Tanzeem ul Madaris Solved Guess Paper 2026 | PDF (طلباء کے لیے)عالمیہ سال اول


 حل شدہ گیس پیپر – پرچہ 1: علم الکلام (شرح عقائد نسفی)

سوال نمبر 1: حقائقِ اشیاء اور سوفسطائیہ کا فتنہ
سوال: حقائقِ اشیاء کے ثبوت پر بحث کریں اور سوفسطائیہ کے تینوں گروہوں کا مدلل رد تحریر کریں۔ حل:
  • اہلِ سنت کا موقف: کائنات کی ہر چیز کی ایک حقیقت ہے جو یقینی ہے۔ آگ جلاتی ہے اور پانی پیاس بجھاتا ہے، یہ محض وہم نہیں ہے۔
  • سوفسطائیہ (Skeptics) کے گروہ:
    1. عنادیہ: جو ہر حقیقت کا سرے سے انکار کرتے ہیں۔
    2. عندیہ: جو کہتے ہیں کہ حقیقت ہر انسان کے اپنے گمان کے تابع ہے (جو تم نے سمجھا وہی سچ ہے)۔
    3. لا ادریہ: جو کہتے ہیں کہ ہمیں کچھ پتہ نہیں کہ حقیقت ہے یا نہیں۔
  • رد (Refutation): ان کا سب سے بڑا رد یہ ہے کہ ان سے پوچھا جائے: “تمہارا یہ کہنا کہ حقیقت نہیں ہے، کیا یہ سچ ہے؟” اگر وہ کہیں “ہاں”، تو حقیقت ثابت ہوگئی۔ اور اگر وہ کہیں “نہیں”، تو ان کا دعویٰ خود بخود باطل ہو گیا۔

سوال نمبر 2: اللہ تعالیٰ کی صفاتِ ازلیہ (عین اور غیر کی بحث)
سوال: اللہ تعالیٰ کی صفات اس کی ذات کا عین ہیں یا غیر؟ ماتریدیہ، معتزلہ اور فلاسفہ کے اقوال کی روشنی میں تفصیل لکھیں۔ حل:
  • اہلِ سنت (ماتریدیہ و اشاعرہ): اللہ کی صفات (علم، قدرت وغیرہ) قدیم اور ازلی ہیں۔ یہ “لا عین ولا غیر” ہیں یعنی یہ اللہ کی ذات سے جدا نہیں ہیں مگر ذات کا حصہ (جزو) بھی نہیں ہیں۔
  • معتزلہ و فلاسفہ: یہ صفات کے قدیم ہونے کا انکار کرتے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں اس سے “تعددِ قدماء” (بہت سے قدیم خدا) لازم آتے ہیں۔
  • جواب: اہل سنت کہتے ہیں کہ صفت کا ذات کے ساتھ قدیم ہونا تعددِ قدماء نہیں ہے، کیونکہ صفت اپنی ذات میں الگ خدا نہیں ہوتی۔

سوال نمبر 3: کلامِ الٰہی (نفسی بمقابلہ لفظی)
سوال: قرآن کریم اللہ کا کلام ہے، اس مسئلے میں اہل سنت اور معتزلہ کے اختلاف کی مکمل وضاحت کریں۔ حل:
  • اہلِ سنت کا عقیدہ: اللہ کی صفتِ کلام قدیم ہے۔ اس کی دو قسمیں ہیں:
    1. کلامِ نفسی: وہ جو اللہ کی ذات کے ساتھ قائم ہے، جس میں نہ حروف ہیں نہ آواز۔ یہ قدیم ہے۔
    2. کلامِ لفظی: وہ حروف اور آوازیں جو ہم پڑھتے ہیں۔ یہ حادث (مخلوق) ہیں۔
  • معتزلہ کا موقف: وہ کلامِ نفسی کے منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ قرآن مخلوق (حادث) ہے۔
  • فائدہ: امام احمد بن حنبل نے اسی مسئلے پر قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں تاکہ کلامِ الٰہی کو مخلوق کہنے سے بچایا جا سکے۔

سوال نمبر 4: افعالِ عباد (خلق، ارادہ اور رضا کا فرق)
سوال: کیا اللہ تعالیٰ بندے کے برے کاموں (شر) کا ارادہ کرتا ہے؟ ارادہ اور رضا کے درمیان فرق واضح کریں۔ حل:
  • ارادہ (Will): اللہ تعالیٰ کائنات میں ہونے والے ہر کام (نیکی اور بدی) کا ارادہ فرماتا ہے، کیونکہ اس کے ارادے کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔
  • رضا (Pleasure): اللہ نیکی سے راضی ہوتا ہے مگر برائی سے راضی نہیں ہوتا۔
  • فرق: ارادہ کائناتی نظام (تخلیق) کے لیے ہے، جبکہ رضا اجر و ثواب کے لیے ہے۔ معتزلہ کہتے ہیں کہ اللہ شر کا ارادہ نہیں کرتا، جو کہ اس کی قدرت میں نقص پیدا کرنے کے مترادف ہے۔

سوال نمبر 5: عصمتِ انبیاء اور کراماتِ اولیاء
سوال: انبیاء کے معصوم ہونے کا کیا مطلب ہے؟ نیز کیا ولی سے کرامت کا ظاہر ہونا ممکن ہے؟ حل:
  • عصمت: انبیاء علیہم السلام نبوت سے پہلے اور بعد میں کبیرہ گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں۔ صغیرہ گناہوں میں “لغزش” (بھول چوک) تو ہو سکتی ہے مگر اس پر وہ قائم نہیں رہتے، اللہ فوراً اصلاح فرما دیتا ہے۔
  • کرامت: اولیاء اللہ سے خلافِ عادت کام (کرامت) ظاہر ہونا برحق ہے۔ یہ دراصل اس نبی کا معجزہ ہوتا ہے جس کی وہ ولی پیروی کر رہا ہے۔ اگر ولی شریعت کا پابند نہ ہو تو وہ کرامت نہیں بلکہ “استدراج” (فتنہ) ہے۔

سوال نمبر 6 (اضافی – اہم): ایمان اور اسلام کا تعلق
سوال: کیا ایمان اور اسلام ایک ہی چیز ہیں؟ کیا ایمان میں کمی یا زیادتی ہوتی ہے؟ حل:
  • ایمان و اسلام: لغوی طور پر فرق ہے مگر شرعی طور پر مومن مسلم ہوتا ہے اور مسلم مومن۔
  • کمی و بیشی: امام ابوحنیفہ کے نزدیک اصل ایمان (دل کی تصدیق) میں کمی بیشی نہیں ہوتی۔ ہاں، اعمال کی وجہ سے ایمان کے ثمرات اور نور میں کمی بیشی ہوتی ہے۔

 حل شدہ گیس پیپر – پرچہ 2: علم الفرائض (سراجی)

سوال نمبر 1: میراث کے رکاوٹیں (موانعِ ارث) اور محرومی (حجب)
سوال: وہ کون سی وجوہات ہیں جن کی بنا پر وارث میراث سے محروم ہو جاتا ہے؟ نیز حجبِ حرمان اور حجبِ نقصان میں فرق مثالوں سے واضح کریں۔ حل:
  • موانعِ ارث (وارث نہ بننے کی 4 وجوہات):
    1. قتل: اگر وارث نے میت کو ناحق قتل کیا ہو (القاتل لا یرث)۔
    2. غلامی: غلام اپنے آقا کا وارث نہیں بن سکتا۔
    3. اختلافِ دین: مسلمان کافر کا اور کافر مسلمان کا وارث نہیں ہوتا۔
    4. اختلافِ دار: (غیر مسلموں کے لیے) اگر ان کے ممالک الگ ہوں۔
  • حجب (محرومی):
    • حجبِ حرمان: وارث کو مکمل محروم کرنا (جیسے بیٹے کی موجودگی میں پوتا محروم)۔
    • حجبِ نقصان: حصہ کم ہو جانا (جیسے اولاد کی موجودگی میں بیوی کا حصہ 1/4 سے 1/8 ہو جانا)۔

سوال نمبر 2: ذوی الفروض کے احوال (خصوصی ابحاث)
سوال: دادا (جدِ صحیح)، ماں اور بہنوں (علاتی و اخیافی) کے احوال تفصیل سے لکھیں۔ حل:
  • جدِ صحیح (دادا): اگر باپ نہ ہو تو دادا باپ کے قائم مقام ہوتا ہے۔ اس کے 3 حال ہیں: (1) 1/6 اولادِ نرینہ کے ساتھ۔ (2) 1/6 مع العصبہ بیٹیوں کے ساتھ۔ (3) محض عصبہ اگر اولاد نہ ہو۔
  • اخیافی (ماں شریک) بھائی بہن: ان کا حصہ برابر ہوتا ہے۔ اکیلا ہو تو 1/6، زیادہ ہوں تو 1/3۔ یہ تب وارث بنتے ہیں جب میت کی نہ اولاد ہو اور نہ باپ دادا (کلالہ)۔
  • علاتی (باپ شریک) بہنیں: اگر ایک سگی بہن ہو تو علاتی بہن کو 1/6 ملتا ہے (تکملہ للثلثین)۔

سوال نمبر 3: عصبات کی ترتیب اور “عصبہ مع الغیر” کا مسئلہ
سوال: عصبہ کی اقسام بیان کریں اور اس مشہور مسئلے کی وضاحت کریں کہ “بہنیں بیٹیوں کے ساتھ عصبہ بنتی ہیں”۔ حل:
  • عصبہ: وہ وارث جس کا حصہ متعین نہ ہو بلکہ بچا ہوا مال لے۔
  • ترتیب: پہلے بیٹا، پھر پوتا، پھر باپ، پھر دادا، پھر بھائی، پھر بھتیجا۔
  • عصبہ مع الغیر: حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق، جب میت کی بیٹی ہو اور ساتھ سگی بہن ہو، تو بیٹی اپنا حصہ (1/2) لے گی اور بچا ہوا سارا مال سگی بہن کو بطورِ عصبہ ملے گا۔

سوال نمبر 4: عول اور رد کی منطق اور مخارج
سوال: عول اور رد سے کیا مراد ہے؟ کن مخارج میں عول ہوتا ہے اور کن وارثوں پر رد نہیں ہوتا؟ حل:
  • عول (Increase): جب حصوں کا مجموعہ مخرج سے بڑھ جائے۔ یہ صرف 6 (جو 7، 8، 9، 10 تک جاتا ہے)، 12 (جو 13، 15، 17 تک) اور 24 (جو 27 تک) میں ہوتا ہے۔
  • رد (Return): جب مال بچ جائے اور عصبہ نہ ہو۔ یہ مال دوبارہ ذوی الفروض پر تقسیم ہوتا ہے۔
  • خاص نکتہ: شوہر اور بیوی پر “رد” نہیں ہوتا (بشرطیکہ دوسرے وارث موجود ہوں)۔

سوال نمبر 5: تکنیکی و مشہور مسائل (اکدریہ اور منبریہ)
سوال: “مسئلہ اکدریہ” اور “مسئلہ منبریہ” کی صورتِ حال اور ان کا حل تحریر کریں۔ حل:
  • مسئلہ منبریہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منبر پر پوچھا گیا۔ وارث: بیوی، ماں، باپ، 2 بیٹیاں۔ مخرج 24 تھا، عول ہو کر 27 ہو گیا۔ بیوی کا حصہ 1/8 سے کم ہو کر 1/9 (27 میں سے 3) رہ گیا۔
  • مسئلہ اکدریہ: وارث: شوہر، ماں، دادا، ایک سگی بہن۔ اس میں دادا اور بہن کے حصوں کو جمع کر کے دوبارہ ان کے درمیان “للذکر مثل حظ الانثیین” (مرد کو دوگنا) کے قاعدے سے تقسیم کیا جاتا ہے۔

سوال نمبر 6: ذوی الارحام کی تقسیم (امام محمد کا مسلک)
سوال: ذوی الارحام (وہ رشتہ دار جو ذوی الفروض اور عصبہ نہ ہوں) کی تقسیم میں امام محمد اور امام ابو یوسف کے اختلاف کی وضاحت کریں۔ حل:
  • امام ابو یوسف: یہ صرف ابدان (نیچے والے ورثاء) کی تعداد اور صنف دیکھتے ہیں۔
  • امام محمد: یہ اصول (اوپر والے آباء و اجداد) کی صنف اور ابدان کی تعداد دیکھتے ہیں۔ فتویٰ امام محمد کے قول پر ہے (اگرچہ یہ مشکل ہے)۔

عملی مشق:
مسئلہ: ایک شخص فوت ہوا، ورثاء میں بیوہ، ماں، اور 2 بیٹیاں ہیں۔
  1. بیوہ کا حصہ: 1/8 (اولاد کی وجہ سے)۔
  2. ماں کا حصہ: 1/6 (اولاد کی وجہ سے)۔
  3. 2 بیٹیاں: 2/3۔
  • مخرج 24 بنے گا۔ حصوں کا مجموعہ (3 + 4 + 16 = 23) ہوگا۔ بچا ہوا 1 حصہ “رد” ہو کر ماں اور بیٹیوں کو ملے گا (بیوہ کو نہیں)۔

 حل شدہ گیس پیپر – پرچہ 3: الفقہ وأصوله

قسم اول: الفقہ (ہدایہ – کتاب الشفعہ و کتاب الاضحیہ)
سوال نمبر 1: شفعہ کے درجات اور “پڑوسی” کے حقِ شفعہ پر بحث۔ سوال: احناف کے نزدیک شفعہ کے تین درجات کون سے ہیں؟ کیا امام شافعی کے نزدیک پڑوسی کو شفعہ کا حق حاصل ہے؟ دلائل سے واضح کریں۔ حل:
  • احناف کے درجات: (1) شریکِ ملکیت (جو زمین کا حصہ دار ہو)۔ (2) شریکِ حقوق (راستہ یا پانی میں شریک)۔ (3) جارِ ملاصق (وہ پڑوسی جس کی دیوار ملی ہوئی ہو)۔
  • اختلاف: امام شافعی کے نزدیک صرف “شریکِ ملکیت” کو شفعہ کا حق ہے، پڑوسی کو نہیں۔
  • دلیلِ احناف: حضور ﷺ نے فرمایا: “پڑوسی اپنے قریب کی زمین کا زیادہ حقدار ہے”۔ شفعہ کا مقصد پڑوس کے نقصان (ضرر) کو دور کرنا ہے اور پڑوسی کو برا خریدار آنے سے نقصان ہو سکتا ہے۔
سوال نمبر 2: اضحیہ (قربانی) کی شرائط اور شرکت کے مسائل۔ سوال: قربانی کن لوگوں پر واجب ہے؟ اگر ایک بڑے جانور (گائے) میں سات شرکاء ہوں اور ایک کی نیت صرف گوشت کی ہو، تو کیا باقیوں کی قربانی ہوگی؟ حل:
  • وجوب: ہر اس مسلمان، عاقل، بالغ اور مقیم پر واجب ہے جو نصاب کا مالک ہو۔
  • شرکت کا مسئلہ: بڑے جانور میں سات حصے ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ تمام شرکاء کی نیت قربت (اللہ کی رضا یا واجب ادا کرنا) ہو۔ اگر ایک بھی شریک ایسا ہو جس کی نیت محض گوشت کھانا ہو (عبادت نہ ہو)، تو کسی بھی شریک کی قربانی نہیں ہوگی۔

قسم دوم: اصولِ الفقہ (توضیح و تلویح)
سوال نمبر 3: وضعِ لغت کے اعتبار سے الفاظ کی اقسام (خاص، عام، مشترک، مؤول)۔ سوال: خاص اور عام کی تعریف کریں اور یہ بتائیں کہ کیا احناف کے نزدیک “عام” قطعی ہوتا ہے؟ حل:
  • خاص: وہ لفظ جو ایک متعین معنی کے لیے وضع کیا گیا ہو (جیسے زید، رجل)۔ اس کا حکم قطعی ہوتا ہے۔
  • عام: وہ لفظ جو ایک ہی معنی میں بہت سے افراد کو شامل ہو (جیسے مسلمون، الناس)۔
  • بحث: احناف کے نزدیک “عام” قطعی ہوتا ہے (جب تک اس میں تخصیص نہ ہو جائے)۔ جبکہ امام شافعی کے نزدیک عام ظنی ہوتا ہے۔ اسی لیے احناف عامِ قرآن کی بنیاد پر خبرِ واحد کو ترک کر سکتے ہیں (جیسے بسم اللہ کا اونچی آواز میں پڑھنا)۔
سوال نمبر 4: حروفِ معانی اور ان کا فقہی اثر (حتیٰ اور الیٰ)۔ سوال: حرفِ “حتیٰ” اور “الیٰ” کے معانی بیان کریں اور یہ بتائیں کہ مغیا (جس تک بات کی جائے) حکم میں داخل ہوتا ہے یا نہیں؟ حل:
  • الیٰ (To/Towards): یہ انتہائے غایت (حد ختم ہونے) کے لیے ہے۔ احناف کے نزدیک وضو میں کہنیاں دھونے کے حکم “الی المرافق” میں کہنیاں دھونے میں داخل ہیں۔
  • حتیٰ (Until): یہ بھی غایت کے لیے ہے مگر اس میں مغیا کا حکم میں داخل ہونا قرینے پر منحصر ہے۔
  • قاعدہ: اگر غایت (حد) اسی جنس سے ہو تو وہ حکم میں داخل ہوگی (جیسے کہنیاں ہاتھ کی جنس سے ہیں)، اور اگر جنس الگ ہو تو داخل نہیں ہوگی (جیسے “روزہ رات تک پورا کرو”، یہاں رات روزے میں داخل نہیں)۔
سوال نمبر 5: سنت کی اقسام اور “خبرِ واحد” کی حجیت۔ سوال: سنتِ متواترہ، مشہورہ اور خبرِ واحد میں فرق کریں۔ کیا خبرِ واحد سے قرآن پر زیادتی جائز ہے؟ حل:
  • متواتر: قطعی العلم ہے۔
  • مشہور: وہ حدیث جو پہلے دور میں واحد ہو مگر بعد میں مشہور ہو جائے۔ احناف کے نزدیک اس سے قرآن کے عمومی حکم میں زیادتی (مثلاً موزوں پر مسح) جائز ہے۔
  • خبرِ واحد: جس سے صرف “ظنِ غالب” حاصل ہو۔ احناف کے نزدیک خبرِ واحد سے قرآن کے فرض کو بدلا نہیں جا سکتا، صرف واجب یا سنت ثابت ہوتی ہے۔
سوال نمبر 6: قیاس کے ارکان اور علتِ شرعیہ۔ سوال: قیاس کے چار ارکان کون سے ہیں؟ “علت” اور “حکمت” میں کیا فرق ہے؟ حل:
  • ارکان: (1) اصل: جس کا حکم نص میں ہو۔ (2) فرع: نیا مسئلہ۔ (3) علت: وہ وجہ جس پر حکم مبنی ہے۔ (4) حکم: وہ شرعی حکم جو فرع کو دیا جائے۔
  • فرق: علت وہ ظاہری اور مضبوط وصف ہے جس پر حکم گھومتا ہے (مثلاً شراب میں نشہ)، جبکہ حکمت وہ فائدہ ہے جو حکم سے حاصل ہو (مثلاً عقل کی حفاظت)۔ شرعی احکام علتوں پر مبنی ہوتے ہیں، حکمتوں پر نہیں۔

حل شدہ گیس پیپر – پرچہ 4: أصول الحديث وأصول التحقيق

قسم اول: اصولِ حدیث (نخبۃ الفکر)

سوال نمبر 1: خبرِ واحد کی اقسام (مشہور، عزیز، غریب) اور ان کا حکم۔ سوال: خبرِ واحد کی ان تینوں اقسام کی تعریف مع مثال کریں اور بتائیں کہ کیا خبرِ واحد سے عقیدہ ثابت ہو سکتا ہے؟ حل:
  • مشہور: جس کے راوی ہر طبقے میں کم از کم تین ہوں۔
  • عزیز: جس کے راوی کسی بھی طبقے میں دو سے کم نہ ہوں۔
  • غریب: جس کی سند میں کسی بھی جگہ صرف ایک راوی رہ جائے۔
  • حکم: خبرِ واحد سے ظنی علم حاصل ہوتا ہے۔ اس سے احکام (فقہ) تو ثابت ہوتے ہیں، مگر قطعی عقیدہ ثابت نہیں ہوتا۔
سوال نمبر 2: حدیثِ صحیح کی اقسام اور “اصح الاسانید” پر بحث۔ سوال: صحیح لذاتہ اور صحیح لغیرہ میں کیا فرق ہے؟ نیز امام بخاری اور امام مسلم کے نزدیک اصح الاسانید (سب سے صحیح سند) کون سی ہے؟ حل:
  • فرق: صحیح لذاتہ اپنی ذات میں پانچوں شرائط (اتصال، عدالت، ضبط، عدمِ شذوذ، عدمِ علت) پوری کرے، جبکہ صحیح لغیرہ وہ حسن لذاتہ ہے جو متعدد طریقوں سے مروی ہونے کی وجہ سے صحیح بن جائے۔
  • اصح الاسانید: امام بخاری کے نزدیک “مالک عن نافع عن ابن عمر” (سلسلۃ الذہب) سب سے اعلیٰ سند ہے۔
سوال نمبر 3: راوی پر طعن کے اسباب اور حدیثِ موضوع۔ سوال: راوی پر طعن کے دس اسباب میں سے “کذب” اور “تہمتِ کذب” کی وضاحت کریں اور من گھڑت (موضوع) حدیث کی پہچان کے طریقے لکھیں۔ حل:
  • کذب: اگر راوی حدیث میں جھوٹ بولے تو اسے “موضوع” کہتے ہیں۔
  • تہمتِ کذب: راوی حدیث میں تو جھوٹا ثابت نہ ہو مگر عام زندگی میں جھوٹ بولتا ہو۔ ایسی حدیث “متروک” کہلاتی ہے۔
  • موضوع کی پہچان: (1) راوی خود اقرار کر لے (جیسے بعض لوگوں نے فضائلِ قرآن میں حدیثیں گھڑیں)۔ (2) حدیث کے الفاظ رکیک (گھٹیا) ہوں۔ (3) حدیث قرآن یا عقلِ سلیم کے صریح خلاف ہو۔

قسم دوم: اصولِ تحقیق (Methods of Research)

سوال نمبر 4: تحقیق کا خاکہ (Synopsis) اور اس کے بنیادی اجزاء۔ سوال: کسی بھی علمی مقالے (Thesis) کی تیاری کے لیے خاکہ (سائناپسس) کیوں ضروری ہے؟ اس کے اہم اجزاء تحریر کریں۔ حل:
  • ضرورت: خاکہ تحقیق کا نقشہ ہوتا ہے جو محقق کو ادھر ادھر بھٹکنے سے بچاتا ہے۔
  • اجزاء:
    1. عنوان: جو واضح اور جامع ہو۔
    2. تعارف: موضوع کی اہمیت اور اس کے انتخاب کی وجہ۔
    3. اغراض و مقاصد: تحقیق سے کیا حاصل کرنا مقصود ہے؟
    4. سابقہ کام کا جائزہ: اس موضوع پر پہلے کتنا کام ہو چکا ہے۔
    5. منہجِ تحقیق: ڈیٹا جمع کرنے اور تجزیہ کرنے کا طریقہ۔
    6. ابواب و فصول کی تقسیم: مقالے کی عارضی ترتیب۔
سوال نمبر 5: مراجع و مآخذ کی ترتیب اور حواشی (Footnotes) کے طریقے ۔ سوال: مقالے کے آخر میں فہرستِ مراجع ترتیب دینے کا علمی طریقہ کیا ہے؟ نیز حواشی میں “ایضاً” (Ibid) کب استعمال کیا جاتا ہے؟ حل:
  • فہرست کی ترتیب: کتب کی فہرست عموماً مصنف کے نام یا کتاب کے نام کے حروفِ تہجی (Alphabetical order) سے بنائی جاتی ہے۔
  • حواشی نگاری: اگر ایک ہی کتاب کا حوالہ ایک ہی صفحے پر دوبارہ آئے اور درمیان میں کسی اور کتاب کا حوالہ نہ ہو، تو دوبارہ پوری تفصیل لکھنے کے بجائے “ایضاً” (Ibid) لکھا جاتا ہے۔
سوال نمبر 6: مخطوطہ (Manuscript) کی تحقیق کا طریقہ کار۔ سوال: قلمی نسخوں (Manuscripts) کی تحقیق اور تدوینِ متن (Editing) کے مراحل بیان کریں۔ حل:
  1. جمعِ نسخ: دنیا کی مختلف لائبریریوں سے ایک ہی کتاب کے مختلف قلمی نسخے جمع کرنا۔
  2. مقابلہ (Collating): ان نسخوں کا آپس میں موازنہ کرنا اور اختلافاتِ نسخ کو نوٹ کرنا۔
  3. ترجیح: سب سے صحیح اور معتبر نسخے کو اصل (Base) بنانا۔
  4. تخریج: آیات، احادیث اور اشعار کے اصل مآخذ نکالنا۔

فائنل حل شدہ گیس پیپر – پرچہ 5: الحدیث الشریف (طحاوی شریف)

سوال نمبر 1: امام طحاوی کا منہج اور “استخراجِ علت”
سوال: امام طحاوی اپنی کتاب میں احادیث کے ظاہری تعارض کو کس طرح دور کرتے ہیں؟ “اثر” اور “نظر” کے تصور کو واضح کریں۔ حل:
  • اثر (Tradition): امام طحاوی پہلے کسی مسئلے پر تمام مروی احادیث (چاہے وہ احناف کے حق میں ہوں یا خلاف) ذکر کرتے ہیں۔
  • تطبیق و نسخ: پھر وہ دیکھتے ہیں کہ اگر احادیث میں ٹکراؤ ہے تو ان میں سے “ناسخ” (بعد والا حکم) کون سا ہے اور “منسوخ” کون سا۔
  • نظر (Rational Reasoning): آخر میں وہ عقلی دلیل (نظر) دیتے ہیں کہ شریعت کے دیگر اصولوں کے مطابق کون سا موقف زیادہ قرینِ قیاس ہے۔ امام طحاوی کا یہ انداز انہیں دیگر محدثین سے ممتاز کرتا ہے۔

سوال نمبر 2: وقتِ ظہر اور “مثلِ اول و ثانی” کا معرکہ
سوال: ظہر کا وقت کب ختم ہوتا ہے؟ امام اعظم اور صاحبین (امام ابو یوسف و محمد) کے اختلاف کو امام طحاوی کے دلائل کی روشنی میں حل کریں۔ حل:
  • صاحبین اور ائمہ ثلاثہ: جب ہر چیز کا سایہ ایک مثل (برابر) ہو جائے تو ظہر ختم اور عصر شروع ہو جاتی ہے۔
  • امام اعظم ابوحنیفہ: ظہر کا وقت “دو مثل” (Double shadow) تک رہتا ہے۔
  • امام طحاوی کا استدلال: آپ وہ احادیث لاتے ہیں جن میں حضور ﷺ نے فرمایا کہ “ظہر کو ٹھنڈا کر کے پڑھو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کے سانس سے ہے”۔ چونکہ عرب میں گرمی کی شدت تب تک رہتی ہے جب تک سایہ دو مثل نہ ہو جائے، لہذا امام اعظم کا موقف سنت کی روح کے مطابق ہے۔

سوال نمبر 3: قراءت خلف الامام (امام کے پیچھے پڑھنا)
سوال: کیا مقتدی کے لیے امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنا جائز ہے؟ امام طحاوی نے اس مسئلے میں کس موقف کو ترجیح دی ہے؟ حل:
  • احناف کا موقف: مقتدی کے لیے امام کی قراءت ہی کافی ہے (چاہے نماز جہری ہو یا سری)۔
  • دلیل: امام طحاوی وہ صحیح حدیث لاتے ہیں: “مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ فَقِرَاءَةُ الْإِمَامِ لَهُ قِرَاءَةٌ” (جس کا امام ہو، امام کی قراءت اس کی اپنی قراءت ہے
  • عقلی دلیل: مقتدی نماز کے تمام ارکان میں امام کی پیروی کرتا ہے، لہذا قراءت میں بھی اسے امام کی پیروی (خاموشی) کا حکم ہے۔

سوال نمبر 4: نمازِ وتر کی رکعات اور ایک سلام کا مسئلہ
سوال: وتر کی کتنی رکعات ہیں؟ کیا درمیان میں سلام پھیرنا سنت ہے؟ امام طحاوی کی تحقیق لکھیں۔ حل:
  • احناف: وتر کی تین رکعات ہیں، ایک سلام کے ساتھ (جیسے مغرب کی نماز)۔
  • شوافع: وہ دو رکعت پر سلام پھیر کر ایک رکعت الگ پڑھتے ہیں۔
  • تحقیقِ طحاوی: امام طحاوی حضرت ابن عمر اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہم کی روایات سے ثابت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے “بتیر” (نماز کو کاٹنے یا ٹکڑے کرنے) سے منع فرمایا۔ تین رکعات ایک ساتھ پڑھنا ہی سنتِ متواترہ سے ثابت ہے۔

سوال نمبر 5: رفع یدین (ہاتھ اٹھانا) اور اس کا نسخ
سوال: رکوع میں جاتے اور اٹھتے وقت رفع یدین کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں امام طحاوی کا فیصلہ کیا ہے؟ حل:
  • احناف: صرف تکبیرِ تحریمہ (شروع) میں ہاتھ اٹھائے جائیں گے۔
  • امام طحاوی کی بحث: آپ مانتے ہیں کہ شروع اسلام میں رفع یدین ہوتا تھا، لیکن پھر وہ احادیث لاتے ہیں جو ثابت کرتی ہیں کہ حضور ﷺ نے آخری عمر میں اسے ترک فرما دیا تھا۔ آپ کے نزدیک رفع یدین نہ کرنے والی احادیث “ناسخ” ہیں کیونکہ نماز میں “سکون” کا حکم بعد میں آیا۔

سوال نمبر 6 (اضافی – اہم): نکاحِ بلا ولی (بغیر ولی کے نکاح)
سوال: کیا بالغہ لڑکی اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کر سکتی ہے؟ امام طحاوی کے دلائل لکھیں۔ حل:
  • احناف: اگر لڑکی عاقلہ بالغہ ہے تو وہ اپنا نکاح خود کر سکتی ہے، بشرطیکہ کفو (برابری) کا خیال رکھا جائے۔
  • دلیل: امام طحاوی قرآن کی آیت “حَتَّىٰ تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ” سے استدلال کرتے ہیں کہ اللہ نے نکاح کی نسبت عورت کی طرف کی ہے، جس سے اس کا حقِ خود ارادیت ثابت ہوتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *