Tanzeem ul Madaris Solved Guess Paper 2026 | PDF (طلباء کے لیے) عالیہ سال دوم
الورقۃ الأولى: التفسير وأصوله (بیضاوی و اتقان)
سوال نمبر 1: “إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ” کی نحوی و بلاغتی تحقیق کریں اور بتائیں کہ مفعول کو فعل پر مقدم کرنے کا کیا فائدہ ہے؟
جواب:
نحوی ترکیب: “إِيَّاكَ” مفعول بہ ہے اور “نَعْبُدُ” فعل مع فاعل ہے۔ قاعدہ یہ ہے کہ مفعول فعل کے بعد آتا ہے، لیکن یہاں اسے پہلے لایا گیا ہے۔
بلاغتی فائدہ (قصر و حصر): مفعول کو پہلے لانے سے کلام میں “حصر” پیدا ہوتا ہے۔ یعنی “ہم صرف اور صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں”۔ اگر کہا جاتا “نعبدک” تو اس کا مطلب ہوتا “ہم تیری عبادت کرتے ہیں” مگر اس میں دوسروں کی عبادت کی نفی صراحتاً نہ ہوتی۔
عبادت اور استعانت کا ربط: پہلے عبادت کا ذکر کیا کیونکہ یہ اللہ کا حق ہے، پھر استعانت (مدد) کا ذکر کیا جو بندے کی حاجت ہے۔ اللہ کے حق کو بندے کی حاجت پر مقدم کرنا ادبِ بندگی ہے۔
نستعین کی وسعت:یہاں یہ نہیں بتایا گیا کہ کس چیز میں مدد چاہیے؟ امام بیضاویؒ فرماتے ہیں کہ حذفِ متعلق اس بات کی دلیل ہے کہ ہم اپنی ہر چھوٹی بڑی حاجت میں صرف تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں۔
سوال نمبر 2: “الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ” میں ‘اقامتِ صلاۃ’ سے کیا مراد ہے؟ کیا صرف نماز پڑھ لینا کافی ہے؟ بیضاوی کی روشنی میں وضاحت کریں۔
جواب:
اقامت کا لغوی معنی:کسی چیز کو سیدھا کرنا یا قائم کرنا۔
تفسیرِ بیضاوی کے مطابق مفہوم:اقامتِ صلاۃ کے تین بڑے معانی ہیں:
ظاہری اتمام: نماز کو اس کے تمام ارکان (رکوع، سجود) اور شرائط (وضو، وقت) کے ساتھ مکمل ادا کرنا۔
دوام و استمرار: نماز پر ہمیشگی اختیار کرنا، یہ نہیں کہ کبھی پڑھ لی اور کبھی چھوڑ دی۔
خشوع و خضوع:دل کو اللہ کی طرف متوجہ کر کے نماز پڑھنا۔
نماز اور رزق کا تعلق: اللہ نے نماز کے فوراً بعد “وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ” کا ذکر کیا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ بدنی عبادت (نماز) اور مالی عبادت (زکوٰۃ و صدقہ) کا آپس میں گہرا جوڑ ہے۔
سوال نمبر 3: سورہ بقرہ کی فضیلت اور اس کے “سنام القرآن” (قرآن کی چوٹی) ہونے کی وجہ تسمیہ تحریر کریں۔
جواب:
فضیلت:حدیث میں آتا ہے کہ جس گھر میں سورہ بقرہ پڑھی جائے وہاں سے شیطان بھاگ جاتا ہے۔ یہ قرآن کی طویل ترین سورت ہے جس میں زندگی کے تمام شعبوں (عقائد، عبادات، معاملات، نکاح و طلاق، قصاص) کا ذکر ہے۔
وجہ تسمیہ: اس سورت میں بنی اسرائیل کے اس گائے (بقرہ) والے واقعے کا ذکر ہے جس کے ذریعے ایک قتل کا معمہ حل ہوا تھا۔
سنام القرآن: اسے قرآن کی چوٹی اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں احکامِ شرعیہ کا اتنا بڑا ذخیرہ ہے جو کسی اور سورت میں نہیں، اور اس میں “آیت الکرسی” جیسی عظیم آیت بھی موجود ہے۔
اصولِ تفسیر (فوز الکبیر / اتقان)
سوال نمبر 4: “اسبابِ نزول” کی معرفت کیوں ضروری ہے؟ کیا اس کے بغیر تفسیر ممکن ہے؟ مثال سے واضح کریں۔
جواب:
اہمیت:اسبابِ نزول کو جانے بغیر کئی آیات کا اصل مقصد سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ علم بتاتا ہے کہ آیت کس پس منظر میں نازل ہوئی۔
فائدہ: اس سے آیت کے حکم کی حکمت معلوم ہوتی ہے اور اگر آیت میں کوئی ابہام (پوشیدگی) ہو تو وہ دور ہو جاتا ہے۔
مثال: حضرت عائشہ صدیقہؓ پر جب بہتان لگا تو ان کی براءت میں آیات نازل ہوئیں۔ اگر کوئی اس واقعے (واقعہ افک) کو نہ جانتا ہو تو وہ ان آیات کے مقام اور شدت کو صحیح طرح نہیں سمجھ سکتا۔ اس لیے مفسر کے لیے “شانِ نزول” کا علم بی اے لیول کے نصاب میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔
الورقۃ الثانیۃ: الحدیث وأصوله (مشکوٰۃ المصابیح)
سوال نمبر 1: “إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ” والی حدیث کی روشنی میں نیت کی اہمیت، نیت کا محل (جگہ) اور اس حدیث کے “ثلاث الاسلام” (اسلام کا تہائی حصہ) ہونے کی وجہ بیان کریں۔
جواب:
نیت کی اہمیت: نیت کا معنی ہے “ارادہ”۔ شریعت میں نیت اس لیے ضروری ہے تاکہ ‘عادت’ اور ‘عبادت’ میں فرق ہو سکے۔ مثلاً ٹھنڈک کے لیے نہانا عادت ہے، لیکن نماز کے لیے نہانا عبادت ہے، اور یہ فرق صرف نیت سے ہوتا ہے۔
نیت کا محل:نیت کا تعلق انسان کے دل سے ہے۔ زبان سے نیت کے الفاظ ادا کرنا مستحب ہے تاکہ دل کو سہارا ملے، لیکن اصل اعتبار دل کے پکے ارادے کا ہے۔
ثلاث الاسلام (اسلام کا تہائی حصہ): امام شافعیؒ اور دیگر ائمہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث پورے دین کا ایک تہائی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ انسان کے اعمال تین طرح کے ہوتے ہیں: 1. دل کے اعمال، 2. زبان کے اعمال، 3. اعضاء کے اعمال۔ چونکہ نیت کا تعلق دل سے ہے، اس لیے یہ دین کا ایک تہائی حصہ کہلاتی ہے۔
ہجرت کا واقعہ: اس حدیث کا پس منظر ‘مہاجرِ ام قیس’ کا واقعہ ہے جس نے ایک عورت سے شادی کے لیے ہجرت کی تھی۔ آپ ﷺ نے واضح فرمایا کہ جس کی نیت دنیا یا عورت ہوگی اسے وہی ملے گا، اجرِ ثواب نہیں۔
سوال نمبر 2: “کتاب القصاص” کی روشنی میں “قتلِ عمد” اور “قتلِ خطا” کی تعریف کریں اور بتائیں کہ کیا گروہ کی صورت میں قتل کرنے پر سب کو قتل کیا جائے گا؟
جواب:
قتلِ عمد: وہ قتل جو جان بوجھ کر کسی ایسے آلے سے کیا جائے جو جسم کو کاٹ دے (جیسے تلوار یا گولی)۔ اس کی سزا قصاص (جان کے بدلے جان) ہے۔
قتلِ خطا:وہ قتل جو ارادے کے بغیر ہو جائے، مثلاً نشانے پر گولی چلائی مگر وہ کسی انسان کو لگ گئی۔ اس میں قصاص نہیں بلکہ دیت (مال) واجب ہوتی ہے۔
گروہ کا قتل: اگر کئی لوگ مل کر ایک شخص کو قتل کر دیں تو حضرت عمر فاروقؓ اور احناف کے نزدیک ان تمام افراد کو اس ایک شخص کے بدلے قتل کیا جائے گا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا تھا: “اگر صنعاء کے تمام رہنے والے بھی ایک شخص کے قتل میں شریک ہوتے تو میں ان سب کو قصاص میں قتل کر دیتا”۔
سوال نمبر 3: “کتاب الزکاۃ” کی روشنی میں ‘رِکاز’ (دفینہ) کی تعریف کریں اور اس میں زکوٰۃ (خمس) کے وجوب کی تفصیل بیان کریں۔
جواب:
رکاز کی تعریف: زمین میں دبا ہوا وہ قدیم مال یا خزانہ جو دورِ جاہلیت کا ہو اور کسی کو اچانک مل جائے۔
خمس کا وجوب: حدیثِ پاک میں ہے: “وفي الرکاز الخمس” (رکاز میں پانچواں حصہ واجب ہے)۔
تفصیلی حکم: 1. اگر کسی کو اپنی زمین سے یا بیابان سے ایسا خزانہ ملے جس پر اسلام سے پہلے کے نشانات ہوں، تو اس کا 20 فیصد (پانچواں حصہ) بیت المال میں جمع کرایا جائے گا اور باقی 80 فیصد پانے والے کا ہوگا۔ 2. اس میں ‘حولانِ حول’ (سال گزرنے) کی شرط نہیں ہے، بلکہ ملتے ہی یہ حصہ ادا کرنا ہوگا۔ 3. اگر خزانے پر اسلامی نشانات ہوں تو وہ ‘لقطہ’ (گری ہوئی چیز) کہلائے گا جس کے احکام الگ ہیں۔
اصولِ حدیث (نخبۃ الفکر)
سوال نمبر 4: “حدیثِ موضوع” (من گھڑت حدیث) کسے کہتے ہیں؟ وضعِ حدیث کے تین اسباب اور وضاعین (جھوٹے راویوں) کو پہچاننے کے طریقے تحریر کریں۔
جواب:
تعریف: وہ بات جو کسی نے اپنی طرف سے گھڑ کر نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب کر دی ہو۔ یہ حدیث کی سب سے بدترین قسم ہے اور اس کا بیان کرنا حرام ہے۔
وضع کے اسباب:
سیاسی اختلافات: اپنے فرقے یا گروہ کو حق پر ثابت کرنے کے لیے جھوٹ بولنا۔
ترغیب و ترہیب: لوگوں کو نیکی کی طرف مائل کرنے کے لیے جھوٹی فضیلتیں گھڑنا (جیسا کہ بعض جاہل زاہدوں نے کیا)۔
دشمنانِ اسلام کی سازش: اسلام کے صاف شفاف چشمے کو گدلا کرنے کے لیے من گھڑت قصے شامل کرنا۔
پہچاننے کا طریقہ: * راوی کا جھوٹا مشہور ہونا۔
راوی کا اقرار کر لینا (جیسے ابوعصمہ نے قرآن کی سورتوں کے فضائل گھڑنے کا اعتراف کیا)۔
کلام کا رکیک (گھٹیا) ہونا جو نبی ﷺ کی شانِ فصاحت کے خلاف ہو۔
الورقۃ الرابعۃ: البلاغۃ (مختصر المعانی)
سوال نمبر 1: “فصاحتِ کلمہ” کے عیوب میں سے “غرابت” (Strangeness) اور “مخالفتِ قیاس” کی تعریف کریں اور بتائیں کہ ان سے کلمہ کی فصاحت کیسے متاثر ہوتی ہے؟
جواب:
غرابت:کلمہ کا ایسا ہونا کہ اس کے معنی چھپے ہوئے ہوں اور عام عربی لغت جاننے والوں کو بھی اسے سمجھنے کے لیے بہت زیادہ کرید (تلاش) کرنی پڑے۔ اس کی دو صورتیں ہیں:
وحشی کلام: جو کلام سنتے ہی کانوں کو برا لگے (مثلاً ‘تکأکأتم’ جس کا معنی ‘جمع ہونا’ ہے)۔
الفاظ کی کثیر المعنویت: ایک ہی لفظ کے کئی معنی ہوں اور یہ واضح نہ ہو کہ یہاں کون سا مراد ہے (مثلاً لفظ ‘مسرج’ جس کا معنی زین والا بھی ہے اور چراغ والا بھی)۔
مخالفتِ قیاس:کلمہ کا ان صرفی قواعد (Grammar Rules) کے خلاف ہونا جو ماہرینِ لغت نے طے کیے ہیں۔ مثلاً لفظ ‘اجلل’ کہنا جبکہ قاعدے کے مطابق اسے ‘اجلّ’ (ادغام کے ساتھ) ہونا چاہیے تھا۔
اثر:جب کلمہ میں غرابت یا مخالفتِ قیاس آ جائے تو وہ “فصیح” نہیں رہتا، کیونکہ فصاحت کی بنیاد کلام کا ظاہر، واضح اور مانوس ہونا ہے۔
سوال نمبر 2: “خبر” کے درجات (ابتدائی، طلبی، انکاری) کی تعریف کریں اور بتائیں کہ کس مقام پر تاکید لانا ضروری ہے اور کہاں ممنوع؟
جواب: بلاغت میں مخاطب کی ذہنی حالت کے مطابق خبر کے تین درجے ہیں:
ابتدائی (Ibtida’i):جب مخاطب کا ذہن بالکل خالی ہو اور وہ معاملے سے بے خبر ہو۔ اس مقام پر خبر سادہ ہونی چاہیے، کوئی تاکید (مثلاً انّ یا لام) لانا ناپسندیدہ ہے۔ (مثال: “زیدٌ قائمٌ”)۔
طلبی (Talabi): جب مخاطب کو شک ہو یا وہ حقیقت جاننے کا طالب ہو۔ یہاں ایک تاکید لانا مستحسن (بہتر) ہے تاکہ اس کا شک دور ہو۔ (مثال: “إنّ زیداً قائمٌ”)۔
انکاری (Inkari): جب مخاطب بات کا انکار کر رہا ہو۔ اس مقام پر تاکید لانا واجب ہے، اور انکار جتنا سخت ہوگا، تاکیدیں بھی اتنی ہی زیادہ ہونی چاہئیں۔ (مثال: “إنّ زیداً لقائمٌ” یا “واللہ إنّ زیداً لقائمٌ”)۔
سوال نمبر 3: “قصر” (Restriction) کی تعریف کریں اور “قصرِ صفت علی الموصوف” اور “قصرِ موصوف علی الصفت” کے درمیان فرق مثالوں سے واضح کریں۔
جواب:
تعریف:کسی ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ کسی خاص طریقے سے مخصوص کر دینا (مثلاً: صرف اللہ ہی رازق ہے)۔
قصرِ صفت علی الموصوف: ایک خوبی کو ایک ہی شخص کے لیے خاص کر دینا۔ مثلاً: “لا الہ الا اللہ” (صفتِ الوہیت کو صرف اللہ کے لیے خاص کر دیا گیا)۔
قصرِ موصوف علی الصفت:ایک شخص کو ایک ہی صفت کے لیے خاص کر دینا (یعنی وہ اور کوئی کام نہیں کرتا)۔ مثلاً: “انما انت منذر” (آپ ﷺ کا کام صرف ڈرانا ہے)۔ یاد رہے کہ یہ قصر اکثر ‘قصرِ اضافی’ ہوتا ہے، یعنی مخاطب کے زعم کو دور کرنے کے لیے (ورنہ آپ ﷺ کی اور بھی بہت سی صفات ہیں)۔
سوال نمبر 4: “ایجاز” (Brevity) کی اقسام ‘ایجازِ قصر’ اور ‘ایجازِ حذف’ کی تعریف مع مثالیں تحریر کریں۔
جواب:
ایجاز:کم الفاظ میں زیادہ معنی بیان کرنا۔
ایجازِ قصر: عبارت میں کوئی لفظ حذف نہ ہو، لیکن الفاظ کے اندر معانی کا سمندر چھپا ہو۔ مثلاً: “ولکم فی القصاص حیاۃ” (تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے)۔ یہ چھوٹی سی عبارت قتل و غارت کو روکنے کے پورے فلسفے کو سمیٹے ہوئے ہے۔
ایجازِ حذف: عبارت میں سے کوئی لفظ، جملہ یا حصہ حذف کر دیا جائے جس کے بغیر بھی معنی سمجھ آ رہا ہو۔ مثلاً: “واسأل القریۃ” (بستی سے پوچھو)۔ یہاں اصل میں “أهل القریۃ” (بستی والوں) مراد ہے، مگر ‘اہل’ کو حذف کر دیا گیا۔
الورقۃ الخامسۃ: الفلسفۃ والمناظرۃ
القسم الأول: الفلسفہ (ہدایۃ الحکمۃ)
سوال نمبر 1: “حرکت” کی تعریف کریں اور اس کی مندرجہ ذیل چار اقسام کی مثالوں سے وضاحت کریں: حرکتِ کمیہ، حرکتِ کیفیہ، حرکتِ اینیہ، اور حرکتِ وضعیہ۔
جواب:
حرکت کی تعریف:کسی چیز کا “قوت” (Potential) سے “فعل” (Actual) کی طرف درجہ بدرجہ نکلنا۔ یعنی ایک حالت سے دوسری حالت میں بتدریج تبدیلی۔
اقسامِ حرکت:
حرکتِ کمیہ (Quantitative):جسم کی مقدار میں تبدیلی آنا۔ جیسے بچے کا بڑھ کر جوان ہونا یا پودے کا قد نکالنا۔
حرکتِ کیفیہ (Qualitative):جسم کی صفت یا حالت بدلنا۔ جیسے پانی کا آہستہ آہستہ گرم ہونا، یا پھل کا کچا (سبز) سے پکا (زرد) ہو جانا۔
حرکتِ اینیہ (Locomotion): ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا۔ جیسے انسان کا ایک شہر سے دوسرے شہر جانا۔
حرکتِ وضعیہ (Positional):جسم اپنی جگہ پر رہے مگر اس کی سمت یا پوزیشن بدل جائے۔ جیسے لٹو (Top) کا اپنے محور پر گھومنا یا زمین کی اپنے مدار پر گردش۔
سوال نمبر 2: “زمان” (Time) کی حقیقت کیا ہے؟ کیا وقت کوئی مستقل وجود رکھتا ہے یا یہ حرکت کا نتیجہ ہے؟ فلاسفہ کے نظریات تحریر کریں۔
جواب:
زمان کی تعریف:فلاسفہ کے نزدیک زمان “حرکت کی مقدار” کا نام ہے جو “پہلے” اور “بعد” کے درمیان تقسیم ہوتی ہے۔
حقیقت: وقت بذاتِ خود کوئی مادی چیز نہیں بلکہ یہ اجسام کی حرکت سے پیدا ہوتا ہے۔ اگر کائنات میں ہر طرح کی حرکت رک جائے تو وقت کا تصور بھی ختم ہو جائے گا۔
وقت کی تقسیم:زمان ایک ایسی “مقدارِ غیر قار” ہے جس کا کوئی بھی حصہ ٹھہرا ہوا نہیں ہے۔ جو لمحہ گزر گیا وہ ماضی ہے، جو آنے والا ہے وہ مستقبل، اور ان دونوں کے درمیان ایک فرضی لکیر کا نام ‘حال’ (Present) ہے جو حقیقت میں ایک لمحہِ سیال ہے۔
القسم الثاني: المناظرہ (الرشیدیہ)
سوال نمبر 3: مناظرہ میں “سند” کی تعریف کریں اور اس کی تین اقسام (سندِ منعی، سندِ لمی، اور سندِ علی سبیلِ الجوز) کی وضاحت کریں۔
جواب:
سند کی تعریف: جب سائل مدعی کی بات پر اعتراض (منع) کرتا ہے، تو اس اعتراض کو مضبوط کرنے کے لیے جو دلیل دی جاتی ہے اسے “سند” کہتے ہیں۔
اقسامِ سند:
سندِ منعی: محض یہ کہنا کہ تمہارا دعویٰ اس لیے غلط ہے کیونکہ اس کے خلاف یہ بات مشہور ہے۔
سندِ لمی:اعتراض کے ساتھ اس کی وجہ (علت) بھی بیان کرنا۔ یعنی “میں تمہاری بات اس لیے نہیں مانتا کیونکہ اس کی اصل وجہ یہ نہیں بلکہ وہ ہے”۔
سندِ علی سبیلِ الجوز:مدعی کی بات کو ایک لمحے کے لیے درست مان کر اس میں خرابی نکالنا۔ یعنی “اگر ہم تمہاری بات مان بھی لیں، تب بھی یہ نتیجہ نہیں نکلتا جو تم نکال رہے ہو”۔
سوال نمبر 4: “مغالطہ” (Sophistry) کسے کہتے ہیں؟ مناظرہ کے دوران مغالطہ دہی کے نقصانات اور اس سے بچنے کے طریقے بیان کریں۔
جواب:
تعریف:ایسی دلیل جو دیکھنے میں سچی لگے مگر حقیقت میں جھوٹے مقدمات پر مبنی ہو، اسے مغالطہ کہتے ہیں۔ اس کا مقصد حق کو چھپانا اور مخالف کو دھوکہ دینا ہوتا ہے۔
نقصانات:مغالطہ بحث کو لایعنی بنا دیتا ہے، وقت ضائع کرتا ہے اور فریقین کے درمیان دشمنی پیدا کرتا ہے۔ اس سے اصل حق دب جاتا ہے۔
بچنے کے طریقے:
الفاظ کے معانی کو واضح طور پر متعین کرنا۔
دلیل کے ہر مقدمے (Premise) کو الگ الگ پرکھنا۔
بحث کے دوران موضوع سے نہ ہٹنا (یعنی ادھر ادھر کی باتیں نہ کرنا)۔
الورقۃ السادسۃ: الأدب العربي (حماسہ و متنبی)
سوال نمبر 1: دیوان الحماسہ کے درج ذیل اشعار کا اردو میں سلیس ترجمہ کریں اور ان میں موجود “جنیب” اور “موثق” کی لغوی تحقیق کریں۔
ترجمہ: 1. میری محبت (اور دل) یمن کے اس قافلے کے ساتھ بلندی کی طرف کھچی چلی جا رہی ہے، جب کہ میرا جسم مکہ میں قید (بندھا ہوا) ہے۔ 2. مجھے اس (محبوبہ کی یاد) کے رات کے وقت چل کر آنے پر تعجب ہے کہ وہ مجھ تک کیسے پہنچ گئی، جب کہ میرے آگے قید خانے کا دروازہ بند تھا۔
لغوی تحقیق:
جَنِيب:یہ ‘جنب’ سے ہے، اس گھوڑے کو کہتے ہیں جسے سواری کے گھوڑے کے پہلو میں (اضافی طور پر) باندھ کر لے جایا جائے۔ شاعر نے اپنی محبت کو اس سے تشبیہ دی ہے جو قافلے کے ساتھ ساتھ کھچی جا رہی ہے۔
مُوثَق: یہ ‘وثق’ سے اسم مفعول کا صیغہ ہے، اس کا معنی ہے “مضبوط باندھا ہوا” یا “قیدی”۔
سوال نمبر 2: دیوان الحماسہ کے باب الحماسہ (بہادری) کا مرکزی خیال کیا ہے؟ نیز بتائیں کہ “حماسہ” کے اشعار میں دشمن کی تعریف کرنا کس بات کی علامت ہے؟
جواب:
مرکزی خیال: باب الحماسہ کا مرکزی موضوع قبیلے کی مدافعت، دشمن سے بدلہ لینا، موت سے نہ ڈرنا اور جنگ کے دوران ثابت قدمی دکھانا ہے۔
دشمن کی تعریف:حماسہ کے شعراء اکثر اپنے دشمن کی بہادری کی تعریف بھی کرتے ہیں۔ اس کا مقصد یہ دکھانا ہوتا ہے کہ ہم نے کسی بزدل کو نہیں بلکہ ایک نہایت طاقتور اور بہادر دشمن کو شکست دی ہے، جس سے خود بخود ان کی اپنی بہادری دگنی ثابت ہوتی ہے۔
سوال نمبر 3: دیوان المتنبی کے درج ذیل اشعار کا ترجمہ کریں اور متنبی کے اسلوب میں “سیف الدولہ” کے مقام کی وضاحت کریں۔
جب تم شیر کے دانتوں کو باہر نکلا ہوا دیکھو تو ہرگز یہ گمان نہ کرنا کہ شیر مسکرا رہا ہے (بلکہ وہ حملے کی تیاری ہے)۔
ان اصیل اور معزز گھوڑوں کی نسل کا کیا فائدہ، جب ان کی پیٹھ پر (لڑنے والے) شہسوار ہی موجود نہ ہوں۔
سیف الدولہ کا مقام:متنبی کے نزدیک سیف الدولہ صرف ایک بادشاہ نہیں بلکہ وہ “عرب کی غیرت” کا نماد ہے۔ متنبی اسے روم کے خلاف اسلام کی ڈھال قرار دیتا ہے۔ اس کے کلام میں سیف الدولہ کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے اٹھنے والا غبار بھی دشمن کے لیے سرمہ بن جاتا ہے۔
سوال نمبر 4: درج ذیل کلمات کے معنی لکھیں اور ان کی واحد یا جمع تحریر کریں: (جواهر، سحائب، قوافيا، غرر)