Tanzeem ul Madaris Solved Guess Paper 2026 | PDF (طلباء کے لیے) خاصه سال اول

حل پرچہ: ترجمہ قرآن وحديث (خاصہ سال اول )

حصہ اول: قرآن مجید

سوال: “وَلَا تُصَلِّ عَلَىٰ أَحَدٍ مِّنْهُم مَّاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَىٰ قَبْرِهِ ۖ إِنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَاتُوا وَهُمْ فَاسِقُونَ” کا ترجمہ لکھیں۔
جواب: اور (اے محبوب!) ان میں سے کوئی مر جائے تو کبھی اس (کے جنازے) پر نماز نہ پڑھیں اور نہ ہی اس کی قبر پر کھڑے ہوں، بے شک انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا کفر کیا اور وہ نافرمانی کی حالت میں ہی مر گئے۔
سوال: “وَجَاءَ الْمُعَذِّرُونَ مِنَ الْأَعْرَابِ لِيُؤْذَنَ لَهُمْ وَقَعَدَ الَّذِينَ كَذَبُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۚ سَيُصِيبُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ” کا ترجمہ کریں۔
جواب: اور بہانے بنانے والے دیہاتی آئے تاکہ انہیں (جنگ سے پیچھے رہنے کی) اجازت دی جائے، اور وہ لوگ بیٹھ رہے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے جھوٹ بولا تھا، ان میں سے کافروں کو جلد ہی دردناک عذاب پہنچے گا۔
سوال: “مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَن يَكُونَ لَهُ أَسْرَىٰ حَتَّىٰ يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ ۚ تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللَّهُ يُرِيدُ الْآخِرَةَ ۗ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ” کا ترجمہ لکھیں۔
جواب: کسی نبی کے لیے یہ لائق نہیں کہ اس کے پاس قیدی ہوں جب تک کہ وہ زمین میں (کفار کا) اچھی طرح خون نہ بہا دے، تم دنیا کا ساز و سامان چاہتے ہو اور اللہ آخرت (کی بھلائی) چاہتا ہے، اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔
سوال: “سَيَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَكُمْ إِذَا انْقَلَبْتُمْ إِلَيْهِمْ لِتَعْرِضُوا عَنْهُمْ فَأَعْرِضُوا عَنْهُمْ إِنَّهُمْ رِجْسٌ…” کا ترجمہ کریں۔
جواب: جب تم ان کی طرف واپس لوٹو گے تو وہ تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے درگز فرماؤ، تو تم ان سے کنارہ کشی کر لو، بے شک وہ گندگی ہیں اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے، یہ ان کے کرتوتوں کا بدلہ ہے۔
سوال: “وَمَا كَانَ هَذَا الْقُرْآنُ أَنْ يُفْتَرَى مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلَكِنْ تَصْدِيقَ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ…” کا ترجمہ کریں۔
جواب: اور اس قرآن کی یہ شان نہیں کہ اسے اللہ کے سوا کوئی گھڑ لے، بلکہ یہ تو ان (کتابوں) کی تصدیق ہے جو اس سے پہلے (نازل) ہوئیں اور کتاب (لوحِ محفوظ) کی تفصیل ہے، اس میں کوئی شک نہیں (کہ یہ) رب العالمین کی طرف سے ہے۔

 


دوسرا حصہ: رياض الصالحين (احادیث)

سوال: “عَنِ ابِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي وَالْمَاشِي عَلَى الْقَاعِدِ وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ وَالصَّغِيرُ عَلَى الْكَبِيرِ” کا ترجمہ کریں۔
جواب: حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سوار پیدل چلنے والے کو، پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے کو، تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو اور چھوٹا بڑے کو سلام کرے۔
سوال: “عَنْ حَفْصَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يَجْعَلُ يَمِينَهُ لِطَعَامِهِ وَشَرَابِهِ، وَيَجْعَلُ يَسَارَهُ لِمَا سِوَى ذٰلِكَ” کا ترجمہ لکھیں۔
جواب: حضرت حفصہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنا دایاں ہاتھ کھانے اور پینے کے لیے استعمال فرماتے تھے، اور اس کے علاوہ (دیگر کاموں) کے لیے اپنا بایاں ہاتھ استعمال فرماتے تھے۔
سوال: درج ذیل الفاظ کے معانی لکھیں:۔
جواب : اَلشِّمَال: بایاں ہاتھ۔
  • اَلِاكْتِحَال: سرمہ لگانا۔
  • شِيْبَة: بڑھاپا/سفید بال۔
  • اَلْإِنْكَات: زمین کریدنا (فکر کی حالت میں)۔
  • صَرَفْنَا: ہم نے پھیر دیا/بیان کیا۔
  • رَهَبًا: خوف سے۔
  • لُؤْلُؤًا: موتی۔
  • رِجَالًا: پیدل چلنے والے۔
  • يُجَرْجِر: وہ گڑگڑاتا ہے (آواز نکالنا)۔
  • غَلِيْظُ الْقَلْب: سخت دل والا۔

حل شدہ پرچہ: فقہ و اصول فقہ (دوسرا پرچہ ) – تنظیم المدارس

قسم اول: فقہ (الہدایۃ/قدوری)

سوال نمبر 1 (الف): “وَالْأَعْوَاضُ الْمُشَارُ إِلَيْهَا لَا يَحْتَاجُ إِلَى مَعْرِفَةِ مِقْدَارِهَا فِي جَوَازِ الْبَيْعِ وَالْأَثْمَانُ الْمُطْلَقَةُ لَا تَصِحُّ إِلَّا أَنْ تَكُوْنَ مَعْرُوْفَةَ الْقَدْرِ وَالصِّفَةِ” کا ترجمہ کریں۔
جواب: اور وہ بدلے (چیزیں) جن کی طرف اشارہ کر دیا جائے، بیع کے جائز ہونے کے لیے ان کی مقدار کی معرفت (پیمائش/وزن) کی ضرورت نہیں ہے، اور وہ قیمتیں جو مطلق (نقدی) ہوں وہ صحیح نہیں ہوتیں جب تک کہ ان کی مقدار اور صفت (کون سی کرنسی ہے) معلوم نہ ہو۔
سوال نمبر 1 (ب): مذکورہ عبارت میں موجود دونوں مسئلے تفصیلاً واضح کریں؟
جواب: پہلا مسئلہ یہ ہے کہ اگر بیع میں سامان سامنے موجود ہو اور اس کی طرف اشارہ کر دیا جائے (جیسے یہ گندم کا ڈھیر) تو اس کا وزن معلوم ہونا ضروری نہیں، بیع جائز ہے۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اگر قیمت نقدی کی صورت میں ہو تو اس کی مقدار (کتنے روپے) اور صفت (کون سے ملک کی کرنسی) کا تعین لازمی ہے ورنہ بیع فاسد ہوگی۔
سوال 2 (الف): بیع مرابحہ اور بیع تولیہ کی تعریفات تحریر کریں؟
جواب: مرابحہ: جس قیمت پر چیز خریدی اس پر کچھ نفع شامل کر کے بیچنا۔ تولیہ: جس قیمت پر چیز خریدی، بغیر کسی نفع یا نقصان کے اسی قیمت پر آگے بیچ دینا۔
سوال 2 (ب): ربا کی اقسام مع تعریفات تحریر کریں؟
جواب: (1) ربا الفضل: ہم جنس اشیاء کے تبادلے میں ایک طرف زیادتی ہونا (مثلاً ایک کلو گندم کے بدلے ڈیڑھ کلو گندم)۔ (2) ربا النساء: ہم جنس یا قدر میں مشترک اشیاء کے تبادلے میں ایک طرف سے ادائیگی میں تاخیر یا ادھار کرنا۔
سوال 2 (ج): کسی چیز کے مکیلی یا موزونی ہونے کا معیار کیا ہے؟
جواب: معیار یہ ہے کہ جو چیزیں نبی کریم ﷺ کے عہدِ مبارک میں ناپ کر (مکیلی) بکتی تھیں وہ ہمیشہ مکیلی رہیں گی اور جو وزن کر کے (موزونی) بکتی تھیں وہ ہمیشہ موزونی رہیں گی، چاہے لوگوں کا عرف بدل جائے۔

حصہ دوم: اصولِ فقہ (اصول الشاشی)

سوال 3(الف): “إِذَا أُطْلِقَ الثَّمَنُ فِي الْبَيْعِ كَانَ عَلَى غَالِبِ نَقْدِ الْبَلَدِ…” کا ترجمہ کریں۔
جواب: تَرْجُمَہ: جب بیع میں قیمت (ثمن) کو مطلق چھوڑ دیا جائے (یعنی سکہ متعین نہ ہو) تو وہ اس شہر کے عام رائج سکے پر محمول ہوگی، یہ حکم ‘تاویل’ کے طریقے سے ثابت ہوتا ہے۔
سوال 3 (ب): مشترک اور مؤول کی تعریفات مع احکام تحریر کریں؟
جواب: مشترک: وہ لفظ جو کئی معانی کے لیے وضع کیا گیا ہو (جیسے ‘قُرء’)؛ اس کا حکم یہ ہے کہ غور و فکر سے ایک معنی متعین کیا جائے۔ مؤول: مشترک کے کئی معانی میں سے جب ایک معنی کو غالب گمان سے متعین کر لیا جائے؛ اس کا حکم یہ ہے کہ اس پر عمل واجب ہے مگر اس میں خطا کا احتمال رہتا ہے۔
سوال نمبر 4 (الف): “یتربصن بأنفسہن ثلثہ قروء” کس کی مثال ہے، مثال کی وضاحت کریں؟
جواب: یہ مثال “مشترک” کی ہے؛ یہاں لفظ ‘قروء’ مشترک ہے جو پاکی (طہر) اور حیض دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ احناف کے نزدیک اس سے مراد حیض ہے جبکہ شوافع کے نزدیک طہر۔
سوال نمبر 4 (ب): عام کی دونوں قسموں کی مثالوں سے وضاحت کریں؟
جواب: عام کی دو قسمیں ہیں: (1) عام مخصوص البعض: وہ عام جس سے کچھ افراد نکال دیے گئے ہوں (جیسے مشرکین کو قتل کرو سوائے ان کے جن سے معاہدہ ہو)۔ (2) عام غیر مخصوص البعض: جس سے کوئی فرد نہ نکالا گیا ہو (جیسے ‘اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے’)۔
سوال نمبر 4 (ج): “لا تحرم المصہ ولا المصتان ولا الاملاجہ ولا الاملاجتان” کا ترجمہ کریں؟
جواب: ایک بار یا دو بار چوسنا (دودھ پینا) اور ایک بار یا دو بار لقمہ دینا (رضاعت کی حرمت کو) ثابت نہیں کرتا۔
سوال 5 (الف): عبارۃ النص، اشارۃ النص اور اقتضاء النص کی تعریف و مثال لکھیں؟
جواب: (1) عبارۃ النص: جس مقصد کے لیے کلام لایا گیا ہو، جیسے وراثت کے احکام۔ (2) اشارۃ النص: جو کلام کا اصل مقصد نہ ہو مگر اس سے ثابت ہو، جیسے مدتِ حمل کا چھ ماہ ہونا۔ (3) اقتضاء النص: جس کے بغیر کلام درست نہ ہو، جیسے “اس بستی سے پوچھو” یعنی بستی والوں سے۔
سوال 5 (ب): لفظ کے حقیقی معانی چھوڑنے کے صرف دو مقام مع مثالیں تحریر کریں؟
جواب: (1) عادت: جیسے کوئی گوشت نہ کھانے کی قسم کھائے تو مچھلی کھانا اس کے لیے جائز ہے کیونکہ عادت میں مچھلی کو گوشت نہیں کہا جاتا۔ (2) تعذر: جب حقیقت پر عمل ناممکن ہو، جیسے کوئی کہے “میں اس درخت سے نہیں کھاؤں گا” تو اس سے مراد اس کا پھل کھانا ہے۔
سوال نمبر 6 (الف): متقابلات کے نام تحریر کریں؟
جواب: متقابلات چار ہیں: (1) ظاہر، (2) نص، (3) مفسر، (4) محکم۔
سوال نمبر 6 (ب): “فصل فيما يترك به حقائق الالفاظ” پر اعراب لگائیں اور خمسہ انواع میں سے کسی ایک کی وضاحت کریں؟
جواب: پانچ انواع میں سے ایک “عادت” ہے؛ یعنی جب حقیقت اور عادت میں تعارض ہو تو کبھی عادت کی وجہ سے حقیقت کو چھوڑ دیا جاتا ہے (جیسے کسی نے قسم کھائی کہ میں ‘گوشت’ نہیں کھاؤں گا، تو عرف میں اس سے مچھلی مراد نہیں لی جاتی حالانکہ وہ حقیقت میں گوشت ہے)۔

حل شدہ پرچہ: علم النحو (تیسرا پرچہ) – تنظیم المدارس

سوال (الف): عبارت “وأرسلها العراك ومررت به وحده” کس سوالِ مقدر کا جواب ہے؟ وضاحت کریں۔
جواب: یہ اس اعتراض کا جواب ہے کہ حال کا “نکرہ” ہونا ضروری ہے، جبکہ ‘العراک’ اور ‘وحدہ’ معرفہ ہیں۔ جواب یہ ہے کہ یہ لفظاً معرفہ ہیں مگر معنی میں نکرہ (عارکۃً اور منفرداً) کے تاویل میں ہیں۔
سوال (ب): اگر ذوالحال نکرہ ہو تو حال کو مقدم کرنا کیوں ضروری ہے؟ مثال سے واضح کریں۔
جواب: نکرہ سے حال اس وقت آتا ہے جب وہ کسی وجہ سے خاص ہو جائے، اگر حال کو مؤخر رکھیں گے تو وہ صفت کے ساتھ مشتبہ ہو جائے گا، جیسے: “جاءنی راکباً رجلٌ” (اگر ‘رجلٌ راکبٌ’ کہیں تو صفت بن جائے گا)۔

 

سوال (الف): درج ذیل میں سے کسی پانچ کی جامع مانع تعریف لکھیں: الکلام، غیر المنصرف، الوصف، المرفوعات، المبتدا، المعرب، العامل۔
جواب: (1) الکلام: وہ لفظ جو دو کلموں کی اسناد پر مشتمل ہو اور پورا فائدہ دے۔ (2) غیر منصرف: جس میں اسبابِ منع صرف میں سے دو سبب یا ایک ایسا سبب ہو جو دو کے قائم مقام ہو۔ (3) المرفوعات: وہ اسم جس کا اعراب رفع (پیش) ہو۔ (4) المبتدا: وہ اسم جو عواملِ لفظیہ سے خالی ہو اور مسند الیہ ہو۔ (5) المعرب: وہ اسم جس کا آخر عامل کے بدلنے سے بدل جائے۔
سوال (ب): کلمہ کی تعریف کریں نیز لفظ “مفرد” میں ترکیبی احتمالات مع معانی لکھیں۔
جواب: کلمہ وہ لفظ ہے جو اکیلے معنی کے لیے وضع کیا گیا ہو۔ لفظ “مفرد” کے تین احتمالات ہیں: (1) مقابلہ تثنیہ و جمع (اکیلا)، (2) مقابلہ مضاف و مشابہ مضاف، (3) مقابلہ جملہ۔

سوال نمبر 3: کلمہ کی اقسام اور فعل کے خواص
سوال (الف): کلمہ کی تعریف، اقسام مع تعریفات و امثلہ اور وجہِ حصر لکھیں؟
جواب: تعریف: وہ لفظ جو اکیلے معنی کے لیے وضع ہو۔ اقسام: اسم (جیسے زید)، فعل (جیسے نَصَرَ)، حرف (جیسے فِی)۔ وجہِ حصر: کلمہ یا تو اپنے معنی خود بتائے گا یا نہیں، اگر نہیں تو وہ ‘حرف’ ہے، اور اگر بتائے تو اس میں زمانہ پایا جائے گا (فعل) یا نہیں (اسم)۔
سوال (ب): کافیہ کی روشنی میں فعل کے خواص (خصوصیات) تحریر کریں؟
جواب: فعل کے خواص درج ذیل ہیں: (1) اس پر ‘قد’ کا آنا۔ (2) ‘سین’ اور ‘سوف’ کا آنا۔ (3) جزم کا آنا۔ (4) حرفِ مشبہ بفعل کا اس پر داخل نہ ہونا۔ (5) اس کا مسند الیہ نہ بن سکنا۔ (6) تائے تانیث ساکنہ کا آخر میں لگنا۔

سوال نمبر 4: اضافت کی اقسام اور فوائد
سوال (الف): اضافتِ لفظیہ و معنویہ کی تعریفات و امثلہ لکھیں؟
جواب: اضافتِ معنویہ: جس میں مضاف صفت کا صیغہ نہ ہو یا اپنے معمول کی طرف مضاف نہ ہو، جیسے: “غلامُ زیدٍ”۔ اضافتِ لفظیہ: جس میں مضاف صفت کا صیغہ ہو اور اپنے معمول کی طرف مضاف ہو، جیسے: “ضاربُ زیدٍ”۔
سوال (ب): اضافتِ معنویہ کی تینوں اقسام مع امثلہ سپرد قلم کریں؟
جواب: (1) اضافتِ لامیہ: جہاں ‘لام’ کا معنی ہو (ملکیت)، جیسے ‘غلامُ زیدٍ’ (زید کا غلام)۔ (2) اضافتِ بیانیہ: جہاں ‘مِن’ کا معنی ہو، جیسے ‘خاتمُ فضۃٍ’ (چاندی کی انگوٹھی)۔ (3) اضافتِ ظرفیہ: جہاں ‘فِی’ کا معنی ہو، جیسے ‘مکرُ اللیلِ’ (رات کی چال)۔
سوال (ج): اضافت کے فوائد کافیہ کی روشنی میں تحریر کریں؟
جواب: اضافتِ معنویہ کے دو بڑے فائدے ہیں: (1) تعریف: اگر مضاف الیہ معرفہ ہو تو مضاف بھی معرفہ بن جاتا ہے۔ (2) تخصیص: اگر مضاف الیہ نکرہ ہو تو مضاف میں تخصیص (خاص ہونا) پیدا ہو جاتی ہے۔ اضافتِ لفظیہ کا فائدہ صرف لفظی تخفیف (تنویر گرانا) ہے۔
سوال 5 (الف): کلی کی پانچ مشہور اقسام (کلیاتِ خمسہ) میں سے تین کی تعریفات و امثلہ لکھیں؟
جواب: (1) جنس: وہ کلی جو ایسی حقیقتوں پر بولی جائے جو مختلف ہوں، جیسے ‘حیوان’ (انسان اور گھوڑے پر بولا جاتا ہے)۔ (2) نوع: وہ کلی جو ایسی حقیقتوں پر بولی جائے جو متفق ہوں، جیسے ‘انسان’۔ (3) فصل: وہ کلی جو کسی چیز کو اس کی جنس میں موجود دیگر اشیاء سے ممتاز کرے، جیسے ‘ناطق’۔
سوال 5 (ب): تساوی اور عموم و خصوص من وجہ کی تعریف اور مثال تحریر کریں؟
جواب: تساوی: جب دو کلیوں کے افراد مکمل طور پر ایک دوسرے پر صادق آئیں، جیسے ‘انسان’ اور ‘ناطق’۔ عموم و خصوص من وجہ: جب دو کلیاں کچھ افراد میں شریک ہوں اور کچھ میں جدا، جیسے ‘حیوان’ اور ‘سفید’ (کچھ حیوان سفید ہیں، کچھ حیوان سفید نہیں، اور کچھ سفید چیزیں حیوان نہیں)۔

حل شدہ پرچہ: منطق و عربی ادب (چوتھا پرچہ) – تنظیم المدارس

حصہ اول: منطق

سوال 1 (الف): عبارت کا ترجمہ کریں اور بتائیں منطقیین موضوع اور محمول کو ‘ج’ اور ‘ب’ سے کیوں تعبیر کرتے ہیں؟
جواب: ترجمہ: منطقیین کی یہ عادت رہی ہے کہ وہ موضوع کو ‘ج’ سے اور محمول کو ‘ب’ سے تعبیر کرتے ہیں، پس جب وہ موجبہ کلیہ کی تعبیر کرنا چاہتے ہیں تو ‘کل ج ب’ کہتے ہیں اور ان کا مقصد اختصار اور (مخصوص افراد میں) انحصار کے وہم کو دور کرنا ہے۔
سوال 1 (ب): قیاس کی تعریف کرتے ہوئے قیاس استثنائی اور قیاس اقترانی کی وضاحت مع مثال پیش کریں؟
جواب: قیاس وہ قول ہے جو چند قضایا سے مل کر بنے کہ ان کے تسلیم کرنے سے لازمی طور پر ایک دوسرا قول (نتیجہ) نکلے۔ قیاس استثنائی: جس میں نتیجہ یا اس کی نقیض بعینہٖ مذکور ہو، جیسے ‘اگر سورج نکلے گا تو دن ہوگا، لیکن سورج نکلا ہے، پس دن ہے’۔ قیاس اقترانی: جس میں نتیجہ بعینہٖ مذکور نہ ہو، جیسے ‘زید انسان ہے، اور ہر انسان حیوان ہے، پس زید حیوان ہے’۔
سوال 2 (الف): قضیہ کی تعریف کرتے ہوئے قضیہ کی اقسام مع تعریفات و امثلہ تحریر کریں؟
جواب: قضیہ وہ قول ہے جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے۔ اقسام: (1) قضیہ حملیہ: جس میں ایک چیز کا دوسری کے لیے ثبوت یا نفی ہو، جیسے ‘زید قائم ہے’۔ (2) قضیہ شرطیہ: جس میں ایک حکم کو دوسرے کے ساتھ معلق کیا جائے، جیسے ‘اگر سورج نکلے گا تو دن ہوگا’۔
سوال 2 (ب): موضوع کے اعتبار سے قضیہ حملیہ کی اقسام مع تعریفات و امثلہ تحریر کریں؟
جواب: موضوع کے اعتبار سے چار اقسام ہیں: (1) شخصیہ: جس کا موضوع معین ہو، جیسے ‘زید کاتب ہے’۔ (2) طبعیہ: جہاں حکم صرف حقیقت پر ہو، جیسے ‘انسان نوع ہے’۔ (3) مہملہ: جہاں موضوع کلی ہو مگر مقدارِ افراد ذکر نہ ہو، جیسے ‘انسان خسارے میں ہے’۔ (4) محصورہ: جہاں مقدارِ افراد (سور) مذکور ہو، جیسے ‘تمام انسان جاندار ہیں’۔
سوال3 (الف): علم کے معانی خمسہ (پانچ معانی) تحریر کریں۔
جواب: (1) کسی چیز کا نقش ذہن میں حاصل ہونا، (2) صفتِ انکشاف، (3) ادراک، (4) ملکہ (مہارت)، (5) وہ مسائل جو ایک موضوع کے گرد گھومیں۔
سوال 3 (ب): منطق کی تعریف اور اس کی وجہ تسمیہ بیان کریں۔
جواب: تعریف: وہ علم جس کے قواعد کا لحاظ رکھنا ذہن کو سوچ و بچار میں غلطی سے بچائے۔ وجہ تسمیہ: یہ ‘نطق’ سے نکلا ہے، نطقِ ظاہری (کلام) اور نطقِ باطنی (ادراک) دونوں کو درست کرتا ہے۔

 


حصہ دوم: عربی ادب

سوال 4 (الف): ادب اسلامی کے چار اہم سرچشموں کے نام لکھیں۔
جواب: (1) قرآن مجید، (2) احادیثِ مبارکہ، (3) اقوالِ صحابہ و خلفائے راشدین، (4) عربی شاعری و خطابت۔
سوال 4 (ب): مکی سورتوں کی خصوصیات اور سات مشہور قراء کے نام لکھیں۔
جواب: مکی سورتوں کی خصوصیات: آیات چھوٹی ہیں، عقائد (توحید و آخرت) پر زور ہے، مشرکین سے خطاب ہے۔ سات قراء: (1) نافع مدنی، (2) عبداللہ بن کثیر، (3) ابو عمرو بصری، (4) ابن عامر، (5) عاصم کوفی، (6) حمزہ کوفی، (7) کسائی کوفی۔

سوال 5 (الف): اشعار “وَقَدْ يَنْبُتُ الْمَرْعَى…” پر اعراب لگائیں اور ترجمہ کریں۔
جواب: ترجمہ: (1) بسا اوقات کوڑے کرکٹ پر بھی سبزہ اگ آتا ہے، مگر دلوں کے کینے اپنی جگہ باقی رہتے ہیں۔ (2) اے ہند! (بنو بکر کی بیٹی) سلامت رہو، اگرچہ ہمارے قبیلے ایک دوسرے کے دشمن ہی کیوں نہ رہیں۔ (3) جب میں بنو تیم کے غلاموں سے ملتا ہوں تو کہتا ہوں کہ ان میں سے اصلی غلام کون ہے؟ (یہ شعر ہجو پر مبنی ہے)۔
سوال 5 (ب): قراءِ سبعہ (سات مشہور قراء) میں سے کسی پانچ کے نام لکھیں؟
جواب: (1) امام نافع مدنی۔ (2) امام عاصم کوفی۔ (3) امام ابن کثیر مکی۔ (4) امام ابو عمرو بصری۔ (5) امام حمزہ کوفی۔
سوال 6 (الف): حجازی شاعری کی کوئی تین خصوصیات لکھیں؟
جواب: (1) اس میں غزل اور رومانوی انداز غالب تھا۔ (2) زبان انتہائی نرم، سلیس اور دلکش تھی۔ (3) قبائلی جنگ و جدل کے بجائے انسانی جذبات اور حسن و جمال کا ذکر زیادہ ملتا ہے۔
سوال 6 (ب): اخطل اور جریر کی شاعری پر جامع نوٹ لکھیں۔
جواب: اخطل: اموی دربار کا ملک الشعراء تھا، اس کی شاعری ٹھوس اور پروقار تھی، وہ شراب اور سیاسی مدح کے موضوعات میں ماہر تھا۔ جریر: یہ ہجویہ شاعری کا بادشاہ مانا جاتا ہے، اس کی زبان سادہ اور عوامی تھی، اس نے اپنی شاعری کے ذریعے اپنے تمام حریفوں (بشمول فرزدق) کا بھرپور مقابلہ کیا اور اسے اسلامی دور کا ایک بڑا شاعر تسلیم کیا جاتا ہے۔

حل شدہ پرچہ: سیرت و تاریخ (پانچواں پرچہ ) – تنظیم المدارس

پہلا حصہ: سیرتِ طیبہ ﷺ

سوال 1 (الف): حربِ فجار اور حلف الفضول پر مختصر مضمون تحریر کریں۔
جواب: حربِ فجار: یہ وہ جنگ تھی جو قریش اور قیس کے درمیان حرمت والے مہینوں میں لڑی گئی، اس میں حضور ﷺ نے شرکت فرمائی مگر کسی پر ہاتھ نہیں اٹھایا۔ حلف الفضول: اس جنگ کے بعد مکہ کے کچھ لوگوں نے معاہدہ کیا کہ ہم مظلوم کی مدد کریں گے، نبی ﷺ نے اس میں شرکت فرمائی اور اسے بہت پسند فرمایا۔
سوال 1 (ب): اذان کی ابتدا کب اور کیسے ہوئی؟ مفصل لکھیں۔
جواب: اذان کی ابتدا 1 ہجری (مدینہ منورہ) میں ہوئی۔ جب نماز کے لیے لوگوں کو جمع کرنے کا مشورہ ہوا تو حضرت عبداللہ بن زید اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما نے خواب میں اذان کے الفاظ سیکھے، نبی ﷺ نے اس کی تصدیق فرمائی اور حضرت بلال کو اذان دینے کا حکم دیا۔
سوال 2 (الف): درج ذیل میں سے کوئی سے تین پر جامع نوٹ لکھیں: فتحِ مکہ، صلحِ حدیبیہ، غزوہ بدر، غزوہ تبوک۔
جواب: غزوہ بدر: 2 ہجری میں حق و باطل کا پہلا معرکہ، جس میں 313 مسلمانوں نے 1000 کفار کو شکست دی۔ صلحِ حدیبیہ: 6 ہجری میں ہوا، جو ظاہراً دب کر تھا مگر اسے ‘فتحِ مبین’ قرار دیا گیا۔ فتحِ مکہ: 8 ہجری میں بغیر خون خرابے کے مکہ فتح ہوا اور حضور ﷺ نے عام معافی کا اعلان فرمایا۔
سوال 3 (الف): ایلاء کی تعریف، آیتِ ایلاء اور واقعہ ایلاء کب اور کیوں پیش آیا؟
جواب: تعریف: اپنی بیوی سے قریب نہ جانے کی قسم کھانا۔ آیت: “لِلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ”۔ واقعہ: 9 ہجری میں پیش آیا جب ازواجِ مطہرات نے نفقہ (خرچے) کا مطالبہ کیا، تو آپ ﷺ نے ایک ماہ کے لیے علیحدگی اختیار فرمائی۔
سوال 3 (ب): آپ ﷺ کی پہلی دو ازواج (رضی اللہ عنہما) کا تعارف لکھیں۔
جواب: (1) حضرت خدیجہ الکبریٰ: آپ ﷺ کی پہلی زوجہ، سب سے پہلے ایمان لائیں اور اپنی تمام دولت اسلام پر قربان کی۔ (2) حضرت سودہ بنت زمعہ: حضرت خدیجہ کے وصال کے بعد آپ ﷺ سے نکاح ہوا، آپ بہت سخی اور ایثار پسند خاتون تھیں۔

دوسرا حصہ: تاریخِ اسلام

سوال 1 (الف): خلیفہ اول کا نام و نسب بیان کریں اور خلافت پر ایک آیت اور ایک حدیث لکھیں۔
جواب: نام و نسب: عبداللہ بن عثمان (ابو قحافہ)، لقب صدیق و عتیق، قبیلہ بنو تیم سے۔ آیت: “وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الْأَرْضِ”۔ حدیث: “اقتدوا باللذین من بعدی ابی بکر و عمر” (میرے بعد ابوبکر اور عمر کی پیروی کرنا)۔
سوال 1 (ب): “ابوبکر افضل الصحابة” پر دو دلیلیں لکھیں۔
جواب: (1) حضور ﷺ نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں آپ کو نمازوں کا امام مقرر فرمایا۔ (2) ہجرت کے موقع پر غارِ ثور میں آپ ﷺ کے واحد رفیق (یارِ غار) تھے۔
سوال 2 (الف): لقب “امیر المؤمنین” کا پس منظر سپرد قلم کریں۔
جواب: حضرت ابوبکر صدیق کو “خلیفہ رسول اللہ” کہا جاتا تھا، جب حضرت عمر خلیفہ بنے تو لوگوں نے انہیں “خلیفہ خلیفہ رسول اللہ” کہنا شروع کیا جو طویل تھا، چنانچہ صحابہ کے مشورے سے آپ کے لیے “امیر المؤمنین” کا لقب طے پایا۔
سوال 2 (ب): شہادتِ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تحریر کریں۔
جواب: آپ کو ایک مجوسی غلام ابو لؤلؤ فیروز نے نمازِ فجر کے دوران خنجر سے زخمی کیا، جس کے تین دن بعد یکم محرم الحرام کو آپ نے جامِ شہادت نوش فرمایا۔
سوال 3 (الف): اولیاتِ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ میں سے پانچ تحریر کریں۔
جواب: (1) مردوں میں سب سے پہلے اسلام لائے۔ (2) قرآن مجید کو ایک جگہ جمع کرنے کا حکم دیا۔ (3) منکرینِ زکوٰۃ کے خلاف سب سے پہلے جہاد کیا۔ (4) اسلام کے پہلے خلیفہ بنے۔ (5) سفرِ ہجرت میں پہلے یارِ غار بنے۔
سوال3 (ب): حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی اخبار، قضایا اور کلماتِ حکمت پر مضمون لکھیں۔
جواب: حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے پیچیدہ عدالتی فیصلوں (قضایا) کی وجہ سے مشہور تھے؛ آپ کے کلماتِ حکمت علم و فصاحت کا سمندر ہیں جیسے “صبر ایمان کے لیے ایسا ہے جیسے جسم کے لیے سر”۔

حل شدہ پرچہ: علم البلاغت (چھٹا پرچہ ) – تنظیم المدارس

سوال نمبر 1: خبر، انشاء اور جملے کی اقسام

سوال (الف): عبارت “كُلُّ كَلَامٍ فَهُوَ إِمَّا خَبَرٌ أَوْ إِنْشَاءٌ…” کا ترجمہ کریں۔
جواب: تَرْجُمَہ: ہر کلام یا تو خبر ہوتا ہے یا انشاء، خبر وہ ہے جس کے کہنے والے کے بارے میں یہ کہنا درست ہو کہ وہ اس میں سچا ہے یا جھوٹا، جیسے “محمد نے سفر کیا” اور “علی مقیم ہے”۔ اور انشاء وہ ہے جس کے کہنے والے کے بارے میں یہ کہنا درست نہ ہو (کہ وہ سچا ہے یا جھوٹا) جیسے “اے محمد سفر کرو” اور “اے علی قیام کرو”۔
سوال (ب): جملہ اسمیہ اور جملہ فعلیہ کا موضوع لہ مع امثلہ تحریر کریں؟
جواب: (1) جملہ اسمیہ: اس کا موضوع لہ کسی چیز کے لیے کسی صفت کا ثبوت (دوام و استمرار) بتانا ہے، جیسے “زیدٌ قائمٌ” (زید کھڑا ہے)۔ (2) جملہ فعلیہ: اس کا موضوع لہ کسی خاص زمانے میں فعل کا حدوث (واقع ہونا) بتانا ہے، جیسے “قامَ زیدٌ” (زید کھڑا ہوا)۔
سوال (ج): فائدہ خبر کسے کہتے ہیں؟ مع مثال تحریر کریں؟
جواب: فائدہ خبر یہ ہے کہ مخاطب کو اس حکم سے آگاہ کیا جائے جو اس کے پاس پہلے سے نہیں تھا، جیسے کسی کو یہ بتانا جس کو علم نہ ہو: “قامَ زیدٌ” (زید کھڑا ہو گیا ہے)۔

سوال نمبر 2: علمِ معانی اور اس کے ابواب
سوال (الف): طالبِ بلاغت پر کن کن چیزوں کی معرفت ضروری ہے؟
جواب: طالبِ بلاغت پر دو چیزوں کی معرفت ضروری ہے: (1) علمِ معانی، تاکہ کلام مقتضائے حال کے مطابق ہو، (2) علمِ بیان، تاکہ ایک ہی معنی کو مختلف طریقوں سے واضح کیا جا سکے۔
سوال (ب): علمِ معانی کی تعریف اور مثال تحریر کریں؟
جواب: تعریف: وہ علم جس کے ذریعے ایسے قواعد معلوم ہوں جن سے کلام کو مقتضائے حال (موقع و محل) کے مطابق بنایا جائے۔ مثال: منکر کے سامنے کلام کو ‘تاکید’ کے ساتھ لانا، جیسے ‘اِنَّ زَیْدًا لَقَائِمٌ’۔
سوال (ج): علمِ معانی کے آٹھ ابواب کے فقط نام لکھیں؟
جواب: (1) احوالِ اسنادِ خبری، (2) احوالِ مسند الیہ، (3) احوالِ مسند، (4) احوالِ متعلقاتِ فعل، (5) قصر، (6) انشاء، (7) فصل و وصل، (8) ایجاز، اطناب و مساوات۔
سوال نمبر 3: مسند الیہ اور مسند کے احوال
سوال (الف): مسند الیہ کو معرفہ بعلم لانے کی تین وجوہِ بلاغت امثلہ کے ساتھ تحریر کریں؟
جواب: (1) تعظیم: جیسے “حضر السیدُ”۔ (2) اہانت: جیسے “جاء سلیمانُ” (اگر وہ کسی برے لقب سے مشہور ہو)۔ (3) تبرک: تبرک حاصل کرنے کے لیے، جیسے “اللہُ کریمٌ”۔
سوال (ب): مسند کو مقدم کرنے کی کوئی سی تین وجوہِ بلاغت سپرد قلم کریں؟
جواب: (1) تخصیص: جیسے “لکم دینکم” (تمہارے لیے تمہارا ہی دین ہے)۔ (2) خوشخبری کی تعجیل: جیسے “ناجحٌ انتَ” (کامیاب ہو تم)۔ (3) تفاؤل (نیک شگون): جیسے “سعدتَ بغلامٍ”۔

سوال نمبر 4: تمنا، خطاب اور اِن/اِذا کا فرق
سوال (الف): تمنا کے “أربع أدوات” (چار حروف) سے کیا مراد ہے؟ مع مثالیں لکھیں۔
جواب: (1) لَیْتَ: (اصلی حرف) جیسے لیت الشباب یعود۔ (2) ھَلْ: جیسے ‘فھل لنا من شفعاء’۔ (3) لَوْ: جیسے ‘لو ان لی کرۃ’۔ (4) لَعَلَّ: جیسے ‘لعلی ابلغ الاسباب’۔
سوال (ب): “والأصل في الخطاب أن يكون لمشاهد معين…” کا ترجمہ اور وضاحت مثال سے کریں؟
جواب: ترجمہ: اصل یہ ہے کہ خطاب کسی متعین حاضر (مشاہد) کے لیے ہو، لیکن کبھی غیر حاضر سے بھی خطاب کیا جاتا ہے جب وہ دل میں حاضر (مستحضر) ہو۔ مثال: نماز میں ‘اِیَّاکَ نَعْبُدُ’ کہنا، یہاں اللہ تعالیٰ اگرچہ ظاہری آنکھوں سے غائب ہے مگر دل میں حاضر مان کر خطاب کیا جاتا ہے۔
سوال (ج): “اِن” اور “اِذا” کا فرق اور استعمال مع امثلہ واضح کریں؟
جواب: اِذا: اس چیز کے لیے استعمال ہوتا ہے جس کا ہونا یقینی یا کثیر ہو، جیسے: ‘اِذا جَاءَ نَصْرُ اللہِ’۔ اِن: اس چیز کے لیے جو مشکوک ہو یا جس کا ہونا کم ہو، جیسے: ‘وَاِنْ کُنْتُمْ فِی رَیْبٍ’۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *