Tanzeem ul Madaris Solved Past Paper 2021 | PDF (طلباء کے لیے) عامہ سال اول
(طلباء کے لیے) متوسط
(کلاس: الشہادۃ الثانویہ العامه (میٹرک سال اول
پہلا پرچہ: قرآن مجید و تجوید
وقت: تین گھنٹے تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان کل نمبر: 100 نوٹ: تمام سوالات حل کریں۔
حصہ اول: قرآن مجید
سوال نمبر 1: درج ذیل میں سے کوئی سے چھ (6) اجزاء کا ترجمہ کریں۔
-
آیت: “يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ”
ترجمہ: اے یعقوب کی اولاد! یاد کرو میرا وہ احسان جو میں نے تم پر کیا اور یہ کہ میں نے اس وقت کے تمام جہانوں پر تمہیں فضیلت دی۔
-
آیت: “وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَذْبَحُوا بَقَرَةً قَالُوا أَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا”
ترجمہ: اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا: بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ ایک گائے ذبح کرو۔ وہ بولے: کیا آپ ہمارا مذاق اڑاتے ہیں؟
-
آیت: “وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ”
ترجمہ: اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیے، وہی جنت والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
-
آیت: “يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقُولُوا رَاعِنَا وَقُولُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوا وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ”
ترجمہ: اے ایمان والو! (نبی پاک ﷺ کی بارگاہ میں) ‘راعنا’ نہ کہو بلکہ یوں کہو کہ ‘حضور ہم پر نظر فرمائیں’ اور خوب کان لگا کر سنو، اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے۔
-
آیت: “وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ وَاسِعٌ عَلِيمٌ”
ترجمہ: اور مشرق و مغرب سب اللہ ہی کا ہے، تو تم جدھر بھی رخ کرو ادھر اللہ کی رحمت (توجہ) ہے، بیشک اللہ وسعت والا علم والا ہے۔
-
آیت: “شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْقَانِ”
ترجمہ: رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا، جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور ہدایت اور حق و باطل میں فرق کرنے کی روشن نشانیاں ہیں۔
سوال نمبر 2: درج ذیل میں سے صرف پانچ (5) الفاظِ قرآنیہ کے معانی لکھیں۔
لفظ |
معنی |
الحجر |
پتھر |
صَفْرَاءُ |
زرد رنگ کی |
ثَمَناً قَلِيلاً |
تھوڑی سی قیمت |
الْجُوعُ |
بھوک |
رَجَعْتُمْ |
تم سب لوٹے / واپس آئے |
حصہ دوم: تجوید
سوال نمبر 3: فنِ تجوید کی تعریف، موضوع اور غرض و غایت تحریر کریں۔ * تعریف: قرآن مجید کے ہر حرف کو اس کے مخرج سے تمام صفات کے ساتھ ادا کرنے کو تجوید کہتے ہیں۔
-
موضوع: تجوید کا موضوع “حروفِ تہجی” ہیں (یعنی عربی کے حروف)۔
-
غرض و غایت: قرآن مجید کو پڑھتے وقت زبان کو غلطی (لحن) سے بچانا تاکہ کلامِ الہیٰ کو درست پڑھ کر اللہ کی رضا حاصل کی جا سکے۔
سوال نمبر 4: تلاوتِ قرآن کے آداب تحریر کریں۔ 1. باوضو ہونا اور بدن و لباس کا پاک ہونا۔
2. قبلہ رخ ہو کر با ادب بیٹھنا۔
3. تلاوت سے پہلے تعوذ (اعوذ باللہ) اور تسمیہ (بسم اللہ) پڑھنا۔
4. ٹھہر ٹھہر کر اور تجوید کے قواعد کے مطابق پڑھنا۔
5. دورانِ تلاوت کسی سے بات چیت نہ کرنا۔
سوال نمبر 5: درج ذیل میں سے کوئی سے پانچ حروف کے مخارج تحریر کریں۔
-
م (میم): دونوں ہونٹوں کے خشکی والے حصے سے ادا ہوتا ہے۔
-
خ (خا): حلق کا وہ حصہ جو منہ کی طرف ہے (ادنٰی حلق)۔
-
ق (قاف): زبان کی جڑ جب اوپر کے نرم تالو سے لگے۔
-
ل (لام): زبان کی کروٹ کا سرا جب اوپر کے دانتوں کے مسوڑھوں سے لگے۔
-
ض (ضاد): زبان کی کروٹ جب اوپر کی داڑھوں کی جڑ سے لگے۔
کلاس: الشہادۃ الثانویہ العامه (میٹرک سال اول)
دوسرا پرچہ: عقائد و فقہ
وقت: تین گھنٹے تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان کل نمبر: 100 نوٹ: تمام سوالات حل کریں۔
حصہ اول: عقائد
سوال نمبر 1: درج ذیل میں سے کسی پانچ اجزاء کے جوابات تحریر کریں۔
-
(الف) اللہ نے عالم کو کیوں پیدا کیا؟ جواب: اللہ تعالیٰ نے عالم (کائنات) کو اپنی پہچان اور اپنی ربوبیت و قدرت کے اظہار کے لیے پیدا فرمایا۔
-
(ب) کیا کوئی ولی، نبی سے افضل ہو سکتا ہے؟ جواب: جی نہیں، کوئی بھی ولی چاہے وہ کتنا ہی بڑے مرتبے والا کیوں نہ ہو، کسی نبی کے برابر نہیں ہو سکتا، فضیلت ہمیشہ انبیاء کرام کو حاصل ہے۔
-
(ج) معجزہ کسے کہتے ہیں؟ جواب: مدعیِ نبوت کے ہاتھ پر خلافِ عادت ظاہر ہونے والے ایسے کام کو معجزہ کہتے ہیں جس کا مقابلہ کرنے سے دوسرے عاجز ہوں۔
-
(د) فرشتہ کیسی مخلوق ہے؟ جواب: فرشتے نوری مخلوق ہیں، جو نہ کچھ کھاتے ہیں نہ پیتے ہیں، وہ اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے اور ہر وقت اللہ کے احکامات کی بجا آوری میں مصروف رہتے ہیں۔
-
(ہ) قیامت کے دن کون کون شفاعت کرے گا؟ جواب: سب سے پہلے اور سب سے بڑی شفاعت حضور نبی کریم ﷺ فرمائیں گے۔ آپ ﷺ کے علاوہ دیگر انبیاء، ملائکہ، شہداء، علماء اور حفاظِ قرآن بھی اللہ کے اذن سے شفاعت کریں گے۔
سوال نمبر 2: درج ذیل میں سے کسی پانچ اجزاء کے جوابات تحریر کریں۔
-
(الف) صحابی کس مسلمان کو کہتے ہیں؟ جواب: جس نے ایمان کی حالت میں حضور ﷺ کی زیارت کی ہو اور اس کا خاتمہ بھی ایمان پر ہوا ہو، اسے صحابی کہتے ہیں۔
-
(ب) افضل خلیفہ کون ہے؟ جواب: انبیاء کے بعد تمام انسانوں میں افضل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں، جو پہلے خلیفہ ہیں۔
-
(ج) ولی کی تعریف کریں؟ جواب: ولی وہ مسلمان ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کر لے اور شرعی احکامات کا پابند ہو۔
-
(د) کافر کے لیے دعائے مغفرت کرنے کا کیا حکم ہے؟ جواب: کافر کے لیے اس کی موت کے بعد دعائے مغفرت کرنا کفر ہے، کیونکہ قرآن میں اس کی ممانعت آئی ہے۔ البتہ زندگی میں اس کی ہدایت کی دعا کی جا سکتی ہے۔
-
(ہ) کیا روح بھی مرتی ہے؟ جواب: روح کو موت نہیں آتی بلکہ وہ جسم سے جدا ہو جاتی ہے۔ موت صرف بدن پر طاری ہوتی ہے، روح ایک حالت سے دوسری حالت میں منتقل ہوتی ہے۔
حصہ دوم: فقہ
سوال نمبر 3: درج ذیل میں سے کسی پانچ اجزاء کے جوابات تحریر کریں۔
-
(الف) غسل کے فرائض تحریر کریں؟
-
جواب: غسل کے تین فرائض ہیں: (1) کلی کرنا، (2) ناک میں نرم ہڈی تک پانی ڈالنا، (3) پورے بدن پر اس طرح پانی بہانا کہ ایک بال برابر جگہ بھی خشک نہ رہے۔
-
(ب) تیمم کا طریقہ تحریر کریں؟ جواب: نیت کر کے پاک مٹی پر دونوں ہاتھ مار کر پورے چہرے پر ملنا، پھر دوبارہ ہاتھ مار کر دونوں ہاتھوں کا کہنیوں سمیت مسح کرنا۔
-
(ج) نماز کی شرائط لکھیں؟ جواب: نماز کی چھ شرائط ہیں: (1) طہارت، (2) سترِ عورت، (3) استقبالِ قبلہ، (4) وقت، (5) نیت، (6) تکبیرِ تحریمہ۔
-
(د) مکروہ اوقات کون کون سے ہیں؟ جواب: تین اوقات میں نماز پڑھنا منع ہے: (1) طلوعِ آفتاب کے وقت، (2) استواء (دوپہر ڈھلنے سے پہلے)، (3) غروبِ آفتاب کے وقت۔
-
(ہ) وتر کا وقت کیا ہے؟ جواب: وتر کا وقت عشاء کی نماز کے بعد سے صبح صادق کے طلوع ہونے تک رہتا ہے۔
سوال نمبر 4: درج ذیل میں سے کسی پانچ اجزاء کے جوابات تحریر کریں۔
-
(الف) وضو کی کوئی سی پانچ سنتیں تحریر کریں؟ جواب: (1) بسم اللہ پڑھنا، (2) دونوں ہاتھ کلائیوں تک دھونا، (3) مسواک کرنا، (4) تین بار کلی کرنا، (5) داڑھی کا خلال کرنا۔
-
(ب) کس پانی سے وضو اور غسل جائز ہے؟ جواب: ہر وہ پانی جو اپنی اصل حالت پر ہو، جیسے بارش کا پانی، کنویں، دریا، سمندر اور چشمے کا پانی۔
-
(ج) کس عمر میں بچے کو نماز کا حکم دیا جائے؟ جواب: جب بچہ سات سال کا ہو جائے تو اسے نماز کا حکم دیا جائے اور دس سال کی عمر میں سختی کی جائے۔
-
(د) ماء مستعمل کی تعریف کریں؟ جواب: وہ پانی جس سے وضو یا غسل کیا گیا ہو یا ثواب کی نیت سے اعضاء پر بہایا گیا ہو، اسے ماء مستعمل (استعمال شدہ پانی) کہتے ہیں۔
-
(ہ) معذور شرعی کی تعریف لکھیں؟ جواب: وہ شخص جس کو ایسی بیماری ہو کہ ایک نماز کا پورا وقت گزر جائے اور وہ پاکی کے ساتھ نماز ادا نہ کر سکے (مثلاً مسلسل خون بہنا یا ریح کا خارج ہونا)۔
کلاس: الشہادۃ الثانویہ العامه (میٹرک سال اول)
تیسرا پرچہ: صرف (میزان الصرف و منشعب / صرف بھترال)
وقت: تین گھنٹے تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان کل نمبر: 100 نوٹ: دونوں حصوں سے کوئی سے دو، دو سوالات حل کریں۔
حصہ اول: میزان الصرف و منشعب
سوال نمبر 1: (الف) فعل مضارع بنانے کا طریقہ اور مثالیں۔ جواب: فعل مضارع، فعل ماضی سے بنایا جاتا ہے۔
-
ماضی کے شروع میں علاماتِ مضارع (اتین: ا، ت، ی، ن) لگائی جاتی ہیں۔
-
ماضی کے پہلے حرف (فا کلمہ) کو ساکن کر دیا جاتا ہے۔
-
آخری حرف (لام کلمہ) کو ضمہ (پیش) دیا جاتا ہے۔
-
درمیان والے حرف (عین کلمہ) کی حرکت ابواب کے مطابق ہوتی ہے۔
-
مثال: ضَرَبَ سے يَضْرِبُ، نَصَرَ سے يَنْصُرُ۔
(ب) باب فَعَلَ يَفْعُلُ (جیسے نَصَرَ يَنْصُرُ) سے صرفِ صغیر: جواب: نَصَرَ يَنْصُرُ نَصْراً فَهُوَ نَاصِرٌ، وَنُصِرَ يُنْصَرُ نَصْراً فَذَاكَ مَنْصُورٌ، اَلْاَمْرُ مِنْهُ اُنْصُرْ وَالنَّهْيُ عَنْهُ لَا تَنْصُرْ۔
سوال نمبر 2: (الف) ثلاثی مزید فیہ کی تعریف اور ابواب کے نام۔ جواب: وہ اسم یا فعل جس کے حروفِ اصلیہ (مادہ) تین ہوں لیکن ان میں ایک یا زائد زائد حروف شامل ہوں۔ مثلاً: اِکْرَامٌ (اس میں الف زائد ہے)۔
-
ثلاثی مزید فیہ با ہمزہ وصل کے چند ابواب: (1) اِفْتِعَال (2) اِنْفِعَال (3) اِفْعِلَال (4) اِسْتِفْعَال (5) اِفْعِیْعَال۔
(ب) اسمِ تفضیل مؤنث کی گردان: جواب: فُعْلٰی، فُعْلَیَانِ، فُعْلَیَاتٌ، فُعَلٌ۔ (مثلاً: حُسْنٰی، حُسْنَیَانِ، حُسْنَیَاتٌ، حُسَنٌ)۔
حصہ دوم: صرفِ بھترال
سوال نمبر 4: (الف) علمِ صرف کی تعریف، موضوع اور غرض و غایت۔
-
تعریف: وہ علم جس میں کلمات کو ایک صورت سے دوسری صورت میں بدلنے اور ان میں ہونے والی تبدیلیوں کے قواعد بیان کیے جائیں۔
-
موضوع: “کلمہ” (اس حیثیت سے کہ وہ بنتا کیسے ہے)۔
-
غرض و غایت: کلمہ کو پڑھنے اور بنانے میں زبان کو غلطی سے بچانا۔
-
علمِ نحو پر مقدم کرنے کی وجہ: چونکہ کلمات سے مل کر جملہ بنتا ہے اور نحو میں جملوں سے بحث ہوتی ہے، اس لیے مفرد (صرف) کو مرکب (نحو) پر مقدم رکھا جاتا ہے۔
(ب) عبارت کا ترجمہ اور فعلِ مجہول کی تعریف:
-
ترجمہ: “اگر فعل فاعل پر ختم ہو جائے (یعنی اسے مفعول کی ضرورت نہ ہو) تو اسے فعلِ لازم کہتے ہیں جیسے ذَہَبَ زَیْدٌ (زید گیا)۔”
-
فعلِ مجہول: وہ فعل ہے جس کا فاعل معلوم نہ ہو اور اس کی نسبت مفعول کی طرف کر دی گئی ہو۔ مثلاً: ضُرِبَ زَیْدٌ (زید مارا گیا)۔
سوال نمبر 5: (ب) تعریفات مع امثلہ (کوئی سی تین):
-
مہموز: وہ کلمہ جس کے حروفِ اصلیہ میں سے کوئی حرف “ہمزہ” ہو۔ جیسے: اَکَلَ۔
-
رباعی مجرد: وہ کلمہ جس کے چاروں حروف اصلی ہوں اور کوئی زائد نہ ہو۔ جیسے: دَحْرَجَ۔
-
مثال: وہ کلمہ جس کے “فا کلمہ” (پہلے حرف) کی جگہ حرفِ علت (و، ی) ہو۔ جیسے: وَعَدَ۔
-
اسمِ فاعل: وہ اسم جو کام کرنے والے پر دلالت کرے۔ جیسے: نَاصِرٌ (مدد کرنے والا)۔
معذرت چاہتا ہوں، میں سمجھ گیا کہ آپ کو بالکل کتابی اور امتحانی انداز میں عربی اور فارسی متن کے ساتھ مکمل حل چاہیے تاکہ طلبہ کو سمجھنے میں کوئی دشواری نہ ہو۔ اب میں چوتھا پرچہ: نحو اسی ترتیب سے دوبارہ لکھ رہا ہوں۔
کلاس: الشہادۃ الثانویہ العامه (میٹرک سال اول)
چوتھا پرچہ: علم النحو (نحو میر و نظم مائۃ عامل)
وقت: تین گھنٹے | تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان | کل نمبر: 100
حصہ اول: نحو میر
سوال نمبر 1: (الف) علمِ نحو کی تعریف، موضوع، غرض، واضع اور وجہ تسمیہ۔
-
تعریف: وہ علم ہے جس میں اسم، فعل اور حرف کو آپس میں جوڑنے کا طریقہ اور ان کے آخری حرف کے اعراب کا حال معلوم ہو۔
-
موضوع: “کلمہ” اور “کلام” اس علم کا موضوع ہیں۔
-
غرض: عربی کلام پڑھنے اور بولنے میں لفظی غلطی سے بچنا۔
-
واضع: حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے حکم سے ابو الاسود دُؤلی نے اس علم کی بنیاد رکھی۔
-
وجہ تسمیہ: “نحو” کے معنی راستہ یا کنارہ کے ہیں۔ چونکہ یہ علم کلامِ عرب کے راستے پر چلنے میں مدد دیتا ہے، اس لیے اسے نحو کہتے ہیں۔
(ب) جملہ خبریہ کی اقسام مع تعریفات و امثلہ:
-
جملہ اسمیہ: وہ جملہ ہے جس کا پہلا جز اسم ہو، جیسے: (زَيْدٌ قَائِمٌ) (زید کھڑا ہے)۔ اس میں پہلے جز کو مبتدا اور دوسرے کو خبر کہتے ہیں۔
-
جملہ فعلیہ: وہ جملہ ہے جس کا پہلا جز فعل ہو، جیسے: (قَامَ زَيْدٌ) (زید کھڑا ہوا)۔ اس میں پہلا جز فعل اور دوسرا فاعل ہوتا ہے۔
(ج) اسمِ غیر متمکن کی تعریف اور تین قسمیں:
-
تعریف: وہ اسم ہے جو مبنی الاصل (حروف، ماضی، امر حاضر) کے مشابہ ہو اور اس کا آخر عوامل کے بدلنے سے نہ بدلے۔
-
تین قسمیں: 1. المضمرات (ضمیریں): جیسے (اَنَا، اَنْتَ)۔ 2. اسماء الاشارات: جیسے (هذَا، هذِهِ)۔ 3. اسماء الموصولات: جیسے (الَّذِي، الَّتِي)۔
سوال نمبر 2: (ب) جمع مؤنث سالم، اسم مقصور اور عشروں کا اعراب:
حصہ دوم: نظم مائۃ عامل
سوال نمبر 4: (ج) حروفِ ناصبہ کتنے ہیں نیز شعر لکھیں؟ حروفِ ناصبہ وہ ہیں جو فعلِ مضارع کو نصب (زبر) دیتے ہیں، ان کی تعداد چار (4) ہے: (اَنْ، لَنْ، کَیْ، اِذَنْ)۔ شعر:
“اَنْ” و “لَنْ” و “کَیْ” و “اِذَنْ” اے ہوشمند بر مضارع نصب مے آرد بہ پند
(د) درج ذیل اشعار کا ترجمہ تحریر کریں:
نوعِ اوّل ہفدہ حرفِ جر بود مِیداں یقیں کاندریں یک بیت آمد جملہ بے چوں و چرا
ترجمہ: (عواملِ سماعیہ کی) پہلی قسم سترہ (17) حروفِ جارہ ہیں، اس بات کا پختہ یقین رکھو، کیونکہ یہ تمام کے تمام اس ایک ہی شعر میں بلا کسی شک و شبہ کے بیان کر دیے گئے ہیں۔
باؤ تاؤ کاف و لام و واؤ مُنذ و مُذ خلا رُبَّ حاشا مِنْ عدا فِی عَنْ علیٰ حتّٰی اِلیٰ
ترجمہ: (وہ حروف یہ ہیں): با، تا، کاف، لام، واؤ، مُنذ، مُذ، خلا، رُبَّ، حاشا، مِنْ، عدا، فِی، عَنْ، علیٰ، حتّٰی اور اِلیٰ۔
کلاس: الشہادۃ الثانویہ العامه (میٹرک سال اول)
پانچواں پرچہ: عربی ادب
وقت: تین گھنٹے | تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان | کل نمبر: 100
سوال نمبر 1: (الف) درج ذیل میں سے پانچ جملوں کا اردو میں ترجمہ کریں۔
(1) خَالِدٌ يَمْشِي فِي الْحَدِيْقَةِ جواب: خالد باغ میں چل رہا ہے۔
(2) أَنَا فِي غُرْفَةِ صَدِيْقِي جواب: میں اپنے دوست کے کمرے میں ہوں۔
(3) عِنْدِي مَالٌ قَلِيلٌ جواب: میرے پاس تھوڑا مال ہے۔
(4) ضَعْ يَدَكَ عَلَى أُذُنَيْكَ جواب: اپنا ہاتھ اپنے دونوں کانوں پر رکھو۔
(5) أَسْمَعُ صَوْتَ الْجَرَسِ جواب: میں گھنٹی کی آواز سن رہا ہوں۔
(6) اَلثَّوْرُ حَيَوَانٌ كَبِيْرٌ جواب: بیل ایک بڑا جانور ہے۔
(ب) درج ذیل میں سے کسی ایک جز کا اردو میں ترجمہ کریں۔
جز نمبر (2): فُصُوْلُ السَّنَةِ أَرْبَعَةٌ… (موسموں کا بیان) ترجمہ: سال کے چار موسم ہیں: سردی، بہار، گرمی اور خزاں۔ کراچی میں سردی معتدل ہوتی ہے اور وہاں گرمی تو ہوتی ہے لیکن زیادہ سخت نہیں ہوتی۔ جہاں تک لاہور کا تعلق ہے تو وہاں سردی بہت زیادہ ہوتی ہے اور گرمی بھی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ پاکستان ایک گرم ملک ہے جہاں سال کے اکثر دنوں میں گرمی شدت اختیار کر جاتی ہے۔
سوال نمبر 2: (الف) درج ذیل میں سے تین جملوں کی عربی بنائیں۔
(1) آسمان میرے سر کے اوپر ہے۔ جواب: اَلسَّمَاءُ فَوْقَ رَأْسِي۔
(2) یہ لمبا درخت ہے۔ جواب: هٰذِہٖ شَجَرَةٌ طَوِيْلَةٌ۔
(3) اے یاسر تو دروازہ کھول۔ جواب: يَا يَاسِرُ اِفْتَحِ الْبَابَ۔
(4) باغ میں کتنے درخت ہیں؟ جواب: كَمْ شَجَرَةً فِي الْحَدِيْقَةِ؟
(ب) درج ذیل میں سے کوئی سی پانچ خالی جگہیں پر کریں۔
(1) اَلْجَمَلُ حَيَوَانٌ كَبِيْرٌ۔ (2) اِسْمُ وَالِدِي مُحَمَّدٌ (یا کوئی بھی نام)۔ (3) اَلْقَلَمُ فِي جَيْبِي۔ (4) عِنْدَہٗ هٰذِہِ السَّاعَةُ۔ (5) يَدِي فَوْقَ رَأْسِي۔
سوال نمبر 3: (ب) درج ذیل میں سے پانچ الفاظ کے معانی تحریر کریں۔
سوال نمبر 4: (الف) درج ذیل میں سے کسی تین سوالات کا عربی میں جواب دیں۔
(1) مَا اسْمُ خَالِكَ؟ (تمہارے ماموں کا کیا نام ہے؟) جواب: اِسْمُ خَالِي رَشِيْدٌ (میرے ماموں کا نام رشید ہے)۔
(2) هَلْ أَنْتَ فِي الْغُرْفَةِ؟ (کیا تم کمرے میں ہو؟) جواب: نَعَمْ، أَنَا فِي الْغُرْفَةِ (جی ہاں، میں کمرے میں ہوں)۔
(3) كَمْ قَلَمًا فِي جَيْبِكَ؟ (تمہاری جیب میں کتنے قلم ہیں؟) جواب: فِي جَيْبِي قَلَمٌ وَاحِدٌ (میری جیب میں ایک قلم ہے)۔
(ب) عربی میں جسم کے کوئی سے پانچ اعضاء کے نام اردو ترجمہ کے ساتھ تحریر کریں۔
-
رَأْسٌ (سر)
-
عَیْنٌ (آنکھ)
-
أُذُنٌ (کان)
-
یَدٌ (ہاتھ)
-
رِجْلٌ (پاؤں)
کلاس: الشہادۃ الثانویہ العامه (میٹرک سال اول)
چھٹا پرچہ: جنرل سائنس و مطالعہ پاکستان
وقت: تین گھنٹے | تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان | کل نمبر: 100
حصہ اول: جنرل سائنس
سوال نمبر 1: (الف) خالی جگہ پر کریں۔
-
جانداروں کے مشاہدے اور معائنے کے علم کو بیالوجی (Biology) کہتے ہیں۔
-
کتاب المناظر بصریات (Optics) پر پہلی جامع کتاب ہے۔
-
بی سی جی ٹی بی (T.B) کا حفاظتی ٹیکہ ہے۔
-
پروگرام ہدایات (Instructions) کی لسٹ ہے۔
-
خسرے کے انجیکشن بچے کو 9 ماہ کی عمر میں دئے جاتے ہیں۔
(ب) درست اور غلط کی نشاندہی کریں۔
-
ایڈز چھوت کی بیماری نہیں ہے۔ (غلط)
-
الیکٹرونکس لیزر کے طرز عمل اور کنٹرول کا علم ہے۔ (درست)
-
بیکٹیریا کو دیکھنے کے لئے دور بین استعمال ہوتی ہے۔ (غلط – خوردبین استعمال ہوتی ہے)
-
بوعلی سینا طب کے بانیوں میں سے تھے۔ (درست)
-
جابر بن حیان کیمیا کا ماہر تھا۔ (درست)
سوال نمبر 3: جراثیم کے پھیلاؤ اور بچاؤ کے طریقے تحریر کریں۔
-
پھیلاؤ کے طریقے: جراثیم گندے پانی، باسی خوراک، مکھیوں، مچھروں اور براہِ راست چھونے یا سانس کے ذریعے پھیلتے ہیں۔
-
بچاؤ کے طریقے: 1. صفائی کا خاص خیال رکھنا اور ہاتھ صابن سے دھونا۔ 2. پانی ابال کر پینا اور خوراک ڈھانپ کر رکھنا۔ 3. حفاظتی ٹیکوں کا کورس مکمل کرنا۔ 4. جراثیم کش ادویات کا استعمال کرنا۔
حصہ دوم: مطالعہ پاکستان
سوال نمبر 5: (الف) خالی جگہیں پر کریں۔
-
حضرت شاہ عبد العزیز رحمہ اللہ شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کے صاحبزادے ہیں۔
-
ہم ہندؤوں کو خوش کرنے کے لئے گائے کی قربانی موقوف نہیں کر سکتے۔
-
محمد بن قاسم رحمہ اللہ کے بعد صوبہ سندھ تقریبا تین صدیوں تک عباسی خلافت کا صوبہ رہا۔
-
تناسب کے لحاظ سے ریزرو بینک میں پاکستان کا حصہ 750 ملین تھا۔
-
چین کے تعاون سے مکمل ہونے والی شاہرہ کا نام شاہراہِ قراقرم ہے۔
(ب) مختصر جواب (کوئی سے دو):
-
(3) اسلامی نظریہ حیات: اسلامی نظریہ حیات سے مراد یہ ہے کہ کائنات کا اصل مالک اللہ تعالیٰ ہے اور انسان اس کا نائب ہے۔ زندگی کے تمام معاملات قرآن و سنت کے مطابق گزارنا ہی اصل مقصد ہے۔
-
(4) قراردادِ مقاصد: یہ 12 مارچ 1949 کو منظور ہوئی۔ اس کی اہمیت یہ ہے کہ اس نے پاکستان کے آئین کے لیے بنیاد فراہم کی کہ ملک کا نظام اسلامی اصولوں پر مبنی ہوگا۔
