جواب: منافق ڈرتے ہیں کہ ان پر کوئی ایسی سورت نازل نہ ہو جائے جو ان کے دلوں کی (چھپی) باتیں ظاہر کر دے، کہہ دو: تم مذاق اڑاؤ، بے شک اللہ اس چیز کو ظاہر کرنے والا ہے جس سے تم ڈرتے ہو۔
سوال: “التَّائِبُونَ الْعَابِدُونَ الْحَامِدُونَ السَّائِحُونَ الرَّاكِعُونَ السَّاجِدُونَ…” کا ترجمہ کریں۔
جواب: وہ لوگ جو توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، حمد کرنے والے، (اللہ کی راہ میں) سفر کرنے والے، رکوع کرنے والے، سجدہ کرنے والے اور نیکی کا حکم دینے والے ہیں۔
سوال: “إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ…” والی آیت کا ترجمہ لکھیں۔
جواب: بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اپنے آپ کو نہ بدل ڈالیں، اور جب اللہ کسی قوم کے ساتھ برائی (عذاب) کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کوئی پھیر نہیں سکتا اور ان کا اللہ کے سوا کوئی مددگار نہیں۔
جواب: اور وہ (جانور) تمہارے بوجھ ایسے شہروں تک اٹھا لے جاتے ہیں جہاں تم جانوں کی مشقت کے بغیر نہیں پہنچ سکتے تھے، بے شک تمہارا رب نہایت مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔
جواب: حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: چار عادتیں ایسی ہیں کہ جس میں وہ ہوں وہ پکا منافق ہے، اور جس میں ان میں سے ایک عادت ہو اس میں نفاق کا ایک حصہ ہے یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے: (1) جب امانت دی جائے تو خیانت کرے، (2) جب بات کرے تو جھوٹ بولے، (3) جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے، (4) جب جھگڑا کرے تو گالی گلوچ پر اتر آئے۔
جواب: حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ وہ عرفہ کے دن نبی ﷺ کے ساتھ (مزدلفہ کی طرف) چلے، تو نبی ﷺ نے اپنے پیچھے سے (اونٹوں کو) زور سے ڈانٹنے اور مارنے کی آواز سنی، تو آپ نے اپنے کوڑے سے اشارہ فرمایا اور کہا: اے لوگو! سکون و وقار کو لازم پکڑو، کیونکہ اونٹوں کو تیز دوڑانا نیکی نہیں ہے۔
جواب: حضرت عمار بن یاسر فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: آدمی کا نماز لمبی کرنا اور خطبہ مختصر کرنا اس کی سمجھداری (فقہ) کی علامت ہے، پس نماز لمبی کرو اور خطبہ مختصر رکھو۔
سوال نمبر 3: الفاظ کے معانی
سوال: لفظ “يَضَعُ” کا معنی کیا ہے؟
جواب: وہ رکھتا ہے / وہ وضع کرتا ہے۔
سوال: لفظ “شُعْبَةٌ” کا معنی لکھیں۔
جواب: شاخ / حصہ۔
سوال: لفظ “تَبْكِيْنَ” کا معنی کیا ہے؟
جواب: تو (ایک عورت) روتی ہے۔
سوال: لفظ “الْأَمَدُ” کا معنی لکھیں۔
جواب: مدت / وقت / فاصلہ۔
سوال: لفظ “مَئِنَّةٌ” کا معنی کیا ہے؟
جواب: علامت / نشانی۔
سوال: لفظ “شَفَا” اور “عَنِتُّمْ” کا معنی لکھیں۔
جواب: شَفَا: کنارہ؛ عَنِتُّمْ: تم مشقت میں پڑو۔
سوال: لفظ “السَّائِحُوْنَ” اور “لَمْ يَلْبَثُوا” کا معنی کیا ہے؟
جواب: السَّائِحُوْنَ: روزہ دار یا (اللہ کی راہ میں) سفر کرنے والے؛ لَمْ يَلْبَثُوا: وہ نہیں ٹھہرے۔
سوال: لفظ “مَا يَعْزُبُ” اور “يَسْتَغْشُوْنَ” کا معنی لکھیں۔
جواب: مَا يَعْزُبُ: نہیں غائب ہوتی؛ يَسْتَغْشُوْنَ: وہ ڈھانپ لیتے ہیں۔
سوال: لفظ “تَبْكِيْنَ” اور “جَائِزَةٌ” کا معنی لکھیں۔
جواب: تَبْكِيْنَ: تو (ایک عورت) روتی ہے؛ جَائِزَةٌ: انعام یا مہمان نوازی کا حق۔
سوال: لفظ “عَقَبَةٌ” اور “يُرْدِفُ” کا معنی کیا ہے؟
جواب: عَقَبَةٌ: دشوار گزار راستہ یا گھاٹی؛ يُرْدِفُ: وہ پیچھے بٹھاتا ہے۔
جواب: تَرْجُمَہ: جب بیع میں قیمت (ثمن) کو مطلق چھوڑ دیا جائے (یعنی سکہ متعین نہ ہو) تو وہ اس شہر کے عام رائج سکے پر محمول ہوگی، یہ حکم ‘تاویل’ کے طریقے سے ثابت ہوتا ہے۔
سوال1 (ب): مشترک اور مؤول کی تعریفات مع احکام تحریر کریں؟
جواب: مشترک: وہ لفظ جو کئی معانی کے لیے وضع کیا گیا ہو (جیسے ‘قُرء’)؛ اس کا حکم یہ ہے کہ غور و فکر سے ایک معنی متعین کیا جائے۔ مؤول: مشترک کے کئی معانی میں سے جب ایک معنی کو غالب گمان سے متعین کر لیا جائے؛ اس کا حکم یہ ہے کہ اس پر عمل واجب ہے مگر اس میں خطا کا احتمال رہتا ہے۔
سوال نمبر 2 (الف): بیع میں کتنے خیار ہیں؟ ہر ایک کی تعریف اور مختصر وضاحت کریں۔
جواب: بیع میں مشہور خیار یہ ہیں: (1) خیارِ شرط: فریقین میں سے کسی کو سوچنے کے لیے وقت دینا۔ (2) خیارِ رؤیت: چیز دیکھے بغیر خریدی ہو تو دیکھنے کے بعد رد کرنے کا حق۔ (3) خیارِ عیب: چیز میں عیب نکلنے پر واپس کرنے کا حق۔ (4) خیارِ تعین: دو یا تین چیزوں میں سے ایک کو پسند کرنے کا حق۔
سوال نمبر 2 (ب): بیع فاسد کی تعریف کرتے ہوئے کوئی سی دو مثالوں سے واضح کریں؟
جواب: بیع فاسد وہ ہے جو اصل کے اعتبار سے مشروع ہو لیکن وصف کے اعتبار سے غیر مشروع ہو (جیسے قیمت مجہول ہونا)۔ مثال 1: مچھلی کے پیٹ میں موجود بچوں کی بیع۔ مثال 2: ایسی بیع جس میں ایسی شرط لگائی جائے جو بیع کے مقتضیٰ کے خلاف ہو۔
سوال 3: بیع موقوف، تولیہ، خیارِ عیب، بیع صرف اور بیع مضاربہ کی تعریف لکھیں؟
جواب: بیع موقوف: جس میں عقد مالک کی اجازت پر معلق ہو (جیسے فضولی کی بیع)۔ بیع تولیہ: جس قیمت پر خریدا اسی پر بغیر نفع کے بیچنا۔ خیارِ عیب: چیز میں عیب نکلنے پر خریدار کو رد کرنے کا حق۔ بیع صرف: سونے کے بدلے سونا یا چاندی کے بدلے چاندی بیچنا۔ بیع مضاربہ: ایک کا مال اور دوسرے کی محنت پر نفع میں شرکت۔
جواب: پس خاص وہ لفظ ہے جو اکیلے طور پر کسی معلوم معنی یا کسی معلوم مسمیٰ کے لیے وضع کیا گیا ہو، جیسے ہمارا کہنا کسی فرد کی تخصیص میں “زید”۔
سوال 4 (ب): عام کا حکم اور اس پر کوئی ایک تفریح مع مثال بیان کریں؟
جواب: عام کا حکم یہ ہے کہ یہ اپنے تمام افراد کو قطعی طور پر شامل ہوتا ہے۔ تفریح: اگر کوئی کہے “میں کسی سے بات نہیں کروں گا” تو یہاں ‘کسی’ عام ہے، اگر وہ ایک شخص سے بھی بات کرے گا تو اس کی قسم ٹوٹ جائے گی۔
سوال 5 (الف): عبارۃ النص، اشارۃ النص اور اقتضاء النص کی تعریف و مثال لکھیں؟
جواب: (1) عبارۃ النص: جس مقصد کے لیے کلام لایا گیا ہو، جیسے وراثت کے احکام۔ (2) اشارۃ النص: جو کلام کا اصل مقصد نہ ہو مگر اس سے ثابت ہو، جیسے مدتِ حمل کا چھ ماہ ہونا۔ (3) اقتضاء النص: جس کے بغیر کلام درست نہ ہو، جیسے “اس بستی سے پوچھو” یعنی بستی والوں سے۔
سوال 5 (ب): لفظ کے حقیقی معانی چھوڑنے کے صرف دو مقام مع مثالیں تحریر کریں؟
جواب: (1) عادت: جیسے کوئی گوشت نہ کھانے کی قسم کھائے تو مچھلی کھانا اس کے لیے جائز ہے کیونکہ عادت میں مچھلی کو گوشت نہیں کہا جاتا۔ (2) تعذر: جب حقیقت پر عمل ناممکن ہو، جیسے کوئی کہے “میں اس درخت سے نہیں کھاؤں گا” تو اس سے مراد اس کا پھل کھانا ہے۔
سوال 6 (الف): استعارہ کی تعریف اور اس کے دونوں طریقوں کی وضاحت کریں؟
جواب: استعارہ یہ ہے کہ لفظ کو اس کے حقیقی معنی کے بجائے مجازی معنی میں استعمال کیا جائے جہاں دونوں میں مناسبت ہو۔ طریقے: (1) استعارہ بالاتفاق: جہاں نام اور صفت دونوں میں اشتراک ہو۔ (2) استعارہ بالانفراد: جہاں صرف صفت یا معنی میں اشتراک ہو۔
سوال 6 (ب): حقیقت اور مجاز کی تعریف تحریر کریں؟
جواب: حقیقت: وہ لفظ جو اپنی وضعِ اصلی (جس کے لیے بنایا گیا) میں استعمال ہو۔ مجاز: وہ لفظ جو کسی تعلق یا قرینہ کی وجہ سے غیر وضعی معنی میں استعمال ہو۔
حل شدہ پرچہ: علم النحو (تیسرا پرچہ) – تنظیم المدارس
سوال نمبر 1: غیر منصرف اور الف نون زائدتان
سوال (الف): عبارت “ومن ثم اختلف فى رحمن دون سکران و ندمان” کی تشریح اور اختلاف کی وضاحت کریں۔
جواب: اس عبارت کا مطلب ہے کہ “رحمن” کے غیر منصرف ہونے میں اختلاف ہے جبکہ “سکران” بالاتفاق غیر منصرف ہے۔ اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ “رحمن” کا مؤنث “رحمٰنیٰ” آتا ہے یا نہیں، جبکہ شرط یہ ہے کہ اس کا مؤنث ‘تانیث بالتاء’ (رحمنۃ) کے ساتھ نہ آئے۔
سوال (ب): الف و نون زائدتان کی تعریف اور غیر منصرف کا سبب بننے کی شرط لکھیں۔
جواب: وہ الف اور نون جو کلمہ کے اصلی حروف کے علاوہ آخر میں زائد ہوں (جیسے عثمان)۔ اس کے غیر منصرف کا سبب بننے کی شرط یہ ہے کہ اگر یہ صفت میں ہو تو اس کا مؤنث ‘فعلانۃ’ کے وزن پر نہ آئے۔
سوال 2(الف): اسبابِ منعِ صرف کتنے ہیں؟ کافیہ میں موجود شعر بھی لکھیں۔
سوال (ب): عدلِ تحقیقی اور تقدیری کی تعریفات مع امثلہ تحریر کریں؟
جواب: عدلِ تحقیقی: جس کی اصل کی طرف کوئی دلیل ہو، جیسے ‘ثُلاثَ’ کی اصل ‘ثلاثۃً ثلاثۃً’ ہے۔ عدلِ تقدیری: جس کی اصل کی کوئی دلیل نہ ہو مگر اسے غیر منصرف پڑھا جاتا ہو، جیسے ‘عُمر’۔
سوال نمبر 3: عامل اور اعراب کی اقسام
سوال (الف): عامل کی تعریف مع مثال لکھیں نیز بتائیں کہ “معنی مقتضی للاعراب” سے کیا مراد ہے؟
جواب: عامل وہ ہے جس کی وجہ سے اسم کا آخر بدل جائے (جیسے ‘جاء’ زیدٌ میں)۔ “معنی مقتضی للاعراب” سے مراد وہ معنی ہیں جو اعراب کا مطالبہ کرتے ہیں جیسے فاعلیت (جو رفع چاہتی ہے) اور مفعولیت (جو نصب چاہتی ہے)۔
سوال (ب): جمع مؤنث سالم، اسم منقوص، اسماء ستہ مکبرہ کے اعراب کی وضاحت کریں۔
جواب: (1) جمع مؤنث سالم: حالتِ رفع میں پیش، حالتِ نصب و جر میں زیر۔ (2) اسم منقوص: حالتِ رفع و جر میں تقدیری، حالتِ نصب میں لفظی فتحہ۔ (3) اسماء ستہ مکبرہ: حالتِ رفع میں واؤ، نصب میں الف، جر میں یاء کے ساتھ۔
سوال نمبر 4: تحذیر اور اضمارِ عامل
سوال (الف): عبارت “التحذير وهو معمول بتقدير اتق…” پر اعراب لگائیں اور ترجمہ و تشریح کریں؟
جواب: تَرْجُمَہ: تحذیر وہ ہے جو ‘اتقِ’ فعل کے مقدر ہونے کی وجہ سے منصوب ہو، یہ اس چیز سے ڈرانے کے لیے ہوتا ہے جو اس کے بعد آئے یا جس سے ڈرانا مقصود ہو اسے مکرر لایا جائے۔ تشریح: جیسے ‘ایاک والاسد’ (اپنے آپ کو شیر سے بچاؤ)۔
سوال (ب): “ما أضمر عامله على شريطة التفسیر” سے کیا مراد ہے اور تحذیر میں عامل حذف کرنا کیوں ضروری ہے؟
جواب: اس سے مراد وہ فعل ہے جو ظاہر نہیں ہوتا بلکہ بعد والا فعل اس کی تفسیر کرتا ہے؛ تحذیر میں عامل کو اس لیے حذف کرنا ضروری ہے کیونکہ تحذیر کا مقصد ‘خطرہ سے آگاہ کرنا’ ہے اور اس میں اختصار اور تیزی مطلوب ہوتی ہے۔
سوال نمبر 5: تعریفات و امثلہ
سوال: مفعول بہ کی تعریف اور مثال لکھیں۔
جواب: وہ اسم جس پر فاعل کا فعل واقع ہو، جیسے: ضَرَبَ زَیْدٌ عَمْرًا۔
سوال: مفعول لہ کی تعریف اور مثال لکھیں۔
جواب: وہ اسم جو فعل کا سبب (وجہ) بیان کرے، جیسے: ضَرَبْتُہٗ تَاْدِیْبًا۔
سوال: حال کی تعریف اور مثال لکھیں۔
جواب: وہ اسم جو فاعل یا مفعول کی ہیئت (حالت) بیان کرے، جیسے: جَاءَ زَیْدٌ رَاکِبًا۔
سوال: تمیز کی تعریف اور مثال لکھیں۔
جواب: وہ اسم جو ماقبل کی ابہام (پوشیدگی) کو دور کرے، جیسے: طَابَ زَیْدٌ نَفْسًا۔
سوال: اعرابِ تقدیری کی تعریف اور مثال لکھیں۔
جواب: وہ اعراب جو لفظوں میں ظاہر نہ ہو بلکہ پوشیدہ ہو، جیسے: جَاءَ مُوْسٰی۔
حل شدہ پرچہ: منطق و عربی ادب (چوتھا پرچہ) – تنظیم المدارس
حصہ اول: منطق
سوال 1 (الف): علم کے معانی خمسہ (پانچ معانی) تحریر کریں۔
جواب: (1) کسی چیز کا نقش ذہن میں حاصل ہونا، (2) صفتِ انکشاف، (3) ادراک، (4) ملکہ (مہارت)، (5) وہ مسائل جو ایک موضوع کے گرد گھومیں۔
سوال 1 (ب): منطق کی تعریف اور اس کی وجہ تسمیہ بیان کریں۔
جواب: تعریف: وہ علم جس کے قواعد کا لحاظ رکھنا ذہن کو سوچ و بچار میں غلطی سے بچائے۔ وجہ تسمیہ: یہ ‘نطق’ سے نکلا ہے، نطقِ ظاہری (کلام) اور نطقِ باطنی (ادراک) دونوں کو درست کرتا ہے۔
سوال 2 (الف): ترتیب کے اعتبار سے جنس کی اقسامِ اربعہ مع تعریفات و امثلہ تحریر کریں؟
جواب: (1) جنسِ سافل: جو صرف انواع کے اوپر ہو، جیسے ‘حیوان’۔ (2) جنسِ متوسط: جو خود بھی جنس ہو اور اس کے اوپر بھی جنس ہو، جیسے ‘جسمِ نامی’۔ (3) جنسِ عالی: جس کے اوپر کوئی جنس نہ ہو، جیسے ‘جوہر’۔ (4) جنسِ مفرد: جو صرف ایک ہی ہو (اس کی مثال اکثر منطقیین نہیں دیتے)۔
سوال 2 (ب): شرطیہ منفصلہ کی اقسامِ ثلاثہ مع تعریفات و امثلہ تحریر کریں؟
جواب: (1) حقیقیہ: جو جمع اور خالی ہونے سے روک دے، جیسے ‘عدد یا جفت ہے یا طاق’۔ (2) مانعۃ الجمع: جو صرف جمع ہونے سے روکے، جیسے ‘چیز یا پتھر ہے یا درخت’ (دونوں نہیں ہو سکتی مگر کچھ اور ہو سکتی ہے)۔ (3) مانعۃ الخلو: جو صرف خالی ہونے سے روکے، جیسے ‘زید یا سمندر میں ہے یا ڈوبا نہیں’۔
سوال3 (الف): دلالت کا لغوی و اصطلاحی معنی لکھیں۔
جواب: لغوی معنی: راہنمائی کرنا۔ اصطلاحی معنی: ایک چیز کا ایسا ہونا کہ اس کے علم سے دوسری چیز کا علم حاصل ہو جائے۔
سوال 3 (ب): دلالت کی کل کتنی قسمیں بنتی ہیں؟ کوئی سی دو کی وضاحت کریں۔
جواب: دلالت کی بنیادی دو قسمیں ہیں (لفظیہ اور غیر لفظیہ)، پھر ہر ایک کی تین تین قسمیں (وضعیہ، طبعیہ، عقلیہ) ہو کر کل چھ بنتی ہیں۔ وضاحت: (1) دلالتِ لفظیہ وضعیہ: جیسے لفظ ‘زید’ کی دلالت ذاتِ زید پر۔ (2) دلالتِ لفظیہ طبعیہ: جیسے ‘اوہ’ کی دلالت درد پر۔
حصہ دوم: عربی ادب
سوال 4 (الف): اصولِ دین اور اصولِ احکام کو بیان کرنے میں قرآن کریم کا اسلوب تحریر کریں؟
جواب: قرآن کریم کا اسلوب انتہائی حکیمانہ اور مدلل ہے؛ یہ اصولِ دین (توحید و آخرت) کو فطری مثالوں سے واضح کرتا ہے اور اصولِ احکام (نماز، زکوٰۃ وغیرہ) میں اجمال اور قطعیت کے ساتھ ساتھ ترغیب و ترہیب کا انداز اپناتا ہے تاکہ مخاطب کا دل اور دماغ دونوں مطمئن ہوں۔
سوال 4 (ب): قرآن کی وجہ اعجاز کو بیان کرتے ہوئے قرآن کی زبان کی خصوصیات تحریر کریں؟
جواب: قرآن کا اعجاز اس کی فصاحت، بلاغت، غیب کی خبروں اور اس کے چیلنج (کہ کوئی اس جیسی آیت نہیں لا سکتا) میں ہے۔ اس کی زبان کی خصوصیات میں مٹھاس، اثر انگیزی، جامعیت (کم الفاظ میں زیادہ معنی) اور ہر دور کے لیے رہنمائی شامل ہے۔
سوال 5 (الف): حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث کے حوالے سے احتیاط بیان فرمائیں۔
جواب: حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ حدیث بیان کرنے میں سخت احتیاط برتتے تھے، آپ کثرتِ روایت سے منع فرماتے تاکہ لوگ قرآن کو چھوڑ کر صرف قصوں میں نہ لگ جائیں، اور ضرورت پڑنے پر گواہ بھی طلب فرماتے تھے۔
سوال 5 (ب): ادبِ حدیث کی اہمیت کے تحت تدوینِ حدیث پر نوٹ لکھیں۔
جواب: تدوینِ حدیث کا آغاز عہدِ نبوی میں ہی ہو گیا تھا، لیکن باقاعدہ سرکاری سطح پر حضرت عمر بن عبدالعزیز کے حکم سے ہوا۔ ائمہ کرام نے احادیث کو جمع کرنے کے لیے سخت اصول (اسماء الرجال) بنائے تاکہ صحیح اور ضعیف میں فرق کیا جا سکے۔
سوال 6 (الف): مسلمان خلفاء کی طرزِ انشاء پردازی کو بیان کریں؟
جواب: خلفائے راشدین اور ابتدائی اموی خلفاء کی انشاء پردازی سادگی، وقار، حق گوئی اور جامعیت پر مبنی تھی۔ ان کے خطوط اور خطبات میں تکلفات نہیں ہوتے تھے بلکہ براہِ راست احکامات اور اللہ کا خوف دلانے والے کلمات ہوتے تھے۔
سوال 6 (ب): حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اخلاق اور فطری و ادبی صلاحیت پر جامع مضمون تحریر کریں؟
جواب: حضرت علی رضی اللہ عنہ ‘باب العلم’ ہیں؛ آپ کا اخلاق شجاعت، زہد اور عاجزی کا نمونہ تھا۔ آپ کی ادبی صلاحیتوں کا اندازہ ‘نہج البلاغہ’ سے ہوتا ہے، جہاں آپ کی فصاحت و بلاغت اپنے عروج پر نظر آتی ہے۔ آپ کلامِ عرب کے ایسے شہسوار تھے جن کے کلام کو ‘خالق کے کلام سے نیچے اور مخلوق کے کلام سے اوپر’ مانا جاتا ہے۔
حل شدہ پرچہ: سیرت و تاریخ (پانچواں پرچہ) – تنظیم المدارس
پہلا حصہ: سیرتِ طیبہ ﷺ
سوال 1 (الف): درج ذیل میں سے تین پر جامع نوٹ لکھیں: ملک عرب کا جغرافیہ، عرب کی تاریخ قدیم، حلف الفضول، حربِ فجار۔
جواب: ملک عرب کا جغرافیہ: جزیرہ نما عرب تین طرف سے سمندر (بحرِ احمر، بحرِ عرب، خلیج فارس) سے گھرا ہے، یہ زیادہ تر صحرائی اور سنگلاخ علاقہ ہے۔ حلف الفضول: یہ ایک امن معاہدہ تھا جو مظلوموں کی مدد کے لیے کیا گیا، نبی ﷺ نے نوجوانی میں اس میں شرکت فرمائی۔ حربِ فجار: یہ وہ جنگ تھی جو قریش اور قیس کے درمیان حرمت والے مہینوں میں لڑی گئی، اس میں حضور ﷺ نے شرکت کی مگر کسی پر ہاتھ نہیں اٹھایا۔
سوال 1 (ب): تولد شریف (پیدائش) کے وقت کے خوارق (معجزات) میں سے دو ضبطِ تحریر میں لائیں۔
جواب: (1) حضور ﷺ کی پیدائش کے وقت ایوانِ کسریٰ (ایران کے بادشاہ کا محل) کے چودہ کنگرے گر گئے۔ (2) فارس کا آتش کدہ جو ایک ہزار سال سے روشن تھا، وہ بجھ گیا۔
سوال 2 (الف): تعمیرِ کعبہ کے بارے میں مختصر مگر جامع نوٹ لکھیں۔
جواب: جب نبی ﷺ کی عمر 35 سال تھی، قریش نے کعبہ کی تعمیرِ نو کی۔ حجرِ اسود رکھنے پر جھگڑا ہوا تو آپ ﷺ نے اپنی چادر میں حجرِ اسود رکھ کر تمام قبائل کے سرداروں سے اسے اٹھوایا اور خود اپنے دستِ مبارک سے نصب فرما کر ایک بڑی جنگ کو ٹال دیا۔
سوال 2 (ب): تعمیرِ مسجدِ قباء کے احوال سیرتِ رسولِ عربی کی روشنی میں لکھیں۔
جواب: ہجرتِ مدینہ کے دوران آپ ﷺ نے “قباء” کے مقام پر قیام فرمایا اور وہاں اسلام کی پہلی مسجد (مسجدِ قباء) کی بنیاد رکھی جس کی تعمیر میں آپ ﷺ نے صحابہ کے ساتھ خود پتھر اٹھا کر حصہ لیا۔
سوال 3 (الف): غزوہ ذی قرد اور غزوہ حنین کے بارے میں اپنی معلومات لکھیں۔
جواب: غزوہ ذی قرد بنو فزارہ کے خلاف تھا جنہوں نے مدینہ کی چراگاہ پر حملہ کیا تھا؛ غزوہ حنین فتحِ مکہ کے بعد بنو ہوازن اور ثقیف کے خلاف ہوا جس میں اللہ نے مسلمانوں کو ابتدائی پریشانی کے بعد عظیم فتح عطا فرمائی۔
سوال 3 (ب): غزوہ تبوک کا واقعہ اپنے الفاظ میں تحریر کریں۔
جواب: 9 ہجری میں رومیوں کے مقابلے کے لیے انتہائی سخت گرمی اور قحط کے عالم میں یہ سفر پیش آیا، جس میں مسلمانوں نے کمالِ جاں نثاری دکھائی اور دشمن مسلمانوں کی آمد کی خبر سن کر جنگ کے بغیر ہی پیچھے ہٹ گیا۔
دوسرا حصہ: تاریخِ اسلام
سوال 4 (الف): سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا حلیہ مبارک تاریخ الخلفاء کی روشنی میں بیان کریں۔
جواب: آپ رضی اللہ عنہ نحیف الجثہ (اکہرے بدن) کے تھے، رنگ گورا، چہرہ خوبصورت، پیشانی بلند اور آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی تھیں، آپ اپنی داڑھی مبارک پر مہندی اور وسمہ کا خضاب لگاتے تھے۔
سوال 4 (ب): “ابوبکر افضل الصحابة” پر دو دلیلیں لکھیں۔
جواب: (1) حضور ﷺ نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں آپ کو نمازوں کا امام مقرر فرمایا۔ (2) ہجرت کے موقع پر غارِ ثور میں آپ ﷺ کے واحد رفیق (یارِ غار) تھے۔
سوال 5 (الف): امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا جامع تعارف تحریر کریں۔
جواب: آپ اسلام کے دوسرے خلیفہ، لقب ‘فاروقِ اعظم’ ہے۔ آپ کے دور میں اسلام کو بین الاقوامی وسعت ملی اور قیصر و کسریٰ کی سلطنتیں فتح ہوئیں۔ آپ عدل و انصاف کی علامت تھے۔
سوال 5 (ب): حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی کوئی پانچ اولیات (پہل کاری) تحریر کریں؟
جواب: (1) سن ہجری کا اجرا، (2) نمازِ تراویح کا باجماعت اہتمام، (3) بیت المال کا قیام، (4) ملک کو صوبوں میں تقسیم کرنا، (5) پولیس اور جیل کا محکمہ بنانا۔
سوال 6 (ب): اقوالِ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ میں سے پانچ سپرد قلم کریں۔
جواب: (1) سچائی امانت ہے اور جھوٹ خیانت۔ (2) موت کی تمنا کرو، زندگی عطا کی جائے گی۔ (3) جو خود پر رحم نہیں کرتا دوسرے اس پر رحم نہیں کرتے۔ (4) مظلوم کی بددعا سے بچو۔ (5) تکبر سے بچو کیونکہ مٹی سے بنے ہو اور مٹی میں ملنا ہے۔
حل شدہ پرچہ: بلاغت (چھٹا پرچہ) – تنظیم المدارس
سوال نمبر 1: فصاحت اور اس کے عیوب
سوال (الف): فصاحت کا لغوی اور اصطلاحی معنی بیان کریں؟
جواب: لغوی معنی: ظاہر ہونا اور صاف ہونا۔ اصطلاحی معنی: کلمہ یا کلام کا ایسے عیوب سے پاک ہونا جو سننے میں ناگوار ہوں یا معنی سمجھنے میں رکاوٹ بنیں۔
سوال (ب): تنافرِ حروف، مخالفتِ قیاس اور غرابت کی تعریفات مع امثلہ لکھیں؟
جواب: (1) تنافرِ حروف: حروف کا ایسا میل جو زبان پر بوجھل ہو، جیسے: ‘ھُخْعُ’ (ایک گھاس کا نام)۔ (2) مخالفتِ قیاس: کلمہ کا قواعدِ صرفی کے خلاف ہونا، جیسے ‘اَجْلَلَ’ (قاعدہ کے مطابق ادغام کر کے ‘اَجَلَّ’ ہونا چاہیے تھا)۔ (3) غرابت: کلمہ کا ایسا نامانوس ہونا کہ معنی سمجھ نہ آئیں، جیسے: ‘تَکَاْکَاْتُمْ’ (تم جمع ہو گئے)۔
سوال (ج): تعقید کی تعریف لکھیں نیز تعقیدِ لفظی اور معنوی کی تعریف مع مثال لکھیں؟
جواب: تعقید: کلام کے معنی کا پوشیدہ ہونا۔ تعقیدِ لفظی: الفاظ کی ترتیب خراب ہونے سے معنی چھپ جائیں، جیسے: ‘جفخت وھم لا یجفخون’۔ تعقیدِ معنوی: مجازی معنی یا کنایہ کے غلط استعمال سے معنی پیچیدہ ہو جائیں، جیسے ‘خاموشی’ کے لیے ‘منہ میں پتھر ہونا’ کا استعارہ (جو کلام کو مشکل بنا دے)۔
سوال نمبر 2: امر کے صیغے اور مجازی معانی
سوال (الف): عبارت “أَمَّا الْأَمْرُ فَهُوَ طَلَبُ الْفِعْلِ عَلَى وَجْهِ الِاسْتِعْلَاءِ…” کا ترجمہ اور چاروں صیغے لکھیں؟
جواب: ترجمہ: بہر حال “امر” تو وہ بلندی (حکم) کے طور پر کسی فعل کو طلب کرنا ہے اور اس کے چار صیغے ہیں۔ صیغے: (1) فعلِ امر (اِضرب)۔ (2) فعلِ مضارع مقرون بلامِ امر (لِیَضرب)۔ (3) اسم فعلِ امر (صَہْ)۔ (4) مصدر نائب عن فعل الامر (وبالوالدین احساناً)۔
سوال (ب): امر کا صیغہ مجازی طور پر کن معانی کے لیے استعمال ہوتا ہے؟ کوئی سے تین معانی لکھیں؟
جواب: (1) دعا: جب چھوٹے سے بڑے کی طرف ہو، جیسے “رَبِّ اغْفِرْ لِي”۔ (2) التماس: جب برابر والوں کے درمیان ہو، جیسے “اعطنی القلم” (مجھے قلم دو)۔ (3) تخییر: دو چیزوں میں سے ایک اختیار کرنے کا کہنا، جیسے “تزوج ہنداً او اختہا” (ہند سے نکاح کر لو یا اس کی بہن سے)۔
سوال نمبر 3: مسند الیہ اور مسند کے احوال
سوال (الف): مسند الیہ کو معرفہ بعلم لانے کی تین وجوہِ بلاغت امثلہ کے ساتھ تحریر کریں؟
جواب: (1) تعظیم: جیسے “حضر السیدُ”۔ (2) اہانت: جیسے “جاء سلیمانُ” (اگر وہ کسی برے لقب سے مشہور ہو)۔ (3) تبرک: تبرک حاصل کرنے کے لیے، جیسے “اللہُ کریمٌ”۔
سوال (ب): مسند کو مقدم کرنے کی کوئی سی تین وجوہِ بلاغت سپرد قلم کریں؟
جواب: (1) تخصیص: جیسے “لکم دینکم” (تمہارے لیے تمہارا ہی دین ہے)۔ (2) خوشخبری کی تعجیل: جیسے “ناجحٌ انتَ” (کامیاب ہو تم)۔ (3) تفاؤل (نیک شگون): جیسے “سعدتَ بغلامٍ”۔
سوال (ج): فاعل کو حذف کرنے کی وجوہات مع امثلہ تحریر کریں؟
جواب: (1) علمِ مخاطب: فاعل کا سب کو پتہ ہونا، جیسے “خُلِقَ الْإِنْسَانُ” (پتہ ہے کہ خالق اللہ ہے)۔ (2) جہالت: جب فاعل کا پتہ نہ ہو، جیسے “سُرِقَ المتاعُ” (سامان چوری ہو گیا)۔ (3) خوف: فاعل کا نام لینے سے ڈر لگنا۔