Tanzeem ul Madaris Solved Guess Paper 2025 | PDF (طلباء کے لیے) عالمیہ سال دوم
نوٹس: پرچہ اول (صحیح بخاری)
سوال نمبر 1: مسئلہ قراءت اور امامت (معاذ بن جبلؓ کا واقعہ)
سوال: حضرت معاذ بن جبلؓ لمبی سورت پڑھتے تھے… کیا فرض پڑھنے والا نفل پڑھنے والے کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے؟ احناف و شوافع کے دلائل اور مفصل کی حدود بیان کریں۔
جواب:
-
واقعہ کا خلاصہ: حضرت معاذ بن جبلؓ نبی ﷺ کے ساتھ عشاء پڑھتے (جو ان کا فرض ہوتا) پھر اپنی قوم کو جا کر وہی نماز پڑھاتے (جو معاذؓ کا نفل اور قوم کا فرض ہوتا)۔ ایک بار انہوں نے سورہ بقرہ شروع کی تو ایک صحابی تھکن کی وجہ سے الگ ہو گئے۔ آپ ﷺ نے معاذؓ کو تنبیہ کی اور ہلکی سورتیں پڑھنے کا حکم دیا۔
-
اختلافِ ائمہ: * شوافع و حنابلہ: ان کے نزدیک مفترض (فرض پڑھنے والا) متنفل (نفل پڑھنے والے) کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے۔ دلیل: حضرت معاذؓ کا یہی عمل۔
-
احناف و مالکیہ: ان کے نزدیک یہ جائز نہیں ہے۔ قاعدہ یہ ہے کہ “مقتدی کا حال امام سے قوی یا برابر ہونا چاہیے”۔ چونکہ نفل (ضعیف) ہے اور فرض (قوی) ہے، اس لیے ضعیف قوی کا ضامن نہیں بن سکتا۔
-
-
احناف کے جوابات: * یہ واقعہ “تحویلِ قبلہ” سے پہلے کا ہے یا اس دور کا ہے جب نیت کا اتحاد ضروری نہیں تھا۔
-
بعد میں آپ ﷺ نے فرمایا: “امام اس لیے بنایا گیا کہ اس کی پیروی کی جائے” (انما جعل الامام لیتم بہ)، احناف کے نزدیک اس سے مراد “افعال اور نیت” دونوں کی پیروی ہے۔
-
-
حدودِ مفصل: * طوالِ مفصل: سورہ حجرات سے سورہ بروج تک (فجر اور ظہر کے لیے)۔
-
اوسطِ مفصل: سورہ طارق سے سورہ بینہ تک (عصر اور عشاء کے لیے)۔
-
قصارِ مفصل: سورہ زلزال سے سورہ ناس تک (مغرب کے لیے)۔
-
سوال نمبر 2: استسقاء اور توسل
سوال: کیا نمازِ استسقاء باجماعت سنت ہے؟ نیز وصال کے بعد صالحین کا توسل کیسا ہے؟
جواب:
-
نمازِ استسقاء کا حکم: * امام ابوحنیفہؒ: ان کے نزدیک استسقاء کے لیے باجماعت نماز مسنونِ مستمرہ نہیں بلکہ صرف دعا اور استغفار ہے۔
-
صاحبین (امام ابویوسف و محمد) اور ائمہ ثلاثہ: ان کے نزدیک باجماعت نماز سنت ہے کیونکہ آپ ﷺ سے یہ ثابت ہے۔ احناف میں فتویٰ صاحبین کے قول پر ہے۔
-
-
توسل کا شرعی حکم: توسل سے مراد اللہ کی بارگاہ میں کسی محبوب ہستی کا واسطہ دینا۔ اہل سنت کے نزدیک انبیاء اور صالحین کا توسل ان کی زندگی میں اور وصال کے بعد بھی جائز ہے۔
-
حضرت عمرؓ کا استدلال: جب مدینہ میں قحط پڑا تو حضرت عمرؓ نے حضور ﷺ کے چچا حضرت عباسؓ کا ہاتھ پکڑ کر دعا کی: “اے اللہ! پہلے ہم تیرے نبی کا توسل پیش کرتے تھے تو تو بارش دیتا تھا، اب ہم نبی کے چچا کا توسل پیش کرتے ہیں”۔ اس سے ثابت ہوا کہ صالحین کے وسیلے سے دعا مانگنا سنتِ صحابہ ہے۔
سوال نمبر 3: علاماتِ قیامت اور معجزاتِ نبوی (عدی بن حاتمؓ کی حدیث)
سوال: اکیلی عورت کا سفر اور قیامت کی نشانیاں (مال کی کثرت) پر بحث کریں۔
جواب:
-
امن و سلامتی کی پیش گوئی: حضور ﷺ نے اس وقت جب اسلام مغلوب تھا، عدی بن حاتمؓ سے فرمایا تھا کہ “ایک وقت آئے گا کہ ایک عورت حیرہ (عراق) سے مکہ تک اکیلی آئے گی اور اسے اللہ کے سوا کسی کا ڈر نہ ہوگا”۔ یہ آپ ﷺ کا عظیم معجزہ ہے کہ چند سالوں میں ہی پورے عرب میں ایسا امن قائم ہوا کہ دشمنوں کا خوف ختم ہو گیا۔
-
قیامت کی نشانیاں (بخاری کی روشنی میں): * مال کی کثرت: آپ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے قریب مال اتنا زیادہ ہو جائے گا کہ انسان صدقہ لے کر نکلے گا مگر کوئی لینے والا نہیں ملے گا۔
-
فتنوں کا ظہور: فتنے بارش کے قطروں کی طرح گریں گے۔
-
علم کا اٹھ جانا: علمائے ربانی اٹھ جائیں گے اور جہالت عام ہو جائے گی۔
-
سوال نمبر 4: زکوٰۃ کے نصاب اور احکام
سوال: زکوٰۃ کب فرض ہوئی؟
سونا، چاندی اور جانوروں کا نصاب اور معدنیات کا حکم لکھیں۔
جواب:
-
فرضیت: زکوٰۃ 2 ہجری میں مدینہ منورہ میں فرض ہوئی۔
-
نصابِ زکوٰۃ: * سونا: 20 دینار (ساڑھے سات تولہ)۔
-
چاندی: 200 درہم (ساڑھے باون تولہ)۔
-
اونٹ: 5 اونٹوں پر ایک بکری۔
-
گائے: 30 گائے پر ایک تبیع (ایک سالہ بچھڑا)۔
-
بکری: 40 بکریوں پر ایک بکری۔
-
-
رکاز اور معدنیات: “رکاز” سے مراد وہ قدیم خزانہ ہے جو زمین سے نکلے۔ احناف کے نزدیک معدنیات اور رکاز میں خمس (پانچواں حصہ یعنی 20%) دینا واجب ہے۔ اس میں نصاب اور سال گزرنا شرط نہیں ہے، جیسے ہی نکلے گا زکوٰۃ واجب ہوگی۔
سوال نمبر 5: امام بخاریؒ کی سوانح اور مقام
سوال: امام بخاریؒ کی ولادت، وفات، مذهب اور تراجم الابواب کی اہمیت۔
جواب:
-
سوانح: امام محمد بن اسماعیل بخاریؒ 194ھ میں پیدا ہوئے اور 256ھ (عید الفطر کی رات) وفات پائی۔ آپ نے حصولِ حدیث کے لیے مکہ، مدینہ، شام، مصر اور عراق کے طویل سفر کیے۔
-
اجتہادی مقام: اکثر علماء کے نزدیک امام بخاریؒ مجتہدِ مطلق تھے، وہ کسی خاص امام کے مقلد نہیں تھے بلکہ براہِ راست حدیث سے مسائل نکالتے تھے۔
-
تراجم الابواب: بخاری کی سب سے بڑی خصوصیت ان کے عنوانات (Chapters) ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ “فقه البخاري في تراجمه” (بخاری کی فقہ ان کے عنوانات میں ہے)۔ وہ عنوان میں ایسا اشارہ کرتے ہیں جس سے حدیث کا فقہی پہلو واضح ہو جاتا ہے۔
-
الجامع الصحيح: یہ کتاب 16 سال میں لکھی گئی اور اس میں صرف “صحیح” احادیث کو جگہ دی گئی ہے۔
نوٹس: پرچہ دوم (صحیح مسلم)
سوال نمبر 1: طہارت اور نماز میں پیش آمدہ مجبوری (اوجھڑی والا واقعہ)
سوال: حضرت ابن مسعودؓ سے مروی اوجھڑی والے واقعے کی تفصیل، “اشقی القوم” کی شناخت اور نماز میں نجاست کے احکام بیان کریں۔
جواب:
-
واقعہ کی تفصیل: مکہ مکرمہ کے ابتدائی دور میں نبی ﷺ خانہ کعبہ کے پاس سجدے کی حالت میں تھے کہ ابوجہل کے اکسانے پر ایک بدبخت نے اونٹ کی بھاری اور ناپاک اوجھڑی آپ ﷺ کے کندھوں پر رکھ دی۔ آپ ﷺ سجدے میں ہی رہے یہاں تک کہ سیدہ فاطمہؓ نے آ کر اسے ہٹایا۔
-
نجاست کے باوجود نماز جاری رکھنے کی وجوہات:
-
عدمِ قدرت: وہ اوجھڑی اتنی وزنی اور پھیلی ہوئی تھی کہ آپ ﷺ اسے خود ہٹانے کی قدرت نہیں رکھتے تھے، اور حالتِ اضطرار (مجبوری) میں نماز باطل نہیں ہوتی۔
-
تدرجِ احکام: یہ مکہ کا ابتدائی دور تھا، تب تک نجاستِ ثوب (کپڑوں کی ناپاکی) کے متعلق اتنے سخت احکام نازل نہیں ہوئے تھے جتنے بعد میں مدینہ میں ہوئے۔
-
-
اشقی القوم: اس سے مراد عقبہ بن ابی معیط ہے، جس نے یہ قبیح حرکت کی تھی۔
-
احناف کا موقف: اگر نماز کے دوران نجاستِ غلیظہ (جیسے خون، پیشاب) ایک درہم کی مقدار سے زیادہ لگ جائے اور نمازی اسے فوراً ہٹانے پر قادر نہ ہو، تو نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ لیکن اگر دشمن کا خوف ہو یا ہٹانا ممکن نہ ہو (جیسا کہ اس واقعے میں تھا) تو معذوری کی بنا پر نماز ہو جائے گی۔
سوال نمبر 2: نفقہ (خرچہ) اور غائب پر قاضی کا فیصلہ
سوال: حضرت ہندؓ کی شکایت پر نبوی فیصلہ، عورت کا شوہر کے مال سے لینا اور غائب پر فیصلے کا حکم۔
جواب:
-
ہند بنت عتبہؓ کا واقعہ: حضرت ہندؓ نے شکایت کی کہ ابوسفیانؓ بخیل ہیں اور پورا خرچہ نہیں دیتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “خذي من ماله بالمعروف…” (ان کے مال سے دستور کے مطابق اتنا لے لو جو تمہیں اور تمہارے بچوں کو کافی ہو)۔
-
بغیر اجازت مال لینا: اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اگر شوہر واجب نفقہ (ضروری خرچہ) نہ دے، تو بیوی اس کی اجازت کے بغیر اس کے مال سے صرف ضرورت کے بقدر لے سکتی ہے۔
-
غائب پر قاضی کا فیصلہ: * شافعیہ، مالکیہ، حنابلہ: ان کے نزدیک غائب (غیر حاضر) شخص پر فیصلہ کرنا جائز ہے، اور وہ اس حدیث کو “قضاء” (عدالتی فیصلہ) قرار دیتے ہیں۔
-
احناف: ان کے نزدیک غائب پر فیصلہ جائز نہیں ہے۔ وہ اس حدیث کی توجیہ یہ کرتے ہیں کہ یہ “قضاء” (Decision) نہیں تھا بلکہ “فتویٰ” تھا، اور فتویٰ غائب کی موجودگی کے بغیر بھی دیا جا سکتا ہے۔
-
سوال نمبر 3: علم المیراث (کلالہ اور حصص)
سوال: حضرت جابرؓ کی عیادت، کلالہ کی تعریف اور اولاد کے حصوں کی حکمت۔
جواب:
-
واقعہ: حضرت جابرؓ سخت بیمار ہوئے تو آپ ﷺ نے اپنے وضو کا پانی ان پر چھڑکا جس سے وہ ٹھیک ہوئے۔ انہوں نے اپنے مال کی تقسیم کا پوچھا تو میراث کی آیات نازل ہوئیں۔
-
کلالہ کی تعریف: وہ میت جس کا نہ باپ ہو (اصل) اور نہ اولاد ہو (فرع)۔ ایسے شخص کی میراث بہن بھائیوں میں تقسیم ہوتی ہے۔
-
حصوں کی تقسیم: اللہ نے مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر (للذکر مثل حظ الانثیین) رکھا ہے۔
-
حکمت: اسلام نے مرد پر معاشی ذمہ داریاں (مہر، نفقہ، عیال داری) ڈالی ہیں، جبکہ عورت کا مال اس کی اپنی ملکیت ہے اور اس کا خرچہ شوہر یا باپ کے ذمے ہے۔ اس معاشی توازن کی وجہ سے مرد کا حصہ زیادہ رکھا گیا ہے۔
سوال نمبر 4: فقه البيوع (خیارِ مجلس)
سوال: خیارِ مجلس کی حقیقت اور “تفرق” (جدا ہونے) کی تشریح۔
جواب:
-
خیارِ مجلس: اس سے مراد سودا کرنے کے بعد اسی جگہ (مجلس) میں رہتے ہوئے سودا کینسل کرنے کا اختیار۔
-
ائمہ کا اختلاف:
-
شافعیہ و حنابلہ: جب تک دونوں ایک دوسرے سے جسمانی طور پر جدا نہ ہوں، سودا ختم کرنے کا حق رہتا ہے۔
-
احناف و مالکیہ: ایجاب و قبول (سودا طے ہونے) کے بعد اختیار ختم ہو جاتا ہے، چاہے وہ ابھی وہیں بیٹھے ہوں۔ ان کے نزدیک مجلس کا قائم رہنا سودا کینسل کرنے کا حق نہیں دیتا۔
-
-
تفرق (جدا ہونا) کی تشریح: * شوافع: اس سے مراد ابدان (جسموں) کی جدائی ہے (جیسا کہ ابن عمرؓ تھوڑی دور چل کر واپس آتے تھے)۔
-
احناف: اس سے مراد “کلام” (بات چیت) کا الگ ہونا ہے، یعنی سودا مکمل ہو گیا۔ احناف کہتے ہیں کہ اگر جسمانی جدائی مراد لی جائے تو کئی دن تک ایک مجلس میں رہنے سے سودا لٹکا رہے گا، جو تجارت کے لیے نقصان دہ ہے۔
-
سوال نمبر 5: فتنہ دجال اور علاماتِ قیامت
سوال: دجال کا خروج، تمیم داریؓ کا واقعہ اور ممنوعہ شہر۔
جواب:
-
دجال کا فتنہ: دجال زمین پر 40 دن رہے گا (ایک دن سال جیسا، ایک مہینے جیسا، ایک ہفتے جیسا اور باقی عام دن)۔ وہ خدائی کا دعویٰ کرے گا اور شعبدے دکھائے گا۔
-
تمیم داریؓ کا واقعہ: حضرت تمیم داریؓ (جو پہلے عیسائی تھے) نے ایک جزیرے میں “جسّاسہ” اور ایک زنجیروں میں جکڑے شخص (دجال) کو دیکھا تھا، جس نے ان سے “نخلِ بیسان” اور “بحیرہ طبریہ” کے بارے میں پوچھا۔ حضور ﷺ نے اس واقعے کی تصدیق فرمائی۔
-
ممنوعہ شہر: دجال پوری دنیا میں جائے گا سوائے مکہ اور مدینہ کے، کیونکہ ان کے راستوں پر فرشتے پہرہ دے رہے ہوں گے۔
-
نزولِ عیسیٰؑ: حضرت عیسیٰ علیہ السلام دمشق کے سفید مینار پر اتریں گے اور دجال کو “بابِ لُد” (فلسطین) پر قتل کریں گے۔
نوٹس: پرچہ سوم (جامع ترمذی)
سوال نمبر 1: بیداری کے بعد طہارت اور امام ترمذیؒ کی اصطلاحات
جواب:
-
شرعی حکم اور علت: حدیث میں ہے کہ “جب تم میں سے کوئی بیدار ہو تو ہاتھ برتن میں نہ ڈالے جب تک اسے تین بار دھو نہ لے، کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ رات کو اس کا ہاتھ کہاں رہا”۔
-
علت (وجہ): نیند کی حالت میں انسان کا ہاتھ بدن کے کسی بھی ایسے حصے پر لگ سکتا ہے جہاں پسینہ یا نجاست ہو، اس لیے احتیاطاً دھونے کا حکم ہے۔
-
رات یا دن؟: احناف اور جمہور کے نزدیک یہ حکم صرف رات کی نیند کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ دن کو سونے والا بھی اگر بیدار ہو تو اسے ہاتھ دھو لینے چاہئیں۔ رات کا ذکر اس لیے ہے کہ عموماً نیند رات کو طویل ہوتی ہے۔
-
-
ائمہ کا اختلاف: اگر کوئی ہاتھ دھوئے بغیر برتن میں ڈال دے:
-
احناف: پانی ناپاک نہیں ہوتا (بشرطیکہ ہاتھ پر کوئی ظاہری نجاست نہ ہو) لیکن ایسا کرنا “مکروہِ تنزیہی” ہے۔
-
شافعیہ و مالکیہ: ان کے نزدیک بھی پانی پاک رہتا ہے، مگر سنت کی مخالفت کی وجہ سے ناپسندیدہ ہے۔
-
-
ترمذی کی اصطلاحات:
-
حدیث حسن صحیح: یہ امام ترمذی کی خاص اصطلاح ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے، ایک سند سے “حسن” ہے اور دوسری سے “صحیح”۔ یا پھر یہ کہ یہ حدیث ایک ہی وقت میں حسن اور صحیح دونوں کے اوصاف رکھتی ہے۔
-
حدیث غریب: وہ حدیث جس کی سند میں کسی بھی مقام پر صرف ایک ہی راوی رہ گیا ہو۔
-
سوال نمبر 2: اذان، اقامت اور مسجد کا نظم و ضبط
جواب:
-
اختیارات کی تقسیم: حدیث کے مطابق اذان کا وقت طے کرنا یا اذان دینا مؤذن کا حق ہے، لیکن اقامت (جماعت کھڑی کرنا) مکمل طور پر امام کے اختیار میں ہے۔ مؤذن امام کی اجازت کے بغیر اقامت نہیں کہہ سکتا۔
-
انتظارِ امام: مقتدیوں کو امام کا انتظار کرنا چاہیے۔ اگر امام موجود نہ ہو تو جب تک وہ نہ آ جائے اقامت نہ کہی جائے۔ نبوی معمول یہ تھا کہ صحابہ کرام صفوں میں کھڑے ہو کر آپ ﷺ کا انتظار کرتے تھے، اور جب آپ ﷺ حجرہ مبارک سے نکلتے تب اقامت شروع ہوتی تھی۔
-
انتظامی آداب: مسجد میں نظم و ضبط کا ذمہ دار امام ہے۔ مؤذن اور مقتدیوں کو امام کی تابع داری کرنی چاہیے تاکہ جماعت میں خلل نہ پڑے۔
سوال نمبر 3: وتر کا وجوب، رکعات اور قنوت
جواب:
-
حکمِ وتر:
-
احناف: وتر واجب ہے۔ ان کی دلیل آپ ﷺ کا فرمان ہے: “وتر حق ہے، جو وتر نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں”۔
-
ائمہ ثلاثہ (شافعی، مالکی، حنبلی): وتر سنتِ مؤکدہ ہے۔ ان کی دلیل وہ حدیث ہے جس میں آپ ﷺ نے پانچ نمازوں کے سوا کسی اور کو فرض قرار نہیں دیا۔
-
-
تعدادِ رکعات:
-
احناف: وتر کی تین رکعات ہیں جو ایک سلام کے ساتھ پڑھی جاتی ہیں (مغرب کی طرح، مگر تیسری رکعت میں قراءت کے بعد قنوت پڑھی جاتی ہے)۔
-
شوافع: وہ ایک رکعت بھی جائز قرار دیتے ہیں اور دو رکعت پڑھ کر سلام پھیرنے کے بعد ایک رکعت الگ پڑھنے کے بھی قائل ہیں۔
-
-
دعائے قنوت:
-
احناف: تیسری رکعت میں رکوع سے پہلے تکبیر کہہ کر قنوت پڑھنا واجب ہے۔
-
شوافع: ان کے نزدیک قنوت رکوع کے بعد (قومہ میں) پڑھی جاتی ہے۔
-
سوال نمبر 4: زکوٰۃ، صدقہ اور سوال (مانگنے) کی مذمت
جواب:
-
استغناء کی حد: حدیث میں ہے کہ جس کے پاس 50 درہم (یا اس کے برابر سونا/چاندی) ہوں، اس کے لیے مانگنا حرام ہے۔ احناف کے نزدیک “صاحبِ نصاب” (جس پر زکوٰۃ فرض ہے) کے لیے صدقہ لینا حرام ہے۔
-
زکوٰۃ کے مسائل: زیورات اور مالِ تجارت پر زکوٰۃ واجب ہے بشرطیکہ وہ نصاب کو پہنچ جائیں اور ان پر ایک سال گزر جائے۔
-
ایصالِ ثواب: امت کا اجماع ہے کہ میت کی طرف سے کیا گیا صدقہ اور دعا اسے فائدہ پہنچاتی ہے۔ حضور ﷺ نے ایک صحابی کو ان کی والدہ کی طرف سے کنواں کھدوانے کی اجازت دی تھی تاکہ انہیں ثواب پہنچے۔
سوال نمبر 5: جامع ترمذی کی خصوصیات
جواب:
-
مذاہبِ فقہاء: امام ترمذی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ حدیث کے نیچے فقہاء (جیسے امام شافعی، امام احمد، احناف) کے مذاہب اور ان کے استدلال کا ذکر کرتے ہیں۔
-
عللِ حدیث: وہ حدیث کی فنی حیثیت (صحیح، حسن، ضعیف) واضح کرتے ہیں اور اگر سند میں کوئی کمزوری ہو تو اسے بھی بیان کرتے ہیں۔
-
کتاب العمل بالحدیث: وہ بتاتے ہیں کہ اہل علم کا اس حدیث پر عمل ہے یا نہیں، جس سے طالبِ علم کو حدیث کا عملی پہلو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
نوٹس: پرچہ چہارم (سنن ابی داؤد و آثار السنن)
سوال نمبر 1: قربانی کے احکام اور جانور کی عمر
جواب:
-
مسنہ اور جذعہ کی تعریف:
-
مسنہ (Musinnah): وہ جانور جو “ثنی” (دودانتا) ہو چکا ہو۔ اونٹ 5 سال، گائے/بھینس 2 سال، اور بکری/بھیڑ 1 سال مکمل کر کے دوسرے میں داخل ہو چکے ہوں۔
-
جذعہ (Jadh’ah): وہ جانور جو ابھی ایک سال کا نہ ہوا ہو (عموماً 6 ماہ سے زائد کا) مگر دیکھنے میں سال بھر کا لگے۔
-
-
حکمِ قربانی: حدیثِ ابوداؤد “لا تذبحوا إلا مسنة” کی روشنی میں:
-
ائمہ ثلاثہ: صرف مسنہ کی قربانی جائز ہے، جذعہ صرف اس وقت جائز ہے جب مسنہ نہ ملے۔
-
احناف: بھیڑ اور دنبے کا “جذعہ” (6 ماہ کا موٹا تازہ بچہ) اگر ایسا ہو کہ سال بھر والوں میں چھوڑا جائے تو الگ نہ پہچانا جائے، تو اس کی قربانی مطلقاً جائز ہے، چاہے مسنہ میسر ہو یا نہ ہو۔
-
-
وجوبِ اضحیہ: احناف کے نزدیک قربانی ہر اس مسلمان پر واجب ہے جو مقیم ہو اور صاحبِ نصاب ہو۔ مسافر اور مکہ میں موجود وہ حاجی جو مسافر ہو، اس پر قربانی واجب نہیں۔
سوال نمبر 2: جہاد، صلاۃ الخوف اور بین الاقوامی مسائل
جواب:
-
صلاۃ الخوف کی کیفیت: میدانِ جنگ میں جب دشمن سامنے ہو، تو امام دو گروہوں میں نماز پڑھاتا ہے۔
-
احناف کا موقف: صلاۃ الخوف کی وہی کیفیت راجح ہے جو سورہ نساء میں آئی ہے (ایک گروہ ایک رکعت پڑھ کر دشمن کے سامنے جائے، پھر دوسرا آئے)۔ یہ صرف سفر میں جائز ہے۔
-
شوافع: اس کی کئی کیفیات جائز ہیں اور یہ حضر (اپنے شہر) میں بھی دشمن کے خوف کے وقت جائز ہے۔
-
-
اخلاقیاتِ جہاد: اسلام میں عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور ایسے مذہبی لوگ جو جنگ میں شریک نہ ہوں، انہیں قتل کرنا حرام ہے۔ آپ ﷺ نے فصلوں کو تباہ کرنے اور درختوں کو کاٹنے سے بھی منع فرمایا۔ جدید دور میں بھی ان قوانین کی پاسداری لازم ہے۔
-
مسئلہ فلسطین: اسلام مظلوم کی حمایت کا حکم دیتا ہے۔ ایسے کسی عالمی اتحاد کا حصہ بننا جو مسلمانوں کے خلاف جارحیت کرے یا فلسطین جیسے مسائل پر دشمن کا ساتھ دے، شرعاً ناجائز ہے۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ جس قدر ہو سکے (زبان، قلم، مال) سے مظلوم فلسطینیوں کی مدد کریں۔
سوال نمبر 3: طہارت (منی، مذی، ودی) اور مسح علی الخفین
جواب:
-
منی، مذی اور ودی میں فرق:
-
منی: گاڑھا مادہ جو شہوت کے ساتھ نکلے (اس سے غسل فرض ہوتا ہے)۔
-
مذی: پتلا مادہ جو شہوت کے وقت نکلے (اس سے صرف وضو ٹوٹتا ہے)۔
-
ودی: پیشاب کے بعد نکلنے والا مادہ (اس سے بھی صرف وضو ٹوٹتا ہے)۔
-
-
منی کا حکم: احناف کے نزدیک منی ناپاک ہے، اگر کپڑے پر لگ کر سوکھ جائے تو کھرچنے (فرک) سے پاک ہو جائے گا اور اگر تر ہو تو دھونا لازم ہے۔ شوافع کے نزدیک منی پاک ہے۔
-
مسح علی الخفین: موزوں پر مسح کرنا سنتِ متواترہ سے ثابت ہے۔
-
طریقہ: ہاتھ کی تین انگلیاں تر کر کے موزوں کے ظاہر (اوپری حصے) پر لکیریں کھینچی جائیں۔
-
مدت: مقیم کے لیے 24 گھنٹے اور مسافر کے لیے 72 گھنٹے۔ مدت اس وقت سے شروع ہوتی ہے جب پہلا وضو ٹوٹے۔
-
سوال نمبر 4: نماز کے اختلافی مسائل (رفع یدین اور آمین)
جواب:
-
رفع یدین:
-
احناف: صرف تکبیرِ تحریمہ (شروع) میں ہاتھ اٹھانا سنت ہے۔ رکوع میں جاتے اور اٹھتے وقت رفع یدین نہیں کرنا چاہیے۔ ان کی دلیل حضرت ابن مسعودؓ کی روایت ہے کہ “میں نے حضور ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، آپ نے صرف ایک بار ہاتھ اٹھائے”۔
-
شوافع: ان کے نزدیک رکوع کے وقت بھی رفع یدین سنت ہے۔
-
-
آمین بالسر: احناف کے نزدیک نماز میں آمین آہستہ کہنا سنت ہے کیونکہ آمین ایک دعا ہے اور دعا میں اخفاء (آہستگی) بہتر ہے (“ادعوا ربكم تضرعا وخفية”)۔
-
جلسہ استراحت: سجدوں کے بعد قیام سے پہلے تھوڑی دیر بیٹھنا احناف کے نزدیک سنتِ مستمرہ نہیں بلکہ بڑھاپے یا کمزوری کی وجہ سے آپ ﷺ سے ثابت ہے۔
سوال نمبر 5: امام ابوداؤدؒ اور ان کی سنن کا مقام
جواب:
-
سوانح: امام ابوداؤدؒ (متوفی 275ھ) نے اپنی سنن میں 5 لاکھ احادیث میں سے صرف 4800 احادیث منتخب کیں جو احکامِ فقہیہ سے متعلق ہیں۔
-
کتاب کا مقام: سنن ابی داؤد کے بارے میں محدثین فرماتے ہیں کہ “اگر کسی کے پاس صرف قرآن اور یہ کتاب ہو تو وہ فقیہ بن سکتا ہے”۔
-
نسخے: اس کے مشہور نسخوں میں لؤلؤی کا نسخہ سب سے زیادہ مستند اور مروج ہے۔
نوٹس: پرچہ پنجم (سنن نسائی و سنن ابن ماجہ)
القسم الأول: سنن نسائی
سوال نمبر 1: احکامِ میاہ (پانی کے احکام) اور سورِ مرأۃ
جواب:
-
عورت کا جھوٹا (Surplus water of a woman): حضرت ابن عباسؓ کی حدیث کے مطابق نبی ﷺ نے اپنی زوجہ کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے وضو کیا۔
-
احناف کا موقف: اگر عورت نے تنہائی میں پانی استعمال کیا ہو تو اس کے بچے ہوئے پانی سے مرد کا وضو کرنا مکروہِ تنزیہی ہے (یعنی جائز ہے مگر بچنا بہتر ہے)۔
-
شوافع و دیگر: ان کے نزدیک یہ مطلقاً جائز ہے کیونکہ “پانی ناپاک نہیں ہوتا”۔
-
-
پانی کی پاکیزگی کا اصول: حدیث “ان الماء لا ينجسه شيء” کا مطلب یہ ہے کہ پانی اپنی اصل میں پاک ہے جب تک اس کا رنگ، بو یا ذائقہ نہ بدل جائے۔
-
قنطرتین کی بحث: شوافع کے نزدیک اگر پانی دو مٹکوں (تقریباً 191 لیٹر) سے زیادہ ہو تو وہ نجاست گرنے سے ناپاک نہیں ہوتا، جبکہ احناف کے نزدیک “دہ دردہ” (بڑا تالاب) کا ہونا ضروری ہے۔
-
-
کتے کا جھوٹا: حدیث میں سات بار دھونے کا حکم ہے۔
-
احناف: تین بار دھونا واجب ہے، سات بار کا حکم ابتداء میں تاکید کے لیے تھا۔
-
شوافع: سات بار دھونا اور ایک بار مٹی سے مانجھنا فرض ہے۔
-
سوال نمبر 2: فضائلِ مساجد اور تحویلِ قبلہ
جواب:
-
مسجدِ تقویٰ: قرآن کی آیت “لمسجد أسس على التقوى” کے بارے میں صحابہ میں اختلاف ہوا کہ یہ مسجدِ قباء ہے یا مسجدِ نبوی۔ نبی ﷺ نے فیصلہ فرمایا کہ یہ میری مسجدِ نبوی ہے۔ اگرچہ مسجدِ قباء کی بنیاد بھی تقویٰ پر ہے، مگر کمالِ تقویٰ مسجدِ نبوی کو حاصل ہے۔
-
تحویلِ قبلہ: ہجرت کے 16 یا 17 ماہ بعد نماز کے دوران قبلہ تبدیل کرنے کا حکم آیا۔ آپ ﷺ “مسجدِ قبلتین” میں نماز پڑھا رہے تھے کہ وحی نازل ہوئی اور آپ ﷺ نے دورانِ نماز ہی اپنا رخ بیت المقدس سے کعبہ کی طرف کر لیا۔
-
روضہ رسول ﷺ: “ما بين بيتي ومنبري روضة من رياض الجنة”۔ محققینِ اہل سنت کے نزدیک یہ جگہ حقیقت میں جنت کا حصہ ہے جو قیامت کے دن جنت میں منتقل کر دیا جائے گا۔
القسم الثاني: سنن ابن ماجہ
سوال نمبر 3: عقائد اور فتنہ دجال
جواب:
-
لا عدویٰ ولا طیرۃ: اس کا مطلب ہے کہ بیماری اپنی ذات میں متعدی (چھوت والی) نہیں ہوتی بلکہ اللہ کے حکم سے لگتی ہے۔ دیہاتی کے سوال پر آپ ﷺ کا جواب “پہلے اونٹ کو کس نے خارش لگائی؟” اس بات کی دلیل ہے کہ اصل سبب اللہ کی تقدیر ہے۔
-
ایمان اور حیا: حیا ایمان کی اہم شاخ ہے۔ جس انسان میں حیا ختم ہو جائے، اس کے لیے گناہ کرنا آسان ہو جاتا ہے، اس لیے اسے ایمان کا محافظ قرار دیا گیا ہے۔
-
فتنہ دجال: ابن ماجہ میں دجال کا تذکرہ بہت تفصیل سے ہے۔ وہ کانا ہوگا، اس کی پیشانی پر “کافر” لکھا ہوگا، اور وہ فتنہ پیدا کرے گا۔ اس سے بچنے کے لیے سورہ کہف کی ابتدائی آیات کی تلاوت اکسیر ہے۔
سوال نمبر 4: کتاب الفرائض اور دیت کے احکام
جواب:
-
قتل کی اقسام:
-
عمد: جان بوجھ کر ہتھیار سے مارنا (سزا: قصاص)۔
-
شبہ عمد: ایسی چیز سے مارنا جو عموماً قتل نہیں کرتی جیسے ڈنڈا (سزا: دیتِ مغلظہ)۔
-
خطا: نشانہ چوک کر کسی انسان کو لگ جانا (سزا: دیتِ مخففہ)۔
-
-
دیت کا نصاب: انسانی جان کی دیت 100 اونٹ یا اس کی قیمت (مثلاً 1000 دینار یا 10,000 درہم) ہے۔ احناف کے نزدیک دیت چاندی یا سونے کی قیمت سے بھی ادا کی جا سکتی ہے۔
-
کلالہ کی میراث: کلالہ وہ ہے جس کا باپ اور بیٹا نہ ہو۔ اگر اس کے بہن بھائی ہوں تو وہ حصص کے مطابق وارث بنتے ہیں۔
سوال نمبر 5: فضائلِ علم اور تلاوتِ قرآن
جواب:
-
طلبِ علم: “طلب العلم فريضة على كل مسلم” سے مراد وہ بنیادی دینی علم (نماز، روزہ، حلال و حرام) ہے جو ہر مسلمان کی روزمرہ زندگی کے لیے ضروری ہے۔
-
قرآن کی مثالیں: * مومن قاری: سنگترے (Utrujjah) کی طرح جس کی خوشبو بھی اچھی اور ذائقہ بھی اچھا۔
-
مومن غیر قاری: کھجور کی طرح جس کی خوشبو نہیں مگر ذائقہ میٹھا ہے۔
-
منافق قاری: ریحانہ (خوشبودار بوٹی) کی طرح جس کی بو اچھی مگر ذائقہ کڑوا ہے۔
-
منافق غیر قاری: اندرائن (حنظلہ) کی طرح جس کی بو بھی کڑوی اور ذائقہ بھی زہریلا۔
-
-
علماء کا مقام: علماء انبیاء کے وارث ہیں کیونکہ انبیاء درہم و دینار نہیں بلکہ “علم” بطور وراثت چھوڑ کر جاتے ہیں۔
