Tanzeem ul Madaris Solved Past Paper 2021 | PDF (طلباء کے لیے) عالمیہ سال دوم

مکمل حل شدہ پرچہ: صحیح البخاری (عالمیہ سال دوم)

سوال نمبر 1: حدیثِ عمار بن یاسرؓ اور مسئلہ تیمم
ترجمہ: حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: “کیا آپ کو یاد نہیں کہ ہم ایک سفر میں تھے، ہم دونوں کو غسل کی ضرورت ہوئی، آپ نے تو (پانی نہ ہونے کی وجہ سے) نماز نہیں پڑھی، لیکن میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا اور نماز پڑھ لی۔ پھر میں نے نبی ﷺ سے ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارے لیے صرف اتنا ہی کافی تھا، پھر آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے، ان میں پھونک ماری اور اپنے چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کا مسح کیا۔”
تفصیلی شرح و ابحاث:
  1. فقہی مسئلہ: اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اگر غسل کے لیے پانی میسر نہ ہو تو تیمم غسل کا قائم مقام بن جاتا ہے۔ حضرت عمرؓ کا موقف پہلے یہ تھا کہ جنبی (جس پر غسل واجب ہو) تیمم نہیں کر سکتا، مگر اس حدیث نے واضح کر دیا کہ وضو اور غسل دونوں کے لیے تیمم جائز ہے۔
  2. نفخ (پھونک مارنے) کی حکمت: امام بخاریؒ نے یہ دکھایا کہ تیمم کا مقصد مٹی چہرے پر ملنا نہیں بلکہ صرف ایک علامت (Ritual) ہے، اس لیے مٹی زیادہ ہو تو اسے پھونک مار کر اڑا دینا سنت ہے۔
  3. اعضاءِ تیمم: احناف کے نزدیک تیمم میں کہنیوں تک ہاتھ دھونا ضروری ہے، لیکن اس حدیث سے بعض ائمہ صرف پہنچوں (کفین) تک کے مسح کے قائل ہیں۔ احناف اس کی تاویل یہ کرتے ہیں کہ یہ ابتدائی حکم تھا یا حضور ﷺ نے صرف طریقہ سکھانے کے لیے مختصراً ایسا کیا۔

سوال نمبر 2: استقبالِ قبلہ اور قضائے حاجت کے احکام
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جب تم بیت الخلا جاؤ تو قبلہ کی طرف رخ نہ کرو اور نہ اس کی طرف پیٹھ کرو، بلکہ مشرق یا مغرب کی طرف رخ کر لو۔” حضرت ابو ایوب انصاریؓ فرماتے ہیں: “جب ہم ملکِ شام پہنچے تو وہاں ہم نے دیکھا کہ بیت الخلا قبلہ رخ بنے ہوئے ہیں، تو ہم وہاں تھوڑا ترچھا (رخ بدل کر) بیٹھتے اور اللہ سے استغفار کرتے تھے۔”
تفصیلی شرح و ابحاث:
  1. جغرافیائی تشریح: حضور ﷺ کا یہ فرمان “مشرق یا مغرب کی طرف رخ کرو” اہل مدینہ کے لیے تھا کیونکہ مدینہ سے قبلہ جنوب میں تھا۔ پاکستان و ہند کے لیے رخ شمال یا جنوب کی طرف ہوگا۔
  2. ائمہ کا اختلاف:
    • امام شافعیؒ: ان کے نزدیک عمارت کے اندر (Indoor) قبلہ کی طرف رخ کرنا جائز ہے، ممانعت صرف کھلے میدان کے لیے ہے۔
    • امام اعظم ابوحنیفہؒ: آپ کے نزدیک یہ ممانعت عام ہے، چاہے میدان ہو یا عمارت۔ آپ کی دلیل حضرت ابو ایوبؓ کا یہ فعل ہے کہ انہوں نے شام میں عمارتوں کے اندر بھی رخ بدلنے کی کوشش کی اور اسے ناپسند کیا۔
  3. استغفار کی وجہ: صحابہ کرامؓ شعائر اللہ کا اتنا احترام کرتے تھے کہ اگر مجبوری میں بھی رخ قبلہ کی طرف ہوتا تو اسے اپنی کوتاہی سمجھتے ہوئے اللہ سے معافی مانگتے تھے۔

سوال نمبر 3: اصطلاحاتِ حدیث کی مفصل تعریف
  1. المدرج (Inclusion): وہ حدیث جس میں راوی اپنی طرف سے کوئی جملہ یا لفظ شامل کر دے اور سننے والا اسے حدیث کا حصہ سمجھے۔ (مثلاً نیت کے الفاظ حدیث میں شامل کر دینا)۔
  2. المعنعن: وہ حدیث جس کی سند میں “عن” (سے) کا لفظ استعمال ہو (مثلاً عن زہری عن عطاء)۔ یہ حدیث تب مقبول ہوتی ہے جب راوی اور اس کے استاد کی ملاقات ثابت ہو۔
  3. المدلس: وہ راوی جو اپنے ایسے استاد سے حدیث بیان کرے جس سے اس نے وہ مخصوص حدیث نہ سنی ہو، یا استاد کا نام چھپانے کے لیے اس کی غیر معروف صفت ذکر کرے۔
  4. الجرح والتعدیل: یہ وہ فن ہے جس میں راویوں کے حافظے، سچائی اور کردار پر بحث کی جاتی ہے تاکہ “صحیح” اور “ضعیف” کا فرق معلوم ہو سکے۔

رموزِ حدیث کی مکمل فہرست (جو پرچے میں پوچھی گئی):
  • ت: جامع ترمذی
  • د: سنن ابی داؤد
  • ق: متفق علیہ (بخاری + مسلم)
  • ع: کتبِ ستہ (تمام چھ بڑی کتابیں)
  • خ: صحیح بخاری
  • م: صحیح مسلم

حل ورقة صحيح مسلم
العالمية السنة الثانية
(حل شدہ پرچہ: جامع ترمذی
(عالمیہ سال دوم – 2021)
سوال نمبر 1: حدیثِ قراءت خلف الامام
سوال (الف): حدیث پر اعراب لگائیں اور اردو ترجمہ کریں۔
الجواب: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةٍ جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ فَقَالَ: “هَلْ قَرَأَ مَعِي أَحَدٌ مِنْكُمْ آنِفًا؟” فَقَالَ رَجُلٌ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: “إِنِّي أَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ”. ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک ایسی نماز (جہری) سے فارغ ہوئے جس میں آپ نے بلند آواز سے قراءت کی تھی، تو آپ ﷺ نے پوچھا: “کیا ابھی تم میں سے کسی نے میرے ساتھ قراءت کی ہے؟” ایک شخص نے کہا: جی ہاں یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: “میں (دل میں) کہہ رہا تھا کہ یہ کیا بات ہے کہ مجھ سے قرآن چھینا جا رہا ہے (یعنی میری قراءت میں خلل پڑ رہا ہے)۔”
سوال (ب): قراءت خلف الامام میں احناف کا مذہب اور دلائل ذکر کریں۔
الجواب: احناف کا مذہب: امام کے پیچھے قراءت کرنا (چاہے نماز جہری ہو یا سری) مقتدی کے لیے جائز نہیں بلکہ “مکروہِ تحریمی” ہے۔ مقتدی کا وظیفہ صرف خاموش رہنا اور سننا ہے۔ دلائل:
  1. قرآنی دلیل: “وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنصِتُوا” (جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو اور خاموش رہو)۔
  2. حدیثِ نبوی: “مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ فَقِرَاءَةُ الإِمَامِ لَهُ قِرَاءَةٌ” (جس کا امام ہو، تو امام کی قراءت ہی اس کی قراءت ہے)۔

سوال نمبر 2: حدیثِ سجدہ سہو (مغیرہ بن شعبہؓ)
سوال (الف): حدیث پر اعراب لگائیں اور اردو ترجمہ کریں۔
الجواب: عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: صَلَّى بِنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فَنَهَضَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ، فَسَبَّحَ بِهِ الْقَوْمُ…
ترجمہ: شعبیؒ کہتے ہیں کہ حضرت مغیرہ بن شعبہؓ نے ہمیں نماز پڑھائی اور دو رکعتوں کے بعد (قعدہ کیے بغیر) کھڑے ہو گئے۔ لوگوں نے سبحان اللہ کہا (تاکہ وہ بیٹھ جائیں) مگر وہ کھڑے رہے، جب نماز پوری کر لی تو سلام پھیرا پھر بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کیے اور بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے ساتھ ایسا ہی کیا تھا۔
سوال (ب): چاروں ائمہ کے نزدیک سجدہ سہو سلام سے پہلے ہے یا بعد میں؟ الجواب:
  1. امام ابوحنیفہؒ: سجدہ سہو ہمیشہ سلام کے بعد ہے۔
  2. امام شافعیؒ: سجدہ سہو ہمیشہ سلام سے پلے ہے۔
  3. امام مالکؒ: اگر نماز میں کچھ زیادہ ہو جائے تو سلام کے بعد، اور اگر کچھ کمی ہو جائے تو سلام سے پہلے۔
  4. امام احمد بن حنبلؒ: انہوں نے ان صورتوں میں فرق کیا ہے جہاں حضور ﷺ سے سلام سے پہلے یا بعد ثابت ہے۔

سوال نمبر 3: الوضوء مما مست النار (آگ پر پکی چیز)
سوال (الف): حدیث کی تشکیل اور اردو ترجمہ کریں۔
الجواب: عَنْ جَابِرٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَأَنَا مَعَهُ فَدَخَلَ عَلَى امْرَأَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ… ترجمہ: حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلا، آپ ایک انصاری خاتون کے پاس تشریف لے گئے، انہوں نے بکری ذبح کی تو آپ نے اس سے کھایا، پھر ظہر کے لیے وضو کیا اور نماز پڑھی، پھر آپ ﷺ نے بکری کے گوشت کا بچا ہوا حصہ کھایا اور عصر کی نماز (بغیر دوبارہ وضو کیے) پڑھ لی۔
سوال (ب): آگ پر پکی ہوئی چیز سے وضو کا چاروں ائمہ کے نزدیک کیا حکم ہے؟
الجواب: چاروں ائمہ (احناف، شوافع، مالکیہ، حنابلہ) کا متفقہ فیصلہ ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
سوال (ج): “الوضوء مما مست النار” کے بارے میں فقہاء کے دو جوابات۔
الجواب: 1. یہ حکم (وضو کرنا) ابتدا میں تھا لیکن بعد میں منسوخ ہو گیا۔ 2. یہاں “وضو” سے مراد شرعی وضو نہیں بلکہ لغوی وضو (ہاتھ اور منہ دھونا) ہے تاکہ چکنائی صاف ہو جائے۔

سوال نمبر 4: بئرِ بضاعہ (کنویں کا پانی)
سوال (الف): اعراب کے ساتھ اردو ترجمہ کریں۔
الجواب: عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَنَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ؟
ترجمہ: حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! کیا ہم بئرِ بضاعہ سے وضو کر سکتے ہیں؟ حالانکہ وہ ایسا کنواں ہے جس میں (کبھی کبھی بارش کے پانی کے ساتھ) گندگی اور کتے کا گوشت وغیرہ آ گرتا ہے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: “پانی پاک ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی (جب تک اس کا رنگ، بو یا مزہ نہ بدل جائے)۔”
سوال (ب): ائمہ عظام کے مذاہب اور دلائل۔ الجواب:
  • امام شافعیؒ و احمدؒ: اگر پانی “دو مٹکے” (قلتین) کے برابر ہو تو وہ نجاست گرنے سے ناپاک نہیں ہوتا جب تک اوصاف نہ بدلیں۔
  • امام ابوحنیفہؒ: اگر پانی جاری ہو یا “دہ در دہ” (بڑا تالاب) ہو تو ناپاک نہیں ہوتا۔ بئرِ بضاعہ کے بارے میں احناف کا جواب یہ ہے کہ وہ کنواں جاری چشمے کی طرح تھا، اس لیے ناپاک نہیں ہوتا تھا۔

 

حل شدہ پرچہ: صحیح مسلم (عالمیہ سال دوم – 2021)

السؤال الاول: حدیث بیع المصراة (دھوکے کی بیع)
سوال (الف): سندِ حدیث اور متن پر مکمل اعراب (تشکیل) لگائیں۔
جواب: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ يَعْنِي الْعَقَدِيَّ قَالَ حَدَّثَنَا قُرَّةُ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: “مَنْ اشْتَرَى شَاةً مُصَرَّاةً فَهُوَ بِالْخِيَارِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَإِنْ رَدَّهَا رَدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ طَعَامٍ لَا سَمْرَاءَ”۔
سوال (ب): اس حدیث کا سلیس اور با محاورہ اردو ترجمہ کریں۔
جواب: حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: “جس شخص نے ایسا جانور (اونٹنی یا بکری) خریدا جس کا تھنوں میں دودھ روک دیا گیا ہو (تاکہ وہ زیادہ دودھ والی لگے)، تو اسے تین دن تک کا اختیار ہے۔ اگر وہ چاہے تو اسے رکھ لے اور اگر واپس کرنا چاہے تو واپس کر دے، لیکن واپسی کی صورت میں اسے جانور کے ساتھ ایک صاع غلہ (کھجور وغیرہ) دینا ہوگا، گندم نہیں دینی ہوگی۔”
سوال (ج): لفظ “تصرية” کی لغوی اور اصطلاحی تعریف کیا ہے؟
جواب: لغوی تعریف: یہ لفظ “صریٰ” سے نکلا ہے جس کے معنی “جمع کرنے اور روکنے” کے ہیں۔ اصطلاحی تعریف: بیع سے پہلے جانور کے تھنوں میں کئی دن تک دودھ جمع کر لینا تاکہ خریدار دھوکہ کھا جائے کہ یہ جانور بہت زیادہ دودھ دینے والا ہے، اسے “تصرية” کہتے ہیں۔
سوال (د): فقہاء کے اختلاف کی روشنی میں بیعِ مصراۃ کا حکم بتائیں اور کیا یہ بیع صحیح ہے؟
جواب: یہ بیع منعقد ہو جاتی ہے (یعنی بیع صحیح ہے) لیکن دھوکہ دہی کی وجہ سے یہ عمل حرام ہے۔ واپسی کے مسئلے میں اختلاف ہے: ائمہ ثلاثہ (شافعی، مالکی، حنبلی) حدیث کے مطابق واپسی اور ساتھ ایک صاع کھجور دینے کے قائل ہیں۔ لیکن احناف کے نزدیک یہ حدیث “قیاس” کے خلاف ہے کیونکہ دودھ کا بدلہ اسی کی ہم جنس سے ہونا چاہیے یا قیمت ہونی چاہیے، اس لیے احناف کے نزدیک خریدار دودھ کی قیمت (ضمان) دے گا نہ کہ غلہ۔

السؤال الثاني: حدیث الربوا (سود کے احکام)
سوال (الف): درج ذیل حدیث کا مکمل اردو ترجمہ کریں۔
جواب: حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “سونا سونے کے بدلے نہ بیچو مگر برابر برابر، اور ایک کو دوسرے پر زیادتی نہ دو (چاہے ایک سونا نیا ہو اور ایک پرانا)۔ اور چاندی کو چاندی کے بدلے نہ بیچو مگر برابر برابر۔ اور ان میں سے ادھار کو نقد کے بدلے نہ بیچو (یعنی سودا ہاتھوں ہاتھ ہونا چاہیے)۔”
سوال (ب): خط کشیدہ عبارت “ولا تشفوا بعضها على بعض” کی شرح اور کیفیت بیان کریں۔
جواب: “اشفاف” کا مطلب ہے ایک چیز کو دوسری پر وزن یا مقدار میں بڑھا دینا۔ اس کی کیفیت یہ ہے کہ اگر آپ 10 گرام عمدہ سونا دے کر 12 گرام کم معیار کا سونا لیتے ہیں تو یہ 2 گرام کی زیادتی “ربا الفضل” (سود) کہلائے گی۔ شریعت کا حکم ہے کہ جب جنس ایک ہو تو وزن بالکل برابر ہونا چاہیے، معیار کا فرق ختم کر دیا جائے گا۔
سوال (ج): فقہاء کے اختلاف کی روشنی میں “علتِ ربا” (سود کی وجہ) کیا ہے اور دلیل کیا ہے؟
جواب: احناف کے نزدیک علت “القدر مع الجنس” ہے، یعنی وہ چیز ناپ تول (وزنی) ہو اور جنس ایک ہو۔ ان کی دلیل حدیثِ عبادہ بن صامت ہے جس میں چھ چیزوں کا ذکر ہے۔ امام شافعیؒ کے نزدیک علت “ثمنیت” (کرنسی ہونا) اور کھانے پینے کی اشیاء میں “طعم” (خوراک ہونا) ہے۔ اس اختلاف کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ احناف کے نزدیک لوہے اور پیتل میں بھی سود ہو سکتا ہے کیونکہ وہ وزنی ہیں، جبکہ شوافع کے نزدیک نہیں۔

السؤال الثالث: حدیثِ سلیمان علیہ السلام اور استثناء
سوال (الف): حدیثِ مبارکہ پر اعراب لگائیں اور اردو ترجمہ کریں۔
جواب: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ لِسُلَيْمَانَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ سِتُّونَ امْرَأَةً فَقَالَ: لَأَطُوفَنَّ عَلَيْهِنَّ اللَّيْلَةَ…
ترجمہ: حضرت سلیمان علیہ السلام نے (جذبہِ جہاد میں) فرمایا کہ آج رات میں اپنی ساٹھ بیویوں کے پاس جاؤں گا، ہر ایک سے ایک شہسوار بیٹا پیدا ہوگا جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے گا۔ فرشتہ نے کہا “ان شاء اللہ” کہہ لیں، مگر وہ (بشری تقاضے سے) نہ کہہ سکے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ صرف ایک بیوی حاملہ ہوئی اور اس سے بھی ناقص (آدھا انسان) بچہ پیدا ہوا۔ حضور ﷺ نے فرمایا اگر وہ “ان شاء اللہ” کہہ لیتے تو سب مجاہد پیدا ہوتے۔
سوال (ب): اس حدیثِ مبارکہ سے مستنبط ہونے والے تین اہم مسائل لکھیں۔
جواب: (1) ہر کام کو اللہ کی مشیت (ان شاء اللہ) پر چھوڑنا کامیابی کی کنجی ہے۔ (2) اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نیک اولاد کی تمنا کرنا انبیاء کی سنت ہے۔ (3) انسان کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، اللہ کی مرضی کے بغیر اس کی تدبیر ادھوری رہ سکتی ہے۔
سوال (ج): قسم اور شرط میں “استثناء” (ان شاء اللہ کہنا) متصل یا منقطع ہو تو کیا حکم ہے؟
جواب: اگر “ان شاء اللہ” قسم کے ساتھ ہی (متصل) کہہ دیا جائے تو وہ قسم منعقد نہیں ہوتی اور اس کے ٹوٹنے پر کفارہ نہیں ہوتا۔ لیکن اگر کلام سے فارغ ہونے کے بعد (منقطع) کہا جائے، تو احناف کے نزدیک اس کا اعتبار نہیں ہوگا اور وہ قسم لازمی ہو جائے گی۔ امام احمدؒ کے نزدیک اسی مجلس میں کہنا بھی کافی ہے۔

السؤال الرابع: غزواتِ نبوی اور حضرت جابرؓ
سوال (د): لفظ “غزوہ” اور “سریہ” کی لغوی و اصطلاحی تعریف اور فرق بیان کریں۔
جواب: غزوہ: وہ جنگ جس میں نبی کریم ﷺ نے خود بنفسِ نفیس شرکت فرمائی ہو اور سپہ سالاری کی ہو۔ سریہ: وہ مہم یا لشکر جسے حضور ﷺ نے روانہ کیا ہو لیکن خود اس میں شریک نہ ہوئے ہوں بلکہ کسی صحابی کو امیر بنایا ہو۔ دونوں میں بنیادی فرق حضور ﷺ کی “ذاتی موجودگی” کا ہے۔

حل ورقة الجامع الترمذي – العالمية السنة الثانية (2021)

السؤال الأول: القراءة خلف الإمام
السؤال (أ): شكل الحديث ثم ترجمه إلى الأردية. الجواب: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةٍ جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ فَقَالَ: “هَلْ قَرَأَ مَعِي أَحَدٌ مِنْكُمْ آنِفًا؟” فَقَالَ رَجُلٌ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: “إِنِّي أَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ”.
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک ایسی نماز (جہری) سے فارغ ہوئے جس میں آپ نے بلند آواز سے قراءت کی تھی، تو آپ ﷺ نے پوچھا: “کیا ابھی تم میں سے کسی نے میرے ساتھ قراءت کی ہے؟” ایک شخص نے کہا: جی ہاں یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: “میں (دل میں) کہہ رہا تھا کہ یہ کیا بات ہے کہ مجھ سے قرآن چھینا جا رہا ہے (یعنی میری قراءت میں خلل پڑ رہا ہے)۔”
السؤال (ب): اذكر مذهب الأحناف فقط في القراءة خلف الإمام مع دلائلهم.
الجواب: مذهب الأحناف: مقتدی پر امام کے پیچھے قراءت کرنا جائز نہیں ہے، چاہے نماز سری ہو یا جہری۔ مقتدی کا فریضہ صرف خاموش رہنا اور سننا ہے۔ الدلائل:
  1. من القرآن: قوله تعالى: “وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا” (جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو اور خاموش رہو)۔
  2. من الحديث: قوله ﷺ: “مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ فَقِرَاءَةُ الإِمَامِ لَهُ قِرَاءَةٌ” (جس کا امام ہو، تو امام کی قراءت ہی اس کی قراءت ہے)۔

السؤال الثاني: سجدتا السهو
السؤال (أ): شكل الحديث ثم ترجمه إلى الأردية. الجواب: عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: صَلَّى بِنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فَنَهَضَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ، فَسَبَّحَ بِهِ الْقَوْمُ وَسَبَّحَ بِهِمْ…
ترجمہ: شعبیؒ کہتے ہیں کہ حضرت مغیرہ بن شعبہؓ نے ہمیں نماز پڑھائی اور دو رکعتوں کے بعد (قعدہ کیے بغیر) کھڑے ہو گئے۔ لوگوں نے سبحان اللہ کہا مگر وہ کھڑے رہے، جب نماز پوری کر لی تو سلام پھیرا پھر بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کیے اور بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے ساتھ ایسا ہی کیا تھا۔
السؤال (ب): بين أن سجدتي السهو قبل السلام أو بعده عند الأئمة الأربعة. الجواب:
  1. الإمام أبو حنيفة: سجدہ سہو سلام کے بعد ہے۔
  2. الإمام الشافعي: سجدہ سہو سلام سے پہلے ہے۔
  3. الإمام مالك: اگر زیادتی ہو تو سلام کے بعد، اور اگر کمی ہو تو سلام سے پہلے۔
  4. الإمام أحمد بن حنبل: وہ ان سورتوں میں فرق کرتے ہیں جہاں حضور ﷺ سے سلام سے پہلے یا بعد ثابت ہے۔

السؤال الثالث: الوضوء مما مست النار
السؤال (أ): شكل الحديث ثم ترجمه إلى الأردية. الجواب: عَنْ جَابِرٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَأَنَا مَعَهُ فَدَخَلَ عَلَى امْرَأَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَذَبَحَتْ لَهُ شَاةً فَأَكَلَ…
ترجمہ: حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلا، آپ ایک انصاری خاتون کے پاس تشریف لے گئے، انہوں نے بکری ذبح کی تو آپ نے اس سے کھایا، پھر ظہر کے لیے وضو کیا اور نماز پڑھی، پھر آپ ﷺ نے بکری کے گوشت کا بچا ہوا حصہ کھایا اور عصر کی نماز (بغیر دوبارہ وضو کیے) پڑھ لی۔
السؤال (ب): ما حكم الوضوء مما غيرت النار عند الأئمة الأربعة؟
الجواب: ائمہ اربعہ کا متفقہ فیصلہ ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
السؤال (ج): في الحديث الوضوء مما مست النار فما أجاب الفقهاء الكرام عنه؟
الجواب: 1. یہ حکم ابتدا میں تھا لیکن بعد میں منسوخ ہو گیا۔ 2. یہاں وضو سے مراد شرعی وضو نہیں بلکہ لغوی وضو (ہاتھ اور منہ دھونا) ہے۔

السؤال الرابع: بئر بضاعة وطهارة الماء
السؤال (أ): ترجم الحديث إلى الأردية بعد وضع الإعراب.
الجواب: عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَنَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: “إِنَّ الْمَاءَ طَهُورٌ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ”. ترجمہ: حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! کیا ہم بئرِ بضاعہ سے وضو کر سکتے ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: “پانی پاک ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی“۔
السؤال (ب): اذكر مذاهب الأئمة العظام في أن الماء طهور لا ينجسه شيء بدلائلهم. الجواب:
  • الشافعية والحنابلة: پانی اگر “قلتین” (دو بڑے مٹکے) ہو تو ناپاک نہیں ہوتا جب تک اوصاف نہ بدلیں۔
  • الأحناف: پانی جاری ہو یا “دہ در دہ” (بڑا تالاب) ہو تو ناپاک نہیں ہوتا۔ بئر بضاعہ کے بارے میں احناف کا جواب ہے کہ وہ کنواں جاری چشمے کے حکم میں تھا۔

حل شدہ پرچہ: سنن ابی داؤد و آثار السنن (عالمیہ – 2021)
سوال نمبر 1: امام ابوداؤد اور علامہ نیموی (اجب عن جزء واحد)
سوال (الف): امام سجستانی (ابوداؤد) کا تذکرہ اور ان کے رسالہ الی اہل مکہ کی وضاحت کریں۔
جواب: امام ابوداؤد سجستانیؒ (متوفی 275ھ) صحاح ستہ کے اہم امام ہیں، آپ نے اپنی سنن میں احکام کی احادیث جمع کیں۔ “رسالہ الی اہل مکہ” وہ خط ہے جو انہوں نے مکہ والوں کو لکھا جس میں اپنی کتاب کی خصوصیات بیان کیں کہ میں نے اس میں “صحیح”، “حسن” اور وہ ضعیف احادیث جن پر عمل کیا جا سکتا ہے، جمع کی ہیں۔

حصہ اول: سنن ابی داؤد

سوال نمبر 2: حدیثِ نکاح (الودود الولود)
سوال (الف): حدیث کا اردو ترجمہ کریں۔
جواب: حضرت معقل بن یسارؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا: مجھے ایک ایسی عورت ملی ہے جو خاندانی اور خوبصورت ہے مگر وہ بانجھ ہے (بچے پیدا نہیں کر سکتی)، کیا میں اس سے نکاح کر لوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: “نہیں۔” پھر وہ تیسری بار آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: “ایسی عورتوں سے نکاح کرو جو محبت کرنے والی اور زیادہ بچے جننے والی ہوں، کیونکہ میں تمہاری وجہ سے امتوں کے سامنے کثرت پر فخر کروں گا۔”
سوال (ب): حدیث کی اپنے اسلوب میں تفصیلی شرح کریں۔
جواب: نکاح کا ایک بڑا مقصد نسلِ انسانی کی بقا اور امتِ محمدیہ کی تعداد میں اضافہ ہے۔ نبی ﷺ نے “الودود” (محبت کرنے والی) اور “الولود” (زیادہ بچے جننے والی) کی صفت کو اس لیے پسند فرمایا تاکہ خاندان میں سکون رہے اور تعداد بڑھے۔ بانجھ عورت سے نکاح کی ممانعت “تحریمی” نہیں بلکہ “مشورہ” ہے تاکہ نکاح کے اصل مقاصد فوت نہ ہوں۔
سوال (ج): حدیث کے متن پر اعراب (تشکیل) لگائیں۔
جواب: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ إِنِّي أَصَبْتُ امْرَأَةً ذَاتَ حَسَبٍ وَجَمَالٍ وَإِنَّهَا لَا تَلِدُ أَفَأَتَزَوَّجُهَا قَالَ لَا. تَزَوَّجُوا الْوَدُودَ الْوَلُودَ فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الأُمَمَ۔
سوال (د): خط کشیدہ الفاظ (الودود، الولود) کی صرفی و لغوی تحقیق کریں۔
جواب: الودود: صیغہ مبالغہ، مادہ (و د د)، معنی “بہت زیادہ محبت کرنے والی”۔ الولود: صیغہ مبالغہ، مادہ (و ل د)، معنی “بہت زیادہ بچے جننے والی”۔

حصہ دوم: آثار السنن
سوال نمبر 4: خونِ حیض کی پاکیزگی کا طریقہ
سوال (الف): احادیث کا اردو ترجمہ کریں۔
جواب: حضرت اسماءؓ فرماتی ہیں کہ ایک عورت نے نبی ﷺ سے پوچھا: اگر ہم میں سے کسی کے کپڑے کو حیض کا خون لگ جائے تو کیا کرے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: “اسے کھرچ دے، پھر پانی سے رگڑے، پھر اس پر پانی بہا دے، پھر اس میں نماز پڑھ لے۔” دوسری روایت میں ہے: “اسے لکڑی سے کھرچو اور پانی و بیری کے پتوں سے دھو لو۔”
سوال (ب): حدیث کی اپنے اسلوب میں شرح کریں۔
جواب: یہ حدیث طہارت کے اہم مسائل بیان کرتی ہے۔ اگر کپڑے پر نجاستِ غلیظہ (جیسے حیض کا خون) لگ جائے، تو صرف پانی بہانا کافی نہیں بلکہ اگر خون جم گیا ہو تو اسے کھرچ کر (حَتّ) اور رگڑ کر (قَرص) اس کا اثر زائل کرنا ضروری ہے تاکہ طہارت مکمل ہو جائے۔
سوال (ج): متن پر اعراب (تشکیل) لگائیں۔
جواب: تَحُتُّهُ ثُمَّ تَقْرُصُهُ بِالْمَاءِ ثُمَّ تَنْضَحُهُ ثُمَّ تُصَلِّي فِيهِ. اغْسِلِيهِ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ.
سوال (د): خط کشیدہ الفاظ (تحتہ، تقرصہ) کی صرفی و لغوی تحقیق کریں۔
جواب: تحتہ: فعل مضارع، مادہ (ح ت ت)، معنی “کھرچنا”۔ تقرصہ: فعل مضارع، مادہ (ق ر ص)، معنی “انگلیوں کی پوروں سے رگڑنا”۔

سوال نمبر 5: بنی اسرائیل کی عورتیں اور فتنہ
سوال (الف): حدیث کا اردو ترجمہ کریں۔
جواب: حضرت ابن مسعودؓ فرماتے ہیں: “بنی اسرائیل میں مرد و عورت اکٹھے نماز پڑھتے تھے، پھر جب کسی عورت کا کوئی دوست (خلیل) ہوتا تو وہ لکڑی کے اونچے جوتے (قالبین) پہنتی تاکہ وہ اپنے دوست کو لمبی نظر آئے۔ پس اللہ نے ان پر حیض (کی کثرت) ڈال دی (اور انہیں مسجد سے روک دیا گیا)۔” ابن مسعودؓ فرماتے تھے: “عورتوں کو پیچھے کرو جہاں اللہ نے انہیں پیچھے کیا ہے۔”
سوال (ب): حدیث کی تفصیلی شرح کریں۔
جواب: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ عورتوں کا بناؤ سنگھار کر کے مردوں کے سامنے آنا فتنے کا سبب ہے۔ بنی اسرائیل کی عورتوں نے جب مردوں کو متوجہ کرنے کے لیے حیلے کیے، تو اللہ نے ان پر ایسی پابندیاں لگائیں کہ وہ مسجد سے روک دی گئیں۔ اس سے امام ابوحنیفہؒ اور ابن مسعودؓ کے اس موقف کی تائید ہوتی ہے کہ عورتوں کے لیے بہتر جگہ ان کے گھر کا اندرونی حصہ ہے۔

مکمل حل شدہ پرچہ: سنن نسائی و سنن ابن ماجہ (عالمیہ سال دوم)

القسم الأول: سنن النسائی
سوال نمبر 1: مسئلہ قلتین اور نجاستِ ماء سوال (الف): حدیث پر اعراب اور تفصیلی ترجمہ۔
جواب: عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنِ الْمَاءِ وَمَا يَنُوبُهُ مِنَ الدَّوَابِّ وَالسِّبَاعِ فَقَالَ: “إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يَحْمِلِ الْخَبَثَ”۔
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمرؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے اس پانی کے بارے میں دریافت کیا گیا جو کھلے میدان یا جنگل میں ہو اور درندے و جانور اس سے پانی پیتے ہوں (جس سے نجاست کا خطرہ ہو)۔ آپ ﷺ نے اصولی جواب دیا: “جب پانی کی مقدار دو بڑے مٹکوں (قلتین) کے برابر ہو جائے تو وہ نجاست کو قبول نہیں کرتا (یعنی محض نجاست گرنے سے ناپاک نہیں ہوتا)۔”
سوال (ب): امام ابوحنیفہؒ اور امام شافعیؒ کے اختلاف کی مکمل تفصیل۔
جواب: اس حدیث نے پانی کی طہارت کے حوالے سے فقہاء کے درمیان ایک بڑی بحث چھیڑی ہے:
  • امام شافعیؒ کا موقف: آپ فرماتے ہیں کہ “قلتین” نجاست کے اثر کو روکنے کی شرعی حد ہے۔ اگر پانی قلتین (تقریباً 191 سے 200 لیٹر) ہو، تو اس میں نجاست گرنے سے وہ تب تک ناپاک نہیں ہوگا جب تک اس کا رنگ، بو یا ذائقہ نہ بدل جائے۔ آپ کی دلیل یہی حدیثِ قلتین ہے۔
  • امام ابوحنیفہؒ کا موقف: احناف کے نزدیک یہ حدیث “مضطرب” ہے کیونکہ مختلف روایات میں قلتین کے بجائے “ثلاث قلال” (تین مٹکے) کے الفاظ بھی آئے ہیں۔ احناف فرماتے ہیں کہ قلیل پانی میں نجاست گرے تو وہ ناپاک ہو جاتا ہے چاہے اوصاف نہ بدلیں۔ پاک رہنے کے لیے پانی کا “کثیر” ہونا ضروری ہے، جس کی حد انہوں نے “دہ در دہ” (10×10 ہاتھ کا تالاب) مقرر کی ہے، جہاں ایک طرف کی حرکت سے دوسری طرف حرکت نہ پہنچے۔

سوال نمبر 2: شدِّ رحال (سفرِ زیارت) کا مسئلہ سوال (الف): حدیث کا اعراب اور ترجمہ۔
جواب: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ: “لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: مَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِي هَذَا، وَمَسْجِدِ الْأَقْصَى”۔ ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: “سفر کے لیے کجاوے نہ باندھے جائیں (یعنی عبادت کی نیت سے خاص سفر نہ کیا جائے) سوائے تین مسجدوں کے: مسجدِ حرام، میری یہ مسجد (نبوی) اور مسجدِ اقصیٰ۔”
سوال (ب): کیا ان تین مساجد کے علاوہ سفر کرنا حرام ہے؟ تفصیلی بحث۔ جواب: اس مسئلے میں علماء کے دو گروہ ہیں:
  1. پہلا موقف: بعض علماء (جیسے ابن تیمیہؒ) اس کا مفعلوم یہ لیتے ہیں کہ قبروں یا دیگر مساجد کی زیارت کے لیے سفر کرنا ناجائز ہے۔
  2. جمہور کا موقف (احناف و دیگر): جمہور کے نزدیک اس ممانعت کا تعلق صرف “مساجد” سے ہے۔ یعنی دنیا کی تمام مساجد ثواب میں برابر ہیں، اس لیے کسی دور کی مسجد میں جا کر نماز پڑھنے کا کوئی اضافی ثواب نہیں، سوائے ان تین مساجد کے جن کا ثواب ہزاروں گنا زیادہ ہے۔ جہاں تک اولیاء اللہ کے مزارات، حصولِ علم یا رشتہ داروں سے ملنے کا سفر ہے، وہ اس حدیث کی ممانعت میں نہیں آتا کیونکہ وہ سفر مسجد کی فضیلت کے لیے نہیں بلکہ برکت یا دنیوی و دینی ضرورت کے لیے ہے۔

القسم الثاني: سنن ابن ماجة
سوال نمبر 4: ایمان کے چار ارکان اور تقدیر سوال (ب): نفی اصلِ ایمان کی وضاحت۔
جواب: حدیث میں جب حضور ﷺ نے فرمایا کہ “وہ شخص مومن نہیں”، تو اس سے مراد نفی حقیقت ہے۔ اسلام میں کچھ اعمال ایسے ہیں جن کے چھوٹنے سے انسان گناہگار ہوتا ہے مگر کافر نہیں (اسے نفی کمال کہتے ہیں)۔ لیکن یہاں چار بنیادی عقائد (اللہ، رسالت، آخرت، تقدیر) کا ذکر ہے، جن میں سے کسی ایک کا انکار بھی انسان کو سرے سے دائرہ اسلام سے باہر کر دیتا ہے۔ اس لیے یہاں ایمان کی نفی سے مراد یہ ہے کہ وہ شخص سرے سے مومن ہی نہیں رہا۔
سوال (ج): عقیدہ تقدیر پر مختصر مقالہ۔
جواب: تقدیر کا مطلب یہ ہے کہ کائنات میں جو کچھ ہو رہا ہے یا ہوگا، وہ اللہ کے علم میں پہلے سے ہے اور اس کی مشیت سے وابستہ ہے۔ تقدیر کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انسان مجبورِ محض ہے، بلکہ اللہ نے انسان کو “ارادہ و اختیار” دیا ہے جس پر جزا و سزا ہوگی۔ اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ خیر و شر اللہ کی طرف سے مقدر ہے، مگر شر پر اللہ راضی نہیں ہوتا۔

سوال نمبر 5: رؤیتِ ہلال اور اکیلے گواہی کا مسئلہ سوال (ب): اکیلے چاند دیکھنے والے پر قضا و کفارہ کی تفصیل۔
جواب: اگر کسی شخص نے اکیلے رمضان کا چاند دیکھا لیکن قاضی نے گواہی رد کر دی، تو اس شخص پر اپنا روزہ رکھنا واجب ہے۔ اگر اس نے روزہ توڑ دیا تو:
  • احناف کے نزدیک: اس پر صرف قضا لازم ہے، کفارہ نہیں۔ کیونکہ کفارہ کے لیے “ہتکِ صیام” کا قطعی ہونا ضروری ہے، اور یہاں بادلوں یا دیگر وجوہات کی بنا پر رؤیت میں شرعی شبہ پیدا ہو گیا تھا۔ شبہ کی وجہ سے حدود اور کفارات ساقط ہو جاتے ہیں۔

سوال نمبر 6: شفاعتِ حافظِ قرآن اور ردِّ فرقہ باطلہ سوال (ج): کس فرقے کی تردید ہے اور ان کے عقائد؟
جواب: اس حدیث میں معتزلہ اور خوارج کی شدید تردید ہے۔
  • ان کا عقیدہ: ان کا کہنا ہے کہ “مرتکبِ کبیرہ” (بڑا گناہ کرنے والا) ہمیشہ جہنم میں رہے گا اور اللہ اسے کبھی معاف نہیں کرے گا، نہ ہی اس کے حق میں شفاعت قبول ہوگی۔
  • حدیث سے رد: یہ حدیث فرماتی ہے کہ حافظِ قرآن ایسے دس لوگوں کی شفاعت کرے گا جن پر “جہنم واجب ہو چکی ہوگی”۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ گناہگار مسلمان بھی شفاعت کے ذریعے جہنم سے نکالے جائیں گے، جو معتزلہ کے عقیدے کے خلاف ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *