2۔ ترجمہ: “اللہ نے تمہارے لیے وہی دین مقرر کیا جس کا حکم اس نے نوح (علیہ السلام) کو دیا تھا، اور جس کی وحی ہم نے آپ (ﷺ) کی طرف کی، اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کو دیا تھا (وہ یہ کہ) تم دین کو قائم رکھو اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو۔”
3۔ اغراضِ مفسر (تفصیلی تشریح):
وحدتِ ادیان: مفسرِ جلالین فرماتے ہیں کہ یہاں “دین” سے مراد اصولِ توحید ہیں، نہ کہ فروعی احکام یا شریعتیں، کیونکہ ہر نبی کی شریعت (نماز، روزے کے طریقے) الگہو سکتی ہے مگر بنیادی دین (اللہ کی وحدانیت) ایک ہی رہا ہے۔
پانچ انبیاء کا ذکر:مفسر کے مطابق یہاں ان پانچ جلیل القدر انبیاء (اولوالعزم) کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کیونکہ یہ صاحبِ شریعت اور صاحبِ کتاب تھے اور ان کی دعوت سب سے زیادہ مشہور و معروف رہی۔
اقامتِ دین کی وضاحت: مفسر فرماتے ہیں کہ “اقامت” سے مراد دین کے احکامات پر خود بھی عمل کرنا اور معاشرے میں اسے نافذ کرنے کی کوشش کرنا ہے۔
عدمِ تفرقہ: دین میں تفرقے سے مراد یہ ہے کہ بنیادی عقائد میں اختلاف نہ کیا جائے اور نہ ہی گروہ بندی کی جائے۔
سوال نمبر 2: “وَالَّذِينَ يُحَاجُّونَ فِي اللَّهِ مِن بَعْدِ مَا اسْتُجِيبَ لَهُ…” والی آیت کی روشنی میں کفار کے اعتراضات اور اللہ کی طرف سے ان کے جواب پر مفسرانہ نوٹ لکھیں۔
جواب:1۔ کفار کا اعتراض:مفسر فرماتے ہیں کہ جب لوگوں نے کثرت سے اسلام قبول کرنا شروع کیا تو یہود و نصاریٰ نے مسلمانوں سے بحث (محاجہ) شروع کر دی کہ ہمارا دین تم سے قدیم ہے، اس لیے ہم تم سے بہتر ہیں۔
2۔ مفسر کی وضاحت:
استجیب لہ: مفسر جلالین کے مطابق اس کا مطلب ہے کہ جب اللہ کی دعوت کو عقلِ سلیم رکھنے والوں نے قبول کر لیا اور اسلام کی حقانیت ثابت ہو گئی، تو اب اس پر بحث کرنا فضول ہے۔
دلیلہم داحضۃ: اللہ نے ان کے تمام دلائل کو “داحضہ” (باطل/بے بنیاد) قرار دیا، کیونکہ حق کے آنے کے بعد باطل کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔
وعلیہم غضب:مفسر فرماتے ہیں کہ ان کے لیے دنیا میں اللہ کا غضب اور آخرت میں شدید عذاب ہے کیونکہ وہ جان بوجھ کر حق کا راستہ روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔
قسم دوم: اصولِ تفسیر (الفوز الکبیر)
سوال نمبر 3 (لازمی): شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کے نزدیک “قرآن کے پانچ علوم” (العلوم الخمسہ) کون سے ہیں؟ تفصیلاً تحریر کریں۔
جواب: شاہ ولی اللہؒ نے قرآن مجید کے تمام مضامین کو پانچ بنیادی علوم میں تقسیم کیا ہے،:
علم الاحکام: وہ علم جس میں حلال و حرام، فرائض و واجبات اور عبادات و معاملات کا ذکر ہو (جسے عام طور پر فقہ کہا جاتا ہے)۔
علم مخاصمہ: وہ علم جس میں چار باطل گروہوں (یہود، نصاریٰ، مشرکین اور منافقین) کے باطل عقائد کی تردید کی گئی ہو۔
علم التذکیر بآلاء اللہ:وہ علم جس میں اللہ کی نعمتوں، کائنات کے نظام اور اللہ کی قدرت کے کرشموں کا ذکر کر کے انسان کو اس کی عظمت کا احساس دلایا جائے۔
علم التذکیر بأیام اللہ:وہ علم جس میں گزشتہ قوموں (مثلاً قومِ عاد، ثمود) کے واقعات بیان کیے جائیں تاکہ انسان عبرت حاصل کرے کہ اللہ کی نافرمانی کا انجام کیا ہوتا ہے۔
علم التذکیر بالموت و ما بعدہ:وہ علم جس میں موت، قبر کے احوال، قیامت، حشر و نشر اور جنت و دوزخ کا تذکرہ ہو۔
الورقۃ الثانیۃ: الحدیث وأصولہ (مشکوٰۃ المصابیح و مقدمہ)
وقت: 3 گھنٹے | کل نمبر: 100نوٹ: حصہ اول سے دو اور حصہ دوم سے ایک سوال کا تفصیلی جواب دیں (یہاں تمام حل شدہ ہیں)۔
قسم اول: الحدیث (مشکوٰۃ المصابیح)
سوال نمبر 1: “حدیثِ جبریل” کا مکمل ترجمہ کریں، اعراب لگائیں اور اس میں مذکور “اسلام، ایمان اور احسان” کے مراتب پر مفصل نوٹ لکھیں۔
جواب:1۔ ترجمہ و اعراب:“قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ الْإِحْسَانِ. قَالَ: أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ.” ترجمہ: (حضرت جبریل نے) کہا: مجھے “احسان” کے بارے میں بتائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو (یہ تصور کرو کہ) وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔”
2۔ مراتبِ دین کی تشریح:اس طویل حدیث میں دین کے تین بڑے درجات بیان کیے گئے ہیں:
اسلام (ظاہری اعمال):اس سے مراد پانچ ارکان (کلمہ، نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج) پر عمل کرنا ہے۔ یہ دین کا پہلا زینہ ہے۔
ایمان (باطنی عقائد):اس سے مراد اللہ، اس کے فرشتوں، کتابوں، رسولوں، قیامت اور تقدیر پر دل سے یقین رکھنا ہے۔
احسان (روحِ عبادت): یہ دین کا سب سے اعلیٰ مقام ہے، جہاں انسان کے اندر “اخلاص” پیدا ہو جاتا ہے۔ صوفیائے کرام کے نزدیک یہ “علمِ تصوف” کی بنیاد ہے، جہاں بندہ غفلت سے نکل کر ہمہ وقت اللہ کی یاد میں مستغرق ہو جاتا ہے۔
سوال نمبر 2: “حدیثِ ضمام بن ثعلبہ” (قصہ نجدی) کی روشنی میں “صدقِ مقال” (بات کی سچائی) کی اہمیت بیان کریں اور بتائیں کہ نبی کریم ﷺ نے اسے بغیر کسی کمی بیشی کے “کامیاب” کیوں قرار دیا؟
جواب:1۔ واقعہ کا خلاصہ: حضرت ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ نے انتہائی مختصر اور دو ٹوک انداز میں اسلام کے فرائض پوچھے اور عہد کیا کہ وہ نہ تو اس میں ایک رتی اضافہ کریں گے اور نہ کمی۔ جب وہ پیٹھ پھیر کر چلے گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: “أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ” (اگر اس نے سچ کہا ہے تو یہ کامیاب ہو گیا)۔
2۔ علمی و فقہی نکات:
فرائض کی کفایت:یہ حدیث ثابت کرتی ہے کہ اگر کوئی شخص صرف فرائض و واجبات کی پابندی کرے اور حرام سے بچے، تب بھی وہ نجات پا جائے گا۔ نفل اور مستحبات درجات کی بلندی کے لیے ہیں۔
سادگی اور صدق: اس بدوی صحابی کی سچائی نے اسے بلند مقام عطا کیا۔ بی اے کے نصاب میں یہ حدیث اس لیے اہم ہے کہ یہ دین کی بنیادی ساخت کو سادہ ترین الفاظ میں واضح کرتی ہے۔
قسم دوم: أصول الحدیث (مقدمہ مشکوٰۃ)
سوال نمبر 3 (لازمی): “حدیثِ متواتر” اور “خبرِ واحد” کی تعریف کریں اور ان دونوں کے “حکم” (علمِ قطعی اور ظنی) پر تفصیلی بحث کریں۔
جواب:1۔ حدیثِ متواتر: وہ حدیث جسے ہر زمانے (صحابہ، تابعین، تبع تابعین) میں اتنے زیادہ لوگوں نے روایت کیا ہو کہ عقل ان سب کا جھوٹ پر متفق ہونا ناممکن سمجھے۔
حکم:یہ حدیث “علمِ یقینی” اور “علمِ قطعی” کا فائدہ دیتی ہے۔ اس کا انکار کرنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہو سکتا ہے۔
2۔ خبرِ واحد:وہ حدیث جس کے راویوں کی تعداد متواتر کی حد تک نہ پہنچے (چاہے وہایک ہو، دو ہوں یا زیادہ)۔ اسے “آحاد” بھی کہتے ہیں۔
حکم: یہ “علمِ ظنی” کا فائدہ دیتی ہے (یعنی اس میں سچائی کا گمانِ غالب ہوتا ہے)۔ شرعی احکام اور فقہی مسائل میں اس پر عمل کرنا واجب ہے، لیکن عقائد کی بنیاد اس پر نہیں رکھی جاتی۔
3۔ خبرِ واحد کی اقسام:
مشہور: جس کے راوی ہر طبقہ میں تین یا تین سے زیادہ ہوں۔
عزیز:جس کے راوی کسی بھی طبقہ میں دو سے کم نہ ہوں۔
غریب: جس کا راوی کسی بھی مقام پر صرف ایک ہو۔
الورقۃ الثالثۃ: أصول الفقہ (حسامی)
وقت: 3 گھنٹے | کل نمبر: 100نوٹ: تمام سوالات کے تفصیلی جوابات تحریر کریں۔
سوال نمبر 1: “نہی” (روکنا) کی تعریف کریں اور اس کا اصل حکم بیان کریں۔ نیز واضح کریں کہ “نہی” سے جس فعل سے روکا گیا ہو، کیا وہ شرعی طور پر “قبیح” (برا) ہو جاتا ہے؟
جواب:1۔ نہی کی تعریف: اصطلاحِ اصول میں “نہی” وہ قول ہے جس کے ذریعے کسی کام سے رکنے کا مطالبہ کیا جائے (مثلاً: “لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰى” – زنا کے قریب نہ جاؤ)۔
2۔ نہی کا حکم: نہی کا اصل تقاضا “حرمت” (حرام ہونا) ہے۔ یعنی جس کام سے اللہ یا اس کے رسول ﷺ نے روک دیا، وہ کرنا گناہِ کبیرہ ہے اور اس سے بچنا فرض ہے۔
3۔ قبیح کی اقسام (بی اے لیول کی تفصیل): نہی کی وجہ سے وہ کام شرعی طور پر برا (قبیح) ہو جاتا ہے، جس کی دو بڑی اقسام ہیں:
قبیح لذاتہ: وہ فعل جو اپنی ذات میں برا ہو اور کبھی حلال نہ ہو سکے (مثلاً: کفر، بلا وجہ قتل، شرک)۔
قبیح لغیرہ: وہ فعل جو اپنی ذات میں برا نہ ہو لیکن کسی عارضی وجہ سے اسے برا قرار دیا گیا ہو (مثلاً: جمعہ کی اذان کے وقت تجارت کرنا۔ تجارت بذاتِ خود حلال ہے، لیکن نمازِ جمعہ میں رکاوٹ کی وجہ سے اس وقت قبیح لغیرہ ہے)۔
سوال نمبر 2: “مجمل”، “مفسر” اور “محکم” کے درمیان فرق واضح کریں۔ ان کی تعریفات مع امثلہ تحریر کریں۔
جواب: یہ الفاظ “بیان” کی قوت کے لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں:
مجمل: وہ لفظ جس کا معنی بہت زیادہ پوشیدہ ہو اور متکلم (اللہ) کی وضاحت کے بغیر اسے سمجھنا ممکن نہ ہو (مثلاً: لفظ ‘الربٰوا’ – سود۔ اس کی باریکیوں کو حضور ﷺ نے واضح فرمایا)۔
مفسر: وہ لفظ جس میں پوشیدگی کا کوئی احتمال نہ رہے کیونکہ اللہ نے خود اس کی وضاحت کر دی ہو (مثلاً: زنا کی سزا ‘سو کوڑے’۔ اس میں سو کا عدد بالکل واضح ہے)۔
محکم: یہ مفسر سے بھی زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔ اس کا معنی اتنا پکا ہوتا ہے کہ اس میں منسوخ (ختم) ہونے کا امکان بھی نہیں رہتا (مثلاً: اللہ کی وحدانیت کے احکام)۔
سوال نمبر 3: “حقیقت” اور “مجاز” کے درمیان “علاقہ” (تعلق) کی اہمیت بیان کریں۔ کیا بغیر کسی تعلق کے کسی لفظ کو مجازی معنی میں استعمال کرنا درست ہے؟
جواب:1۔ علاقہ کی اہمیت: علمِ اصول میں کسی لفظ کو اس کے اصل معنی کے بجائے دوسرے معنی میں تبھی استعمال کیا جا سکتا ہے جب ان دونوں کے درمیان کوئی “علاقہ” (Connection) ہو۔ اگر کوئی تعلق نہ ہو تو وہ “لغو” (فضول کلام) کہلائے گا۔
2۔ تعلق کی مثالیں:
مجاورت: کسی چیز کو اس کے پڑوسی کے نام سے پکارنا۔
جزئیت: جز (حصہ) بول کر کل (پوری چیز) مراد لینا (مثلاً: قرآن میں ‘رکوع’ بول کر پوری ‘نماز’ مراد لینا)۔
آلیت: آلے کا نام لے کر وہ کام مراد لینا (مثلاً: ‘زبان’ بول کر ‘فصاحت’ یا ‘بات’ مراد لینا)۔
سوال نمبر 4: “مشترک” اور “مؤول” کی تعریف کریں اور ان کا حکم مثال سے واضح کریں۔
جواب:
مشترک: وہ لفظ جو ایک سے زائد معانی کے لیے وضع کیا گیا ہو (مثلاً: لفظ ‘قروء’۔ یہ عربی میں ‘حیض’ کے لیے بھی آتا ہے اور ‘پاکیزگی/طہر’ کے لیے بھی)۔
مؤول: جب مجتہد اپنی سوچ اور دلائل سے مشترک کے کئی معانی میں سے کسی ایک معنی کو ترجیح دے دے، تو اسے ‘مؤول’ کہتے ہیں۔
حکم: مشترک پر تب تک عمل نہیں ہوتا جب تک اسے مؤول نہ بنا دیا جائے (یعنی ایک معنی طے نہ ہو جائے)۔
ماڈل پیپر 2026 (سیٹ نمبر 2) – مکمل حل شدہ
الورقۃ الرابعۃ: الفقہ (القدوری)
وقت: 3 گھنٹے | کل نمبر: 100نوٹ: درج ذیل تمام سوالات کے تفصیلی جوابات تحریر کریں۔
سوال نمبر 1: “بیع” (خرید و فروخت) کی تعریف کریں اور بتائیں کہ بیع کن الفاظ سے منعقد ہوتی ہے؟ نیز “بیعِ باطل” اور “بیعِ فاسد” کے درمیان فرق واضح کریں۔
جواب:1۔ لغوی و اصطلاحی تعریف:
لغوی معنی: ایک چیز کے بدلے دوسری چیز کا تبادلہ کرنا۔
اصطلاحی معنی: مال کا مال کے بدلے باہمی رضامندی سے تبادلہ کرنا۔
2۔ انعقادِ بیع: بیع “ایجاب و قبول” سے منعقد ہوتی ہے، جس کے لیے ماضی کے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں (مثلاً: میں نے یہ چیز بیچی، اور دوسرے نے کہا: میں نے خریدی)۔ اگر حال یا مستقبل کے الفاظ ہوں تو اس کے لیے نیت ضروری ہے۔
3۔ باطل اور فاسد میں فرق:
بیعِ باطل: وہ بیع جس کی بنیاد (اصل) ہی درست نہ ہو (مثلاً: مردار یا خون کی بیع)۔ اس کا حکم یہ ہے کہ اس سے ملکیت ثابت نہیں ہوتی۔
بیعِ فاسد: وہ بیع جس کی اصل تو درست ہو لیکن اس کی کسی صفت میں خرابی ہو (مثلاً: ایسی بیع جس میں قیمت نامعلوم ہو یا کوئی ایسی شرط لگائی جائے جو عقد کے مقتضی کے خلاف ہو)۔ اس کا حکم یہ ہے کہ اگر مشتری (خریدنے والا) قبض کر لے تو ملکیت ثابت ہو جاتی ہے، لیکن اسے ختم کرنا واجب ہوتا ہے۔
سوال نمبر 2: “خیارِ شرط” سے کیا مراد ہے؟ اس کی مدت کتنی ہے اور اس دوران اگر مبیع (چیز) ہلاک ہو جائے تو اس کا کیا حکم ہوگا؟
جواب:1۔ تعریف: خرید و فروخت کے وقت عاقدین (خریدنے یا بیچنے والے) میں سے کوئی یہ شرط رکھے کہ مجھے اتنے دن تک اس سودے کو برقرار رکھنے یا ختم کرنے کا اختیار ہوگا، اسے “خیارِ شرط” کہتے ہیں۔
2۔ مدت: امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک خیارِ شرط کی مدت تین دن سے زیادہ جائز نہیں ہے۔ جبکہ صاحبین (امام ابویوسف و امام محمد) کے نزدیک اگر ضرورت ہو تو تین دن سے زیادہ بھی جائز ہے۔
3۔ مبیع کی ہلاکت کا حکم:
اگر خیار بائع (بیچنے والے) کے پاس ہو اور چیز ہلاک ہو جائے، تو بیع ختم ہو جائے گی اور بائع کا نقصان ہوگا۔
اگر خیار مشتری (خریدنے والے) کے پاس ہو اور چیز اس کے قبضے میں ہلاک ہو جائے، تو وہ قیمت دینے کا ضامن ہوگا اور بیع پکی سمجھی جائے گی۔
سوال نمبر 3: “ربوا” (سود) کی تعریف کریں اور ان اشیاء کا ذکر کریں جن میں سود جاری ہوتا ہے۔ نیز سود سے بچنے کے لیے کن دو شرائط کا ہونا ضروری ہے؟
جواب:1۔ تعریف: عقدِ معاوضہ میں کسی ایک فریق کے لیے ایسے مال کی شرط لگانا جس کے بدلے دوسرا مال موجود نہ ہو، اسے سود کہتے ہیں۔
2۔ سود کی بنیاد (علت): احناف کے نزدیک سود ان دو چیزوں کی وجہ سے ہوتا ہے:
قدر (وزن یا پیمانہ): وہ چیز جو تولی یا ماپی جاتی ہو۔
جنس: دونوں چیزیں ایک ہی صنف سے ہوں (مثلاً: گندم کے بدلے گندم)۔
3۔ بچنے کی شرائط: سودی لین دین سے بچنے کے لیے دو چیزیں ضروری ہیں:
مساوات (برابری): دونوں طرف سے مال کی مقدار برابر ہو۔
تقابض (نقد): سودا ہاتھوں ہاتھ ہو، ادھار نہ ہو۔
سوال نمبر 4: “رہن” (چیز گروی رکھنا) کی شرعی حیثیت بیان کریں اور بتائیں کہ کیا مرتہن (جس کے پاس چیز رکھی جائے) اس چیز سے فائدہ اٹھا سکتا ہے؟
جواب:1۔ تعریف: کسی حق (قرض) کے بدلے میں کوئی چیز بطورِ وثیقہ (گارنٹی) روک لینا تاکہ قرض ادا نہ ہونے کی صورت میں اس سے حق وصول کیا جا سکے۔
2۔ مرتہن کا فائدہ اٹھانا: شریعت کے مطابق مرتہن (جس کے پاس چیز گروی ہے) کے لیے اس چیز سے فائدہ اٹھانا (مثلاً: گروی رکھی ہوئی گاڑی چلانا یا مکان میں رہنا) جائز نہیں ہے، کیونکہ یہ سود کے زمرے میں آتا ہے۔ “ہر وہ قرض جو فائدہ کھینچے وہ سود ہے”۔
ماڈل پیپر 2026 (سیٹ نمبر 2) – مکمل حل شدہ
الورقۃ الخامسۃ: الأدب والبلاغة (عربی ادب و بلاغت)
وقت: 3 گھنٹے | کل نمبر: 100نوٹ: حصہ اول (ادب) اور حصہ دوم (بلاغت) سے تفصیلی جوابات تحریر کریں۔
قسمِ اول: عربی ادب (نثر و نظم)
سوال نمبر 1: مقاماتِ حریری (المقامۃ الثانیۃ – الحلوانیۃ) کا مرکزی خیال تحریر کریں اور اس میں حارث بن ہمام کا ابو زید سروجی کو پہچاننے کا واقعہ بیان کریں۔
جواب:1۔ مرکزی خیال: دوسرا مقامہ شہر “حلوان” میں پیش آتا ہے۔ اس کا مرکزی موضوع انسانی فطرت، فصاحت و بلاغت کی طاقت اور ابو زید سروجی کی عیاری و ہوشیاری ہے۔ اس مقامے میں حریری نے ثابت کیا ہے کہ ایک فصیح زبان رکھنے والا شخص کس طرح مشکل حالات میں بھی اپنا راستہ بنا لیتا ہے۔
2۔ پہچاننے کا واقعہ: حارث بن ہمام بیان کرتے ہیں کہ میں حلوان کے ایک حمام میں گیا جہاں ایک بوڑھا شخص (ابو زید) اپنی فصاحت سے لوگوں کو مسحور کر رہا تھا۔ اس نے حجام کو ایسی عربی میں نصیحتیں کیں کہ سب دنگ رہ گئے۔ حارث کہتے ہیں کہ جب اس نے اپنی گفتگو ختم کی تو اس کی طرزِ تحریر اور خاص اسلوبِ بیان سے مجھے شک ہوا کہ یہ وہی “سروجی” ہے۔ جب میں نے قریب جا کر اسے غور سے دیکھا تو وہ ابو زید ہی نکلا جو بھیس بدل کر وہاں موجود تھا۔
سوال نمبر 2: قصیدہ بردہ شریف کے درج ذیل اشعار کا ترجمہ کریں اور اس قصیدے کی مقبولیت کی دو بڑی وجوہات تحریر کریں۔ “فإنَّ أمَّارتي بالسوءِ ما اتَّعظَتْ … من جهلِها بنذيرِ الشَّيبِ والهرَمِ”
جواب:
ترجمہ: “بے شک میرا نفسِ امارہ (برائی پر اکسانے والا نفس) اپنی جہالت کی وجہ سے بڑھاپے اور ضعیفی کے ڈرانے والے پیغامات سے بھی نصیحت حاصل نہیں کرتا۔”
مقبولیت کی وجوہات:
اخلاص و تاثیر: امام بوصیریؒ نے یہ قصیدہ اس وقت لکھا جب وہ فالج کے مرض میں مبتلا تھے، اور اس کی برکت سے اللہ نے انہیں شفا عطا فرمائی۔
ادبی حسن: اس قصیدے میں تشبیہات اور استعارات کا ایسا حسین امتزاج ہے کہ اسے عربی زبان کے بہترین “مدحِ رسول ﷺ” کے کلام میں شمار کیا جاتا ہے۔
قسمِ ثانی: البلاغۃ (تلخیص المفتاح)
سوال نمبر 3: “علمِ معانی” کی تعریف کریں اور “خبر” و “انشاء” کے درمیان فرق واضح کریں۔ نیز “انشاءِ طلبی” کی تین اقسام (امر، نہی، استفہام) کی مثالیں دیں۔
جواب:1۔ علمِ معانی: یہ وہ علم ہے جس کے ذریعے کلام کو مقتضیٰ الحال (موقع و محل) کے مطابق ڈھالنے کے طریقے سیکھے جاتے ہیں۔
2۔ خبر اور انشاء میں فرق:
خبر: وہ کلام ہے جس کے کہنے والے کو “سچا یا جھوٹا” کہا جا سکے (مثلاً: زید آیا ہے)۔
انشاء: وہ کلام ہے جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا نہ کہا جا سکے (مثلاً: تم جاؤ! یا کیا زید آیا؟)۔
3۔ انشاءِ طلبی کی اقسام:
امر (حکم دینا): “اَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ” (نماز قائم کرو)۔
نہی (روکنا): “لَا تَشْرَبِ الْخَمْرَ” (شراب نہ پیو)۔
سوال نمبر 4: “ایجاز”، “اطناب” اور “مساوات” کی تعریفات مع امثلہ تحریر کریں۔
جواب: کلام میں الفاظ اور معانی کی مقدار کے لحاظ سے تین حالتیں ہوتی ہیں:
ایجاز: کم الفاظ میں زیادہ معانی بیان کرنا (مثلاً: “الْحَجُّ عَرَفَةُ” – حج عرفہ ہی ہے)۔
اطناب: کسی خاص مقصد (مثلاً تاکید یا لذت) کے لیے الفاظ کو معنی سے زیادہ طول دینا۔
مساوات: الفاظ اور معنی کی مقدار برابر ہونا، یعنی نہ الفاظ زیادہ ہوں نہ کم۔
الورقۃ السادسة: العقائد والمنطق (عقائد و منطق)
وقت: 3 گھنٹے | کل نمبر: 100نوٹ: حصہ اول (عقائد) اور حصہ دوم (منطق) سے تفصیلی جوابات تحریر کریں۔
قسمِ اول: العقائد (شرح العقائد النسفیہ)
سوال نمبر 1: اللہ تعالیٰ کی “صفاتِ ثبوتیہ” (جیسے علم، قدرت، ارادہ) کی تعریف کریں اور واضح کریں کہ کیا یہ صفات ذاتِ باری تعالیٰ پر “زائد” ہیں یا عینِ ذات ہیں؟ ماتریدیہ اور معتزلہ کا اختلاف بیان کریں۔
جواب:1۔ صفاتِ ثبوتیہ: اللہ تعالیٰ کی وہ صفات جو اس کے لیے ثابت ہیں، جیسے: علم، قدرت، حیات، سمع (سننا)، بصر (دیکھنا)، ارادہ، کلام اور تکوین۔
2۔ اہل سنت (ماتریدیہ و اشاعرہ) کا موقف: اللہ تعالیٰ کی صفات نہ تو عینِ ذات ہیں اور نہ ہی غیرِ ذات (یعنی ذات سے جدا نہیں ہیں)، بلکہ یہ قدیم ہیں اور ذات پر زائد ہیں۔
دلیل: اگر صفات عینِ ذات ہوتیں تو “عالم” (جاننے والا) اور “قادر” (قدرت والا) کے معنی میں فرق نہ رہتا۔ اور اگر یہ حادث (نئی) ہوتیں تو اللہ کی ذات محلِ حوادث بن جاتی جو کہ محال ہے۔
3۔ معتزلہ کا اختلاف: معتزلہ صفاتِ زائدہ کے منکر ہیں، وہ کہتے ہیں کہ اللہ اپنی ذات ہی سے عالم ہے، اسے الگ سے صفتِ علم کی ضرورت نہیں۔ اہل سنت اس کا رد کرتے ہیں کہ صفت کے بغیر موصوف کا ہونا ممکن نہیں۔
سوال نمبر 2: “کلامِ الٰہی” (قرآن مجید) کے بارے میں اہل سنت کا عقیدہ کیا ہے؟ “کلامِ نفسی” اور “کلامِ لفظی” کے درمیان فرق واضح کریں۔
جواب:1۔ عقیدہ: قرآن مجید اللہ کا کلام ہے جو کہ مخلوق نہیں (غیر مخلوق) ہے۔ یہ اللہ کی صفتِ کلام ہے جو قدیم ہے۔
2۔ کلامِ نفسی و لفظی:
کلامِ نفسی: وہ صفتِ کلام جو اللہ کی ذات کے ساتھ قائم ہے، جس میں نہ آواز ہے نہ حروف۔ یہ قدیم ہے۔
کلامِ لفظی: یہ وہ حروف اور آوازیں ہیں جو ہم تلاوت کرتے ہیں یا جو مصحف (کتاب) میں لکھی ہوئی ہیں۔
حکم: کلامِ نفسی قدیم ہے، جبکہ کلامِ لفظی (ہمارا پڑھنا، کاغذ، سیاہی) حادث ہے، مگر جو کلام پڑھا جا رہا ہے وہ وہی قدیم صفتِ الٰہی کا اظہار ہے۔
قسمِ ثانی: المنطق (القطبی)
سوال نمبر 3: “قیاس” کی تعریف کریں اور اس کے اجزاء (مقدمہ صغریٰ، مقدمہ کبریٰ، حدِ اوسط) کو ایک مثال سے واضح کریں۔
جواب:1۔ تعریف: قیاس وہ قول ہے جو چند ایسے قضایا (جملوں) سے مل کر بنے کہ اگر انہیں مان لیا جائے تو ان سے خود بخود ایک نیا نتیجہ نکل آئے۔
حدِ اوسط: وہ لفظ جو دونوں مقدموں میں مشترک ہو (اوپر کی مثال میں “متغیر” حدِ اوسط ہے)۔ اس کا کام دونوں کے درمیان رشتہ جوڑنا ہے اور یہ نتیجے میں حذف ہو جاتا ہے۔
سوال نمبر 4: “شکلِ اول” کی تعریف کریں اور اس کے “انتاج” (نتیجہ دینے) کے لیے کون سی دو شرائط ضروری ہیں؟
جواب:1۔ تعریف: قیاس کی وہ شکل جس میں “حدِ اوسط” صغریٰ میں “محمول” (Predicate) ہو اور کبریٰ میں “موضوع” (Subject) ہو۔ یہ تمام اشکال میں سب سے زیادہ کامل اور فطری شکل ہے۔
2۔ شرائطِ انتاج: شکلِ اول سے صحیح نتیجہ حاصل کرنے کے لیے دو شرطیں لازمی ہیں:
ایجابِ صغریٰ: صغریٰ کا جملہ “موجبہ” (مثبت) ہونا چاہیے، سالبہ (منفی) نہ ہو۔
کلیہِ کبریٰ: کبریٰ کا جملہ “کلیہ” ہونا چاہیے (یعنی ‘ہر’ یا ‘سب’ کا لفظ شامل ہو)، جزئیہ نہ ہو۔