Tanzeem ul Madaris Solved Past Paper 2021 | PDF (طلباء کے لیے) خاصه سال دوم

خاصہ سال دوم – 2021 (پہلا پرچہ: قرآن مجید)

سوال نمبر 1: (الف) کلامِ باری و کلامِ مفسر پر اعراب لگا کر ترجمہ کریں:
وَعِبَادُ الرَّحْمَنِ مُبْتَدَأٌ وَمَا بَعْدَهُ صِفَاتٌ لَهُ إِلَى أُولَئِكَ يُجْزَوْنَ غَيْرَ الْمُعْتَرَضِ فِيهِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا أَيْ بِسَكِينَةٍ وَتَوَاضُعٍ وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ بِمَا يَكْرَهُونَهُ قَالُوا سَلَامًا أَيْ قَوْلًا يَسْلَمُونَ فِيهِ مِنَ الْإِثْمِ
جواب: ترجمہ: اور “عبادُ الرحمن” (الرحمن کے بندے) مبتدا ہے اور اس کے بعد والی آیات اس کی صفات ہیں یہاں تک کہ “أُولَئِكَ يُجْزَوْنَ” (ان کو جزا دی جائے گی) تک، (وہ بندے) جو زمین پر عاجزی سے چلتے ہیں یعنی سکون اور انکساری کے ساتھ، اور جب جاہل ان سے ایسی بات کریں جو انہیں ناپسند ہو تو وہ سلام کہتے ہیں یعنی ایسی بات کہتے ہیں جس میں وہ گناہ سے محفوظ رہیں۔
سوال نمبر 1: (ب) عباد الرحمن کی عبارت میں مذکور صفات کے علاوہ دیگر صفات میں سے کوئی چار صفات تفصیل سے تحریر کریں۔
جواب: وہ اپنی راتیں اپنے رب کے حضور سجدے اور قیام (تہجد) میں گزارتے ہیں۔ وہ دعا کرتے ہیں کہ اے رب! ہم سے جہنم کا عذاب پھیر دے، بے شک اس کا عذاب چمٹ جانے والا ہے۔ وہ خرچ کرتے وقت نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ ہی کنجوسی، بلکہ اعتدال اختیار کرتے ہیں۔ وہ اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے اور نہ ہی کسی نفس کو ناحق قتل کرتے ہیں۔
سوال نمبر 1: (ج) اللہ کے نیک بندوں کی پسندیدہ چال کی توضیح کریں۔
جواب: قرآنِ پاک نے نیک بندوں کی چال کو “ہوناً” کہا ہے، جس سے مراد یہ ہے کہ وہ زمین پر وقار، سکون اور عاجزی کے ساتھ چلتے ہیں۔ ان کی چال میں تکبر، اکڑ یا بناوٹ نہیں ہوتی بلکہ ان کے قدموں سے ان کی باطنی فروتنی اور اللہ کا خوف ظاہر ہوتا ہے۔

سوال نمبر 2: (الف) کلامِ باری و کلامِ مفسر کی تشکیل کے بعد ترجمہ کریں:
قَالَ مُوسَى رَبِّ إِنِّي أَخَافُ أَنْ يُكَذِّبُونِ وَيَضِيقُ صَدْرِي مِنْ تَكْذِيبِهِمْ لِي وَلَا يَنْطَلِقُ لِسَانِي بِأَدَاءِ الرِّسَالَةِ لِلْعُقْدَةِ الَّتِي فِيهِ فَأَرْسِلْ إِلَى أَخِي هَارُونَ مَعِي وَلَهُمْ عَلَيَّ ذَنْبٌ بِقَتْلِ الْقِبْطِيِّ مِنْهُمْ فَأَخَافُ أَنْ يَقْتُلُونِ بِهِ
جواب: ترجمہ: موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا: اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے، اور میرا سینہ (ان کی تکذیب کی وجہ سے) تنگ ہوتا ہے، اور میری زبان پیغامِ رسالت کی ادائیگی میں (روانی سے) نہیں چلتی اس گرہ کی وجہ سے جو اس میں ہے، پس تو ہارون (علیہ السلام) کی طرف بھی وحی بھیج، اور ان کا مجھ پر ایک گناہ (کا دعویٰ) ہے (قبطی کے قتل کی وجہ سے) پس میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے اس کے بدلے قتل کر دیں گے۔

سوال نمبر 3: (الف) کلامِ باری و کلامِ مفسر کا ترجمہ کریں، نیز مذکورہ عبارت کی توضیح کریں۔
وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ داوُدَ النُّبُوَّةَ وَالْعِلْمَ وَقالَ يا أَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنا مَنْطِقَ الطَّيْرِ أَيْ فَهْمَ أَصْواتِهِ وَأُوتِينا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْتَاهُ الْأَنْبِيَاءُ وَالْمُلُوکُ إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِينُ الْبَيِّنُ
جواب: ترجمہ: اور سلیمان (علیہ السلام) داؤد (علیہ السلام) کے وارث ہوئے (یعنی نبوت اور علم میں) اور انہوں نے کہا: اے لوگو! ہمیں پرندوں کی بولیاں سکھائی گئی ہیں (یعنی ان کی آوازوں کا سمجھنا) اور ہمیں ہر وہ چیز عطا کی گئی ہے جو انبیاء اور بادشاہوں کو دی جاتی ہے، بے شک یہ تو (اللہ کا) کھلا ہوا فضل ہے۔

مختصر سوالات
س 1: بلقیس کا تخت حاضر کرنے والے کون تھے اور تخت کی کیفیت کیا تھی؟
ج: بلقیس کا تخت حضرت آصف بن برخیا نے حاضر کیا تھا جن کے پاس کتاب کا علم تھا۔ وہ تخت سونے اور قیمتی جواہرات سے مزین اور نہایت عالیشان تھا۔
س 2: عنکبوت کا معنی کیا ہے؟
ج: عنکبوت عربی زبان کا لفظ ہے جس کا اردو معنی ‘مکڑی’ ہے۔
س 3: حضرت سلیمان علیہ السلام نے چیونٹی کی آواز کتنے فاصلے سے سنی؟
ج: حضرت سلیمان علیہ السلام نے چیونٹی کی آواز تقریباً تین میل کے فاصلے سے سن لی تھی، جو کہ آپ کا ایک معجزہ تھا۔
س 4: انسان کی جمع کیا ہے؟
ج: انسان کی جمع ‘أناسیّ’ یا ‘ناس’ آتی ہے۔
س 5: ان اصنع کون سا صیغہ ہے؟
ج: ‘اصنع’ فعل امر، واحد مذکر حاضر کا صیغہ ہے۔
س 6: سماعِ موتی سے کیا مراد ہے؟
ج: اس سے مراد مردوں کا زندہ انسانوں کی آواز یا کلام کو سن لینا ہے۔
س: حضرت شعیب علیہ السلام کو کس قوم کی طرف بھیجا گیا تھا اس کا نام لکھیں اور ان میں کون سی برائی تھی؟
ج: حضرت شعیب علیہ السلام کو “اہلِ مدین” کی طرف بھیجا گیا تھا۔ ان میں سب سے بڑی برائی ناپ تول میں کمی کرنا تھی۔

خاصہ سال دوم – 2021 (دوسرا پرچہ: حدیث و عربی ادب)

قسم اول: حدیثِ مبارکہ

سوال نمبر 1: (الف) حدیث شریف پر اعراب لگائیں اور ترجمہ کریں:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَالَ: كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ، قِيلَ: فَمَنْ مَاتَ صَغِيرًا يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: اللهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ.
جواب: ترجمہ: حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی بنا دیتے ہیں۔ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! جو بچپن میں فوت ہو جائے (اس کا کیا حکم ہے)؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ (بڑے ہو کر) کیا عمل کرنے والے تھے۔
سوال نمبر 1: (ب) حدیث شریف کی تشریح و توضیح سپردِ قلم کریں۔
جواب: اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر روح میں حق کو قبول کرنے کی صلاحیت رکھی ہے، جسے ‘فطرت’ کہا جاتا ہے۔ بچہ پیدائشی طور پر توحید کی طرف مائل ہوتا ہے، مگر والدین کی تربیت اور گرد و پیش کا ماحول اسے کفر یا دیگر مذاہب کی طرف لے جاتا ہے۔ نابالغ بچوں کی وفات کے متعلق آپ ﷺ کا جواب اللہ کے علمِ ازلی کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ جانتا ہے کہ اگر وہ زندہ رہتے تو ان کا عقیدہ اور عمل کیا ہوتا۔

سوال نمبر 2: (الف) حدیث شریف کا ترجمہ کریں نیز “شیعۃ الدجال” کی توضیح کریں۔
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: الْقَدَرِيَّةُ مَجُوسُ هَذِهِ الْأُمَّةِ وَهُمْ شِيعَةُ الدَّجَّالِ
جواب: ترجمہ: حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قدریہ (تقدیر کا انکار کرنے والے) اس امت کے مجوسی ہیں اور وہ دجال کے ساتھی ہیں۔ توضیح: “شِیْعَۃُ الدَّجَّالِ” سے مراد وہ لوگ ہیں جو دجال کے فتنے کے وقت اس کے پیروکار ہوں گے یا اس کے باطل نظریات کی حمایت کریں گے، کیونکہ تقدیر کا انکار انسان کو عقلی طور پر دجال کے فتنے میں مبتلا کرنے کا سبب بنتا ہے۔
سوال نمبر 2: (ب) تقدیر کے منکر کون ہیں نیز یہ بتائیں کہ انہیں “مجوس هذه الامة” کیوں کہا گیا ہے؟
جواب: تقدیر کے منکر وہ لوگ ہیں جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ انسان اپنے افعال کا خود خالق ہے اور اللہ تعالیٰ کو ان کا پہلے سے علم نہیں ہوتا۔ ان کو مجوسیوں سے اس لیے تشبیہ دی گئی کیونکہ مجوسی کائنات میں دو خالق (یزداں اور اہرمن یعنی نور و ظلمت) مانتے تھے، اسی طرح قدریہ نے بھی انسان کو اپنے فعل کا الگ خالق مان کر اللہ کی واحدانیت میں مشابہت پیدا کی، اس لیے وہ اس امت کے مجوسی کہلائے۔

سوال نمبر 3: (الف) امام ابوحنیفہ اور امام اوزاعی کے درمیان رفع یدین پر کیا مکالمہ ہوا؟ توضیح کریں۔
جواب: امام اوزاعی نے امام صاحب سے کہا کہ آپ رکوع میں جاتے اور اٹھتے وقت رفع یدین کیوں نہیں کرتے؟ پھر اپنی سند سے حدیث پیش کی۔
امام ابوحنیفہ نے جواب میں اپنی سند (حماد، ابراہیم، علقمہ) سے حضرت عبداللہ بن مسعود کی حدیث پیش کی کہ نبی ﷺ صرف شروع میں ہاتھ اٹھاتے تھے۔
جب امام اوزاعی نے اپنی سند کو عالی (مختصر) کہا تو امام صاحب نے جواب دیا کہ میری سند کے راوی فقہ میں آپ کے راویوں سے زیادہ ماہر ہیں۔ اس دلیل پر امام اوزاعی خاموش ہو گئے۔

قسم دوم: الادب العربی

سوال نمبر 4: درج ذیل اشعار میں سے پانچ کا ترجمہ کریں:
جواب: جب وہ دونوں (عورتیں) اٹھتی ہیں تو ان سے مشک کی خوشبو ایسے پھیلتی ہے جیسے صبا کی نسیم لونگ کی خوشبو لاتی ہے۔
پس میری آنکھ سے آنسو کثرتِ محبت کی وجہ سے میرے سینے پر بہہ پڑے یہاں تک کہ انہوں نے میری تلوار کے پرتلے کو بھگو دیا۔
وہ (محبوبہ) کہنے لگی جبکہ کجاوہ ہم دونوں کے بوجھ سے جھک گیا تھا: اے امرؤ القیس! تو نے میرا اونٹ زخمی کر دیا، اب اتر جا۔
کیا تجھے میری اس بات نے دھوکے میں ڈالا کہ تیری محبت میرا قتل کرنے والی ہے اور یہ کہ تو دل کو جو بھی حکم دے گی وہ کرے گا۔
اور کتنی ہی راتیں سمندر کی موجوں کی طرح ہیں جنہوں نے اپنے پردے مجھ پر لٹکا دیے تاکہ طرح طرح کے غموں سے میرا امتحان لے۔

مختصر سوالات
س 1: “تَضَوَّعَ” کی صرفی تحقیق کیا ہے؟
ج: یہ فعل ماضی، واحد مذکر غائب، باب تفعل سے ہے، اس کا معنی ‘خوشبو پھیلنا’ ہے۔
س 2: “فَاضَتْ” کی صرفی تحقیق کیا ہے؟
ج: یہ فعل ماضی، واحد مؤنث غائب، باب ضرب (فیض) سے ہے، اس کا معنی ‘بہہ پڑنا’ ہے۔
س 3: “عَقَرْتَ” کی صرفی تحقیق کیا ہے؟
ج: یہ فعل ماضی، واحد مذکر حاضر، باب ضرب سے ہے، اس کا معنی ‘تو نے زخمی کیا یا کاٹ ڈالا’ ہے۔
س 4: سبع معلقات کی وجہ تسمیہ کیا ہے؟
ج: ‘معلقہ’ لٹکائی ہوئی چیز کو کہتے ہیں۔ زمانہ جاہلیت کے سات بہترین قصیدوں کو سونے کے پانی سے لکھ کر کعبہ کی دیواروں پر لٹکایا گیا تھا، اس لیے انہیں سبع معلقات کہا جاتا ہے۔
س 5: دو معلقات کے شعراء کے نام لکھیں؟
ج: (1) امرؤ القیس (2) زہیر بن ابی سلمیٰ۔

خاصہ سال دوم – 2021 (تیسرا پرچہ: فقہ)

سوال نمبر 1: (الف) مذکورہ عبارت “والمفروض في مسح الرأس…” کے تحت ہدایہ میں بیان کیے گئے اختلافِ ائمہ کو مع الدلائل بیان کریں۔
جواب: سر کے مسح کی مقدار میں ائمہ کا اختلاف درج ذیل ہے:
امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک پیشانی کی مقدار یعنی چوتھائی سر کا مسح فرض ہے، ان کی دلیل حضرت مغیرہ بن شعبہ کی روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اپنی پیشانی (ناصیہ) پر مسح فرمایا۔ امام شافعی کے نزدیک سر کے مسح کی کم از کم مقدار تین بال ہیں، کیونکہ آیت میں “بِـرُؤُوسِكُمْ” میں ‘ب’ تبعیض (حصر) کے لیے ہے۔
مام مالک کے نزدیک پورے سر کا مسح فرض ہے، ان کی دلیل آیت کا ظاہری حکم ہے کہ سر کا مسح کرو، جس سے مراد پورا سر ہے۔
سوال نمبر 1: (ب) “والمرفقان والكعبان يدخلان في الغسل” مذکورہ مسئلہ میں اختلافِ ائمہ بالتفصیل لکھیں۔
جواب: وضو میں کہنیوں اور ٹخنوں کو دھونے میں شامل کرنے کے متعلق فقہاء کی آراء یہ ہیں: ا
مام ابوحنیفہ، امام شافعی اور امام مالک کے نزدیک کہنیاں اور ٹخنے دھونے میں داخل ہیں اور انہیں دھونا فرض ہے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ آیت میں موجود حرفِ غایت “الیٰ” (تک) یہاں “مع” (ساتھ) کے معنی میں ہے، جیسے قرآن میں “إِلَىٰ أَمْوَالِكُمْ” کا معنی اپنے مالوں کے ساتھ ہے۔ امام زفر اور داؤد ظاہری کے نزدیک کہنیاں اور ٹخنے دھونے میں داخل نہیں ہیں، کیونکہ غایت (انتہا) مغیا (جس کی انتہا ہو) میں داخل نہیں ہوتی۔

سوال نمبر 2: (الف) عبارت “والدابة تخرج من الدبر…” کی تشکیل اور ترجمہ کریں۔
جواب: ترجمہ: اور وہ کیڑا جو پیچھے کے مقام (دبر) سے نکلے وہ وضو توڑنے والا ہے، پس اگر وہ زخم کے سرے سے نکلے یا زخم سے گوشت کا ٹکڑا گر جائے تو وضو نہیں ٹوٹے گا۔ اور کیڑے سے مراد یہاں ‘کدو دانہ’ ہے، اور یہ (وضو کا ٹوٹنا) اس لیے ہے کہ اس پر نجاست لگی ہوتی ہے اور وہ اگرچہ تھوڑی ہے لیکن وہ سبیلین (آگے پیچھے کے راستوں) سے نکلا ہے، پس یہ ریاح (ہوا) کے مشابہ ہو گیا (جو نجاست نہ ہونے کے باوجود وضو توڑ دیتی ہے)۔
سوال نمبر 2: (ب) غدیرِ عظیم کی حد بیان کریں، اگر اس میں نجاست گر جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟
جواب: غدیرِ عظیم (بڑے تالاب) سے مراد وہ پانی ہے جو دہ در دہ  اس کے ایک کونے کو ہلانے سے دوسرا کونا نہ ہلے۔ حکم: اگر غدیرِ عظیم میں نجاست گر جائے تو وہ ناپاک نہیں ہوتا جب تک کہ نجاست کی وجہ سے پانی کا رنگ، بو یا ذائقہ تبدیل نہ ہو جائے۔
سوال نمبر 2: (ج) ماءِ مستعمل کی تعریف اور حکم بیان کریں۔
جواب: ماءِ مستعمل وہ پانی ہے جس سے وضو یا غسل کیا گیا ہو یا اسے ثواب کی نیت سے (باوضو ہونے کے باوجود وضو کرنے میں) استعمال کیا گیا ہو۔ حکم: امام اعظم کے نزدیک صحیح قول کے مطابق یہ پانی خود تو پاک ہے لیکن دوسروں کو پاک کرنے والا نہیں ہے (طاہر غیر مطہر)۔

سوال نمبر 3: (ب) نمازِ ظہر کے وقت میں امام اعظم اور صاحبین کا اختلاف مع دلائل ذکر کریں۔
جواب: ظہر کا وقت ختم ہونے کے متعلق فقہاء کا اختلاف یہ ہے:
صاحبین (امام ابو یوسف اور امام محمد) کے نزدیک ظہر کا وقت تب ختم ہوتا ہے جب ہر چیز کا سایہ اس کے اصلی سائے کے علاوہ ایک مثل (ایک گنا) ہو جائے۔ ان کی دلیل جبرائیل علیہ السلام کی امامت والی حدیث ہے جہاں انہوں نے دوسرے دن ایک مثل پر ظہر پڑھائی۔
امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک ظہر کا وقت تب ختم ہوتا ہے جب سایہ اصلی کے علاوہ دو مثل (دو گنا) ہو جائے۔ ان کی دلیل نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ ظہر کو ٹھنڈا کر کے پڑھو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کے سانس سے ہے، اور ایک مثل پر تو گرمی کی شدت باقی رہتی ہے۔

مختصر سوالات
س 1: “المنی نجس یجب غسلہ رطباً” کی کوئی ایک دلیل ذکر کریں؟
ج: اس کی دلیل حضرت عائشہ صدیقہ کی روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے کپڑے سے منی کو دھو ڈالتی تھی، اور دھونا نجاست کی دلیل ہے۔
س 2: نفاس کی تعریف کیا ہے؟
ج: نفاس وہ خون ہے جو بچے کی ولادت کے بعد رحم سے نکلتا ہے۔
س 3: کیا موزوں پر مسح کرنا جائز ہے؟
ج: جی ہاں، موزوں پر مسح کرنا جائز ہے اور اس کا ثبوت متواتر احادیث سے ملتا ہے۔
س 4: عیدین کی تکبیرات میں ہاتھ اٹھانے کا کیا حکم ہے؟
ج: عیدین کی زائد تکبیرات میں ہر تکبیر کے ساتھ ہاتھ کانوں تک اٹھانا واجب ہے۔
س 5: نماز باجماعت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
ج: نماز باجماعت ادا کرنا سنتِ مؤکدہ ہے جو کہ شعائرِ اسلام میں سے ہے۔

خاصہ سال دوم – 2021 (چوتھا پرچہ: اصولِ فقہ)

سوال نمبر 1: (الف) اصولِ شرع کتنے ہیں تعداد بتائیں اور وجہ حصر بیان کریں۔
جواب: اصولِ شرع چار ہیں:
کتاب اللہ، سنتِ رسول، اجماعِ امت اور قیاس۔
وجہ حصر یہ ہے کہ حکمِ شرعی یا تو وحی الٰہی ہوگا یا نہیں۔ اگر وحی ہے تو وہ کلامِ منظوم ہو تو “کتاب اللہ” ہے اور اگر کلامِ منظوم نہ ہو بلکہ قول یا فعلِ رسول ہو تو وہ “سنت” ہے۔
اگر وحی نہیں ہے تو یا تو اس پر پوری امت کا اتفاق ہوگا جو “اجماع” کہلاتا ہے یا پھر اس حکم کو کسی علت کی بنیاد پر سابقہ حکم سے نکالا گیا ہوگا جو “قیاس” کہلاتا ہے۔
سوال نمبر 1: (ب) علم اصولِ فقہ کی تعریف، موضوع اور غرض و غایت تحریر کریں۔
جواب: تعریف: وہ علم جس میں ان قواعد سے بحث کی جائے جن کے ذریعے دلائلِ تفصیلیہ سے احکامِ شرعیہ حاصل کیے جائیں۔
موضوع: ادلہ اربعہ (کتاب اللہ، سنت، اجماع اور قیاس) اس علم کا موضوع ہیں کیونکہ ان کے ذریعے احکام ثابت ہوتے ہیں۔
غرض و غایت: اس علم کا مقصد یہ ہے کہ انسان احکامِ شرعیہ کو ان کے اصل مآخذ سے نکالنے کی صلاحیت پیدا کرے تاکہ دارین کی سعادت حاصل کر سکے۔
سوال نمبر 1: (ج) کتاب اللہ کی تعریف اور اس تعریف میں مذکور قیودات کے فوائد لازمی تحریر کریں۔
جواب: کتاب اللہ وہ کلام ہے جو رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا، مصاحف میں لکھا ہوا ہے اور ہم تک تواتر کے ساتھ پہنچا ہے۔
قیودات کے فوائد: “نازل شدہ علی الرسول” کی قید سے سابقہ کتب (تورات، انجیل وغیرہ) نکل گئیں کیونکہ وہ اب منسوخ ہیں۔
“مکتوب فی المصاحف” کی قید سے وہ احادیثِ قدسیہ نکل گئیں جو قرآن کا حصہ نہیں ہیں۔
“منقول عن النبی تواتراً” کی قید سے اخبارِ احاد اور شاذ قرأتیں نکل گئیں، جیسے ابنِ مسعود کی روزوں کے بارے میں قراءت۔

سوال نمبر 2: (الف) مصنف نے نظم اور معنی کے اعتبار سے احکامِ شرع کی کتنی تقسیمات کی ہیں؟
جواب: مصنف نے نظم اور معنی کے اعتبار سے کل چار بڑی تقسیمات کی ہیں:
پہلی تقسیم: وضع کے اعتبار سے (خاص، عام، مشترک، مؤول)۔
دوسری تقسیم: استعمال کے اعتبار سے (حقیقت، مجاز، صریح، کنایہ)۔ تیسری تقسیم:
ظہور و خفاء کے اعتبار سے (ظاہر، نص، مفسر، محکم اور ان کے مقابل)۔
چوتھی تقسیم: طریقِ استدلال کے اعتبار سے (عبارت النص، اشارت النص، دلالت النص، اقتضاء النص)۔
سوال نمبر 2: (ب) خاص کی تعریف، حکم اور مثال بیان کریں۔
جواب: تعریف: خاص وہ لفظ ہے جو ایک معلوم فرد یا ایک معلوم نوع کے لیے وضع کیا گیا ہو۔
حکم: خاص کا حکم یہ ہے کہ یہ اپنے معنی پر قطعی طور پر دلالت کرتا ہے اور اس پر عمل کرنا واجب ہوتا ہے۔
مثال: جیسے لفظ “ثلاثہ” (تین)۔ یہ ایک خاص عدد ہے، اس میں کمی یا زیادتی کا احتمال نہیں ہوتا۔

مختصر سوالات 
س 1: نور الانوار کس کتاب کی شرح ہے؟
ج: نور الانوار، امام ابوالبرکات نسفی کی کتاب “المنار” (منار الانوار) کی شرح ہے۔
س 2: مؤول کی تعریف اور حکم کیا ہے؟
ج: جب مشترک کے کئی معانی میں سے کسی ایک معنی کو دلیل کی بنا پر ترجیح دے دی جائے تو اسے مؤول کہتے ہیں۔ اس کا حکم یہ ہے کہ اس پر عمل واجب ہوتا ہے مگر اس میں خطا کا احتمال باقی رہتا ہے۔
س 3: عبارت النص اور اشارۃ النص میں کیا فرق ہے؟
ج: عبارت النص وہ حکم ہے جس کے لیے کلام لایا گیا ہو (مثلاً تجارت کی حلالت)، جبکہ اشارۃ النص وہ حکم ہے جو کلام کا اصل مقصد نہ ہو مگر کلام کے الفاظ سے وہ بات ثابت ہو رہی ہو۔
س 4: کلمہ “کل” اگر نکرہ پر داخل ہو تو کیا فائدہ دیتا ہے؟
ج: کلمہ “کل” جب نکرہ پر داخل ہو تو “عمومِ افراد” کا فائدہ دیتا ہے، یعنی اس جنس کے تمام افراد اس میں شامل ہو جاتے ہیں۔
س 5: “لا رجل فی الدار” کس قاعدے کی مثال ہے؟
ج: یہ اس قاعدے کی مثال ہے کہ “نکرہ تحت النفی عموم کا فائدہ دیتا ہے”، یعنی گھر میں کسی بھی مرد کے ہونے کی نفی کر دی گئی ہے۔

خاصہ سال دوم – 2021 (پانچواں پرچہ: نحو – شرح جامی)

سوال نمبر 1: (الف) اسم، فعل اور حرف کی وجہ تسمیہ شرح جامی کی روشنی میں بیان کریں۔
جواب: اسم: یہ ‘سمو’ سے مشتق ہے جس کا معنی بلندی ہے، چونکہ اسم اپنے دونوں ساتھیوں (فعل اور حرف) پر بلندی رکھتا ہے (کیونکہ یہ مسند اور مسند الیہ دونوں بن سکتا ہے) اس لیے اسے اسم کہتے ہیں۔
فعل: اس کا لغوی معنی کام ہے، چونکہ یہ مصدر (جو کہ اصلِ فعل ہے) کے معنی پر مشتمل ہوتا ہے، اس لیے اسے فعل کہا گیا۔
حرف: اس کا لغوی معنی کنارہ ہے، چونکہ حرف کلام کے کنارے پر واقع ہوتا ہے اور مقصود بالذات نہیں ہوتا بلکہ اسم اور فعل کو جوڑنے کے لیے آتا ہے، اس لیے اسے حرف کہتے ہیں۔
سوال نمبر 1: (ب) کلمہ کو کلام پر کیوں مقدم کیا جاتا ہے؟ حالانکہ کلام میں افادہ زیادہ ہے۔
جواب: کلمہ مفرد ہے اور کلام مرکب ہے۔
قاعدہ یہ ہے کہ مفرد جز ہوتا ہے اور مرکب کل ہوتا ہے۔ چونکہ جز کا علم کل کے علم پر مقدم ہوتا ہے (یعنی پہلے اینٹ کا علم ہوگا پھر دیوار کا)، اس لیے کلمہ کو کلام پر مقدم کیا گیا ہے، اگرچہ کلام میں فائدہ زیادہ ہے۔

سوال نمبر 2: (الف) “الكلمة لفظ” میں الف لام اور تا کون سی ہے؟ نیز ان کے درمیان عدم منافات بیان کریں۔
جواب: “الکلمۃ” میں ‘الف لام’ عہدِ خارجی کا ہے جو اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے جسے علمِ نحو میں کلمہ کہا جاتا ہے۔ اور ‘تا’ تائے وحدت ہے جو ایک کلمہ پر دلالت کرتی ہے۔ ان کے درمیان عدمِ منافات (یعنی ان کا ایک ساتھ جمع ہونا) اس لیے ہے کہ الف لام حقیقت کو ظاہر کر رہا ہے اور تا اس حقیقت کے ایک فرد (وحدت) کو بیان کر رہی ہے، لہٰذا دونوں کا مقصد الگ ہونے کی وجہ سے کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔
سوال نمبر 2: (ب) مصنف نے کلمہ کی تعریف میں “لفظ” کہا “لفظۃ” کیوں نہیں کہا؟ حالانکہ مطابقت لازم ہے۔
جواب: اگرچہ کلمہ مؤنث ہے اور اس کی خبر (لفظ) مذکر لائی گئی ہے، لیکن یہاں “لفظ” سے مراد اس کی ‘جنس’ ہے اور جنس میں مذکر و مؤنث کی رعایت ضروری نہیں ہوتی۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ لفظ یہاں صفت کے معنی میں ہے اور صفت میں کبھی تذکیر و تانیث کی مطابقت چھوڑ دی جاتی ہے۔

سوال نمبر 3: (الف) عبارت “الوضع تخصیص شیئ بشیئ…” کی تشکیل اور ترجمہ کریں۔
جواب: ترجمہ: وضع سے مراد ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ اس طرح خاص کر دینا ہے کہ جب پہلی چیز (لفظ) بولی جائے یا اسے محسوس کیا جائے تو اس سے دوسری چیز (معنی) سمجھ میں آ جائے۔
اعتراض: کہا گیا کہ اس تعریف سے ‘حرف’ نکل جاتا ہے کیونکہ حرف سے اس کا معنی تب تک سمجھ نہیں آتا جب تک اسے کسی دوسرے کلمے کے ساتھ نہ ملایا جائے۔
سوال نمبر 3: (ب) مذکورہ اعتراض کے جوابات لکھیں نیز کلمہ اور کلام کا مشتق عنہ بتائیں۔
جواب: اس کا جواب یہ ہے کہ حرف کا معنی بھی ذہن میں موجود ہوتا ہے مگر اس کا ظہور دوسرے کلمے کے ملانے پر موقوف ہے۔
مشتق عنہ: کلمہ “کلم” (زخم) سے مشتق ہے کیونکہ یہ دل پر اثر کرتا ہے، اور کلام بھی اسی سے مشتق ہے۔ بعض کے نزدیک کلمہ “کلام” سے ہی مشتق ہے۔

مختصر سوالات
س 1: لامِ تعریف کا داخل ہونا اسم کا خاصہ کیوں ہے؟
ج: کیونکہ لامِ تعریف کسی معین حقیقت کو ظاہر کرنے کے لیے آتا ہے اور یہ معنی صرف اسم میں پائے جاتے ہیں، یہ خاصہ “غیر شامل” (صرف اسم کے لیے مخصوص) ہے۔
س 2: اضافت سے کیا مراد ہے اور یہ اسم کا خاصہ کیوں ہے؟
ج: اضافت سے مراد ایک اسم کی دوسرے اسم کی طرف نسبت کرنا ہے۔ یہ اسم کا خاصہ اس لیے ہے کہ اضافت کے لیے مضاف اور مضاف الیہ دونوں کا اسم ہونا ضروری ہے۔
س 3: اسبابِ منعِ صرف کتنے اور کون کون سے ہیں؟
ج: اسبابِ منعِ صرف نو (9) ہیں: عدل، وصف، تانیث، معرفہ (عجمہ)، عبقر (جمع)، ترکیب، الف و نون زائدتان اور وزنِ فعل۔ (تعداد میں اختلاف یہ ہے کہ بعض صرف دو بڑے اسباب مانتے ہیں جو ان نو کو شامل ہوں)۔
س 4: علم (Proper Noun) کو نکرہ بنانے کا طریقہ کیا ہے؟
ج: جب کسی علم (مثلاً زید) سے اس نام کے بہت سے افراد مراد لے لیے جائیں تو وہ نکرہ بن جاتا ہے، جیسے “عندی زیدون” (میرے پاس بہت سے زید ہیں)۔
س 5: “ہذا القول” سے کیا مراد ہے؟
ج: اس سے مراد وہ مشہور قول ہے جس کی وضاحت مصنف کر رہے ہیں، یعنی وزنِ فعل اور الف و نون زائدتان کے متعلق نحویوں کی رائے۔

خاصہ سال دوم – 2021 (چھٹا پرچہ: بلاغت و منطق)

قسم اول: بلاغت (تلخیص المفتاح)

سوال نمبر 1: (الف) عبارت پر اعراب لگا کر ترجمہ تحریر کریں۔
أَلَّفْتُ مُخْتَصَرًا يَتَضَمَّنُ مَا فِيهِ مِنَ الْقَوَاعِدِ وَيَشْتَمِلُ عَلَى مَا يُحْتَاجُ إِلَيْهِ مِنَ الْأَمْثِلَةِ وَالشَّوَاهِدِ وَلَمْ آلُ جُهْدًا فِي تَحْقِيقِهِ وَتَهْذِيبِهِ وَرَتَّبْتُهُ تَرْتِيبًا أَقْرَبَ تَنَاوُلًا مِنْ تَرْتِيبِهِ وَلَمْ أُبَالِغْ فِي اخْتِصَارِ لَفْظِهِ تَقْرِيبًا لِتَعَاطِيهِ وَطَلَبًا لِتَسْهِيلِ فَهْمِهِ عَلَى طَالِبِيهِ
جواب: ترجمہ: میں نے ایک ایسی مختصر کتاب تالیف کی جو (مفتاح العلوم کے) قواعد کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے اور ان مثالوں اور شواہد پر مشتمل ہے جن کی ضرورت پڑتی ہے، اور میں نے اس کی تحقیق اور تہذیب میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، اور میں نے اسے ایسی ترتیب پر مرتب کیا جو اس (اصل کتاب) کی ترتیب سے زیادہ آسان ہے، اور میں نے اس کے الفاظ کو مختصر کرنے میں غلو سے کام نہیں لیا تاکہ اس کا حاصل کرنا آسان ہو اور طلبہ کے لیے اس کا سمجھنا سہل ہو جائے۔
سوال نمبر 1: (ب) تلخیص المفتاح کس کتاب کی تلخیص ہے؟ نیز دونوں کے مصنفین کے نام لکھیں۔
جواب: تلخیص المفتاح علامہ سکاکی کی کتاب “مفتاح العلوم” (کے تیسرے حصے) کی تلخیص ہے۔
تلخیص المفتاح کے مصنف کا نام علامہ جلال الدین قزوینی (خطیب دمشق) ہے۔
مفتاح العلوم کے مصنف کا نام امام ابویعقوب یوسف بن ابی بکر بن محمد السکاکی ہے۔

سوال نمبر 2: (الف) عبارت کا ترجمہ کریں اور بتائیں کہ علمِ معانی کے کتنے اور کون کون سے باب ہیں؟
جواب: ترجمہ: اور یہ (علمِ معانی) وہ علم ہے جس کے ذریعے عربی لفظ کے ان احوال کو پہچانا جاتا ہے جن کی وجہ سے لفظ مقتضیٰ حال کے مطابق ہو جاتا ہے۔
علمِ معانی کے کل آٹھ (8) ابواب ہیں: احوالِ اسنادِ خبری احوالِ مسند الیہ احوالِ مسند احوالِ متعلقاتِ فعل قصر انشاء فصل و وصل ایجاز، اطناب اور مساوات

قسم ثانی: منطق (شرح تہذیب)
سوال نمبر 4: (الف) مصنف نے علم کی تقسیم سے پہلے علم کی تعریف کیوں نہیں ذکر کی؟ دو توجیہات بیان کریں۔
جواب: شرح تہذیب کی روشنی میں اس کی دو توجیہات درج ذیل ہیں: علم ایک ایسی چیز ہے جو بدیہی (ظاہر) ہے،
اور بدیہی چیزوں کو تعریف کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ وہ اپنی حقیقت میں خود واضح ہوتی ہیں۔
علم کی حقیقت بہت دقیق (باریک) ہے جس کی صحیح تعریف کرنا ممکن نہیں، اس لیے تعریف کے بجائے براہِ راست تقسیم ذکر کر دی گئی تاکہ تقسیم سے علم کی نوعیت واضح ہو جائے۔
سوال نمبر 4: (ب) تصدیق کی حقیقت میں حکماء اور امام رازی کا اختلاف لکھیں، نیز بتائیں مصنف نے کس کا مذہب اختیار کیا ہے؟
جواب: امام رازی کے نزدیک تصدیق ایک مجموعہ ہے جو چار چیزوں (تصورِ محکوم علیہ، تصورِ محکوم بہ، تصورِ نسبت اور وقوع یا عدمِ وقوعِ نسبت کا حکم) سے مل کر بنتی ہے۔
ان کے نزدیک یہ مرکب ہے۔ حکماء کے نزدیک تصدیق صرف “حکم” کا نام ہے، جبکہ پہلے تین تصورات اس کے لیے شرط ہیں، یعنی تصدیق ایک بسیط (سادہ) چیز ہے۔ مصنف نے حکماء کا مذہب اختیار کیا ہے کیونکہ علم کی تقسیم میں اسے تصور کے مقابلے پر لایا گیا ہے جو بسیط ہونے پر دلالت کرتا ہے۔

مختصر سوالات 
س 1: وہ کون سی دلالت ہے جس میں لزوم شرط ہے؟
ج: یہ “دلالتِ التزامی” ہے، جس میں لفظ کا اپنے معنیِ موضوع لہ کے خارج میں موجود کسی ایسے معنی پر دلالت کرنا ضروری ہے جو اسے لازم ہو۔
س 2: لزومِ عقلی اور عرفی کی مثالیں کیا ہیں؟
ج: لزومِ عقلی کی مثال “روشنی کا سورج کے لیے لازم ہونا” ہے (جس کا انکار عقل نہیں کر سکتی)۔ لزومِ عرفی کی مثال “ہاتھی کے لیے لمبی سونڈ” یا “گھوڑے کے لیے زین” ہے جو عرف میں لازم سمجھے جاتے ہیں۔
س 3: متواطی اور مشکک کی تعریف کیا ہے؟
ج: متواطی وہ کلی ہے جس کے تمام افراد پر اس کا مفہوم برابر صادق آئے (جیسے انسان)۔ مشکک وہ کلی ہے جس کے افراد پر اس کا مفہوم کمی بیشی یا اولویت کے ساتھ صادق آئے (جیسے روشنی یا سفیدی)۔
س 4: “فائدہ خبر” اور “لازمِ فائدہ خبر” کی مثالیں دیں؟
ج: اگر آپ کسی کو بتائیں “زید آگیا” اور اسے علم نہ ہو تو یہ ‘فائدہ خبر’ ہے۔ اگر اسے علم ہو اور آپ اسے جتائیں کہ مجھے پتا ہے کہ تم جانتے ہو، تو یہ ‘لازمِ فائدہ خبر’ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *