے۔
السؤال (ii): ما هي الأسوة الحسنة التي ذكرت خديجة رضي الله عنها في هذا الحديث ولم أحس النبي ﷺ خشية على نفسه؟
الجواب: حضرت خدیجہؓ نے آپ ﷺ کے پانچ بلند اوصاف ذکر کیے: صلہ رحمی کرنا، بے کسوں کا بوجھ اٹھانا، غریبوں کی مدد کرنا، مہمان نوازی کرنا اور حق کی راہ میں آنے والی مصیبتوں میں مدد کرنا۔ نبی ﷺ کو اپنی جان کا خوف اس لیے ہوا کہ وحی کا بوجھ اور حضرت جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصل ہیبت ناک صورت میں دیکھنا ایک غیر معمولی انسانی تجربہ تھا، جس سے بشری طور پر آپ کو تھکن اور گھبراہٹ محسوس ہوئی۔
السؤال (iii): اكتب أطروحة بالاختصار على هدى السيدة خديجة رضي الله عنها مشتملة على عشرة أسطر.
الجواب: سیدہ خدیجہؓ کی زندگی بصیرت اور وفاداری کا بہترین نمونہ ہے۔ انہوں نے نبوت کے ابتدائی اور مشکل ترین دور میں رسول اللہ ﷺ کو وہ سکون اور حوصلہ فراہم کیا جس کی اس وقت اشد ضرورت تھی۔ آپ نے نہ صرف اپنے مال سے اسلام کی خدمت کی بلکہ اپنی فہم و فراست سے حضور ﷺ کے اخلاقِ عالیہ کو نبوت کی دلیل قرار دیا۔ آپ کی زندگی سے یہ سبق ملتا ہے کہ ایک نیک سیرت خاتون اپنے شوہر کے لیے مشکل حالات میں سب سے بڑی ڈھال ہوتی ہے۔ آپ تاریخِ اسلام کی پہلی مومنہ ہیں جنہوں نے شک کے بغیر حق کی تصدیق کی اور تادمِ مرگ آپ ﷺ کے مشن میں شانہ بشانہ کھڑی رہیں۔

سؤال الثاني: فتنة القتال بين المسلمين
السؤال (i): شكل الحديث وترجمه إلى الأردية.
الجواب: عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: ذَهَبْتُ لِأَنْصُرَ هَذَا الرَّجُلَ فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرَةَ فَقَالَ: أَيْنَ تُرِيدُ؟ قُلْتُ: أَنْصُرُ هَذَا الرَّجُلَ. قَالَ: ارْجِعْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: “إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ”. قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ؟ قَالَ: “إِنَّهُ كَانَ حَرِيصًا عَلَى قَتْلِ صَاحِبِهِ”. ترجمہ: حضرت احنف بن قیس سے روایت ہے کہ میں اس شخص (حضرت علیؓ) کی مدد کے لیے نکلا تو مجھے ابوبکرہؓ ملے، انہوں نے پوچھا کہاں جا رہے ہو؟ میں نے کہا اس شخص کی مدد کے لیے۔ انہوں نے کہا واپس چلے جاؤ، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: “جب دو مسلمان اپنی تلواریں لے کر آمنے سامنے آ جائیں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں ہوں گے۔” میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! قاتل تو سمجھ آتا ہے، مقتول کیوں؟ فرمایا: “اس لیے کہ وہ بھی اپنے ساتھی کو قتل کرنے کا حریص (خواہشمند) تھا۔”
السؤال (ii): من هو الرجل في “أنصر هذا الرجل” وما أمره؟
الجواب:ہذا الرجل” سے مراد خلیفہ چہارم حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم ہیں۔ ان کا معاملہ اس فتنہ اور خانہ جنگی (جنگِ جمل و صفین) کے متعلق تھا جو صحابہ کرام کے درمیان اجتہادی اختلاف کی بنا پر پیدا ہوئی تھی۔
السؤال (iii): ماذا استدل أبو بكرة من هذا الحديث وما فعل الأحنف بعدما سمع قول أبي بكرة؟
الجواب: حضرت ابوبکرہؓ نے اس حدیث سے یہ استدلال کیا کہ مسلمانوں کی باہمی جنگ و فتنہ میں کسی بھی فریق کا ساتھ دینے سے کنارہ کشی اختیار کرنا واجب ہے تاکہ قتلِ مسلم سے بچا جا سکے۔ حضرت احنف بن قیس نے جب یہ حدیث سنی تو وہ اپنا ارادہ ترک کر کے واپس لوٹ گئے۔
السؤال (iv): ما مذهب أهل السنة في هذا الأمر “القاتل والمقتول في النار”؟
الجواب: اہل سنت کے نزدیک یہ وعید ان لوگوں کے لیے ہے جو ناحق، ظلم یا دنیاوی جاہ و منصب کے لیے لڑیں۔ جہاں تک صحابہ کرام کا تعلق ہے، وہ مجتہد تھے؛ ان میں سے ایک فریق حق پر تھا اور دوسرا خطا پر، مگر دونوں کی نیت دین کی اصلاح تھی، اس لیے ان پر یہ وعید منطبق نہیں ہوتی۔

سؤال الثالث: إصابة سعد بن معاذ رضي الله عنه والمسائل الفقهية
السؤال (i): ترجم إلى الأردية واذكر التحقيق الصرفي للكلمات المخطوط عليها (أُصِيبَ، يَسِيلُ، جُرْحُهُ).
الجواب: ترجمہ: حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حضرت سعدؓ خندق کے دن زخمی ہوئے، ان کی اکحل (بازو کی رگ) پر چوٹ لگی، تو نبی ﷺ نے مسجد میں ان کے لیے خیمہ لگایا تاکہ قریب سے ان کی عیادت کر سکیں۔ اچانک خون بہہ کر ان کی طرف آ رہا تھا، تو حضرت سعدؓ کا زخم پھٹ گیا تھا اور اسی میں ان کا انتقال ہوا۔ التحقيق الصرفي: (1) أُصِيبَ: فعل ماضی مجہول، واحد مذکر غائب، باب افعال، مادہ (ص و ب)۔ (2) يَسِيلُ: فعل مضارع معروف، واحد مذکر غائب، مادہ (س ي ل)، باب ضرب۔ (3) جُرْحُهُ: اسم، واحد، مادہ (ج ر ح)۔
السؤال (ii): استدل من هذا الحديث الإمام مالك والإمام أحمد على أن النجاسة ليست إزالتها بفرض كيف استدلا وما جوابهما من الأحناف وما هو مذهب الإمام الشافعي فيه؟
الجواب: استدلال: امام مالکؒ و احمدؒ نے استدلال کیا کہ مسجد میں خون بہنے کے باوجود حضور ﷺ نے حضرت سعدؓ کو وہاں سے نہیں نکالا، جس سے معلوم ہوا کہ مسجد سے نجاست ہٹانا فرضِ قطعی نہیں۔ جوابِ احناف: احناف فرماتے ہیں کہ یہ ایک ہنگامی صورتحال تھی اور جیسے ہی خون بہنے کا پتہ چلا، صفائی کی گئی یا انہیں منتقل کیا گیا، اس لیے یہ فرضیتِ طہارت کے خلاف نہیں۔ امام شافعیؒ: آپ کے نزدیک خون نجس ہے اور اس کا دھونا فرض ہے، مگر قلیل خون معاف ہے۔

سؤال الرابع: حول الإمام البخاري وكتابه
السؤال (i): اذكر اسم البخاري واسم كتابه الذي سماه نفسه.
الجواب: امام بخاری کا نام محمد بن اسماعيل البخاري ہے اور ان کی کتاب کا مکمل نام “الجامع المسند الصحيح المختصر من أمور رسول الله صلى الله عليه وسلم وسننه وأيامه” ہے۔
السؤال (ii): أي الأحاديث التي التزمها البخاري في تأليفه وبأي اهتمام كتب الحديث في مصنفه؟
الجواب: آپ نے صرف “صحیح” احادیث کا التزام کیا۔ آپ انتہائی اہتمام فرماتے تھے کہ ہر حدیث لکھنے سے پہلے غسل کرتے، دو رکعت نفل پڑھتے اور استخارہ کرتے تھے۔
السؤال (iii): ما هو عدد المرويات للبخاري بالتكرار وبدون التكرار؟
الجواب: تکرار کے ساتھ احادیث کی تعداد 7275 ہے، اور بغیر تکرار کے تقریباً 2602 احادیث ہیں۔
السؤال (iv): كم حديثاً ثلاثياً في كتابه وما هو المراد بالحديث الثلاثي؟
الجواب: صحیح بخاری میں 22 ثلاثی احادیث ہیں۔ حدیثِ ثلاثی وہ ہے جس کی سند میں امام بخاری اور نبی کریم ﷺ کے درمیان صرف تین راوی ہوں۔
السؤال (v): في أي سنة صنف هذا الكتاب وبكم مدة؟
الجواب: یہ کتاب 16 سال کے عرصے میں مکمل ہوئی اور اس کی تالیف کا آغاز تقریباً 217ھ کے قریب ہوا تھا۔

حل شدہ پرچہ: صحیح مسلم (عالمیہ سال دوم – 2022)

سوال نمبر 1: نذر (منت) کے احکام
سوال (الف): حدیثِ مبارکہ پر اعراب لگائیں اور اس کا اردو ترجمہ کریں۔
جواب: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَوْمًا يَنْهَانَا عَنِ النَّذْرِ وَيَقُولُ: “إِنَّهُ لَا يَرُدُّ شَيْئًا وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الشَّحِيحِ”۔ ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ ہمیں نذر ماننے سے منع فرمانے لگے اور فرمایا: “بے شک نذر (تقدیر کے) کسی فیصلے کو نہیں ٹالتی، اس کے ذریعے تو بس بخیل (کنجوس) سے مال نکلوایا جاتا ہے۔”
سوال (ب): کیا نذر کو پورا کرنا واجب ہے یا کفارہ اور ایفاء کے درمیان اختیار ہے؟ فقہاء کے مذاہب بیان کریں۔
جواب: اگر نذر کسی “نیکی” (مثلاً نماز، روزہ، صدقہ) کی ہے تو ائمہ اربعہ کے نزدیک اسے پورا کرنا واجب ہے اور کفارہ دے کر جان چھڑانے کا اختیار نہیں ہے۔ البتہ اگر نذر ایسی چیز کی ہو جو شرعاً عبادت نہیں یا مباح ہے، تو امام احمد بن حنبلؒ کے نزدیک اختیار ہے کہ بندہ چاہے تو نذر پوری کرے یا قسم کا کفارہ دے دے، جبکہ احناف کے نزدیک ایسی نذر سرے سے منعقد ہی نہیں ہوتی۔
سوال (ج): نذر کا کفارہ کیا ہے؟ نیز اگر کسی نے معصیت (گناہ) کی نذر مانی اور اسے پورا نہ کیا تو کیا اس پر کفارہ ہوگا؟
جواب: نذر کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے (یعنی دس مسکینوں کو کھانا کھلانا یا لباس دینا، یا تین روزے رکھنا)۔ اگر کسی نے گناہ کی نذر مانی (مثلاً کسی کو قتل کرنے یا رشتہ داری توڑنے کی)، تو ایسی نذر پوری کرنا حرام ہے۔ دلیل کے مطابق حضور ﷺ نے فرمایا: “اللہ کی معصیت میں نذر پوری کرنا جائز نہیں”۔ احناف کے نزدیک ایسی نذر توڑنے پر قسم کا کفارہ واجب ہوگا، جبکہ شوافع کے نزدیک اس پر کچھ لازم نہیں۔

سوال نمبر 2: حدِ سرقہ (چوری کی سزا)
سوال (الف): حدیث پر اعراب لگائیں اور اس کا اردو ترجمہ کریں۔
جواب: عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَمْ تُقْطَعْ يَدُ سَارِقٍ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَمَنِ الْمِجَنِّ: حَجَفَةٍ أَوْ تُرْسٍ وَكِلَاهُمَا ذُو ثَمَنٍ۔ ترجمہ: حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں چور کا ہاتھ ڈھال کی قیمت سے کم (کی چوری) پر نہیں کاٹا جاتا تھا، چاہے وہ چمڑے کی ڈھال ہو یا لکڑی کی، اور یہ دونوں قیمتی چیزیں تھیں۔
سوال (ب): حدِ سرقہ کیا ہے؟ نصابِ سرقہ میں علماء کے اقوال اور احناف کے دلائل لکھیں۔
جواب: چوری کی حد “ہاتھ کاٹنا” ہے۔ اس کے نصاب (مقدار) میں اختلاف ہے: امام شافعیؒ کے نزدیک نصاب “چوتھائی دینار” (3 ماشہ سونا) ہے، جبکہ احناف کے نزدیک نصاب دس درہم ہے۔ احناف کی دلیل حضرت ابن عمرؓ کی روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ڈھال کی چوری پر ہاتھ کاٹا جس کی قیمت دس درہم تھی، نیز احتیاط کا تقاضا ہے کہ حد کم از کم اتنی بڑی مقدار پر لگے جس کی اہمیت واضح ہو۔
سوال (ج): حد اور تعزیر میں کیا فرق ہے؟ نیز تعزیر کے زیادہ سے زیادہ کوڑوں کی تعداد میں اختلاف بیان کریں۔
جواب: حد: وہ سزا ہے جو قرآن و حدیث میں مقرر ہے اور اس میں کمی بیشی نہیں ہو سکتی (جیسے زنا یا چوری کی سزا)۔ تعزیر: وہ سزا ہے جو حاکمِ وقت یا قاضی کی صوابدید پر ہو (جیسے گالی دینا یا چھوٹی چوری)۔ کوڑوں کی تعداد میں اختلاف یہ ہے کہ امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک تعزیر “حد” سے کم ہونی چاہیے (یعنی 39 کوڑوں سے زیادہ نہ ہو)، جبکہ بعض ائمہ کے نزدیک جرم کی نوعیت کے حساب سے اسے بڑھایا جا سکتا ہے۔

سوال نمبر 3: بیوع (خرید و فروخت) کی اقسام اور احکام
سوال (الف): درج ذیل بیوع کی تعریف اور شرعی حکم بیان کریں۔
جواب: 1. الملامسة: کپڑے کو صرف چھو کر سودا کر لینا؛ یہ بیع باطل ہے کیونکہ اس میں جہالت اور دھوکہ ہے۔ 2. المنابذة: کپڑا ایک دوسرے کی طرف پھینک کر سودا پکا کرنا؛ یہ بھی باطل ہے۔ 3. المزابنة: درخت پر لگی کھجور کا ڈھیر لگی سوکھی کھجور سے اندازہ کر کے تبادلہ کرنا؛ یہ ناجائز (سود) ہے۔ 4. نجش: خریداری کا ارادہ نہ ہو لیکن قیمت بڑھانے کے لیے بولی لگانا؛ یہ عمل حرام ہے مگر بیع منعقد ہو جاتی ہے۔ 5. بیع من یزید: نیلامی کی بیع (زیادہ بولی دینے والے کو بیچنا)؛ یہ جائز ہے کیونکہ حضور ﷺ نے خود نیلامی فرمائی۔
سوال (ب): بیعِ فاسد، باطل اور مکروہ میں کیا فرق ہے؟
جواب: بیعِ باطل: وہ ہے جس کی اصل اور وصف دونوں میں خرابی ہو (جیسے مردار کی بیع)؛ اس سے ملکیت ثابت نہیں ہوتی۔ بیعِ فاسد: جس کی اصل درست ہو لیکن وصف (شرط) میں خرابی ہو (جیسے قیمت غیر واضح ہو)؛ اس میں قبضہ کرنے سے ملکیت خبیثہ ثابت ہو جاتی ہے مگر اسے توڑنا واجب ہے۔ بیعِ مکروہ: جس کی اصل اور وصف دونوں درست ہوں لیکن کسی خارجی وجہ سے ناپسندیدہ ہو (جیسے اذانِ جمعہ کے وقت بیع کرنا)۔

سوال نمبر 4: ہبہ (تحفہ) اور رجوع کے احکام
سوال (الف): حدیثِ نعمان بن بشیرؓ پر اعراب لگائیں اور اس کا ترجمہ کریں۔
جواب: عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: أَتَى بِي أَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَقَالَ: نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلَامًا. فَقَالَ: “أَكُلَّ بَنِيكَ نَحَلْتَ؟” قَالَ لَا. قَالَ: “فَارْدُدْهُ”۔ ترجمہ: حضرت نعمان بن بشیرؓ سے روایت ہے کہ میرے والد مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس لائے اور عرض کیا: میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام تحفہ دیا ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: “کیا تم نے اپنے تمام بیٹوں کو ایسا ہی تحفہ دیا ہے؟” انہوں نے کہا نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “تو پھر اسے واپس لے لو” (ایک روایت میں ہے کہ اسے گواہ نہ بناؤ کیونکہ یہ ظلم ہے)۔
سوال (ب): کیا والد کے لیے جائز ہے کہ وہ ایک اولاد کو ہبہ کرے اور دوسری کو نہ کرے؟
جواب: فقہاء کے نزدیک اولاد کے درمیان عطیات میں برابری کرنا مستحب ہے۔ اگر کوئی والد کسی خاص ضرورت (مثلاً بیماری یا خدمت) کی بنا پر ایک کو زیادہ دے تو جائز ہے، لیکن بلاوجہ تفریق کرنا مکروہِ تنزیہی ہے تاکہ حسد پیدا نہ ہو۔ امام احمد بن حنبلؒ کے نزدیک اولاد میں تفریق کرنا ناجائز ہے۔
سوال (ج): کیا ہبہ کرنے کے بعد اسے واپس لینا (رجوع) جائز ہے؟ فقہاء کے دلائل لکھیں۔
جواب: ائمہ ثلاثہ (شافعی، مالکی، حنبلی): ہبہ سے رجوع کرنا جائز نہیں (سوائے والد کے جو اپنی اولاد سے واپس لے سکتا ہے)۔ احناف: احناف کے نزدیک ہبہ سے رجوع کرنا جائز ہے، بشرطیکہ وہ “ہبہ علی العوض” (بدلے والا) نہ ہو یا رشتہ دارِ محرم کو نہ دیا گیا ہو۔ احناف کی دلیل یہ ہے کہ ہبہ ایک تبرع ہے اور مالک کو اپنی چیز واپس لینے کا حق ہے، اگرچہ اخلاقی طور پر اسے برا سمجھا گیا ہے۔

حل شدہ پرچہ: جامع ترمذی (عالمیہ سال دوم – 2022)

سوال نمبر 1: قراءت کا آغاز اور بسم اللہ کا مسئلہ
سوال (الف): حدیثِ مبارکہ پر اعراب لگائیں اور اس کا اردو ترجمہ کریں۔ جواب: عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ يَفْتَتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بِـ “الْحَمْدِ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ”۔
ترجمہ: حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ، حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ (نماز میں) قراءت کا آغاز “الحمد للہ رب العالمین” سے کرتے تھے۔
سوال (ب): کیا بسم اللہ سورہ فاتحہ کا جز ہے؟ نیز بسم اللہ کو جہراً (بلند آواز سے) پڑھنے میں ائمہ کا اختلاف بیان کریں۔
جواب: جزئیت کا مسئلہ: امام شافعیؒ کے نزدیک بسم اللہ سورہ فاتحہ کی ایک مستقل آیت اور اس کا جز ہے، جبکہ امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک بسم اللہ سورہ فاتحہ کا جز نہیں بلکہ دو سورتوں کے درمیان فصل کے لیے نازل ہوئی ہے۔
جہری قراءت کا مسئلہ: امام شافعیؒ کے نزدیک جہری نمازوں میں بسم اللہ بلند آواز سے پڑھنا سنت ہے۔ امام ابوحنیفہؒ اور امام احمدؒ کے نزدیک بسم اللہ آہستہ (سراً) پڑھنا سنت ہے، کیونکہ حدیثِ انسؓ میں صراحت ہے کہ وہ قراءت کا آغاز “الحمد للہ” سے کرتے تھے، جس کا مطلب یہ ہے کہ بسم اللہ یا تو نہیں پڑھتے تھے یا اتنی آہستہ پڑھتے تھے کہ اسے قراءت کا آغاز نہیں سمجھا جاتا تھا۔

سوال نمبر 2: نماز کے لیے ممنوعہ مقامات
سوال (الف): حدیث کا اردو ترجمہ کریں اور “المزبلة”، “المجزرة” اور “المقبرة” کی تعریف واضح کریں۔
جواب: ترجمہ: حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے سات مقامات پر نماز پڑھنے سے منع فرمایا: (1) کوڑا کرکٹ پھینکنے کی جگہ، (2) ذبح خانہ، (3) قبرستان، (4) شاہراہ (عام راستہ)، (5) حمام، (6) اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ، اور (7) بیت اللہ کی چھت کے اوپر۔
تعریفات: المزبلة: وہ جگہ جہاں کوڑا کرکٹ اور گندگی ڈالی جاتی ہو۔ المجزرة: وہ جگہ جہاں جانور ذبح کیے جاتے ہوں اور وہاں خون و غلاظت ہو۔ المقبرة: وہ جگہ جہاں مردے دفن کیے گئے ہوں۔
سوال (ب): قبرستان میں مسجد بنانے کا کیا حکم ہے؟ اور کیا شاہراہ (عام راستے) پر نمازِ جنازہ پڑھنا جائز ہے؟
جواب: قبرستان میں مسجد: اگر قبرستان پرانا ہو اور قبریں ختم ہو کر مٹی بن چکی ہوں تو وہاں مسجد بنانا جائز ہے، لیکن اگر قبریں موجود ہوں تو وہاں مسجد بنانا یا قبروں کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے۔
شاہراہ پر نمازِ جنازہ: راستے پر نمازِ جنازہ پڑھنا مکروہ ہے کیونکہ اس سے گزرنے والوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ تاہم، اگر جگہ کی کمی ہو اور لوگوں کو تکلیف نہ ہو رہی ہو، تو گنجائش ہے۔ ممانعت کی اصل وجہ نجاست کا احتمال یا دوسروں کا راستہ روکنا ہے۔

سوال نمبر 3: زکوٰۃِ خیل (گھوڑوں کی زکوٰۃ) اور زکوٰۃ کے احکام
سوال (الف): حدیث کا اردو ترجمہ کریں اور لفظ “الرقة” کے معنی بیان کریں۔
جواب: ترجمہ: حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “میں نے تم سے گھوڑوں اور غلاموں کی زکوٰۃ معاف کر دی ہے، پس تم چاندی کی زکوٰۃ لاؤ، ہر چالیس درہم پر ایک درہم (یعنی ڈھائی فیصد)۔ اور مجھ پر ایک سو نوے (190) درہم میں کچھ (زکوٰۃ) نہیں ہے۔”
الرقة: اس سے مراد ڈھلی ہوئی چاندی (Silver coins/Currency) ہے۔
سوال (ب): کیا گھوڑوں کی زکوٰۃ مطلقاً معاف ہے یا اس میں تفصیل ہے؟
جواب: اس مسئلے میں اختلاف ہے: ائمہ ثلاثہ (شافعی، مالکی، حنبلی) کے نزدیک گھوڑوں پر کوئی زکوٰۃ نہیں ہے، چاہے وہ تجارت کے لیے ہوں یا افزائشِ نسل کے لیے۔ لیکن امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک اگر گھوڑے افزائشِ نسل (Breeding) کے لیے جنگل میں چرنے والے (سائمہ) ہوں اور ان میں نر و مادہ دونوں ہوں، تو ان پر زکوٰۃ واجب ہے۔ وہ اس حدیث کا جواب یہ دیتے ہیں کہ یہاں ممانعت سے مراد “لازمی جزیہ” کی نفی ہے یا یہ ابتدائی دور کا حکم تھا۔
سوال (ج): زکوٰۃ کب واجب ہوئی اور کن لوگوں پر واجب ہے؟
جواب: زکوٰۃ 2 ہجری میں (نماز کے بعد اور رمضان کے روزوں سے پہلے) فرض ہوئی۔ زکوٰۃ ہر اس مسلمان پر واجب ہے جو (1) عاقل ہو، (2) بالغ ہو، (3) آزاد ہو، اور (4) بقدرِ نصاب مالِ نامی (بڑھنے والا مال) کا مالک ہو جس پر ایک سال گزر چکا ہو۔

سوال نمبر 4: وصیتِ نبوی اور مستحب روزے
سوال (الف): حدیثِ مبارکہ پر اعراب لگائیں اور اس کا اردو ترجمہ کریں۔
جواب: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ: عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ثَلَاثَةً: أَنْ لَا أَنَامَ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ، وَصَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَأَنْ أُصَلِّيَ الضُّحَى۔
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے تین باتوں کی وصیت فرمائی: (1) یہ کہ میں وتر پڑھے بغیر نہ سوؤں، (2) ہر مہینے کے تین روزے رکھوں، اور (3) چاشت (ضحیٰ) کی نماز پڑھوں۔
سوال (ب): وتر کے بعد سونے کی وجہ اور سحری کے وقت وتر کی فضیلت کیا ہے؟ نیز ہر مہینے کے تین روزوں سے کون سے دن مراد ہیں؟
جواب: وتر اور نیند: حضور ﷺ نے حضرت ابوہریرہؓ کو سونے سے پہلے وتر پڑھنے کا حکم اس لیے دیا کیونکہ وہ رات کے ابتدائی حصے میں حدیث یاد کرنے میں مصروف رہتے تھے، تو خدشہ تھا کہ شاید سحری میں آنکھ نہ کھلے۔ تاہم، اگر کسی کو اپنے جاگنے پر بھروسہ ہو تو وتر کو تہجد کے ساتھ (سحر کے وقت) پڑھنا افضل ہے، کیونکہ رات کی آخری نماز وتر ہونی چاہیے۔
تین روزے: ان سے مراد ایامِ بیض ہیں، یعنی ہر قمری مہینے کی 13، 14 اور 15 تاریخ کے روزے۔ حدیث میں ہے کہ ان تین روزوں کا ثواب پورے سال کے روزوں کے برابر ہے۔

حل ورقة سنن أبي داود وآثار السنن – العالمية السنة الثانية (2022)

القسم الأول: سنن أبي داود
السؤال (1-i): شکل الحدیث وترجمہ إلی الأردیة (حدیث عبد اللہ بن أنیس).
الجواب: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِلَى خَالِدِ بْنِ سُفْيَانَ الْهُذَلِيِّ فَقَالَ: “اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ” قَالَ: فَرَأَيْتُهُ وَحَضَرَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ فَقُلْتُ: إِنِّي لَأَخَافُ أَنْ يَكُونَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ مَا أَنْ أُؤَخِّرَ الصَّلَاةَ، فَانْطَلَقْتُ أَمْشِي وَأَنَا أُصَلِّي أُومِئُ إِيمَاءً۔ ترجمہ: حضرت عبداللہ بن انیسؓ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے خالد بن سفیان ہذلی کی طرف (اس کے شر کو ختم کرنے کے لیے) بھیجا اور فرمایا: “جاؤ اور اسے قتل کر دو۔” میں نے اسے دیکھا اور عصر کا وقت ہو گیا، میں ڈرا کہ میرے اور اس کے درمیان ایسی صورتحال (جنگ) نہ ہو جائے کہ نماز لیٹ ہو جائے، چنانچہ میں چلنے لگا اور چلتے ہوئے اشارے سے نماز پڑھنے لگا۔
السؤال (1-ii): ما هو الاختلاف بين الأئمة الأربعة في صلوة الطالب والمطلوب سائراً أو راكباً؟
الجواب: پیچھا کرنے والے (طالب) اور جس کا پیچھا کیا جا رہا ہو (مطلوب) کے لیے چلتے ہوئے یا سواری پر نماز پڑھنے میں اختلاف ہے؛ امام شافعی، مالک اور احمد کے نزدیک خوف کی شدت میں سواری پر یا چلتے ہوئے اشارے سے نماز پڑھنا جائز ہے (جیسے صلاۃ الخوف)۔ احناف کے نزدیک نماز کے لیے سکون اور قبلہ رخ ہونا شرط ہے، اگر بہت زیادہ مجبوری ہو تو نماز کو مؤخر کیا جائے گا (جیسے حضور ﷺ نے غزوہ خندق میں کیا)، کیونکہ نمازِ خوف کی خاص کیفیت جو قرآن میں ہے وہ صرف مخصوص حالات کے لیے ہے۔
السؤال (1-iii): بأي وجه قتل خالد بن سفیان الہذلي؟
الجواب:
حضرت عبداللہ بن انیسؓ نے کمالِ بہادری اور ذہانت سے کام لیا؛ وہ خالد ہذلی کے پاس اس طرح پہنچے جیسے اس کے لشکر میں شامل ہونے آئے ہوں، جب اسے اپنی باتوں سے مطمئن کر لیا اور موقع پایا تو اپنی تلوار سے اس کا سر قلم کر دیا اور بارگاہِ رسالت ﷺ میں حاضر ہو کر خوشخبری سنائی۔
السؤال (2-i): ترجم هذا الحدیث إلی الأردیة واذكر التحقيق الصرفي للكلمات المخطوطة (الودود، الولود).
الجواب: ترجمہ: ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا: مجھے ایک ایسی عورت (کا رشتہ) ملا ہے جو خوبصورت اور خاندانی ہے مگر وہ بانجھ ہے (بچے نہیں جنتی)، کیا میں اس سے نکاح کر لوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: “نہیں۔” پھر آپ ﷺ نے فرمایا: “ایسی عورتوں سے نکاح کرو جو بہت محبت کرنے والی اور بہت بچے جننے والی ہوں، کیونکہ میں (قیامت کے دن) تمہاری وجہ سے امتوں پر کثرت کا فخر کروں گا۔” تحقيق صرفي: الودود: صیغہ مبالغہ، وزن (فعول)، مادہ (و د د)، معنی: بہت محبت کرنے والی۔ الولود: صیغہ مبالغہ، وزن (فعول)، مادہ (و ل د)، معنی: بہت بچے جننے والی۔
السؤال (2-ii): متى يجب النکاح ومتى يستحب ومتى يكره ومتى يحرم وما هي أركان النکاح؟
الجواب: واجب: جب شہوت کا غلبہ ہو اور گناہ میں پڑنے کا پورا یقین ہو (بشرطیکہ مہر و نفقہ کی طاقت ہو)۔ مستحب: عام حالات میں جب شہوت معتدل ہو (سنتِ مؤکدہ ہے)۔ مکروہ: جب بیوی کے حقوق ضائع ہونے کا اندیشہ ہو۔ حرام: جب یقین ہو کہ نکاح کے بعد بیوی پر ظلم کرے گا یا حقوق ادا نہیں کر پائے گا۔ ارکان: نکاح کے بنیادی ارکان ایجاب و قبول ہیں جو گواہوں کی موجودگی میں ہوں۔
السؤال (2-iii): ما هو نکاح المتعة وما حكمه؟
الجواب: نکاحِ متعدہ: کسی عورت سے ایک مقررہ وقت (مثلاً ایک ماہ یا ایک سال) کے لیے مال کے عوض فائدہ اٹھانے کا معاہدہ کرنا۔ حکم: یہ نکاح اسلام میں حرام اور باطل ہے۔ اگرچہ اسلام کے ابتدائی دور میں بعض جنگوں کے موقع پر اس کی عارضی اجازت دی گئی تھی، مگر غزوہ خیبر اور فتح مکہ کے موقع پر اسے ہمیشہ کے لیے حرام قرار دے دیا گیا۔

القسم الثاني: آثار السنن
السؤال (4-i): ترجم إلی الأردیة (حدیث ولوغ الکلب والهرة).
الجواب: حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: “برتن کو دھویا جائے جب کتا اس میں منہ ڈال دے سات مرتبہ، ان میں سے پہلی بار یا آخری بار مٹی سے (رگڑا جائے)۔ اور جب بلی اس میں منہ ڈالے تو اسے ایک بار دھویا جائے۔”
السؤال (4-ii): ما اختلاف الأئمة الأربعة في هاتين المسئلتين ورجح مذهب الحنفية بالدلیل؟
الجواب: کتے کا جھوٹا: امام شافعی اور احمد کے نزدیک سات بار دھونا اور ایک بار مٹی لگانا واجب ہے۔ احناف کے نزدیک تین بار دھونا واجب ہے (سات بار دھونا مستحب ہے)۔ احناف کی دلیل: راویِ حدیث حضرت ابوہریرہؓ نے خود کتے کے چاٹنے پر تین بار دھونے کا فتویٰ دیا ہے، اور اصول ہے کہ راوی کا عمل جب اپنی روایت کے خلاف ہو تو اس کا فتویٰ (عمل) قیاس کے مطابق ہونے کی وجہ سے راجح ہوتا ہے۔
السؤال (4-iii): قال رسول اللہ ﷺ الماء طہور لا ينجسه شيئ ما المراد بهذا وما هو الجواب لظاہر الحدیث؟
الجواب: مراد: اس سے مراد پانی کی اصل صفت (پاکیزگی) ہے کہ پانی بذاتِ خود پاک ہے جب تک اس کے اوصاف (رنگ، بو، مزہ) نجاست سے نہ بدل جائیں۔ جواب: اس حدیث کے ظاہر سے یہ وہم ہوتا ہے کہ شاید کثیر نجاست سے بھی پانی ناپاک نہیں ہوتا، مگر فقہاء جواب دیتے ہیں کہ یہ “بئرِ بضاعہ” کے خاص تناظر میں تھا جو کہ جاری پانی کے حکم میں تھا، یا یہ کہ نجاست اتنی کم تھی کہ پانی کے اوصاف نہیں بدلے تھے۔
السؤال (5-ii): ما هو أول وقت صلوة المغرب وأخره عند الأئمة الأربعة بالدلائل؟
الجواب: اول وقت: غروبِ آفتاب کے فوراً بعد (بالاتفاق)۔ آخر وقت: احناف کے نزدیک جب تک “شفقِ ابیض” (سفیدی) غائب نہ ہو جائے (تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ)۔ ائمہ ثلاثہ کے نزدیک “شفقِ احمر” (سرخی) غائب ہونے تک ہے۔ احناف کی دلیل حضرت ابوبکر صدیقؓ کا عمل اور احتیاط ہے کہ جب تک مکمل اندھیرا (سفیدی ختم) نہ ہو جائے وقت باقی رہتا ہے۔
السؤال (6-i): اذكر اختلاف الأئمة الأربعة في التأمين سراً أو جهراً.
الجواب: شافعی اور احمد: امام اور مقتدی دونوں کے لیے “آمین” بلند آواز (جہراً) کہنا سنت ہے۔ احناف اور مالکیہ: آمین آہستہ (سراً) کہنا سنت ہے۔ احناف کی دلیل یہ ہے کہ آمین ایک دعا ہے، اور قرآن کا حکم ہے: “ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً” (اپنے رب کو عاجزی اور پوشیدہ پکارو)، نیز آمین ثناء اور تعوذ کی طرح ہے جو آہستہ کہے جاتے ہیں۔

حل ورقة سنن النسائي وابن ماجه – العالمية السنة الثانية (2022)

القسم الأول: سنن النسائي
السؤال الأول (i): ترجم إلى الأردية وما هو المقصود الأهم من هذا الحديث؟
الجواب: ترجمہ: حضرت عائشہؓ اور ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کے وصال کا وقت قریب آیا تو آپ اپنی ایک چادر (خميصة) اپنے چہرہ مبارک پر ڈالتے، جب گھبراہٹ ہوتی تو اسے ہٹا دیتے، آپ ﷺ نے اسی حالت میں فرمایا: “یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں (سجدہ گاہ) بنا لیا۔” مقصودِ اہم: اس حدیث کا اہم ترین مقصد امتِ محمدیہ کو شرک کے ہر راستے سے روکنا اور قبروں پر سجدہ کرنے یا انہیں مستقل عبادت گاہ بنانے کی سخت ممانعت کرنا ہے تاکہ توحید خالص رہے۔
السؤال الأول (ii): كيف اتخذ اليهود والنصارى قبور أنبيائهم مساجد؟
الجواب: یہود و نصاریٰ نے دو طرح سے قبروں کو مسجد بنایا: ایک تو یہ کہ وہ اپنے انبیاء کی قبروں پر ان کی تعظیم میں سجدہ کرتے تھے، اور دوسرا یہ کہ وہ برکت حاصل کرنے کے لیے انبیاء کی قبروں کے عین اوپر یا ان کے بالکل قریب مسجدیں تعمیر کر لیتے تھے تاکہ وہاں نماز پڑھ سکیں۔ اسلام نے ان دونوں صورتوں سے منع فرمایا ہے۔
السؤال الأول (iii): كيف صحت نسبة هذا القول إلى النصارى ونبيهم عيسى عليه السلام لم يتوف إلى الآن؟
الجواب: نصاریٰ کی طرف اس قول کی نسبت اس لیے درست ہے کہ نصاریٰ صرف حضرت عیسیٰؑ کے پیروکار نہیں بلکہ وہ سابقہ انبیاء (جو بنی اسرائیل میں مبعوث ہوئے) کو بھی مانتے تھے، اور انہوں نے ان انبیاء اور اپنے بزرگوں (حواریوں اور اولیاء) کی قبروں کے ساتھ یہی معاملہ کیا۔ نیز نصاریٰ کا عقیدہ ہے کہ عیسیٰؑ کو صلیب دی گئی (اگرچہ قرآن نے اس کی نفی کی ہے)، چنانچہ انہوں نے اس فرضی جائے وفات کو بھی سجدہ گاہ بنا لیا تھا۔
السؤال الثاني (i): شکل الحدیث ثم ترجمہ إلی الأردیة.
الجواب: عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَكُونُ فِي الصَّيْدِ وَلَيْسَ عَلَيَّ إِلَّا الْقَمِيصُ أَفَأُصَلِّي فِيهِ؟ قَالَ: “نَعَمْ، وَزَرِّرْهُ عَلَيْكَ وَلَوْ بِشَوْكَةٍ”۔ ترجمہ: حضرت سلمہ بن اکوعؓ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں شکار پر ہوتا ہوں اور میرے بدن پر صرف ایک قمیص (لمبا کرتا) ہوتا ہے، کیا میں اسی میں نماز پڑھ لوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: “ہاں، اور اس کے بٹن بند کر لو (تاکہ سینہ یا ستر نہ کھلے) اگرچہ کسی کانٹے ہی کے ذریعے کیوں نہ ہو۔”
السؤال الثاني (ii): اذكر عورة الرجل والحرة والأمة التي سترها واجب في الصلوة.
الجواب: مرد کا ستر: ناف سے لے کر گھٹنوں کے نیچے تک (گھٹنا ستر میں داخل ہے)۔ آزاد عورت (حرة) کا ستر: چہرہ، ہتھیلیوں اور قدموں کے علاوہ پورا بدن چھپانا فرض ہے۔ لونڈی (أمة) کا ستر: احناف کے نزدیک لونڈی کا ستر مرد کی طرح ہے، مگر پیٹ اور پیٹھ کا چھپانا بھی ضروری ہے (یعنی ناف سے گھٹنے تک اور سینہ و پیٹھ
السؤال الثاني (iii): ما حكم الصلوة في قميص واحد أو في الإزار وحده؟
الجواب: اگر قمیص یا ازار (تہبند) اتنا ہو کہ واجب ستر چھپ جائے تو نماز جائز ہے، لیکن اگر قدرت ہو تو دونوں پہننا اور کندھوں کو ڈھانپنا مستحب اور سنت ہے، کیونکہ اللہ کے حضور بہترین لباس میں حاضر ہونا چاہیے۔
السؤال الثالث (i): ترجم إلى الأردية ولم انتهرهما أبو بكر وقد كان النبي ﷺ هنا؟
الجواب: ترجمہ: حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور ان کے پاس دو بچیاں دف (بغیر گھنگھرو والا ڈھول) بجا رہی تھیں، حضرت ابوبکرؓ نے انہیں ڈانٹا تو نبی ﷺ نے فرمایا: “انہیں چھوڑ دو (ڈانٹو نہیں)، کیونکہ ہر قوم کی عید ہوتی ہے (اور آج ہماری عید ہے)۔” حضرت ابوبکرؓ نے اس لیے ڈانٹا کیونکہ ان کے نزدیک آلاتِ موسیقی کا استعمال وقارِ نبوت اور مسجدِ نبوی سے متصل حجرے کے تقدس کے خلاف تھا، انہوں نے اسے “شیطانی باجہ” سمجھ کر منع کیا۔
السؤال الثالث (ii): هل ضرب الدف عند إنشاد الأشعار الإسلامية جائز؟ بين موقفك بالدليل.
الجواب: موقف: اسلام میں وہ دف جس میں گھنگھرو نہ ہوں اور جو لہو و لعب (فحاشی) کے لیے نہ ہو، مخصوص خوشی کے مواقع (جیسے نکاح یا عید) پر استعمال کرنا جائز ہے۔ دلیل یہی حدیث ہے جس میں حضور ﷺ نے بچیوں کو عید کے دن دف بجانے سے نہیں روکا، بلکہ حضرت ابوبکرؓ کو منع فرمایا۔ تاہم، اسے مستقل مشغلہ بنانا یا پیشہ ورانہ موسیقی کی طرح استعمال کرنا ناجائز ہے۔

القسم الثاني: سنن ابن ماجه

السؤال الرابع (i): ترجم إلى الأردية ولم نهى النبي ﷺ عائشة عن هذا القول؟
الجواب: ترجمہ: حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو انصار کے ایک بچے کے جنازے پر بلایا گیا تو میں نے کہا: یا رسول اللہ! اس کے لیے خوشخبری ہے، یہ جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے جس نے نہ کوئی برائی کی اور نہ وہ اس (برائی کی عمر) کو پہنچا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “اے عائشہ! شاید اس کے علاوہ کچھ اور ہو (یعنی قطعیت سے نہ کہو)۔” آپ ﷺ نے اس لیے منع فرمایا کیونکہ کسی خاص شخص کے بارے میں (بغیر وحی کے) حتمی جنتی ہونے کا فیصلہ کرنا اللہ کے علمِ غیب میں مداخلت ہے، یا یہ آپ ﷺ کی کمالِ عاجزی اور احتیاط تھی۔
السؤال الرابع (ii): ما حكم أطفال المشركين في الآخرة؟ اذكره بالدلائل.
الجواب: اس میں تین اقوال ہیں: (1) وہ بھی جنت میں جائیں گے کیونکہ وہ فطرت پر پیدا ہوئے (یہی راجح ہے)۔ (2) وہ جہنم میں اپنے والدین کے ساتھ ہوں گے۔ (3) ان کا امتحان لیا جائے گا۔ دلیل: حدیث میں ہے کہ “ہر بچہ فطرتِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے“۔
السؤال الخامس (i): ترجم إلى الأردية والشرح الكلمات المخطوط عليها (تباهوا، لتماروا) لغة.
الجواب: ترجمہ: حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: “تم علم اس لیے حاصل نہ کرو کہ اس کے ذریعے علماء پر فخر کرو، اور نہ اس لیے کہ بیوقوفوں سے جھگڑا کرو، اور نہ اس لیے کہ مجلسوں میں صدر بن کر بیٹھو، جس نے ایسا کیا تو اس کا ٹھکانہ آگ ہے، آگ ہے۔” تحقيق لغوي: تباهوا: باب تفاعل، مادہ (ب ہ و)، معنی: ایک دوسرے پر فخر و برتری جتانا۔ لتماروا: باب تفاعل، مادہ (م ر ی)، معنی: شک کرنا یا بحث و تکرار کرنا۔
السؤال السادس (ii): اذكر اختلاف العلماء في معنى “فاقدروا له” وما هو المراد به عند أبي حنيفة؟
الجواب: اختلاف: امام شافعیؒ کے نزدیک اس کا مطلب ہے کہ چاند کے منازل کا حساب لگاؤ۔ امام احمدؒ کے نزدیک اس کا مطلب ہے کہ بادلوں کے نیچے چاند کو چھپا ہوا فرض کر کے روزہ رکھو۔ احناف کے نزدیک مراد: امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک اس کا مطلب ہے “تیس دن پورے کرو” (اکملوا العدة ثلاثين)، یعنی اگر چاند نظر نہ آئے تو شعبان کے 30 دن پورے کر کے رمضان شروع کرو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *