Tanzeem ul Madaris Solved Past Paper 2022 | PDF (طلباء کے لیے) عالیہ سال دوم
حل شدہ پرچہ: الورقۃ الاولٰی – التفسیر وأصولہ (بیضاوی)
پہلا حصہ: التفسیر
سوال نمبر 1: سورۃ الفاتحہ کے مزید کوئی پانچ نام تفسیر بیضاوی کے مطابق لکھیں ۔
جواب: علامہ بیضاویؒ نے سورۃ الفاتحہ کے درج ذیل مشہور نام ذکر کیے ہیں:
-
الفاتحہ: (قرآن کی ابتداء اس سے ہوتی ہے)۔
-
ام القرآن: (قرآن کے بنیادی مقاصد کا خلاصہ ہونے کی وجہ سے)۔
-
السبع المثانی: (کیونکہ اس کی سات آیتیں ہیں جو بار بار پڑھی جاتی ہیں)۔
-
الوافیہ: (کیونکہ یہ نماز میں تقسیم نہیں کی جا سکتی، پوری پڑھی جاتی ہے)۔
-
الکافیہ: (کیونکہ یہ نماز میں دوسری سورتوں سے کفایت کر جاتی ہے)۔
-
الشافیہ: (بیماریوں سے شفا کا باعث ہونے کی وجہ سے)۔
سوال نمبر 2: (الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ إِمَّا مَوْصُولٌ بِالْمُتَّقِينَ عَلَى أَنَّهُ صِفَةٌ مَجْرُورَةٌ مُقَيِّدَةٌ لَهُ إِنْ فُسِّرَ التَّقْوَى بِتَرْكِ مَا لَا يَنْبَغِي مُتَرَتِّبَةً عَلَيْهِ تَرَتُّبَ التَّحْلِيَةِ عَلَى التَّخْلِيَةِ وَالتَّصْوِيرِ عَلَى التَّصْقِيلِ، أَوْ مُوَضِّحَةٌ إِنْ فُسِّرَ بِمَا يَعُمُّ فِعْلَ الْحَسَنَاتِ وَتَرْكِ السَّيِّئَاتِ)
جواب: (الف) ترجمہ: “وہ لوگ جو غیب پر ایمان لاتے ہیں (یہ لفظ ‘الذین’) یا تو ‘المتقین’ سے ملا ہوا ہے اس طور پر کہ یہ اس کی ‘صفتِ مجرور’ ہے جو اسے مقید کر رہی ہے، اگر تقویٰ کی تفسیر ‘ناپسندیدہ کاموں کو چھوڑنے’ سے کی جائے (تو ایمان کا ذکر ایسے ہے) جیسے خالی کرنے کے بعد آراستہ کرنا اور صیقل کرنے کے بعد تصویر بنانا۔ یا پھر یہ ‘صفتِ موضحہ’ ہے اگر تقویٰ کی تفسیر ایسی چیز سے کی جائے جو نیکیوں کے کرنے اور برائیوں کے چھوڑنے دونوں کو عام ہو۔”
(ب) ایمان کی بساطت و ترکیب:
-
لغوی معنی: امن دینا یا کسی کی بات کی تصدیق کرنا۔
-
شرعی معنی: نبی ﷺ کی لائی ہوئی تمام خبروں کی دل سے تصدیق کرنا۔
-
بساطت و ترکیب: علامہ بیضاوی کے نزدیک ایمان “بسیط” ہے یعنی صرف “تصدیقِ قلبی” کا نام ہے۔ جبکہ بعض کے نزدیک یہ “مرکب” ہے (تصدیق، اقرار اور عمل کا مجموعہ)۔ بیضاوی کا رجحان تصدیق کی طرف ہے، اعمال کو وہ ثمراتِ ایمان مانتے ہیں۔
سوال نمبر 3: (الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ اسْمَانِ بُنِيَا لِلْمُبَالَغَةِ مِنْ رَحِمَ كَالْغَضْبَانِ مِنْ غَضِبَ ، وَالْعَلِيمِ مِنْ عَلِمَ ، وَالرَّحْمَةُ فِي اللُّغَةِ : رِقَّةُ الْقَلْبِ وَانْعِطَافٌ يَقْتَضِي التَّفَضُّلَ وَالْإِحْسَانَ ، وَمِنْهُ الرَّحِمُ لِانْعِطَافِهَا عَلَى مَا فِيهَا، وَأَسْمَاءُ اللَّهِ تَعَالَى إِنَّمَا تُؤْخَذُ بِاعْتِبَارِ الْغَايَاتِ الَّتِي هِيَ أَفْعَالٌ دُونَ الْمَبَادِئِ الَّتِي تَكُونُ انْفِعَالَاتٍ)
جواب: (الف) ترجمہ: “الرحمن اور الرحیم دو ایسے نام ہیں جو ‘رحم’ سے مبالغہ کے لیے بنائے گئے ہیں جیسے غضب سے غضبان اور علم سے علیم۔ اور لغت میں رحمت سے مراد دل کی نرمی اور وہ جھکاؤ ہے جو فضل اور احسان کا تقاضا کرے، اور اسی سے ‘رحم’ (ماں کا پیٹ) ہے کیونکہ وہ اپنے اندر موجود چیز (بچے) پر جھکا ہوا (نرم) ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے نام ‘غایات’ (نتائج) کے اعتبار سے لیے جاتے ہیں جو کہ افعال ہیں، نہ کہ ‘مبادی’ (جذبات) کے اعتبار سے جو کہ انفعالات (تاثرات) ہیں۔”
(ب) سوالِ مقدر کا جواب:
-
سوال: رحمت کا لغوی معنی “رقتِ قلب” (دل کی نرمی) ہے جو کہ ایک انسانی کیفیت (تاثر) ہے، جبکہ اللہ کی ذات ان کیفیات سے پاک ہے، تو اللہ کو رحمن و رحیم کہنا کیسے درست ہے؟
-
جواب: اللہ کے بارے میں جب یہ الفاظ استعمال ہوتے ہیں تو اس سے “جذبہ” مراد نہیں ہوتا بلکہ اس جذبے کا “نتیجہ” (یعنی احسان کرنا) مراد ہوتا ہے۔ اسی کو بیضاوی نے کہا کہ اللہ کے اسماء “غایات” (نتائج) کے اعتبار سے ہیں “مبادی” (انسانی کیفیات) کے اعتبار سے نہیں۔
دوسرا حصہ: اصولِ تفسیر
سوال نمبر 5: (صرف تین اجزاء)
(1) اصولِ تفسیر کی تعریف، موضوع اور غرض و غایت:
-
تعریف: وہ ضابطے اور قواعد جن کے ذریعے قرآن مجید کے معانی اور احکام کو سمجھا جاتا ہے۔
-
موضوع: قرآن مجید کے الفاظ اور ان کے معانی۔
-
غرض و غایت: کلامِ الٰہی کی صحیح مراد تک پہنچنا اور تفسیر میں غلطی سے بچنا۔
(3) مکی اور مدنی سورتوں کی علامات:
-
مکی سورتیں: جن میں “یا ایھا الناس” ہو، سجدہ ہو، قصصِ انبیاء ہوں، پچھلی قوموں کی تباہی کا ذکر ہو اور جو مختصر ہوں۔
-
مدنی سورتیں: جن میں “یا ایھا الذین آمنوا” ہو، حدود و فرائض اور جہاد کا ذکر ہو، منافقین کا ذکر ہو اور جو طویل ہوں۔
(4) قراءتِ متواتر، احاد اور شاذ:
-
متواتر: جسے ہر دور میں اتنی بڑی جماعت نے روایت کیا ہو کہ جھوٹ محال ہو (جیسے قراءاتِ سبعہ)۔
-
احاد: جس کی سند صحیح ہو، رسمِ عثمانی کے مطابق ہو مگر تواتر کے درجے کو نہ پہنچے۔
-
شاذ: جس میں کوئی ایک شرط (صحتِ سند، رسمِ عثمانی یا عربی قواعد) مفقود ہو۔
حل شدہ پرچہ: الورقۃ الثانیۃ – الحدیث وأصولہ
القسم الأول: الحدیث (مشکوٰۃ المصابیح)
سوال نمبر 1: عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: “أَوَّلُ مَا يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي الدِّمَاءِ”۔
جواب: (الف) ترجمہ: حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “قیامت کے دن لوگوں کے درمیان سب سے پہلے جس چیز کا فیصلہ کیا جائے گا وہ خون (ناحق) کے بارے میں ہوگا۔”
(ب) نماز اور خون کی احادیث میں تطبیق: ایک حدیث میں ہے کہ سب سے پہلے “نماز” کا سوال ہوگا اور اس حدیث میں ہے کہ “خون” کا فیصلہ ہوگا۔ ان میں تطبیق (اصلاح) یہ ہے:
-
حقوق اللہ (اللہ کے حقوق) میں سب سے پہلا سوال نماز کا ہوگا۔
-
حقوق العباد (بندوں کے حقوق) میں سب سے پہلا فیصلہ خونِ ناحق کا ہوگا۔ اس طرح دونوں احادیث اپنے اپنے مقام پر درست ہیں۔
(ج) قتلِ ناحق کی مذمت پر تین احادیث:
-
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “دنیا کا ختم ہو جانا اللہ کے نزدیک ایک مسلمان کے قتل سے زیادہ ہلکا ہے۔” (ترمذی)
-
فرمایا: “جس نے کسی مومن کو قتل کرنے میں آدھے کلمے سے بھی مدد کی، وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اس کی پیشانی پر لکھا ہوگا ‘یہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہے’۔” (ابن ماجہ)
-
فرمایا: “کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑے گناہ یہ ہیں: اللہ کے ساتھ شریک کرنا اور کسی جان کو (ناحق) قتل کرنا۔” (بخاری)
سوال نمبر 2: عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: أُتِيَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِزَنَادِقَةٍ فَأَحْرَقَهُمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ: لَوْ كُنْتُ أَنَا لَمْ أُحْرِقْهُمْ لِنَهْيِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ: “لَا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ”، وَلَقَتَلْتُهُمْ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ: “مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ”۔
جواب: (الف) ترجمہ: عکرمہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ “زنادقہ” لائے گئے تو آپ نے انہیں (آگ میں) جلا دیا۔ یہ بات ابن عباس کو پہنچی تو انہوں نے کہا: “اگر میں ہوتا تو انہیں نہ جلاتا، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے (آگ میں جلانے سے) منع فرمایا ہے کہ ‘اللہ کے عذاب (آگ) سے کسی کو عذاب نہ دو’، البتہ میں انہیں (تلوار سے) قتل کر دیتا کیونکہ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ ‘جو اپنا دین بدل دے اسے قتل کر دو’۔“
(ب) زنادقہ کے عقائد: لفظ “زندیق” کے بارے میں مختلف اقوال ہیں:
-
وہ جو زبان سے اسلام کا دعویٰ کرے مگر باطن میں کفر چھپائے (منافق کی ایک سخت قسم)۔
-
وہ جو دھریا ہو اور آخرت یا خالق کا منکر ہو۔
-
وہ جو شریعت کی ایسی تاویلیں کرے جو اجماعِ امت کے خلاف ہوں۔
(ج) حضرت علیؓ کی سزا کی وجہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ سخت سزا اس لیے دی تاکہ فتنہ جڑ سے ختم ہو جائے اور دوسروں کے لیے عبرت ہو۔ آپ کا مقصد دین کی توہین کرنے والوں کے رعب کو ختم کرنا تھا۔ جب آپ کو ابن عباسؓ کا قول پہنچا تو آپ نے فرمایا: “ابن عباس نے سچ کہا”۔
سوال نمبر 3: وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: “إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ فَقُولُوا: وَعَلَيْكُمْ”۔
جواب: (الف) ترجمہ اور ‘وعلیکم’ کی مراد: ترجمہ: “جب اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) تمہیں سلام کریں تو تم کہو: ‘وعلیکم’ (اور تم پر بھی)۔” مراد: یہودی شرارت سے ‘السلام علیکم’ کی جگہ ‘السام علیکم’ (تم پر موت ہو) کہتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم صرف “وعلیکم” کہو، یعنی جو تم نے میرے لیے کہا وہی تم پر بھی ہو۔
(ب) واؤ کے ساتھ اور واؤ کے بغیر میں راجح: کچھ روایات میں “علیکم” (بغیر واؤ کے) ہے، لیکن راجح واؤ کے ساتھ (وعلیکم) ہے۔ وجہ یہ ہے کہ واؤ کے ساتھ جواب دینے سے ان کی بددعا انھی کی طرف لوٹ جاتی ہے اور کلام میں ربط پیدا ہوتا ہے۔
(ج) مصافحہ اور بعد از نماز مصافحہ: مصافحہ سنت ہے اور اس سے گناہ جھڑتے ہیں۔ جہاں تک نماز کے فوراً بعد مستقل عادت بنا کر مصافحہ کرنے کا تعلق ہے، تو فقہائے کرام کے نزدیک اسے “لازم” سمجھنا بدعت ہے، البتہ اگر کوئی اسے سنتِ مقصودہ نہ سمجھے بلکہ صرف محبت کے اظہار کے لیے کرے تو گنجائش ہے، مگر بہتر یہ ہے کہ اسے لازم نہ بنایا جائے۔
القسم الثاني: اصولِ حدیث
سوال نمبر 4: (صرف چار میں فرق)
-
حدیثِ قدسی و حدیثِ نبوی: قدسی وہ ہے جس کا مضمون اللہ کی طرف سے ہو اور الفاظ حضور ﷺ کے ہوں۔ نبوی وہ ہے جس کے الفاظ اور مضمون دونوں حضور ﷺ کے ہوں۔
-
حدیثِ مرفوع و حدیثِ موقوف: مرفوع وہ ہے جس کی نسبت رسول اللہ ﷺ کی طرف ہو۔ موقوف وہ ہے جس کی نسبت صحابی کی طرف ہو۔
-
فردِ مطلق و فردِ نسبی: فردِ مطلق وہ جس کی سند کے اصل (صحابہ کے طبقے) میں ایک ہی راوی ہو۔ فردِ نسبی وہ جس میں کسی خاص شہر یا خاص امام کے لحاظ سے اکیلا راوی ہو۔
-
حدیثِ منکر و حدیثِ شاذ: شاذ وہ ہے جسے ثقہ راوی اپنے سے زیادہ ثقہ کی مخالفت میں بیان کرے۔ منکر وہ ہے جسے ضعیف راوی ثقہ کی مخالفت میں بیان کرے۔
(ب) حدیثِ قدسی اور قرآن میں فرق:
-
قرآن کے الفاظ معجزہ ہیں اور ان کی تلاوت نماز میں فرض ہے، جبکہ حدیثِ قدسی معجزہ نہیں اور نہ اسے نماز میں پڑھا جاتا ہے۔
-
قرآن صرف وحیِ جلی (جبرئیل کے ذریعے) نازل ہوا، جبکہ حدیثِ قدسی الہام یا خواب کے ذریعے بھی ہو سکتی ہے۔
(ج) حدیثِ موضوع (من گھڑت) کی پہچان:
-
راوی کا خود اعتراف کر لینا کہ میں نے جھوٹ گھڑا ہے۔
-
حدیث کے الفاظ کا انتہائی رکیک (گھٹیا) ہونا جو رسول اللہ ﷺ کی فصاحت کے خلاف ہو۔
حل شدہ پرچہ: الورقۃ الثالثۃ – الفقہ (ہدایہ اولین)
سوال نمبر 1: ويجوز بإناء بعينه لا يعرف مقداره و بوزن حجر بعینہ لا یعرف مقداره لأن الجهالة لا تفضى
إلى المنازعة لما أنه يتعجل فيه التسلیم فیندر هلا که قبله بخلاف السلم لأن التسليم
فيه متأخر و الهلاك ليس بنادر قبله فيتحقق المنازعة وعن أبي حنيفة أنه لا يجوز فى البيع
أيضا والأول أصح وأظهر .
(الف) ترجمہ کریں۔
(ب) مذکورہ بالا عبارت کی روشنی میں عام بیچ کے جواز اور بیع سلم کے عدم جواز کی وجہ تحریر کریں۔
(ج) بیع سلم کی شرائط قلمبند کریں۔
(الف) ترجمہ: “اور (بیع) جائز ہے ایسے خاص برتن کے بدلے جس کی مقدار معلوم نہ ہو، اور ایسے خاص پتھر کے وزن کے بدلے جس کی مقدار معلوم نہ ہو؛ کیونکہ یہ جہالت جھگڑے تک نہیں پہنچاتی، اس لیے کہ اس میں سودا ہاتھوں ہاتھ (نقد) ہوتا ہے، پس قبضے سے پہلے اس (برتن یا پتھر) کی ہلاکت نادر (بہت کم) ہے۔ بخلاف بیعِ سلم کے، کیونکہ اس میں سپردگی (تسلیم) ادھار ہوتی ہے اور قبضے سے پہلے ہلاکت نادر نہیں ہے، پس جھگڑا واقع ہو جائے گا۔ اور امام ابوحنیفہؒ سے روایت ہے کہ عام بیع میں بھی یہ جائز نہیں، لیکن پہلا قول (جواز کا) زیادہ صحیح اور واضح ہے۔”
(ب) عام بیع کے جواز اور بیعِ سلم کے عدم جواز کی وجہ:
-
عام بیع (نقد): اس میں برتن یا پتھر جس سے ناپا جا رہا ہے، وہ مجلسِ عقد میں موجود ہوتا ہے۔ سودا فوراً ہو جاتا ہے، اس لیے اس برتن کے ٹوٹنے یا غائب ہونے کا خطرہ نہیں ہوتا، لہٰذا جھگڑے کا امکان نہیں۔
-
بیعِ سلم (ادھار): اس میں چیز کی فراہمی مستقبل میں ہونی ہوتی ہے۔ اگر ناپنے والا برتن ٹوٹ گیا یا غائب ہو گیا، تو بعد میں یہ معلوم کرنا ناممکن ہوگا کہ کتنی مقدار طے ہوئی تھی، جس سے بائع اور مشتری کے درمیان جھگڑا ہوگا۔
(ج) بیعِ سلم کی شرائط:
-
جنس و صنف: مبیع کی جنس اور قسم معلوم ہو۔
-
مقدار: ناپ یا تول واضح ہو۔
-
وقت: ادائیگی کا وقت (مثلاً ایک ماہ) متعین ہو۔
-
راس المال: قیمت مجلسِ عقد میں ادا کر دی جائے۔
-
مکانِ تسلیم: وہ جگہ معلوم ہو جہاں سامان دیا جائے گا۔
سوال نمبر 2:بيع الأعمى وشراها جائزه وله الخيار إذا اشترى لأنه اشتری مالمیره و قد قررناه من قبل
ثم يسقط خياره بحسّه المبيع إذا كان يعرف بالجس وبشمه إذا كان يعرف بالشم و
بذوقه إذا كان يعرف بالذوق كما فى البصير ولا يسقط خياره فى العقار حتى يوصف له
(الف) اعراب لگا کر ترجمہ کریں۔
(ب) مذکورہ بالا عبارت میں وقد قدرناه من قبل اور کمافی البصیر کی تشریح کریں۔
(ج) ولا يسقط خياره فى العقار حتى يوصف لہ کی تشریح ہدایہ کی روشنی میں کریں۔
(الف) اعراب و ترجمہ:
-
اعراب: بَيْعُ الْأَعْمَى وَشِرَاؤُهُ جَائِزٌ، وَلَهُ الْخِيَارُ إِذَا اشْتَرَى لِأَنَّهُ اشْتَرَى مَا لَمْ يَرَهُ وَقَدْ قَرَّرْنَاهُ مِنْ قَبْلُ، ثُمَّ يَسْقُطُ خِيَارُهُ بِحَسِّهِ الْمَبِيعَ إِذَا كَانَ يُعْرَفُ بِالْجَسِّ وَبِشَمِّهِ إِذَا كَانَ يُعْرَفُ بِالشَّمِّ وَبِذَوْقِهِ إِذَا كَانَ يُعْرَفُ بِالذَّوْقِ كَمَا فِي الْبَصِيرِ، وَلَا يَسْقُطُ خِيَارُهُ فِي الْعَقَارِ حَتَّى يُوصَفَ لَهُ۔
-
ترجمہ: اندھے کی خرید و فروخت جائز ہے، اور جب وہ خریدے تو اسے (خیارِ رؤیت کی طرح) اختیار ہوگا کیونکہ اس نے وہ چیز خریدی جسے دیکھا نہیں۔ اور ہم یہ پہلے (خیارِ رؤیت میں) ثابت کر چکے ہیں۔ پھر اس کا اختیار (خیار) ختم ہو جائے گا چیز کو چھونے سے اگر وہ چھونے سے پہچانی جاتی ہو، اور سونگھنے سے اگر سونگھنے سے پہچانی جاتی ہو، اور چکھنے سے اگر چکھنے سے پہچانی جاتی ہو، جیسے آنکھوں والے کے حق میں (دیکھنے سے خیار ختم ہوتا ہے)۔ اور جائیداد (عقار) میں اس کا خیار ختم نہیں ہوگا جب تک کہ اس کے لیے اس کی صفات بیان نہ کر دی جائیں۔
(ب) “وَقَدْ قَرَّرْنَاهُ مِنْ قَبْلُ” اور “كَمَا فِي الْبَصِيرِ” کی تشریح:
-
وقد قررناه من قبل: اس کا مطلب ہے کہ خیارِ رؤیت کے باب میں یہ قاعدہ گزر چکا ہے کہ جس نے بغیر دیکھے چیز خریدی، اسے دیکھنے کے بعد واپسی کا حق ہوتا ہے۔ اندھا چونکہ دیکھ نہیں سکتا، اس لیے وہ درجہ اولیٰ میں اس حق کا حقدار ہے۔
-
کما فی البصیر: جیسے بینا (آنکھوں والا) شخص جب چیز دیکھ لیتا ہے تو اس کا خیارِ رؤیت ختم ہو جاتا ہے، اسی طرح اندھے کے لیے چھونا، چکھنا یا سونگھنا “دیکھنے” کے قائم مقام ہے، اس سے اس کا خیار ختم ہو جائے گا۔
(ج) “وَلَا يَسْقُطُ خِيَارُهُ فِي الْعَقَارِ” کی تشریح: مکان یا زمین (عقار) کو نہ چکھا جا سکتا ہے نہ سونگھا۔ اندھے کے لیے صرف چھونے سے مکان کی تمام کیفیات (رقبہ، مضبوطی، نقشہ) معلوم نہیں ہو سکتیں۔ اس لیے اس کا خیار تب ختم ہوگا جب کوئی معتبر شخص اسے مکان کی پوری تفصیل (صفت) بتا دے۔
سوال نمبر 3: (الف) بیع الطير في الهواء بيع ضربة القانص بيع المزابنة بيع المنابذہ بیع الحبل
میں سے چار کی تعریف اور شرعی حکم مع الادلۃ والعلل ذکر کریں۔
(ب) بیع فاسد اور بیع باطل اور بیع مکروہ ، ان میں سے ہر ایک کی تعریف مع امثلہ تحریر کریں۔
۱۰
(الف) چار کی تعریف اور حکم:
-
بیعِ طیر فی الہواء: ہوا میں اڑتے پرندے کی بیع۔ حکم: ناجائز، کیونکہ مبیع پر قبضہ قدرت میں نہیں۔
-
بیعِ حبل الحبلہ: اونٹنی کے پیٹ کے بچے کے بچے کی بیع۔ حکم: باطل، کیونکہ مبیع معدوم (جو ابھی موجود ہی نہیں) ہے۔
-
بیعِ ضربۃ القانص: شکاری کے ایک جال پھینکنے میں جو شکار آئے گا اس کی بیع۔ حکم: ناجائز (بیعِ غرر)، کیونکہ مبیع نامعلوم ہے۔
-
بیعِ منابذہ: کپڑے کو بغیر دیکھے ایک دوسرے کی طرف پھینک کر بیع پکی کرنا۔ حکم: ناجائز، کیونکہ اس میں خیارِ رؤیت کو ختم کرنے کی غیر شرعی شرط ہے۔
(ب) بیعِ فاسد، باطل اور مکروہ:
-
بیعِ باطل: جس کی اصل درست نہ ہو (مثلاً مردار کی بیع)۔ مثال: سور کی بیع۔
-
بیعِ فاسد: اصل درست ہو مگر صفت میں خرابی ہو۔ مثال: ایسی بیع جس میں قیمت نامعلوم ہو۔
-
بیعِ مکروہ: اصل و صفت درست ہو مگر کسی خارجی وجہ سے منع ہو جیسے جمعہ کی اذان کے وقت بیع۔
سوال نمبر 4: : ولا يجوز أخذ أجرة عسب التيس ولا استيجار على الأذان والحج وكذا الإمامة وتعليم
القرآن والفقه ولا يجوز الاستيجار على الغناء والنوح.
(الف) مذکورہ عبارت پر اعراب لگا کر تر جمہ کریں۔
(ب) عبارت پر اجارہ کے مسئلہ میں اختلاف حنفیہ اور شافعیہ مع الدلائل نقل کریں۔
(ج) استيجار على الغناء والنوح کے عدم جواز کی دلیل ذکر کریں۔
(الف) اعراب و ترجمہ:
-
اعراب: وَلَا يَجُوزُ أَخْذُ أُجْرَةِ عَسْبِ التَّيْسِ، وَلَا اسْتِيجَارٌ عَلَى الْأَذَانِ وَالْحَجِّ وَكَذَا الْإِمَامَةُ وَتَعْلِيمُ الْقُرْآنِ وَالْفِقْهِ، وَلَا يَجُوزُ الِاسْتِيجَارُ عَلَى الْغِنَاءِ وَالنَّوْحِ۔
-
ترجمہ: اور سانڈ (نر جانور) کے جفتی کرانے کی اجرت لینا جائز نہیں، اور نہ اذان، حج، امامت، تعلیمِ قرآن اور فقہ کی تعلیم پر اجرت لینا (اصل مذہب میں) جائز ہے۔ اور گانے بجانے اور نوحہ کرنے پر اجرت لینا (قطعاً) جائز نہیں ہے۔
(ب) اختلافِ حنفیہ و شافعیہ (طاعات پر اجرت):
-
متقدمین احناف: اذان، امامت اور تعلیمِ قرآن پر اجرت لینا جائز نہیں کیونکہ یہ طاعات (عبادت) ہیں اور ان کا ثواب اللہ کے ذمے ہے۔
-
متاخرین احناف (مفتیٰ بہ قول): دین کے ضیاع کے خوف سے اب ان امور پر اجرت لینا جائز ہے تاکہ دینی شعائر باقی رہیں۔
-
شوافع: ان کے نزدیک ان کاموں پر اجرت لینا شروع سے ہی جائز ہے کیونکہ یہ ایک نفع بخش کام ہے۔
(ج) گانے اور نوحہ پر اجرت کے عدمِ جواز کی دلیل: کیونکہ گانا اور نوحہ کرنا “معصیت” (گناہ) ہے، اور شریعت میں کسی گناہ کے کام پر اجرت لینا یا معاہدہ کرنا سرے سے باطل ہے۔ اجرت صرف مباح نفع پر لی جا سکتی ہے۔
حل شدہ پرچہ: الورقۃ الرابعۃ – البلاغۃ (مختصر المعانی)
سوال نمبر 1: (الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَلْهَمَنَا حَقَائِقَ الْمَعَانِي وَ دَقَائِقَ الْبَيَانِ وَ خَصَّصَنَا بِبَدَائِعِ الْأَيَادِي وَ رَوَائِعِ الْإِحْسَانِ، أَتْقَنَ بِحِكْمَتِهِ نِظَامَ الْعَالَمِ عَلَى وَفْقِ مَا اقْتَضَتْهُ الْحَالُ وَ أَوْرَدَ بِرَأْفَتِهِ فِرَقَ الْأَنَامِ فِي طُرُقِ الْإِنْعَامِ وَ الْإِفْضَالِ)
جواب: (الف) ترجمہ: “تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں معانی کی حقیقتیں اور بیان کی باریکیاں الہام کیں، اور ہمیں انوکھے انعامات اور عمدہ احسانات کے ساتھ خاص کیا۔ اس نے اپنی حکمت سے نظامِ عالم کو اس کے مقتضیٰ حال کے مطابق مضبوط بنایا، اور اپنی شفقت سے مخلوق کے گروہوں کو انعام و بخشش کے راستوں پر چلایا۔”
(ب) مصنفین کا تعارف:
-
مفتاح العلوم: اس کے مصنف امام سراج الدین ابو یعقوب یوسف بن ابی بکر سکاکیؒ ہیں۔ (ولادت: 555ھ، وفات: 626ھ)۔
-
تلخیص المفتاح: اس کے مصنف امام جلال الدین محمد بن عبدالرحمن قزوینیؒ (المعروف خطیبِ دمشق) ہیں۔ (ولادت: 666ھ، وفات: 739ھ)۔
سوال نمبر 2: (الف) علم معانی کی تعریف تحریر کریں۔
(ب) مندرجہ ذیل میں سے کوئی سی پانچ اصطلاحات کی تعریفات و مثل لکھیں ۔
(الف) علمِ معانی کی تعریف: علمِ معانی وہ علم ہے جس کے ذریعے عربی کلام کے ان احوال کو جانا جاتا ہے جن کی وجہ سے کلام “مقتضیٰ حال” کے مطابق ہو جاتا ہے۔
(ب) اصطلاحات (کوئی سی پانچ):
-
بلاغتِ کلام: کلام کا فصیح ہونے کے ساتھ ساتھ مقتضیٰ حال کے مطابق ہونا۔
-
ضعفِ تالیف: کلام کا نحوی قواعد کے مشہور طریقے کے خلاف ہونا (مثلاً: ضمیر کا ایسے اسم کی طرف لوٹنا جو لفظاً اور رتبتاً بعد میں ہو)۔
-
تعقیدِ معنوی: کلام میں ایسے استعارے یا کنائے استعمال کرنا کہ اصل مطلب سمجھنا مشکل ہو جائے۔
-
غرابت: کلام میں ایسے الفاظ لانا جو نامانوس ہوں اور جن کا معنی سمجھنے کے لیے لغت کی طرف رجوع کرنا پڑے۔
-
تتابعِ اضافات: کلام میں پے در پے مضاف الیہ لانا جو زبان پر بوجھل ہوں (مثلاً: حمامَةُ جَرْعَى حَوْمَةِ الْجَنْدَلِ)۔
سوال نمبر 3: (الف) صدق و کذب کی صرف تعریف جمہور ، جاحظ اور نظام کے مطابق تحریر کریں۔
(ب) افترى على الله كذبا أم به جنة یہ کس کے موقف پر دلیل ہے؟ استدلال کی وضاحت کریں،
نیز جمہور کی طرف سے اس کا جواب
لکھیں۔
(الف) صدق و کذب کی تعریف:
-
جمہور: کلام کا خارج (واقعہ) کے مطابق ہونا صدق ہے، اور مطابق نہ ہونا کذب ہے۔
-
نظام (معتزلی): کلام کا متکلم کے اعتقاد کے مطابق ہونا صدق ہے (چاہے واقعہ کے خلاف ہو)۔
-
جاحظ: کلام کا خارج اور اعتقاد دونوں کے مطابق ہونا صدق ہے، اور دونوں کے خلاف ہونا کذب ہے۔ (اس کے نزدیک چار قسمیں اور ہیں)۔
(ب) آیتِ مبارکہ سے استدلال: آیت: (أَفْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَمْ بِهِ جِنَّةٌ)۔
-
وضاحت: کفار نے نبی ﷺ کے بارے میں کہا کہ یا تو یہ جھوٹ بول رہے ہیں یا انہیں جنون ہے۔ جاحظ کے نزدیک یہاں “جھوٹ” اور “جنون” (جس میں اعتقاد نہیں ہوتا) کے درمیان ایک تیسری صورت کا ذکر ہے، جو ثابت کرتا ہے کہ صدق و کذب کے درمیان واسطہ موجود ہے۔
-
جمہور کا جواب: جمہور فرماتے ہیں کہ یہاں “ام” متصلہ نہیں بلکہ منقطعہ ہے، اور کفار کا مقصد صرف آپ ﷺ کی تکذیب کرنا تھا، کسی تیسری حالت کو ثابت کرنا نہیں تھا۔
سوال نمبر 4: (وَقَدْ يُنَزَّلُ الْمُخَاطَبُ الْعَالِمُ بِهِمَا أَيْ بِفَائِدَةِ الْخَبَرِ وَ لَازِمِهَا مَنْزِلَةَ الْجَاهِلِ لِعَدَمِ جَرْيِهِ عَلَى مُوجِبِ الْعِلْمِ فَإِنَّ مَنْ لَا يَجْرِي عَلَى مُقْتَضَى عِلْمِهِ هُوَ وَ الْجَاهِلُ سَوَاءٌ)
جواب: (الف) ترجمہ: “اور بسا اوقات اس مخاطب کو جو ان دونوں (فائدہ خبر اور لازم فائدہ) کا عالم ہوتا ہے، جاہل کے درجے میں اتار دیا جاتا ہے، کیونکہ وہ اپنے علم کے تقاضے پر عمل نہیں کر رہا ہوتا۔ پس بے شک جو اپنے علم کے مقتضیٰ پر نہیں چلتا، وہ اور جاہل برابر ہیں۔”
(ب) خط کشیدہ کی تعریف:
-
فائدہ خبر: مخاطب کو وہ بات بتانا جو اسے معلوم نہ ہو (مثلاً: زید آیا ہے)۔
-
لازم فائدہ خبر: مخاطب کو یہ بتانا کہ متکلم کو بھی اس بات کا علم ہے (مثلاً: تم کل مدرسے آئے تھے)۔
حل شدہ پرچہ: الورقۃ الخامسۃ – الفلسفۃ والمناظرۃ
پہلا حصہ: الفلسفہ (ہدایۃ الحکمۃ)
سوال نمبر 1: (الف) علمِ حکمت کی تعریف، موضوع اور غرض و غایت:
-
تعریف: وہ علم جس میں کائنات کی اشیاء کی حقیقتوں سے اس طرح بحث کی جائے کہ انسانی نفس اپنی طاقت کے مطابق ان کا ادراک کر لے۔
-
موضوع: موجوداتِ خارجیہ (باہر کی دنیا میں موجود چیزیں) جن کے وجود میں انسانی قدرت کا دخل نہ ہو۔
-
غرض و غایت: انسانی نفس کو مکمل کرنا تاکہ وہ نظری طور پر عالمِ عقلی کے مشابہ ہو جائے اور عملی طور پر اخلاقِ فاضلہ سے آراستہ ہو کر سعادتِ دارین حاصل کر سکے۔
(ب) جزء لایتجزیٰ (Atomic Part):
-
موقف: فلاسفہ کے نزدیک “جزء لایتجزیٰ” (ایسا ذرہ جس کے مزید ٹکڑے نہ ہو سکیں) کا نظریہ باطل ہے۔ ان کے نزدیک مادہ لامتناہی طور پر تقسیم ہو سکتا ہے۔
-
دلیل 1: اگر کوئی ذرہ ایسا ہو جس کے ٹکڑے نہ ہوں، تو جب اسے دو ذروں کے درمیان رکھا جائے گا، تو اس کا ایک پہلو دائیں والے سے ملے گا اور دوسرا بائیں والے سے۔ یہ دو پہلو ہونا ہی اس کی تقسیم کی دلیل ہے۔
-
دلیل 2: اگر تین ذرے ایک لائن میں رکھے جائیں، تو درمیانی ذرہ دونوں کے لیے آڑ بنے گا۔ اگر اس کے ٹکڑے ممکن نہ ہوں تو آڑ بننا ممکن نہ ہوتا۔
سوال نمبر 2: (إِنَّ الْفَلَكَ لَا يَقْبَلُ الْكَوْنَ وَالْفَسَادَ وَلَا الْخَرْقَ وَالِالْتِيَامَ)
جواب: (الف) تعریفات:
-
فلک: وہ جسمِ بسیط جو اپنی جگہ پر گول گھومتا ہے (آسمانی کرہ)۔
-
کون: کسی چیز کا عدم سے وجود میں آنا۔
-
فساد: کسی چیز کا مٹ کر ختم ہو جانا۔
-
خرق: کسی جڑی ہوئی چیز کا پھٹنا یا الگ ہونا۔
-
التیام: کسی پھٹی ہوئی چیز کا دوبارہ جڑ جانا۔
(ب) دعووں کی دلیل: قدیم فلاسفہ کے نزدیک آسمانی اجسام (افلاک) نہ پیدا ہوتے ہیں نہ فنا ہوتے ہیں (یعنی کون و فساد کو قبول نہیں کرتے) اور نہ ہی ان میں شگاف پڑ سکتا ہے اور نہ وہ جڑ سکتے ہیں۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ فلک کی شکل “کُرّی” (گول) ہے جو اس کی طبیعت کے عین مطابق ہے، اور طبیعت اپنی ضد (پھٹنے یا فنا ہونے) کو قبول نہیں کرتی۔ (نوٹ: اسلامی عقیدہ اس کے خلاف ہے کیونکہ اللہ ہر چیز کو فنا کرنے پر قادر ہے)۔
سوال نمبر 3: (تعریفات)
-
ہیولیٰ: وہ جوہرِ بسیط جو صورتِ جسمیہ کو قبول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
-
جسمِ طبعی: وہ جوہر جس میں لمبائی، چوڑائی اور گہرائی (تینوں ابعاد) موجود ہوں۔
-
مکان: جسم کی وہ سطح جو اسے چاروں طرف سے ڈھانپے ہوئے ہو۔
-
صورتِ نوعیہ: وہ جوہر جس کی وجہ سے ایک جسم دوسرے جسم سے ممتاز ہوتا ہے (جیسے آگ کی حرارت)۔
دوسرا حصہ: المناظرہ (الرشیدیۃ)
سوال نمبر 4: (هَذِهِ قَوَاعِدُ الْبَحْثِ مُتَضَمِّنَةٌ لِمَا يَجِبُ اسْتِحْضَارُهُ فِي فَنِّ الْمُنَاظَرَةِ الْبَاحِثِ عَنْ كَيْفِيَّةِ الْبَحْثِ صِيَانَةً لِلذِّهْنِ عَنِ الضَّلَالَةِ، مُرَتَّبَةً عَلَى مُقَدِّمَةٍ وَأَبْحَاثٍ وَخَاتِمَةٍ)
جواب: (الف) ترجمہ: “یہ بحث کے وہ قواعد ہیں جو ان امور پر مشتمل ہیں جن کا فنِ مناظرہ میں حاضرِ ذہن رکھنا واجب ہے، وہ فن جو بحث کرنے کے طریقے سے بحث کرتا ہے تاکہ ذہن کو (غلطی اور) گمراہی سے بچایا جا سکے، یہ کتاب ایک مقدمہ، چند ابحاث اور ایک خاتمہ پر ترتیب دی گئی ہے۔”
(ب) دلیل کی تعریف:
-
تعریف: وہ بات (قول) جس سے کسی دعوے کی سچائی ثابت ہو جائے۔
-
عدول کی وجہ: مصنف نے مشہور تعریف (المرکب من قضیتین…) سے اس لیے عدول کیا کیونکہ مشہور تعریف صرف “قیاس” کے لیے مخصوص ہے، جبکہ مناظرہ میں دلیل کا لفظ عام ہے جو قیاس، استقراء اور تمثیل سب کو شامل ہے۔
سوال نمبر 5: (الف) تعریفِ لفظی اور حقیقی:
-
تعریفِ لفظی: کسی مشکل لفظ کا اس سے زیادہ مشہور لفظ کے ذریعے مطلب واضح کرنا (مثلاً: غضنفر کا معنی شیر کرنا)۔
-
تعریفِ حقیقی کی اقسام:
-
حد: جو ماہیت کی اصل حقیقت (جنس و فصل) کو بیان کرے (مثلاً: انسان حیوانِ ناطق ہے)۔
-
رسم: جو ماہیت کی کیفیات یا خاص صفات کو بیان کرے (مثلاً: انسان ہنسنے والا حیوان ہے)۔
-
(ب) آدابِ مناظرہ (کوئی سے پانچ):
-
ایسے مختصر الفاظ استعمال کرنا جو واضح ہوں (ایجازِ غیر مخل)۔
-
مشکل اور عجیب الفاظ سے پرہیز کرنا۔
-
بات اس وقت شروع کرنا جب فریقِ مخالف فارغ ہو جائے۔
-
مقصد صرف حق کا اظہار ہو، دوسرے کو نیچا دکھانا نہ ہو۔
-
مناظرے کے دوران غصے اور شور و غل سے بچنا۔
حل شدہ پرچہ: الورقۃ السادسۃ – الأدب العربي
القسم الأول: ديوان الحماسہ
سوال نمبر 1: اشعار کا ترجمہ اور صیغوں کا حل
(الف) ترجمہ (صرف چار اشعار):
-
لَمْ أَرَ قَوْمًا مِثْلَنَا خَيْرَ قَوْمِهِمْ… أَقَلَّ بِهِ مِنَّا عَلَى قَوْمِهِمْ فَخْرًا
-
ترجمہ: میں نے اپنی قوم جیسے بہترین لوگ نہیں دیکھے جو اپنی قوم پر (اپنے کارناموں کے باوجود) ہم سے کم فخر کرنے والے ہوں۔
-
-
فَأَتَتْ بِهِ حَوْشَ الْفُؤَادِ مُبَطَّنًا… سُهْدًا إِذَا مَا نَامَ لَيْلَ الْهَوْجَلِ
-
ترجمہ: پس وہ (ماں) ایسے بچے کو لائی جو چوکنا دل والا، دبلا پتلا اور بیدار مغز ہے، اس وقت (بھی) جب سست لوگ رات کو سو رہے ہوتے ہیں۔
-
-
وَنَحْنُ بَنُو مَاءَ السَّمَاءِ فَلَا نَرَى… لِأَنْفُسِنَا مِنْ دُونِ مَمْلَكَةٍ قَصْرًا
-
ترجمہ: اور ہم آسمانی پانی (بارش) کے بیٹے ہیں، پس ہم اپنی جانوں کے لیے بادشاہت کے بغیر کسی چیز کو کم (رتبہ) نہیں دیکھتے۔
-
-
وَإِذَا رَمَيْتَ بِهِ الْفِجَاجَ رَأَيْتَهُ… يَهْوِى مَخَارِمَهَا هُوِيَّ الْأَجْدَلِ
-
ترجمہ: اور جب تو اسے (گھوڑے کو) راستوں میں ڈال دے تو تو اسے دیکھے گا کہ وہ گھاٹیوں میں ایسے گرتا (جھپٹتا) ہے جیسے شکاری باز جھپٹتا ہے۔
-
(ب) خط کشیدہ صیغوں کا حل:
-
لَمْ أَرَ: صیغہ واحد متکلم، فعل مضارع منفی بلم، بحث اثبات فعل مضارع معروف، مادہ: ر ء ی (مہموز العین، ناقص یائی)۔
-
فَأَتَتْ: صیغہ واحد مؤنث غائب، فعل ماضی معروف، مادہ: ا ت ی (مہموز الفاء، ناقص یائی)۔
-
نَامَ: صیغہ واحد مذکر غائب، فعل ماضی معروف، مادہ: ن و م (اجوف واوی)۔
-
نَرَى: صیغہ جمع متکلم، فعل مضارع معروف، مادہ: ر ء ی۔
-
يَهْوِی: صیغہ واحد مذکر غائب، فعل مضارع معروف، مادہ: ہ و ی (لفیف مقرون)۔
سوال نمبر 2: اشعار کا ترجمہ اور اعراب
(الف) ترجمہ:
-
مَا كَانَ يَنْفَعُنِي مَقَالُ نِسَائِهِمْ… وَقُتِلْتُ دُونَ رِجَالِهَا لَا تَبْعَدِ
-
ترجمہ: ان کی عورتوں کا یہ کہنا مجھے کوئی فائدہ نہ دیتا کہ “تو ان کے مردوں کے سامنے قتل ہو گیا، (اے بہادر) تو ہم سے دور نہ ہو (یعنی سلامت رہ)”۔
-
-
إِذَا مَا ابْتَدَرْنَا مَأْزِقًا فُرِجَتْ لَنَا… بِأَيْمَانِنَا بِيضٌ جَلَتْهَا الصَّيَاقِلُ
-
ترجمہ: جب ہم لڑائی کے تنگ مقام میں ایک دوسرے سے سبقت لے جاتے ہیں، تو ہمارے لیے وہ چمکدار تلواریں راستہ کھول دیتی ہیں جنہیں صیقل کرنے والوں نے چمکایا ہوتا ہے۔
-
(ب) خط کشیدہ اشعار پر اعراب (Vowels):
فَقُلْنَا لَهُمْ تِلْكُمْ إِذًا بَعْدَ كَرَّةٍ… تُغَادِرُ صَرْعَى نَوْءُهَا مُتَخَاذِلُ
القسم الثاني: ديوان المتنبي
سوال نمبر 3: ترجمہ اور واحد جمع
(الف) ترجمہ (صرف تین اشعار):
-
يَسْتَأْسِرُ الْبَطَلَ الْكَمِيَّ بِنَظْرَةٍ… وَيَحُولُ بَيْنَ فُؤَادِهِ وَعَزَائِهِ
-
ترجمہ: وہ (محبوبہ) بہادر اور ہتھیار بند جنگجو کو ایک نظر سے قیدی بنا لیتی ہے اور اس کے دل اور اس کے صبر کے درمیان حائل ہو جاتی ہے۔
-
-
وَمَا تَابَ حَتَّى غَادَرَ الْكَرُّ وَجْهَهُ… جَرِيحًا وَخَلَّى جَفْنَهُ النَّقْعُ أَرْمَدَ
-
ترجمہ: اور وہ (دشمن) باز نہ آیا یہاں تک کہ حملے نے اس کے چہرے کو زخمی کر دیا اور غبار نے اس کی آنکھوں کو دکھتا ہوا چھوڑ دیا۔
-
-
تَجْرِي النُّفُوسُ حَوَالَيْهِ مُخَلَّطَةً… مِنْهَا عُدَاةٌ وَأَغْنَامٌ وَأَبَالُ
-
ترجمہ: اس کے ارد گرد جانیں ملی جلی دوڑتی ہیں، جن میں سے کچھ دشمن ہیں، کچھ بکریاں ہیں اور کچھ اونٹ ہیں۔
-
(ب) واحد اور جمع (واحد وجمع):
-
الْعُيُون: واحد: عَيْن
-
الْبَطَل: جمع: أَبْطَال
-
الْقَاتِلَات: واحد: قَاتِلَة
-
النُّفُوس: واحد: نَفْس
-
أَغْنَام: واحد: غَنَم
سوال نمبر 4: ترجمہ اور صیغوں کا حل
(الف) ترجمہ (صرف تین اشعار):
-
أَزُورُهُمْ وَسَوَادُ اللَّيْلِ يَشْفَعُ لِي… وَأَنْثَنِي وَبَيَاضُ الصُّبْحِ يُغْرِي بِي
-
ترجمہ: میں ان (محبوب) کی زیارت کو جاتا ہوں تو رات کی سیاہی میری سفارش کرتی ہے (مجھے چھپاتی ہے) اور جب میں لوٹتا ہوں تو صبح کی سفیدی میرے خلاف اکساتی ہے (میرا راز فاش کرتی ہے)۔
-
-
فَوَضَعْنَ أَيْدِيَهُنَّ فَوْقَ تَرَائِبٍ… الْمُبْدِيَاتِ مِنَ الدَّلَائِلِ غَرَائِبًا
-
ترجمہ: پس انہوں نے اپنے ہاتھ سینوں پر رکھ لیے، جو کہ عجیب و غریب اشاروں کو ظاہر کرنے والے تھے۔
-
-
إِذَا دَعَوْتُكَ لِلنَّوَائِبِ دَعْوَةً… لَمْ يَدْعُ سَامِعُهَا إِلَى أَكْفَائِهِ
-
ترجمہ: جب میں آپ کو مصیبتوں کے لیے پکارتا ہوں، تو ایسی پکار پکارتا ہوں جس کا سننے والا اپنے ہمسروں (مددگاروں) کو نہیں پکارتا (کیونکہ آپ اکیلے کافی ہیں)۔
-
(ب) صیغوں کا حل:
-
أَزُورُ: صیغہ واحد متکلم، فعل مضارع معروف، مادہ: ز و ر (اجوف واوی)۔
-
يَشْفَعُ: صیغہ واحد مذکر غائب، فعل مضارع معروف، مادہ: ش ف ع (صحیح)۔
-
فَوَضَعْنَ: صیغہ جمع مؤنث غائب، فعل ماضی معروف، مادہ: و ض ع (مثال واوی)۔
-
دَعَوْتُ: صیغہ واحد متکلم، فعل ماضی معروف، مادہ: د ع و (ناقص واوی)۔
-
يَدْعُ: صیغہ واحد مذکر غائب، فعل مضارع مجزوم (لم کی وجہ سے واؤ حذف ہے)، مادہ: د ع و۔
