Tanzeem ul Madaris Solved Past Paper 2021 | PDF (طلباء کے لیے) عالیہ سال اول
کلاس: الشہادۃ العالیہ (بی اے سال اول)
پہلا پرچہ: التفسیر واصولہ (جلالین و الفوز الکبیر) – سال 2021
سوال نمبر 1: (الف) (حم عسق الله اعلم بمراده به كذلک) اى مثل ذلک الايحاء (یوحى اليك و) اوحى (الى الذين من قبلك الله العزيز الحكيم) کا ترجمہ کریں نیز مرادہ بہ میں دونوں ضمیروں کا مرجع بیان کریں۔
جواب: ترجمہ: حم عسق، اللہ ہی ان کی مراد کو بہتر جانتا ہے۔ اسی طرح یعنی اس وحی کی طرح اللہ جو زبردست اور حکمت والا ہے، آپ کی طرف وحی فرماتا ہے اور ان کی طرف بھی جو آپ سے پہلے تھے۔ مرجع: لفظ “مرادہ” میں ضمیر کا مرجع “اللہ” ہے اور “بہ” میں ضمیر کا مرجع “حم عسق” ہے۔
سوال نمبر 1: (ب) “یوحى اليك” کے بعد “اوحی” نکالنے کی غرض کیا ہے؟ نیز فی ملکہ و فی صنعہ کی کیا اغراض ہیں؟
جواب: “اوحی” نکالنے کی غرض یہ ہے کہ فعلِ مضارع (یوحی) کا عطف فعلِ ماضی پر درست ہو جائے تاکہ ماضی اور حال دونوں زمانوں میں وحی کا تسلسل واضح ہو۔ “فی ملکہ” سے مراد اللہ کی بادشاہت کا غلبہ بتانا ہے اور “فی صنعہ” سے مراد اس کی کاریگری میں حکمت کو ظاہر کرنا ہے۔
سوال نمبر 1: (ج) منکرینِ رسالت کے رد پر کوئی سی دو آیاتِ قرآنی بیان کریں۔
سوال نمبر 2: (الف) (ویعلم) بالرفع مستأنف وبالنصب معطوف علی تعلیل مقدر اى یغرقهم لینتقم منهم ویعلم الذین یجادلون في ایتنا ما لهم من محیص پر اعراب لگا کر ترجمہ کریں۔
جواب: ترجمہ: اور اللہ جانتا ہے (یا تاکہ وہ جان لے) ان لوگوں کو جو ہماری آیات میں جھگڑا کرتے ہیں کہ ان کے لیے بچنے کی کوئی جگہ (جائے پناہ) نہیں ہے۔
سوال نمبر 2: (ب) بالرفع اور بالنصب کی وضاحت کریں۔
جواب: اگر “ویعلمُ” کو رفع (پیش) کے ساتھ پڑھیں تو یہ جملہ مستانفہ (نیا جملہ) ہے، اور اگر “ویعلمَ” کو نصب (زبر) کے ساتھ پڑھیں تو یہ “ان” مقدرہ کی وجہ سے منصوب ہے جو پچھلی ایک پوشیدہ وجہ (تعلیل) پر معطوف ہے۔
جواب: علم کے لیے دو مفعول ضروری ہوتے ہیں، لیکن جب علم کے بعد نفی کا جملہ (جیسے ما لہم من محیص) آ جائے تو وہ جملہ ان دونوں مفعولوں کی جگہ لے لیتا ہے اور کلام مکمل ہو جاتا ہے۔
سوال نمبر 2: (د) علماء متقدمین و متاخرین کے نزدیک منسوخ آیات کی تعداد لکھیں۔
جواب: متقدمین کے نزدیک منسوخ آیات سینکڑوں میں ہیں کیونکہ وہ تخصیص کو بھی نسخ کہتے تھے، جبکہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی جیسے متاخرین کے نزدیک صرف 5 آیات منسوخ ہیں۔
سوال نمبر 3: (الف) (فمن یهدیه من بعد الله اى بعد اضلاله ایاه اى لایهتدی افلاتذكرون) تتعظون فیه ادغام احدى التائین في الذال پر اعراب لگا کر ترجمہ کریں۔
جواب: ترجمہ: تو اللہ کے گمراہ کرنے کے بعد اسے کون ہدایت دے سکتا ہے؟ (یعنی وہ ہرگز ہدایت نہیں پائے گا) تو کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے؟
جواب: “تذکرون” اصل میں “تتذکرون” تھا، یہاں دو “ت” جمع تھیں، ایک “ت” کو “ذ” سے بدل کر دوسری “ذ” میں ادغام کر دیا گیا تاکہ لفظ زبان پر ہلکا ہو جائے۔
سوال نمبر 3: (ج) اسبابِ صعوبۃِ فہمِ المراد من الکلام (کلام کا مطلب سمجھنے میں دشواری) کے کوئی سے پانچ اسباب لکھیں۔
جواب: (1) نامانوس الفاظ کا ہونا (2) کلام میں بہت زیادہ اختصار (3) الفاظ کی تقدیم و تاخیر (4) استعارات کا پیچیدہ استعمال (5) ناسخ و منسوخ کا علم نہ ہونا۔
سوال نمبر 4: (الف) قل لهم (اتعلمون الله بدینکم) مضعف علم بمعنی شعر اى اتشعرونه بما انتم علیه في قولکم آمناً واللہ یعلم ما فی السموات وما فی الارض پر اعراب لگا کر ترجمہ کریں۔
جواب: ترجمہ: آپ فرمائیں: کیا تم اللہ کو اپنے دین سے واقف کرواتے ہو؟ (یعنی اپنے ایمان کی خبر دیتے ہو) حالانکہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔
سوال نمبر 4: (ب) مفسر کی بیان کردہ عبارت “مضعف علم بمعنی شعر” کی وضاحت کریں۔
جواب: یہاں مفسر یہ بتانا چاہتے ہیں کہ “تُعلِّمون” یہاں محض جاننے کے معنی میں نہیں بلکہ “جتلانے یا آگاہ کرنے” (شعور دلانے) کے معنی میں آیا ہے۔
سوال نمبر 4: (ج) متقدمین کے نزدیک “نزلت فی کذا” کا معنی بیان کریں۔
جواب: متقدمین جب کہتے تھے کہ “یہ آیت اس بارے میں نازل ہوئی” تو ان کی مراد صرف سببِ نزول نہیں ہوتی تھی بلکہ وہ یہ بتاتے تھے کہ یہ آیت اس طرح کے تمام مسائل اور احکامات پر فٹ آتی ہے۔
کلاس: الشہادۃ العالیہ (بی اے سال اول)
دوسرا پرچہ: الحدیث واصولہ (مشکوٰۃ المصابیح و نزہۃ النظر)
جواب: ترجمہ: (راوی کہتے ہیں) پھر وہ (سائل) چلا گیا، میں کچھ دیر ٹھہرا رہا، پھر آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: اے عمر! کیا تم جانتے ہو کہ وہ سوال کرنے والا کون تھا؟ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ جبرائیل (علیہ السلام) تھے، وہ تمہارے پاس آئے تھے تاکہ تمہیں تمہارا دین سکھائیں۔
سوال نمبر 1: (ب) حدیثِ جبرائیل اردو میں مکمل تحریر کریں۔
جواب: حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک روز ہم رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں تھے کہ ایک شخص انتہائی سفید کپڑوں اور سیاہ بالوں والا نمودار ہوا، جس پر سفر کے آثار نہ تھے اور ہم میں سے کوئی اسے پہچانتا نہ تھا۔ وہ آپ ﷺ کے گھٹنوں سے گھٹنے ٹکا کر بیٹھ گیا اور سوال کیے: (1) اسلام کیا ہے؟ آپ ﷺ نے ارکانِ اسلام بتائے۔ (2) ایمان کیا ہے؟ آپ ﷺ نے ارکانِ ایمان (اللہ، فرشتوں، کتابوں، رسولوں، آخرت اور تقدیر پر ایمان) بتائے۔ (3) احسان کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کی عبادت ایسے کرو جیسے تم اسے دیکھ رہے ہو، ورنہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ (4) قیامت کب ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس کا علم سائل اور مسئول (جس سے پوچھا گیا) دونوں کو برابر ہے۔ پھر اس نے قیامت کی نشانیاں پوچھیں اور چلا گیا۔
سوال نمبر 2: (الف) عَنْ عَبْدِ اللهِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللهِ أَيُّ الذَّنْبِ أَكْبَرُ عِنْدَ اللهِ قَالَ… ترجمہ کریں اور بتائیں رسول اللہ ﷺ نے کون کون سے گناہ کبیرہ گنوائے؟
جواب: ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: (1) یہ کہ تم اللہ کا شریک ٹھہراؤ حالانکہ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ (2) یہ کہ تم اپنی اولاد کو اس ڈر سے قتل کر دو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گی۔ (3) یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے بدکاری کرو۔
سوال نمبر 2: (ب) عَنِ ابِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ ﷺ مَا هُنَّ قَالَ… پر اعراب لگائیں اور السبع الموبقات میں سے پانچ تحریر کریں۔
جواب: ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: سات ہلاک کر دینے والے گناہوں سے بچو۔ صحابہ نے پوچھا: وہ کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے پانچ گنوائے: (1) اللہ کے ساتھ شرک کرنا (2) جادو کرنا (3) ناحق قتل کرنا (4) سود کھانا (5) یتیم کا مال کھانا۔
سوال نمبر 3: (الف) حَتَّى إِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُؤُسًا جُهَّالًا فَسُئِلُوا فَأَفْتُوا بِغَيْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا ترجمہ کریں اور بتائیں عبداللہ بن مسعود ہر روز وعظ کیوں نہیں فرماتے تھے؟
جواب: ترجمہ: یہاں تک کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو اپنا پیشوا بنا لیں گے، ان سے سوال کیا جائے گا تو وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے، خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہر روز وعظ اس لیے نہیں فرماتے تھے تاکہ لوگ اکتا نہ جائیں، کیونکہ نبی کریم ﷺ بھی صحابہ کی دلچسپی کا خیال رکھتے ہوئے وقفے سے وعظ فرماتے تھے۔
سوال نمبر 3: (ب) علم، طالب علم اور عالم کے حوالے سے مشکوٰۃ سے ایک ایک حدیث نقل کریں۔
جواب: (1) علم: “طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ” (علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے)۔ (2) طالب علم: “من سلك طريقاً يلتمس فيه علماً سهل الله له به طريقاً إلى الجنة” (جو علم کی راہ پر چلے اللہ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے)۔ (3) عالم: “فضل العالم على العابد كفضلي على أدناكم” (عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے میری فضیلت تمہارے ادنیٰ شخص پر ہے)۔
سوال نمبر 4: (الف) إِذَا اشْتَكَى مِنَّا إِنْسَانٌ مَسَحَهُ بِيَمِينِهِ ثُمَّ قَالَ أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا پر اعراب لگا کر ترجمہ کریں اور عیادتِ مریض کا مسنون طریقہ لکھیں۔
جواب: ترجمہ: جب ہم میں سے کوئی بیمار ہوتا تو آپ ﷺ اپنا دایاں ہاتھ اس پر پھیرتے اور فرماتے: اے لوگوں کے رب! تکلیف دور کر دے اور شفا دے، تو ہی شفا دینے والا ہے، تیری شفا کے سوا کوئی شفا نہیں، ایسی شفا دے جو کوئی بیماری نہ چھوڑے۔ مسنون طریقہ: مریض کے پاس بیٹھ کر تسلی دینا، اس کی صحت کے لیے دعا کرنا، دایاں ہاتھ پھیرا کر مسنون کلمات پڑھنا اور عیادت کو طویل نہ کرنا۔
سوال نمبر 4: (ب) امرنا النبي ﷺ بسبع و نهانا عن سبع (سات اوامر اور سات منہیات میں سے پانچ پانچ لکھیں)۔
جواب: پانچ اوامر (حکم): (1) جنازے کے پیچھے چلنا (2) مریض کی عیادت کرنا (3) دعوت قبول کرنا (4) مظلوم کی مدد کرنا (5) سلام کا جواب دینا۔ پانچ منہیات (جن سے روکا): (1) سونے کی انگوٹھی پہننا (مردوں کے لیے) (2) چاندی کے برتن میں پینا (3) ریشمی لباس (4) کڑھائی والے کپڑے (5) کتان کے سرخ کپڑے۔
حصہ دوم: اصولِ حدیث
سوال نمبر 5: (الف) حدیث مرفوع، موقوف اور مقطوع کی تعریفات لکھیں۔
جواب: مرفوع: وہ حدیث جس کی نسبت رسول اللہ ﷺ کی طرف ہو۔ موقوف: وہ حدیث جس کی نسبت صحابی کی طرف ہو (ان کا قول یا فعل)۔ مقطوع: وہ حدیث جس کی نسبت تابعی یا تبع تابعی کی طرف ہو۔
سوال نمبر 5: (ج) حدیث صحیح، حسن اور ضعیف کی تعریفات لکھیں۔
جواب: صحیح: وہ حدیث جس کی سند متصل ہو، راوی عادل اور ضابط ہوں، اور وہ شذوذ و علت سے پاک ہو۔ حسن: وہ حدیث جس میں صحیح والی شرائط ہوں مگر راوی کا حافظہ (ضبط) تھوڑا کم ہو۔ ضعیف: وہ حدیث جس میں صحیح یا حسن کی شرائط پوری نہ ہوں۔
کلاس: الشہادۃ العالیہ (بی اے سال اول)
تیسرا پرچہ: اصولِ فقہ (نور الانوار) – سال 2021
سوال نمبر 1: (الف) وَأَمَّا شَرْطُهُ فَأَنْ لَا يَكُونَ الْأَصْلُ مَخْصُوصًا بِحُكْمِهِ بِنَصٍّ آخَرَ پر اعراب لگائیں، ترجمہ کریں اور مذکورہ شرط کی مثال کے ساتھ تشریح کریں۔
جواب: ترجمہ: اور بہرحال قیاس کی شرط یہ ہے کہ “اصل” (جس پر قیاس کیا جا رہا ہے) کسی دوسری نص کی وجہ سے اپنے حکم کے ساتھ مخصوص نہ ہو۔ تشریح: اگر کسی چیز کا حکم نص نے صرف اسی کے لیے خاص کر دیا ہو تو اس پر کسی دوسری چیز کو قیاس نہیں کیا جا سکتا، جیسے گواہی میں نص نے حضرت خزیمہ رضی اللہ عنہ کی اکیلی گواہی کو دو کے برابر قرار دیا، اب ان پر کسی دوسرے شخص کو قیاس کرنا جائز نہیں کیونکہ یہ حکم ان کے ساتھ مخصوص ہے۔
سوال نمبر 1: (ب) قیاس کی شرطِ رابع (چوتھی شرط) مع مثال بالتفصیل لکھیں۔
جواب: قیاس کی چوتھی شرط یہ ہے کہ “فرع” (جس کا حکم معلوم کرنا ہے) کا حکم “اصل” کے حکم کے مخالف نہ ہو۔ مثال کے طور پر اگر کسی فرع کے بارے میں نص موجود ہو، تو وہاں قیاس کرنا جائز نہیں ہوگا کیونکہ قیاس نص کے مقابلے میں نہیں آ سکتا۔
سوال نمبر 1: (ج) قیاس کا لغوی و اصطلاحی معنی لکھیں۔
جواب: لغوی معنی: قیاس کا لغوی معنی “اندازہ کرنا” یا “دو چیزوں کو برابر کرنا” ہے۔ اصطلاحی معنی: کسی ایسی چیز کا حکم جس کے بارے میں نص موجود نہ ہو، نص میں موجود کسی چیز کے حکم کی طرح ثابت کرنا اس علت کی بنیاد پر جو دونوں میں مشترک ہو۔
جواب: ترجمہ: پھر وہ استحسان جو قیاسِ خفی کی وجہ سے ہو اس کا (حکم) متعدی کرنا صحیح ہے، یا وہ استحسان جو اثر (حدیث)، اجماع یا ضرورت کی وجہ سے ہو جیسے بیع سلم اور استصناع۔
سوال نمبر 2: (ب) مذکورہ قاعدہ کی تشریح امثلہ کے ساتھ کریں۔
جواب: اس قاعدے کا مطلب یہ ہے کہ اگر استحسان قیاسِ خفی (چھپے ہوئے مضبوط قیاس) کی بنیاد پر ہو تو اسے دوسری جگہوں پر لاگو کیا جا سکتا ہے، لیکن اگر استحسان کسی نص، اجماع یا ضرورت کی وجہ سے قیاس کے خلاف ثابت ہو (جیسے بیع سلم کہ معدوم کی بیع خلافِ قیاس جائز ہے) تو اسے دوسری جگہوں پر قیاس کے لیے دلیل نہیں بنایا جا سکتا۔
سوال نمبر 2: (ج) ثُمَّ الِاسْتِحْسَانُ لَيْسَ مِنْ بَابِ خُصُوصِ الْعِلَلِ لِأَنَّ الْوَصْفَ لَمْ يُجْعَلْ عِلَّةً فِي مُقَابَلَةِ النَّصِّ مذکورہ عبارت کا ترجمہ کر کے وضاحت کریں۔
جواب: ترجمہ: پھر استحسان “تخصیصِ علت” کے باب سے نہیں ہے کیونکہ نص کے مقابلے میں وصف کو علت نہیں بنایا گیا۔ وضاحت: اس کا مطلب ہے کہ جب استحسان کی وجہ سے قیاس کو چھوڑا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ علت ناقص ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہاں نص یا قیاسِ جلی سے زیادہ قوی دلیل موجود ہے۔
سوال نمبر 3: (الف) علت طردیہ اور مؤثرہ میں سے ہر ایک کی تعریف کریں۔
جواب: علتِ مؤثرہ: وہ علت ہے جس کا اثر حکم میں نص یا اجماع سے ثابت ہو (جیسے نشہ ہونا حرمتِ شراب کی علت ہے)۔ علتِ طردیہ: وہ وصف ہے جس کے پائے جانے کے وقت حکم تو پایا جائے مگر ان کے درمیان کوئی عقلی یا شرعی مناسبت نہ ہو۔
سوال نمبر 3: (ب) عللِ طردیہ کے دفع کے کل کتنے طریقے ہیں؟ تمام طریقوں کے صرف نام لکھیں۔
جواب: عللِ طردیہ کو دفع (ختم) کرنے کے کل چار طریقے ہیں: (1) ممانعت (2) قلَب (3) معارضہ (4) نقض۔
سوال نمبر 3: (ج) ممانعت کی اقسامِ اربعہ (چار اقسام) کی وضاحت کریں۔
جواب: ممانعت کی چار اقسام یہ ہیں: (1) وصفِ علت کی ممانعت (2) علت کے وصفِ معتبر ہونے کی ممانعت (3) حکمِ اصل کی ممانعت (4) فرع میں علت کے موجود ہونے کی ممانعت۔
سوال نمبر 4: (الف) ترجیح کی تعریف کریں نیز یہ بتائیں کہ اگر دلائل میں تعارض واقع ہو جائے تو ترجیح کس طرح ہوگی؟
جواب: ترجیح کی تعریف: دو برابر کے دلائل میں سے ایک کو ایسی صفت کی بنا پر فضیلت دینا جو دوسرے میں نہ ہو تاکہ اس پر عمل کیا جا سکے۔ تعارض کی صورت میں ترجیح کے طریقے: (1) قوتِ دلیل کی بنا پر (مثلاً آیتِ قرآنی کو خبرِ واحد پر ترجیح دینا) (2) معنی کی کثرت کی بنا پر (مثلاً حقیقت کو مجاز پر ترجیح دینا)۔
سوال نمبر 4: (ب) احکامِ اربعہ اور حقوقِ ثمانیہ (آٹھ حقوق) کے صرف نام لکھیں۔
جواب: احکامِ اربعہ: فرض، واجب، سنت، نفل۔ حقوقِ اللہ ثمانیہ: (1) خالص عبادات (2) خالص عقوبات (3) عبادات جن میں عقوبت کا معنی ہو (4) عقوبات جن میں عبادت کا معنی ہو (5) وہ حقوق جو اموال میں واجب ہوں (6) وہ حقوق جو بذاتِ خود واجب ہوں (7) حقوقِ قائمہ (8) حقوقِ مشترکہ۔
سوال نمبر 4: (ج) سبب، علت اور علامت میں سے ہر ایک کی تعریف لکھیں۔
جواب: سبب: وہ چیز جس کے پائے جانے سے حکم پایا جائے مگر وہ حکم تک پہنچانے والا خود نہ ہو (جیسے وقت نماز کا سبب ہے)۔ علت: وہ صفت جو حکم کو واجب کرتی ہو (جیسے سفر قصرِ نماز کی علت ہے)۔ علامت: وہ چیز جو حکم کی پہچان تو کرائے مگر اس میں اثر نہ رکھتی ہو (جیسے اذان نماز کے وقت کی علامت ہے)۔
کلاس: الشہادۃ العالیہ (بی اے سال اول)
چوتھا پرچہ: فقہ (ہدایہ اولین) – سال 2021
سوال نمبر 1: (الف) وَيَنْعَقِدُ نِكَاحُ الْحُرَّةِ الْعَاقِلَةِ الْبَالِغَةِ بِرِضَائِهَا وَإِنْ لَمْ يَعْقِدْ عَلَيْهَا وَلِيٌّ بِكْرًا كَانَتْ أَوْ ثَيِّبًا مذکورہ عبارت کا ترجمہ کر کے مسئلے کو واضح کریں۔
جواب: ترجمہ: آزاد، عاقلہ اور بالغہ عورت کا نکاح اس کی رضا مندی سے منعقد ہو جاتا ہے اگرچہ اس کا ولی نکاح کا عقد نہ کرے، خواہ وہ عورت کنواری (بکر) ہو یا بیوہ/مطلقہ (ثیب)۔ وضاحت: امام ابو حنیفہ کے نزدیک اگر لڑکی بالغ اور عاقل ہے تو اسے اپنی ذات کا اختیار ہے، وہ اپنی مرضی سے نکاح کر سکتی ہے اور یہ نکاح شرعاً نافذ ہوگا۔
سوال نمبر 1: (ب) بغیر اذنِ ولی بالغہ عورت کے نکاح کے بارے میں اختلافِ ائمہ مع دلائل بیان کریں۔
جواب: امام ابو حنیفہ کے نزدیک بالغہ کا نکاح ولی کے بغیر جائز ہے کیونکہ مہر اور نکاح اس کا اپنا حق ہے۔ امام شافعی اور امام مالک کے نزدیک ولی کے بغیر نکاح باطل ہے، ان کی دلیل یہ حدیث ہے: “لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ” (ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا)۔ احناف اس حدیث کا جواب یہ دیتے ہیں کہ یہاں نکاح سے مراد “کامل نکاح” ہے یا یہ غیر بالغہ کے لیے ہے۔
جواب: ترجمہ: اور نکاح صحیح ہو جاتا ہے اگرچہ اس میں مہر مقرر نہ کیا گیا ہو، اور اسی طرح (نکاح صحیح ہے) جب اس نے اس شرط پر نکاح کیا کہ اس کے لیے کوئی مہر نہیں، اور مہر کی کم از کم مقدار دس درہم ہے۔
سوال نمبر 2: (ب) مذکورہ عبارت کی ہدایہ کی روشنی میں تشریح کریں اور مقدارِ مہر میں اختلاف تحریر کریں۔
جواب: نکاح ایک عقدِ مبادلہ ہے جس میں مہر لازم ہوتا ہے، اگر مہر کا ذکر نہ بھی کیا جائے تب بھی مہرِ مثل لازم آتا ہے۔ احناف کے نزدیک مہر کی کم از کم مقدار 10 درہم ہے (دلیل: لا مہر اقل من عشرۃ دراھم)۔ امام شافعی کے نزدیک مہر کی کوئی کم از کم مقدار مقرر نہیں، ہر وہ چیز جس کی قیمت ہو (خواہ ایک کوڑی ہو) مہر بن سکتی ہے۔
جواب: ترجمہ: دودھ پینے کی تھوڑی مقدار اور زیادہ مقدار برابر ہے (حرمت ثابت ہونے میں) جب وہ رضاعت کی مدت میں حاصل ہو، پھر امام ابو حنیفہ کے نزدیک رضاعت کی مدت 30 ماہ ہے۔ اختلاف: احناف کے نزدیک ایک گھونٹ سے بھی حرمت ثابت ہو جاتی ہے، جبکہ امام شافعی کے نزدیک کم از کم 5 بار پیٹ بھر کر دودھ پینا ضروری ہے۔ مدت میں اختلاف یہ ہے کہ صاحبین اور امام شافعی کے نزدیک مدت 2 سال (24 ماہ) ہے جبکہ امام اعظم کے نزدیک احتیاطاً ڈھائی سال (30 ماہ) ہے۔
سوال نمبر 3: (ب) “الا ام اختہ من الرضاعۃ فانہ یجوز ان یتزوجھا ولا یجوز ان یتزوج ام اختہ من النسب” کا ترجمہ اور توضیح کریں۔
جواب: ترجمہ: سوائے رضاعی بہن کی ماں کے، اس سے نکاح جائز ہے، جبکہ نسبی بہن کی ماں سے نکاح جائز نہیں۔
توضیح: نسبی بہن کی ماں یا تو انسان کی اپنی ماں ہوگی یا سوتیلی ماں (منکوحہ باپ) جو محرم ہے، لیکن رضاعی بہن کی ماں ایک اجنبی عورت ہو سکتی ہے جس نے صرف آپ کی بہن کو دودھ پلایا ہو، اس لیے اس سے نکاح جائز ہے۔
سوال نمبر 4: (الف) طلاقِ حسن، احسن اور بدعی کی تفصیل ہدایہ کی روشنی میں بیان کریں۔
جواب: طلاقِ احسن: پاکیزگی کی حالت (طہر) میں ایک طلاق دینا اور عدت گزرنے تک رجوع نہ کرنا۔ طلاقِ حسن: تین طہروں میں تین الگ الگ طلاقیں دینا۔
طلاقِ بدعی: ایک ہی کلمے سے تین طلاقیں دینا یا حیض کی حالت میں طلاق دینا (یہ گناہ ہے مگر واقع ہو جاتی ہے)۔
سوال نمبر 4: (ب) رجعی، بائن اور مغلظ طلاقوں کی جامع تعریفات و احکام لکھیں۔
جواب: طلاقِ رجعی: وہ طلاق جس میں عدت کے دوران شوہر کو رجوع کا حق حاصل ہو (مثلاً ایک یا دو طلاقِ صریح)۔
طلاقِ بائن: وہ طلاق جس سے نکاح فوراً ختم ہو جائے اور دوبارہ ساتھ رہنے کے لیے تجدیدِ نکاح ضروری ہو (مثلاً طلاقِ کنایہ)۔
طلاقِ مغلظ: تین طلاقیں، جس کے بعد عورت حرام ہو جاتی ہے اور حلالہ شرعی کے بغیر نکاح نہیں ہو سکتا۔
سوال نمبر 4: (ج) ہدایہ کے مصنف کا نام لکھیں۔
جواب: ہدایہ کے مصنف کا نام علامہ برہان الدین ابوالحسن علی بن ابوبکر مرغینانی ہے۔
کلاس: الشہادۃ العالیہ (بی اے سال اول)
پانچواں پرچہ: الادب العربی والبلاغہ (مقاماتِ حریری و مختصر المعانی)
جواب: ترجمہ: پھر (دعا کرتا ہوں) محمد ﷺ کے توسل سے جو تمام انسانوں کے سردار ہیں اور محشر میں ایسی شفاعت کرنے والے ہیں جو قبول کی جائے گی، جن کے ذریعے آپ نے نبیوں کا سلسلہ ختم فرمایا اور جن کا درجہ علیین میں بلند فرمایا۔
جواب: ترجمہ: پس میں نے اس (شہر) کی گلیوں میں ایک بھٹکتے ہوئے شخص کی طرح چکر لگانا شروع کیا اور میں اس کے چوکوں میں اس طرح گھومنے لگا جیسے پیاسا پرندہ پانی کے گرد گھومتا ہے۔
جواب: ترجمہ: پہلا فن علمِ معانی ہے، مصنف نے اسے علمِ بیان پر مقدم کیا ہے کیونکہ علمِ معانی کی حیثیت مفرد کی ہے اور علمِ بیان کی مرکب کی (یعنی معانی بنیادی ہے)۔
وضاحت: کلام کو مقتضی حال کے مطابق لانا بنیادی صفت ہے جو علمِ معانی سکھاتا ہے، اس کے بعد کلام کو مختلف طریقوں سے بیان کرنا (بیان) آتا ہے۔
سوال نمبر 3: (ب) علمِ معانی کی تعریف فوائد و قیود کے ساتھ بیان کریں۔
جواب: تعریف: وہ علم جس کے ذریعے عربی کلام کے ان احوال کو جانا جائے جن کی وجہ سے کلام مقتضی حال کے مطابق ہوتا ہے۔
فائدہ: کلام کے فصیح و بلیغ پہلوؤں کو سمجھنا اور کلامِ الٰہی (قرآن) کے اعجاز سے واقف ہونا۔
سوال نمبر 4: (الف) صِدْقُ الْخَبَرِ مُطَابَقَتُهُ لِلْوَاقِعِ وَكَذِبُهُ عَدَمُهَا وَقِيلَ مُطَابَقَتُهُ لِاعْتِقَادِ الْمُخْبِرِ کا ترجمہ و تشریح کریں۔
جواب: ترجمہ: خبر کا سچ ہونا اس کا حقیقت (واقعہ) کے مطابق ہونا ہے اور جھوٹ اس کا حقیقت کے خلاف ہونا ہے۔ اور ایک قول یہ ہے کہ خبر کا سچ ہونا متکلم کے عقیدے کے مطابق ہونا ہے۔
وضاحت: جمہور کے نزدیک سچائی کا معیار “واقعہ” ہے، جبکہ جاحظ کے نزدیک سچائی کا معیار متکلم کا “اعتقاد” ہے۔
سوال نمبر 4: (ب) فائدہ خبر، لازم فائدہ خبر، ابتدائی، طلبی اور انکاری کی تعریف کریں۔
جواب: (1) فائدہ خبر: مخاطب کو نیا حکم دینا۔ (2) لازم فائدہ خبر: مخاطب کو یہ بتانا کہ متکلم کو بھی علم ہے۔ (3) ابتدائی: مخاطب خالی الذہن ہو (بغیر تاکید کلام)۔ (4) طلبی: مخاطب کو شک ہو (ایک تاکید کے ساتھ)۔ (5) انکاری: مخاطب انکار کرے (ایک سے زیادہ تاکیدات کے ساتھ)۔
سوال نمبر 5: (الف) حذفِ مسند الیہ کی پانچ وجوہ مع امثلہ تحریر کریں۔
جواب: (1) احتراز عن العبث: کلام کو فضول طول سے بچانا۔ (2) تعظیم: نام لینے سے بچ کر احترام کرنا۔ (3) تحقیر: نام لینے کو اپنی زبان کی توہین سمجھنا۔ (4) تنگیِ وقت: جیسے شکاری کا کہنا: “غزالٌ” (ہرن ہے)۔ (5) چھپانا: کسی کا نام ظاہر نہ کرنا تاکہ وہ محفوظ رہے۔
سوال نمبر 5: (ب) فصاحت فی المفرد کی تعریف، تنافرِ حروف، غرابت اور مخالفتِ قیاس کی مثالیں لکھیں۔
جواب: تعریف: کلمہ کا زبان پر سہل ہونا اور قواعد کے مطابق ہونا۔
مثالیں: (1) تنافرِ حروف: ہُخْعُخ (سخت لفظ)۔ (2) غرابت: تَكأكَأْتُم (نا مانوس لفظ)۔ (3) مخالفتِ قیاس: مَوَدَّت (قاعدہ کے خلاف ادغام نہ کرنا)۔
کلاس: الشہادۃ العالیہ (بی اے سال اول)
چھٹا پرچہ: العقائد والمنطق (شرح العقائد و شرح تہذیب) – سال 2021
جواب: ترجمہ: ان (انبیاء و صالحین) کی قبور کی زیارت کرنا مستحب نیکی ہے اور اسی طرح ان کی طرف سفر کرنا بھی مستحب ہے۔ علماء کرام نے فرمایا کہ اسلام کے ابتدائی دور میں زیارتِ قبور سے منع کیا گیا تھا، پھر آپ ﷺ کے قول اور فعل سے یہ حکم منسوخ ہو گیا۔
سوال نمبر 1: (ب) انبیاء اور صالحین نیز عامتہ المسلمین کی قبور کی زیارت کا حکم تحریر کریں۔
جواب: انبیاء اور اولیاء کی قبور کی زیارت مستحب اور باعثِ برکت ہے تاکہ ان کے فیوض و برکات حاصل کیے جائیں۔ عام مسلمانوں کی قبروں کی زیارت بھی سنت ہے تاکہ موت کی یاد آئے اور میت کو ایصالِ ثواب کیا جا سکے۔
سوال نمبر 1: (ج) قبر کو برکت کے لیے ہاتھ لگانے اور چومنے کا حکم لکھیں۔
جواب: عام طور پر قبر کو چومنے یا ہاتھ لگانے سے بچنا ادب کے قریب ہے، لیکن اگر کوئی شخص غلبہِ محبت میں تبرک کے طور پر ایسا کرے تو اسے کفر یا شرک نہیں کہا جائے گا، تاہم سجدہ کرنا حرام ہے۔
سوال نمبر 2: (الف) توسل اور استغاثہ میں کیا فرق ہے؟
جواب: توسل کا مطلب ہے اللہ کی بارگاہ میں کسی مقبول بندے کا وسیلہ پیش کرنا (مثلاً: اے اللہ! فلاں کے صدقے میری دعا قبول فرما)۔
استغاثہ کا مطلب ہے کسی مقبول بندے کو پکارنا (مثلاً: یا رسول اللہ! میری مدد فرمائیں) اس عقیدے کے ساتھ کہ مدد کی اصل طاقت اللہ کے پاس ہے اور یہ اللہ کے دیے ہوئے اختیار سے مدد کر رہے ہیں۔
سوال نمبر 3: درج ذیل میں سے پانچ عنوانات پر مختصر نوٹ لکھیں۔ جواب:
محبتِ اہل بیت: اہل بیت سے محبت ایمان کا حصہ ہے، حضور ﷺ نے فرمایا: “میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑ رہا ہوں، اللہ کی کتاب اور میرے اہل بیت”۔
اثباتِ عذابِ قبر: قبر کا عذاب اور راحت حق ہے، یہ روح اور جسم دونوں پر ہوتا ہے، جس پر قرآن و سنت کے ٹھوس دلائل موجود ہیں۔
کرامتِ ولی: نبی کے معجزے کی طرح ولی کی کرامت حق ہے، جو اس کے اتباعِ سنت کی برکت سے ظاہر ہوتی ہے۔
تلقینِ میت: دفن کے بعد میت کو عقائد کی یاد دہانی کروانا (تلقین) مستحب ہے تاکہ وہ منکر نکیر کے سوالات کے جواب دے سکے۔
اذان علی القبر: دفن کے بعد قبر پر اذان دینا میت کی گھبراہٹ دور کرنے اور شیطان کو بھگانے کے لیے جائز و مستحسن ہے۔
قسم ثانی: منطق
سوال نمبر 4: (الف) رسالہ کے ان امور (مقدمہ، تین مقالات، خاتمہ) پر مرتب ہونے کی وجہ لکھیں نیز مصنف کا نام لکھیں۔
جواب: وجہ حصر یہ ہے کہ کلام یا تو مقصود ہوتا ہے یا نہیں۔ اگر مقصود نہ ہو تو “مقدمہ” ہے، اگر مقصود ہو تو یا تو وہ “تصورات” ہیں (پہلا مقالہ) یا “تصدیقات” (دوسرا مقالہ) یا “خاتمہ”۔ اس رسالہ سے مراد “تہذیب المنطق” ہے اور اس کے مصنف علامہ علامہ سعد الدین تفتازانی ہیں۔
سوال نمبر 4: (ب) فنِ منطق کی تعریف، موضوع اور غرض و غایت تحریر کریں۔
جواب: تعریف: وہ آلہ قانون ہے جس کا لحاظ رکھنے سے ذہن غور و فکر میں غلطی سے بچ جائے۔
موضوع: معلوماتِ تصوریہ اور معلوماتِ تصدیقیہ جن کے ذریعے نامعلوم تصورات اور تصدیقات تک پہنچا جائے۔ غرض و غایت: غور و فکر میں ذہن کو غلطی سے بچانا۔
جواب: ترجمہ: اور علم (یا تصور) عقل میں کسی چیز کی صورت کے حاصل ہونے کا نام ہے۔ یہ “مطلق تصور” کی تعریف ہے نہ کہ صرف “تصور فقط” کی۔ تشریح: منطق میں جب ہم حصولِ صورت کہتے ہیں تو اس میں سادہ خیال (تصور) اور وہ خیال جس میں فیصلہ ہو (تصدیق) دونوں شامل ہوتے ہیں۔
سوال نمبر 5: (ب) “ہو” ضمیر کا مرجع بتائیں نیز “تصور فقط” کی تعریف کریں۔
جواب: ضمیر “ہو” کا مرجع “العلم” ہے۔ “تصور فقط” کی تعریف یہ ہے کہ کسی چیز کا ایسا سادہ خیال آنا جس میں کوئی حکم (ہاں یا نہ کا فیصلہ) شامل نہ ہو۔
سوال نمبر 6: درج ذیل اصطلاحات کی تعریفات لکھیں۔
جواب:
فکر:معلوم ترتیب سے نامعلوم نتیجے تک پہنچنے کی ذہنی حرکت۔
ترتیب:اشیاء کو اس طرح ایک دوسرے کے ساتھ رکھنا کہ ان سے ایک مقصد حاصل ہو۔
دور:ایک چیز کا وجود دوسری چیز پر موقوف ہو اور دوسری کا پہلی پر (یہ باطل ہے)۔
تسلسل: علتوں اور معلولوں کا ایک لامتناہی سلسلہ جو کبھی ختم نہ ہو (یہ بھی باطل ہے)۔
لا بشرطِ شئی: کسی ماہیت کو اس طرح دیکھنا کہ اس کے ساتھ کسی اور صفت کے ہونے یا نہ ہونے کی کوئی شرط نہ ہو۔