Tanzeem ul Madaris Solved Guess Paper 2025 | PDF (طلباء کے لیے) عالیہ سال دوم


تخمینہ پرچہ : الورقۃ الأولى (التفسیر وأصولہ)

کل نمبر: 100 | وقت: 3 گھنٹے

حصہ اول: التفسیر (تفسیر بیضاوی)

سوال نمبر 1: سورہ فاتحہ کے اسماء، تسمیہ (بسم اللہ) کی بحث اور “الْحَمْدُ لِلَّهِ” کی تفصیلی تفسیر لکھیں۔
جواب:
  • سورہ فاتحہ کے اسماء: امام بیضاویؒ فرماتے ہیں کہ اس سورت کے بہت سے نام ہیں جن میں سے مشہور یہ ہیں:
    1. الفاتحہ: اس لیے کہ قرآن کی کتابت اور تلاوت اسی سے شروع ہوتی ہے۔
    2. ام القرآن: کیونکہ یہ تمام قرآنی علوم (ثنائے الٰہی، احکام، وعد و وعید) کی اصل ہے۔
    3. السبع المثانی: کیونکہ یہ سات آیات ہیں جو ہر نماز میں بار بار پڑھی جاتی ہیں۔
  • تسمیہ (بسم اللہ) کی بحث: * احناف کا موقف: بسم اللہ سورہ فاتحہ کا جز نہیں بلکہ ایک مستقل آیت ہے جو سورتوں کے درمیان فصل اور برکت کے لیے نازل ہوئی۔ ان کی دلیل ابن عباسؓ کی روایت ہے کہ “نبی ﷺ سورت کا ختم ہونا تب جانتے جب بسم اللہ نازل ہوتی”۔
    • شوافع کا موقف: یہ ہر سورت (بجز سورہ توبہ) کا باقاعدہ جز اور پہلی آیت ہے۔ ان کی دلیل ام سلمہؓ کی روایت ہے جس میں آپ ﷺ نے بسم اللہ کو پہلی آیت شمار کیا۔
  • الْحَمْدُ لِلَّهِ کی تفسیر:
    • حمد کا معنی: کسی کی اختیاری خوبی پر اس کی تعظیم کی نیت سے زبان سے ثنا کرنا۔
    • لام کی تحقیق: لفظ ‘للہ’ میں ‘لام’ اختصاص اور استحقاق کے لیے ہے۔ یعنی تمام کمالات اور تعریفیں صرف اللہ ہی کے لیے خاص ہیں اور وہی ان کا حقیقی حقدار ہے۔

سوال نمبر 2: “هُدًى لِلْمُتَّقِينَ” کی روشنی میں ہدایت کے چار درجات (اجناسِ مترتبہ) اور تقویٰ کی جامع تعریف لکھیں۔
جواب:
  • ہدایت کے چار درجات (اجناسِ مترتبہ): امام بیضاویؒ نے ہدایت کے چار مرتبے بیان کیے ہیں جو انسان کو درجہ بدرجہ حاصل ہوتے ہیں:
    1. ہدایتِ عامہ: وہ حواسِ خمسہ اور عقل جو اللہ نے ہر ذی روح اور انسان کو دی تاکہ وہ اپنی زندگی گزار سکے۔
    2. ہدایتِ ثانیہ: وہ دلائل اور نشانیاں جو اللہ نے کائنات میں پھیلا دیں اور انبیاء و کتب کے ذریعے حق واضح کیا۔
    3. ہدایتِ ثالثہ (توفیق): جب بندہ حق کی طلب کرتا ہے تو اللہ اس کے دل کو ایمان کے لیے کھول دیتا ہے، اسے ‘الہام’ اور ‘شرحِ صدر’ کہتے ہیں۔
    4. ہدایتِ رابعہ: آخرت میں مومنین کو جنت کے راستے کی طرف لے جانا اور وہاں کے درجات تک پہنچانا۔
  • تقویٰ کی لغوی و اصطلاحی تعریف:
    • لغوی: بچنا یا ڈھال بنانا۔
    • اصطلاحی: نفس کو ان تمام کاموں سے بچانا جو آخرت کے عذاب کا سبب بنیں۔ اس کے تین درجات ہیں: شرک سے بچنا، گناہوں (کبیرہ و صغیرہ) سے بچنا، اور اللہ کے سوا ہر چیز سے دل کو پاک کر لینا (یہ کمالِ تقویٰ ہے)۔

سوال نمبر 3: “الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ” کی تفسیر کریں اور بتائیں کہ کیا حرام شے پر “رزق” کا اطلاق ہوتا ہے؟ احناف اور معتزلہ کا اختلاف لکھیں۔
جواب:
  • ایمان بالغیب: اس سے مراد ان حقائق کی تصدیق کرنا ہے جو حواس (دیکھنے، چھونے وغیرہ) سے معلوم نہ ہو سکیں بلکہ صرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی خبر سے معلوم ہوں، جیسے قیامت، فرشتے، جنت اور دوزخ۔
  • رزق میں حرام کا شامل ہونا: آیت “وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ” کے تحت رزق کی بحث:
    • اہلِ سنت (احناف) کا موقف: حرام بھی رزق ہے! ان کی دلیل یہ ہے کہ رزق ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس سے کوئی جاندار فائدہ اٹھائے۔ اگر حرام رزق نہ ہوتا تو عمر بھر حرام کھانے والا شخص کبھی اللہ کا رزق کھاتا ہی نہیں، جبکہ اللہ ہر ایک کا خالق اور رازق ہے۔
    • معتزلہ کا موقف: حرام رزق نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ رزق اللہ کی ‘نعمت’ ہے اور اللہ حرام چیز کی نسبت اپنی طرف نہیں کرتا کیونکہ وہ برائی کا حکم نہیں دیتا۔
    • ردِ معتزلہ: اہل سنت کہتے ہیں کہ رزق ‘ملکیت’ کا نام نہیں بلکہ ‘غذا’ کا نام ہے، اور اللہ تعالیٰ کافروں کو بھی رزق (غذا) فراہم کرتا ہے۔

حصہ دوم: اصولِ تفسیر (اتقان/فوز الکبیر)

سوال نمبر 4: مکی اور مدنی سورتوں کی پہچان کے لیے تین مختلف اصطلاحات (معیارات) کی وضاحت کریں۔
جواب: مکی اور مدنی کی پہچان کے لیے علماء نے تین بنیادیں مقرر کی ہیں:
  1. باعتبارِ زمان (وقت): یہ سب سے مشہور اور مستند اصطلاح ہے۔ جو کچھ ہجرت سے پہلے نازل ہوا وہ مکی ہے، اور جو ہجرت کے بعد نازل ہوا وہ مدنی ہے (خواہ وہ مکہ میں ہی کیوں نہ نازل ہوا ہو، جیسے فتح مکہ کے موقع پر نازل ہونے والی آیات)۔
  2. باعتبارِ مکان (جگہ): جو کچھ مکہ اور اس کے گردونواح میں نازل ہوا وہ مکی، اور جو مدینہ اور اس کے مضافات میں نازل ہوا وہ مدنی ہے۔
  3. باعتبارِ خطاب (مخاطب): جس سورت میں مکہ کے کافروں کو خطاب ہو (یا ایہا الناس) وہ مکی، اور جس میں مدینہ کے مومنوں کو خطاب ہو (یا ایہا الذین آمنوا) وہ مدنی ہے۔

تخمینہ پرچہ : الورقۃ الثانیۃ (الحدیث وأصولہ)

کل نمبر: 100 | وقت: 3 گھنٹے

القسم الأول: الحديث (مشکوٰۃ المصابیح)

سوال نمبر 1: دیت (خون بہا) کی تعریف کریں، اس کی مشروعیت پر روشنی ڈالیں اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں دیت کی مقدار میں ہونے والی تبدیلی کی تفصیل لکھیں۔
جواب:
  • دیت کی لغوی و شرعی تعریف:
    • لغوی: دیت کا مادہ “ودی” ہے، جس کے معنی ادائیگی یا پہنچانے کے ہیں۔
    • شرعی: وہ مقررہ مال جو مقتول کے ورثاء کو قتلِ خطا یا زخموں کے بدلے میں دیا جاتا ہے تاکہ خون ضائع نہ ہو اور دشمنی ختم ہو۔
  • دیت کی مقدار اور عہدِ رسالت ﷺ: نبی کریم ﷺ کے زمانے میں دیت کی اصل بنیاد 100 اونٹ تھے۔ چونکہ اس وقت لوگ مختلف مالی ذرائع رکھتے تھے، اس لیے آپ ﷺ نے قیمت کے لحاظ سے چاندی والوں پر 8000 درہم اور سونے والوں پر 800 دینار مقرر فرمائے تھے۔
  • عہدِ فاروقی میں تبدیلی اور اس کی علت: حضرت عمر بن خطابؓ کے دور میں جب اونٹوں کی قیمتیں بڑھ گئیں (یعنی اونٹ مہنگے ہو گئے)، تو آپؓ نے صحابہ کرام کے مجمع میں خطبہ دیا اور فرمایا کہ اب اونٹ کی قیمت پہلے جیسی نہیں رہی۔
    • فیصلہ: آپؓ نے سونے والوں (اہلِ ذہب) پر مقدار بڑھا کر 1000 دینار اور چاندی والوں (اہلِ ورق) پر 12,000 درہم مقرر کر دی۔
    • علت: اس تبدیلی کی وجہ یہ تھی کہ دیت کا اصل مقصد مقتول کے نقصان کی تلافی کرنا ہے، اور قیمتِ بازار کے مطابق توازن برقرار رکھنا ضروری تھا۔

سوال نمبر 2: “أَقِيمُوا حُدُودَ اللَّهِ فِي الْقَرِيبِ وَالْبَعِيدِ” والی حدیث کی روشنی میں نفاذِ حدود کے اصول بیان کریں اور قصاص و دیت کے فقہی احکام واضح کریں۔
جواب:
  • نفاذِ حدود میں برابری: حدیثِ مبارکہ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کے احکامات (حدود) نافذ کرتے وقت کسی کی رعایت نہ کی جائے۔
    • القریب: اس سے مراد اپنے رشتہ دار، بااثر لوگ یا حکمران طبقہ ہے۔
    • البعید: اس سے مراد اجنبی، غریب یا عام رعایا ہے۔ اسلامی قانون میں سزا کے وقت سفارش یا منصب کی کوئی حیثیت نہیں۔ “لومۃ لائم” کا مطلب یہ ہے کہ حق بات کہنے اور حد لگانے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہ کیا جائے۔
  • قصاص اور دیت میں فرق:
    1. قصاص (Retaliation): یہ صرف قتلِ عمد (جان بوجھ کر قتل کرنا) میں واجب ہوتا ہے۔ اس کا اصول “جان کے بدلے جان” ہے۔ اگر مقتول کے ورثاء چاہیں تو قاتل کو قتل کیا جائے گا۔
    2. دیت (Blood Money): یہ قتلِ خطا (غلطی سے قتل) یا شبہ عمد میں واجب ہوتی ہے۔ نیز اگر قتلِ عمد میں ورثاء قصاص کے بجائے مال پر صلح کر لیں، تب بھی دیت لی جاتی ہے۔

سوال نمبر 3: “لَيْسَ مِنَّا مَنْ تَشَبَّهَ بِغَيْرِنَا” کی تشریح کریں اور غیر مسلموں (یہود و نصاریٰ) کے سلام کرنے کے طریقے اور اسلامی طریقے کا تقابل کریں۔
جواب:
  • تشبہ (مشابہت) کی ممانعت: نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو دوسری قوموں کا طریقہ اپنائے وہ ہم میں سے نہیں۔ اس سے مراد وہ مشابہت ہے جو کسی قوم کے مذہبی شعار یا ان کی مخصوص تہذیب کو اپنانے سے ہو۔
  • سلام کرنے کے طریقے:
    1. یہود کا طریقہ: وہ سلام کرتے وقت صرف انگلیوں (Fingers) سے اشارہ کرتے تھے۔
    2. نصاریٰ (عیسائی) کا طریقہ: وہ سلام کے وقت پوری ہتھیلی (Palm) سے اشارہ کرتے تھے۔
    3. اسلامی طریقہ: سنت یہ ہے کہ زبان سے “السلام علیکم” کہا جائے۔
  • اہم مسئلہ: اگر کوئی شخص دور ہو اور آواز نہ پہنچ سکتی ہو، تو زبان سے لفظ کہتے ہوئے ہاتھ کا اشارہ کرنا جائز ہے، لیکن صرف ہاتھ کا اشارہ کرنا (زبان خاموش رکھنا) یہود و نصاریٰ کی مشابہت ہے اور مکروہ ہے۔

القسم الثاني: أصول الحديث (نخبۃ الفکر وغیرہ)

سوال نمبر 4: حدیث کی اہم اقسام (صحیح لذاتہ، صحیح لغیرہ، مرسل، معضل) کی تفصیلی تعریفات اور ان کا شرعی حکم بیان کریں۔
جواب:
  1. صحیح لذاتہ: وہ حدیث جس کی سند متصل ہو، راوی عادل اور مکمل ضابط (قوی حافظے والے) ہوں، اور وہ حدیث شذوذ اور علتِ قادحہ سے پاک ہو۔ (حکم: یہ قطعی حجت ہے)۔
  2. صحیح لغیرہ: وہ حدیث جو بذاتِ خود “حسن” ہو، لیکن جب دوسری سندوں سے اس کی تائید ہو جائے تو وہ صحیح کے درجے تک پہنچ جاتی ہے۔
  3. المرسل: وہ حدیث جسے تابعی براہِ راست رسول اللہ ﷺ سے روایت کرے اور درمیان سے صحابی کا نام حذف کر دے۔
    • حکم: احناف کے نزدیک اگر راوی ثقہ ہے تو مرسل مقبول ہے۔
  4. المعضل: وہ حدیث جس کی سند سے لگاتار دو یا دو سے زائد راوی گر گئے ہوں۔ (حکم: یہ ضعیف کی بدترین قسم ہے اور ناقابلِ حجت ہے)۔

تخمینہ پرچہ 2026: الورقۃ الثالثۃ (الفقہ – ہدایہ اولین)

کل نمبر: 100 | وقت: 3 گھنٹے

حصہ اول: کتاب البيوع (خرید و فروخت)

سوال نمبر 1: خیارِ رؤیت (دیکھنے کا اختیار) کی تعریف کریں، اس کا شرعی حکم بیان کریں اور اس مسئلے میں احناف و شوافع کے نقلی و عقلی دلائل کی تفصیل لکھیں۔
جواب:
  • تعریف: خیارِ رؤیت سے مراد وہ حق ہے جو کسی شخص کو ایسی چیز خریدنے پر حاصل ہوتا ہے جو اس نے خریدتے وقت نہ دیکھی ہو۔ یعنی چیز دیکھنے کے بعد اسے لینے یا نہ لینے کا اختیار ہونا۔
  • احناف کا موقف: امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک غائب (بغیر دیکھی) چیز کی بیع جائز ہے اور خریدار کو اسے دیکھنے کے بعد واپس کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔
    • دلیلِ نقلی: نبی ﷺ کا فرمان ہے: “جس نے کوئی ایسی چیز خریدی جسے اس نے دیکھا نہیں، تو اسے دیکھنے کے بعد اختیار حاصل ہے“۔
    • دلیلِ عقلی: خرید و فروخت میں اصل مقصود ‘رضامندی’ ہے، اور مکمل رضامندی چیز کو دیکھنے کے بعد ہی حاصل ہو سکتی ہے، اس لیے یہ اختیار ضروری ہے۔
  • شوافع کا موقف: امام شافعیؒ کے نزدیک ایسی بیع سرے سے باطل (ناجائز) ہے جس میں مبیع (چیز) سامنے موجود نہ ہو۔
    • دلیل: ان کے نزدیک یہ “بیعِ غرر” (دھوکے والی بیع) ہے، اور حدیث میں بیعِ غرر سے منع کیا گیا ہے۔
  • فروخت کرنے والے کا اختیار: یاد رہے کہ خیارِ رؤیت صرف خریدار کے لیے ہے، بیچنے والے (بائع) کے لیے نہیں، یعنی اگر بائع نے اپنی چیز دیکھے بغیر بیچ دی تو اسے واپس لینے کا اختیار نہیں ہوگا۔

سوال نمبر 2: “بیعِ عینہ” کی ایک صورت یہ ہے کہ ایک چیز ہزار میں ادھار بیچ کر پانچ سو میں نقد واپس خرید لی جائے۔ اس معاملے کی وضاحت کریں اور ائمہ کا اختلاف مع دلائل تحریر کریں۔
جواب:
  • مسئلے کی صورت: ایک شخص نے لونڈی (یا کوئی سامان) ہزار درہم میں ادھار بیچی اور مشتری (خریدار) نے اس پر قبضہ کر لیا۔ پھر قیمت ادا کرنے سے پہلے، بیچنے والے نے وہی چیز مشتری سے پانچ سو درہم نقد میں واپس خرید لی۔
  • احناف کا حکم: یہ دوسری بیع ناجائز ہے۔
    • دلیل: اس میں صریح سود (ربا) کا شبہ ہے۔ عملی طور پر یہ ہوا کہ ایک شخص نے دوسرے کو پانچ سو روپے نقد دیے تاکہ کچھ عرصے بعد اس سے ہزار روپے واپس لے سکے۔ درمیان میں سامان کو صرف حیلہ بنایا گیا۔ حضرت عائشہؓ نے ایسی بیع پر سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا تھا۔
  • شوافع کا حکم: امام شافعیؒ کے نزدیک یہ جائز ہے، کیونکہ ان کے نزدیک دونوں عقد (معاہدے) الگ الگ ہیں اور دونوں کی شرائط پوری ہیں۔

سوال نمبر 3: ربا (سود) کی تعریف کریں اور “ربا الفضل” کی حرمت کی بنیادی علت (وجہ) کیا ہے؟ حدیثِ عبادہ بن صامت کی روشنی میں واضح کریں۔
جواب:
  • ربا کی تعریف: عقدِ بیع میں ایسی زیادتی جو عوض (بدلے) سے خالی ہو اور اسے عقد میں مشروط کر دیا گیا ہو۔
  • حدیثِ نبوی ﷺ: “سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلے، گندم گندم کے، جو جو کے، کھجور کھجور کے اور نمک نمک کے بدلے برابر برابر بیچے جائیں”۔
  • حرمت کی علت (وجہ): احناف کے نزدیک سود کی حرمت کی دو بنیادی وجوہات ہیں:
    1. القدر (پیمانہ یا وزن): یعنی دونوں چیزیں ناپ کر یا تول کر بیچی جاتی ہوں۔
    2. الجنس (ایک ہی قسم): یعنی دونوں چیزیں ایک ہی جنس سے ہوں۔ جہاں یہ دو باتیں (وزن/پیمانہ اور اتحادِ جنس) پائی جائیں گی، وہاں کمی بیشی کے ساتھ بیچنا ‘ربا’ اور حرام کہلائے گا۔

حصہ دوم: کتاب المضاربۃ والہبۃ

سوال نمبر 4: مضاربت کی تعریف کریں، اس کے جائز ہونے کی عقلی و نقلی دلیل دیں اور وہ کام بیان کریں جو ایک “مضاربِ مطلق” کر سکتا ہے۔
جواب:
  • تعریف: مضاربت ایک ایسا معاہدہ ہے جس میں ایک فریق کا سرمایہ (پیسہ) ہو اور دوسرے فریق کی محنت ہو، اور نفع دونوں میں طے شدہ شرح کے مطابق تقسیم ہو۔
  • جواز کی دلیل: * نقلی: صحابہ کرامؓ مضاربت کرتے تھے اور رسول اللہ ﷺ نے اسے برقرار رکھا۔
    • عقلی: انسانی ضرورت اس کی متقاضی ہے، کیونکہ کچھ لوگوں کے پاس پیسہ ہوتا ہے مگر تجارت کا ہنر نہیں، اور کچھ ہنرمندوں کے پاس سرمایہ نہیں ہوتا۔
  • مضارب کے اختیارات: اگر مضاربت ‘مطلق’ (غیر مشروط) ہو تو مضارب یہ کام کر سکتا ہے:
    1. خرید و فروخت کرنا۔ 2. تجارت کے لیے سفر کرنا۔ 3. کسی دوسرے کو وکیل بنانا۔ 4. مال کو امانت (ودیعت) کے طور پر رکھنا۔ 5. نفع میں سے اپنا حصہ لینا۔

سوال نمبر 5: ہبہ (تحفہ) کی تعریف کریں، اس کے مکمل ہونے کی شرائط کیا ہیں اور کیا ہبہ کر کے اسے واپس لینا (رجوع) جائز ہے؟
جواب:
  • ہبہ کی تعریف: کسی کو اپنی چیز کا بغیر کسی عوض (بدلے) کے مالک بنا دینا۔
  • تکمیل کی شرط: ہبہ صرف ایجاب و قبول سے مکمل نہیں ہوتا بلکہ “قبضہ” ضروری ہے۔ جب تک لینے والا چیز پر قبضہ نہ کر لے، ہبہ مکمل نہیں مانا جائے گا۔
  • رجوع کا حکم: * احناف: ہبہ سے رجوع کرنا مکروہ ہے، لیکن اگر “موانعِ رجوع” (رجوع سے روکنے والی چیزیں) نہ ہوں تو قاضی کے فیصلے سے رجوع ہو سکتا ہے۔
    • موانعِ رجوع (وہ صورتیں جہاں واپسی نہیں ہو سکتی): 1. میاں بیوی کا ایک دوسرے کو ہبہ کرنا۔ 2. رشتہ دار (محرم) کو ہبہ کرنا۔ 3. چیز میں اضافہ ہو جانا۔ 4. چیز کا ضائع ہو جانا۔ 5. بدلہ (عوض) مل جانا۔

تخمینہ پرچہ 2026: الورقۃ الرابعۃ (البلاغۃ – مختصر المعانی)

کل نمبر: 100 | وقت: 3 گھنٹے

حصہ اول: مقدمہ اور فنِ فصاحت

سوال نمبر 1: “فصاحت” کی لغوی و اصطلاحی تعریف کریں اور “فصاحتِ کلام” کے تین بڑے عیوب (ضعفِ تالیف، تنافر، تعقید) کی مثالوں کے ساتھ مفصل وضاحت کریں۔
جواب:
  • لغوی تعریف: فصاحت کا لغوی معنی ہے “ظہور” یا “بیان کا صاف ہونا”۔ جیسے عرب کہتے ہیں “فصح اللبن” (دودھ سے جھاگ اتر گئی اور وہ صاف ہو گیا)۔
  • اصطلاحی تعریف: کلام کا عیوب سے پاک ہونا اور قواعدِ نحویہ کے مطابق ہونا۔
  • فصاحتِ کلام کے عیوب: کلام تب فصیح کہلائے گا جب وہ درج ذیل تین عیوب سے پاک ہو:
    1. ضعفِ تالیف: کلام کا قواعدِ نحویہ کے مشہور طریقے کے خلاف ہونا۔ مثلاً: ضمیر کو ایسے مرجع کی طرف لوٹانا جو لفظاً اور رتبتاً مؤخر ہو۔
    2. تنافرِ کلمات: الفاظ کا ایسا مجموعہ جو زبان پر بوجھل ہو اور اسے بولنے میں دشواری ہو۔ جیسے مشہور مثال: “وقبرُ حربٍ بمکانٍ قفرٍ” (اس میں ‘ر’ اور ‘ب’ کے بار بار اجتماع سے زبان لڑکھڑاتی ہے)۔
    3. التعقيد (پوشیدگی): کلام میں ایسی پیچیدگی ہونا کہ مراد سمجھنے میں دشواری ہو۔ اس کی دو قسمیں ہیں:
      • تعقیدِ لفظی: الفاظ کی ترتیب (نظم) میں الٹ پلٹ ہونا۔
      • تعقیدِ معنوی: ایسے دور از کار استعارے اور کنائے استعمال کرنا کہ ذہن الجھ جائے۔ مثلاً: “آنسو” کے لیے “جمود” (خوشی کے وقت آنکھ جم جانا) کا لفظ استعمال کرنا جبکہ یہ غم کے لیے مستعمل ہے۔

سوال نمبر 2: “حمد” اور “شکر” کے درمیان نسبت کی وضاحت کریں اور “مقتضیٰ حال” (Context) کی اہمیت پر نوٹ لکھیں۔
جواب:
  • حمد اور شکر میں نسبت: علمِ بلاغت کے آغاز میں مصنف نے حمد سے ابتدا کی ہے، یہاں یہ جاننا ضروری ہے کہ حمد اور شکر میں “عموم و خصوص من وجہ” کی نسبت ہے:
    1. حمد: ‘مورد’ (زبان) کے اعتبار سے خاص ہے (صرف زبان سے ہوتی ہے) لیکن ‘سبب’ کے اعتبار سے عام ہے (خواہ کسی احسان کے بدلے ہو یا کسی کی ذاتی خوبی پر)۔
    2. شکر:مورد’ کے اعتبار سے عام ہے (دل، زبان اور اعضاء سب سے ہو سکتا ہے) لیکن ‘سبب’ کے اعتبار سے خاص ہے (صرف کسی نعمت یا احسان کے بدلے میں ہوتا ہے)۔
  • مقتضیٰ حال: بلاغت کا دارومدار “مقتضیٰ حال” پر ہے۔ یعنی کلام مخاطب کی ذہنی سطح اور موقع و محل کے مطابق ہو۔ مثلاً: اگر مخاطب ذہین ہے تو بات “ایجاز” (مختصر) ہونی چاہیے، اور اگر وہ کند ذہن یا منکر ہے تو بات “اطناب” (تفصیل و تاکید) کے ساتھ ہونی چاہیے۔

حصہ دوم: علم المعانی (احوالِ اسنادِ خبری)

سوال نمبر 3: “خبر” کو مقتضیٰ ظاہر کے خلاف لانے کی مختلف صورتیں کیا ہیں؟ “منکر” اور “غیر منکر” کے درجے میں رکھنے کی مثالوں سے وضاحت کریں۔
جواب: اصل قاعدہ تو یہ ہے کہ خبر سادہ ہو، لیکن کبھی کبھی بلاغت کا تقاضا ہوتا ہے کہ اسے ظاہر کے خلاف لایا جائے:
  1. غیر سائل کو سائل کے درجے میں رکھنا: ایک شخص نے سوال تو نہیں کیا، لیکن کلام میں کوئی ایسی بات آئی جس سے وہ جواب کا منتظر ہو گیا، تو اس کے سامنے خبر کو تاکید کے ساتھ لایا جاتا ہے۔ جیسے: “وَلَا تُخَاطِبْنِي فِي الَّذِينَ ظَلَمُوا ۚ إِنَّهُمْ مُغْرَقُونَ”۔ (یہاں ‘انّ’ تاکید کے لیے ہے کیونکہ حضرت نوح علیہ السلام ڈوبنے والوں کا حال جاننے کے منتظر تھے)۔
  2. منکر کو غیر منکر کے درجے میں رکھنا: ایک شخص حق کا انکار کر رہا ہے لیکن اس کے پاس اتنے واضح دلائل موجود ہیں کہ اسے انکار نہیں کرنا چاہیے تھا۔ تو اس کے سامنے خبر ایسے پیش کی جاتی ہے گویا وہ منکر ہے ہی نہیں۔ جیسے: “وَإِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ”۔ یہاں کفار کے انکار کے باوجود تاکید نہیں لائی گئی کیونکہ اللہ کی وحدانیت کے دلائل بالکل واضح ہیں۔

سوال نمبر 4: “مسند الیہ” کو حذف کرنے یا اسے معرفہ (ذاتی نام/اشارہ) لانے کی کیا وجوہات ہو سکتی ہیں؟
جواب:
  • حذف کرنے کی وجوہات: 1. کلام میں اختصار پیدا کرنا۔ 2. مخاطب کے ذہن کا امتحان لینا کہ وہ سمجھتا ہے یا نہیں۔ 3. کسی ڈر یا تحقیر کی وجہ سے نام نہ لینا۔ (مثلاً: “سارقٌ” کہنا جب چور کا نام لینے سے ڈر ہو)۔
  • اسمِ اشارہ لانے کی وجوہات: 1. مخاطب کی کند ذہنی ظاہر کرنا کہ وہ اشارے کے بغیر نہیں سمجھتا۔ 2. دور یا نزدیک کی دوری واضح کرنا۔ 3. کسی کی تعظیم یا تحقیر کرنا۔ (جیسے قرآن میں قرآن کے لیے “ذٰلك” لایا گیا جو اس کی بلندیِ رتبہ کی دلیل ہے)۔

تخمینہ پرچہ 2026: الورقۃ الخامسۃ (الفلسفۃ والمناظرۃ)

کل نمبر: 100 | وقت: 3 گھنٹے

القسم الأول: الفلسفہ (ہدایۃ الحکمۃ)

سوال نمبر 1: “حکمت” کی تعریف کریں اور اس کی دونوں بنیادی اقسام (حکمتِ نظری اور حکمتِ عملی) کی ذیلی شاخوں پر مفصل نوٹ لکھیں۔
جواب:
  • حکمت کی تعریف: اشیاء کے حقائق کو ان کے نفسِ الامر (واقعیت) کے مطابق جاننا اور اس کے مطابق عمل کرنا۔
  • حکمتِ نظری (Theoretical Philosophy): وہ علم جس کا مقصد صرف اشیاء کا علم حاصل کرنا ہو، عمل مقصود نہ ہو۔ اس کی تین اقسام ہیں:
    1. طبیعی (Physics): وہ علم جو ایسے اجسام سے بحث کرے جو حرکت و سکون (مادہ) کے محتاج ہوں۔
    2. ریاضی (Mathematics): وہ علم جو ایسی چیزوں سے بحث کرے جو ذہن میں تو مادہ سے پاک ہوں لیکن خارج میں مادہ کے محتاج ہوں (جیسے عدد اور خط)۔
    3. الٰہی (Metaphysics): وہ علم جو ایسی اشیاء سے بحث کرے جو مادہ سے بالکل پاک ہوں (جیسے اللہ کی ذات اور روح)۔
  • حکمتِ عملی (Practical Philosophy): وہ علم جس کا مقصد عمل کی درستی ہو۔ اس کی تین شاخیں ہیں:
    1. تہذیبِ اخلاق: انفرادی طور پر ایک شخص کے اخلاق کی درستی۔
    2. تدبیرِ منزل: ایک گھر کے نظم و نسق اور اہل و عیال کے معاملات کی درستی۔
    3. سیاستِ مدنیہ: ایک شہر یا ملک کے اجتماعی نظام اور انتظام کی درستی۔

سوال نمبر 2: “جسم” کی حقیقت کیا ہے؟ ہیولیٰ اور صورتِ جسمیہ کے درمیان تعلق کو دلیلِ “اتصال و انفصال” سے واضح کریں۔
جواب:
  • جسم کی تعریف: وہ جوہر جس میں لمبائی، چوڑائی اور گہرائی (تینوں ابعاد) پائے جائیں۔
  • ہیولیٰ اور صورت کا فرق:
    • ہیولیٰ (Matter): وہ مادہ جو محض قوت اور صلاحیت ہے، اس کی اپنی کوئی شکل نہیں ہوتی۔
    • صورت (Form): وہ شکل یا کیفیت جو مادہ کو ایک خاص وجود بخشتی ہے۔
  • دلیلِ اتصال و انفصال: فلسفہ کے نزدیک جسم ایک ایسی چیز ہے جو جڑ بھی سکتی ہے (اتصال) اور ٹوٹ بھی سکتی ہے (انفصال
    1. جب جسم ٹوٹتا ہے تو وہ “اتصال” ختم ہو جاتا ہے جو پہلے موجود تھا۔
    2. لیکن ٹوٹنے کے بعد بھی کوئی ایسی چیز باقی رہتی ہے جس نے پہلے “اتصال” کو قبول کیا تھا اور اب “انفصال” کو قبول کر رہی ہے۔
    3. وہ چیز جو ان دونوں حالتوں کو قبول کرتی ہے اسے ہیولیٰ کہتے ہیں، اور وہ حالت جو ختم ہو گئی اسے صورت کہتے ہیں۔ ثابت ہوا کہ جسم ہیولیٰ اور صورت کا مجموعہ ہے۔

القسم الثاني: المناظرہ (الرشیدیہ)

سوال نمبر 3: علمِ مناظرہ کی غرض و غایت بیان کریں اور مناظرہ کے تین بنیادی آداب (منع، نقض، معارضہ) کی مثالوں کے ساتھ وضاحت کریں۔
جواب:
  • غرض و غایت: حق کو ثابت کرنا، باطل کا رد کرنا اور مخاطب کے ذہن سے شبہات کا ازالہ کرنا۔
  • مناظرہ کی اصطلاحات:
    1. المنع (Objection): سائل کا مدعی کی دلیل کے کسی ایک مقدمے (حصے) کو تسلیم نہ کرنا اور اس پر دلیل مانگنا۔ اسے ‘مناقضہ’ بھی کہتے ہیں۔
    2. النقض (Demolition): مدعی کی دلیل کو کسی ایسی مثال پر فٹ کر دینا جہاں وہ غلط ثابت ہو رہی ہو۔ مثلاً اگر کوئی کہے کہ “ہر جاندار اپنا جبڑا ہلاتا ہے”، تو نقض میں ‘مگر مچھ’ کی مثال دی جائے گی جو اپنا نچلا نہیں بلکہ اوپر کا جبڑا ہلاتا ہے۔
    3. المعارضۃ (Counter-argument): مدعی کی دلیل کے مقابلے میں ویسی ہی ایک دوسری مستقل دلیل پیش کر دینا جو مدعی کے دعویٰ کے الٹ نتیجہ دے رہی ہو۔

سوال نمبر 4: “مجادلہ” اور “مناظرہ” میں کیا فرق ہے؟ نیز “مدعی” اور “سائل” کی ذمہ داریاں تحریر کریں۔
جواب:
  • فرق: مناظرہ کا مقصد ‘اظہارِ حق’ ہوتا ہے، جبکہ مجادلہ کا مقصد محض ‘غلبہ پانا’ اور دوسرے کو خاموش کرنا ہوتا ہے (خواہ حق سامنے آ جائے یا نہ آئے)۔
  • ذمہ داریاں:
    • مدعی (Claimant): اس کی ذمہ داری اپنا دعویٰ پیش کرنا اور اس پر ایسی دلیل لانا ہے جو اصولوں کے مطابق ہو۔
    • سائل (Questioner): اس کا کام مدعی کی دلیل میں موجود سقم (خرابی) کو تلاش کرنا اور سوال اٹھانا ہے۔ سائل پر تب تک دلیل لانا واجب نہیں جب تک وہ خود کوئی دعویٰ نہ کر دے۔

تخمینہ پرچہ 2026: الورقۃ السادسۃ (الأدب العربي)

کل نمبر: 100 | وقت: 3 گھنٹے

القسم الأول: ديوان الحماسة (ابو تمام)

سوال نمبر 1: مندرجہ ذیل اشعار کا سلیس اردو میں ترجمہ کریں اور ان میں موجود “جاہلی غیرت” کے تصور کی وضاحت کریں۔
  1. لَكِنَّ قَوْمِي وَإِنْ كَانُوا ذَوِي عَدَدٍ لَيْسُوا مِنَ الشَّرِّ فِي شَيْءٍ وَإِنْ هَانَا
  2. يَجْزُونَ مِنْ ظُلْمِ أَهْلِ الظُّلْمِ مَغْفِرَةً وَمِنْ إِسَاءَةِ أَهْلِ السُّوءِ إِحْسَانَا
جواب:
  • ترجمہ: 1. لیکن میری قوم (کے لوگ) اگرچہ تعداد میں بہت زیادہ ہیں، مگر وہ برائی (جنگ و جدل) کے کسی معاملے میں حصہ نہیں لیتے خواہ وہ کتنا ہی ہلکا (معمولی) کیوں نہ ہو۔ 2. وہ ظلم کرنے والوں کے ظلم کا بدلہ مغفرت (درگزر) سے دیتے ہیں اور برائی کرنے والوں کی برائی کا بدلہ احسان سے دیتے ہیں۔
  • تصورِ جاہلیت اور شاعر کا مقصد: عرب جاہلیت میں “عفو و درگزر” اور “خاموشی” کو شرافت نہیں بلکہ بزدلی سمجھا جاتا تھا۔ شاعر یہاں اپنی قوم کی تعریف نہیں کر رہا بلکہ ان پر طنز کر رہا ہے کہ دشمن ان پر ظلم کرتے ہیں اور یہ غیرت دکھانے کے بجائے معاف کر دیتے ہیں۔ حماسہ کے اشعار میں شجاعت، انتقام اور قبیلے کی حمایت بنیادی موضوعات ہیں۔

سوال نمبر 2: درج ذیل کلمات کی صرفی تحقیق (مادہ، باب، صیغہ) تحریر کریں: (يُنْجِيكَ، تَشَبَّهَ، أَصْلَحْتُ، يَهْتَدِي)
جواب:
  1. يُنْجِيكَ: مادہ: ن ج و۔ باب: افعال۔ صیغہ: واحد مذکر غائب (فعل مضارع)۔ معنی: وہ تجھے نجات دیتا ہے۔
  2. تَشَبَّهَ: مادہ: ش ب ہ۔ باب: تفعل۔ صیغہ: واحد مذکر غائب (فعل ماضی)۔ معنی: اس نے مشابہت اختیار کی۔
  3. أَصْلَحْتُ: مادہ: ص ل ح۔ باب: افعال۔ صیغہ: واحد متکلم (فعل ماضی)۔ معنی: میں نے اصلاح کی۔
  4. يَهْتَدِي: مادہ: ہ د ی۔ باب: افتعال۔ صیغہ: واحد مذکر غائب (فعل مضارع)۔ معنی: وہ ہدایت پاتا ہے۔

القسم الثاني: ديوان المتنبي (ابو الطيب المتنبي)

سوال نمبر 3: متنبی کے درج ذیل اشعار کا بامحاورہ ترجمہ کریں اور ممدوح (سیف الدولہ) کی شجاعت پر نوٹ لکھیں۔
  1. لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْ دَهْرِهِ مَا تَعَوَّدَا وَعَادَاتُ سَيْفِ الدَّوْلَةِ الطَّعْنُ فِي الْعِدَى
  2. وَوَضْعُ النَّدَى فِي مَوْضِعِ السَّيْفِ بِالْعُلَى مُضِرٌّ كَوَضْعِ السَّيفِ فِي مَوْضِعِ النَّدَى
جواب:
  • ترجمہ: 1. ہر انسان کو اپنے زمانے سے وہی کچھ (کرنے کی) عادت پڑ جاتی ہے جس کا وہ عادی ہو، اور سیف الدولہ کی عادت دشمنوں پر نیزے بازی کرنا ہے۔ 2. بلندیِ رتبہ کے حصول کے لیے تلوار (سختی) کی جگہ جود و سخا کرنا اتنا ہی نقصان دہ ہے جتنا سخاوت کی جگہ تلوار چلانا۔
  • تشریح و اسلوب: متنبی یہاں سیف الدولہ کی دانشمندی اور بہادری کی تعریف کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ایک کامیاب حکمران وہ ہے جو جانتا ہو کہ کہاں نرمی کرنی ہے اور کہاں تلوار اٹھانی ہے۔ مصلحت کے خلاف نرمی کرنا بزدلی ہے اور بے جا سختی کرنا ظلم ہے۔ متنبی کے کلام میں مبالغہ آرائی اور حکمت کے موتی ایک ساتھ ملتے ہیں۔

سوال نمبر 4: متنبی کے کلام میں “تشبیہ” اور “استعارہ” کی اہمیت واضح کریں اور درج ذیل الفاظ کے واحد/جمع لکھیں: (الْمَخَاض، الْقَوَافِي، سَحَائِب، دُمُوع)
جواب:
  • تشبیہ و استعارہ: متنبی اپنے ممدوح کو کبھی سمندر سے تشبیہ دیتا ہے جو قریب والوں کو موتی دیتا ہے اور دور والوں کو بادلوں کے ذریعے سیراب کرتا ہے، اور کبھی اسے ایسے شیر سے تشبیہ دیتا ہے جس کا مسکرانا دراصل موت کا پیغام ہوتا ہے۔
  • واحد/جمع:
    1. الْمَخَاض: (جمع) – واحد: خَلِفَة (حاملہ اونٹنی)۔
    2. الْقَوَافِي: (جمع) – واحد: قَافِيَة (شعر کا آخری حصہ/مراد شہسوار)۔
    3. سَحَائِب: (جمع) – واحد: سَحَابَة (بادل)۔
    4. دُمُوع: (جمع) – واحد: دَمْع (آنسو)۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *