Tanzeem ul Madaris Solved Past Paper 2021 | PDF (طلباء کے لیے) عالیہ سال دوم
حل شدہ پرچہ: التفسیر وأصولہ (بیضاوی)
القسم الاول: تفسیر
سوال نمبر 1: (الف) اعراب و ترجمہ
-
اعراب: اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ، اَلْحَمْدُ هُوَ الثَّنَاءُ عَلَى الْجَمِيلِ الِاخْتِيَارِيِّ مِنْ نِعْمَةٍ أَوْ غَيْرِهَا، وَالْمَدْحُ هُوَ الثَّنَاءُ عَلَى الْجَمِيلِ مُطْلَقًا۔
-
ترجمہ: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔ “حمد” سے مراد (محمود کی) ایسی صفتِ جمیلہ (اچھی صفت) پر ثناء (تعریف) کرنا ہے جو اس کے اختیار میں ہو، چاہے وہ احسان کے بدلے میں ہو یا کسی اور وجہ سے۔ اور “مدح” سے مراد کسی بھی اچھی صفت پر تعریف کرنا ہے، چاہے وہ اختیاری ہو یا نہ ہو۔
(ب) حمد، مدح اور شکر میں فرق:
-
مدح: یہ سب سے عام ہے۔ یہ جاندار، بے جان، اختیاری اور غیر اختیاری سب پر ہوتی ہے۔ (مثلاً: موتی کی صفائی یا پہلوان کی طاقت کی تعریف کرنا)۔
-
حمد: یہ مدح سے خاص ہے۔ یہ صرف جاندار کی ایسی صفت پر ہوتی ہے جو اس کے اپنے اختیار میں ہو۔ (مثلاً: کسی کی سخاوت یا علم کی تعریف کرنا)۔
-
شکر: یہ صرف کسی نعمت یا احسان کے بدلے میں زبان، دل یا اعضاء سے کیا جاتا ہے۔
سوال نمبر 2: (الف) سلیس ترجمہ
-
ترجمہ: “اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ” یہ اس مدد (معونت) کا بیان ہے جو مانگی گئی (یعنی ایاک نستعین میں)۔ گویا بندے نے عرض کیا کہ “ہم آپ ہی سے مدد چاہتے ہیں” تو اللہ نے فرمایا “کیسے مدد کروں؟” تو بندوں نے عرض کیا “ہمیں سیدھا راستہ دکھا دے”۔ یا یہ (دعا) اس “مقصودِ اعظم” کا انفرادی ذکر ہے (جو تمام مقاصد کا خلاصہ ہے)۔
(ب) ھدایتِ الٰہی کی تین اجناس: علامہ بیضاوی کے نزدیک ہدایت کے درجات یہ ہیں:
-
جنسِ اول: وہ قوتیں عطا کرنا جو انسان کو ہدایت کی طرف لے جائیں، جیسے عقل، ہوش اور حواسِ خمسہ۔
-
جنسِ دوم: دلائل و براہین کے ذریعے حق اور باطل کے درمیان فرق واضح کرنا۔
-
جنسِ سوم: انبیاء کرام اور آسمانی کتابوں کے ذریعے وحی کی صورت میں رہنمائی کرنا۔
سوال نمبر 3: (ب) ایمان کا لغوی و شرعی معنی اور تصدیق قلبی:
-
لغوی معنی: امن دینا، یا کسی کی بات کو سچا تسلیم کرنا۔
-
شرعی معنی: اللہ کے رسول ﷺ جو کچھ اللہ کی طرف سے لائے ہیں، ان تمام باتوں کو دل سے سچا ماننا۔
-
تصدیق و اقرار: جمہور اہل سنت کے نزدیک ایمان کی اصل “تصدیقِ قلبی” (دل کا یقین) ہے۔
-
قاضی بیضاوی کا مختار: قاضی بیضاوی کے نزدیک ایمان کی اصل حقیقت “تصدیقِ قلبی” ہے، البتہ اقرارِ لسانی (زبان سے کہنا) دنیاوی احکام جاری کرنے کے لیے شرط ہے۔
القسم الثانی: اصولِ تفسیر
سوال نمبر 5: (جزء نمبر 4) قرآن میں غیر عربی الفاظ کا وقوع: قرآن مجید میں غیر عربی (اعجمی) الفاظ کے بارے میں دو بڑے نظریات ہیں:
-
امام شافعیؒ کا موقف: قرآن مکمل طور پر عربی ہے، اس میں کوئی غیر عربی لفظ نہیں۔ جو الفاظ غیر عربی لگتے ہیں وہ دراصل دونوں زبانوں میں مشترک (توافق) ہیں۔
-
جمہور کا موقف: قرآن میں کچھ الفاظ ایسے ہیں جو اصل میں غیر عربی تھے (مثلاً: استبرق، مشکوٰۃ، قسطاس) لیکن عربوں نے انہیں استعمال کیا اور وہ عربی کا حصہ بن گئے، پھر قرآن میں نازل ہوئے۔ یہ قرآن کے “عربی” ہونے کے منافی نہیں ہے۔
حل شدہ پرچہ: الحدیث وأصولہ (الورقۃ الثانیۃ)
سال: 2021 (تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان)
حصہ اول: حدیث (مشکوٰۃ المصابیح)
سوال نمبر 1: (الف) اعراب، ترجمہ اور اقسامِ قتل
-
اعراب: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: “يَجِيءُ الْمَقْتُولُ بِالْقَاتِلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، نَاصِيَتُهُ وَرَأْسُهُ بِيَدِهِ، وَأَوْدَاجُهُ تَشْخَبُ دَمًا، يَقُولُ: يَا رَبِّ قَتَلَنِي، حَتَّى يُدْنِيَهُ مِنَ الْعَرْشِ۔”
-
ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “قیامت کے دن مقتول اپنے قاتل کو اس حال میں لائے گا کہ اس کی (قاتل کی) پیشانی کے بال اور سر اس (مقتول) کے ہاتھ میں ہوں گے اور اس کی رگوں سے خون بہہ رہا ہوگا، وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! اس نے مجھے قتل کیا تھا، یہاں تک کہ وہ اسے عرش کے قریب لے جائے گا۔”
-
اقسامِ قتل (احناف کے نزدیک 5 ہیں):
-
قتلِ عمد: جان بوجھ کر کسی کو ایسے آلے سے مارنا جو جسم کے ٹکڑے کر دے (جیسے تلوار، خنجر)۔
-
قتل شبہ عمد: مارنے کا ارادہ ہو لیکن آلہ قتل والا نہ ہو (جیسے لاٹھی، کوڑا)۔
-
قتلِ خطا: نشانہ چوک جائے (مثلاً شکار کے بجائے انسان کو لگ جائے)۔
-
قتل جاری مجریٰ خطا: سوتے ہوئے کسی پر گر جانا جس سے وہ مر جائے۔
-
قتل بالسبب: کنواں کھودنا یا راستہ میں ایسی چیز رکھنا جس سے کسی کی موت ہو جائے۔
-
(ب) اعضائے جسم کی دیت:
-
ناک: مکمل دیت (100 اونٹ) کیونکہ یہ جسم میں ایک ہے۔
-
کان: ایک کان کی آدھی دیت (50 اونٹ)۔
-
ہونٹ: ایک ہونٹ کی آدھی دیت (50 اونٹ)۔
-
آنکھ: ایک آنکھ کی آدھی دیت (50 اونٹ)۔
-
ہاتھ: ایک ہاتھ کی آدھی دیت (50 اونٹ)۔
-
پاؤں: ایک پاؤں کی آدھی دیت (50 اونٹ)۔
سوال نمبر 2: (الف) اعراب، ترجمہ اور دیت کی اشیاء
-
“لَوْ اطَّلَعَ فِي بَيْتِكَ أَحَدٌ وَلَمْ تَأْذَنْ لَهُ، فَخَذَفْتَهُ بِحَصَاةٍ فَفَقَأْتَ عَيْنَهُ، مَا كَانَ عَلَيْكَ مِنْ جُنَاحٍ.”
-
ترجمہ: “اگر کوئی تمہارے گھر میں (تمہاری اجازت کے بغیر) جھانکے اور تم اسے کنکری مارو اور اس کی آنکھ پھوڑ دو، تو تم پر کوئی گناہ (قصاص یا دیت) نہیں ہے۔”
-
دیت میں دی جانے والی اشیاء: حضرت عمرؓ کے دور میں دیت کی قیمت ان اشیاء سے طے ہوئی:
-
اونٹ: 100 اونٹ۔
-
سونا: 1000 دینار۔
-
چاندی: 10,000 درہم۔
-
گائے: 200 گائے۔
-
بکریاں: 2000 بکریاں۔
-
(ب) دیت کی اقسام:
-
دیتِ اخماس (5 حصے): قتلِ خطا میں (بنت مخاض، بنت لبون، ابن لبون، حقہ، جذعہ 20،20 عدد)۔
-
دیتِ ارباع (4 حصے): شبہ عمد میں (بنت مخاض، بنت لبون، حقہ، جذعہ 25،25 عدد)۔
-
دیتِ اثلاث (3 حصے): یہ سخت دیت ہے (33 حقہ، 33 جذعہ، 34 خلفہ یعنی حاملہ اونٹنیاں)۔
حصہ دوم: اصولِ حدیث (سوال نمبر 4 – کوئی سے چار)
-
(الف) محدث، حافظ، حاکم:
-
محدث: وہ جو روایت و درایت کے ساتھ احادیث کا علم رکھتا ہو۔
-
حافظ: جسے ایک لاکھ احادیث سند و متن کے ساتھ یاد ہوں۔
-
حاکم: جسے تمام مرویاتِ حدیث کا علم ہو (کم از کم 8 لاکھ احادیث)۔
-
-
(ب) خبرِ متواتر:
-
لغوی معنی: پے در پے آنا۔ اصطلاحی: جسے ہر دور میں اتنے لوگ روایت کریں کہ ان کا جھوٹ پر متفق ہونا محال ہو۔
-
شرائط: کثرتِ تعداد، تمام طبقات میں تسلسل، اور اس کا تعلق حواس (دیکھنے یا سننے) سے ہو۔
-
حکم: یہ علمِ قطعی و یقینی کا فائدہ دیتی ہے۔
-
-
(ج) اخبارِ آحاد (مشہور و مستفیض):
-
مشہور: جس کے راوی ہر طبقہ میں 3 یا 3 سے زائد ہوں لیکن متواتر کی حد تک نہ پہنچیں۔
-
مستفیض: بعض کے نزدیک یہ مشہور کا مترادف ہے، بعض کہتے ہیں جس کے شروع اور آخر میں راوی برابر ہوں۔
-
-
(ھ) ضعیف حدیث:
-
لغوی: کمزور۔ اصطلاحی: جس میں صحیح یا حسن حدیث کی شرائط موجود نہ ہوں۔
-
مراتب: موضوع (من گھڑت)، متروک، منکر، معلل، مدلس وغیرہ۔
-
حل شدہ پرچہ: الورقۃ الثالثۃ – الفقہ (ہدایہ اولین)
سوال نمبر 1: (وَيَجُوزُ بَيْعُ الطَّعَامِ وَالْحُبُوبِ مُكَايَلَةً وَمُجَازَفَةً) وَهَذَا إِذَا بَاعَهُ بِخِلَافِ جِنْسِهِ لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: “إِذَا اخْتَلَفَ النَّوْعَانِ فَبِيعُوا كَيْفَ شِئْتُمْ بَعْدَ أَنْ يَكُونَ يَدًا بِيَدٍ” بِخِلَافِ مَا إِذَا بِيعَ بِجِنْسِهِ مُجَازَفَةً لِمَا فِيهِ مِنْ احْتِمَالِ الرِّبَا وَلِأَنَّ الْجَهَالَةَ غَيْرُ مَانِعَةٍ مِنَ التَّسْلِيمِ وَالتَّسَلُّمِ فَشَابَهَ جَهَالَةَ الْقِيمَةِ۔
جواب: (الف) ترجمہ: “اور جائز ہے کھانے کی چیزوں اور غلہ کی بیع ناپ کر (مکايلة) اور اندازے سے (مجازفة)۔ اور یہ (جواز) اس صورت میں ہے جب اسے اس کی جنس کے خلاف بیع کیا جائے، کیونکہ نبی ﷺ کا فرمان ہے: ‘جب دو نوع مختلف ہوں تو جیسے چاہو بیچو بشرطیکہ ہاتھوں ہاتھ (نقد) ہو’۔ بخلاف اس صورت کے جب اسے اس کی اپنی جنس کے بدلے اندازے سے بیچا جائے کیونکہ اس میں سود کا احتمال ہے۔ اور اس لیے (جواز ہے) کہ (مجازفہ میں) جہالت سپردگی (تسلیم و تسلم) سے مانع نہیں ہے، لہٰذا یہ قیمت کی جہالت کے مشابہ ہو گئی۔”
(ب) “لِمَا فِيهِ مِنْ احْتِمَالِ الرِّبَا” کی تشریح: اگر ایک ہی جنس کی دو چیزوں کا تبادلہ ہو (مثلاً گندم کے بدلے گندم) اور ایک طرف ناپ تول ہو جبکہ دوسری طرف محض اندازہ (مجازفہ)، تو یہاں برابری یقینی نہیں رہتی۔ چونکہ ایک جنس میں کمی بیشی “سود” (ربوا) ہے، اس لیے جہاں سود کا احتمال (شک) بھی آ جائے، وہ بیع حرام ہو جاتی ہے۔
(ج) “لِأَنَّ الْجَهَالَةَ غَيْرُ مَانِعَةٍ” کی تشریح: امام قدوریؒ فرماتے ہیں کہ اگر جنس مختلف ہو (مثلاً گندم کے بدلے درہم)، تو وہاں غلے کا ڈھیر دیکھ کر اندازے سے بیچنا جائز ہے۔ وجہ یہ ہے کہ مبیع (چیز) سامنے موجود ہے، اس لیے اسے خریدار کے حوالے کرنے میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوگی۔ یہ ایسی جہالت ہے جو تسلیم و تسلم سے نہیں روکتی۔
سوال نمبر 2: (وَمَنْ بَاعَ سِلْعَةً بِثَمَنٍ قِيلَ لِلْمُشْتَرِي ادْفَعِ الثَّمَنَ أَوَّلًا) لِأَنَّ حَقَّ الْمُشْتَرِي تَعَيَّنَ فِي الْمَبِيعِ فَيُقَدَّمُ دَفْعُ الثَّمَنِ لِيَتَعَيَّنَ حَقُّ الْبَائِعِ بِالْقَبْضِ لِمَا أَنَّهُ لَا يَتَعَيَّنُ بِالتَّعْيِينِ تَحْقِيقًا لِلْمُسَاوَاةِ۔
جواب: (الف) ترجمہ: “اور جس نے کوئی سامان کسی قیمت کے عوض بیچا، تو مشتری (خریدنے والے) سے کہا جائے گا کہ پہلے قیمت ادا کرے۔ کیونکہ مشتری کا حق مبیع (سامان) میں متعین ہو چکا ہے، لہٰذا قیمت کی ادائیگی کو مقدم کیا جائے گا تاکہ قبضے کے ذریعے بائع (بیچنے والے) کا حق بھی متعین ہو جائے، کیونکہ قیمت متعین کرنے سے (حق) متعین نہیں ہوتا، تاکہ دونوں کے درمیان برابری (مساوات) ہو جائے۔”
(ب) “لِأَنَّ حَقَّ الْمُشْتَرِي” اور “لِمَا أَنَّهُ لَا يَتَعَيَّنُ” کی وضاحت:
-
لان حق المشتری: عقد ہوتے ہی مشتری کا حق اس خاص سامان (مبیع) میں متعین ہو جاتا ہے، بائع اسے بدل نہیں سکتا۔
-
لما انہ لا یتعین: درہم و دینار (قیمت) ایسی چیز ہے جو متعین کرنے سے متعین نہیں ہوتی (یعنی اگر مشتری ایک خاص سکہ دکھائے تو وہ اس کی جگہ دوسرا ویسا ہی سکہ بھی دے سکتا ہے)۔ اس لیے مساوات کا تقاضا ہے کہ مشتری پہلے ثمن دے تاکہ بائع کا حق بھی قبضے کے ذریعے متعین ہو جائے۔
سوال نمبر 3: (الف) خیارِ رؤیت، خیارِ عیب اور خیارِ شرط کی تعریفات اور مدت بیان کریں۔ (ب) بیعِ فاسد کی تعریف، حکم اور کم از کم دو مثالیں تحریر کریں۔
جواب: (الف) خیارات کی تفصیل:
-
خیارِ رؤیت: وہ چیز جو دیکھی نہ ہو اسے خریدنے کے بعد دیکھنے پر سودا برقرار رکھنے یا ختم کرنے کا حق۔ مدت: دیکھنے کے وقت تک۔
-
خیارِ عیب: مبیع میں کوئی ایسا نقص نکل آنا جو قیمت کم کر دے۔ مدت: عیب ظاہر ہونے تک۔
-
خیارِ شرط: فریقین میں سے کسی کا یہ شرط رکھنا کہ اسے 3 دن تک بیع ختم کرنے کا اختیار ہوگا۔ امام صاحب کے نزدیک مدت: 3 دن۔
(ب) بیعِ فاسد:
-
تعریف: وہ بیع جس کی اصل (بنیاد) تو درست ہو مگر صفت (کسی شرط) میں خرابی ہو۔
-
حکم: یہ بیع حرام ہے، اسے ختم کرنا واجب ہے۔ اگر مشتری قبضہ کر لے تو ملکیت ثابت ہو جاتی ہے مگر گناہ ہوتا ہے۔
-
مثال: 1. ایسی بیع جس میں قیمت نامعلوم ہو۔ 2. ایسی شرط لگانا جو عقد کے خلاف ہو (مثلاً گاڑی بیچنا مگر ایک ماہ خود استعمال کرنے کی شرط رکھنا)۔
سوال نمبر 4: قَالَ: وَيَجْلِسُ لِلْحُكْمِ جُلُوسًا ظَاهِرًا فِي الْمَسْجِدِ۔
جواب: (الف) ترجمہ و “ظاہرا” کی قید: ترجمہ: “فرمایا (قدوری نے) کہ قاضی فیصلے کے لیے مسجد میں کھلے عام (ظاہرا) بیٹھے”۔ “ظاہرا” کی قید اس لیے ہے تاکہ غریب اور کمزور لوگ بھی بلا جھجھک قاضی تک پہنچ سکیں اور وہ کسی خاص گروہ کے لیے مخصوص نہ ہو جائے۔ (ب) کون سی مسجد اولیٰ ہے؟ ہدایہ کے مطابق قاضی کے لیے “جامع مسجد” میں بیٹھنا اولیٰ ہے تاکہ انصاف کی شہرت ہو۔ (ج) اختلافِ ائمہ:
-
احناف: مسجد میں فیصلہ کرنا بلا کراہت جائز ہے، کیونکہ یہ اللہ کی اطاعت ہے۔
-
شوافع: مسجد میں عدالتی کارروائی مکروہ ہے (احترامِ مسجد کی وجہ سے)۔
-
دلیلِ احناف: خلفائے راشدین کا مسجد میں فیصلے فرمانا اس کے جواز کی بڑی دلیل ہے۔
حل شدہ پرچہ: البلاغۃ (مختصر المعانی)
سوال نمبر 1: (الحمد للہ علیٰ ما أنعم کی بحث)
(الف) اعراب و ترجمہ:
-
اعراب: وَمَا فِي “عَلَى مَا أَنْعَمَ” مَصْدَرِيَّةٌ لَا مَوْصُولَةٌ لِفَسَادِ اللَّفْظِ وَالْمَعْنَى۔
-
ترجمہ: اور لفظ “علیٰ مَا أنعم” میں جو “مَا” ہے وہ “مصدریہ” ہے نہ کہ “موصولہ”، کیونکہ (اسے موصولہ ماننے سے) لفظ اور معنی کا فساد (خرابی) لازم آتا ہے۔
(ب) فسادِ لفظی و معنوی کی وضاحت:
-
فسادِ لفظی: اگر “ما” کو موصولہ مانیں تو اس کا صلہ “أنعم” (فعل) ہوگا، جس میں ایک ایسی ضمیر (عائد) ہونی چاہیے جو موصول کی طرف لوٹے، یہاں وہ ضمیر حذف ہے، اور صلہ سے مفعول کی ضمیر کا ایسا حذف جو کلام کو الجھا دے، لفظی خرابی ہے۔
-
فسادِ معنوی: “ما” موصولہ ہو تو اس کا معنی “اس چیز پر (احسان پر)” ہوگا۔ جبکہ یہاں مقصد اللہ کی “انعام کرنے کی صفت” (مصدر) پر تعریف کرنا ہے نہ کہ صرف ایک انعام پر۔ مصدر ماننے سے معنی ہوگا “اللہ کے انعام کرنے پر حمد ہے” جو کہ زیادہ جامع ہے۔
(ج) “آل” کی اصل اور استعمال:
-
اصل: “آل” کی اصل “أَهْل” ہے (ھاء کو ہمزہ سے بدلا گیا پھر الف سے)۔
-
استعمال: “آل” کا استعمال صرف صاحبِ شرف اور ذوی العقول (عقل والوں) کے لیے ہوتا ہے (مثلاً: آلِ نبی، آلِ فرعون)۔ اسے مکان یا حقیر چیزوں کی طرف مضاف نہیں کیا جاتا (یہ نہیں کہہ سکتے کہ ‘آل الخیاط’ یعنی درزی کے آل)۔
سوال نمبر 2: (فصاحتِ کلام کی تعریف)
(الف) ترجمہ: “اور کلام میں فصاحت سے مراد اس کا ‘ضعفِ تالیف’، ‘تنافرِ کلمات’ اور ‘تعقید’ سے پاک ہونا ہے، اس حال میں کہ وہ کلام (خود بھی) فصیح کلمات پر مشتمل ہو۔”
(ب) ضعفِ تالیف اور تنافرِ کلمات:
-
ضعفِ تالیف: کلام کا نحوی قواعد کے مشہور طریقے کے خلاف ہونا۔ (مثلاً: ضمیر کا ایسے اسم کی طرف لوٹنا جو لفظاً اور رتبتاً بعد میں ہو)۔
-
تنافرِ کلمات: کلام میں ایسے الفاظ کا ہونا جو زبان پر بوجھل ہوں (مثلاً: “وقبرُ حربٍ بمکانٍ قفرٍ”)۔
(ج) مع فصاحتھا کی ترکیب اور حال کا مسئلہ:
-
ترکیب: “مَعَ فَصَاحَتِهَا” میں ‘مع’ مضاف ہے اور ‘فصاحتھا’ مضاف الیہ، یہ پورا جملہ ‘خلوصہ’ (پاک ہونا) سے حال بن رہا ہے۔
-
حال کا مسئلہ: تنافرِ کلمات میں “الکلمات” سے حال بنانا اس لیے درست نہیں کیونکہ فصاحت صفت ہے اور کلمات موصوف، اور یہاں مقصد کلام کی اجتماعی کیفیت کو بیان کرنا ہے نہ کہ الگ الگ کلمات کے حال کو۔
سوال نمبر 3: (امثلہ اور شعراء)
-
مثال 1: “وتسعدنی فی غمرة بعد غمرة… سبوح لها منها عليها شواهد”
-
ترجمہ: وہ (گھوڑی) سختی کے بعد سختی میں میری مدد کرتی ہے، وہ تیز رفتار ہے جس کے پاس خود اسی کے اندر سے اس کی تیزی کے گواہ موجود ہیں۔
-
شاعر: یہ امرؤ القیس کا شعر ہے۔ یہ “تنافرِ کلمات” (قریب المخرج حروف) کی مثال ہے۔
-
-
مثال 2: “فأنت بمرأی من سعاد ومسمع”
-
ترجمہ: پس تم (اے کبوتر) سعاد (محبوبہ) کے دیکھنے اور سننے کی جگہ پر ہو۔
-
شاعر: یہ ابو طیب المتنبی کا شعر ہے۔ یہ “تعقیدِ معنوی” کی مثال ہے۔
-
سوال نمبر 4: (تعریفات)
-
تطویل: کلام میں بغیر کسی فائدے کے الفاظ زیادہ لانا جبکہ اصل مقصود متعین نہ ہو۔
-
تعقید: کلام کے معنی کا پوشیدہ ہونا (لفظی ترتیب یا استعارے کی خرابی کی وجہ سے)۔
-
ملکہ: وہ پختہ صفت جو انسانی نفس میں بیٹھ جائے جس کے ذریعے وہ فصیح و بلیغ کلام پر قدرت حاصل کر لے۔
-
مطول کے مصنف: مطول کے مصنف کا نام علامہ سعد الدین تفتازانیؒ ہے۔
سوال نمبر 5: (علمِ معانی کے ابواب)
(الف) ترجمہ و خط کشیدہ کی وضاحت:
-
ترجمہ: علمِ معانی کا مقصود آٹھ ابواب میں منحصر ہے۔ یہ انحصار “کل کا اپنے اجزاء میں” ہے نہ کہ “کلی کا اپنے جزئیات میں”، ورنہ علمِ معانی (کا نام) ہر ایک باب پر صادق آتا۔
-
وضاحت: شارح کا مقصد یہ ہے کہ علمِ معانی ان آٹھ ابواب کے مجموعے کا نام ہے۔ اگر یہ کلی اور جزئی کا رشتہ ہوتا (جیسے انسان اور زید)، تو ہم ہر باب کو الگ سے “علمِ معانی” کہہ سکتے تھے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایک باب پورے علم کا صرف ایک حصہ ہے۔
(ب) ابوابِ ثمانیہ کے نام:
-
احوالِ اسنادِ خبری، 2. احوالِ مسند الیہ، 3. احوالِ مسند، 4. احوالِ متعلقاتِ فعل، 5. قصر، 6. انشاء، 7. فصل و وصل، 8. ایجاز و اطناب و مساوات۔
حل شدہ پرچہ: الفلسفۃ والمناظرۃ (ہدایۃ الحکمۃ و رشیدیۃ)
حصہ اول: الفلسفہ (ہدایۃ الحکمۃ)
سوال نمبر 1: (ہیولیٰ اور صورت کا تعلق)
(الف) اعراب و ترجمہ:
-
اعراب: إِنَّ الْهَيُولَى لَا تَتَجَرَّدُ عَنِ الصُّورَةِ لِأَنَّهَا لَوْ تَجَرَّدَتْ عَنِ الصُّورَةِ فَإِمَّا أَنْ تَكُونَ ذَاتَ وَضْعٍ أَوْ لَا تَكُونَ لَا سَبِيلَ إِلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنَ الْقِسْمَيْنِ۔
-
ترجمہ: بے شک ہیولیٰ صورت سے جدا نہیں ہو سکتا، کیونکہ اگر وہ صورت سے جدا ہو جائے تو یا وہ “ذاتِ وضع” (یعنی جگہ گھیرنے والا) ہوگا یا نہیں ہوگا، اور ان دونوں قسموں میں سے کوئی بھی ممکن نہیں ہے۔
(ب) ہیولیٰ کی تعریف اور دلیل:
-
تعریف: ہیولیٰ وہ جوہرِ بسیط ہے جو جسم کی صورت کو قبول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ مادہِ اولیٰ ہے جس پر جسم کی بنیاد ہوتی ہے۔
-
دلیل (اثباتِ دعویٰ): اگر ہیولیٰ صورت کے بغیر اکیلا ہو تو دو صورتیں ہیں:
-
وہ صاحبِ وضع ہو: یعنی اس کا کوئی خاص حجم یا سمت ہو، لیکن سمت اور حجم تو “صورتِ جسمیہ” کی وجہ سے آتے ہیں۔ جب صورت ہی نہیں تو حجم کیسے ہوگا؟ لہٰذا یہ باطل ہے۔
-
وہ صاحبِ وضع نہ ہو: اگر وہ جگہ نہیں گھیرتا تو وہ “مجرد” (روح یا عقل کی طرح) ہو جائے گا، جبکہ ہیولیٰ تو مادی ہے اور اجسام کا حصہ بنتا ہے۔ لہٰذا یہ بھی باطل ہے۔
-
نتیجہ: ثابت ہوا کہ ہیولیٰ کبھی بھی صورت کے بغیر موجود نہیں ہو سکتا۔
-
سوال نمبر 2: (صورتِ نوعیہ اور حیز)
-
صورتِ نوعیہ: وہ جوہر جو جسم کے اندر موجود ہو کر اسے ایک خاص نوع (حقیقت) عطا کرے، جیسے آگ کی حرارت یا پانی کی برودت (ٹھنڈک)۔ یہ مادہ کو ممیز کرتی ہے۔
-
حیز (مکان): وہ خلا یا جگہ جہاں جسم ٹھہرا ہوتا ہے۔ حکماء کے نزدیک حیز وہ باطنی سطح ہے جو جسم کو چاروں طرف سے ڈھانپے ہوئے ہو۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ ہر جسم کو رہنے کے لیے جگہ چاہیے، اگر جگہ نہ ہو تو جسم کا وجود محال ہے۔
سوال نمبر 3: (حرکت و سکون اور شکلِ طبعی)
-
حرکت: کسی چیز کا بتدریج (آہستہ آہستہ) ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف نکلنا۔
-
سکون: حرکت کا نہ ہونا (عدمِ حرکت)۔
-
اقسامِ حرکت: (1) حرکت فی الکم (جسامت بڑھنا)، (2) حرکت فی الکیف (رنگ یا ذائقہ بدلنا)، (3) حرکت فی الوضع (گھومنا)، (4) حرکت فی الاین (ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا)۔
-
شکلِ طبعی: ہر جسم کی ایک قدرتی شکل ہوتی ہے (جیسے پانی کا گول قطرہ)۔ دلیل یہ ہے کہ اگر جسم کی کوئی شکل نہ ہو تو اس کے اجزاء بکھر جائیں گے، جبکہ ہر جسم اپنے وحدت کو برقرار رکھنے کے لیے ایک خاص ڈھانچے کا محتاج ہے۔
حصہ دوم: المناظرہ (الرشیدیۃ)
سوال نمبر 4: (تعریفِ مناظرہ)
(الف) ماخوذ منہ اور وجوہِ مناسبت: مناظرہ “نظر” سے ماخوذ ہے۔ اس کی مناسبت کی دو وجوہات ہیں:
-
بصیرت: جیسے آنکھ سے چیزوں کو دیکھا جاتا ہے، ویسے ہی مناظرہ میں عقل کی بصیرت سے حق کو دیکھا جاتا ہے۔
-
مقابلہ: جیسے دو لوگ آمنے سامنے ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں، مناظرہ میں دو فریق ایک دوسرے کے دلائل کو دیکھتے ہیں۔
(ب) مناظرہ، مجادلہ، مکابرہ:
-
مناظرہ: دو فریقوں کا حق کو واضح کرنے کے لیے دلیل پیش کرنا۔
-
مجادلہ: دوسرے کو لاجواب کرنے کے لیے بحث کرنا (چاہے خود غلط ہو)۔
-
مکابرہ: حق واضح ہونے کے باوجود ضد کی وجہ سے اسے تسلیم نہ کرنا۔
-
عدول کی وجہ: مصنف نے دیگر تعریفوں سے اس لیے عدول کیا کیونکہ “النظر من الجانبین” (دونوں طرف سے دیکھنا) میں کبھی صرف ایک طرف سے غور کرنا بھی شامل ہو جاتا ہے، جبکہ مناظرہ میں فریقین کا آمنے سامنے ہونا اور حق کا اظہار (اظہارِ صواب) ضروری ہے، جو مصنف کی تعریف میں زیادہ واضح ہے۔
سوال نمبر 6: (معارضہ)
-
معارضہ کی تعریف: معارضہ کا مطلب ہے کہ سائل (سوال کرنے والا) معلل (دلیل دینے والے) کی دلیل کے مقابلے میں ایسی ہی ایک دوسری دلیل پیش کر دے جو اس کے خلاف نتیجہ دے۔
-
اقسام: (1) معارضہ فی القلب، (2) معارضہ فی المثل، (3) معارضہ بالغیر۔
-
معارضہ بالغیر کی فقہی مثال: امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ “بیعِ فضولی باطل ہے کیونکہ اس میں ولایت نہیں”۔ حنفی اس کے مقابلے میں کہتے ہیں کہ “بیعِ فضولی جائز ہے (موقوف ہے) جیسے نکاحِ فضولی جائز ہے”۔ یہاں نکاح کی مثال “غیر” سے دی گئی تاکہ اصل مسئلے کا رد کیا جا سکے۔
