Tanzeem ul Madaris Solved Past Paper 2021 | PDF (طلباء کے لیے)عالمیہ سال اول
سالانہ امتحان 2021 | عالمیہ سال اول (ایم اے پارٹ 1)
الورقۃ الأولى: علم الكلام (شرح عقائد نسفی)
سوال نمبر 1: (الف) علمِ کلام کی چار وجوہِ تسمیہ (نام رکھنے کی وجوہات) لکھیں نیز اہل سنت و جماعت اور معتزلہ کیسے وجود میں آئے؟ مکمل پس منظر تحریر کریں۔
جواب: علمِ کلام کی وجوہِ تسمیہ: علماء نے اس علم کو “کلام” کہنے کی درج ذیل چار وجوہات بیان کی ہیں:
-
مسئلہ کلام اللہ: اس علم کا سب سے بڑا اور معرکۃ الآراء مسئلہ اللہ تعالیٰ کی صفتِ کلام (قرآن کا قدیم یا حادث ہونا) تھا، اس لیے اس پورے علم کا نام ہی علم الکلام پڑ گیا۔
-
بحث و مباحثہ: اس علم میں عقائد کو محض ماننے کے بجائے ان پر کلام (بحث) کی جاتی ہے اور عقلی دلائل دیے جاتے ہیں۔
-
قوتِ کلام: اس علم کو حاصل کرنے کے بعد انسان کے اندر مخالفین کے سامنے اپنے عقیدے کو ثابت کرنے کے لیے “کلام” کرنے کی بھرپور طاقت پیدا ہو جاتی ہے۔
-
منطق کا مقابلہ: چونکہ فلاسفہ کے ہاں اس طرح کے علم کو ‘منطق’ کہا جاتا ہے، اس لیے مسلمانوں نے اس کے مقابلے میں اس کا نام ‘کلام’ رکھا۔
اہلِ سنت اور معتزلہ کا پس منظر:
-
معتزلہ کا آغاز: بنو امیہ کے دور میں “واصل بن عطا” نامی شخص امام حسن بصریؒ کے شاگردوں میں سے تھا۔ اس نے گناہِ کبیرہ کے مرتکب کے بارے میں امام سے اختلاف کیا اور ان کی مجلس سے الگ (اعتزال) ہو کر اپنا نیا عقیدہ اپنا لیا۔ اسی وجہ سے انہیں ‘معتزلہ’ (الگ ہونے والے) کہا جاتا ہے۔ انہوں نے عقل کو نقل (وحی) پر مقدم رکھا۔
-
اہلِ سنت و جماعت کا وجود: جب معتزلہ نے اپنے عقلی نظریات (خلقِ قرآن، انکارِ رؤیت وغیرہ) کو عام کیا، تو امام ابوالحسن اشعریؒ اور امام ابومنصور ماتریدیؒ نے قرآن و سنت کے اصلی عقائد کو عقلی دلائل سے ثابت کیا۔ وہ جماعت جو صحابہ کے طریقے پر رہی، وہ ‘اہلِ سنت و جماعت’ کہلائی۔
سوال نمبر 1: (ب) “قال اهل الحق حقائق الاشياء ثابتة والعلم بها متحقق خلافا للسوفسطائية” پر اعراب لگائیں، ترجمہ کریں اور شرح کا خلاصہ تحریر کریں۔
جواب:
-
اعراب: قَال أَهْلُ الْحَقِّ: حَقَائِقُ الْأَشْيَاءِ ثَابِتَةٌ، وَالْعِلْمُ بِهَا مُتَحَقِّقٌ، خِلَافاً لِلسُّوفِسْطَائِيَّةِ.
-
ترجمہ: اہل حق (علماء) نے فرمایا: اشیاء کی حقیقتیں ثابت (برحق) ہیں اور ان کا علم حاصل ہونا یقینی ہے، برخلاف سوفسطائیہ کے (جو اس کا انکار کرتے ہیں)۔
-
خلاصہ شرح: شارح علامہ تفتازانیؒ فرماتے ہیں کہ دنیا میں موجود ہر چیز (مثلاً زمین، آسمان، آگ) اپنا ایک مستقل وجود رکھتی ہے۔ یہ محض انسان کے وہم یا خواب کا نام نہیں ہے۔ سوفسطائیہ (Sophists) وہ لوگ تھے جو حقائق کا انکار کرتے تھے۔ شارح نے ان کے تین گروہوں کا ذکر کیا ہے:
-
عنادیہ: جو ہر چیز کے وجود کا سرے سے انکار کرتے ہیں۔
-
عندیہ: جو کہتے ہیں کہ حقیقت کچھ نہیں، جو انسان مان لے وہی سچ ہے (یعنی سچ ہر بندے کے لیے الگ ہے)۔
-
لا ادریہ: جو کہتے ہیں کہ ہمیں کچھ پتا ہی نہیں کہ کچھ ہے یا نہیں۔ امام نسفیؒ نے ان کا رد کیا کہ حواس اور عقل سے جو چیز ثابت ہو جائے وہ حقیقت ہے۔
سوال نمبر 2: “و اسباب العلم للخلق ثلاثة الحواس السليمة والخبر الصادق والعقل” کی روشنی میں حواسِ سلیمہ، خبرِ صادق اور عقل کی تفصیلی وضاحت لکھیں۔
جواب: علامہ نسفیؒ کے نزدیک انسان کو علم حاصل ہونے کے تین بڑے ذریعے ہیں:
-
حواسِ سلیمہ (Sound Senses): یہ پانچ ہیں: دیکھنا، سننا، سونگھنا، چکھنا اور چھونا۔ بشرطیکہ یہ حواس درست ہوں (مثلاً جس کی آنکھ خراب ہو اسے سفید چیز پیلی نظر آ سکتی ہے)۔ حواس سے حاصل ہونے والا علم “بدیہی” اور قطعی ہوتا ہے۔
-
خبرِ صادق (True Report): اس کی دو قسمیں ہیں:
-
خبرِ متواتر: ایسی خبر جسے اتنی بڑی جماعت بیان کرے کہ ان کا جھوٹ پر متفق ہونا ناممکن ہو (جیسے ہمیں مکہ یا لندن کے وجود کا علم)۔
-
خبرِ رسول: وہ خبر جو معجزے کے ذریعے سچے ثابت ہونے والے نبی نے دی ہو۔ اس سے حاصل ہونے والا علم بھی یقینی ہوتا ہے۔
-
عقل (Intellect): عقل وہ نور ہے جو انسان کو صحیح اور غلط میں تمیز سکھاتا ہے۔ عقل کے ذریعے دو طرح کا علم ملتا ہے: ایک وہ جو بغیر سوچنے کے حاصل ہو جائے (بدیہی، جیسے کل اپنے جز سے بڑا ہے) اور دوسرا وہ جو سوچ بچار سے ملے (استدلالی، جیسے کائنات کو دیکھ کر خالق کا پتا چلنا)۔
سوال نمبر 3: “والمحدث للعالم هو الله تعالى الواحد القديم الحى القادر العليم السميع البصير الشائي المريد” کا ترجمہ کریں، نیز حدوث، علم اللہ، واحد اور قدیم کی تعریفات لکھیں۔ نیز برہانِ تطبیق اور برہانِ تمانع کی تفصیل لکھیں۔
جواب:
-
ترجمہ: اور کائنات کو پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے جو اکیلا ہے، قدیم ہے، زندہ ہے، قدرت والا ہے، جاننے والا ہے، سننے والا ہے، دیکھنے والا ہے، ارادہ فرمانے والا ہے۔
-
تعریفات:
-
حدوث: کسی چیز کا پہلے موجود نہ ہونا اور پھر عدم سے وجود میں آنا۔
-
علم اللہ: اللہ کی وہ صفت جو تمام معلومات (پوشیدہ اور ظاہر) کو احاطہ کیے ہوئے ہے۔
-
واحد: وہ جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں اکیلا ہو اور اس کا کوئی شریک نہ ہو۔
-
قدیم: وہ ذات جس کے وجود کی کوئی ابتدا نہ ہو اور وہ ہمیشہ سے ہو۔
برہانِ تطبیق اور برہانِ تمانع:
-
برہانِ تطبیق: یہ دلیل “ابطالِ تسلسل” کے لیے دی جاتی ہے۔ اگر ہم یہ مان لیں کہ اسباب کا سلسلہ پیچھے کی طرف لامتناہی (Infinite) چل رہا ہے، تو موجودہ کائنات کبھی وجود میں نہ آتی۔ لہٰذا ایک “موجدِ اول” (اللہ) کا ہونا ضروری ہے جہاں یہ سلسلہ ختم ہو۔
-
برہانِ تمانع: یہ اللہ کی وحدانیت کی سب سے بڑی عقلی دلیل ہے۔ اگر دو خدا ہوتے اور ان میں اختلاف ہو جاتا (مثلاً ایک چاہتا کہ زید پیدا ہو اور دوسرا چاہتا کہ نہ ہو)، تو یا تو دونوں کی بات پوری ہوتی (جو کہ ناممکن ہے کیونکہ تضاد ہے) یا کسی کی نہ ہوتی (جس کا مطلب ہے دونوں عاجز ہیں)۔ عاجز خدا نہیں ہو سکتا، لہٰذا ثابت ہوا کہ خدا ایک ہی ہے۔
سالانہ امتحان 2021 | عالمیہ سال اول (ایم اے پارٹ 1)
الورقۃ الثانیۃ: علم الفرائض (سراجی)
سوال نمبر 1: (الف) موانعِ ارث (وراثت سے روکنے والی چیزیں) کتنی اور کون کون سی ہیں؟ ہر ایک کی وضاحت کریں۔
جواب: موانعِ ارث وہ رکاوٹیں ہیں جن کی موجودگی میں کوئی شخص وارث ہونے کے باوجود وراثت سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ امام سراج الدینؒ کے مطابق یہ چار ہیں:
-
الرق (غلامی): غلام (خواہ وہ مکمل ہو یا مکاتب و مدبر) وراثت کا حقدار نہیں ہوتا، کیونکہ غلام کی اپنی کوئی ملکیت نہیں ہوتی؛ وہ خود اپنے آقا کی ملکیت ہوتا ہے۔ اگر اسے وراثت دی جائے تو وہ اصل میں اس کے آقا کو جائے گی، جو کہ درست نہیں۔
-
القتل (قتل): اگر کوئی وارث اپنے اس مورث کو قتل کر دے جس کی وراثت اسے ملنی تھی، تو وہ محروم ہو جائے گا۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے: “القاتل لا یرث” (قاتل وارث نہیں ہوتا)۔ تاہم، وہ قتل جو غلطی سے ہو یا جس پر قصاص واجب نہ ہو، اس میں بعض ائمہ کے ہاں اختلاف ہے، لیکن احناف کے ہاں قتلِ عمد اور شبہ عمد دونوں موانع ہیں۔
-
اختلافِ دین: مسلمان کافر کا وارث نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کافر مسلمان کا۔ یہ ممانعت مذہب کی تبدیلی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔
-
اختلافِ دار (ملکوں کا فرق): یہ صرف کافروں کے لیے ہے۔ اگر دو کافر الگ الگ ممالک (مثلاً ایک دار الحرب اور دوسرا دار الاسلام) کے باشندے ہوں، تو وہ ایک دوسرے کے وارث نہیں بنیں گے۔ مسلمانوں کے لیے ملکوں کا فرق وراثت سے نہیں روکتا۔
سوال نمبر 1: (ب) فروضِ مقدرہ کتنے اور کون کون سے ہیں؟ نیز “تضعیف و تنصیف” کی وضاحت کریں۔
جواب: فروضِ مقدرہ: وہ حصے جو قرآنِ پاک نے وراثت کے لیے متعین کر دیے ہیں، وہ کل چھ (6) ہیں:
-
نصف (1/2)
-
ربع (1/4)
-
ثمن (1/8)
-
ثلثان (2/3)
-
ثلث (1/3)
-
سدس (1/6)
تضعیف و تنصیف کی وضاحت: علمِ فرائض میں یہ ایک حسابی قاعدہ ہے۔
-
تضعیف (Doubling): اس کا مطلب ہے کسی حصے کو دوگنا کرنا۔ جیسے ثمن (1/8) کو ڈبل کریں تو ربع (1/4) بنتا ہے، اور ربع کو ڈبل کریں تو نصف (1/2) بنتا ہے۔
-
تنصیف (Halving): اس کا مطلب ہے کسی حصے کو آدھا کرنا۔ جیسے نصف (1/2) کا آدھا ربع (1/4)، اور ربع کا آدھا ثمن (1/8) ہے۔ اسی طرح ثلثان (2/3) کا آدھا ثلث (1/3) اور ثلث کا آدھا سدس (1/6) ہے۔
سوال نمبر 2: (الف) باپ کے کتنے اور کون کون سے احوال ہیں؟ ہر ایک صورت کی وضاحت کریں۔
جواب: باپ کے وراثت میں کل تین (3) احوال (حالتیں) ہیں:
-
صرف فرض (1/6): جب میت کی نرینہ اولاد (بیٹا، پوتا یا اس سے نیچے) موجود ہو۔ اس صورت میں باپ کو کل مال کا چھٹا حصہ ملے گا۔
-
صرف عصبہ (Residuary): جب میت کی سرے سے کوئی اولاد (نہ بیٹا، نہ بیٹی) موجود نہ ہو۔ اس صورت میں ذوی الفروض کو ان کے حصے دینے کے بعد جو کچھ بچے گا، وہ سب باپ کو بطورِ عصبہ ملے گا۔
-
فرض اور عصبہ کا مجموعہ: جب میت کی صرف مونث اولاد (بیٹی، پوتی) موجود ہو۔ اس صورت میں باپ کو پہلے 1/6 (بطورِ فرض) ملے گا، پھر بیٹیوں کے حصے (مثلاً 1/2 یا 2/3) دینے کے بعد جو مال بچے گا، وہ بھی باپ کو بطورِ عصبہ مل جائے گا۔
سوال نمبر 3: (ب) عصبہ کی تعریف لکھیں نیز اس کی اقسام کتنی اور کون کون سی ہیں؟ خوب وضاحت سے لکھیں
جواب: تعریف: عصبہ وہ وارث ہے جس کا حصہ قرآن میں مقرر نہیں، بلکہ وہ ذوی الفروض کے حصے تقسیم کرنے کے بعد بچا ہوا سارا مال حاصل کرتا ہے، اور اگر ذوی الفروض نہ ہوں تو سارا مال لے لیتا ہے۔
عصبہ کی اقسام:
-
عصبہ بنفسہ: وہ تمام مرد جن کے اور میت کے درمیان کوئی عورت نہ آئے (مثلاً بیٹا، پوتا، باپ، دادا، سگا بھائی)۔
-
عصبہ بغیرہ: وہ چار عورتیں جو اپنے بھائیوں کے ساتھ آنے پر عصبہ بن جاتی ہیں (مثلاً بیٹی اپنے بھائی کے ساتھ، سگی بہن اپنے سگے بھائی کے ساتھ)۔
-
عصبہ مع غیرہ: وہ عورتیں جو دوسری عورتوں کے ساتھ مل کر عصبہ بنیں (مثلاً سگی بہن جب بیٹی یا پوتی کے ساتھ وارث ہو)۔
سوال نمبر 5: مسائل کا حل (تفصیلی حساب کے ساتھ)
مسئلہ (الف): باپ، ماں، بیوی، بیٹا
-
بیوی: 1/8 (اولاد کی موجودگی کی وجہ سے)
-
ماں: 1/6 (اولاد کی موجودگی کی وجہ سے)
-
باپ: 1/6 (بیٹے کی موجودگی کی وجہ سے)
-
بیٹا: عصبہ (بچا ہوا تمام مال) (مخرج 24 سے ہوگا: بیوی کو 3، ماں کو 4، باپ کو 4، اور بیٹے کو 13 حصے ملیں گے)
مسئلہ (ج): شوہر، بھائی، بہن
-
شوہر: 1/2 (اولاد نہ ہونے کی وجہ سے)
-
بھائی اور بہن: دونوں عصبہ بغیرہ بن جائیں گے (للذکر مثل حظ الانثیین کے قاعدے سے بھائی کو دو گنا اور بہن کو ایک حصہ ملے گا)۔
سالانہ امتحان 2021 | عالمیہ سال اول (ایم اے پارٹ 1)
الورقۃ الثالثۃ: الفقہ واصوله
الحصۃ الأولى: الہدایۃ (کتاب الشفعۃ و کتاب الذبائح)
سوال نمبر 1: شفعہ کی تعریف، درجات اور ترتیب کی وضاحت کریں۔
جواب:
-
(الف) عبارت کا ترجمہ: “شفعہ واجب ہے نفسِ مبیع (بیچی گئی چیز کی ملکیت) میں شریک کے لیے، پھر مبیع کے حقوق جیسے پانی اور راستے میں شریک کے لیے، پھر پڑوسی کے لیے۔”
-
(ب) لغوی و اصطلاحی معنی: * لغوی: شفعہ کا معنی ہے ‘ملانا’ یا ‘جوڑنا’۔
-
اصطلاحی: اپنی ملکیت کو دوسری (بیچی جانے والی) ملکیت کے ساتھ ملا کر خریدنے کا وہ حق جو کسی شرکت یا پڑوس کی وجہ سے حاصل ہو۔
-
-
(ج) “ہؤلاء” سے مراد (شفعہ کے تین درجات):
-
شریک فی نفس المبیع (خلیط فی الرقبہ): وہ شخص جو زمین یا مکان کی ملکیت میں حصہ دار ہو۔
-
شریک فی حق المبیع (خلیط فی حق المبیع): جو زمین میں شریک نہ ہو مگر اس زمین کے خاص حقوق جیسے پانی کی نہر یا نجی راستے میں شریک ہو۔
-
جارِ ملاصق (پڑوسی): وہ شخص جس کا مکان یا زمین بیچی جانے والی زمین کے ساتھ بالکل متصل (جڑی ہوئی) ہو۔
-
-
(د) ترتیب اور دلیلِ نقلی: اس سے مراد یہ ہے کہ پہلا حق شریکِ ملکیت کا ہے، اس کی عدم موجودگی میں حقِ آب و گل والے کا، اور پھر پڑوسی کا۔
-
دلیلِ نقلی: حضور ﷺ کا فرمان ہے: “الشَّفِيعُ أَحَقُّ” اور “الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ” (پڑوسی اپنے قریب ہونے کی وجہ سے زیادہ حقدار ہے)۔ احناف کے نزدیک پڑوسی کا حق اس لیے ہے تاکہ اسے کسی ناپسندیدہ نئے پڑوسی سے تکلیف (ضرر) نہ پہنچے۔
-
سوال نمبر 3: ذکاۃ (ذبح) کی شرعی حیثیت اور اقسام۔
جواب:
-
(الف) تشکیل (اعراب): اَلذَّكَاةُ شَرْطُ حِلِّ الذَّبِيحَةِ، لِقَوْلِهِ تَعَالَىٰ: { إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ } وَلِأَنَّ بِهَا يَتَمَيَّزُ الدَّمُ النَّجِسُ مِنَ اللَّحْمِ الطَّاهِرِ.
-
(ب) تشریح: ذکاۃ (ذبح کرنا) جانور کے حلال ہونے کی شرط ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ذبح کرنے سے جانور کا وہ ناپاک خون (دمِ مسفوح) نکل جاتا ہے جو گوشت کے اندر رکا ہوا ہوتا ہے، یوں گوشت پاک ہو جاتا ہے۔
-
(ج) زکوٰۃ اور ذکاۃ میں فرق: * قدرِ مشترک: دونوں کا مادہ ‘ز ک و/ذ ک و’ ہے جس کا معنی ‘پاکیزگی’ ہے۔
-
فرق: زکوٰۃ مال کی پاکیزگی ہے جو غریب کو دینے سے ہوتی ہے، جبکہ ذکاۃ گوشت کی پاکیزگی ہے جو خون بہانے سے ہوتی ہے۔
-
-
(د) ذبحِ شرعی کی اقسام:
-
ذبحِ اختیاری: پالتو جانور کو قابو میں کر کے اس کی چار رگیں (یا اکثر) کاٹنا۔
-
ذبحِ اضطراری: وہ جنگلی یا بھاگا ہوا جانور جو قابو میں نہ آئے، اسے بسم اللہ پڑھ کر کسی بھی جگہ زخمی کر دینا جس سے اس کا خون بہہ جائے (جیسے شکار)۔
-
الحصۃ الثانیۃ: التوضیح والتلویح (اصولِ فقہ)
سوال نمبر 5: فقہ کی تعریف اور اس کی قیود کے فوائد۔
جواب:
-
(الف) ترجمہ: “فقہ نفس (انسان) کا اپنے نفع اور نقصان کی چیزوں کو جان لینا ہے، اور لفظ ‘عملاً’ کا اضافہ کیا گیا تاکہ اعتقادیات اور وجدانیات نکل جائیں، پس علمِ کلام اور تصوف خارج ہو گئے…”
-
(ب) یہ کس کی تعریف ہے؟ یہ امامِ اعظم ابوحنیفہؒ کی فقہ کی مشہور تعریف ہے۔
-
قیود کے فوائد: * معرفۃ النفس: یہ جنس ہے جو ہر قسم کی پہچان کو شامل ہے۔
-
ما لہا وما علیہا: یعنی وہ حقوق جو اسے حاصل ہیں اور وہ فرائض جو اس پر لازم ہیں۔
-
عملاً (عمل کی قید): اس قید سے عقائد (جو دل کا فعل ہیں) اور تصوف (جو باطنی کیفیات ہیں) خارج ہو گئے، اب صرف وہ مسائل رہ گئے جن کا تعلق ظاہری اعضاء کے عمل سے ہے (نماز، روزہ، خرید و فروخت وغیرہ)۔
-
سوال نمبر 7: مصنفین کا تعارف اور مقام و مرتبہ۔
جواب:
-
صاحبِ ہدایہ: امام برہان الدین مرغینانیؒ (متوفی 593ھ)۔ آپ کا مرتبہ فقہِ حنفی میں “مجتہد فی المسائل” کا ہے۔ آپ کی کتاب ‘ہدایہ’ فقہِ حنفی کی سب سے مستند اور جامع کتاب ہے جس پر پوری دنیا میں فتویٰ کا مدار ہے۔
-
صاحبِ توضیح: علامہ صدر الشریعہ عبید اللہ بن مسعودؒ۔ آپ نے اصولِ فقہ میں یہ عظیم متن لکھا۔
-
صاحبِ تلویح: علامہ سعد الدین تفتازانیؒ (متوفی 792ھ)۔ آپ منطق، کلام اور اصول کے امام ہیں۔ آپ کی شرح ‘تلویح’ اپنی باریکیوں اور علمی گہرائی کی وجہ سے درسِ نظامی کی مشکل ترین کتب میں شمار ہوتی ہے۔
سالانہ امتحان 2021 | عالمیہ سال اول (ایم اے پارٹ 1)
الورقۃ الرابعۃ: اصول الحدیث واصول التحقیق
قسم اول: اصولِ حدیث (نخبۃ الفکر)
سوال نمبر 1: (الف) عبارت پر اعراب، ترجمہ اور مصنف کا تعارف تحریر کریں۔
جواب:
-
اعراب: اَلْخَبَرُ إِمَّا أَنْ يَكُونَ لَهُ طُرُقٌ بِلَا حَصْرِ عَدَدٍ مُعَيَّنٍ أَوْ مَعَ حَصْرٍ بِمَا فَوْقَ الِاثْنَيْنِ أَوْ بِهِمَا أَوْ بِوَاحِدٍ.
-
ترجمہ: خبر (حدیث) کی دو صورتیں ہیں: یا تو اس کے پہنچنے کے راستے (سندیں) کسی معین تعداد میں محصور (بند) نہیں ہوں گے، یا پھر وہ محصور ہوں گے۔ پھر محصور کی تین قسمیں ہیں: یا تو وہ دو سے زیادہ (تین یا زائد) ہوں گے، یا دو ہوں گے، یا صرف ایک ہوگا۔
-
مصنف کا تعارف: اس کتاب کے مصنف امام حافظ ابن حجر عسقلانیؒ (متوفی 852ھ) ہیں۔ آپ کو “امیر المؤمنین فی الحدیث” کہا جاتا ہے۔ آپ کی سب سے مشہور خدمت صحیح بخاری کی شرح “فتح الباری” ہے۔ “نخبۃ الفکر” آپ کا وہ مختصر متن ہے جس نے اصولِ حدیث کے فن کو نئے عروج پر پہنچایا۔
سوال نمبر 1: (ب) شرح نخبہ کی روشنی میں مذکورہ عبارت میں بیان کردہ “وجہِ حصر” (عقلی تقسیم) تفصیل سے لکھیں۔
جواب: حافظ ابن حجرؒ نے خبر کی اقسام کی تقسیم عقلی بنیادوں پر کی ہے جسے “وجہِ حصر” کہا جاتا ہے:
-
متواتر: اگر خبر کے پہنچنے کے راستے (سندیں) اتنے زیادہ ہوں کہ ان کا شمار ممکن نہ ہو اور عقل محال سمجھے کہ اتنے زیادہ لوگ کسی جھوٹ پر متفق ہو سکتے ہیں۔
-
مشہور: اگر راستے محصور ہوں اور ہر طبقے میں راویوں کی تعداد تین یا تین سے زیادہ ہو۔ اسے ‘مستفیض’ بھی کہتے ہیں۔
-
عزیز: اگر کسی بھی طبقے میں راویوں کی تعداد کم از کم دو ہو۔ (اگر ایک جگہ دو اور دوسری جگہ چار ہوں تو بھی اسے عزیز ہی کہیں گے)
-
غریب: اگر سند کے کسی بھی حصے میں راوی تنہا رہ جائے (صرف ایک راوی ہو)۔
-
خلاصہ: یہ تقسیم اس لیے ہے کہ خبر یا تو علمِ یقینی (متواتر) دیتی ہے یا پھر اس کی صحت کی جانچ پڑتال (آحاد) کی ضرورت ہوتی ہے۔
سوال نمبر 2: (ب) عدل، ضبط، اتصالِ سند، معلل اور شاذ کی وضاحت کریں۔
جواب: حدیثِ صحیح کی شرائط کی تفصیل درج ذیل ہے:
-
عدل (Integrity): راوی کا مسلمان، عاقل، بالغ ہونا اور تقویٰ و مروت کا حامل ہونا۔ یعنی وہ کبیرہ گناہوں سے بچتا ہو اور جھوٹ سے پاک ہو۔
-
ضبط (Accuracy): راوی کی یادداشت اتنی مضبوط ہو کہ وہ سنی ہوئی بات کو بعینہٖ محفوظ رکھ سکے اور بوقتِ ضرورت سنا سکے۔ ضبط کی دو قسمیں ہیں: ضبطِ صدر (یادداشت) اور ضبطِ کتاب (تحریر)۔
-
اتصالِ سند (Connected Chain): سند کے شروع سے آخر تک ہر راوی نے اپنے اوپر والے استاد سے خود حدیث سنی ہو، کہیں سے کوئی راوی گرا ہوا نہ ہو۔
-
معلل (Defective): وہ حدیث جس میں کوئی ایسی پوشیدہ خرابی (علت) ہو جو بظاہر نظر نہ آئے مگر حدیث کی صحت کو متاثر کر رہی ہو۔
-
شاذ (Irregular): جب کوئی ثقہ (معتبر) راوی اپنے سے زیادہ معتبر اور ثقہ راویوں کی جماعت کے خلاف حدیث بیان کرے۔
قسم ثانی: اصولِ تحقیق (Principles of Research)
سوال نمبر 4: (الف) علمی تحقیق کی اہمیت بیان کریں۔
جواب: علمی تحقیق کسی بھی علم کی زندگی اور ترقی کے لیے لازمی ہے۔ اس کی اہمیت درج ذیل نکات سے واضح ہوتی ہے:
-
حقائق کی تلاش: تحقیق کے ذریعے ہم افواہوں اور سنی سنائی باتوں کے بجائے ٹھوس حقائق تک پہنچتے ہیں۔
-
علمی جمود کا خاتمہ: اگر تحقیق نہ ہو تو علم ایک جگہ رک جائے گا۔ جدید مسائل کا حل پرانے اصولوں کی روشنی میں نکالنا تحقیق ہی کا کام ہے۔
-
اصلاح و تصحیح: پچھلے علماء یا محققین سے اگر کوئی خطا ہوئی ہو تو نیا محقق دلائل کے ساتھ اس کی اصلاح کرتا ہے۔
-
فکری گہرائی: تحقیق سے طالب علم کے اندر وسعتِ نظری اور تنقیدی شعور پیدا ہوتا ہے۔
سوال نمبر 5: (الف) محقق کی سات بنیادی خصوصیات کی تفصیل لکھیں۔
جواب: ایک کامیاب محقق (Researcher) میں درج ذیل صفات ہونی چاہئیں:
-
امانتداری: وہ دوسروں کے افکار کو ان کے نام سے منسوب کرے اور علمی چوری (Plagiarism) سے بچے۔
-
صبر و استقلال: تحقیق ایک طویل سفر ہے، اس میں مواد کی تلاش کے دوران آنے والی اکتاہٹ اور مشکلات پر صبر کرے۔
-
غیر جانبداری: اپنے ذاتی عقائد یا جذبات کو تحقیق پر مسلط نہ کرے بلکہ جو سچ ہے اسے ہی لکھے۔
-
تجسس: اس کے اندر حقائق کی تہہ تک پہنچنے کا سچا جذبہ ہو۔
-
باریک بینی: معمولی سے معمولی نکتے اور حوالے کو بھی نظر انداز نہ کرے۔
-
وسیع مطالعہ: اپنے موضوع سے متعلق تمام پرانی اور نئی کتب پر نظر رکھنا۔
-
حسنِ اسلوب: اپنی بات کو واضح، علمی اور سلجھی ہوئی زبان میں بیان کرنے کی صلاحیت۔
سوال نمبر 6: (ب) خاکہ تحقیق (Synopsis) کی تیاری کیسے کی جاتی ہے؟ تفصیل سے لکھیں۔
جواب: خاکہ تحقیق پورے مقالے کا نقشہ ہوتا ہے۔ اس کی تیاری کے اہم مراحل درج ذیل ہیں:
-
عنوان کا تعین: موضوع ایسا ہو جو نہ بہت وسیع ہو اور نہ بہت تنگ، اور اس پر پہلے کام نہ ہوا ہو۔
-
مقدمہ: جس میں موضوع کی ضرورت اور اہمیت بیان کی جائے۔
-
مقاصدِ تحقیق: یہ بتانا کہ اس مقالے کے ذریعے ہم کن سوالات کے جواب تلاش کریں گے۔
-
منہجِ تحقیق: یہ واضح کرنا کہ تحقیق کا طریقہ کار کیا ہوگا (تجزیاتی، بیانی یا تقابلی)۔
-
ابواب و فصول کی تقسیم: مقالے کو مختلف چیپٹرز میں تقسیم کرنا تاکہ مواد بکھرنے نہ پائے۔
-
ابتدائی کتابیات: ان بنیادی کتب کی لسٹ جن سے تحقیق کا آغاز کیا جائے گا۔
سالانہ امتحان 2021 | عالمیہ سال اول (ایم اے پارٹ 1)
الورقۃ الخامسۃ: الحدیث الشریف (امام طحاوی)
سوال نمبر 1: (الف) عبارت پر اعراب اور ترجمہ
جواب:
-
اعراب: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: “أَمَّنِي جِبْرَئِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ مَرَّتَيْنِ عِنْدَ بَابِ الْبَيْتِ، فَصَلَّى بِيَ الظُّهْرَ حِينَ مَالَتِ الشَّمْسُ، وَصَلَّى بِيَ الْعَصْرَ حِينَ صَارَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ، وَصَلَّى بِيَ الْمَغْرِبَ حِينَ أَفْطَرَ الصَّائِمُ، وَصَلَّى بِيَ الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، وَصَلَّى بِيَ الْفَجْرَ حِينَ حَرُمَ الطَّعَامُ وَالشَّرَابُ عَلَى الصَّائِمِ.”
-
ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جبرائیل علیہ السلام نے خانہ کعبہ کے دروازے کے پاس دو مرتبہ میری امامت کی۔ پس انہوں نے مجھے ظہر کی نماز اس وقت پڑھائی جب سورج ڈھل گیا، اور عصر کی نماز اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے ایک مثل ہو گیا، اور مغرب کی نماز اس وقت پڑھائی جب روزہ دار افطار کرتا ہے، اور عشاء کی نماز اس وقت پڑھائی جب شفق (سرخی) غائب ہو گئی، اور فجر کی نماز اس وقت پڑھائی جب روزہ دار پر کھانا اور پینا حرام ہو جاتا ہے (یعنی طلوعِ فجر کے وقت)۔”
سوال نمبر 1: (ب) نمازِ عصر کے ابتدائی وقت میں اختلافِ ائمہ مع دلائلِ احناف (تفصیلی بحث)
جواب: عصر کا ابتدائی وقت ایک معرکہ الآراء فقہی مسئلہ ہے:
-
اختلافِ ائمہ: امام شافعی، امام مالک، امام احمد بن حنبل اور صاحبین (امام ابویوسف و امام محمد) کے نزدیک عصر کا وقت اس وقت شروع ہوتا ہے جب ہر چیز کا سایہ اس کے اصل قد کے برابر (مثلِ اول) ہو جائے۔
-
امامِ اعظم ابوحنیفہؒ کا موقف: آپ کے نزدیک عصر کا وقت تب شروع ہوتا ہے جب ہر چیز کا سایہ اس کے اصل قد سے دگنا (مثلِ ثانی) ہو جائے۔
-
دلائلِ احناف: 1. حدیثِ ابراد: حضور ﷺ کا فرمان ہے “أَبْرِدُوا بِالظُّهْرِ” (ظہر کو ٹھنڈا کر کے پڑھو)۔ گرم ممالک میں ایک مثل پر تپش بہت زیادہ ہوتی ہے، اگر ایک مثل پر ظہر ختم مان لی جائے تو ‘ٹھنڈا کرنے’ کا حکم فوت ہو جائے گا۔ 2. احتیاط: جب وقت کے خروج اور دخول میں شک ہو تو ‘یقین’ پر عمل کیا جاتا ہے۔ ایک مثل پر ظہر کے وقت کے ختم ہونے میں شک ہے، لیکن دو مثل پر یقین ہے کہ اب ظہر کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ 3. امامتِ جبرائیل کا جواب: امام طحاویؒ فرماتے ہیں کہ امامتِ جبرائیل والا واقعہ ابتدائے اسلام کا ہے، بعد میں آپ ﷺ کے فعل سے اوقات میں وسعت ثابت ہوئی ہے۔
سوال نمبر 2: (ب) اذانِ فجر میں “الصلوٰۃ خیر من النوم” کے کہنے یا نہ کہنے پر اختلافِ ائمہ مع دلائل
جواب:
-
احناف اور جمہور کا موقف: فجر کی اذان میں “الصلوٰۃ خیر من النوم” (تثویب) کہنا سنت اور مستحب ہے۔
-
دلائل: حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے جب فجر کی اذان دی اور حضور ﷺ آرام فرما رہے تھے تو انہوں نے یہ کلمات کہے، حضور ﷺ نے اسے پسند فرمایا اور اذان کا حصہ بنانے کا حکم دیا۔
-
اختلاف: بعض ائمہ کے نزدیک یہ کلمات اذان کا حصہ نہیں بلکہ محض ایک اطلاع تھے، لیکن امام طحاویؒ احادیثِ صحیحہ سے ثابت کرتے ہیں کہ یہ سنتِ مؤکدہ کے قریب ہے۔
-
(ج) امام طحاوی کا تعارف: آپ کا نام ابو جعفر احمد بن محمد الطحاوی ہے۔ آپ کی پیدائش 229ھ میں ہوئی اور وفات 321ھ میں ہوئی۔
سوال نمبر 3: (ب) صلوٰۃِ وسطیٰ (درمیانی نماز) کے بارے میں مختلف اقوال
جواب: قرآنِ پاک میں “حافظوا علی الصلوات والصلوٰۃ الوسطیٰ” کا حکم آیا ہے۔ اس کے تعین میں درج ذیل اقوال ہیں:
-
نمازِ فجر: بعض صحابہ اور امام شافعیؒ کے نزدیک یہ فجر ہے کیونکہ یہ رات اور دن کے درمیان ہے۔
-
نمازِ ظہر: جیسا کہ آپ کے پیپر کی عبارت میں زید بن ثابتؓ اور اسامہ بن زیدؓ سے منقول ہے کہ یہ ظہر ہے۔
-
نمازِ عصر (راجح قول): جمہور محدثین، ائمہ ثلاثہ اور احناف کے نزدیک یہ عصر کی نماز ہے۔ دلیل یہ ہے کہ غزوہ خندق کے موقع پر حضور ﷺ نے فرمایا تھا: “انہوں نے ہمیں صلوٰۃِ وسطیٰ یعنی عصر کی نماز سے روک دیا”۔
-
(ج) کلمہ “الزبرقان” کا تلفظ: اس کا صحیح تلفظ اَلزِّبْرِقَانُ ہے (ز کے نیچے زیر، ب ساکن، ر کے نیچے زیر، ق پر زبر)۔
سوال نمبر 4: (الف) تکبیرِ تحریمہ میں ہاتھ اٹھانے کی حد (اختلاف مع دلائل)
جواب:
-
احناف کا مسلک: مردوں کے لیے کانوں کی لو (Earlobes) تک ہاتھ اٹھانا سنت ہے۔
-
دلیل: حضرت وائل بن حجرؓ کی روایت کہ آپ ﷺ نے تکبیر کہی اور اپنے دونوں انگوٹھوں کو کانوں کے برابر کیا۔
-
-
شوافع کا مسلک: کندھوں (Shoulders) تک ہاتھ اٹھانا۔
-
امام طحاویؒ کی نظر: آپ فرماتے ہیں کہ کانوں تک ہاتھ اٹھانا زیادہ اکمل اور واضح ہے، جس سے دور سے دیکھنے والے کو بھی پتا چل جاتا ہے کہ نماز شروع ہو گئی ہے۔
سوال نمبر 4: (ج) بسم اللہ سورہ فاتحہ کا حصہ ہے یا نہیں؟ (نظرِ طحاوی)
جواب: امام طحاویؒ فرماتے ہیں کہ بسم اللہ قرآن کی ایک مستقل آیت ہے جو دو سورتوں کے درمیان ‘فصل’ (الگ کرنے) کے لیے نازل ہوئی ہے۔ یہ نہ تو سورہ فاتحہ کا جز ہے اور نہ ہی ہر سورت کا حصہ۔
-
دلیل: اگر یہ سورہ فاتحہ کا لازمی حصہ ہوتی تو صحابہ کرامؓ اسے بلند آواز سے (جہراً) پڑھتے، جبکہ بکثرت احادیث سے ثابت ہے کہ حضور ﷺ اور خلفائے راشدین اسے آہستہ (سراً) پڑھتے تھے۔
الورقۃ السادسۃ: للمؤطین (حدیث شریف)
القسم الأول: مؤطا الإمام مالک
سوال نمبر 1: (الف) عبارت کی تشکیل، ترجمہ اور سدھائے ہوئے کتے (کلبِ معلم) کی شرائط۔
جواب:
-
تشکیل (اعراب): إِنَّهُ إِذَا كَانَ مُعَلَّماً يُفْقِهُ كَمَا تُفْقِهُ الْكِلَابُ الْمُعَلَّمَةُ فَلَا بَأْسَ بِأَكْلِ مَا قَتَلَتْ مِمَّا صَادَتْ إِذَا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَى إِرْسَالِهَا.
-
ترجمہ: “بے شک جب وہ (کتا) سدھایا ہوا ہو اور ویسے ہی سمجھ بوجھ رکھتا ہو جیسے سدھائے ہوئے کتے رکھتے ہیں، تو اس کے شکار کیے ہوئے جانور کو کھانے میں کوئی حرج نہیں جسے اس نے (زخم لگا کر) مار دیا ہو، بشرطیکہ اسے چھوڑتے وقت اللہ کا نام (بسم اللہ) لیا گیا ہو۔“
-
سدھائے ہوئے کتے کی شرائط: 1. جب اسے چھوڑا جائے تو وہ دوڑے، 2. جب اسے روکا جائے تو وہ رک جائے، 3. وہ شکار میں سے خود کچھ نہ کھائے (تاکہ معلوم ہو کہ اس نے مالک کے لیے شکار کیا ہے)، 4. یہ عمل کم از کم تین بار دہرایا گیا ہو۔
سوال نمبر 3: (الف) رضاعت (دودھ پینے) کا مسئلہ اور اس سے ثابت ہونے والے احکام۔
جواب:
-
ترجمہ: (حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں) میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے تو ایک عورت نے دودھ پلایا ہے، کسی مرد نے نہیں پلایا (تو وہ مرد میرا چچا کیسے ہوا؟)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “وہ تمہارا چچا ہی ہے، لہٰذا وہ تمہارے پاس آ سکتا ہے”۔
-
رضاعت سے حلال ہونے والے احکام: رضاعت سے وہی پختہ رشتے (محرمیت) ثابت ہوتے ہیں جو نسب سے ہوتے ہیں۔ یعنی رضاعی ماں، رضاعی بہن، رضاعی چچا وغیرہ سے نکاح حرام ہو جاتا ہے اور ان سے پردہ لازم نہیں رہتا۔
-
(ب) رضاعِ کبیر (بڑے کا دودھ پینا): ام المؤمنین سیدتنا عائشہ صدیقہؓ کا موقف یہ تھا کہ ضرورت کے وقت بڑے کو دودھ پلانے سے بھی حرمت ثابت ہو جاتی ہے (جیسا کہ سالم مولیٰ ابی حذیفہ کے کیس میں ہوا)، جبکہ دیگر ازواجِ مطہرات اور جمہور ائمہ (بشمول احناف) کے نزدیک رضاعت صرف ڈھائی سال (یا دو سال) کی مدت میں معتبر ہے، اس کے بعد دودھ پینے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔
القسم الثاني: مؤطا الإمام محمد
سوال نمبر 4: (الف) نمازِ عصر و فجر کا مستحب وقت۔
جواب:
-
ترجمہ: حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ ہم (نبی ﷺ کے ساتھ) عصر پڑھتے تھے، پھر کوئی شخص بنو عمرو بن عوف کے پاس جاتا تو انہیں (اس وقت بھی) عصر پڑھتے ہوئے پاتا۔
-
مستحب اوقات (احناف کے نزدیک): 1. فجر: احناف کے نزدیک “اسفار” (اجالے میں نماز پڑھنا) مستحب ہے، تاکہ قراءت لمبی کی جا سکے اور مقتدی زیادہ جمع ہوں۔ 2. عصر: عصر میں “تغیرِ شمس” (سورج کی رنگت بدلنے) سے پہلے پہلے نماز پڑھنا مستحب ہے، تاکہ دھوپ کی تیزی باقی ہو۔
-
(ب) وقتِ عصر میں ائمہ کا اختلاف: امام شافعی اور صاحبین کے نزدیک عصر ایک مثل پر شروع ہوتی ہے، جبکہ امام اعظم ابوحنیفہؒ کے نزدیک دو مثل (سایہ دگنا ہونے) پر شروع ہوتی ہے۔
سوال نمبر 6: (الف) بالغہ عورت کے نکاحِ بغیرِ ولی کے بارے میں امام ابوحنیفہؒ کے دلائل۔
جواب:
-
ترجمہ: امام ابوحنیفہؒ نے فرمایا: “اگر عورت نے کفو (برابری) میں نکاح کیا اور مہر میں کمی نہیں کی (مہرِ مثل رکھا)، تو اس کا نکاح (ولی کی اجازت کے بغیر بھی) جائز ہے”۔
-
دلائلِ احناف: 1. قرآن میں “حتی تنکح زوجا غیرہ” میں عورت کی طرف نکاح کی نسبت کی گئی ہے، 2. عورت جب اپنے مال میں تصرف کا اختیار رکھتی ہے تو اپنی جان (نکاح) کے بارے میں بھی بالغ ہونے کے بعد خود مختار ہے، 3. حضور ﷺ کا فرمان ہے: “الایم احق بنفسہا من ولیہا” (بیوہ/بالغہ اپنے ولی سے زیادہ اپنی ذات پر حق رکھتی ہے)۔
-
(ب) مؤطا امام محمد کی مؤطا امام مالک پر برتری کے تین وجوہ: 1. اس میں فقہِ حنفی کے دلائل اور امام ابوحنیفہؒ کے اقوال تفصیل سے موجود ہیں۔ 2. امام محمدؒ نے حدیث بیان کرنے کے بعد مجتہدانہ بصیرت سے فقہی استنباط بھی کیا ہے۔ 3. یہ کتاب حجاز اور عراق کے علوم کا حسین سنگم ہے۔
