Tanzeem ul Madaris Solved Past Paper 2022 | PDF (طلباء کے لیے) تجوید و قراءت

قرآن و حدیث – دوسرا پرچہ (سال دوم)

کل نمبر: 100
سال: 51443
وقت: تین گھنٹے
امتحان: سالانہ
کورس: مت 2 – شہادة التجوید والقراءة سال دوم برائے طلبہ
تنظیم: المدارس المسنت پاکستان
نوٹ: تمام سوالات حل کریں۔

حصہ اول: قرآن مجید

سوال نمبر 1: چار اجزاء کا ترجمہ کریں
  1. الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
    ترجمہ: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، جو سارے جہانوں کا رب ہے، مہربان اور رحم والا ہے۔
  2. قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ
    ترجمہ: کہو! اے کافروں! میں ان چیزوں کی عبادت نہیں کرتا جن کی تم عبادت کرتے ہو۔
  3. إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ
    ترجمہ: ہم نے اسے شب قدر میں نازل کیا، اور تم کیا جانے کہ شب قدر کیا ہے؟
  4. اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ
    ترجمہ: پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا، انسان کو خون کی لوتھڑی سے پیدا کیا۔
  5. وَالْعَصْرِهِ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي حُسْرِهِ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ
    ترجمہ: قسم ہے وقت کی! انسان نقصان میں ہے سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے۔
  6. وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرَانِ إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا
    ترجمہ: ہم نے تیرا ذکر بلند کیا، بے شک ہر سختی کے ساتھ آسانی ہے۔
  7. إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَه فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْهِ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ
    ترجمہ: بے شک ہم نے تجھے کوثر (کثیر نعمت) دیا، پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔ بے شک تمہارا دشمن کٹا ہوا ہے۔

سوال نمبر 2: پانچ الفاظ کے معانی
  1. نَعْبُدُ: ہم عبادت کرتے ہیں
  2. الْحَمْدُ: تمام تعریفیں
  3. آمَنُوا: ایمان لائے
  4. اللَّهُ الصَّمَدُ: اللہ سب کی حاجتوں کو پورا کرنے والا، ہر چیز اس کے محتاج
  5. أَفْوَاجًا: گروہوں میں
  6. الْقَارِعَةُ: قیامت کی سخت گھڑی

حصہ دوم: اربعین نووی (حدیث)

سوال نمبر 3: تین اجزاء کا ترجمہ کریں
  1. عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّاب رضى الله عنه قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ: إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى
    ترجمہ: حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “اعمال صرف نیت کے مطابق ہیں، اور ہر شخص کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔”
  2. وَقَالَ يَا مُحَمَّدُ أَخْبَرَنِي عَنِ الْإِسْلَامِ فَقَالَ رَسُولُ الله: الْإِسْلَامُ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ
    ترجمہ: کسی نے پوچھا: اے محمد ﷺ! مجھے اسلام کے بارے میں بتائیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “اسلام یہ ہے کہ گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔”
  3. إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ خَلْقَهُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا نُطْفَةً ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ
    ترجمہ: بے شک تم میں سے ہر شخص کی تخلیق ماں کے پیٹ میں چالیس دن نطفہ کے طور پر ہوتی ہے، پھر اسی طرح خون کی لوتھڑی (علقہ) میں بدلتی ہے۔
  4. عَنْ عَائِشَةَ رضى الله عنها قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ: مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَرَاءٌ
    ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جو بھی ہمارے دین میں کوئی نئی چیز ایجاد کرے جو اس کا حصہ نہیں، وہ مردود ہے۔”

سوال نمبر 4: پانچ الفاظ کے معانی

  1. بياض: سفیدی / روشنی
  2. صدقت: صدقہ / خیرات
  3. آماريها: اس کا حساب / گنتی
  4. جُلُوسٌ: بیٹھنا / اجتماع
  5. القلب: دل
  6. النَّصِيحَةُ: نصیحت / خیر خواہانہ مشورہ

تیسرا پرچہ: المقدمة الجزرية

کل نمبر: ۱۰۰سال: ۵۱۴۴۳
کورس کوڈز: ۳۰۶۵ / ۳۰۱۰۳ / ۳۰۱۰۳
مضمون: تجوید و قرات – 2022
وقت: تین گھنٹے
امتحان: سالانہ
تنظیم: المدارس اہلسنت پاکستان
کورس: مت ۳ – شہادة التجوید والقراءة سال دوم برائے طلبہ
نوٹ: تمام سوالات حل کریں۔

سوال نمبر 1: درج ذیل میں سے کسی پانچ اشعار کا ترجمہ کریں

  1. الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَصَلَّى اللّٰهُ عَلٰى نَبِيِّهِ وَمُصْطَفَاهُ
    ترجمہ: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اور اللہ نے اپنے نبی اور منتخب پیغمبر پر رحمت نازل فرمائی۔
  2. إِذْ وَاجِبٌ عَلَيْهِمْ مُحَتَّمٌ قَبْلَ الشُّرُوعِ أَوَّلًا أَنْ يُعْلَمُوا
    ترجمہ: کیونکہ ان پر لازم ہے کہ شروع کرنے سے پہلے سب سے پہلے جان لیں۔
  3. مَخَارِجُ الْحُرُوفِ سَبْعَةَ عَشَرَ
    ترجمہ: حروف کے مخارج سترہ ہیں۔
  4. فَأَلِفُ الْجَوْفِ وَأُخْتَاهَا وَهِيَ حُرُوفُ مَدٍّ لِلْهَوَاءِ تَنْقَضِي
    ترجمہ: الف جوف اور اس کی ہم آواز (اُو) وہ حروف ہیں جو ہوا کو بڑھانے والے مد کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
  5. وَالظَّاءُ وَالذَّالُ وَالثَّاءُ مِنْهُ وَمِنْ فَوْقِ الثَّنَايَا السُّفْلَى
    ترجمہ: ض، ذ اور ث ان میں سے ہیں اور یہ نچلی دانتوں کے اوپر سے ادا ہوتے ہیں۔
  6. وَالدَّالُ وَالتَّاءُ مِنْهُ وَالطَّاءُ وَمِنْ عُلْيَا الثَّنَايَا وَالضِّرْسُ مُسْتَكِنُّ
    ترجمہ: د اور ت ان میں سے ہیں، اور ط اوپر کے دانتوں سے ادا ہوتا ہے جبکہ آسودہ مسواک (مضغہ دانت) استعمال ہوتا ہے۔

سوال نمبر 2: درج ذیل میں سے کسی تین اشعار کو مکمل کریں

  1. يَقُولُ رَاجِي عَفْوِ رَبٍّ سَامِعِ
    مکمل: يَا رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَتَقَبَّلْ دُعَائِي
    ترجمہ: وہ کہتا ہے: “اے اللہ! بخش دے، رحم فرما اور میری دعا قبول فرما۔”
  2. ثُمَّ لِأَقْصَى الْحَلْقِ هَمْزٌ فَهَاءُ
    مکمل: وَأَقْصَى الْحَلْقِ هَمْزٌ وَالْهَاءُ صَحِيحَانِ
    ترجمہ: پھر حلق کے آخری حصہ سے ہَمْز اور ہاء ادا ہوتے ہیں۔
  3. وَمُقْرِئُ الْقُرْآنِ مَعَ مُحِبِّهِ
    مکمل: يَرْعَى التَّلَاوَةَ وَالْتَّفَهُّمَ لِكُلِّ حَرْفٍ
    ترجمہ: قرآن پڑھنے والا اپنے چاہنے والے کے ساتھ ہر حرف کو سمجھتے ہوئے تلاوت کرتا ہے۔

سوال نمبر 3: المقدمة الجزرية میں سے کوئی تین اشعار زبانی لکھیں

  1. خَالِصٌ لِلّهِ تِلَاوَتِي وَقَلْبِي
  2. مَخَارِجُ الْحُرُوفِ تَعْلِيمُهَا وَتَدْرِيبُهَا
  3. وَصِلُوا بِالصَّوَابِ كُلَّ حَرْفٍ

یہ اشعار آپ امتحان میں زبانی لکھ سکتے ہیں، اصل پرچے کے علاوہ ہیں۔


سوال نمبر 4: المقدمة الجزرية کے مصنف اور اشعار کی تعداد

  • مصنف کا نام: قاضی جزرہ (القاضي جزرہ)
  • کتاب میں کل اشعار کی تعداد: ۲۰۲ اشعار

فوائد مکیہ – چوتھا پرچہ (سال دوم)

کل نمبر: 100
سال: 51443 / 2022
وقت: تین گھنٹے
تنظیم: المدارس المسنت پاکستان
پارچہ نمبر: 4
کورس: شہادہ التجوید و القراءة سال دوم برائے طلبہ
تاریخ: 8 مارچ 2022
نوٹ: تمام سوالات سوالیہ پرچہ پر ہی حل کریں۔


سوال نمبر 1: درست جواب پر نشان لگائیں
  1. فوائد مکیہ کے مصنف کا نام ہے: قاری غلام رسول
  2. وسط حلق مخرج ہے: ع کا
  3. حرف حرف سے بدل جائے تو: لحن مخفی
  4. تجوید کا موضوع ہے: قرآن مجید
  5. خوش آوازی سے قرآن پڑھنا: مستحسن
  6. استعاذہ پہلے ضروری ہے: قرآن سے
  7. پہلے بسم اللہ ضروری نہیں: سورہ بقرہ سے
  8. سورہ توبہ کے درمیان بسم اللہ پڑھنا: اختیار ہے
  9. اعوذ باللہ، ہم اللہ پڑھنے میں: تین صورتیں
  10. فراء کے نزدیک مخارج: سترہ ہیں
  11. سیبویہ کے نزدیک مخارج: سولہ ہیں
  12. وسط السان مخرج ہے: ج کا
  13. لب مخرج ہیں: ب کا
  14. جبر کے معنی ہیں: بلندی
  15. استعلا کی ضد ہے: انفتاح
  16. حروف قلقلہ کی تعداد: پانچی
  17. ص، رہن کہلاتے ہیں: حروف القلہ
  18. لون سائن کے بعد ہا ہو تو: اظہار ہوگا
  19. میم ساکن کے حال ہیں: چار
  20. او نام کی قسمیں ہیں: تین

سوال نمبر 2: دس مختصر جوابات
  1. نون ساکن اور نون تنوین کے قاعدے:
    • ادغام، اقلاب، اخفاء، اظهر
  2. مد کے اسباب کتنے اور کون کون سے ہیں؟
    • چار اسباب: مد طبیعی، مد واجب، مد فرعی، مد متصل
  3. خوش آوازی سے قرآن مجید پڑھنا کیسا ہے؟
    • مستحسن اور مستحب ہے
  4. اگر حرف مدد کے بعد ساکن اصلی ہو تو اس مد کو کیا کہتے ہیں؟
    • مد لازم
  5. مد متصل کسے کہتے ہیں؟
    • وہ مد جو حرف ساكن کے ساتھ حرف مد سے جڑ جائے
  6. اگر میم ساکن کے بعد “با” آ جائے تو کون سا قاعدہ ہوگا؟
    • اظهار شفوی
  7. ش کا مخرج بیان کریں:
    • مخرج: وسط اللسان او ہونٹ کے قریب حصہ
  8. کا مخرج بیان کریں:
    • مخرج: وسط حلق
  9. حروف متوسط کا مجموع:
    • ستارہ (17)
  10. حروف مستعلیہ:
  • ط، ظ، ص، ض، ق، ک، غ، خ
  1. علم تجوید کی تعریف:
  • علم تجوید وہ علم ہے جس سے قرآن مجید کے حروف اور مخارج کی درست ادائیگی، لحن اور طول و قصر سیکھے جائیں۔

عقائد و فقہ – پانچواں پرچہ (سال دوم)

کل نمبر: 100
سال: 51443 / 2022
وقت: تین گھنٹے
تنظیم: المدارس السنت پاکستان
پارچہ نمبر: 5
نوٹ: تمام سوالات حل کریں۔

سوال نمبر 1: دس مختصر جوابات

  1. ایمان کسے کہتے ہیں؟
    ایمان اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، قیامت، تقدیر، خیر و شر پر یقین رکھنا ہے۔
  2. اسلام کا کلمہ کیا ہے؟
    کلمہ: “لا إله إلا الله محمد رسول الله” – اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔
  3. کافر کی بخشش ہوگی یا نہیں؟
    کافر جو دنیا میں مر جائے اور ایمان نہ لائے، اس کی بخشش نہیں ہوگی۔
  4. تم کسی امت میں ہو؟
    ہم امت محمدیہ ﷺ میں ہیں۔
  5. ختم نبوت کا کیا معنی ہے؟
    محمد ﷺ آخری نبی ہیں، ان کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔
  6. منافق کون ہیں؟
    وہ لوگ جو ظاہر میں مسلمان اور باطن میں کافر ہوں۔
  7. جو شخص قرآن پڑھنا نہ سیکھے وہ کیسا ہے؟
    وہ شخص علم سے محروم اور اللہ کی ہدایت سے دور ہے۔
  8. سب سے پہلے کون اسلام لایا؟
    حضرت ابراہیم علیہ السلام نے توحید کا پیغام پھیلایا۔
  9. نبی کریم ﷺ کی والدہ محترمہ کا نام کیا ہے؟
    حضرت آمنہ بنت وہب۔
  10. جو حضور ﷺ کو اپنے جیسا بشر کہے وہ کون ہے؟
    یہ کافر اور غافل شخص ہے۔
  11. جنت کی سب سے بڑی نعمت کون سی ہے؟
    اللہ کی قربت اور رضامندی۔
  12. یہ کیسے معلوم ہوا کہ قرآن اللہ کی کتاب ہے؟
    قرآن کے معجزانہ الفاظ، علم غیب، اور سچائی سے۔

سوال نمبر 2: دس مختصر جوابات

  1. نماز کس پر فرض ہے؟
    ہر بالغ مسلمان پر فرض ہے۔
  2. اذان کہنے والے کو کیا کہتے ہیں؟
    موذن۔
  3. وضو کرنے سے پہلے کیا پڑھا جاتا ہے؟
    بسم اللہ اور نیت کی دعا۔
  4. تکبیر کہنا کس کا حق ہے؟
    امام کے حق میں، یا نماز کے شروع میں۔
  5. پانچ وقت کی نمازوں میں کتنی رکعات فرض ہیں؟
    فجر: 2، ظہر: 4، عصر: 4، مغرب: 3، عشاء: 4
  6. جماعت سے نماز پڑھنے میں کتنا ثواب ملتا ہے؟
    اکیلے پڑھنے سے زیادہ، 27 گنا زیادہ ثواب ملتا ہے۔
  7. وضو کسے کہتے ہیں؟
    وضو پانی سے چہرہ، ہاتھ، سر اور پاؤں دھو کر پاکیزگی حاصل کرنا۔
  8. کیا بچوں پر بھی نماز فرض ہے؟
    بچوں پر عادت بنانے کے لیے فرض کیا جاتا ہے، بالغ پر حقیقی فرض۔
  9. اکیلے نماز پڑھنے والے کو کیا کہتے ہیں؟
    فرد۔
  10. پانچ نمازوں کے نام کیا ہیں؟
    فجر، ظہر، عصر، مغرب، عشاء۔
  11. آدمی کس عمر میں بالغ ہو جاتا ہے؟
    عموماً 15 سال یا نشوونما کے بعد۔

سوال نمبر 3: صرف چار سوالات کے جوابات
  1. وضو کے بعد کی دعا:
    “أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمداً عبده ورسوله”
  2. اذان کے بعد کی دعا:
    “اللهم رب هذا الدعوة التامة والصلاة القائمة آت محمداً الوسيلة والفضيلة وابعثه مقاماً محموداً الذي وعدته”
  3. ایمان مجمل:
    ایمان ہے اللہ، اس کے فرشتے، اس کی کتابیں، اس کے رسول، قیامت، تقدیر پر یقین۔
  4. چوتھا کلمہ:
    اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّد
  5. پانچویں کلمہ کا ترجمہ:
    ترجمہ: “یا اللہ! محمد ﷺ اور ان کے اہل بیت پر رحمت نازل فرما”
  6. وتر کی نماز:
    سنت ہے، فرض نہیں۔

صرف و نحو – چھٹا پرچہ (سال دوم)

درجہ: متوسطہ + تجوید و قراءت
کل نمبر: 100
وقت: تین گھنٹے
سال: 51443 / 2022
تنظیم: المدارس السنت پاکستان
پارچہ نمبر: 6
نوٹ: دونوں حصوں سے دو دو سوال حل کریں۔

حصہ اول: صرف

سوال نمبر 1
(الف) علم صرف کی تعریف، موضوع اور غرض
  • تعریف: علم صرف وہ علم ہے جو لفظ کی ساخت، حروف، فعل اور اسم کی ترکیب اور وزن کو سمجھنے کے لیے حاصل کیا جائے۔
  • موضوع: عربی الفاظ، اسم، فعل اور حروف
  • غرض: جملہ صحیح اور معنوی لحاظ سے درست پڑھنا اور سمجھنا
مثبت اور منفی کی تعریف مع مثال
  • مثبت: وہ لفظ یا فعل جو کام یا حالت ظاہر کرے
    مثال: كتب (اس نے لکھا)
  • منفی: وہ لفظ یا فعل جو کسی چیز کی نفی کرے
    مثال: لم يكتب (اس نے نہیں لکھا)

سوال نمبر 2
(الف) کلمہ کی تینوں قسمیں تعریف اور مثال
  1. اسم: وہ لفظ جو چیز، شخص یا مقام ظاہر کرے
    مثال: کتاب، علی، مدرسہ
  2. فعل: وہ لفظ جو کام یا حالت ظاہر کرے
    مثال: كتب، ذهب
  3. حرف: وہ لفظ جو صرف ربط یا معنی میں مدد کرے
    مثال: في، من، إلى
فعل ماضی مطلق کی گردان مع ترجمہ
  • فعل: كتب
  • ماضی مطلق: كتب (اس نے لکھا)
  • ترجمہ: جو کام مکمل ہو گیا

سوال نمبر 3
(الف) دوازدہ اقسام میں سے دس کے نام
  1. ثلاثی مجرد
  2. ثلاثی مزید
  3. رباعی
  4. خماسی
  5. سداسی
  6. مثنی
  7. جمع
  8. مذکر
  9. مؤنث
  10. مجہول

(ب) تین تعریفات مع مثال

  1. ثلاثی مجرد: وہ فعل جس کے تین بنیادی حروف ہوں
    مثال: كتب
  2. مزید: اصل فعل میں ایک یا زیادہ اضافی حروف شامل ہوں
    مثال: درّس
  3. مثال: وہ فعل جو کسی چیز کی مثال بیان کرے
    مثال: ضرب

حصہ دوم: نحو

سوال نمبر 4
(الف) جملہ خبریہ کی قسمیں مثالوں سمیت
  1. خبر واحد: وہ جملہ جو صرف ایک خبر دے
    مثال: علی ذهب
  2. خبر مثنی: دو افراد یا چیزوں کی خبر
    مثال: علی و احمد ذهبا
  3. خبر جمع: تین یا زیادہ افراد کی خبر
    مثال: علی و احمد و حسن ذهبوا
(ب) جملہ انشائیہ کی تعریف اور اقسام
  • تعریف: وہ جملہ جو حکم، سوال، دعا یا خواہش ظاہر کرے
  • اقسام:
    1. طلب (حکم) – مثال: اكتب الدرس
    2. استفہام (سوال) – مثال: هل ذهبت؟
    3. نداء (پکارنا) – مثال: يا علي!

سوال نمبر 5
(الف) اسم کی کم از کم پانچ علامات
  1. قابلیت معرفہ ہونا
  2. قابلیت نکرہ ہونا
  3. قابلیت جمع ہونا
  4. مذکر یا مؤنث ہونا
  5. فاعل یا مفعول کے طور پر آنا
(ب) تین تعریفات مع مثال
  1. مرکب بنائی: دو اسموں کا تعلق
    مثال: کتاب الطالب
  2. مغرب: وہ لفظ یا حصہ جو فعل یا جملے کے اثر کو ظاہر کرے
    مثال: ذهب علی إلى المدرسة
  3. مسند الیہ: وہ اسم جس پر خبر دی جاتی ہے
    مثال: علی (مسند الیہ)

سوال نمبر 6
(الف) علم محو کی تعریف، موضوع اور غایت
  • تعریف: وہ علم جو جملے، فعل، اسم اور حروف کی ساخت اور معنی کو واضح کرے
  • موضوع: عربی صرف و نحو
  • غایت: جملہ صحیح، معانی کے لحاظ سے درست اور مفہوم سمجھنا
(ب) تین تعریفات مع مثال
  1. مرکب مفید: وہ مرکب جو معنی میں فائدہ پہنچائے
    مثال: کتاب الطالب
  2. مبنی: وہ لفظ جو کسی حالت میں نہ بدلے
    مثال: هذا، هذه
  3. مذکر و مؤنث:
    • مذکر: وہ اسم جو مرد کی طرف اشارہ کرے
      مثال: علی
    • مؤنث: وہ اسم جو عورت کی طرف اشارہ کرے
      مثال: فاطمہ
    • علامات تانیث: “تاء مربوطة”، مؤنث کے لیے مخصوص الفاظ

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *