Tanzeem ul Madaris Solved Past Paper 2021 | PDF (طلباء کے لیے) خاصه سال اول

حل پرچہ: ترجمہ قرآن وحديث (خاصہ سال اول – 2021)

حصہ اول: قرآن مجید

سوال: “وَلَا تُصَلِّ عَلَىٰ أَحَدٍ مِّنْهُم مَّاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَىٰ قَبْرِهِ ۖ إِنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَاتُوا وَهُمْ فَاسِقُونَ” کا ترجمہ لکھیں۔
جواب: اور (اے محبوب!) ان میں سے کوئی مر جائے تو کبھی اس (کے جنازے) پر نماز نہ پڑھیں اور نہ ہی اس کی قبر پر کھڑے ہوں، بے شک انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا کفر کیا اور وہ نافرمانی کی حالت میں ہی مر گئے۔
سوال: “وَجَاءَ الْمُعَذِّرُونَ مِنَ الْأَعْرَابِ لِيُؤْذَنَ لَهُمْ وَقَعَدَ الَّذِينَ كَذَبُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۚ سَيُصِيبُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ” کا ترجمہ کریں۔
جواب: اور بہانے بنانے والے دیہاتی آئے تاکہ انہیں (جنگ سے پیچھے رہنے کی) اجازت دی جائے، اور وہ لوگ بیٹھ رہے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے جھوٹ بولا تھا، ان میں سے کافروں کو جلد ہی دردناک عذاب پہنچے گا۔
سوال: “مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَن يَكُونَ لَهُ أَسْرَىٰ حَتَّىٰ يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ ۚ تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللَّهُ يُرِيدُ الْآخِرَةَ ۗ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ” کا ترجمہ لکھیں۔
جواب: کسی نبی کے لیے یہ لائق نہیں کہ اس کے پاس قیدی ہوں جب تک کہ وہ زمین میں (کفار کا) اچھی طرح خون نہ بہا دے، تم دنیا کا ساز و سامان چاہتے ہو اور اللہ آخرت (کی بھلائی) چاہتا ہے، اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔
سوال: “وَقِيلَ يَا أَرْضُ ابْلَعِي مَاءَكِ وَيَا سَمَاءُ أَقْلِعِي وَغِيضَ الْمَاءُ وَقُضِيَ الْأَمْرُ وَاسْتَوَتْ عَلَى الْجُودِيِّ ۖ وَقِيلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظَّالِمِينَ” کا ترجمہ کریں۔
جواب: اور حکم دیا گیا کہ اے زمین! اپنا پانی نگل لے اور اے آسمان! تھم جا، اور پانی خشک کر دیا گیا اور کام تمام کر دیا گیا اور وہ (کشتی) جودی (پہاڑ) پر ٹھہر گئی، اور کہہ دیا گیا کہ ظالم قوم کے لیے بربادی ہو۔
سوال: “قَالَ يَا بُنَيَّ لَا تَقْصُصْ رُؤْيَاكَ عَلَىٰ إِخْوَتِكَ فَيَكِيدُوا لَكَ كَيْدًا ۖ إِنَّ الشَّيْطَانَ لِلْإِنسَانِ عَدُوٌّ مُّبِينٌ” کا ترجمہ لکھیں۔
جواب: (یعقوب علیہ السلام نے) فرمایا: اے میرے پیارے بیٹے! اپنا خواب اپنے بھائیوں کو نہ سنانا ورنہ وہ تمہارے خلاف کوئی چال چلیں گے، بے شک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔

دوسرا حصہ: رياض الصالحين (احادیث)

سوال: “عَنِ ابِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي وَالْمَاشِي عَلَى الْقَاعِدِ وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ وَالصَّغِيرُ عَلَى الْكَبِيرِ” کا ترجمہ کریں۔
جواب: حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سوار پیدل چلنے والے کو، پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے کو، تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو اور چھوٹا بڑے کو سلام کرے۔
سوال: “عَنْ حَفْصَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يَجْعَلُ يَمِينَهُ لِطَعَامِهِ وَشَرَابِهِ، وَيَجْعَلُ يَسَارَهُ لِمَا سِوَى ذٰلِكَ” کا ترجمہ لکھیں۔
جواب: حضرت حفصہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنا دایاں ہاتھ کھانے اور پینے کے لیے استعمال فرماتے تھے، اور اس کے علاوہ (دیگر کاموں) کے لیے اپنا بایاں ہاتھ استعمال فرماتے تھے۔
سوال: “عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ أَمَرَ بِلَعْقِ الْأَصَابِعِ وَالصَّحْفَةِ وَقَالَ إِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ فِي أَيِّ طَعَامِكُمُ الْبَرَكَةُ” کا ترجمہ کریں۔
جواب: حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انگلیاں اور برتن چاٹنے کا حکم دیا اور فرمایا: تم نہیں جانتے کہ تمہارے کھانے کے کون سے حصے میں برکت ہے۔
سوال: “عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ إِنَّ طُولَ صَلَاةِ الرَّجُلِ وَقِصَرَ خُطْبَتِهِ مَئِنَّةٌ مِنْ فِقْهِهِ فَأَطِيلُوا الصَّلَاةَ وَاقْصُرُوا الْخُطْبَةَ” کا ترجمہ لکھیں۔
جواب: حضرت عمار بن یاسر فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: آدمی کا نماز لمبی کرنا اور خطبہ مختصر کرنا اس کی سمجھداری (فقہ) کی علامت ہے، پس نماز لمبی کرو اور خطبہ مختصر رکھو۔
سوال: “عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مَرْبُوعًا وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مَا رَأَيْتُ شَيْئًا قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهُ” کا ترجمہ کریں۔
جواب: حضرت براء سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ درمیانے قد کے تھے، میں نے آپ ﷺ کو سرخ لباس میں دیکھا، میں نے کبھی کسی چیز کو آپ ﷺ سے زیادہ خوبصورت نہیں دیکھا۔

سوال نمبر 3: الفاظ کے معانی
سوال: لفظ “يَضَعُ” کا معنی کیا ہے؟
جواب: وہ رکھتا ہے / وہ وضع کرتا ہے۔
سوال: لفظ “شُعْبَةٌ” کا معنی لکھیں۔
جواب: شاخ / حصہ۔
سوال: لفظ “تَبْكِيْنَ” کا معنی کیا ہے؟
جواب: تو (ایک عورت) روتی ہے۔
سوال: لفظ “الْأَمَدُ” کا معنی لکھیں۔
جواب: مدت / وقت / فاصلہ۔
سوال: لفظ “مَئِنَّةٌ” کا معنی کیا ہے؟
جواب: علامت / نشانی۔

حل شدہ پرچہ: فقہ و اصول فقہ (دوسرا پرچہ – 2021) – تنظیم المدارس

قسم اول: فقہ (الہدایۃ/قدوری)

سوال نمبر 1 (الف): “وَالْأَعْوَاضُ الْمُشَارُ إِلَيْهَا لَا يَحْتَاجُ إِلَى مَعْرِفَةِ مِقْدَارِهَا فِي جَوَازِ الْبَيْعِ وَالْأَثْمَانُ الْمُطْلَقَةُ لَا تَصِحُّ إِلَّا أَنْ تَكُوْنَ مَعْرُوْفَةَ الْقَدْرِ وَالصِّفَةِ” کا ترجمہ کریں۔
جواب: اور وہ بدلے (چیزیں) جن کی طرف اشارہ کر دیا جائے، بیع کے جائز ہونے کے لیے ان کی مقدار کی معرفت (پیمائش/وزن) کی ضرورت نہیں ہے، اور وہ قیمتیں جو مطلق (نقدی) ہوں وہ صحیح نہیں ہوتیں جب تک کہ ان کی مقدار اور صفت (کون سی کرنسی ہے) معلوم نہ ہو۔
سوال نمبر 1 (ب): مذکورہ عبارت میں موجود دونوں مسئلے تفصیلاً واضح کریں؟
جواب: پہلا مسئلہ یہ ہے کہ اگر بیع میں سامان سامنے موجود ہو اور اس کی طرف اشارہ کر دیا جائے (جیسے یہ گندم کا ڈھیر) تو اس کا وزن معلوم ہونا ضروری نہیں، بیع جائز ہے۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اگر قیمت نقدی کی صورت میں ہو تو اس کی مقدار (کتنے روپے) اور صفت (کون سے ملک کی کرنسی) کا تعین لازمی ہے ورنہ بیع فاسد ہوگی۔
سوال نمبر 2 (الف): بیع میں کتنے خیار ہیں؟ ہر ایک کی تعریف اور مختصر وضاحت کریں۔
جواب: بیع میں مشہور خیار یہ ہیں: (1) خیارِ شرط: فریقین میں سے کسی کو سوچنے کے لیے وقت دینا۔ (2) خیارِ رؤیت: چیز دیکھے بغیر خریدی ہو تو دیکھنے کے بعد رد کرنے کا حق۔ (3) خیارِ عیب: چیز میں عیب نکلنے پر واپس کرنے کا حق۔ (4) خیارِ تعین: دو یا تین چیزوں میں سے ایک کو پسند کرنے کا حق۔
سوال نمبر 2 (ب): بیع فاسد کی تعریف کرتے ہوئے کوئی سی دو مثالوں سے واضح کریں؟
جواب: بیع فاسد وہ ہے جو اصل کے اعتبار سے مشروع ہو لیکن وصف کے اعتبار سے غیر مشروع ہو (جیسے قیمت مجہول ہونا)۔ مثال 1: مچھلی کے پیٹ میں موجود بچوں کی بیع۔ مثال 2: ایسی بیع جس میں ایسی شرط لگائی جائے جو بیع کے مقتضیٰ کے خلاف ہو۔
سوال نمبر 3 (الف): “الاسباب الموجبة للحجر ثلثة” میں ثلثہ سے کون کون سی چیزیں مراد ہیں؟
جواب: حجر (پابندی) کے تین اسباب یہ ہیں: (1) صغر (بچپن)، (2) رق (غلامی)، (3) جنون (پاگل پن)۔ ان تینوں وجوہات کی بنا پر انسان کے تصرفات پر شرعی پابندی ہوتی ہے۔
سوال نمبر 3 (ب): اجارہ، آجر، موجر اور مستاجر کی تعریفات قلمبند کریں؟
جواب: اجارہ: نفع کا عوض کے بدلے میں مالک بنانا۔ آجر/موجر: وہ شخص جو اپنی چیز یا خدمات کرایے پر دے۔ مستاجر: وہ شخص جو کرایے پر چیز یا خدمات حاصل کرے۔

قسم ثانی: اصولِ فقہ (نور الانوار/اصول الشاشی)

سوال نمبر 4 (الف): “یتربصن بأنفسہن ثلثہ قروء” کس کی مثال ہے، مثال کی وضاحت کریں؟
جواب: یہ مثال “مشترک” کی ہے؛ یہاں لفظ ‘قروء’ مشترک ہے جو پاکی (طہر) اور حیض دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ احناف کے نزدیک اس سے مراد حیض ہے جبکہ شوافع کے نزدیک طہر۔
سوال نمبر 4 (ب): عام کی دونوں قسموں کی مثالوں سے وضاحت کریں؟
جواب: عام کی دو قسمیں ہیں: (1) عام مخصوص البعض: وہ عام جس سے کچھ افراد نکال دیے گئے ہوں (جیسے مشرکین کو قتل کرو سوائے ان کے جن سے معاہدہ ہو)۔ (2) عام غیر مخصوص البعض: جس سے کوئی فرد نہ نکالا گیا ہو (جیسے ‘اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے’)۔
سوال نمبر 4 (ج): “لا تحرم المصہ ولا المصتان ولا الاملاجہ ولا الاملاجتان” کا ترجمہ کریں؟
جواب: ایک بار یا دو بار چوسنا (دودھ پینا) اور ایک بار یا دو بار لقمہ دینا (رضاعت کی حرمت کو) ثابت نہیں کرتا۔
سوال نمبر 5 (الف): مشترک کی تعریف، دو مثالیں اور اس کا حکم بیان کریں؟
جواب: تعریف: وہ لفظ جو کئی معنوں کے لیے وضع کیا گیا ہو۔ مثال 1: لفظ ‘قروء’ (حیض و طہر)۔ مثال 2: لفظ ‘عین’ (آنکھ، چشمہ، سونا)۔ حکم: جب تک ایک معنی متعین نہ ہو جائے، اس پر توقف کیا جائے گا۔
سوال نمبر 5 (ب): حقیقت کی تینوں اقسام کے نام اور کوئی سی دو کی وضاحت کریں؟
جواب: حقیقت کی تین اقسام ہیں: (1) حقیقتِ لغویہ: لغت کے اعتبار سے معنی (جیسے ‘اسد’ شیر کے لیے)۔ (2) حقیقتِ عرفیہ: عرف میں مشہور معنی (جیسے ‘دابہ’ چار پاؤں والے جانور کے لیے)۔ (3) حقیقتِ شرعیہ: شریعت میں مخصوص معنی (جیسے ‘صلاۃ’ مخصوص عبادت کے لیے
سوال نمبر 6 (الف): متقابلات کے نام تحریر کریں؟
جواب: متقابلات چار ہیں: (1) ظاہر، (2) نص، (3) مفسر، (4) محکم۔
سوال نمبر 6 (ب): “فصل فيما يترك به حقائق الالفاظ” پر اعراب لگائیں اور خمسہ انواع میں سے کسی ایک کی وضاحت کریں؟
جواب: پانچ انواع میں سے ایک “عادت” ہے؛ یعنی جب حقیقت اور عادت میں تعارض ہو تو کبھی عادت کی وجہ سے حقیقت کو چھوڑ دیا جاتا ہے (جیسے کسی نے قسم کھائی کہ میں ‘گوشت’ نہیں کھاؤں گا، تو عرف میں اس سے مچھلی مراد نہیں لی جاتی حالانکہ وہ حقیقت میں گوشت ہے)۔

حل شدہ پرچہ: علم النحو (تیسرا پرچہ – 2021) – تنظیم المدارس

سوال نمبر 1: غیر منصرف اور الف نون زائدتان
سوال (الف): عبارت “ومن ثم اختلف فى رحمن دون سکران و ندمان” کی تشریح اور اختلاف کی وضاحت کریں۔
جواب: اس عبارت کا مطلب ہے کہ “رحمن” کے غیر منصرف ہونے میں اختلاف ہے جبکہ “سکران” بالاتفاق غیر منصرف ہے۔ اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ “رحمن” کا مؤنث “رحمٰنیٰ” آتا ہے یا نہیں، جبکہ شرط یہ ہے کہ اس کا مؤنث ‘تانیث بالتاء’ (رحمنۃ) کے ساتھ نہ آئے۔
سوال (ب): الف و نون زائدتان کی تعریف اور غیر منصرف کا سبب بننے کی شرط لکھیں۔
جواب: وہ الف اور نون جو کلمہ کے اصلی حروف کے علاوہ آخر میں زائد ہوں (جیسے عثمان)۔ اس کے غیر منصرف کا سبب بننے کی شرط یہ ہے کہ اگر یہ صفت میں ہو تو اس کا مؤنث ‘فعلانۃ’ کے وزن پر نہ آئے۔

سوال نمبر 2: تعریفات اور کلمہ
سوال (الف): درج ذیل میں سے کسی پانچ کی جامع مانع تعریف لکھیں: الکلام، غیر المنصرف، الوصف، المرفوعات، المبتدا، المعرب، العامل۔
جواب: (1) الکلام: وہ لفظ جو دو کلموں کی اسناد پر مشتمل ہو اور پورا فائدہ دے۔ (2) غیر منصرف: جس میں اسبابِ منع صرف میں سے دو سبب یا ایک ایسا سبب ہو جو دو کے قائم مقام ہو۔ (3) المرفوعات: وہ اسم جس کا اعراب رفع (پیش) ہو۔ (4) المبتدا: وہ اسم جو عواملِ لفظیہ سے خالی ہو اور مسند الیہ ہو۔ (5) المعرب: وہ اسم جس کا آخر عامل کے بدلنے سے بدل جائے۔
سوال (ب): کلمہ کی تعریف کریں نیز لفظ “مفرد” میں ترکیبی احتمالات مع معانی لکھیں۔
جواب: کلمہ وہ لفظ ہے جو اکیلے معنی کے لیے وضع کیا گیا ہو۔ لفظ “مفرد” کے تین احتمالات ہیں: (1) مقابلہ تثنیہ و جمع (اکیلا)، (2) مقابلہ مضاف و مشابہ مضاف، (3) مقابلہ جملہ۔

سوال نمبر 3: عامل اور اعراب کی اقسام
سوال (الف): عامل کی تعریف مع مثال لکھیں نیز بتائیں کہ “معنی مقتضی للاعراب” سے کیا مراد ہے؟
جواب: عامل وہ ہے جس کی وجہ سے اسم کا آخر بدل جائے (جیسے ‘جاء’ زیدٌ میں)۔ “معنی مقتضی للاعراب” سے مراد وہ معنی ہیں جو اعراب کا مطالبہ کرتے ہیں جیسے فاعلیت (جو رفع چاہتی ہے) اور مفعولیت (جو نصب چاہتی ہے)۔
سوال (ب): جمع مؤنث سالم، اسم منقوص، اسماء ستہ مکبرہ کے اعراب کی وضاحت کریں۔
جواب: (1) جمع مؤنث سالم: حالتِ رفع میں پیش، حالتِ نصب و جر میں زیر۔ (2) اسم منقوص: حالتِ رفع و جر میں تقدیری، حالتِ نصب میں لفظی فتحہ۔ (3) اسماء ستہ مکبرہ: حالتِ رفع میں واؤ، نصب میں الف، جر میں یاء کے ساتھ۔

سوال نمبر 4: مبتدا اور نکرہ کی تخصیص
سوال (الف): “وقديكون المبتدأ نكرة اذا تخصصت بوجه ما” مبتدا کی تعریف اور نکرہ کی وجوہ تخصیص لکھیں۔
جواب: مبتدا وہ اسم ہے جو عواملِ لفظیہ سے خالی ہو اور مسند الیہ ہو۔ نکرہ کے مبتدا بننے کی وجوہ (تخصیص) یہ ہیں: (1) نکرہ موصوفہ ہو (رجلٌ عالمٌ عندی)، (2) نکرہ کے بعد خبر ظرف ہو (فی الدارِ رجلٌ)، (3) نکرہ سے پہلے نفی یا استفہام ہو (ما اَحَدٌ قائمٌ)۔
سوال (ب): “ومن ثم جاز فى داره زید و امتنع صاحبها في الدار” کا ترجمہ اور خط کشیدہ کی وضاحت کریں۔
جواب: ترجمہ: اسی وجہ سے “فی دارہ زید” جائز ہے اور “صاحبھا فی الدار” ممتنع (ناجائز) ہے۔ وضاحت: پہلی مثال میں ضمیر ‘زید’ کی طرف لوٹ رہی ہے جو لفظاً مؤخر ہے مگر رتبۃً مقدم ہے (جائز)، دوسری مثال میں ضمیر ایسی چیز (الدار) کی طرف لوٹ رہی ہے جو لفظاً و رتبۃً دونوں طرح مؤخر ہے (ناجائز)۔

سوال نمبر 5: تعریفات و امثلہ
سوال: مفعول بہ کی تعریف اور مثال لکھیں۔
جواب: وہ اسم جس پر فاعل کا فعل واقع ہو، جیسے: ضَرَبَ زَیْدٌ عَمْرًا۔
سوال: مفعول لہ کی تعریف اور مثال لکھیں۔
جواب: وہ اسم جو فعل کا سبب (وجہ) بیان کرے، جیسے: ضَرَبْتُہٗ تَاْدِیْبًا۔
سوال: حال کی تعریف اور مثال لکھیں۔
جواب: وہ اسم جو فاعل یا مفعول کی ہیئت (حالت) بیان کرے، جیسے: جَاءَ زَیْدٌ رَاکِبًا۔
سوال: تمیز کی تعریف اور مثال لکھیں۔
جواب: وہ اسم جو ماقبل کی ابہام (پوشیدگی) کو دور کرے، جیسے: طَابَ زَیْدٌ نَفْسًا۔
سوال: اعرابِ تقدیری کی تعریف اور مثال لکھیں۔
جواب: وہ اعراب جو لفظوں میں ظاہر نہ ہو بلکہ پوشیدہ ہو، جیسے: جَاءَ مُوْسٰی۔

حل شدہ پرچہ: منطق و عربی ادب (چوتھا پرچہ – 2021) – تنظیم المدارس

حصہ اول: منطق

سوال 1 (الف): علم کے معانی خمسہ (پانچ معانی) تحریر کریں۔
جواب: (1) کسی چیز کا نقش ذہن میں حاصل ہونا، (2) صفتِ انکشاف، (3) ادراک، (4) ملکہ (مہارت)، (5) وہ مسائل جو ایک موضوع کے گرد گھومیں۔
سوال 1 (ب): منطق کی تعریف اور اس کی وجہ تسمیہ بیان کریں۔
جواب: تعریف: وہ علم جس کے قواعد کا لحاظ رکھنا ذہن کو سوچ و بچار میں غلطی سے بچائے۔ وجہ تسمیہ: یہ ‘نطق’ سے نکلا ہے، نطقِ ظاہری (کلام) اور نطقِ باطنی (ادراک) دونوں کو درست کرتا ہے۔
سوال 2 (الف): دلالت کا لغوی و اصطلاحی معنی لکھیں۔
جواب: لغوی معنی: راہنمائی کرنا۔ اصطلاحی معنی: ایک چیز کا ایسا ہونا کہ اس کے علم سے دوسری چیز کا علم حاصل ہو جائے۔
سوال 2 (ب): دلالت کی کل کتنی قسمیں بنتی ہیں؟ کوئی سی دو کی وضاحت کریں۔
جواب: دلالت کی بنیادی دو قسمیں ہیں (لفظیہ اور غیر لفظیہ)، پھر ہر ایک کی تین تین قسمیں (وضعیہ، طبعیہ، عقلیہ) ہو کر کل چھ بنتی ہیں۔ وضاحت: (1) دلالتِ لفظیہ وضعیہ: جیسے لفظ ‘زید’ کی دلالت ذاتِ زید پر۔ (2) دلالتِ لفظیہ طبعیہ: جیسے ‘اوہ’ کی دلالت درد پر۔
سوال 3 (الف): منقول کی اقسام ثلاثہ کی تعریفات و امثلہ بیان کریں۔
جواب: (1) منقولِ شرعی: جیسے ‘صلاۃ’ جو لغت میں دعا تھی، شریعت میں نماز بن گئی۔ (2) منقولِ عرفی: جیسے ‘دابہ’ لغت میں ہر چلنے والا، عرف میں صرف چار پاؤں والا۔ (3) منقولِ اصطلاحی: جیسے ‘نحو’ کے معنی لغت میں راستہ، اصطلاح میں خاص علم۔
سوال 3 (ب): دو کلیوں کے درمیان پائی جانے والی نسبت کی اقسام مع امثلہ بیان کریں۔
جواب: نسبتیں چار ہیں: (1) تساوی: جیسے انسان اور ناطق (ہر انسان ناطق ہے)۔ (2) تباین: جیسے انسان اور پتھر (کوئی انسان پتھر نہیں)۔ (3) عموم و خصوص مطلق: جیسے حیوان اور انسان۔ (4) عموم و خصوص من وجہ: جیسے سفید اور پرندہ۔

حصہ دوم: عربی ادب

سوال 4 (الف): ادب اسلامی کے چار اہم سرچشموں کے نام لکھیں۔
جواب: (1) قرآن مجید، (2) احادیثِ مبارکہ، (3) اقوالِ صحابہ و خلفائے راشدین، (4) عربی شاعری و خطابت۔
سوال 4 (ب): مکی سورتوں کی خصوصیات اور سات مشہور قراء کے نام لکھیں۔
جواب: مکی سورتوں کی خصوصیات: آیات چھوٹی ہیں، عقائد (توحید و آخرت) پر زور ہے، مشرکین سے خطاب ہے۔ سات قراء: (1) نافع مدنی، (2) عبداللہ بن کثیر، (3) ابو عمرو بصری، (4) ابن عامر، (5) عاصم کوفی، (6) حمزہ کوفی، (7) کسائی کوفی۔
سوال 5 (الف): حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث کے حوالے سے احتیاط بیان فرمائیں۔
جواب: حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ حدیث بیان کرنے میں سخت احتیاط برتتے تھے، آپ کثرتِ روایت سے منع فرماتے تاکہ لوگ قرآن کو چھوڑ کر صرف قصوں میں نہ لگ جائیں، اور ضرورت پڑنے پر گواہ بھی طلب فرماتے تھے۔
سوال 5 (ب): ادبِ حدیث کی اہمیت کے تحت تدوینِ حدیث پر نوٹ لکھیں۔
جواب: تدوینِ حدیث کا آغاز عہدِ نبوی میں ہی ہو گیا تھا، لیکن باقاعدہ سرکاری سطح پر حضرت عمر بن عبدالعزیز کے حکم سے ہوا۔ ائمہ کرام نے احادیث کو جمع کرنے کے لیے سخت اصول (اسماء الرجال) بنائے تاکہ صحیح اور ضعیف میں فرق کیا جا سکے۔
سوال 6 (الف): خلفائے راشدین کے عہد میں شاعری کی کیا حیثیت تھی؟
جواب: اس عہد میں شاعری کو دین کی ترویج، دفاعِ اسلام اور اخلاقیات کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ فحش گوئی اور قبائلی عصبیت والی شاعری کی حوصلہ شکنی کی گئی، جبکہ حضرت حسان بن ثابت جیسے شعراء کی حوصلہ افزائی کی گئی۔
سوال 6 (ب): مخضرمین شعراء میں سے تین کے نام اور کسی ایک پر نوٹ لکھیں۔
جواب: نام: (1) حضرت حسان بن ثابت، (2) کعب بن زہیر، (3) لبیڈ بن ربیعہ۔ نوٹ (حسان بن ثابت): آپ ‘شاعرِ رسول’ کہلاتے ہیں، آپ مشرکین کے اعتراضات کا جواب اپنی شاعری سے دیتے تھے اور آپ کے لیے منبرِ رسول پر جگہ بنائی جاتی تھی۔

حل شدہ پرچہ: سیرت و تاریخ (پانچواں پرچہ – 2021) – تنظیم المدارس

پہلا حصہ: سیرتِ طیبہ ﷺ

سوال 1 (الف): درج ذیل میں سے تین پر جامع نوٹ لکھیں: ملک عرب کا جغرافیہ، عرب کی تاریخ قدیم، حلف الفضول، حربِ فجار۔
جواب: ملک عرب کا جغرافیہ: جزیرہ نما عرب تین طرف سے سمندر (بحرِ احمر، بحرِ عرب، خلیج فارس) سے گھرا ہے، یہ زیادہ تر صحرائی اور سنگلاخ علاقہ ہے۔ حلف الفضول: یہ ایک امن معاہدہ تھا جو مظلوموں کی مدد کے لیے کیا گیا، نبی ﷺ نے نوجوانی میں اس میں شرکت فرمائی۔ حربِ فجار: یہ وہ جنگ تھی جو قریش اور قیس کے درمیان حرمت والے مہینوں میں لڑی گئی، اس میں حضور ﷺ نے شرکت کی مگر کسی پر ہاتھ نہیں اٹھایا۔
سوال 1 (ب): اذان کی ابتدا کب اور کیسے ہوئی؟ مفصل لکھیں۔
جواب: اذان کی ابتدا 1 ہجری (مدینہ منورہ) میں ہوئی۔ جب نماز کے لیے لوگوں کو جمع کرنے کا مشورہ ہوا تو حضرت عبداللہ بن زید اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما نے خواب میں اذان کے الفاظ سیکھے، نبی ﷺ نے اس کی تصدیق فرمائی اور حضرت بلال کو اذان دینے کا حکم دیا۔
سوال 2 (الف): درج ذیل میں سے کوئی سے تین پر جامع نوٹ لکھیں: فتحِ مکہ، صلحِ حدیبیہ، غزوہ بدر، غزوہ تبوک۔
جواب: غزوہ بدر: 2 ہجری میں حق و باطل کا پہلا معرکہ، جس میں 313 مسلمانوں نے 1000 کفار کو شکست دی۔ صلحِ حدیبیہ: 6 ہجری میں ہوا، جو ظاہراً دب کر تھا مگر اسے ‘فتحِ مبین’ قرار دیا گیا۔ فتحِ مکہ: 8 ہجری میں بغیر خون خرابے کے مکہ فتح ہوا اور حضور ﷺ نے عام معافی کا اعلان فرمایا۔
سوال 2 (ب): غزوہ اور سریہ میں فرق لکھیں نیز غزوات کی کل تعداد بتائیں؟
جواب: جس جنگ میں نبی کریم ﷺ نے بنفسِ نفیس شرکت فرمائی اسے ‘غزوہ’ کہتے ہیں، اور جس میں آپ ﷺ نے کسی صحابی کو امیر بنا کر بھیجا اسے ‘سریہ’ کہتے ہیں۔ غزوات کی کل تعداد 27 ہے (بعض کے نزدیک کم و بیش)۔
سوال 3 (الف): ایلاء کی تعریف، آیتِ ایلاء اور واقعہ ایلاء کب اور کیوں پیش آیا؟
جواب: تعریف: اپنی بیوی سے قریب نہ جانے کی قسم کھانا۔ آیت: “لِلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ”۔ واقعہ: 9 ہجری میں پیش آیا جب ازواجِ مطہرات نے نفقہ (خرچے) کا مطالبہ کیا، تو آپ ﷺ نے ایک ماہ کے لیے علیحدگی اختیار فرمائی۔
سوال 3 (ب): آپ ﷺ کی پہلی دو ازواج (رضی اللہ عنہما) کا تعارف لکھیں۔
جواب: (1) حضرت خدیجہ الکبریٰ: آپ ﷺ کی پہلی زوجہ، سب سے پہلے ایمان لائیں اور اپنی تمام دولت اسلام پر قربان کی۔ (2) حضرت سودہ بنت زمعہ: حضرت خدیجہ کے وصال کے بعد آپ ﷺ سے نکاح ہوا، آپ بہت سخی اور ایثار پسند خاتون تھیں۔

دوسرا حصہ: تاریخِ اسلام

سوال 1 (الف): خلیفہ اول کا نام و نسب بیان کریں اور خلافت پر ایک آیت اور ایک حدیث لکھیں۔
جواب: نام و نسب: عبداللہ بن عثمان (ابو قحافہ)، لقب صدیق و عتیق، قبیلہ بنو تیم سے۔ آیت: “وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الْأَرْضِ”۔ حدیث: “اقتدوا باللذین من بعدی ابی بکر و عمر” (میرے بعد ابوبکر اور عمر کی پیروی کرنا)۔
سوال 1 (ب): “ابوبکر افضل الصحابة” پر دو دلیلیں لکھیں۔
جواب: (1) حضور ﷺ نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں آپ کو نمازوں کا امام مقرر فرمایا۔ (2) ہجرت کے موقع پر غارِ ثور میں آپ ﷺ کے واحد رفیق (یارِ غار) تھے۔
سوال 2 (الف): امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا جامع تعارف تحریر کریں۔
جواب: آپ اسلام کے دوسرے خلیفہ، لقب ‘فاروقِ اعظم’ ہے۔ آپ کے دور میں اسلام کو بین الاقوامی وسعت ملی اور قیصر و کسریٰ کی سلطنتیں فتح ہوئیں۔ آپ عدل و انصاف کی علامت تھے۔
سوال 2 (ب): حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی کوئی پانچ اولیات (پہل کاری) تحریر کریں؟
جواب: (1) سن ہجری کا اجرا، (2) نمازِ تراویح کا باجماعت اہتمام، (3) بیت المال کا قیام، (4) ملک کو صوبوں میں تقسیم کرنا، (5) پولیس اور جیل کا محکمہ بنانا۔
سوال 3: درج ذیل کے مختصر جوابات تحریر کریں۔
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا یومیہ اور سالانہ وظیفہ کتنا تھا؟
جواب 1: حضرت ابوبکر صدیق کا وظیفہ شروع میں 2500 درہم سالانہ تھا جو بعد میں 6000 درہم کر دیا گیا (بمطابق ضرورتِ اوسط)۔
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا کا وصال کب ہوا؟ آپ کی عمر اس وقت کتنی تھی ؟
جواب 2: حضرت فاطمہ کا وصال نبی ﷺ کے وصال کے 6 ماہ بعد ہوا، آپ کی عمر مبارک تقریباً 28 یا 29 سال تھی۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے وصال پر بیت المال میں کتنا سامان موجود تھا؟
جواب 3: آپ کے وصال پر بیت المال میں صرف ایک درہم (یا کچھ روایت کے مطابق بالکل خالی) تھا کیونکہ آپ سب تقسیم کر دیتے تھے۔
حضرت عمر رضی اللہ کی نماز جنازہ کس نے پڑھائی؟
جواب 4: حضرت عمر کی نمازِ جنازہ حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ نے پڑھائی۔
حضرت عمر رضی اللہ کی مہر خلافت پر کیا لکھا ہوا تھا؟
جواب 5: آپ کی مہر پر لکھا تھا: “كَفَى بِالْمَوْتِ وَاعِظًا يَا عُمَرُ” (اے عمر! نصیحت کے لیے موت کافی ہے)۔

حل شدہ پرچہ: بلاغت (چھٹا پرچہ – 2021) – تنظیم المدارس

سوال نمبر 1: فصاحت اور اس کے عیوب
سوال (الف): فصاحت کا لغوی اور اصطلاحی معنی بیان کریں؟
جواب: لغوی معنی: ظاہر ہونا اور صاف ہونا۔ اصطلاحی معنی: کلمہ یا کلام کا ایسے عیوب سے پاک ہونا جو سننے میں ناگوار ہوں یا معنی سمجھنے میں رکاوٹ بنیں۔
سوال (ب): تنافرِ حروف، مخالفتِ قیاس اور غرابت کی تعریفات مع امثلہ لکھیں؟
جواب: (1) تنافرِ حروف: حروف کا ایسا میل جو زبان پر بوجھل ہو، جیسے: ‘ھُخْعُ’ (ایک گھاس کا نام)۔ (2) مخالفتِ قیاس: کلمہ کا قواعدِ صرفی کے خلاف ہونا، جیسے ‘اَجْلَلَ’ (قاعدہ کے مطابق ادغام کر کے ‘اَجَلَّ’ ہونا چاہیے تھا)۔ (3) غرابت: کلمہ کا ایسا نامانوس ہونا کہ معنی سمجھ نہ آئیں، جیسے: ‘تَکَاْکَاْتُمْ’ (تم جمع ہو گئے)۔
سوال (ج): تعقید کی تعریف لکھیں نیز تعقیدِ لفظی اور معنوی کی تعریف مع مثال لکھیں؟
جواب: تعقید: کلام کے معنی کا پوشیدہ ہونا۔ تعقیدِ لفظی: الفاظ کی ترتیب خراب ہونے سے معنی چھپ جائیں، جیسے: ‘جفخت وھم لا یجفخون’۔ تعقیدِ معنوی: مجازی معنی یا کنایہ کے غلط استعمال سے معنی پیچیدہ ہو جائیں، جیسے ‘خاموشی’ کے لیے ‘منہ میں پتھر ہونا’ کا استعارہ (جو کلام کو مشکل بنا دے)۔

سوال نمبر 2: علمِ معانی اور اس کے ابواب
سوال (الف): طالبِ بلاغت پر کن کن چیزوں کی معرفت ضروری ہے؟
جواب: طالبِ بلاغت پر دو چیزوں کی معرفت ضروری ہے: (1) علمِ معانی، تاکہ کلام مقتضائے حال کے مطابق ہو، (2) علمِ بیان، تاکہ ایک ہی معنی کو مختلف طریقوں سے واضح کیا جا سکے۔
سوال (ب): علمِ معانی کی تعریف اور مثال تحریر کریں؟
جواب: تعریف: وہ علم جس کے ذریعے ایسے قواعد معلوم ہوں جن سے کلام کو مقتضائے حال (موقع و محل) کے مطابق بنایا جائے۔ مثال: منکر کے سامنے کلام کو ‘تاکید’ کے ساتھ لانا، جیسے ‘اِنَّ زَیْدًا لَقَائِمٌ’۔
سوال (ج): علمِ معانی کے آٹھ ابواب کے فقط نام لکھیں؟
جواب: (1) احوالِ اسنادِ خبری، (2) احوالِ مسند الیہ، (3) احوالِ مسند، (4) احوالِ متعلقاتِ فعل، (5) قصر، (6) انشاء، (7) فصل و وصل، (8) ایجاز، اطناب و مساوات۔

سوال نمبر 3: انشاء اور امر کے معانی
سوال (الف): انشاء کی تعریف و مثال نیز اس کی دونوں اقسام کے نام لکھیں؟
جواب: تعریف: وہ کلام جس کے کہنے والے کو جھوٹا یا سچا نہ کہا جا سکے، جیسے: ‘اِضْرِبْ’ (تو مار)۔ اقسام: (1) انشاء طلبی، (2) انشاء غیر طلبی۔
سوال (ب): “وقد تخرج صيغ الأمر عن معناها الأصلى…” کا ترجمہ کریں نیز امر کے کوئی سے تین معانی مع مثال لکھیں؟
جواب: ترجمہ: اور بسا اوقات امر کے صیغے اپنے اصلی معنی (حکم) سے نکل کر دوسرے معانی کے لیے استعمال ہوتے ہیں جو کلام کے سیاق و سباق اور قرائن سے سمجھے جاتے ہیں۔ تین معانی: (1) دعا: جیسے ‘رَبِّ اغْفِرْ لِی’۔ (2) التماس: جیسے برابر والے سے کہنا ‘قُمْ’ (اٹھو)۔ (3) تہدید (دھمکانا): جیسے ‘اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ’ (جو چاہو کرو)۔

سوال نمبر 4: تمنا، خطاب اور اِن/اِذا کا فرق
سوال (الف): تمنا کے “أربع أدوات” (چار حروف) سے کیا مراد ہے؟ مع مثالیں لکھیں۔
جواب: (1) لَیْتَ: (اصلی حرف) جیسے لیت الشباب یعود۔ (2) ھَلْ: جیسے ‘فھل لنا من شفعاء’۔ (3) لَوْ: جیسے ‘لو ان لی کرۃ’۔ (4) لَعَلَّ: جیسے ‘لعلی ابلغ الاسباب’۔
سوال (ب): “والأصل في الخطاب أن يكون لمشاهد معين…” کا ترجمہ اور وضاحت مثال سے کریں؟
جواب: ترجمہ: اصل یہ ہے کہ خطاب کسی متعین حاضر (مشاہد) کے لیے ہو، لیکن کبھی غیر حاضر سے بھی خطاب کیا جاتا ہے جب وہ دل میں حاضر (مستحضر) ہو۔ مثال: نماز میں ‘اِیَّاکَ نَعْبُدُ’ کہنا، یہاں اللہ تعالیٰ اگرچہ ظاہری آنکھوں سے غائب ہے مگر دل میں حاضر مان کر خطاب کیا جاتا ہے۔
سوال (ج): “اِن” اور “اِذا” کا فرق اور استعمال مع امثلہ واضح کریں؟
جواب: اِذا: اس چیز کے لیے استعمال ہوتا ہے جس کا ہونا یقینی یا کثیر ہو، جیسے: ‘اِذا جَاءَ نَصْرُ اللہِ’۔ اِن: اس چیز کے لیے جو مشکوک ہو یا جس کا ہونا کم ہو، جیسے: ‘وَاِنْ کُنْتُمْ فِی رَیْبٍ’۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *