(1) إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَىٰ وَالصَّابِئِينَ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِترجمہ: بیشک وہ جو ایمان لائے اور وہ جو یہودی ہوئے اور نصاریٰ اور صابی (ستارہ پرست) جو کوئی اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لائے۔
(2) وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَذْبَحُوا بَقَرَةًترجمہ: اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ ایک گائے ذبح کرو۔
(3) فَاجْعَلُونَا هُدًى لِلْمُتَّقِينَ (ترجمہ آیت کے حصے کا)ترجمہ: تو ہم نے اسے پرہیزگاروں کے لیے نصیحت بنا دیا۔
سوال نمبر 2: تجوید کے تفصیلی سوالات۔
(1) مخارج بیان کریں: (أ، ہ، ع، ح، غ، خ)جواب: أ، ہ (اقصی حلق یعنی سینے کی طرف والا حصہ)۔ ع، ح (وسط حلق یعنی درمیان والا حصہ)۔ غ، خ (ادنیٰ حلق یعنی منہ کی طرف والا حصہ)۔
(2) نون ساکن اور تنوین کے قواعد لکھیں۔جواب: اس کے چار قواعد ہیں: (1) اظہار (2) ادغام (3) اقلاب (4) اخفاء۔
2. پرچہ دوم: عقائد و فقہ (مکمل حل شدہ)
حصہ اول: عقائد (تفصیلی جوابات)
سوال: ایمانِ مفصل اور ایمانِ مجمل مع ترجمہ لکھیں۔جواب: ایمانِ مفصل: آمَنْتُ بِاللہِ وَمَلائِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَالْقَدْرِ خَیْرِہٖ وَشَرِّہٖ مِنَ اللہِ تَعَالٰی وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ۔ ترجمہ: میں ایمان لایا اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، قیامت کے دن پر اور اس پر کہ اچھی اور بری تقدیر اللہ کی طرف سے ہے اور موت کے بعد اٹھائے جانے پر۔
سوال: اللہ تعالیٰ کی صفاتِ سلبیہ کیا ہیں؟جواب: وہ صفات جو اللہ کی ذات کے لائق نہیں ان کی نفی کرنا، جیسے اللہ کا کوئی شریک نہیں، اس کی اولاد نہیں، وہ کھانے پینے اور سونے سے پاک ہے۔
حصہ دوم: فقہ (تفصیلی جوابات)
سوال: غسل، وضو اور تیمم کے فرائض کا موازنہ کریں۔جواب: غسل کے 3 فرائض ہیں (کلی، ناک میں پانی، پورا بدن)۔ وضو کے 4 فرائض ہیں (چہرہ، ہاتھ کہنیوں سمیت، چوتھائی سر کا مسح، پاؤں ٹخنوں سمیت)۔ تیمم کے 3 فرائض ہیں (نیت، مٹی پر ہاتھ مار کر چہرے پر ملنا، مٹی پر ہاتھ مار کر کہنیوں سمیت ہاتھوں پر ملنا)۔
(1) بابِ افعال کی خاصیت کیا ہے؟جواب: اس کی بڑی خاصیت “تعدیہ” ہے یعنی لازم فعل کو متعدی بنانا، جیسے ‘کَرُمَ’ (وہ بزرگ ہوا) سے ‘اَکْرَمَ’ (اس نے بزرگ کیا)۔
(2) قانونِ “یوسر” تحریر کریں۔جواب: اگر ‘ی’ ساکن ہو اور اس سے پہلے پیش (ضمہ) ہو تو ‘ی’ کو ‘و’ سے بدلنا واجب ہے، جیسے ‘یُیْسِرُ’ سے ‘یُوْسِرُ’۔
4. پرچہ چہارم: علم النحو (مکمل حل شدہ)
سوال نمبر 1: اسمِ غیر متمکن کی آٹھوں اقسام کی تفصیل لکھیں۔جواب:
سوال نمبر 2: معرب اور مبنی کا بیان۔جواب: معرب وہ اسم ہے جس کا آخر عامل بدلنے سے بدل جائے (جیسے جَاءَ زَیْدٌ، رَاَیْتُ زَیْدًا)۔ مبنی وہ ہے جس کا آخر نہ بدلے (جیسے جَاءَ ہٰؤُلَاءِ)۔
سوال نمبر 3: عواملِ لفظیہ (مائۃ عامل)۔جواب: حروفِ مشبہ بالفعل (اِنَّ، اَنَّ، کَاَنَّ، لٰکِنَّ، لَیْتَ، لَعَلَّ) جملہ اسمیہ پر داخل ہوتے ہیں، مبتدا کو نصب (اسم) اور خبر کو رفع دیتے ہیں۔
5. پرچہ پنجم: عربی ادب (مکمل حل شدہ)
سوال نمبر 1: درج ذیل پیراگراف کا اردو ترجمہ کریں۔“مُحَمَّدٌ تِلْمِیْذٌ نَجِیْبٌ، یَسْتَیْقِظُ مُبَکِّرًا وَیَتَوَضَّأُ وَیُصَلِّی، ثُمَّ یَلْبَسُ مَلَابِسَہُ وَیَذْھَبُ اِلَی الْمَدْرَسَةِ”ترجمہ: محمد ایک لائق شاگرد ہے، وہ صبح سویرے بیدار ہوتا ہے اور وضو کرتا ہے اور نماز پڑھتا ہے، پھر اپنے کپڑے پہنتا ہے اور مدرسہ جاتا ہے۔
سوال نمبر 2: جسم کے اعضاء کے نام عربی میں لکھیں۔جواب: رَأْسٌ (سر)، عَیْنٌ (آنکھ)، اَنْفٌ (ناک)، یَدٌ (ہاتھ)، رِجْلٌ (پاؤں)، لِسَانٌ (زبان)۔
سوال نمبر 3: عربی گنتی (1 سے 20 تک) مکمل لکھیں۔جواب: واحد، اثنان، ثلاثہ، اربعہ، خمسہ، ستہ، سبعہ، ثمانتیہ، تسعہ، عشرہ (1-10)۔ احد عشر، اثنا عشر، ثلاثہ عشر، اربعہ عشر، خمسہ عشر، ستہ عشر، سبعہ عشر، ثمانتیہ عشر، تسعہ عشر، عشرون (11-20)۔
6. پرچہ ششم: جنرل سائنس و مطالعہ پاکستان (مکمل حل شدہ)
حصہ اول: جنرل سائنس
سوال: نظامِ انہضام (Digestive System) پر نوٹ لکھیں۔
جواب: یہ وہ نظام ہے جس کے ذریعے غذا ہضم ہو کر خون میں شامل ہوتی ہے۔ یہ منہ سے شروع ہو کر معدے اور آنتوں پر مشتمل ہوتا ہے۔
سوال: سائنسی ایجادات اور ان کے بانی۔جواب: ٹیلی فون (گراہم بیل)، بلب (ایڈیسن)، پنسلین (الیگزینڈر فلیمنگ)۔
حصہ دوم: مطالعہ پاکستان
سوال: پاکستان کے اہم پہاڑی سلسلوں پر نوٹ لکھیں۔جواب: شمالی پہاڑی سلسلے (ہمالیہ، قراقرم، ہندوکش)۔ قراقرم میں دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی K-2 واقع ہے۔
سوال: نظریہ پاکستان اور علامہ اقبال۔جواب: علامہ اقبال نے 1930 کے خطبہ الہ آباد میں واضح طور پر مسلمانوں کے لیے الگ ریاست کا تصور پیش کیا اور فرمایا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں۔