Tanzeem ul Madaris Solved Past Paper 2022 | PDF (طلباء کے لیے) خاصه سال اول

حل شدہ پرچہ: ترجمہ قرآن وحديث (خاصہ سال اول – 2022)

حصہ اول: قرآن مجید

سوال: “وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ وَمِنْ رِبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ…” کا ترجمہ کریں۔
جواب: اور ان (کفار) کے لیے جتنی ہو سکے قوت تیار رکھو اور پلے ہوئے گھوڑوں سے، تاکہ تم اس کے ذریعے اللہ کے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو خوفزدہ کر سکو۔
سوال: “يَحْذَرُ الْمُنَافِقُونَ أَنْ تُنَزَّلَ عَلَيْهِمْ سُورَةٌ تُنَبِّئُهُمْ بِمَا فِي قُلُوبِهِمْ…” کا ترجمہ لکھیں۔
جواب: منافق ڈرتے ہیں کہ ان پر کوئی ایسی سورت نازل نہ ہو جائے جو ان کے دلوں کی (چھپی) باتیں ظاہر کر دے، کہہ دو: تم مذاق اڑاؤ، بے شک اللہ اس چیز کو ظاہر کرنے والا ہے جس سے تم ڈرتے ہو۔
سوال: “التَّائِبُونَ الْعَابِدُونَ الْحَامِدُونَ السَّائِحُونَ الرَّاكِعُونَ السَّاجِدُونَ…” کا ترجمہ کریں۔
جواب: وہ لوگ جو توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، حمد کرنے والے، (اللہ کی راہ میں) سفر کرنے والے، رکوع کرنے والے، سجدہ کرنے والے اور نیکی کا حکم دینے والے ہیں۔
سوال: “أَلَا إِنَّهُمْ يَثْنُونَ صُدُورَهُمْ لِيَسْتَخْفُوا مِنْهُ…” کا ترجمہ لکھیں۔
جواب: خبردار! بے شک وہ اپنے سینوں کو دوہرا کرتے ہیں تاکہ وہ اس (اللہ) سے چھپ سکیں، خبردار! جس وقت وہ اپنے کپڑے اوڑھ لیتے ہیں، وہ (اللہ) جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں۔
سوال: “فَلَمَّا رَجَعُوا إِلَىٰ أَبِيهِمْ قَالُوا يَا أَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَيْلُ فَأَرْسِلْ مَعَنَا أَخَانَا نَكْتَلْ…” کا ترجمہ کریں۔
جواب: پس جب وہ اپنے باپ کی طرف لوٹے تو انہوں نے کہا: اے ہمارے باپ! ہم سے غلہ روک دیا گیا ہے، لہٰذا ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیج دیں تاکہ ہم غلہ لا سکیں اور ہم اس کی حفاظت کریں گے۔

قرآنی الفاظ کے معانی

سوال: لفظ “وَجِلَتْ” اور “فَوْقَ الْأَعْنٰاقِ” کا معنی کیا ہے؟
جواب: وَجِلَتْ: وہ (دل) ڈر گئے؛ فَوْقَ الْأَعْنٰاقِ: گردنوں کے اوپر۔
سوال: لفظ “لَا تَنَازَعُوا” اور “فَسِیْحُوْا” کا معنی لکھیں۔
جواب: لَا تَنَازَعُوا: تم جھگڑا نہ کرو؛ فَسِیْحُوْا: پس تم سیر کرو (چلو پھرو)۔
سوال: لفظ “لَا يَرْقُبُوا” اور “اثَّاقَلْتُمْ” کا معنی کیا ہے؟
جواب: لَا يَرْقُبُوا: وہ لحاظ نہیں کرتے؛ اثَّاقَلْتُمْ: تم بوجھل ہو گئے۔
سوال: لفظ “شَفَا” اور “عَنِتُّمْ” کا معنی لکھیں۔
جواب: شَفَا: کنارہ؛ عَنِتُّمْ: تم مشقت میں پڑو۔
سوال: لفظ “السَّائِحُوْنَ” اور “لَمْ يَلْبَثُوا” کا معنی کیا ہے؟
جواب: السَّائِحُوْنَ: روزہ دار یا (اللہ کی راہ میں) سفر کرنے والے؛ لَمْ يَلْبَثُوا: وہ نہیں ٹھہرے۔
سوال: لفظ “مَا يَعْزُبُ” اور “يَسْتَغْشُوْنَ” کا معنی لکھیں۔
جواب: مَا يَعْزُبُ: نہیں غائب ہوتی؛ يَسْتَغْشُوْنَ: وہ ڈھانپ لیتے ہیں۔

دوسرا حصہ: رياض الصالحين (احادیث)

سوال: “عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَشَدَّ حَيَاءً مِنَ الْعَذْرَاءِ فِي خِدْرِهَا…” کا ترجمہ کریں۔
جواب: حضرت ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ پردہ نشین کنواری لڑکی سے بھی زیادہ شرم و حیا والے تھے، جب آپ ﷺ کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھتے تو ہم اسے آپ کے چہرہ مبارک سے پہچان لیتے۔
سوال: “عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَأْكُلُ بِثَلَاثِ أَصَابِعَ فَإِذَا فَرَغَ لَعَقَهَا” کا ترجمہ لکھیں۔
جواب: حضرت کعب بن مالک سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو تین انگلیوں سے کھاتے ہوئے دیکھا، پھر جب آپ ﷺ فارغ ہوتے تو انہیں چاٹ لیتے۔
سوال: “عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ أَنْ يَرَىٰ أَثَرَ نِعْمَتِهِ عَلَىٰ عَبْدِهِ” کا ترجمہ کریں۔
جواب: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ وہ اپنے بندے پر اپنی نعمت کا اثر (ظاہری طور پر) دیکھے۔
سوال: “عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ إِذَا تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ أَعَادَهَا ثَلَاثًا حَتَّىٰ تُفْهَمَ عَنْهُ…” کا ترجمہ لکھیں۔
جواب: حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جب کوئی بات فرماتے تو اسے تین بار دہراتے تاکہ اسے سمجھ لیا جائے، اور جب کسی قوم کے پاس آتے تو انہیں تین بار سلام کرتے۔
سوال: “عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ ﷺ وَجُيُوشُهُ إِذَا عَلَوْا الثَّنَايَا كَبَّرُوا وَإِذَا هَبَطُوا سَبَّحُوا” کا ترجمہ کریں۔
جواب: حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ نبی ﷺ اور آپ کا لشکر جب بلندی پر چڑھتے تو ‘اللہ اکبر’ کہتے اور جب نیچے اترتے تو ‘سبحان اللہ’ کہتے۔

سوال نمبر 3: الفاظ کے معانی (احادیث)
سوال: لفظ “بِضْعٌ” اور “شُعْبَةٌ” کا معنی کیا ہے؟
جواب: بِضْعٌ: تین سے نو تک کی تعداد؛ شُعْبَةٌ: شاخ یا حصہ۔
سوال: لفظ “تَبْكِيْنَ” اور “جَائِزَةٌ” کا معنی لکھیں۔
جواب: تَبْكِيْنَ: تو (ایک عورت) روتی ہے؛ جَائِزَةٌ: انعام یا مہمان نوازی کا حق۔
سوال: لفظ “عَقَبَةٌ” اور “يُرْدِفُ” کا معنی کیا ہے؟
جواب: عَقَبَةٌ: دشوار گزار راستہ یا گھاٹی؛ يُرْدِفُ: وہ پیچھے بٹھاتا ہے۔
سوال: لفظ “كَآبَةُ الْمَنْظَرِ” کا معنی لکھیں۔
جواب: کآبۃ المنظر: برا منظر یا اداس کر دینے والا نظارہ۔

حل شدہ پرچہ: فقہ و اصول فقہ (دوسرا پرچہ – 2022) – تنظیم المدارس

حصہ اول: فقہ (قدوری/ہدایہ)

سوال 1 (الف): “الْبَيْعُ يَنْعَقِدُ بِالْإِيجَابِ وَالْقَبُولِ إِذَا كَانَا بِلَفْظِ الْمَاضِي…” کا ترجمہ کریں۔
جواب: بیع (خرید و فروخت) ایجاب اور قبول کے ذریعے منعقد ہوتی ہے جب وہ دونوں ماضی کے لفظ کے ساتھ ہوں، اور جب عاقدین میں سے ایک ایجاب کر لے تو دوسرا بااختیار ہے، چاہے تو مجلس میں قبول کر لے اور چاہے تو اسے رد کر دے، پس ان دونوں میں سے جو بھی قبول کرنے سے پہلے مجلس سے اٹھ گیا تو ایجاب باطل ہو جائے گا۔
سوال 1 (ب): خیارِ شرط، خیارِ رؤیت اور خیارِ عیب میں سے دو کی تعریف، حکم اور مدت لکھیں؟
جواب: (1) خیارِ شرط: فریقین میں سے کسی کا سودا مکمل کرنے یا نہ کرنے کے لیے وقت لینا؛ احناف کے نزدیک اس کی مدت تین دن ہے۔ (2) خیارِ رؤیت: چیز دیکھے بغیر خریدی ہو تو دیکھنے کے بعد خریدار کو رد کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے؛ اس کی کوئی خاص مدت نہیں بلکہ دیکھنے کے فوراً بعد فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔
سوال نمبر 2: بیع مزابنہ، ملامسہ، بیع الحصاۃ، منابذہ اور تلقى الجلب کی تعریفات لکھیں؟
جواب: مزابنہ: درخت پر لگی کھجور کو توڑی ہوئی کھجور کے بدلے اندازے سے بیچنا۔ ملامسہ: صرف چھونے سے بیع کا لازم ہو جانا۔ بیع الحصاۃ: کنکری پھینک کر سودا طے کرنا۔ منابذہ: کپڑا ایک دوسرے کی طرف پھینک کر بیع طے کرنا۔ تلقى الجلب: منڈی سے باہر جا کر تاجروں سے سستے داموں مال خرید لینا۔ ان تمام صورتوں سے نبی ﷺ نے منع فرمایا ہے۔
سوال 3 (الف): شرکتِ عقود کی تعریف اور اس کی اقسامِ اربعہ کی مثالیں لکھیں؟
جواب: شرکتِ عقود دو یا دو سے زیادہ افراد کا نفع کمانے کے لیے عقد کرنا ہے۔ اقسام: (1) مفاوضہ: تمام معاملات میں برابری۔ (2) عنان: صرف مال میں شرکت۔ (3) صنائع: کام اور ہنر میں شرکت۔ (4) وجوہ: ساکھ (کریڈٹ) پر مال خرید کر بیچنے میں شرکت۔
سوال 3 (ب): مزارعت کے جواز اور عدم جواز کے متعلق ائمہ احناف کا موقف لکھیں؟
جواب: امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک مزارعت (بٹائی پر کھیتی باڑی) فاسد ہے کیونکہ یہ معدوم چیز کی بیع ہے، جبکہ امام ابویوسفؒ اور امام محمدؒ (صاحبین) کے نزدیک ضرورت کی بنا پر یہ جائز ہے اور اسی پر فتویٰ ہے۔

حصہ دوم: اصولِ فقہ (اصول الشاشی)

سوال 4 (الف): “فَالْخَاصُّ لَفْظٌ وُضِعَ لِمَعْنًى مَعْلُومٍ أَوْ لِمُسَمًّى مَعْلُومٍ عَلَى الِانْفِرَادِ…” کا ترجمہ کریں۔
جواب: پس خاص وہ لفظ ہے جو اکیلے طور پر کسی معلوم معنی یا کسی معلوم مسمیٰ کے لیے وضع کیا گیا ہو، جیسے ہمارا کہنا کسی فرد کی تخصیص میں “زید”۔
سوال 4 (ب): عام کا حکم اور اس پر کوئی ایک تفریح مع مثال بیان کریں؟
جواب: عام کا حکم یہ ہے کہ یہ اپنے تمام افراد کو قطعی طور پر شامل ہوتا ہے۔ تفریح: اگر کوئی کہے “میں کسی سے بات نہیں کروں گا” تو یہاں ‘کسی’ عام ہے، اگر وہ ایک شخص سے بھی بات کرے گا تو اس کی قسم ٹوٹ جائے گی۔
سوال 5 (الف): عبارۃ النص، اشارۃ النص اور اقتضاء النص کی تعریف و مثال لکھیں؟
جواب: (1) عبارۃ النص: جس مقصد کے لیے کلام لایا گیا ہو، جیسے وراثت کے احکام۔ (2) اشارۃ النص: جو کلام کا اصل مقصد نہ ہو مگر اس سے ثابت ہو، جیسے مدتِ حمل کا چھ ماہ ہونا۔ (3) اقتضاء النص: جس کے بغیر کلام درست نہ ہو، جیسے “اس بستی سے پوچھو” یعنی بستی والوں سے۔
سوال 5 (ب): لفظ کے حقیقی معانی چھوڑنے کے صرف دو مقام مع مثالیں تحریر کریں؟
جواب: (1) عادت: جیسے کوئی گوشت نہ کھانے کی قسم کھائے تو مچھلی کھانا اس کے لیے جائز ہے کیونکہ عادت میں مچھلی کو گوشت نہیں کہا جاتا۔ (2) تعذر: جب حقیقت پر عمل ناممکن ہو، جیسے کوئی کہے “میں اس درخت سے نہیں کھاؤں گا” تو اس سے مراد اس کا پھل کھانا ہے۔
سوال 6 (الف): استعارہ کی تعریف اور اس کے دونوں طریقوں کی وضاحت کریں؟
جواب: استعارہ یہ ہے کہ لفظ کو اس کے حقیقی معنی کے بجائے مجازی معنی میں استعمال کیا جائے جہاں دونوں میں مناسبت ہو۔ طریقے: (1) استعارہ بالاتفاق: جہاں نام اور صفت دونوں میں اشتراک ہو۔ (2) استعارہ بالانفراد: جہاں صرف صفت یا معنی میں اشتراک ہو۔
سوال 6 (ب): حقیقت اور مجاز کی تعریف تحریر کریں؟
جواب: حقیقت: وہ لفظ جو اپنی وضعِ اصلی (جس کے لیے بنایا گیا) میں استعمال ہو۔ مجاز: وہ لفظ جو کسی تعلق یا قرینہ کی وجہ سے غیر وضعی معنی میں استعمال ہو۔

حل شدہ پرچہ: علم النحو (تیسرا پرچہ – 2022) – تنظیم المدارس

سوال نمبر 1: حال اور ذوالحال کے احکام
سوال (الف): عبارت “وأرسلها العراك ومررت به وحده” کس سوالِ مقدر کا جواب ہے؟ وضاحت کریں۔
جواب: یہ اس اعتراض کا جواب ہے کہ حال کا “نکرہ” ہونا ضروری ہے، جبکہ ‘العراک’ اور ‘وحدہ’ معرفہ ہیں۔ جواب یہ ہے کہ یہ لفظاً معرفہ ہیں مگر معنی میں نکرہ (عارکۃً اور منفرداً) کے تاویل میں ہیں۔
سوال (ب): اگر ذوالحال نکرہ ہو تو حال کو مقدم کرنا کیوں ضروری ہے؟ مثال سے واضح کریں۔
جواب: نکرہ سے حال اس وقت آتا ہے جب وہ کسی وجہ سے خاص ہو جائے، اگر حال کو مؤخر رکھیں گے تو وہ صفت کے ساتھ مشتبہ ہو جائے گا، جیسے: “جاءنی راکباً رجلٌ” (اگر ‘رجلٌ راکبٌ’ کہیں تو صفت بن جائے گا)۔

سوال نمبر 2: اسبابِ منعِ صرف
سوال (الف): اسبابِ منعِ صرف کتنے ہیں؟ کافیہ میں موجود شعر بھی لکھیں۔
جواب: اسبابِ منعِ صرف نو (9) ہیں۔ شعر: عَدْلٌ وَوَصْفٌ وَتَأْنِيْثٌ وَمَعْرِفَةٌ ** عُجْمَةٌ وَجَمْعٌ وَتَرْكِيْبٌ وَنُوْنُ زَائِدَتَانِ ** وَوَزْنُ فِعْلٍ۔
سوال (ب): عدلِ تحقیقی اور تقدیری کی تعریفات مع امثلہ تحریر کریں؟
جواب: عدلِ تحقیقی: جس کی اصل کی طرف کوئی دلیل ہو، جیسے ‘ثُلاثَ’ کی اصل ‘ثلاثۃً ثلاثۃً’ ہے۔ عدلِ تقدیری: جس کی اصل کی کوئی دلیل نہ ہو مگر اسے غیر منصرف پڑھا جاتا ہو، جیسے ‘عُمر’۔

سوال نمبر 3: تعریفات اور کلام کے احتمالات
سوال (الف): کلمہ، حال، تمیز، مبتدا ثانی، مجرور، مضاف الیہ، وصف کی تعریف لکھیں؟
جواب: کلمہ: وہ لفظ جو اکیلے معنی کے لیے وضع ہو۔ حال: وہ اسم جو فاعل یا مفعول کی ہیئت بتائے۔ تمیز: جو ماقبل کے ابہام کو دور کرے۔ مبتدا ثانی: جو جملہ خبریہ کا پہلا جزو ہو۔ مجرور: جس پر حرفِ جر آئے۔ مضاف الیہ: جس کی طرف نسبت کی جائے۔ وصف: وہ اسم جو ذات مع صفت پر دلالت کرے۔
سوال (ب): حصولِ کلام کے عقلی احتمال کتنے ہیں؟ مفصل تحریر کریں۔
جواب: کلام کے حصول کے چار عقلی احتمال ہیں: (1) دو اسموں سے (جیسے زیدٌ قائمٌ)، (2) ایک اسم اور ایک فعل سے (جیسے قامَ زیدٌ)، (3) دو فعلوں سے (ناممکن)، (4) دو حرفوں سے (ناممکن)۔

سوال نمبر 4: تحذیر اور اضمارِ عامل
سوال (الف): عبارت “التحذير وهو معمول بتقدير اتق…” پر اعراب لگائیں اور ترجمہ و تشریح کریں؟
جواب: تَرْجُمَہ: تحذیر وہ ہے جو ‘اتقِ’ فعل کے مقدر ہونے کی وجہ سے منصوب ہو، یہ اس چیز سے ڈرانے کے لیے ہوتا ہے جو اس کے بعد آئے یا جس سے ڈرانا مقصود ہو اسے مکرر لایا جائے۔ تشریح: جیسے ‘ایاک والاسد’ (اپنے آپ کو شیر سے بچاؤ)۔
سوال (ب): “ما أضمر عامله على شريطة التفسیر” سے کیا مراد ہے اور تحذیر میں عامل حذف کرنا کیوں ضروری ہے؟
جواب: اس سے مراد وہ فعل ہے جو ظاہر نہیں ہوتا بلکہ بعد والا فعل اس کی تفسیر کرتا ہے؛ تحذیر میں عامل کو اس لیے حذف کرنا ضروری ہے کیونکہ تحذیر کا مقصد ‘خطرہ سے آگاہ کرنا’ ہے اور اس میں اختصار اور تیزی مطلوب ہوتی ہے۔

سوال نمبر 5: عامل اور اعراب
سوال (الف): عامل اور اعراب میں سے ہر ایک کی تعریف لکھیں؟
جواب: عامل: وہ چیز جس کی وجہ سے کلمہ کے آخر میں تبدیلی آئے (جیسے جاء)۔ اعراب: وہ حرکت یا حرف جو کلمہ کے آخر میں عامل کی وجہ سے ظاہر ہو (جیسے ضمہ، فتحہ، کسرہ)۔
سوال (ب): جمع مکسر منصرف، جمع مذکر سالم اور تثنیہ کے اعراب کو مفصلاً تحریر کریں؟
جواب: (1) جمع مکسر منصرف: حالتِ رفع میں ضمہ، نصب میں فتحہ، جر میں کسرہ۔ (2) جمع مذکر سالم: حالتِ رفع میں ‘واؤ’، نصب و جر میں ‘یاء’ ماقبل مکسور۔ (3) تثنیہ: حالتِ رفع میں ‘الف’، نصب و جر میں ‘یاء’ ماقبل مفتوح۔

حل شدہ پرچہ: منطق و عربی ادب (چوتھا پرچہ – 2022) – تنظیم المدارس

حصہ اول: منطق

سوال 1 (الف): عبارت کا ترجمہ کریں اور بتائیں منطقیین موضوع اور محمول کو ‘ج’ اور ‘ب’ سے کیوں تعبیر کرتے ہیں؟
جواب: ترجمہ: منطقیین کی یہ عادت رہی ہے کہ وہ موضوع کو ‘ج’ سے اور محمول کو ‘ب’ سے تعبیر کرتے ہیں، پس جب وہ موجبہ کلیہ کی تعبیر کرنا چاہتے ہیں تو ‘کل ج ب’ کہتے ہیں اور ان کا مقصد اختصار اور (مخصوص افراد میں) انحصار کے وہم کو دور کرنا ہے۔
سوال 1 (ب): قیاس کی تعریف کرتے ہوئے قیاس استثنائی اور قیاس اقترانی کی وضاحت مع مثال پیش کریں؟
جواب: قیاس وہ قول ہے جو چند قضایا سے مل کر بنے کہ ان کے تسلیم کرنے سے لازمی طور پر ایک دوسرا قول (نتیجہ) نکلے۔ قیاس استثنائی: جس میں نتیجہ یا اس کی نقیض بعینہٖ مذکور ہو، جیسے ‘اگر سورج نکلے گا تو دن ہوگا، لیکن سورج نکلا ہے، پس دن ہے’۔ قیاس اقترانی: جس میں نتیجہ بعینہٖ مذکور نہ ہو، جیسے ‘زید انسان ہے، اور ہر انسان حیوان ہے، پس زید حیوان ہے’۔
سوال 2 (الف): قضیہ کی تعریف کرتے ہوئے قضیہ کی اقسام مع تعریفات و امثلہ تحریر کریں؟
جواب: قضیہ وہ قول ہے جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے۔ اقسام: (1) قضیہ حملیہ: جس میں ایک چیز کا دوسری کے لیے ثبوت یا نفی ہو، جیسے ‘زید قائم ہے’۔ (2) قضیہ شرطیہ: جس میں ایک حکم کو دوسرے کے ساتھ معلق کیا جائے، جیسے ‘اگر سورج نکلے گا تو دن ہوگا’۔
سوال 2 (ب): موضوع کے اعتبار سے قضیہ حملیہ کی اقسام مع تعریفات و امثلہ تحریر کریں؟
جواب: موضوع کے اعتبار سے چار اقسام ہیں: (1) شخصیہ: جس کا موضوع معین ہو، جیسے ‘زید کاتب ہے’۔ (2) طبعیہ: جہاں حکم صرف حقیقت پر ہو، جیسے ‘انسان نوع ہے’۔ (3) مہملہ: جہاں موضوع کلی ہو مگر مقدارِ افراد ذکر نہ ہو، جیسے ‘انسان خسارے میں ہے’۔ (4) محصورہ: جہاں مقدارِ افراد (سور) مذکور ہو، جیسے ‘تمام انسان جاندار ہیں’۔
سوال 3 (الف): ترتیب کے اعتبار سے جنس کی اقسامِ اربعہ مع تعریفات و امثلہ تحریر کریں؟
جواب: (1) جنسِ سافل: جو صرف انواع کے اوپر ہو، جیسے ‘حیوان’۔ (2) جنسِ متوسط: جو خود بھی جنس ہو اور اس کے اوپر بھی جنس ہو، جیسے ‘جسمِ نامی’۔ (3) جنسِ عالی: جس کے اوپر کوئی جنس نہ ہو، جیسے ‘جوہر’۔ (4) جنسِ مفرد: جو صرف ایک ہی ہو (اس کی مثال اکثر منطقیین نہیں دیتے)۔
سوال 3 (ب): شرطیہ منفصلہ کی اقسامِ ثلاثہ مع تعریفات و امثلہ تحریر کریں؟
جواب: (1) حقیقیہ: جو جمع اور خالی ہونے سے روک دے، جیسے ‘عدد یا جفت ہے یا طاق’۔ (2) مانعۃ الجمع: جو صرف جمع ہونے سے روکے، جیسے ‘چیز یا پتھر ہے یا درخت’ (دونوں نہیں ہو سکتی مگر کچھ اور ہو سکتی ہے)۔ (3) مانعۃ الخلو: جو صرف خالی ہونے سے روکے، جیسے ‘زید یا سمندر میں ہے یا ڈوبا نہیں’۔

حصہ دوم: عربی ادب

سوال 4 (الف): اصولِ دین اور اصولِ احکام کو بیان کرنے میں قرآن کریم کا اسلوب تحریر کریں؟
جواب: قرآن کریم کا اسلوب انتہائی حکیمانہ اور مدلل ہے؛ یہ اصولِ دین (توحید و آخرت) کو فطری مثالوں سے واضح کرتا ہے اور اصولِ احکام (نماز، زکوٰۃ وغیرہ) میں اجمال اور قطعیت کے ساتھ ساتھ ترغیب و ترہیب کا انداز اپناتا ہے تاکہ مخاطب کا دل اور دماغ دونوں مطمئن ہوں۔
سوال 4 (ب): قرآن کی وجہ اعجاز کو بیان کرتے ہوئے قرآن کی زبان کی خصوصیات تحریر کریں؟
جواب: قرآن کا اعجاز اس کی فصاحت، بلاغت، غیب کی خبروں اور اس کے چیلنج (کہ کوئی اس جیسی آیت نہیں لا سکتا) میں ہے۔ اس کی زبان کی خصوصیات میں مٹھاس، اثر انگیزی، جامعیت (کم الفاظ میں زیادہ معنی) اور ہر دور کے لیے رہنمائی شامل ہے۔
سوال 5 (الف): ہجویہ شاعری کے اسباب اور اخطل و فرزدق کا مسلک لکھیں؟
جواب: اسباب: قبائلی عصبیت، ذاتی دشمنی اور سیاسی رقابت۔ اخطل اور فرزدق کا مسلک: اخطل اپنی ہجو میں عیسائی پس منظر کی وجہ سے زیادہ گہری اور کاٹ دار زبان استعمال کرتا تھا، جبکہ فرزدق قبائلی فخر اور نسب کی برتری کے ذریعے اپنے حریف (جریر) پر وار کرتا تھا۔
سوال 5 (ب): عراقی، حجازی اور شامی شاعری پر ایک عمومی جائزہ پیش کریں؟
جواب: عراقی شاعری: سیاسی تحریکوں اور فکری ابحاث سے متاثر تھی۔ حجازی شاعری: اس میں غزل اور رومانوی انداز زیادہ تھا کیونکہ وہاں معاشی خوشحالی اور سکون تھا۔ شامی شاعری: یہ اموی دربار سے منسلک ہونے کی وجہ سے زیادہ تر مدح اور سیاسی دفاع پر مبنی تھی۔
سوال 6 (الف): مسلمان خلفاء کی طرزِ انشاء پردازی کو بیان کریں؟
جواب: خلفائے راشدین اور ابتدائی اموی خلفاء کی انشاء پردازی سادگی، وقار، حق گوئی اور جامعیت پر مبنی تھی۔ ان کے خطوط اور خطبات میں تکلفات نہیں ہوتے تھے بلکہ براہِ راست احکامات اور اللہ کا خوف دلانے والے کلمات ہوتے تھے۔
سوال 6 (ب): حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اخلاق اور فطری و ادبی صلاحیت پر جامع مضمون تحریر کریں؟
جواب: حضرت علی رضی اللہ عنہ ‘باب العلم’ ہیں؛ آپ کا اخلاق شجاعت، زہد اور عاجزی کا نمونہ تھا۔ آپ کی ادبی صلاحیتوں کا اندازہ ‘نہج البلاغہ’ سے ہوتا ہے، جہاں آپ کی فصاحت و بلاغت اپنے عروج پر نظر آتی ہے۔ آپ کلامِ عرب کے ایسے شہسوار تھے جن کے کلام کو ‘خالق کے کلام سے نیچے اور مخلوق کے کلام سے اوپر’ مانا جاتا ہے۔

حل شدہ پرچہ: سیرت و تاریخ (پانچواں پرچہ – 2022) – تنظیم المدارس

پہلا حصہ: سیرتِ طیبہ ﷺ

سوال 1 (الف): رضاعت و شقِ صدرِ مصطفی ﷺ پر مختصر مضمون تحریر کریں۔
جواب: نبی کریم ﷺ نے ایامِ رضاعت حضرت حلیمہ سعدیہ کے ہاں گزارے، اسی دوران شقِ صدر کا واقعہ پیش آیا جب فرشتوں نے آپ ﷺ کا سینہ مبارک چاک کر کے قلبِ اطہر کو آبِ زمزم سے دھویا اور اسے نور و سکینہ سے بھر دیا۔
سوال 1 (ب): بچپن میں آپ ﷺ سے ظاہر ہونے والے فیوض و برکات کے کوئی سے دو واقعے قلم بند کریں۔
جواب: (1) حضرت حلیمہ کے گھر آمد پر ان کی سواری کی کمزور اونٹنی کا تیز رفتار ہو جانا اور تھنوں کا دودھ سے بھر جانا۔ (2) بچپن میں دورانِ سفر بادل کا آپ ﷺ پر سایہ کرنا۔
سوال 2 (الف): اصحابِ صفہ کے بارے میں مختصر مگر جامع نوٹ لکھیں۔
جواب: اصحابِ صفہ وہ صحابہ کرام تھے جو مسجدِ نبوی کے ایک چبوترے (صفہ) پر قیام پذیر تھے، ان کا کوئی گھر بار نہ تھا اور وہ ہمہ وقت حصولِ علم اور عبادتِ الہی میں مشغول رہتے تھے، حضرت ابوہریرہ ان میں سب سے مشہور ہیں۔
سوال 2 (ب): مسئلہ حیات النبی ﷺ میں اہل سنت و جماعت کا عقیدہ مع دلائل سپرد قلم کریں۔
جواب: اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ انبیاء کرام اپنی قبروں میں حقیقی جسمانی حیات کے ساتھ زندہ ہیں اور نماز پڑھتے ہیں؛ دلیل کے طور پر حدیث مبارکہ ہے: “الانبیاء احیاء فی قبورہم یصلون” (انبیاء اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور نماز پڑھتے ہیں)۔
سوال 3 (الف): نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب میں کس طرح مواخات کو قائم فرمایا؟
جواب: ہجرتِ مدینہ کے بعد آپ ﷺ نے انصار اور مہاجرین کو ایک دوسرے کا بھائی بنا دیا، جس میں ایک انصاری نے اپنے مہاجر بھائی کو اپنے مال، جائیداد اور کاروبار میں برابر کا شریک کر لیا، جو تاریخِ انسانی میں بھائی چارے کی بے مثال مثال ہے۔
سوال 3 (ب): غزوہ تبوک کا واقعہ اپنے الفاظ میں تحریر کریں۔
جواب: 9 ہجری میں رومیوں کے مقابلے کے لیے انتہائی سخت گرمی اور قحط کے عالم میں یہ سفر پیش آیا، جس میں مسلمانوں نے کمالِ جاں نثاری دکھائی اور دشمن مسلمانوں کی آمد کی خبر سن کر جنگ کے بغیر ہی پیچھے ہٹ گیا۔

دوسرا حصہ: تاریخِ اسلام

سوال 4 (الف): سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا حلیہ مبارک تاریخ الخلفاء کی روشنی میں بیان کریں۔
جواب: آپ رضی اللہ عنہ نحیف الجثہ (اکہرے بدن) کے تھے، رنگ گورا، چہرہ خوبصورت، پیشانی بلند اور آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی تھیں، آپ اپنی داڑھی مبارک پر مہندی اور وسمہ کا خضاب لگاتے تھے۔
سوال 4 (ب): سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی خلافت آیات و احادیث سے ثابت کریں۔
جواب: قرآن میں “ثانی اثنین” فرما کر آپ کی فضیلت بتائی گئی، جبکہ حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا: “اللہ اور مومنین ابوبکر کے سوا کسی اور پر راضی نہ ہوں گے” اور آپ ﷺ نے اپنی جگہ حضرت ابوبکر کو نماز کا امام بنا کر خلافت کی طرف اشارہ فرمایا۔
سوال 5 (الف): لقب “امیر المؤمنین” کا پس منظر سپرد قلم کریں۔
جواب: حضرت ابوبکر صدیق کو “خلیفہ رسول اللہ” کہا جاتا تھا، جب حضرت عمر خلیفہ بنے تو لوگوں نے انہیں “خلیفہ خلیفہ رسول اللہ” کہنا شروع کیا جو طویل تھا، چنانچہ صحابہ کے مشورے سے آپ کے لیے “امیر المؤمنین” کا لقب طے پایا۔
سوال 5 (ب): شہادتِ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تحریر کریں۔
جواب: آپ کو ایک مجوسی غلام ابو لؤلؤ فیروز نے نمازِ فجر کے دوران خنجر سے زخمی کیا، جس کے تین دن بعد یکم محرم الحرام کو آپ نے جامِ شہادت نوش فرمایا۔
سوال 6 (الف): اولیاتِ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ میں سے پانچ تحریر کریں۔
جواب: (1) مردوں میں سب سے پہلے اسلام لائے۔ (2) قرآن مجید کو ایک جگہ جمع کرنے کا حکم دیا۔ (3) منکرینِ زکوٰۃ کے خلاف سب سے پہلے جہاد کیا۔ (4) اسلام کے پہلے خلیفہ بنے۔ (5) سفرِ ہجرت میں پہلے یارِ غار بنے۔
سوال 6 (ب): اقوالِ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ میں سے پانچ سپرد قلم کریں۔
جواب: (1) سچائی امانت ہے اور جھوٹ خیانت۔ (2) موت کی تمنا کرو، زندگی عطا کی جائے گی۔ (3) جو خود پر رحم نہیں کرتا دوسرے اس پر رحم نہیں کرتے۔ (4) مظلوم کی بددعا سے بچو۔ (5) تکبر سے بچو کیونکہ مٹی سے بنے ہو اور مٹی میں ملنا ہے۔

حل شدہ پرچہ: علم البلاغت (چھٹا پرچہ – 2022) – تنظیم المدارس

سوال نمبر 1: خبر کے مقاصد اور مجازی استعمال
سوال (الف): عبارت “وَالْأَصْلُ فِي الْخَبَرِ أَنْ يُلْقَى لِإِفَادَةِ الْمُخَاطَبِ الْحُكْمَ…” کا ترجمہ کریں۔
جواب: اور خبر میں اصل یہ ہے کہ وہ مخاطب کو اس حکم کا فائدہ دینے کے لیے دی جائے جو جملے میں شامل ہے، جیسے ہمارا قول “حضر الامیر” (امیر آگیا)، یا یہ فائدہ دینے کے لیے کہ متکلم بھی اس حکم کو جانتا ہے، جیسے “انت حضرتَ امسِ” (تم کل آئے تھے)، پہلے کو ‘فائدہ خبر’ اور دوسرے کو ‘لازم فائدہ خبر’ کہا جاتا ہے۔
سوال (ب): خبر کے مجازی استعمال کے کوئی سے دو مقام ایک ایک مثال کے ساتھ لکھیں؟
جواب: (1) اظہارِ عجز و انکساری: جیسے حضرت زکریا علیہ السلام کا قول: “رَبِّ إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي” (اے میرے رب! میری ہڈیاں کمزور ہو گئیں)۔ (2) اظہارِ حسرت و افسوس: جیسے حضرت مریم کی والدہ کا قول: “رَبِّ إِنِّي وَضَعْتُهَا أُنْثَىٰ” (اے میرے رب! میں نے تو لڑکی جنی ہے)۔

سوال نمبر 2: امر کے صیغے اور مجازی معانی
سوال (الف): عبارت “أَمَّا الْأَمْرُ فَهُوَ طَلَبُ الْفِعْلِ عَلَى وَجْهِ الِاسْتِعْلَاءِ…” کا ترجمہ اور چاروں صیغے لکھیں؟
جواب: ترجمہ: بہر حال “امر” تو وہ بلندی (حکم) کے طور پر کسی فعل کو طلب کرنا ہے اور اس کے چار صیغے ہیں۔ صیغے: (1) فعلِ امر (اِضرب)۔ (2) فعلِ مضارع مقرون بلامِ امر (لِیَضرب)۔ (3) اسم فعلِ امر (صَہْ)۔ (4) مصدر نائب عن فعل الامر (وبالوالدین احساناً)۔
سوال (ب): امر کا صیغہ مجازی طور پر کن معانی کے لیے استعمال ہوتا ہے؟ کوئی سے تین معانی لکھیں؟
جواب: (1) دعا: جب چھوٹے سے بڑے کی طرف ہو، جیسے “رَبِّ اغْفِرْ لِي”۔ (2) التماس: جب برابر والوں کے درمیان ہو، جیسے “اعطنی القلم” (مجھے قلم دو)۔ (3) تخییر: دو چیزوں میں سے ایک اختیار کرنے کا کہنا، جیسے “تزوج ہنداً او اختہا” (ہند سے نکاح کر لو یا اس کی بہن سے)۔

سوال نمبر 3: مسند الیہ اور مسند کے احوال
سوال (الف): مسند الیہ کو معرفہ بعلم لانے کی تین وجوہِ بلاغت امثلہ کے ساتھ تحریر کریں؟
جواب: (1) تعظیم: جیسے “حضر السیدُ”۔ (2) اہانت: جیسے “جاء سلیمانُ” (اگر وہ کسی برے لقب سے مشہور ہو)۔ (3) تبرک: تبرک حاصل کرنے کے لیے، جیسے “اللہُ کریمٌ”۔
سوال (ب): مسند کو مقدم کرنے کی کوئی سی تین وجوہِ بلاغت سپرد قلم کریں؟
جواب: (1) تخصیص: جیسے “لکم دینکم” (تمہارے لیے تمہارا ہی دین ہے)۔ (2) خوشخبری کی تعجیل: جیسے “ناجحٌ انتَ” (کامیاب ہو تم)۔ (3) تفاؤل (نیک شگون): جیسے “سعدتَ بغلامٍ”۔

سوال نمبر 5: تعریفات اور مصنفین کے نام
سوال: “فصاحت فی المتکلم” اور “بلاغتِ متکلم” کی تعریف و مثال لکھیں؟
جواب: فصاحت فی المتکلم: وہ ملکہ (مہارت) جس کے ذریعے انسان فصیح کلام کرنے پر قادر ہو جائے۔ بلاغتِ متکلم: وہ ملکہ جس کے ذریعے متکلم مقتضائے حال کے مطابق بلیغ کلام کرنے پر قدرت حاصل کر لے۔
سوال: “ضعفِ تالیف” اور “حال” کی تعریف لکھیں؟
جواب: ضعفِ تالیف: کلام کا مشہور نحوی قواعد کے خلاف ہونا۔ حال: وہ موقع و محل یا کیفیت جس کا کلام تقاضا کرتا ہو (جسے مقتضائے حال بھی کہتے ہیں)۔
سوال: “انشاء غیر طلبی” کی تعریف مع مثال لکھیں؟
جواب: وہ کلام جس میں کسی چیز کی طلب نہ ہو، جیسے افعالِ مدح و ذم: “نِعْمَ الرَّجُلُ زَیْدٌ” (زید کیا ہی اچھا آدمی ہے)۔
سوال: “دروس البلاغہ” کے کم از کم تین مصنفین کے نام تحریر کریں؟
جواب: (1) حفنی ناصف۔ (2) محمد دیاب۔ (3) مصطفیٰ طموم۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *