خاصہ سال دوم – 2022 (پہلا پرچہ: قرآن مجید)
سوال نمبر 1: (الف) کلامِ باری تعالیٰ اور کلامِ مفسر پر اعراب لگا کر ترجمہ کریں۔
وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ (الْمُشْرِكُ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ كَانَ نَطَقَ بِالشَّهَادَتَيْنِ ثُمَّ رَجَعَ إِرْضَاءً لِأُبَيِّ بْنِ خَلَفٍ) عَلَى يَدَيْهِ (نَدَمًا وَتَحَسُّرًا فِي يَوْمِ الْقِيَامَةِ) يَقُولُ يَا (لِلتَّنْبِيهِ) لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ مُحَمَّدٍ (سَبِيلًا) طَرِيقًا إِلَى الْهُدَى (يَا وَيْلَتَى) أَلِفُهُ عِوَضٌ عَنْ يَاءِ الْإِضَافَةِ أَيْ وَيْلَتِي وَمَعْنَاهُ هَلَكَتِي (لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا) أَيْ أُبَيًّا (خَلِيلًا)
جواب: ترجمہ: اور جس دن ظالم (یعنی مشرک عقبہ بن ابی معیط، جس نے کلمہ پڑھ لیا تھا پھر ابی بن خلف کو راضی کرنے کے لیے پھر گیا تھا) اپنے ہاتھوں کو کاٹے گا (قیامت کے دن ندامت اور حسرت کی وجہ سے)، وہ کہے گا: ہائے کاش (لفظ ‘یا’ تنبیہ کے لیے ہے) میں نے رسولِ خدا محمد ﷺ کے ساتھ راستہ اختیار کیا ہوتا (یعنی ہدایت کا راستہ)۔ ہائے میری بربادی (اس میں الف، یائے اضافت کا عوض ہے، یعنی میری ہلاکت)، کاش میں نے فلاں (یعنی ابی بن خلف) کو اپنا دوست نہ بنایا ہوتا۔
سوال نمبر 1: (ب) عباراتِ مفسر کی تشریح کریں اور بتائیں کہ قیامت کے دن کس کی دوستی کام آئے گی؟
جواب: مفسر کے مطابق یہ آیات عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں نازل ہوئیں جس نے اپنے بدبخت دوست ابی بن خلف کے کہنے پر اسلام سے دوری اختیار کی۔ قیامت کے دن انسان بدکار دوستوں پر حسرت کرے گا۔
قیامت کے دن صرف ان لوگوں کی دوستی کام آئے گی جو تقویٰ اور اللہ کی رضا کی بنیاد پر ہو گی، جیسا کہ قرآن میں ہے کہ “اس دن گہرے دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے سوائے پرہیزگاروں کے”۔
سوال نمبر 1: (ج) جلالین کے مصنفین کے نام تحریر کریں۔
جواب: امام جلال الدین محلی (رحمہ اللہ) امام جلال الدین سیوطی (رحمہ اللہ)
سوال نمبر 2: (الف) کلامِ الہی اور کلامِ مفسر پر اعراب لگا کر ترجمہ کریں۔
وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا (أَيْ إِيصَاءً ذَا حُسْنٍ أَنْ يَبَرَّهُمَا) وَإِنْ جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ (بِإِشْرَاكِهِ) عِلْمٌ (مُوَافَقَةً لِلْوَاقِعِ فَلَا مَفْهُومَ لَهُ) فَلَا تُطِعْهُمَا (فِي الْإِشْرَاكِ) إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ (فَأُجَازِيَكُمْ بِهِ)
جواب: ترجمہ: اور ہم نے انسان کو تاکید کی اپنے والدین کے ساتھ بھلائی کرنے کی (یعنی ایسی تاکید جو حسن والی ہو کہ وہ ان کے ساتھ نیکی کرے)۔ اور اگر وہ دونوں تجھ پر زور دیں کہ تو میرے ساتھ اس چیز کو شریک کرے جس کا تجھے (شریک ہونے کا) علم نہیں (یہ قید واقع کے مطابق ہے، اس کا کوئی مفہومِ مخالف نہیں ہے)، تو ان کی بات مت مان (شرک کے معاملے میں)۔ میری ہی طرف تمہارا لوٹنا ہے، پھر میں تمہیں بتا دوں گا جو تم عمل کرتے تھے (یعنی تمہیں ان کا بدلہ دوں گا)۔
سوال نمبر 2: (ب) اولاد پر والدین کے اور والدین پر اولاد کے کیا حقوق ہیں؟
جواب: اولاد پر والدین کے حقوق: اطاعت کرنا (بشرطیکہ گناہ نہ ہو)، ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا، ان کی خدمت کرنا اور ان کی وفات کے بعد ان کے لیے دعا کرنا۔
والدین پر اولاد کے حقوق: اچھا نام رکھنا، اچھی تربیت اور تعلیم دینا، حلال کھلانا اور جوان ہونے پر ان کی شادی کرنا۔
سوال نمبر 3: (الف) کلامِ ربانی اور کلامِ مفسر کا ترجمہ کریں۔
إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاءَ إِذَا (بِتَحْقِيقِ الْهَمْزَتَيْنِ وَتَسْهِيلِ الثَّانِيَةِ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْيَاءِ) وَلَّوْا مُدْبِرِينَ
جواب: ترجمہ: بے شک آپ (ﷺ) مردوں کو نہیں سناتے اور نہ ہی بہروں کو پکار سناتے ہیں جب (یہاں دو ہمزوں کی تحقیق اور دوسرے کی تسہیل یائے کے ساتھ ہے) وہ پیٹھ پھیر کر مڑ جائیں۔
مختصر سوالات
س 1: سماعِ موتی کا صحیح مفہوم کیا ہے؟
ج: اس آیت میں مردوں اور بہروں سے مراد وہ کفار ہیں جن کے دل مر چکے ہیں اور وہ ہدایت کی بات نہیں سنتے۔ جہاں تک جسمانی طور پر مرنے والوں کا تعلق ہے، تو اہل سنت کے نزدیک مردے زندوں کی پکار اللہ کے اذن سے سنتے ہیں، جیسے شہداء اور اہل قبور۔
س 2: مفسر کی بیان کردہ قراءتوں کی توضیح کریں؟
ج: مفسر نے “الدعاء إذا” میں دو قراءتیں بیان کی ہیں۔ ایک ‘تحقیق’ (دونوں ہمزوں کو واضح پڑھنا) اور دوسری ‘تسہیل’ (دوسرے ہمزے کو نرمی سے الف اور یا کے درمیان پڑھنا)۔
س 3: “فطرة اللہ” سے کیا مراد ہے؟
ج: اس سے مراد وہ دینِ اسلام ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو پیدا فرمایا ہے، یعنی توحید کی فطری صلاحیت۔
س 4: “حسنا” کی وجہ نصب کیا ہے؟
ج: “حسناً” مفعول مطلق ہونے کی بنا پر منصوب ہے کیونکہ یہ “ایصاءً ذَا حُسنٍ” کے معنی میں ہے۔
س 5: “لا تبدیل لخلق اللہ” کا کیا مطلب ہے؟
ج: اس کا مطلب ہے کہ اللہ کے دین کو مت بدلو، یعنی شرک کر کے اس فطری توحید کو تبدیل نہ کرو جو اللہ نے تمہارے اندر رکھی ہے۔
خاصہ سال دوم – 2022 (دوسرا پرچہ: حدیث و عربی ادب)
قسم اول: حدیثِ مبارکہ
سوال نمبر 1: (الف) حدیثِ مذکور پر اعراب لگا کر ترجمہ کریں۔
عَنْ يَزِيدَ قَالَ: كُنْتُ أَرَى رَأْيَ الْخَوَارِجِ فَسَأَلْتُ بَعْضَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ بِخِلَافِ مَا كُنْتُ أَقُولُ فَأَنْقَذَنِي اللهُ تَعَالَى بِهِ.
جواب: ترجمہ: حضرت یزید (الرِّشک) سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں خارجیوں کی رائے (نظریہ) رکھتا تھا، پھر میں نے نبی ﷺ کے بعض صحابہ سے سوال کیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ نبی ﷺ نے میری بات کے خلاف فرمایا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے مجھے اس (صحابی کی بتائی ہوئی بات) کے ذریعے (گمراہی سے) بچا لیا۔
سوال نمبر 1: (ب) حدیثِ مذکور کی تشریح کریں نیز خارجی، رافضی اور ناصبی کی تعریف کریں۔
جواب: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر انسان کسی غلط نظریے یا وسوسے میں مبتلا ہو جائے تو اسے اہلِ علم اور صحابہ کرام کے آثار کی طرف رجوع کرنا چاہیے، کیونکہ حق وہی ہے جو اللہ کے رسول ﷺ نے بیان فرمایا۔
خارجی: وہ گروہ جو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کی تکفیر کرتا ہے اور گناہِ کبیرہ کی وجہ سے ایمان سے خروج کا قائل ہے۔
رافضی: وہ گروہ جو صحابہ کرام (خصوصاً خلفائے ثلاثہ) کی شان میں گستاخی کرتا ہے اور انہیں غاصب سمجھتا ہے۔
ناصبی: وہ گروہ جو اہلِ بیتِ اطہار (خصوصاً حضرت علی رضی اللہ عنہ) سے بغض و عداوت رکھتا ہے اور ان کی توہین کرتا ہے۔
سوال نمبر 2: (ب) امام اعظم رحمتہ اللہ علیہ کی سوانح عمری مختصر مگر جامع لکھیں۔
جواب: امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت 80ھ میں کوفہ میں پیدا ہوئے۔ آپ نے صحابہ کرام کی زیارت کی ہے اس لیے آپ کا شمار تابعین میں ہوتا ہے۔ آپ نے علمِ کلام اور پھر فقہ میں کمال حاصل کیا، آپ کے مشہور استاد امام حماد بن ابی سلیمان ہیں۔ آپ نے فقہِ حنفی کی بنیاد رکھی جس میں شورائی انداز میں مسائل حل کیے جاتے تھے۔ آپ نہایت پرہیزگار، عابد اور سخی تھے، دن کو روزہ رکھتے اور رات بھر عبادت کرتے تھے۔ آپ کی وفات 150ھ میں بغداد میں ہوئی اور آپ کا مزار اقدس وہیں مرجعِ خلائق ہے۔
سوال نمبر 3: (الف) حدیثِ نبوی پر اعراب لگا کر ترجمہ کریں۔
عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ دَخَلُوا عَلَى النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: مَا لِي أَرَاكُمْ قُلْحًا اسْتَاكُوا، فَلَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ.
جواب: ترجمہ: حضرت جعفر بن ابی طالب سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے اصحاب میں سے کچھ لوگ آپ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: کیا بات ہے کہ میں تمہیں پیلے (زرد) دانتوں والا دیکھ رہا ہوں؟ مسواک کیا کرو، اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا خوف نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا (وجوبی) حکم دیتا۔
سوال نمبر 3: (ج) مسواک کرنے کی فضیلت اور فوائد بیان کریں۔
جواب: مسواک کرنا سنتِ مؤکدہ ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی رضا کا ذریعہ ہے۔ حدیث پاک کے مطابق مسواک کے ساتھ پڑھی گئی نماز کا ثواب ستر گنا زیادہ ہے۔ یہ منہ کی صفائی، مسوڑھوں کی مضبوطی اور بینائی کی تیزی کا باعث ہے۔ مسواک کی برکت سے مرتے وقت کلمہ نصیب ہوتا ہے اور یہ معدے کی بیماریوں کو دور کرتی ہے۔
حصہ دوم: الأدب العربى
سوال نمبر 4: درج ذیل میں سے صرف پانچ کا ترجمہ کریں۔
جواب: میرے ساتھی وہاں اپنی سواریوں پر کھڑے ہو کر مجھ سے کہنے لگے:
غم سے ہلاک نہ ہو اور صبر سے کام لو۔ میرا علاج تو بہنے والے آنسو ہیں، کیا مٹتے ہوئے گھر کے نشان پر رونے کا کوئی فائدہ ہے؟
جب وہ دونوں اٹھتی ہیں تو ان سے مشک کی خوشبو ایسے پھیلتی ہے جیسے صبا کی ہوا لونگ کی خوشبو لائی ہو۔
بادل نے مقامِ غبیط کی ریت پر اپنا بوجھ (پانی) اس طرح ڈال دیا جیسے کوئی یمنی تاجر اپنے سجے ہوئے تھیلے کھول دے۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وادیِ جواء کے پرندے صبح کے وقت تیکھی شراب پی کر مست ہو گئے ہوں۔
مختصر سوالات
س 1: “قُلْحًا” سے کیا مراد ہے؟
ج: اس سے مراد دانتوں کی وہ زردی ہے جو صفائی نہ کرنے کی وجہ سے ان پر جم جاتی ہے۔
س 2: مسواک کی شرعی مقدار کیا ہے؟
ج: مسواک لمبائی میں ایک بالشت سے زیادہ نہ ہو اور موٹائی میں چھوٹی انگلی کے برابر ہونی چاہیے۔
س 3: “تَضَوَّعَ” کی صرفی تحقیق کیا ہے؟
ج: یہ فعل ماضی، واحد مذکر غائب، باب تفعل سے ہے، اس کا معنی ہے ‘خوشبو کا پھیلنا’۔
س 4: سبع معلقات کی وجہ تسمیہ کیا ہے؟
ج: زمانہ جاہلیت کے سات بہترین قصیدوں کو کعبہ کی دیواروں پر لٹکایا گیا تھا، اس لیے انہیں ‘معلقات’ (لٹکائے ہوئے) کہا جاتا ہے۔
س 5: پہلے اور تیسرے معلقہ کے شعراء کے نام لکھیں؟
ج: پہلے معلقہ کے شاعر ‘امرؤ القیس’ اور تیسرے کے ‘زہیر بن ابی سلمیٰ’ ہیں۔
خاصہ سال دوم – 2022 (تیسرا پرچہ: فقہ)
سوال نمبر 1: (الف) مذکورہ بالا عبارت پر اعراب لگا کر ترجمہ کریں۔
وَمَنْ تَكَلَّمَ فِي صَلَاتِهِ عَامِدًا أَوْ سَاهِيًا بَطَلَتْ صَلَاتُهُ خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ فِي الْخَطَأِ وَالنِّسْيَانِ وَمَفْزَعُهُ الْحَدِيثُ الْمَعْرُوفُ وَلَنَا قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِنَّ صَلَاتَنَا هَذِهِ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ وَإِنَّمَا هِيَ التَّسْبِيحُ وَالتَّهْلِيلُ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ وَمَا رَوَاهُ مَحْمُولٌ عَلَى رَفْعِ الْإِثْمِ.
جواب: ترجمہ: اور جس نے اپنی نماز میں کلام کیا قصداً یا بھول کر، اس کی نماز باطل ہوگئی، برخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے (ان کے نزدیک) غلطی اور بھول چوک میں (نماز باطل نہیں ہوتی) اور ان کی پناہ گاہ (دلیل) مشہور حدیث ہے، اور ہماری دلیل نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ “بے شک ہماری اس نماز میں لوگوں کے کلام میں سے کچھ بھی درست نہیں، یہ تو صرف تسبیح، تہلیل اور قرأتِ قرآن ہے” اور جو انہوں نے روایت کیا وہ گناہ کے اٹھا لیے جانے پر محمول ہے۔
سوال نمبر 1: (ب) احناف اور شوافع کے دلائل ذکر کر کے احناف کے موقف کو واضح کریں۔
جواب: احناف کے نزدیک نماز میں کلام کرنا مفسدِ نماز ہے، چاہے وہ جان بوجھ کر ہو یا بھول کر۔ ان کی دلیل حضرت معاویہ بن حکم کی حدیث ہے جس میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ نماز میں کلام جائز نہیں۔ امام شافعی کے نزدیک اگر کلام سہواً (بھول کر) ہو تو نماز فاسد نہیں ہوتی۔ ان کی دلیل “رفع عن امتی الخطاء والنسیان” والی حدیث ہے کہ میری امت سے خطا اور نسیان کو اٹھا لیا گیا۔ احناف کا موقف یہ ہے کہ حدیثِ رفعِ خطا سے مراد “گناہ کا اٹھایا جانا” ہے نہ کہ حکمِ شرعی کا بدلنا۔ چونکہ کلام کرنا نماز کی حقیقت کے منافی ہے، اس لیے وہ بہرصورت نماز کو توڑ دے گا۔
سوال نمبر 1: (ج) ہدایہ کی روشنی میں پانچ مفسداتِ نماز بیان کریں۔
جواب: نماز میں بات کرنا (چاہے قصداً ہو یا سہواً)۔ نماز میں کھانا یا پینا۔ درد یا مصیبت کی وجہ سے آواز کے ساتھ رونا (بشرطیکہ وہ خوفِ خدا سے نہ ہو)۔ کسی کی چھینک پر ‘یرحمک اللہ’ کہہ کر جواب دینا۔ قرآن پاک پڑھنے میں ایسی بڑی غلطی کرنا جس سے معنی بالکل بدل جائیں۔
سوال نمبر 2: (الف) مذکورہ بالا عبارت کے تحت ہدایہ میں بیان کیا گیا اختلافِ ائمہ مع دلائل تحریر کریں۔
جواب: ماءِ مستعمل (استعمال شدہ پانی) کے بارے میں ائمہ کا اختلاف درج ذیل ہے:
امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک ماءِ مستعمل پاک تو ہے مگر یہ نجاستِ حکمیہ (وضو اور غسل کی ضرورت) کو دور نہیں کر سکتا۔
امام شافعی اور امام مالک کے نزدیک ماءِ مستعمل پاک ہے مگر پاک کرنے والا نہیں۔ (ان کا ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ پاک کرنے والا بھی ہے)۔ احناف کی دلیل یہ ہے کہ پانی کا استعمال اسے اس کے اصلی وصف (پاک کرنے کی صفت) سے نکال دیتا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ نے پانی کو پاک کرنے والا بنایا ہے مگر جب وہ ایک بار استعمال ہو جائے تو اس کی وہ قوت ختم ہو جاتی ہے۔
سوال نمبر 2: (ب) ماءِ مستعمل کی تعریف اور حکم قلم بند کریں۔
جواب: تعریف: وہ پانی جو بدن سے وضو یا غسل کے لیے جدا ہوا ہو، یا قربت (ثواب) کی نیت سے استعمال کیا گیا ہو، وہ ماءِ مستعمل کہلاتا ہے۔
حکم: امام اعظم کے نزدیک مختار قول یہ ہے کہ ماءِ مستعمل “طاہر غیر مطہر” ہے، یعنی خود پاک ہے مگر اس سے دوبارہ وضو یا غسل جائز نہیں۔
سوال نمبر 3: (ب) شفق کے بارے میں اقوالِ ائمہ ذکر کریں۔
جواب: امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک ‘شفق’ اس سفیدی کا نام ہے جو سرخی کے غائب ہونے کے بعد افق پر ظاہر ہوتی ہے۔
صاحبین (امام ابو یوسف اور امام محمد) اور ائمہ ثلاثہ کے نزدیک ‘شفق’ سے مراد وہ سرخی ہے جو سورج ڈوبنے کے بعد نظر آتی ہے۔
فتویٰ صاحبین کے قول پر ہے کہ سرخی غائب ہوتے ہی عشاء کا وقت شروع ہو جاتا ہے، تاہم احتیاط امام اعظم کے قول میں ہے۔
سوال نمبر 3: (ج) شفق کی تعریف کریں۔
جواب: شفق اس روشنی یا لالی کو کہتے ہیں جو سورج کے غروب ہونے کے بعد آسمان کے مغربی کنارے پر باقی رہتی ہے۔ جب یہ سرخی غائب ہو جائے تو اسے شفقِ احمر کہتے ہیں، اور جب اس کے بعد والی سفیدی بھی غائب ہو جائے تو اسے شفقِ ابیض کہتے ہیں۔
مختصر سوالات
س 1: غدیرِ عظیم میں نجاست گر جائے تو کیا حکم ہے؟
ج: غدیرِ عظیم (بڑا تالاب) ناپاک نہیں ہوتا جب تک نجاست اس کے رنگ، بو یا ذائقے کو نہ بدل دے۔
س 2: پانی میں ایسے جانور کے مرنے کا کیا حکم ہے جس کا بہنے والا خون نہ ہو؟
ج: جس جانور کا بہنے والا خون نہ ہو (جیسے مکھی، مچھر، بچھو) اس کے پانی میں مرنے سے پانی ناپاک نہیں ہوتا۔
س 3: کیا تیمم میں نیت فرض ہے؟
ج: جی ہاں، احناف کے نزدیک تیمم میں نیت کرنا فرض ہے کیونکہ تیمم طہارتِ بدلیہ ہے اور یہ نیت کے بغیر معتبر نہیں۔
س 4: کیا غسل واجب ہونے کی صورت میں موزوں پر مسح جائز ہے؟
ج: نہیں، موزوں پر مسح صرف وضو کے لیے جائز ہے؛ اگر غسل واجب ہو جائے تو موزے اتار کر پاؤں دھونا ضروری ہے۔
س 5: حیض کی کم از کم مدت کیا ہے؟
ج: حیض کی کم از کم مدت تین دن اور تین راتیں ہیں؛ اس سے کم وقت کے خون کو استحاضہ (بیماری کا خون) کہا جائے گا۔
خاصہ سال دوم – 2022 (چوتھا پرچہ: اصولِ فقہ)
سوال نمبر 1: (الف) عبارت پر اعراب لگا کر ترجمہ تحریر کریں۔
إِنَّ أُصُولَ الشَّرْعِ ثَلَاثَةٌ: الْكِتَابُ وَالسُّنَّةُ وَإِجْمَاعُ الْأُمَّةِ (بَدَلٌ مِنْ ثَلَاثَةٍ أَوْ بَيَانٌ لَهُ) وَالْمُرَادُ مِنَ الْكِتَابِ بَعْضُ الْكِتَابِ وَهُوَ مِقْدَارُ خَمْسِ مِائَةِ آيَةٍ لِأَنَّهُ أَصْلُ الشَّرْعِ وَالْبَاقِي قِصَصٌ وَنَحْوُهَا وَهَكَذَا الْمُرَادُ مِنَ السُّنَّةِ بَعْضُهَا وَهُوَ مِقْدَارُ ثَلَاثَةِ آلَافٍ عَلَى مَا قَالُوا.
جواب: ترجمہ: بے شک اصولِ شرع تین ہیں: کتاب اللہ، سنت اور اجماعِ امت (یہ ‘تین’ سے بدل یا اس کا بیان ہے)۔ اور کتاب سے مراد کتاب کا وہ حصہ ہے جو (احکام کے متعلق) تقریباً پانچ سو آیات کی مقدار ہے، کیونکہ یہی اصلِ شرع ہے اور باقی قصے اور اس جیسی دیگر چیزیں ہیں۔ اسی طرح سنت سے مراد اس کا بعض حصہ ہے اور وہ قول کے مطابق تقریباً تین ہزار احادیث کی مقدار ہے۔
سوال نمبر 1: (ب) اجماع سے مراد کن کن کا اجماع ہے؟ نیز قیاس کو الگ ذکر کرنے کی وجہ بیان کریں۔
جواب: اجماع سے مراد نبی کریم ﷺ کی امت کے مجتہدین کا کسی شرعی معاملے پر متفق ہو جانا ہے۔ اس میں صرف علماء اور مجتہدین کا اعتبار ہوتا ہے، عام عوام کا نہیں۔ مصنف نے “والاصل الرابع القیاس” کہہ کر قیاس کو الگ اس لیے ذکر کیا کیونکہ پہلے تین اصول (کتاب، سنت، اجماع) دلائلِ قطعیہ اور مستقل اصول ہیں جن سے حکم براہِ راست ثابت ہوتا ہے، جبکہ قیاس ان تینوں سے نکالا گیا ایک فرعی اصل ہے جو حکم کو ظاہر کرتا ہے، پیدا نہیں کرتا۔
سوال نمبر 2: (الف) فارسی میں تلاوت جائز ہے یا نہیں؟ امام اعظم کی طرف منسوب وہم کا ازالہ کریں۔
جواب: امام اعظم رحمہ اللہ کا ابتدائی قول یہ تھا کہ فارسی میں تلاوت جائز ہے، لیکن بعد میں آپ نے اس سے رجوع فرما لیا تھا۔
اب صحیح اور مفتیٰ بہ قول یہ ہے کہ قدرت کے باوجود فارسی میں تلاوت کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ نظم (عربی الفاظ) بھی قرآن کا لازمی حصہ ہے۔
وہم کا ازالہ یہ ہے کہ امام صاحب نے یہ جوار صرف اس شخص کے لیے دیا تھا جو عربی پر قادر نہ ہو، لیکن بعد میں احتیاطاً اس سے بھی رجوع کر لیا تاکہ قرآن کی معجزانہ نظم برقرار رہے۔
سوال نمبر 2: (ب) ماتن علیہ الرحمہ لفظ کی جگہ نظم کا صیغہ کیوں لائے؟ وضاحت کریں۔
جواب: ماتن نے لفظ کی جگہ “نظم” کا لفظ اس لیے استعمال کیا کیونکہ لفظ تو ایک مفرد آواز کو بھی کہہ سکتے ہیں، جبکہ قرآن ایک خاص ترتیب اور تالیف کا نام ہے جسے ‘نظم’ (موتیوں کو پرونے کی طرح ترتیب دینا) سے بہتر واضح کیا جا سکتا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن کی ترتیب بھی منجانب اللہ ہے۔
سوال نمبر 3: (الف) حقیقت، مجاز، صریح اور کنایہ میں سے ہر ایک کی مع امثلہ تعریف کریں۔
جواب: حقیقت: وہ لفظ جو اپنے اس معنی میں استعمال ہو جس کے لیے اسے وضع کیا گیا ہو۔ مثال: ‘اسد’ کا استعمال درندے کے لیے۔
مجاز: وہ لفظ جو اپنے موضوع لہ کے علاوہ کسی اور معنی میں استعمال ہو (علاقہ اور قرینہ کی وجہ سے)۔
مثال: ‘اسد’ کا بہادر انسان کے لیے استعمال۔
صریح: وہ لفظ جس کا معنی کثرتِ استعمال کی وجہ سے بالکل واضح ہو اور سننے والا فوراً سمجھ جائے۔
مثال: “میں نے تمہیں طلاق دی”۔
کنایہ: وہ لفظ جس کا معنی پوشیدہ ہو اور نیت یا قرینہ کے بغیر سمجھ نہ آئے۔
مثال: “تم مجھ سے جدا ہو”۔
مختصر سوالات
س 1: خاص، عام، مشترک اور مؤول کی تعریف مع مثال کریں۔
ج: خاص: جو ایک فرد یا ایک نوع کے لیے ہو (مثلاً زید)۔ عام: جو ایک وضع سے کئی افراد کو شامل ہو (مثلاً المسلمون)۔ مشترک: جس کے کئی معنی ہوں (مثلاً لفظِ ‘قرء’ جس کا معنی حیض بھی ہے اور طہر بھی)۔ مؤول: جب مشترک کے ایک معنی کو دلیل سے ترجیح دی جائے (مثلاً قرء سے تین دن مراد لینا)۔
س 2: تقسیمِ ثالث کی اقسامِ اربعہ میں وجہِ حصر کیا ہے؟
ج: لفظ کے معنی اگر بالکل واضح ہوں تو وہ ‘ظاہر’ ہے، اگر مزید واضح ہوں تو ‘نص’، اگر تاویل کا احتمال نہ رہے تو ‘مفسر’ اور اگر نسخ کا احتمال بھی ختم ہو جائے تو ‘محکم’ ہے۔ یہ تقسیم ظہور کے درجات پر مبنی ہے۔
س 3: حقیقت کی کتنی اقسام ہیں؟
ج: حقیقت کی تین اقسام ہیں: (1) حقیقتِ لغوی (2) حقیقتِ شرعی (3) حقیقتِ عرفی۔
س 4: نور الانوار کس کتاب کی شرح ہے؟
ج: نور الانوار امام ابوالبرکات نسفی کی کتاب “المنار” (منار الانوار) کی شرح ہے۔
س 5: متن اور ماتن کا نام کیا ہے؟
ج: متن کا نام “منار الانوار” ہے اور اس کے ماتن (مصنف) کا نام “امام ابوالبرکات عبداللہ بن احمد النسفی” ہے۔
خاصہ سال دوم – 2022 (پانچواں پرچہ: نحو – شرح جامی)
سوال نمبر 1: (الف) عبارت “التقدير أى تقدير الإعراب…” کی تشکیل اور ترجمہ کریں۔
جواب: ترجمہ: تقدیر (یعنی اعراب کی پوشیدگی) اس اسمِ معرب میں ہوتی ہے جس میں اعراب کا (ظہور) متعذر ہو جائے یعنی اس کے لفظ میں اعراب کا ظاہر ہونا ناممکن ہو، اور یہ تب ہوتا ہے جب وہ حرف جو اعراب کی جگہ ہے (یعنی حرفِ آخر) حرکاتِ اعرابیہ کو قبول کرنے کے قابل نہ رہے۔
سوال نمبر 1: (ب) شرح جامی، شرح مزجی ہے یا غیر مزجی؟ ماتن و شارح کے حالات لکھیں۔
جواب: شرح جامی ایک شرحِ مزجی ہے (جس میں متن اور شرح اس طرح ملے ہوتے ہیں کہ ایک ہی عبارت معلوم ہوتی ہے)۔
ماتن: علامہ ابن الحاجب رحمہ اللہ (صاحبِ کافیہ)۔ آپ کا نام عثمان بن عمر ہے، آپ نحو اور فقہ کے بہت بڑے امام تھے۔
شارح: مولانا نور الدین عبد الرحمن جامی رحمہ اللہ۔ آپ نویں صدی ہجری کے عظیم عالم، صوفی اور شاعر تھے۔ آپ نے یہ شرح اپنے صاحبزادے ضیاء الدین یوسف کے لیے لکھی تھی۔
سوال نمبر 2: (الف) ضرورت سے کیا مراد ہے؟ ضرورت اور تناسب کی امثلہ مع وضاحت لکھیں۔
جواب: ضرورت: اس سے مراد ‘ضرورتِ شعری’ ہے، یعنی شاعر کا وزن یا قافیہ درست رکھنے کے لیے کسی کلمے میں ایسی تبدیلی کرنا جو عام کلام میں جائز نہ ہو۔
توجیہ: ‘یجوز’ کہنا اس لیے درست ہے کہ غیر منصرف کو منصرف پڑھنا ممتنع (ناممکن) نہیں بلکہ صرف خلافِ اصل ہے، اور ضرورت کے وقت خلافِ اصل جائز ہو جاتا ہے۔
مثال (ضرورت): جیسے “وَيَوْمَ دَخَلْتُ الْخِدْرَ خِدْرَ عُنَيْزَةٍ” میں ‘عُنَيْزَةٍ’ کو ضرورتِ شعری کی وجہ سے منصرف پڑھا گیا۔
مثال (تناسب): جیسے قرآن پاک میں “سَلَاسِلًا وَأَغْلَالًا”؛ یہاں ‘سَلَاسِل’ غیر منصرف ہے لیکن ‘اغلالاً’ کی مناسبت سے اسے منصرف (تنوین کے ساتھ) پڑھا گیا۔
سوال نمبر 2: (ب) اعراب کی تعریف اور “ليس هذا من تمام الحد” کی وضاحت کریں۔
جواب: اعراب وہ اثر ہے (چاہے لفظی ہو یا تقدیری) جو عامل کے آنے سے کلمے کے آخر میں پیدا ہوتا ہے۔
شارح کے مطابق “لیدل علی المعانی…” (تاکہ ان معانی پر دلالت کرے جو اس پر وارد ہوتے ہیں) تعریف کا حصہ نہیں بلکہ یہ اعراب کی ‘غرض و غایت’ ہے۔ اسی لیے شارح نے فرمایا کہ یہ حد (تعریف) کا تِتمہ یا حصہ نہیں ہے، کیونکہ تعریف صرف ماہیتِ اعراب سے ہونی چاہیے۔
سوال نمبر 3: (ب) منعِ صرف کے اسبابِ تسعہ کی تعریفات و امثلہ لکھیں۔
جواب: منعِ صرف کے نو اسباب درج ذیل ہیں: عدل: لفظ کا اپنی اصل سے نکل کر دوسرے لفظ میں بدلنا۔
(مثال: عُمَر جو عامِر سے ہے)۔ وصف: وہ لفظ جو ذات کے ساتھ صفت کے معنی دے۔ (مثال: اَحْمَر)۔
تانیث: مؤنث ہونا، چاہے علامتِ تانیث لفظاً ہو یا معنیً۔ (مثال: طَلْحَة، زَیْنَب)۔ معرفہ (علم): کسی خاص چیز کا نام ہونا۔ (مثال: اِبْرَاہِیْم)۔
عجمہ: وہ لفظ جو عربی کے علاوہ کسی دوسری زبان کا ہو۔ (مثال: اِسْمَاعِیْل)۔
جمع (منتھیٰ الجموع): وہ جمع جس کے بعد مزید جمع نہ بن سکے۔ (
مثال: مَسَاجِد)۔ ترکیب: دو کلموں کو ملا کر ایک کر دینا۔
(مثال: بَعْلَبَک)۔ الف و نون زائدتان: لفظ کے آخر میں الف اور نون کا زائد ہونا۔ (مثال: عُثْمَان)۔ وزنِ فعل: اسم کا وزن فعل کے وزن جیسا ہونا۔ (مثال: اَحْمَد)۔
مختصر سوالات
س 1: “الكلمة لفظ” میں لفظ کا حمل کلمہ پر کیسے درست ہے؟
ج: یہ حملِ اولی ہے، کیونکہ کلمہ حقیقت میں ایک لفظ ہی ہوتا ہے۔ مبتدا اور خبر میں عدمِ مطابقت کا جواب یہ ہے کہ ‘لفظ’ سے مراد اس کی جنس ہے، اور جنس میں تذکیر و تانیث کی مطابقت ضروری نہیں۔
س 2: کلمہ کی وجہ تسمیہ کیا ہے؟
ج: کلمہ ‘کلم’ (زخم) سے مشتق ہے، کیونکہ یہ دل پر اثر کرتا ہے۔
س 3: کلام کی وجہ تسمیہ کیا ہے؟
ج: یہ بھی کلم سے مشتق ہے، کیونکہ کلام کے ذریعے دلوں پر اثر (چاہے خوشی کا ہو یا غم کا) کیا جاتا ہے۔
س 4: معرب کی وجہ تسمیہ کیا ہے؟
ج: یہ ‘اعرب’ سے ہے جس کا معنی ‘ظاہر کرنا’ ہے، چونکہ معرب معانی (فاعلیت، مفعولیت) کو واضح کر دیتا ہے، اس لیے اسے معرب کہتے ہیں۔
س 5: مضافا الی مضمر کی قید کا فائدہ کیا ہے؟
ج: ‘کِلا’ (کلا) جب اسمِ ظاہر کی طرف مضاف ہو تو اس کا اعراب اسمِ مقصور کی طرح (تقدیری) ہوتا ہے، لیکن جب یہ ضمیر (مضمر) کی طرف مضاف ہو تو اس کا اعراب تثنیہ کی طرح (بالحروف) ہوتا ہے۔
خاصہ سال دوم – 2022 (چھٹا پرچہ: بلاغت و منطق)
قسم اول: بلاغت (تلخیص المفتاح)
سوال نمبر 1: (الف) عبارت پر اعراب لگا کر ترجمہ کریں۔
وَيُسَمَّى الْأَوَّلُ فَائِدَةَ الْخَبَرِ وَالثَّانِي لَازِمَهَا وَقَدْ يُنَزَّلُ الْعَالِمُ بِهِمَا مَنْزِلَةَ الْجَاهِلِ لِعَدَمِ جَرْيِهِ عَلَى مُوجِبِ الْعِلْمِ فَيَنْبَغِي أَنْ يُقْتَصَرَ مِنَ التَّرْكِيبِ عَلَى قَدْرِ الْحَاجَةِ فَإِنْ كَانَ خَالِيَ الذِّهْنِ مِنَ الْحُكْمِ وَالتَّرَدُّدِ فِيهِ اسْتَغْنَى عَنْ مُؤَكِّدَاتِ الْحُكْمِ وَإِنْ كَانَ مُتَرَدِّدًا فِيهِ طَالِبًا لَهُ حَسُنَ تَقْوِيَتُهُ بِمُؤَكِّدٍ وَإِنْ كَانَ مُنْكِرًا وَجَبَ تَوْكِيدُهُ بِحَسَبِ الْإِنْكَارِ.
جواب: ترجمہ: اور پہلے (قصد) کو “فائدہ خبر” اور دوسرے کو “لازمِ فائدہ خبر” کہا جاتا ہے۔ اور کبھی (خبر کے) جاننے والے کو نہ جاننے والے کے درجے میں اتار دیا جاتا ہے کیونکہ وہ اپنے علم کے تقاضے پر عمل نہیں کر رہا ہوتا۔ پس مناسب یہ ہے کہ کلام کو ضرورت کی مقدار پر رکھا جائے؛ پس اگر مخاطب حکم اور اس میں شک سے خالی الذہن ہو تو وہ تاکیدات سے بے نیاز ہے، اور اگر وہ متردد (شک میں) اور طالبِ حکم ہو تو کلام کو ایک مؤکد سے قوی کرنا بہتر ہے، اور اگر وہ منکر ہو تو انکار کی شدت کے حساب سے تاکید لانا واجب ہے۔
سوال نمبر 1: (ب) عبارت میں مذکور “الاول” اور “الثانی” سے کیا مراد ہے؟ نیز حقیقتِ عقلیہ کی تعریف لکھیں؟
جواب: الاول (فائدہ خبر): اس سے مراد مخاطب کو وہ حکم دینا ہے جس کا اسے پہلے علم نہ تھا (مثلاً: زید کھڑا ہے)۔
الثانی (لازمِ فائدہ خبر): اس سے مراد مخاطب کو یہ بتانا ہے کہ متکلم کو بھی اس بات کا علم ہے (مثلاً: تم نے کل روزہ رکھا، یہاں مخاطب کو اپنے روزے کا علم ہے مگر اسے یہ بتانا مقصود ہے کہ مجھے بھی پتا ہے)۔
حقیقتِ عقلیہ: فعل یا اس کے ہم معنی لفظ کی اسناد اس چیز کی طرف کرنا جو متکلم کے نزدیک (حقیقت میں) اس کا فاعل ہو، جیسے: “اللہ نے کھیتی اگائی”۔
سوال نمبر 3: (الف) علمِ معانی کی تعریف کر کے ابوابِ ثمانیہ اور ان کی وجہِ حصر لکھیں۔
جواب: تعریف: علمِ معانی وہ علم ہے جس کے ذریعے عربی لفظ کے ان احوال کو پہچانا جاتا ہے جن کی وجہ سے کلام مقتضیٰ حال (موقع و محل) کے مطابق ہو جائے۔ ابوابِ ثمانیہ (8 ابواب):
احوالِ اسنادِ خبری، احوالِ مسند الیہ، احوالِ مسند، احوالِ متعلقاتِ فعل، قصر، انشاء، فصل و وصل، ایجاز و اطناب و مساوات۔
وجہِ حصر: کلام یا تو خبر ہوگا یا انشاء۔ اگر خبر ہے تو اس میں اسناد، مسند الیہ اور مسند کا ہونا ضروری ہے۔
پھر فعل کے متعلقات، قصر اور کلام کو جوڑنے یا الگ کرنے (فصل و وصل) کے مسائل آتے ہیں۔ آخر میں کلام کے طویل یا مختصر ہونے (ایجاز و اطناب) پر بحث ہوتی ہے۔
قسم ثانی: منطق (شرح تہذیب)
سوال نمبر 4: (الف) عبارت پر اعراب لگا کر ترجمہ کریں۔
الْعِلْمُ هُوَ الصُّورَةُ الْحَاصِلَةُ مِنَ الشَّيْءِ عِنْدَ الْعَقْلِ وَالْمُصَنِّفُ لَمْ يَتَعَرَّضْ لِتَعْرِيفِهِ إِمَّا لِلِاكْتِفَاءِ بِالتَّصَوُّرِ بِوَجْهٍ مَا فِي مَقَامِ التَّقْسِيمِ وَإِمَّا لِأَنَّ تَعْرِيفَ الْعِلْمِ مَشْهُورٌ مُسْتَفِيضٌ وَإِمَّا لِأَنَّ الْعِلْمَ بَدِيهِيُّ التَّصَوُّرِ عَلَى مَا قِيلَ.
جواب: ترجمہ: علم وہ صورت ہے جو کسی چیز سے عقل کے پاس حاصل ہوتی ہے۔ اور مصنف نے اس (علم) کی تعریف ذکر نہیں کی؛ یا تو اس لیے کہ تقسیم کے مقام پر ایک گونہ تصور پر اکتفا کیا ہے، یا اس لیے کہ علم کی تعریف بہت مشہور اور عام ہے، یا اس لیے کہ (جیسا کہ کہا گیا ہے) علم کا تصور بدیہی (خود واضح) ہے۔
سوال نمبر 4: (ب) علمِ منطق کی تعریف، موضوع اور غرض و غایت شرحِ تہذیب کی روشنی میں کریں۔
جواب: تعریف: منطق وہ آلہ ہے جس کے قواعد کا لحاظ رکھنا ذہن کو سوچ و بچار میں غلطی سے بچاتا ہے۔
موضوع: منطق کا موضوع “معلوماتِ تصوریہ” (تعریف کے لیے) اور “معلوماتِ تصدیقیہ” (دلیل کے لیے) ہیں۔
غرض و غایت: فکر و استدلال میں ذہن کو غلطی سے بچانا تاکہ انسان حق تک پہنچ سکے۔
سوال نمبر 5: (ب) کلی کے افراد خارج میں پائے جانے کے اعتبار سے اقسام تحریر کریں۔
جواب: کلی کی چھ اقسام ہیں: وہ کلی جس کا کوئی فرد خارج میں نہ ہو اور ہونا ناممکن ہو (مثلاً: شریکِ باری تعالیٰ)۔
وہ کلی جس کا کوئی فرد خارج میں نہ ہو لیکن ہونا ممکن ہو (مثلاً: عنقاء)۔
وہ کلی جس کا خارج میں صرف ایک فرد ہو اور مزید کا ہونا ناممکن ہو (مثلاً: واجب الوجود)۔
وہ کلی جس کا خارج میں صرف ایک فرد ہو لیکن مزید کا ہونا ممکن ہو (مثلاً: سورج – اگرچہ سورج ایک ہے مگر عقل کہتی ہے کہ مزید ہو سکتے ہیں)۔
وہ کلی جس کے افراد خارج میں کثیر (بہت سے) ہوں لیکن محدود ہوں (مثلاً: سیارے)۔
وہ کلی جس کے افراد خارج میں کثیر اور غیر محدود ہوں (مثلاً: معلوماتِ باری تعالیٰ)۔
مختصر سوالات
س 1: تلخیص المفتاح متن ہے یا شرح؟
ج: تلخیص المفتاح ایک متن ہے جو علامہ خطیب دمشق جلال الدین قزوینی نے علامہ سکاکی کی کتاب “مفتاح العلوم” کے تیسرے حصے کی تلخیص کے طور پر لکھی ہے۔
س 2: تنافر اور غرابت کی تعریف کیا ہے؟
ج: تنافر: کلام میں حروف کا ایسا اکھٹا ہونا کہ زبان پر بوجھ پڑے۔ غرابت: ایسے الفاظ کا استعمال جو نامانوس ہوں اور جن کا معنی لغت کے بغیر سمجھ نہ آئے۔
س 3: ہدایت کی اقسام اور “سواء الطریق” سے کیا مراد ہے؟
ج: ہدایت کی دو بڑی اقسام ہیں: (1) ارائت الطریق (راستہ دکھانا) (2) ایصال الی المطلوب (منزل تک پہنچانا)۔ “سواء الطریق” سے مراد سیدھا اور ہموار راستہ ہے جس پر چلنے والا گمراہ نہیں ہوتا۔
س 4: لفظ “تحریر” لانے کا کیا فائدہ ہے؟
ج: تحریر کا لغوی معنی ‘آزاد کرنا’ ہے، یہاں اس سے مراد کلام کو ابہام، پیچیدگی اور غیر ضروری بحثوں سے پاک کر کے صاف ستھرا پیش کرنا ہے۔