Tanzeem ul Madaris Solved Past Paper 2021 | PDF (طلباء کے لیے) عامہ سال دوم

Paper: تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان 
الشہادۃ الثانویۃ العامۃ (میٹرک سال دوم) 
2021 مضمون: قرآن مجید و فقہ

قسم اول: قرآن مجید

سوال نمبر 1: کوئی سے دو اجزا کا حل مطلوب ہے۔
(الف) قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ مَنْ آمَنَ تَبْغُونَهَا عِوَجًا وَأَنْتُمْ شُهَدَاءُ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تُطِيعُوا فَرِيقًا مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ يَرُدُّوكُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ كَافِرِينَ۔
ترجمہ: تم فرماؤ اے کتابیو! اللہ کی راہ سے اسے کیوں روکتے ہو جو ایمان لایا، اس میں کجی (ٹیڑھ) چاہتے ہوئے حالانکہ تم خود گواہ ہو، اور اللہ تمہارے کوتکوں (اعمال) سے بے خبر نہیں۔ اے ایمان والو! اگر تم کتابیوں کے کسی گروہ کے کہے پر چلے تو وہ تمہارے ایمان کے بعد تمہیں کافر کر دیں گے۔
(ب) فَإِذَا أُحْصِنَّ فَإِنْ أَتَيْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنَاتِ مِنَ الْعَذَابِ ذَلِكَ لِمَنْ خَشِيَ الْعَنَتَ مِنْكُمْ وَأَنْ تَصْبِرُوا خَيْرٌ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ۔
ترجمہ: پھر جب وہ قید (نکاح) میں آ جائیں اور برائی کا کام کریں تو ان پر اس سزا کی آدھی ہے جو آزاد عورتوں پر ہے، یہ اس کے لیے ہے جسے تم میں سے زنا کا اندیشہ ہو، اور صبر کرنا تمہارے لیے بہتر ہے، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
(ج) يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ أُحِلَّتْ لَكُمْ بَهِيمَةُ الْأَنْعَامِ إِلَّا مَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ غَيْرَ مُحِلِّي الصَّيْدِ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ إِنَّ اللَّهَ يَحْكُمُ مَا يُرِيدُ۔
ترجمہ: اے ایمان والو! اپنے عہد پورے کرو، تمہارے لیے حلال کیے گئے مویشی چوپائے مگر وہ جو تمہیں پڑھ کر سنائے جائیں گے لیکن شکار کو حلال نہ سمجھو جب تم احرام میں ہو، بیشک اللہ جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے۔

سوال نمبر 2: کوئی سی پانچ آیات کا ترجمہ کریں۔
(الف) وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً فَإِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ نَفْسًا فَكُلُوهُ هَنِيئًا مَرِيئًا
ترجمہ: اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دو، پھر اگر وہ اپنے دل کی خوشی سے مہر کا کچھ حصہ تمہیں چھوڑ دیں تو اسے کھاؤ رچتا پچتا (خوش گوار)۔
(ب) وَإِنْ أَرَدْتُمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَكَانَ زَوْجٍ وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا أَتَأْخُذُونَهُ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا
ترجمہ: اور اگر تم ایک بی بی کے بدلے دوسری بدلنا چاہو اور اسے ڈھیروں مال دے چکے ہو تو اس میں سے کچھ واپس نہ لو، کیا اسے بہتان اور کھلے گناہ کے ذریعے واپس لو گے؟
(ج) يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا خُذُوا حِذْرَكُمْ فَانْفِرُوا ثُبَاتٍ أَوِ انْفِرُوا جَمِيعًا
ترجمہ: اے ایمان والو! اپنی ہوشیاری سنبھالو (ہتھیار لے لو) پھر الگ الگ دستے ہو کر نکلو یا سب اکٹھے کوچ کرو۔
(د) وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ أَنْ صَدُّوكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ أَنْ تَعْتَدُوا
ترجمہ: اور تمہیں کسی قوم کی دشمنی کہ انہوں نے تم کو مسجد حرام سے روکا تھا، اس پر نہ ابھارے کہ تم زیادتی کرو۔
(ہ) فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِيثَاقَهُمْ لَعَنَّاهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوبَهُمْ قَاسِيَةً يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَوَاضِعِهِ
ترجمہ: تو ان کی بدعہدی کے سبب ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دل سخت کر دیے، وہ کلام (اللہ) کو اس کے مقامات سے بدل دیتے ہیں۔

قسم ثانی: فقہ

سوال نمبر 3: کوئی سے دو اجزا کا حل کریں۔
(الف) جس ماء قلیل سے جانور نے پیا ہو اس کی کتنی اور کون کون سی قسمیں ہیں مع امثلہ لکھیں۔
جواب: جس ماء قلیل (تھوڑے پانی) سے جانور منہ ڈال کر پی لے، اس کے جھوٹے ہونے کے اعتبار سے چار قسمیں ہیں:
  1. پاک و پاک کرنے والا: انسان (مسلم و کافر)، گھوڑا اور حلال جانور (گائے، بکری وغیرہ) کا جھوٹا۔
  2. ناپاک: کتا، خنزیر اور درندے (شیر، بھیڑیا وغیرہ) کا جھوٹا۔
  3. مکروہ: بلی، گھر میں رہنے والے سانپ، چوہے اور شکاری پرندوں کا جھوٹا۔
  4. مشکوک: گدھے اور خچر کا جھوٹا۔
(ب) وضو کی کوئی سی آٹھ سنتیں تحریر کریں۔
جواب: وضو کی آٹھ سنتیں درج ذیل ہیں:
  1. نیت کرنا۔ 2. بسم اللہ پڑھنا۔ 3. دونوں ہاتھوں کو تین بار پہنچوں تک دھونا۔ 4. مسواک کرنا۔ 5. تین بار کلی کرنا۔ 6. تین بار ناک میں پانی ڈالنا۔ 7. داڑھی کا خلال کرنا۔ 8. انگلیوں کا خلال کرنا۔
(ج) الوضوء علی ثلاثۃ اقسام کی مثالوں سے وضاحت کریں۔
جواب: وضو کی شرعی حیثیت کے لحاظ سے تین اقسام ہیں:
  1. فرض: نماز (خواہ نفل ہو)، نمازِ جنازہ اور سجدہ تلاوت کے لیے وضو فرض ہے۔
  2. واجب: کعبہ معظمہ کے طواف کے لیے وضو کرنا واجب ہے۔
  3. مستحب: سونے سے پہلے، سو کر اٹھنے کے بعد، غصہ کے وقت، یا دینی کتابیں پڑھنے کے لیے وضو کرنا مستحب ہے۔

سوال نمبر 4: کوئی سے پانچ اجزا کا حل مطلوب ہے۔
(الف) تیمم کی آٹھ شرائط میں سے پانچ لکھیں۔
جواب: 1. نیت کرنا۔ 2. عذر کا ہونا (پانی پر قدرت نہ ہونا یا بیماری)۔ 3. پاک مٹی یا زمین کی جنس سے ہونا۔ 4. تمام عضو (چہرے اور ہاتھوں) پر مسح کا استیعاب کرنا۔ 5. وہ چیز جو مسح سے مانع ہو (جیسے چربی وغیرہ) اس کا نہ ہونا۔
(ب) مسح علی الخفین میں مقیم اور مسافر کے لیے کتنی مدت ہے؟
جواب: مقیم کے لیے مسح کی مدت ایک دن اور ایک رات (24 گھنٹے) ہے، اور مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں (72 گھنٹے) ہے۔
(ج) حیض، نفاس اور استحاضہ کی تعریف لکھیں۔
جواب: حیض: وہ خون جو بالغہ عورت کے رحم سے بیماری یا ولادت کے بغیر مخصوص ایام میں آئے۔ نفاس: وہ خون جو ولادت (بچے کی پیدائش) کے بعد آئے۔ استحاضہ: وہ خون جو بیماری کی وجہ سے آئے اور حیض و نفاس کی مدت سے کم یا زیادہ ہو۔
(د) نجاست کی اقسام کے نام اور ہر ایک کی دو دو مثالیں لکھیں۔
جواب: نجاست کی دو اقسام ہیں:
  1. نجاستِ غلیظہ: جیسے انسان کا پیشاب، پاخانہ، بہتا ہوا خون۔
  2. نجاستِ خفیفہ: جیسے حلال جانوروں (گائے، بھینس) کا پیشاب یا حرام پرندوں کی بیٹ۔
(ھ) واجباتِ نماز میں سے دس بیان کریں۔
جواب: 1. الحمد شریف پڑھنا۔ 2. سورت ملانا۔ 3. فرضوں کی پہلی دو رکعتوں میں قرآت کرنا۔ 4. ترتیب قائم رکھنا۔ 5. قومہ (رکوع سے سیدھا کھڑا ہونا)۔ 6. جلسہ (دو سجدوں کے درمیان بیٹھنا)۔ 7. تعدیلِ ارکان۔ 8. قعدہ اولیٰ۔ 9. قعدہ اولیٰ و اخیرہ میں التحیات پڑھنا۔ 10. لفظ “السلام” سے نماز ختم کرنا۔

Paper: تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان 

الشہادۃ الثانویۃ العامۃ (میٹرک سال دوم) 

2021 تیسرا پرچہ: نحو (ہدایۃ النحو و شرح مائۃ عامل)


حصہ اول: ہدایۃ النحو

سوال نمبر 1: کوئی سے چھ اجزا حل کریں۔
(1) علم نحو کی تعریف، غرض اور موضوع ہدایۃ النحو کی روشنی میں لکھیں۔
جواب: تعریف: علم نحو ایسے اصولوں کا علم ہے جس کے ذریعے اسم، فعل اور حرف کے (باہمی ترکیب کے وقت) آخری حرف کے حالات اور انہیں آپس میں ملانے کا طریقہ معلوم ہو۔ غرض: اس کا مقصد عربی کلام میں لفظی غلطی سے ذہن کو بچانا ہے۔ موضوع: اس کا موضوع “کلمہ” اور “کلام” ہے۔
(2) سہ اقسام کو وجہ حصر کی صورت میں بیان کریں۔
جواب: کلمہ کی تین اقسام (اسم، فعل، حرف) کی وجہ حصر یہ ہے کہ کلمہ یا تو اپنے معنی پر بذاتِ خود دلالت کرے گا یا نہیں۔ اگر نہ کرے تو وہ حرف ہے۔ اگر کرے تو اس میں تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ پایا جائے گا یا نہیں۔ اگر پایا جائے تو وہ فعل ہے، اور اگر نہ پایا جائے تو وہ اسم ہے۔
(3) اسم اور فعل کی وجہ تسمیہ بیان کریں۔
جواب: اسم: یہ “سمو” سے مشتق ہے جس کا معنی بلندی ہے۔ چونکہ اسم اپنے دونوں ساتھیوں (فعل اور حرف) پر بلندی رکھتا ہے کیونکہ یہ مسند اور مسند الیہ دونوں بن سکتا ہے۔ فعل: اس کا لغوی معنی کام ہے۔ چونکہ یہ معنیٰ مصدری (کام) پر دلالت کرتا ہے اس لیے اسے فعل کہتے ہیں۔
(4) فصل فی اصناف اعراب الاسم وهى تسعة اصناف (نو میں سے پانچ لکھیں)
جواب: اسم کے نو اصنافِ اعراب میں سے پانچ درج ذیل ہیں:
  1. رفع ضمہ سے، نصب فتحہ سے، جر کسرہ سے (جیسے مفرد منصرف صحیح)۔
  2. رفع ضمہ سے، نصب و جر کسرہ سے (جیسے جمع مؤنث سالم)۔
  3. رفع ضمہ سے، نصب و جر فتحہ سے (جیسے غیر منصرف)۔
  4. رفع واو سے، نصب الف سے، جر یاء سے (جیسے اسمائے ستہ مکبرہ)۔
  5. رفع الف سے، نصب و جر یاء ماقبل مفتوح سے (جیسے تثنیہ)۔
(5) غیر منصرف کے اسباب تسعہ کے نام لکھیں۔
جواب: غیر منصرف کے نو اسباب یہ ہیں:
  1. عدل، 2. وصف، 3. تانیث، 4. معرفہ (علم)، 5. عجمہ، 6. جمع (منتہی الجموع)، 7. ترکیب، 8. وزنِ فعل، 9. الف نون زائدتان۔
(6) تنازع فعلین کی چاروں صورتیں مع امثلہ لکھیں۔
جواب: تنازع فعلین کی چار صورتیں یہ ہیں:
  1. دونوں فعل فاعل کا تقاضا کریں: جیسے “ضربنی واکرمنی زیدٌ”۔
  2. دونوں فعل مفعول کا تقاضا کریں: جیسے “ضربتُ واکرمتُ زیداً”۔
  3. پہلا فاعل کا اور دوسرا مفعول کا تقاضا کرے: جیسے “ضربنی واکرمتُ زیداً”۔
  4. پہلا مفعول کا اور دوسرا فاعل کا تقاضا کرے: جیسے “ضربتُ واکرمنی زیدٌ”۔
(7) منصوبات کتنے اور کون کون سے ہیں؟
جواب: منصوبات کل 12 ہیں:
  1. مفعول مطلق، 2. مفعول بہ، 3. مفعول فیہ، 4. مفعول لہ، 5. مفعول معہ، 6. حال، 7. تمیز، 8. مستثنیٰ، 9. خبرِ کان (اور اس کے اخوات)، 10. اسمِ انّ (اور اس کے اخوات)، 11. خبرِ ما ولا مشابہ بلیس، 12. لا نفی جنس کا اسم۔

حصہ دوم: شرح مائۃ عامل

سوال نمبر 2: کوئی سے چار اجزا حل کریں۔
(1) حرف جر “ب” کے کوئی سے دو معنی مع مثال لکھیں۔ جواب:
  1. الصاق (ملنا): جیسے “بِہٖ داءٌ” (اس کے ساتھ بیماری لگی ہوئی ہے)۔
  2. استعانت (مدد لینا): جیسے “کتبتُ بالقلمِ” (میں نے قلم کی مدد سے لکھا)۔
(2) “واللہ لاشربن اللبن” کی ترکیب نحوی کریں۔ جواب:
  • و: حرفِ قسم۔
  • اللہ: مقسم بہ (مجرور)۔ جار مجرور مل کر “اقسمُ” فعل محذوف کے متعلق ہو کر جملہ قسمیہ ہوا۔
  • لا: لائے تاکید (لامِ جوابِ قسم)۔
  • اشربنّ: فعل مضارع معروف، نون تاکید ثقیلہ، اس میں “انا” ضمیر فاعل۔
  • اللبن: مفعول بہ۔
  • فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر جوابِ قسم ہوا۔
(3) “النوع الثانی الحروف المشبهة بالفعل” کی ترکیب کریں۔ جواب:
  • النوع: موصوف۔
  • الثانی: صفت۔ موصوف صفت مل کر مبتدا۔
  • الحروف: موصوف۔
  • المشبهة: صیغہ صفت (اسم فاعل)، اس میں “ہی” ضمیر فاعل۔
  • بالفعل: جار مجرور متعلق “المشبهة” کے۔
  • صیغہ صفت اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر صفت ہوئی۔ “الحروف” موصوف اپنی صفت سے مل کر خبر ہوئی۔ مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ ہوا۔
(4) “لکن وهى للاستدراك” استدراک کا معنی آسان الفاظ میں بیان کریں اور مثال دیں۔ جواب: استدراک کا معنی ہے “پہلے کلام سے پیدا ہونے والے وہم کو دور کرنا”۔ مثال: “ما جاءنی زیدٌ لکن عمراً حاضرٌ” (زید میرے پاس نہیں آیا لیکن عمر حاضر ہے)۔ یہاں “لکن” نے یہ وہم دور کیا کہ شاید عمر بھی نہیں آیا ہوگا۔
(5) “النوع السادس حروف تجزم الفعل المضارع” کی ترکیب کریں۔ جواب:
  • النوع: موصوف۔
  • السادس: صفت۔ موصوف صفت مل کر مبتدا۔
  • حروفٌ: موصوف۔
  • تجزم: فعل مضارع، اس میں “ہی” ضمیر فاعل۔
  • الفعل: موصوف۔ المضارع: صفت۔ موصوف صفت مل کر “تجزم” کا مفعول بہ۔
  • فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر “حروف” کی صفت۔ موصوف صفت مل کر خبر۔

Paper: تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان 

الشہادۃ الثانویۃ العامۃ (میٹرک سال دوم)

2021 چوتھا پرچہ: عربی ادب و منطق


حصہ اول: عربی ادب

سوال نمبر 1: (الف) درج ذیل میں سے تین اجزا کا اردو میں ترجمہ کریں۔
(۱) مبناها جميل رائع جدا وله اجنحة كثيرة وكل جناح يضم غرفا كثيرة
ترجمہ: اس کی عمارت بہت خوبصورت اور شاندار ہے اور اس کے بہت سے حصے (ونگز) ہیں اور ہر حصہ بہت سے کمروں پر مشتمل ہے۔
(۲) ان الكثير من الاراضي الاسلامية غنية بالبترول والمعادن الاساسية
ترجمہ: بیشک بہت سی اسلامی زمینیں پٹرول اور بنیادی معدنیات سے مالا مال ہیں۔
(۳) نملك اراضى زراعية كثيرة الخيرات، تنتج القمح والارز والخضر
ترجمہ: ہم بہت سی بھلائیوں والی زرعی زمینوں کے مالک ہیں، جو گندم، چاول اور سبزیاں پیدا کرتی ہیں۔
(۴) ولا بدلی ان اوصيك بما يوصى به الاباء الكرام اولادهم البررة: تقوى الله
ترجمہ: اور میرے لیے ضروری ہے کہ میں تمہیں وہ وصیت کروں جو معزز باپ اپنی نیک اولاد کو کرتے ہیں، (اور وہ ہے) اللہ کا تقویٰ۔
(ب) درج ذیل میں سے دو الفاظ مفید جملوں میں استعمال کریں اور ان کا ترجمہ لکھیں۔
  • العطلة: تَبْدَأُ الْعُطْلَةُ الصَّيْفِيَّةُ غَدًا (گرمیوں کی چھٹیاں کل سے شروع ہو رہی ہیں)۔
  • رَائِحَةُ: رَائِحَةُ الْوَرْدِ طَيِّبَةٌ (گلاب کی خوشبو عمدہ ہے)۔

سوال نمبر 2: درج ذیل میں سے صرف پانچ جملوں کی عربی بنائیں۔
۱۔ سعید ایک دیہاتی لڑکا ہے۔ عربی: سَعِيْدٌ وَلَدٌ قَرَوِيٌّ۔
۲۔ مجھے آپ کا خط ملا۔ عربی: تَسَلَّمْتُ رِسَالَتَكَ۔
۳۔ ہم اپنے ہاتھ سے روزی کماتے ہیں۔ عربی: نَكْسِبُ الرِّزْقَ بِأَيْدِيْنَا۔
۴۔ میں نے خوشی والی خبریں سنیں۔ عربی: سَمِعْتُ أَخْبَارًا سَارَّةً۔
۵۔ اپنی آخرت کے لیے کام کرو۔ عربی: اِعْمَلْ لِآخِرَتِكَ۔

سوال نمبر 3: (الف) درج ذیل میں سے صرف تین کے جوابات عربی میں لکھیں۔
(۱) ماذا تسمى شركة باكستان الجوية؟
جواب: تُسَمَّى شَرِكَةُ بَاكِسْتَانَ الْجَوِيَّةُ “بِي آي اے” (PIA)۔
(۲) من الذي قاد حركة باكستان؟
جواب: قَادَ حَرَكَةَ بَاكِسْتَانَ الْقَائِدُ الْأَعْظَمُ مُحَمَّد عَلِي جِنَاح۔
(۳) كيف سقى الرجل الكلب من ماء البئر؟
جواب: نَزَلَ الرَّجُلُ فِي الْبِئْرِ وَمَلَأَ خُفَّهُ بِالْمَاءِ ثُمَّ سَقَى الْكَلْبَ۔

حصہ دوم: منطق

سوال نمبر 4: (الف) علم منطق کی تعریف، موضوع، غایت لکھیں۔
جواب:
  • تعریف: منطق وہ آلہ ہے جس کے قوانین کا لحاظ رکھنا ذہن کو سوچ و بچار میں غلطی سے بچاتا ہے۔
  • موضوع: معلوماتِ تصوریہ (تاکہ مجہول تصوری تک پہنچا جائے) اور معلوماتِ تصدیقیہ (تاکہ مجہول تصدیقی تک پہنچا جائے)۔
  • غایت (مقصد): غور و فکر میں ذہن کو غلطی سے بچانا۔
(ب) متواطی اور منقول اصطلاحی کی تعریف و مثال تحریر کریں۔
جواب:
  • متواطی: وہ کلی جس کے افراد پر اس کے معنی کی صدق برابر ہو، یعنی کمی بیشی نہ ہو (جیسے ‘انسان’ کا اطلاق تمام افراد پر برابر ہے)۔
  • منقول اصطلاحی: وہ لفظ جو لغوی معنی سے ہٹ کر کسی خاص قوم کی اصطلاح میں مقرر ہو جائے (جیسے ‘صلاۃ’ کا معنی لغت میں دعا ہے مگر فقہاء کی اصطلاح میں ‘نماز’ ہے)۔

سوال نمبر 5: کلیاتِ خمسہ کی تعریفات و امثلہ تحریر کریں۔
جواب: کلیاتِ خمسہ (پانچ کلیاں) درج ذیل ہیں:
  1. جنس: وہ کلی جو حقیقت میں مختلف ہونے والے بہت سے افراد پر بولی جائے (جیسے ‘حیوان’ انسان اور گھوڑے دونوں پر بولا جاتا ہے)۔
  2. نوع: وہ کلی جو ایسی حقیقتوں پر بولی جائے جو آپس میں متفق ہوں (جیسے ‘انسان’ جو زید، بکر وغیرہ پر بولا جاتا ہے)۔
  3. فصل: وہ کلی جو کسی چیز کی ماہیت کے ایسے حصے پر دلالت کرے جو اسے دوسری چیزوں سے ممتاز کر دے (جیسے ‘ناطق’ جو انسان کو دیگر حیوانات سے الگ کرتا ہے
  4. خاصہ: وہ کلی جو صرف ایک ہی حقیقت کے افراد میں پائی جائے (جیسے ‘ہنسنا’ جو صرف انسان کے ساتھ خاص ہے)۔
  5. عرضِ عام: وہ کلی جو ایک سے زیادہ حقیقتوں میں پائی جائے (جیسے ‘چلنا’ جو انسان اور دیگر جانوروں میں پایا جاتا ہے)۔

 

Paper: تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان

الشہادۃ الثانویۃ العامۃ (میٹرک سال دوم) 

2021 پانچواں پرچہ: حساب (Math)


حل شدہ پرچہ

سوال نمبر 1: (i) درج ذیل فی صد کو اعشاریہ میں تبدیل کیجئے (تین درجہ اعشاریہ تک):
  1. 120%:
  2. 12%:
  3. 8%:
  4. 92%:
  5. 457%:
(ii) خالی جگہ پر کریں:
  1. لفظ پرسنٹ (Percent) لاطینی لفظ Per Centum کی مختصر شکل ہے۔
  2. نسبت کیلئے علامت (:) ہے۔
  3. دو یا دو سے زیادہ تناسبوں کے درمیان تعلق کو تناسبِ مرکب کہتے ہیں۔
  4. a:b کی نسبت میں ‘a’ کو طرفین (یا پہلی رقم) کہتے ہیں۔

سوال نمبر 2: (i) 453% کو بطور کسر آسان شکل میں واضح کریں:
حل: (یہ مزید تقسیم نہیں ہو سکتا، لہٰذا یہی آسان ترین کسر ہے)۔
(ii) اگر کالونی کے 56 گھروں میں سے ہر گھر میں کار ہو تو کتنے فیصد گھروں میں کار نہیں ہوگی؟
حل: چونکہ سوال کے مطابق تمام (56) گھروں میں کار موجود ہے، اس لیے 0 گھر ایسے ہیں جن میں کار نہیں۔ فیصد = گھروں میں کار نہیں ہوگی۔

سوال نمبر 3: (i) دی گئی کسروں کو فی صد میں تبدیل کیجئے:
  1. 3/4:
  2. 4/5:
  3. 1/20:
(ii) اسلم کے نمبروں کی کارکردگی کا موازنہ:
  • انگلش:
  • اردو:
  • مطالعہ پاکستان: جواب: اسلم کی کارکردگی مطالعہ پاکستان میں سب سے بہتر رہی۔

سوال نمبر 4: (i) اگر 2:3=a:b ہو تو 6a:2b معلوم کریں:
حل: فرض کریں اور ۔ نسبت آسان شکل: 2 : 1
(ii) میز پر منافع فی صد میں بتائیے: لاگت = 720 روپے، قیمتِ فروخت = 920 روپے منافع = روپے منافع فیصد =

سوال نمبر 5: (i) اتوار اور ہر روز کے خرچ میں نسبت: اتوار کا خرچ = 20 روپے، روزانہ کا خرچ = 70 روپے نسبت = آسان شکل = 2 : 7
(ii) 20 قلم 2000 کے ہوں تو 40 قلم کی قیمت کیا ہوگی؟ 1 قلم کی قیمت = روپے 40 قلم کی قیمت = روپے

سوال نمبر 6: (i) 3000 کلو گرام چاول پر عشر (مصنوعی ذرائع): مصنوعی ذرائع (ٹیوب ویل وغیرہ) سے عشر کی شرح 5% (نصف عشر) ہوتی ہے۔
کل چاول = 3000 کلو گرام۔ عشر کا وزن = کلو گرام۔ 40 کلو کی قیمت = 2000، تو 1 کلو کی قیمت = روپے عشر کی رقم = روپے
(ii) کمپیوٹر کی اصل قیمت (16% سیلز ٹیکس شامل ہے): فرض کریں اصل قیمت ہے۔ => اصل قیمت = 30,000 روپے

پیپر: تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان 

الشہادۃ الثانویۃ العامۃ (میٹرک سال دوم) 

2021 چھٹا پرچہ: انگریزی (English)


Q. 1: Translate any one of the following into Urdu:
(i) The Arabs possessed a remarkable memory and were an eloquent people. Their eloquence and memory found expression in their poetry. Every year, a fair was held for poetical competitions at Ukaz.
اردو ترجمہ: عرب کے لوگ غیر معمولی حافظے کے مالک اور خوش گفتار (فصیح و بلیغ) لوگ تھے۔ ان کی فصاحت اور حافظے کا اظہار ان کی شاعری میں ملتا ہے۔ ہر سال عکاظ کے مقام پر شاعری کے مقابلوں کا ایک میلہ منعقد کیا جاتا تھا۔

Q. 2: Write an essay on any one of the following.
(1) “My Madrasa”
My Madrasa The name of my Madrasa is [Insert Name]. It is a very famous educational institution. It has a big building and many classrooms. All the teachers are very kind and hardworking. We learn the Holy Quran, Hadith, and other subjects there. The environment of my Madrasa is very peaceful. I love my Madrasa very much.

Q. 3: Write a Summary of the poem “Daffodils” Summary:
This poem is written by William Wordsworth. Once the poet was walking along the lake. Suddenly, he saw a large number of golden daffodils. They were growing beside the lake under the trees. They were dancing in the breeze. The poet was very happy to see this beautiful scene. Later, whenever the poet lies on his couch in a sad mood, the memory of those daffodils fills his heart with pleasure.

Q. 4: Answer any three of the following questions.
i. What type of land Arabia is?
Answer: Arabia is a land of unparalleled charm and beauty, with its trackless deserts of sand dunes.
ii. Why was the Holy Quran sent in Arabic?
Answer: The Holy Quran was sent in Arabic because it is a language of great eloquence, depth, and expression.
iii. Why did the Holy Prophet (ﷺ) stay in the cave of Hira?
Answer: The Holy Prophet (ﷺ) stayed in the cave of Hira for meditation and in remembrance of Allah.

Q. 5: Translate any six of the following sentences into English.
(۱) اس نے خط نہیں لکھا۔
English: He did not write a letter.
(۲) میں آج بہت خوش ہوں۔
English: I am very happy today.
(۳) ماں کھانا بناتی ہے۔
English: Mother cooks food.
(۴) کیا تم غریبوں کی مدد کرتے ہو؟
English: Do you help the poor?
(۵) ہم سبق پڑھتے ہیں۔
English: We read the lesson.
(۶) وہ میرا دشمن ہے۔
English: He is my enemy.

Q. 6: Choose a correct adjective and fill in the blanks.
i. Ashfaq Ahmed was a (b) famous writer. ii. There is a very (c) informative seminar. iii. My mother becomes (b) anxious if I get home late. iv. It is (a) advisable to get the correct information. v. Who is (c) responsible for this chaos?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *